কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২২৭৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22779 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں بلاشبہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمام نمازوں کا حکم نازل کیا ہے چنانچہ مسافر پر بھی ایک طرح کی نماز فرض کی ہے اور مقیم پر بھی ایک طرح کی نماز فرض کی ہے لہٰذا مقیم کے لیے جائز نہیں کہ وہ مسافر کی نماز پڑھے اور نہ ہی مسافر کے لیے جائز ہے کہ وہ مقیم کی نماز پڑھے ۔ (رواہ عبدالرزاق) فائدہ : ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کا یہی اثر اصل الاصول ہے اور اسی کو فقہائے احناف نے لیا ہے چنانچہ حنیفہ کے نزدیک سفر میں رخصت پر عمل کرنا واجب ہے بالفرض اگر کسی نے پوری نماز پڑھ لی (چار رکعت والی) تو دو رکعتیں فرض اور دو نفل شمار ہوں گی اور مقیم کے لیے بہرصورت کسی طرح جائز نہیں کہ قصر نماز پڑھے یا جمع بین الصلوتین کرے ۔
22779- عن ابن عباس قال: "إن الله أنزل جملة الصلاة، وأنه فرض للمسافر صلاة وللمقيم صلاة، فلا ينبغي للمقيم أن يصلي صلاة المسافر ولا ينبغي للمسافر أن يصلي صلاة المقيم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22780 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ تبوک کے موقع پر ظہر وعصر کی نماز اور مغرب و عشاء کی نماز جمع کرکے پڑھی ۔ (رواہ ابن جریر)
22780- عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جمع بين الظهر والعصر وبين المغرب والعشاء في غزوة تبوك. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22781 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوران سفر ظہر عصر کی نماز اور مغرب و عشاء کی نماز جمع کرکے پڑھا کرتے تھے ۔ (رواہ ابن جریر)
22781- عن ابن عباس قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجمع بين الصلاتين في السفر بين المغرب والعشاء، والظهر والعصر. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22782 ۔۔۔ جابر بن زید (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھتے تھے اور فرماتے کہ یہ (جمع بین الصلوتین) سنت ہے۔ (رواہ ابن جریر)
22782- عن جابر بن زيد أن ابن عباس كان يجمع بين الصلاتين في السفر ويقول: هي السنة. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22783 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب سفر کرنے میں جلدی ہوتی تو مغرب و عشاء کی نماز جمع کرکے پڑھتے تھے ۔ (رواہ مالک عبدالرزاق و ابن ابی شیبۃ ، بخاری ، مسلم والنسائی)
22783- "مسند عبد الله بن عمر رضي الله عنهما" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا جد به السير جمع بين المغرب والعشاء. "مالك عب ش خ م ن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22784 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ابن العاص (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر جمع بین الصلوتین کیا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22784- "مسند عبد الله بن عمرو بن العاص" أن النبي صلى الله عليه وسلم جمع بين الصلاتين في غزوة بني المصطلق. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22785 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کی رواہت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر میں دو نمازوں کو جمع کرکے پڑھتے تھے ۔ (رواہ ابن جریر)
22785- "أيضا" عن أبي قيس عن الهزيل عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان يجمع بين الصلاتين في السفر. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22786 ۔۔۔ ابو قیس ، ھزیل بن شرجیل سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر پر تشریف لے جاتے تو ظہر کی نماز مؤخر کرکے پڑھتے اور عصر کی نماز اول وقت میں مقدم کرکے پڑھتے اور یوں دونوں نمازوں کو جمع کرکے پڑھتے پھر اسی طرح مغرب کی نماز مؤخر کرکے پڑھتے اور عشاء کی نماز مقدم کرکے (اول وقت میں) پڑھتے اور یوں ان دو نمازوں کو (صورۃ) جمع کرکے پڑھتے ۔ (رواہ ابن جریر) فائدہ : ۔۔۔ اسی حدیث کو اصل سمجھ کر علماء احناف نے جمع بین الصلوتین کی یہی وضاحت کی ہے۔
22786- عن أبي قيس عن هزيل بن شرحبيل قال: "خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان يؤخر الظهر ويعجل العصر، فيجمع بينهما ويؤخر المغرب ويعجل العشاء فيجمع بينهما". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22787 ۔۔۔ عکرمہ (رح) کی روایت ہے کہ دوران سفر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دن کو ظہر وعصر کی نماز جمع کرکے پڑھی ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22787- عن عكرمة أن النبي صلى الله عليه وسلم جمع بين الظهر والعصر في السفر بنهار. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22788 ۔۔۔ ابوعثمان نہدی کی روایت ہے کہ ہم سعد بن مالک (رض) کے ساتھ حج کے لیے نکل پڑے ، چنانچہ آپ (رض) ظہر وعصر کی نماز اور مغرب و عشاء کی نماز جمع کرکے پڑھتے تھے تاوقتیکہ ہم مکہ پہنچ گئے ۔
22788- "مسند علي كرم الله وجهه" عن أبي عثمان قال: "خرجنا مع سعد بن مالك معدين 2 للحج، فكان يجمع بين الظهر والعصر، والمغرب والعشاء حتى قدمنا مكة. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22789 ۔۔۔ ابو عثمان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل اور حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ (رض) کے ساتھ سفر کیا چنانچہ یہ دونوں حضرات ظہر وعصر کی نماز اور مغرب و عشاء کی نماز جمع کرکے پڑھتے تھے ۔ (رواہ ابن جریر)
22789- "مسند سعيد بن زيد" عن أبي عثمان قال: "سافرت مع سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل وأسامة بن زيد بن حارثة فكانا يجمعان بين الأولى والعصر، والمغرب والعشاء الآخرة". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22790 ۔۔۔ اسامہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو مغرب و عشاء کی نماز جمع کرکے پڑھتے تھے ۔ (البزار والدارقطنی فی الافراد) کلام : ۔۔۔ ہیثمی (رح) نے یہ حدیث مجمع الزوائد (1582) میں ذکر کی ہے اور اس حدیث کی سند میں عبدالکریم بن ابی محارق ہے جو کہ ضعیف راوی ہے۔
22790- "مسند أسامة" كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا عجل به السير جمع بين المغرب والعشاء. "البزار قط في الأفراد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفر میں سنتوں کا حکم :
22791 ۔۔۔ ابراہیم (رح) کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) ، حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) (دونوں حضرات) سفر میں فرض نماز سے پہلے بھی سنت پڑھتے تھے اور بعد میں بھی ۔ (رواہ عبدالرزاق) فائدہ : ۔۔۔ سفر میں اکثر لوگوں کو سنتوں کے متعلق تردد رہتا ہے آیا کہ پڑھی جائیں یا کہ نہیں تاہم اس میں اعتدال کی راہ یہ ہے کہ مسافر اگر راستہ پر گامزن ہے اور صرف نماز کے لیے وقفہ کیا ہے تو سنتیں نہ پڑھی جائیں اور اگر مسافر نے چند دن کے لیے وقفہ کیا ہے یا رات بھر ٹھہرنا ہے یا دن بھر ٹھہرنا ہے تو سنتوں کا پڑھ لینا افضل ہے لیکن فجر کی سنتیں بہرحال پڑھی جائیں گی ، چونکہ حدیث میں ان کی شدت سے تاکید آئی ہے۔
22791- عن إبراهيم أن عمر وابن مسعود رضي الله عنهما كانا يصليان في السفر قبل المكتوبة وبعدها. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22792 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ میں صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھوں مجھے اس سے بدرجہا محبوب ہے کہ میں رات بھر نماز میں مشغول رہوں حتی کہ اسی حالت میں صبح ہوجائے ۔ (رواہ مالک وعبدالرزاق و شعب الایمان للبیہقی)
22792- عن عمر رضي الله عنه قال: "لأن أصلي الصبح في جماعة أحب إلي من أن أصلي ليلتي حتى أصبح". "مالك عب هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22793 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں میں عشاء اور فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لوں مجھے رات بھر کی عبادت سے زیادہ پسند ہے۔ (رواہ عبدالرزاق و ابن ابی شیبۃ و سعید بن المنصور)
22793- عن عمر رضي الله عنه قال: "لأن أصلي العشاء والصبح في جماعة أحب إلي من أن أحيي الليل كله". "عب ش ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22794 ۔۔۔ یحییٰ بن سعید کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے ایک آدمی کو کئی دنوں تک گم پایا چنانچہ یا تو وہی آپ کے پاس آیا یا پھر آپ (رض) نے کی اچانک اس سے ملاقات ہوگئی آپ (رض) نے اس سے پوچھا تم کہاں تھے ؟ اس نے جواب دیا ، میری صحت خراب تھی اسی لیے میں نہ نماز کے لیے آسکا اور نہ ہی کسی اور کام کے لیے گھر سے باہر نکل سکا سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے اس سے فرمایا تمہیں حی علی الفلاح کا جواب دینا تھا ۔ یعنی جماعت میں حاضر ہونا تھا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22794- عن يحيى بن سعيد أن عمر بن الخطاب فقد رجلا أياما فإما دخل عليه، وإما لقيه قال: "من أين ترى؟ " قال: "اشتكيت فما خرجت لصلاة ولا لغيرها" فقال له عمر: "إن كنت مجيبا فأجب الفلاح". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22795 ۔۔۔ ثابت بن حجاج کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے لیے تشریف لائے اور انھوں نے آگے سے لوگوں کو آتے ہوئے دیکھا آپ (رض) نے موذن کو حکم دیا وہ کھڑا ہوا اور کہنے لگا : بخدا ہم اپنی نماز کے لیے کسی کا انتظار نہیں کریں گے چنانچہ جب آپ (رض) نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : کیا وجہ ہے لوگوں نے ایسی روش پر چلنا شروع کردیا ہے کہ ان کی دیکھا دیکھی آنے والے بھی ان کی روش پر چل دیں گے بخدا میں نے ارادہ کیا ہے کہ ان کے پاس پولیس کے اہل کار بھیجوں جو ان کو گردنوں میں پھندے ڈال کرلے آئیں اور پھر ان سے کہا جائے کہ نماز میں حاضر ہوا کرو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22795- عن ثابت بن الحجاج قال: "خرج عمر بن الخطاب إلى الصلاة فاستقبل الناس فأمر المؤذن" فقام وقال: "والله لاننتظر لصلاتنا أحدا، فلما قضى صلاته أقبل على الناس" ثم قال: "ما بال أقوام يتخلفون يتخلف بتخلفهم آخرون، والله لقد هممت أن أرسل إليهم فيجاء في أعناقهم" ثم يقال: "اشهدوا الصلاة". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22796 ۔۔۔ ابن ابی ملیکہ کی روایت ہے کہ بنی عدی بن کعب کی شفاء نامی ایک عورت ماہ رمضان میں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے پاس آئی آپ (رض) نے فرمایا : کیا وجہ ہے میں نے صبح کی نماز میں تمہارے شوہر ابو حثمہ کو نہیں دیکھا ؟ اس عورت نے جواب دیا : اے امیر المؤمنین ! وہ رات بھر جانفشانی سے عبادت میں مشغول رہا ، پھر اسے (تھکاوٹ کی وجہ سے) ہمت نہ ہوئی کہ جماعت میں حاضر ہوتا تاہم اس نے صبح کی نماز گھر پر ہی پڑھ لی اور پھر سو گیا اس پر آپ (رض) نے فرمایا : بخدا اگر وہ باجماعت نماز میں حاضر ہوجاتا مجھے اس کی رات بھر کی جانفشانی سے کہیں زیادہ محبوب تھا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22796- عن ابن أبي مليكة قال: "جاءت الشفاء إحدى نساء بني عدي بن كعب عمر في رمضان فقال: ما لي لم أر أبا حثمة لزوجها شهد الصبح؟ قالت: يا أمير المؤمنين دأب ليلته فكسل أن يخرج فصلى الصبح ثم رقد فقال: والله لو شهدها لكان أحب إلي من دأبه ليلته". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22797 ۔۔۔ سلیمان بن ابو حثمہ روایت کرتے ہیں کہ شفاء بنت عبداللہ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) میرے گھر پر تشریف لائے انھوں نے میرے پاس دو مردوں کو (جن میں سے ایک اس کا خاوند اور دوسرا بھائی یا بیٹا تھا (سوئے ہوئے دیکھا تو آپ (رض) نے فرمایا : کیا وجہ ہے یہ دونوں ہمارے ساتھ نماز میں حاضر کیوں نہیں ہوئے ؟ میں نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین ! انھوں نے (رات کو) لوگوں کے ساتھ نماز (تراویح) پڑھی تھی (یہ رمضان کا مہینہ تھا) اور پھر صبح تک مسلسل نماز پڑھتے رہے اور پھر انھوں نے صبح کی نماز گھر پر پڑھی اور سو گئے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : بخدا ! میرا صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لینا مجھے رات بھر نماز میں مشغول رہنے سے کہیں زیادہ محبوب ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22797- عن سليمان بن أبي حثمة عن الشفاء بنت عبد الله قالت: دخل على بيتي عمر بن الخطاب فوجد عندي رجلين نائمين فقال: وما شأن هذين ما شهدا معنا الصلاة؟ قلت يا أمير المؤمنين صليا مع الناس، وكان ذلك في رمضان، فلم يزالا يصليان حتى أصبحا وصليا الصبح وناما فقال عمر: لأن أصلي الصبح في جماعة أحب إلي من أن أصلي ليلة حتى أصبح. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچواں باب : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت اور اس کے احکام کے بیان میں :

فصل : ۔۔۔ جماعت کی فضیلت کے بیان میں :
22798 ۔۔۔ علی بن ثابت ، وازغ بن نافع ، نافع کے سلسلہ سند سے مروی ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : ایک مرتبہ حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) ، حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے : تاریکیوں میں مساجد کی طرف چلنے والوں کو قیامت کے دن نور تام کے ملنے کی خوشخبری سنا دیجئے ۔ (ابن الجوزی فی الواھیات) کلام : ۔۔۔ ابن جوزی (رح) نے الواھیات میں لکھا ہے کہ یہ حدیث ثابت نہیں چونکہ علی بن ثابت ضعیف راوی ہے اور وازع متروک ہے۔ پھر دیکھئے المتناھیۃ 683 ۔
22798- عن علي بن ثابت عن الوازع بن نافع عن أبيه عن عمر قال: "جاء جبريل إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال: بشر المشائين في الظلم إلى المساجد بنور تام يوم القيامة". "ابن الجوزي في الواهيات وقال: "لا يثبت على ابن ثابت ضعيف والوازع متروك".
tahqiq

তাহকীক: