কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২২৮৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22839 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : سنت یہ ہے کہ آدمی (جو امام ہو) وہ آگے کھڑا ہو اور دو آدمی اس کے پیچھے کھڑے ہوں اور ان کے پیچھے کوئی عورت کھڑی ہوسکتی ہے۔ (رواہ البزار) کلام : ۔۔۔ بزارنے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
22839- عن علي قال: "من السنة أن يقوم الرجل وخلفه رجلان، وخلفهما امراة". "البزار: وضعف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22840 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تشریف لاتے اور نماز کھڑی کی جاتی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں (مقتدیوں) کو کم دیکھتے تو بیٹھ جاتے اور نماز نہ پڑھتے اور جب پوری جماعت دیکھتے تو نماز پڑھ لیتے ۔ (رواہ ابوداؤد) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ضعیف ہے دیکھے ضعیف ابو داؤد 107 ۔
22840- عن علي قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم حين تقام الصلاة في المسجد إذا رآهم قليلا جلس لم يصل، وإذا رآهم جماعة صلى". "د".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22841 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر تم سے ہو سکے تو کسی کی امامت مت کراؤچونکہ اگر امام کو معلوم ہوتا کہ اس کے سر پر کتنی بڑی ذمہ داری ہے وہ کبھی امامت نہیں کرے گا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22841- عن علي قال: "إذا استطعت أن لا تؤم أحدا فافعل، فإن الإمام لو يعلم ما عليه ما أم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22842 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں فرض نماز پڑھاتے آپ کی نماز نہ لمبی ہوتی اور نہ ہی ہلکی بلکہ معتدل ہوتی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشاء کی نماز مؤخر کرکے پڑھتے تھے ۔ (رواہ ابن النجار)
22842- عن جابر قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي بنا المكتوبة صلاة لا يطيل فيها ولا يخفف وسطا من ذلك، وكان يؤخر العتمة". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22843 ۔۔۔ عرو بن سلمہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس قبیلہ جرم کا وفد آیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمرو بن سلمہ (رض) کو امامت کرنے کا حکم دیا سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سب سے چھوٹے تھے لیکن قرآن انھیں سب سے زیادہ یاد تھا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22843- عن عمرو بن سلمة قال: "قدم على النبي صلى الله عليه وسلم وفد جرم 1 فأمر عمرو بن سلمة أن يؤمهم وكان أصغرهم سنا لأنه كان أكثرهم قرآنا". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22844 ۔۔۔ حضرت عمرو بن سلمہ (رض) کی روایت ہے کہ ہمارا ایک وفد حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے واپس آیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وفد والوں کو نماز سکھائی اور انھیں حکم دیا کہ تمہاری امامت وہ آدمی کرائے جسے سب سے زیادہ قرآن یاد ہو ۔ چنانچہ حضرت عمرو بن سلمہ (رض) ان کی امامت کرتے تھے حالانکہ وہ ابھی تک سن بلوغت کو نہیں پہنچے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22844- عن عمرو بن سلمة الجرمي قال: "جاءنا وفد من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فعلمهم الصلاة،" ثم قال لنا: "ليؤمكم أكثركم قرآنا، فكان عمرو بن سلمة يؤمهم ولم يكن احتلم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22845 ۔۔۔ ” مسند حذیفہ (رض) “۔ قتادہ (رض) کی روایت ہے کہ بنوامیہ کے آزاد کردہ غلام ابو سعید نے کھانا تیار کیا اور پھر ابوذر غفاری (رض) ، حذیفہ اور ابن مسعود (رض) کو دعوت دی یہ حضرات کھانا کھانے حاضر ہوگئے اتنے میں نماز کا وقت بھی ہوگیا اور حضرت ابوذر (رض) آگے بڑھ گئے تاکہ امامت کرائیں ابو حذیفہ (رض) بول پڑے کہ گھر کا مالک تمہارے پیچھے کھڑا ہے جو کہ امامت کا زیادہ حقدار ہے ابو ذر (رض) نے ابن مسعود (رض) سے پوچھا : اے ابن مسعود (رض) کیا مسئلہ یوں ہی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا جی ہاں ، چنانچہ ابو ذکر (رض) پیچھے ہوگئے ابو سعید (رض) کہتے ہیں انھوں نے مجھے آگے بلایا حالانکہ میں غلام تھا اور میں نے ان کی امامت کرائی ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22845- "مسند حذيفة رضي الله تعالى عنه" عن قتادة أن أبا سعيد مولى بني أسيد صنع طعاما ، ثم دعا أبا ذر وحذيفة وابن مسعود فحضرت الصلاة فتقدم أبو ذر ليصلي بهم فقال له حذيفة : وراءك رب البيت أحق بالامامة فقال له أبو ذر كذلك يا ابن مسعود ؟ قال : نعم فتأخر أبو ذر قال أبو سعيد : فقدموني وأنا مملوك فأممتهم.

(عب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22846 ۔۔۔ ” مسند مالک بن عبداللہ خزاعی “ مالک بن عبداللہ کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ساتھ غزوات میں شریک رہا ہوں چنانچہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کسی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہلکی نماز پڑھاتا ہوں ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ والبخاری فی تاریخہوابن ابی عاصم والبغوی)
22846 (مسند مالك بن عبد الله الخزاعي) غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم أصل خلف إمام كان أخف صلاة في المكتوبة منه.

(ش خ في تاريخه وابن أبي عاصم والبغوي).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22847 ۔۔۔ ھلب کی روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی ہے انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی دائیں طرف سے لوگوں کی طرف مڑتے تھے اور کبھی بائیں طرف سے ۔ (رواہ عبدالرزاق، و ابن ابی شیبۃ)
22847 (مسند هلب) أنه صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فرآه ينصرف مرة عن يمينه ومرة عن شماله.

(عب ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22848 ۔۔۔ عمرو بن سلمہ جرمی (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی قوم کا ایک وفد حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں واپس لوٹنے لگے تو ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری امامت کون کرائے گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا : تم میں جسے سب سے زیادہ قرآن مجید یاد ہو ، چنانچہ قبیلہ میں سب سے زیادہ قرآن مجھے یاد تھا اور وہ مجھے نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھا دیتے حالانکہ میں اس وقت لڑکا تھا ، چنانچہ میں لوگوں کو نماز پڑھاتا اور میں نے اپنے اوپر ایک چادر اوڑھ رکھی تھی اس کے بعد میں جب بھی قبیلہ جرم کے کسی مجمع میں حاضر ہوتا میں ضرور ان کا امام بنتا اور میں آج تک ان کے جنازوں پر نماز پڑھا رہا ہوں ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22848 عن عمرو بن سلمة الجرمي عن أبيه أنهم وفدوا على النبي صلى الله عليه وسلم فلما أرادوا أن ينصرفوا قالوا : قلنا له يا رسول الله : من يصلي بنا ؟ قال أكثركم جمعا للقرآن أو آخدا للقرآن فلم يكن فيهم أحب جمع من القرآن ما جمعت ، فقدموني وأنا غلام ، فكنت أصلي بهم وعلي شملة ، فما شهدت مجمعا من جرم إلا كنت إمامهم وأصلي على جنائزهم إلى يومي هذا.

(ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22849 ۔۔۔ حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی روایت ہے کہ لوگوں میں وہ آدمی امامت کا زیادہ حقدار ہے جو کتاب اللہ کا سب سے بڑا قاری ہو ، اگر اس میں سب برابر ہوں تو جو سنت کا سب سے بڑا عالم ہو اگر اس میں سب برابر ہوں تو امامت کا حقدار وہ ہے جس نے ان میں سے پہلے ہجرت کی ہو اگر ہجرت میں سب برابر ہوں تو ان میں جو عمر میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرائے کوئی آدمی بھی کسی دوسرے کی سلطنت میں امامت نہ کرائے اور نہ ہی کوئی آدمی کسی دوسرے کی مخصوص نشست پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھنے کی جسارت کرے ۔ (رواہ عبدالرزاق عن ابی مسعود الانصاری (رض))
22849 (مسند سمرة بن جندب رضي الله عنه) أحق القوم أن يؤمهم أقرأهم لكتاب الله ، فان كانوا في القراءة سواء فأعلمهم بالسنة ، فإن كانوا في السنة سواء فأقدمهم هجرة، فإن كانوا في الهجرة سواء فأقدمهم سنا، ولا يؤمن رجل في سلطانه ولا يقعد على تكرمته في بيته إلا أن يأذن لك. "عبد الرزاق عن أبي مسعود الأنصاري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22850 ۔۔۔ حضرت ابو سعید (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اس مسجد میں فجر کی نماز پڑھائی اور قصار مفصل میں سے دو چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھیں نماز سے فارغ ہو کر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مختصر قرات پر اجنبیت سے دیکھنے لگے ۔ آخر ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آج آپ نے ہمیں بہت مختصر نماز پڑھائی ہے۔ حالانکہ آپ اتنی مختصر نماز ہمیں نہیں پڑھاتے تھے ارشاد فرمایا : کیا تم نے عورتوں کی صف میں ایک بچے کو روتے ہوئے نہیں سنا لہٰذا میں نے چاہا کہ اس کی ماں جلدی فارغ ہوجائے اور اپنے بچے کی خبر لے تب میں نے نماز کو مختصر کرلیا ، (رواہ ابن النجار)
22850- عن أبي سعيد قال: "صلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم في هذا المسجد صلاة الفجر فقرأ بأقصر سورتين في القرآن المفصل، فأقبل علينا بوجهه فأنكرنا ذلك، فقلنا: يا رسول الله والله لقد صليت بنا صلاة ما كنت تصليها بنا" قال: "ألم تسمعوا إلى الصبي يبكي في صف النساء فأحببت أن تفرغ أمه على ولدها فتجاوزت في صلاتي". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22851 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر کسی کے پاؤں کی چاپ سن لیتے تو (نماز شروع کرنے سے پہلے) اس کا انتظار کرلیتے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22851- "مسند عبد الله بن أبي أوفى" أن النبي صلى الله عليه وسلم كان ينتظر ما سمع وقع نعل. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22852 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کی روایت ہے کہ جب حضرت بلال (رض) (اقامت کہتے ہوئے ) ” قدقامت الصلوۃ “۔ کہتے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہو کر تکبیر کہہ دیتے ۔ (رواہ ابو المسیح) کلام : ۔۔۔ اس حدیث کی سند میں حجاج بن فروخ واسطی ایک راوی ہے اس کے متعلق امام نسائی کا کہنا ہے کہ یہ روای ضعیف اور متروک ہے۔
22852- "أيضا" كان إذا قال بلال: "قد قامت الصلاة نهض رسول الله صلى الله عليه وسلم فكبر". "أبو الشيخ في الأذان - وفيه: الحجاج بن فروخ الواسطي قال ن: ضعيف وتركه غيره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22853 ۔۔۔ ابومسعود انصاری (رض) کی روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی کہ فلاں آدمی ہمیں بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے۔ چنانچہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شدید غصہ میں دیکھا پھر ارشاد فرمایا : جو آدمی بھی لوگوں کو امامت کرائے اسے چاہیے کہ ہلکی نماز پڑھائے چونکہ اس کے پیچھے کمزور وناتواں بوڑھا اور حاجت مند بھی ہوسکتا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22853- "مسند أبي مسعود" قال رجل للنبي صلى الله عليه وسلم: "ما أشهد الصلاة مما يطيل بنا فلان، فما رأيت النبي صلى الله عليه وسلم غضب في موعظة أشد" غضبا منه يومئذ، قال: "من أم الناس فليخفف، فإن خلفه الضعيف والكبير وذا الحاجة". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22854 ۔۔۔ ابو سعید بن سرجس کہتے ہیں میں نے ابو واقد لیثی (رض) کے پاس نماز کا تذکرہ کیا تو آپ (رض) کہنے لگے ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے لیے بہت ہلکی نماز پڑھتے تھے اور اپنے آپ کو ہمیشگی کا پابند کرتے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ فی مصنفہ)
22854- عن أبي سعيد بن سرجس قال: "ذكرت الصلاة عند أبي واقد الليثي، فقال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أخف الناس على الناس وأدومه على نفسه". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22855 ۔۔۔ حضرت ابو واقد لیثی (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے لیے بہت ہلکی (مختصر) نماز پڑھتے اور جب اکیلے نماز پڑھ رہے ہوتے تو بہت لمبی نماز پڑھتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22855- عن أبي واقد الليثي قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أخف الناس صلاة على الناس، وأطول الناس صلاة على نفسه". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22856 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ لڑکا بیشک بالغ نہ ہوجائے اس وقت تک امامت نہیں کر اسکتا اور تمہارے بہترین لوگ تمہارے اذان دیا کریں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22856- عن ابن عباس قال: "لا يؤم الغلام حتى يحتلم وليؤذن لكم خياركم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22857 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو حذیفہ (رض) کے آزاد کردہ غلام سالم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین میں سے مہاجرین اولین اور انصار کی مسجد قباء میں امامت کراتے تھے اور ان (مقتدیوں) میں ابوبکر عمر ، ابوسلم زید ، اور عامر بن ربیعہ (رض) بھی موجود ہوتے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22857- عن ابن عمر قال: "كان سالم مولى أبي حذيفة يؤم المهاجرين الأولين من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والأنصار في مسجد قباء فيهم أبو بكر وعمر وأبو سلمة وزيد وعامر بن ربيعة". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22858 ۔۔۔ نافع کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کی ایک مسجد میں نماز کھڑی کی گئی اور اس مسجد کے قریب حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کی زمین بھی تھی جب کہ اس مسجد کا امام ایک آزاد کردہ غلام تھا اتنے میں حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں تشریف لائے وہ آزاد غلام حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے کہنے لگا آگے بڑھیے اور لوگوں کو نماز پڑھائیے حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) نے فرمایا :، تم اس کے زیادہ حقدار ہو کہ لوگوں کو نماز پڑھاؤ چونکہ یہ تمہاری مسجد ہے چنانچہ اس آزاد کردہ غلام نے نماز پڑھائی ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22858- عن نافع قال: "أقيمت الصلاة في مسجد بطائفة المدينة ولعبد الله بن عمر هناك أرض، وإمام ذلك المسجد مولى فجاء ابن عمر يشهد الصلاة" فقال المولى: "تقدم فصل فقال ابن عمر: أنت أحق أن تصلي في مسجدك فصلى المولى". "عب".
tahqiq

তাহকীক: