কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২২৮৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22859 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں تم میں سے کوئی آدمی بھی اپنے نفس سے شیطان کا حصہ مقرر نہ کرے چنانچہ وہ یہ نہ سمجھے کہ اس کے اوپر حق ہے کہ نماز سے فارغ ہو کر مقتدیوں کی طرف دائیں طرف سے ہی مڑنا ہے ، حالانکہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقتدیوں کی طرف اکثر بائیں طرف سے مڑتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق، و ابن ابی شیبۃ)
22859- "مسند ابن مسعود رضي الله عنه" لا يجعلن أحدكم للشيطان من نفسه جزء لا يرى إلا أن عليه حقا أن ينصرف عن يمينه، قد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أكثر ما ينصرف عن شماله. "عب ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22860 ۔۔۔ شعبی (رح) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت ابن ام مکتوم (رض) کو اپنا نائب مقرر کیا تھا اور وہی (مدینہ میں) لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے حالانکہ وہ نابینا بھی تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق) فائدہ : ۔۔۔ کتب فقہ میں نابینا کی امامت کو مکروہ کہا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نابینا کما حقہ طہارت و پاکیزگی کا خیال اس طرح نہیں رکھ سکتا جس طرح کہ بینا شخص رکھ سکتا ہے ، فقہی اصول ہمیشہ ہمیشہ کلیات کو دیکھ کر بنائے جاتے ہیں نہ کی جزئیات کو چنانچہ خارج میں ہمارا مشاہدہ ہے کہ اکثر نابینے طہارت کا خیال نہیں رکھتے حتی کہ بعض اندھے تو ایسے بھی دیکھے ہیں کہ ان کے کپڑوں کے ساتھ پیشاب لگا ہوتا ہے اور انھیں خبر تک نہیں ہوتی ، بہرحال اگر ایک نابینا شخص عالم ہو حافظ وقاری ہو سنت سے واقفیت بھی رکھتا ہو اور طہارت و پاکیزگی کا کما حقہ خیال بھی رکھتا ہو اس کی امامت بلاشبہ کراہت سے خالی ہوگی بلکہ مستحسن ہے لیکن ہر نابینا بھی تو ابن ام مکتوم نہیں بن سکتا ، واللہ اعلم ۔
22860- عن الشعبي أن النبي صلى الله عليه وسلم استخلف ابن أم مكتوم يوم غزوة تبوك، فكان يؤم الناس وهو أعمى. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22861 ۔۔۔ عثمان بن ابوالعاص (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے آخری نصیحت یہ کی تھی کہ اپنے ساتھیوں کو ایسی نماز پڑھاؤ جو ضعیف ترین آدمی کی نماز ہوسکتی ہے ، چونکہ تمہارے مقتدیوں میں ناتواں بھی ہوتا ہے ، بوڑھا بھی ہوتا ہے ، ضعیف اور حاجت مند بھی ہوتا ہے اور ایسے شخص کو مؤذن مقرر کرو جو اذان پر اجرت کا خواستگار نہ ہو ۔ (رواہ ابو الشیخ فی الاذان)
22861- عن عثمان بن أبي العاص قال: "كان آخر ما عهد إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم أن" قال: "صل بأصحابك صلاة أضعفهم، فإن فيهم الضعيف والكبير وذا الحاجة، واتخذ مؤذنا لا يأخذ على أذانه أجرا". "أبو الشيخ في الأذان".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22862 ۔۔۔ حضرت عثمان بن ابو العاص (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے طائف کا گورنر مقرر کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے جو آخری نصیحت ارشاد فرمائی وہ یہ تھی کہ لوگوں کو ہلکی (یعنی مختصر) نماز پڑھاؤ ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22862- عن عثمان بن أبي العاص وكان النبي صلى الله عليه وسلم استعمله على الطائف قال: "وكان آخر شيء عهده إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أخفف على الناس الصلاة". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22863 ۔۔۔ عدی (رض) کہتے ہیں کہ جو آدمی ہماری امامت کرائے اسے چاہیے کہ رکوع اور سجدہ اچھی طرح سے کرے چونکہ ہم میں ناتواں بوڑھا ، مریض مسافر اور حاجت مند بھی ہوسکتا ہے ہم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایسی ہی نماز پڑھتے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22863- عن عدي قال: "من أمنا فليتم الركوع والسجود، فإن فينا الكبير والضعيف والمريض والعابر سبيل وذا الحاجة، هكذا نصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22864 ۔۔۔ زہری کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چند صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نابینا بھی تھے اور وہ اپنے اپنے قبیلوں میں امامت کراتے تھے ان (نابینا حضرات) میں سے یہ بھی ہیں حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم حضرت عتبان بن مالک اور معاذ بن عفراء (رض) ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22864- عن الزهري أن رجالا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أصيبت أبصارهم فكانوا يؤمون عشائرهم منهم عبد الله بن أم مكتوم، وعتبان بن مالك ومعاذ بن عفراء. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22865 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے مخلوق میں کسی کے پیچھے بھی ایسی ہلکی نماز نہیں پڑھی جیسی کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پڑھتے تھے ۔ (رواہ الخطیب)
22865- عن علي قال: "ما صليت خلف خلق أخف صلاة من رسول الله صلى الله عليه وسلم في تمام". "خط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22866 ۔۔۔ حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی روایت ہے کہ اہل کوفہ نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے شکایت کی کہ سعد (رض) اچھی طرح سے انھیں نماز نہیں پڑھاتے ،۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے سعد (رض) سے اس کی وجہ دریافت کی اس پر سعد (رض) نے کہا : میں تو انھیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سی نماز پڑھاتا ہوں اور اس میں سے کچھ نہیں چھوڑتا پہلی دو رکعتوں کو پوری پوری پڑھاتا ہوں اور آخری دو رکعتوں کو مختصر کرتا ہوں ، سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : اے ابو اسحاق ! یہ تمہارے بارے میں لوگوں کی بدگمانی ہے ۔۔ (رواہ عبدالرزاق، والبخاری ومسلم وابو داؤد النسائی ، وابو یعلی وابو نعیم فی المعرفہ)
22866- "أيضا" عن جابر بن سمرة قال: "شكا أهل الكوفة أن سعدا لا يحسن أن يصلي، فذكر ذلك عمر له، فقال سعد: أما أنا فكنت أصلي بهم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم لا أخرم عنها أركد في الأوليين وأحذف في الأخريين، فقال عمر: ذلك الظن بك أبا إسحاق. "عب خ م د ن ع وأبو نعيم في المعرفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22867 ۔۔۔ مصعب بن سعد (رض) روایت کرتے ہیں کہ میرے والد گھر میں لمبی لمبی نمازیں پڑھتے جب کہ لوگوں ہلکی (مختصر) نماز پڑھاتے میں نے پوچھا : اے اباجان ! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ! انھوں نے جواب دیا : ہم امام ہیں اور ہماری اقتداء کی جاتی ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22867- "أيضا" عن مصعب بن سعد قال: "كان أبي يطيل الصلاة في بيته ويخفف عند الناس، فقلت: يا أبتاه لم تفعل هذا؟ " قال: "إنا أئمة يقتدى بنا". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22868 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں ، سنت میں سے ہے کہ امام جب سلام پھیر لے اور جس جگہ نماز پڑھی ہے وہاں سے اٹھنے کی گنجائش اگر نہ ہو اور اس نے نوافل پڑھنے ہوں تو اس جگہ سے تھوڑا سا کھسک لے یا چہرہ دوسری طرف پہلے موڑ لے یا کوئی کام کرکے دونوں نمازوں میں فرق کرے ۔ (رواہ عبدالرزاق، و ابن ابی شیبۃ والدارقطنی والبیہقی)
22868- عن علي قال: "إن من السنة إذا سلم الإمام أن لا يقوم من موضعه الذي صلى فيه يصلي تطوعا حتى ينحرف أو يتحول أو يفصل بكلام". "عب ش قط ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22869 ۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سلام پھیر کر دائیں طرف سے (مقتدیوں کی طرف) مڑتے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22869- "مسند أنس رضي الله عنه" أن النبي صلى الله عليه وسلم كان ينصرف عن يمينه. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22870 ۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کو موخر کرتے اور پھر مختصر کرکے پڑھتے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ فی مصنفہ)
22870- "أيضا" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يؤخر الصلاة ويكلمها. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل : ۔۔۔ امام کے آداب کے بارے میں :
22871 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں میں سب سے زیادہ ہلکی اور مختصر نماز پڑھتے تھے ۔ (رواہ ، ابن ابی شیبۃ)
22871- "أيضا" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم من أخف الناس صلاة وأوجزهم. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے اختصار کا بیان :
22872 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ حضرت معاذ (رض) نے اپنی قوم کو فجر کی نماز پڑھائی اور اس میں سورت بقرہ پڑھی ان کے پیچھے ایک اعرابی تھا اس نے اپنے ہمراہ ایک اونٹنی لائی تھی (جو مسجد کے باہر تھی) جب دوسری رکعت شروع ہوئی تو اعرابی نے الگ اپنے طور پر جلدی جلدی پڑھ دی اور معاذ (رض) کو چھوڑ دیا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس اعرابی کی شکایت کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے ایسا کرنے کی وجہ دریافت کی تو کہنے لگا : مجھے اپنی اونٹنی کا ڈر تھا کہ کہیں چلی نہ جائے اور میرے گھر پر میرا عیال ہے جن کی میں نگرانی کرتا ہوں اس پر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ (رض) کو سختی سے تاکید کی کہ لوگوں کو کمزور تر آدمی کی سی نماز پڑھایا کرو چونکہ مقتدیوں میں بچے بھی ہوتے ہیں بوڑھے بھی ہوتے ہیں اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا مت کرو ۔ (رواہ ابن منیع)
22872- عن علي أن معاذا صلى بقومه الفجر فقرأ سورة البقرة وخلفه رجل أعرابي معه ناضح له، فلما كان في الركعة الثانية، صلى الأعرابي وترك معاذا، فأخبروا به النبي صلى الله عليه وسلم فقال: خفت على ناضحي ولي عيال أكنف 2 عليهم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: صل بهم صلاة أضعفهم فإن فيهم الصغير والكبير وذا الحاجة لا تكن فتانا. "ابن منيع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے اختصار کا بیان :
22873 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں جب آدمی کو کسی ضروری کام کی وجہ سے جلدی ہو تو اس کے لیے اتنا کافی ہے کہ رکوع میں یہ دعا پڑھ لیا کرے ۔ ” اللہم لک رکعت ولک سجدت وبک امنت وعلیک توکلت “۔ (رواہ یوسف) ” یا اللہ میں نے تیرے ہی لیے رکوع کیا تیرے ہی لیے سجدہ کیا اور تجھی پر ایمان لایا اور میں نے تجھی پر بھروسہ کیا “۔
22873- عن علي قال: "يجزيء الرجل إذا عجلت به حاجة في صلاته أن يقول في ركوعه: اللهم لك ركعت ولك سجدت وبك آمنت وعليك توكلت". "يوسف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے اختصار کا بیان :
22874 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز لوگوں میں سب سے زیادہ مکمل اور مختصر ہوتی تھی ۔ (رواہ ابن النجار)
22874- عن أنس قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم من أكمل الناس صلاة وأوجزهم". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے اختصار کا بیان :
22875 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز تمام لوگوں میں سب سے زیادہ کامل اور مختصر ہوتی تھی (رواہ ابن النجار)
22875- عن أنس قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم من أتم الناس صلاة وأوجزهم". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے اختصار کا بیان :
22876 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں سب سے زیادہ تخفیف کرتے تھے ۔ (رواہ ابن النجار)
22876- عن جابر قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أشد الناس تخفيفا في صلاته". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے اختصار کا بیان :
22877 ۔۔۔ حضرت زید بن خالد جہنی (رض) کہتے ہیں میں نے عزم کیا کہ میں رات کو ضرور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز دیکھوں گا چنانچہ میں چوکھٹ یا ستون کا سہارا لے کر انتطار میں بیٹھ گیا رات کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور دو مختصر سی رکعتیں پڑھیں پھر دو لمبی رکعتیں پڑھیں پھر دو رکعتیں پڑھیں جو پہلے والی دو رکعتوں سے قدرے ہلکی تھیں پھر ان سے ہلکی دو رکعتیں اور پڑھیں پھر ان سے ہلکی دو رکعتیں اور پڑھیں پھر آخر میں وتر پڑھے اور کل ملا کر تیرہ (13) رکعتیں پڑھیں ۔ (رواہ ابن النجار)
22877- عن زيد بن خالد الجهني قال: "قلت: لأرمقن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فتوسدت عتبته أو فسطاطه فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى ركعتين خفيفتين، ثم صلى ركعتين طويلتين، ثم صلى ركعتين وهما دون اللتين قبلهما، ثم صلى ركعتين وهما دون اللتين قبلهما، ثم صلى ركعتين وهما دون اللتين قبلهما، ثم أوتر فذلك ثلاث عشرة ركعة". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے اختصار کا بیان :
22878 ۔۔۔ حضرت ابوسعید (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی نماز میں طوال مفصل میں سے پڑھتے تھے لیکن ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قصار مفصل میں سے قرات کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے ایک بچے کے رونے کی آواز سنی تو میں نے چاہا کہ اس کی ماں جلدی فارغ ہو کر اس کی سنے ۔ (رواہ ابن ابی الدنیا فی المصارف) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ضعیف ہے چونکہ اس کی سند میں ابو ہارون عبدی ایک راوی ہے جو کہ ضعیف ہے۔
22878- عن أبي سعيد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرأ في الفجر بأول المفصل، وقرأ ذات يوم بقصار المفصل، فقيل له، فقال: إني سمعت بكاء صبي فأحببت أن أفرغ أمه له. "ابن أبي الدنيا في المصاحف وفيه: أبو هارون العبدي".
tahqiq

তাহকীক: