কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২২৯৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22959 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ نماز پڑھائی اور پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : کیا تم امام کے پیچھے کچھ قرات کرتے ہو ؟ چنانچہ بعض لوگوں نے کہا جی ہاں ہم قرات کرتے ہیں اور بعض نے کہا : ہم قرات نہیں کرتے ، اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (صرف) فاتحۃ الکتاب پڑھا کرو ۔ (رواہ ابن عدی والبیہقی فی القراۃ)
22959- عن أبي هريرة قال: "صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة، ثم أقبل بوجهه علينا فقال: أتقرأون خلف الإمام بشيء؟ فقال بعضهم: نقرأ، وقال بعضهم لا نقرأ، فقال: اقرؤا بفاتحة الكتاب". "عد، ق في القراءة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22960 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ نماز پڑھائی اور اس میں جہرا قرات کی پھر سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ ابھی ابھی قرات کی ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جی ہاں اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تب ہی میں کہہ رہا ہوں کہ قرآن میں میرے ساتھ منازعت کیوں کی جا رہی ہے ؟ چنانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جب سے لوگوں نے یہ بات سنی اس وقت سے جہری نمازوں میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ قرات کرنے سے باز آگئے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22960- "أيضا" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى صلاة جهر فيها بالقراءة، ثم أقبل على الناس بعد ما سلم، فقال لهم: هل قرأ منكم معي أحد آنفا؟ قالوا: نعم يا رسول الله قال: "إني أقول: ما لي أنازع القرآن؟ فانتهى الناس عن القراءة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما يجهر به من القراءة حين سمعوا ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22961 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ امام کے پیچھے سورت فاتحہ پڑھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں برابر ہے کہ نماز جہری ہو یا سری۔۔ (رواہ عبدالرزاق)
22961- عن ابن عباس قال: "لا بد أن يقرأ بفاتحة الكتاب خلف الإمام جهر أو لم يجهر". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22962 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو آدمی امام کے ساتھ فرض نماز پڑھ رہا ہو وہ امام کی قرات کے درمیان وقفوں میں سورت فاتحہ میں سورت فاتحہ پڑھ لیا کرے اور جس نے سورت فاتحہ پوری پڑھ لی تو وہ اسے کافی ہے۔ (رواہ البیہقی فی القراۃ) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ضعیف ہے دیکھے ضعاف الدارقطنی 281 والضیعفۃ 991 ۔
22962- عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من صلى صلاة مكتوبة مع الإمام فليقرأ بفاتحة الكتاب في سكتاته، ومن انتهى إلى أم القرآن فقد أجزأه". "ق في القراءة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22963 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امام جس نماز میں جہرا قرات کررہا ہو تو کسی کے لیے بھی جائز نہیں کہ وہ امام کے ساتھ قرات کرے ۔ (رواہ البیہقی فی القراۃ) کلام : ۔۔۔ بیہقی (رح) نے اس حدیث کو منکر قرار دیا ہے۔
22963- عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما كان من صلاة يجهر فيها الإمام بالقراءة فليس لأحد أن يقرأ معه". "ق فيه وقال: "منكر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22964 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن حذافہ (رض) نے نماز پڑھی اور اس میں جہرا قرات کردی اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں کہا اے ابن حذافہ مجھے (قرات) نہ سناؤ بلکہ اللہ تعالیٰ کو سنا ۔ (رواہ البیہقی فی القراۃ) فائدہ : ۔۔۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کو سنانے کا مطلب یہ ہے کہ قرات آہستہ کرو جہرا نہ کرو ۔
22964- عن أبي هريرة أن عبد الله بن حذافة صلى فجهر بالقراءة فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: "يا ابن حذافة لا تسمعني وأسمع الله". "ق فيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22965 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں ہر وہ نماز جس میں فاتحہ الکتاب نہ پڑھی جائے وہ نماز جس میں فاتحۃ الکتاب نہ پڑھی جائے وہ نماز نہیں ہوتی الا یہ کہ امام کے پیچھے ہو ۔ (رواہ البیہقی فی کتاب القراۃ)
22965- عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "كل صلاة لا يقرأ فيها بفاتحة الكتاب فلا صلاة إلا وراء الإمام". "ق في كتاب القراءة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22966 ۔۔۔ عیزار بن حریث (رض) کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کو فرماتے سنا ہے کہ امام کے پیچھے فاتحۃ الکتاب پڑھو۔ (رواہ البیہقی فی القراۃ، وقال صحیح)
22966- عن العيزار بن حريث قال: "سمعت ابن عباس يقول: اقرأ خلف الإمام بفاتحة الكتاب". "ق في كتاب القراءة وصححه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22967 ۔۔۔ ابو عالیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے قرات کے متعلق دریافت کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر وہ نماز جس میں تمہارا امام قرات کرے تم بھی قرات کرلو خواہ تھوڑی یا زیادہ اور اللہ کی کتاب تھوڑی نہیں ہے۔ (رواہ البیہقی فی القراۃ)
22967- عن أبي العالية قال: سألت ابن عباس قال: "كل صلاة قرأ فيها إمامك فاقرأ منه ما قل أو كثر وليس كتاب الله قليل". "ق فيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22968 ۔۔۔ ابو قلابہ محمد بن ابو عائشہ کے واسطہ سے ایک صحابی کی حدیث نقل کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شاید تم قرات کرتے ہو دراں حالیکہ امام بھی قرات کررہا ہوتا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : جی ہاں ہم قرات کرتے ہیں ، ارشاد فرمایا : ایسا مت کرو الا یہ کہ تم میں سے کوئی دل ہی دل میں فاتحۃ الکتاب پڑھ لے ۔۔ (رواہ البیہقی فی القراۃ) فائدہ : ۔۔۔ بیہقی (رح) کہتے ہیں صحابی کا مجہول ہونا حدیث کی پختگی میں باعث ضرر نہیں چونکہ ہر صحابی ثقہ ہوتا ہے ، اور محمد بن ابی عائشہ کے متعلق امام بخاری (رح) نے اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے کہ وہ بنی امیہ کا آزاد کردہ غلام ہے اور ابو قلابہ اکابر تابعین میں سے ہیں۔ بیہقی (رح) کی اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ یہ حدیث بےغبار ہے چونکہ اس کے راوی ثقہ ہیں۔
22968- عن أبي قلابة عن محمد بن أبي عائشة عن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لعلكم تقرأون والإمام يقرأ؟ " قالوا: إنا لنفعل،" قال: "فلا تفعلوا إلا أن يقرأ أحدكم فاتحة الكتاب في نفسه". "ق في القراءة - وقال: "الرجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يكون إلا بثقة ومحمد بن أبي عائشة مولى لبني أمية ذكره "خ" في التاريخ وأبو قلابة من أكابر التابعين وفقهائهم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22969 ۔۔۔ نافع ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امام کے پیچھے قرات کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (رواہ البیہقی فی کتاب القراۃ) کلام : ۔۔۔ بیہقی (رح) نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
22969- عن نافع عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن القراءة خلف الإمام. "ق في كتاب القراءة - ووهاه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22970 ۔۔۔ عبداللہ بن دینار حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرات خلف الامام کے متعلق دریافت کیا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امام جو قرات کرتا ہے (مقتدی کو قرات کی کیا ضرورت) ۔ (رواہ البیہقی فی القراۃ)
22970- عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر قال: "سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن القراءة خلف الإمام فقال: الإمام يقرأ". "ق فيه وضعفه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22971 ۔۔۔ رجاء بن حیوہ نقل کرتے ہیں حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) نے فرمایا : ہم نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی پھر فرمایا : جب تم میرے ساتھ نماز میں ہوتے ہو تو کیا میرے ساتھ قرآن پڑھتے ہو ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : جی ہاں ۔ حکم ہوا : بجز ام القرآن (سورت فاتحہ) کے کچھ نہ پڑھو ۔ (رواہ البیہقی فی القراۃ)
22971- عن رجاء بن حيوة عن عبد الله بن عمر قال: "صلينا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: هل تقرأون القرآن معي إذا كنتم معي في الصلاة؟ قالوا: نعم قال: فلا تفعلوا إلا بأم القرآن". "ق فيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22972 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کہتے ہیں ایک مرتبہ ہم نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : جب تم میرے ساتھ نماز میں ہوتے ہو تو کیا تم بھی میرے ساتھ قرات کرتے ہو ؟ ہم نے عرض کیا : جی ہاں ۔ فرمایا : بجز ام القرآن کے مت پڑھو۔۔ (رواہ البیہقی فی القراۃ) : کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الوقوف 86)
22972- عن عبد الله بن عمرو قال: "صلينا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما انصرف" قال لنا: "هل تقرأون معي إذا كنتم في الصلاة؟ قلنا: نعم،" قال: "فلا تفعلوا إلا بأم القرآن". "ق في القراءة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22973 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن بحینہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم میں سے کسی نے ابھی ابھی نماز میں قرات کی ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : جی ہاں ۔ فرمایا تب ہی میں کہہ رہا ہوں کہ قرآن مجید میں مجھ سے منازعت کیوں کی جا رہی ہے۔ اس کے بعد لوگ امام کے پیچھے قرات کرنے سے باز آگئے ۔ (رواہ البیہقی فی القراۃ)
22973- عن عبد الله بن بحينة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "هل قرأ أحد منكم آنفا في الصلاة؟ قالوا: نعم يا رسول الله،" قال: "أما إني أقول: ما لي أنازع القرآن، فانتهى الناس عن القراءة حين قال ذلك". "ق في القراءة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22974 ۔۔۔ ” مسند ابن مسعود (رض) “ فرمایا کہ ہم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے قرات کرتے تھے تاہم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لوگ (میرے پیچھے قرات کرکے) مجھے خلط میں مبتلا کردیتے ہو ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22974- "مسند ابن مسعود رضي الله عنه" كنا نقرأ خلف النبي صلى الله عليه وسلم فقال: خلطتم علي القرآن. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22975 ۔۔۔ زید بن اسلم کہتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امام کے پیچھے قرات کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22975- عن زيد بن أسلم قال: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن القراءة خلف الإمام". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22976 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں کہ میں ظہر اور عصر کی نماز میں امام کے پیچھے ہر رکعت میں ام الکتاب (سورت فاتحہ) اور کوئی دیگر سورت پڑھ لیتا ہوں ۔ (رواہ البیہقی فی القراۃ) فائدہ : ۔۔۔ بیہقی (رح) کہتے ہیں اس حدیث کی سند دنیا بھر کی اسانید سے صحیح ترین ہے ، بہرحال اس حدیث کی سند سے انکار ہے جہاں قرات خلف الامام میں وارد احادیث صحیح الاسناد ہیں وہاں عدم قرات میں بھی صحیح ترین احادیث ہیں ، یہ امام بیہقی (رح) کا مزاج ہے کہ جہاں اپنے مسلک کے موافق حدیث آتی ہے تو برملا جذبات میں آجاتے ہیں اور جہاں مخالف حدیث میں معمولی سا نکتہ نظر آتا ہے اسے آنکھ کا شیشہ بنا دیتے ہیں جیسے کہ بلال بن ابی رباح کی حدیث 22946 میں اس کا مشاہدہ ہوا ہے۔ الغرض دونوں طرف مضبوط دلائل بھی موجود ہیں اور کمزور بھی ” ونقول من فل فقد احسن ومن لا فھو ایضا قد احسن “۔
22976- عن علي قال: "اقرأ في الظهر والعصر خلف الإمام في كل ركعة بأم الكتاب وسورة". "ق فيه وقال: "إسناده من أصح الأسانيد في الدنيا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22977 ۔۔۔ حارث علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کیا میں امام کے پیچھے قرات کروں یا خاموش رہوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ خاموش رہو چونکہ امام کی قرات تمہیں کافی ہے۔ (رواہ البیہقی فی القراۃ) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ 3128 ۔
22977- عن الحارث عن علي قال: "سأل رجل النبي صلى الله عليه وسلم أقرأ خلف الإمام أو أنصت؟ " قال: "لا بل أنصت فإنه يكفيك". "ق فيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22978 ۔۔۔ قتادہ (رض) کہتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میرے ساتھ نماز میں ہوتے ہو تو کیا تم بھی قرات پڑھتے ہو ؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جی ہاں ۔ حکم ہوا : بجز ام القرآن کے کچھ نہ پڑھو ۔ (رواہ البیہقی فی القراۃ)
22978- عن قتادة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "هل تقرأون القرآن إذا كنتم معي في الصلاة؟ " قلنا: نعم يا رسول الله" قال: "فلا تفعلوا إلا بأم القرآن". "ق في القراءة".
tahqiq

তাহকীক: