কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২২৯৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22939: ایک آدمی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ہم سے عہد لیا کہ ہم امام کے پیچھے قراءت نہ کریں۔ ابن ابی شیبہ۔
22939- عن رجل قال: "عهد إلينا عمر بن الخطاب أن لا نقرأ مع الإمام". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22940: حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرا جی چاہتا ہے کہ جو امام کے پیچھے قراءت کرتے اس کے منہ میں پتھر ڈال دوں۔ ابن ابی شیبہ۔
22940- عن عمر قال: "وددت أن الذي يقرأ مع الإمام في فيه حجر". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22941: حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی اور ایک مقتدی نے سرا قراءت کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کے بعد فرمایا تم میں سے کس نے میرے ساتھ قراءت کی ہے ؟ اور یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی، اس آدمی نے کہا جی ہاں ! یا رسول اللہ میں نے سورة الاعلی کی قراءت کی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے کیا ہوگیا کہ میں قرآن کے ساتھ جھگڑوں ! کیا امام کی قراءت تمہیں کافی نہیں ؟ امام تو بنایا ہی اس لیے جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔ لہٰذا جب امام قراءت کرتے تو تم خاموشی سے سنو۔ بیہقی
22941- عن عمر بن الخطاب قال: "صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما صلاة الظهر فقرأ رجل من الناس في نفسه،" قال: "هل قرأ معي أحد منكم قال ذلك ثلاثا فقال له الرجل: نعم يا رسول الله أنا كنت أقرأ بسبح اسم ربك الأعلى،" قال: "ما لي أنازع القرآن أما يكفي أحدكم قراءة إمامه؟ إنما جعل الإمام ليؤتم به، فإذا قرأ فأنصتوا". "ق في كتاب وجوب القراءة في الصلاة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22942: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس نے امام کے ساتھ قراءت کی اس نے فطرت کے خلاف کیا۔ عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ، ضعفاء عقیلی، دار قطنی۔
22942- عن علي قال: "من قرأ خلف الإمام فقد أخطأ الفطرة". "عب ش عق قط وأبو سعيد ابن الأعرابي في ملمحه، ق في كتاب القراءة في الصلاة وضعفه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22943: حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا امام کے ساتھ قراءت کرنا خلاف فطرت ہے۔ عبدالرزاق۔
22943- عن علي قال: "ليس من الفطرة القراءة مع الإمام". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22944: حضرت علی (رض) سے ہی مروی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کی نماز نہیں ہوئی جس نے امام کے پیچھے قراءت کی۔ عبدالرزاق۔
22944- عن علي قال: "من قرأ خلف الإمام فلا صلاة له". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22945: حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب آدمی پیچھے ہو تو پہلی دو رکعتوں میں سورت پڑھنے کا اور دوسری دو میں سورة فاتحہ پڑھنے کا حکم فرماتے تھے۔ الحسن بن بدر، البیہقی۔
22945- عن علي أنه كان يأمر أن يقرأ في الركعتين الأوليين بسورة وفي الأخريين بفاتحة الكتاب إذا كان خلف الإمام. "الحسن بن بدر، ق في القراءة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22946 ۔۔۔ ” مسند بلال بن ابی رباح “ اسماعیل بن فضل عیسیٰ بن جعفر ، سفیان ثوری اعمش حکم ، عبدالرحمن بن ابالیل “۔ کے سلسلہ سند سے بلال (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں امام کے پیچھے قرات نہ کروں ، رواہ الحاکم فی تاریخہ والبیہقی) کلام : ۔۔۔ حکم کہتے ہیں : یہ حدیث باطل ہے اور سفیان ثوری (رح) نے اللہ تبارک وتعالیٰ کے حضور اس حدیث سے معافی مانگی ہے ، تلخیص میں حاکم لکھتے ہیں : یہ حدیث اس قسم حدیث سے ہے کہ جس کا سماع جائز نہیں ۔ بیہقی (رح) کہتے ہیں : عیسیٰ بن جعفر جو کہ ری کے قاضی ہیں ثقہ اور ثبت راوی حدیث ہیں اور اس دنس (گندگی) کا بوجھ اپنے ذمہ نہیں لے سکتے ، لہٰذا عیسیٰ بن جعفر (رح) سے اس حدیث کو روایت کرنے والا (یعنی اسماعیل بن فضل) یا تو کذاب (جھوٹا) ہے اور اپنی طرف سے حدیث گھڑ کر عیسیٰ بن جعفر (رح) ثقہ راوی کی طرف نسبت کردی ہے یا پر یہ راوی صدوق ہے اور اس نے ایک حدیث میں دوسری حدیث کو داخل کردیا ہے۔
22946- "مسند بلال بن أبي رباح" عن إسماعيل بن الفضل ثنا عيسى بن جعفر ثنا سفيان الثوري عن الأعمش عن الحكم عن عبد الرحمن ابن أبي ليلى عن بلال قال: "أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن لا أقرأ خلف الإمام". "ك في تاريخه - وقال: "هذا باطل والثوري تبرأ إلى الله منه، وفي التلخيص" وقال: "هذا الخبر من النوع الذي لا يسوى سماعه، ق في القراءة" وقال: "عيسى بن جعفر قاضي الري ثقة ثبت لا يحتمل مثل هذا الدنس فالراوي عنه إما كذاب وضع هذا الحديث على عيسى بن جعفر الثقة أو صدوق دخل عليه حديث في حديث".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22947 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر اور عصر کی نماز پڑھی جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : میرے پیچھے کس نے ” سبح اسم ربک الاعلی “۔ پڑھی ہے ؟ کسی نے بھی جواب نہ دیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار پوچھا پھر ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا : یارسول اللہ ! میں نے پڑھی ہے فرمایا : میں نے تمہیں دیکھا ہے کہ تم قرآن میں مجھ سے جھگڑ رہے ہو ۔ لہٰذا تم میں سے جو بھی امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو تو اس کے امام کی قرات اس کی قرات کی طرح ہے۔ (البیہقی فی کتاب القراۃ)
22947- عن جابر قال: "صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر والعصر فلما انصرف" قال: "من قرأ خلفي بسبح اسم ربك الأعلى؟ فلم يكلمه أحد فردد ذلك ثلاثا فقال رجل: أنا يا رسول الله فقال: لقد رأيتك تخالجني أو قال تنازعني القرآن؟ من صلى منكم خلف إمامه فقراءته له قراءة". "ق في كتاب القراءة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22948 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھا رہے تھے کہ ایک آدمی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے قرات شروع کردی اسے ایک (دوسرے) آدمی نے ایسا کرنے سے منع کیا جب نماز سے فارغ ہوئے تو دونوں جھگڑ پڑے اور معاملہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک جا پہنچا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو آدمی امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو تو امام کی قرات اس کی قرات ہے۔ (رواہ البیہقی فی کتاب القراۃ)
22948- عن جابر قال: "صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجل خلفه يقرأ فنهاه رجل، فلما انصرف تنازعا حتى بلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من صلى خلف إمام فإن قراءة الإمام له قراءة". "ق فيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22949 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کہتے ہیں میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جس نے نماز پڑھی اور نماز میں سورت فاتحہ نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے۔ الایہ کہ وہ امام کے پیچھے ہو (تو اسے سورت فاتحہ پڑھنے کی ضرورت نہیں) ۔ (رواہ البیہقی فی کتاب القراۃ) کلام : ۔۔۔ بیہقی (رح) نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
22949- عن جابر سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من صلى صلاة لا يقرأ فيها بأم القرآن فهي خداج إلا وراء الإمام. "ق فيه وضعفه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22950 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ نماز نہیں ہوتی جس میں سورت فاتحہ نہ پڑھی گئی ہو الا یہ کہ وہ امام کے پیچھے ہو ۔ (رواہ البیہقی فی کتاب القراۃ) کلام : ۔۔۔ بیہقی (رح) نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے نیز دیکھئے تذکرۃ الموضوعات 40 والتزیہ 1142)
22950- عن جابر قال: "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "لا تجزئ صلاة لا يقرأ فيها بفاتحة الكتاب إلا أن يكون وراء الإمام". "ق فيه وضعفه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22951 ۔۔۔ حضرت عمران بن حصین (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو ظہر کی نماز پڑھائی جب سلام پھیرا تو فرمایا : کیا تم میں سے کسی نے ” سبح اسم ربک الاعلی “۔ پڑھی ہے ؟ قوم میں سے ایک آدمی نے کہا : میں نے پڑھی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تبھی میں سمجھ گیا تھا کہ تم میں سے کوئی اس سورت میں میرے ساتھ خلل ڈال رہا ہے ایک روایت میں ہے : میں نے کہا : مجھ سے منازعت کیوں کی جا رہی ہے۔ (رواہ عبدالرزاق ، و ابن ابی شیبۃ، والطبرانی ، وابن عدی فی الکامل والدارقطنی والبیہقی فی القراۃ) جب کہ ابن عدی ، دارقطنی اور بیہقی (رح) نے یہ اضافہ بھی نقل کیا ہے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امام کے پیچھے قرات کرنے سے منع فرمایا : نیز ان حضرات نے اس اضافہ کو ضعیف قرار دیا ہے۔
22951- عن عمران بن حصين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى بأصحابه الظهر فلما سلم قال: "هل قرأ أحد منكم بسبح اسم ربك الأعلى؟ " فقال رجل من القوم: أنا فقال: قد علمت أن بعضكم خالجنيها - وفي لفظ - فقال: قلت ما لي أنازعها. "عب ش ط". زاد "عد، قط، ق في القراءة": فنهى عن القراءة خلف الإمام. "وضعفوا هذه الزيادة ق في كتاب القراءة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22952 ۔۔۔ قاضی ابو عمر محمد بن حسین بن محمد بن ھثیم ابو حسن عبدالواحد بن حسن (جدیساپور میں) حسن بن بیان عسکری عبداللہ بن حماد سلیمان بن سلمہ محمد بن اسحاق اندلسی مالک بن انس یحییٰ بن سعید انصاری ، سعید بن مسیب (رح) کے سلسلہ سند سے مروی ہے کہ نواس بن سمعان (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی چنانچہ میری دائیں طرف انصار کا ایک آدمی تھا اس نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے قرات شروع کردی جب کہ میری بائیں طرف قبیلہ مزینہ کا ایک آدمی تھا وہ کنکریوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز مکمل کی تو فرمایا : میرے پیچھے کس نے قرات کی ہے ؟ انصاری بولا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسا مت کرو اور جو آدمی کنکریوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اس سے کہا : یہ تیرا حصہ ہے۔ (رواہ البیہقی) کلام : ۔۔۔ بیہقی (رح) کہتے ہیں اس حدیث کی مذکورہ سند باطل ہے چونکہ اس میں غیر معروف راوی بھی ہیں چنانچہ محمد بن اسحاق اگر عکاشی ہے تو وہ جھوٹا کذاب ہے اور وہ اپنی طرف سے حدیث گھڑ کر امام اوزاعی اور دیگر ائمہ حدیث کی طرف منسوب کردیتا تھا ۔
22952- أنبأنا القاضي أبو عمر محمد بن الحسين بن محمد بن الهيثم أنبأنا أبو الحسن عبد الواحد بن الحسن بجند يسابور حدثنا الحسن بن بيان العسكري حدثنا عبد الله بن حماد حدثنا سليمان بن سلمة عن محمد بن إسحاق الأندلسي حدثنا مالك بن أنس عن يحيى بن سعيد الأنصاري عن سعيد ابن المسيب عن النواس بن سمعان قال: "صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الظهر، وكان عن يميني رجل من الأنصار، فقرأ خلف النبي صلى الله عليه وسلم، وعلى يساري رجل من مزينة يلعب بالحصى، فلما قضى صلاته فقال: من قرأ خلفي؟ فقال الأنصاري: انا يا رسول الله،" قال: فلا تفعل، من كان له إمام فإن قراءة الإمام له قراءة،" وقال للذي يلعب بالحصى: "هذا حظك". "قال ق: "هذا إسناد باطل، وفيه: من لا يعرف، ومحمد بن إسحاق هذا إن كان العكاشي فهو كذاب يضع الحديث على الأوزاعي وغيره من الأئمة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22953 ۔۔۔ حضرت ابوامامہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے امام کے پیچھے قرات نہ کی اس کی نماز ناقص ہے۔ (رواہ البیہقی فی القراۃ)
22953- عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من لم يقرأ خلف الإمام فصلاته خداج". "ق في القراءة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22954 ۔۔۔ حضرت زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ جس نے امام کے ساتھ قرات کی اس کی نماز نہیں ہوتی ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22954- عن زيد بن ثابت قال: "من قرأ مع الإمام فلا صلاة له". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22955 ۔۔۔ حضرت ابودرداء (رض) روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : کیا ہر نماز میں قرات ہوگی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ایک انصاری نے کہا : واجب ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا ہے : دراں حالیکہ میں لوگوں کی بنسبت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زیادہ قریب تھا میں یہی سمجھتا ہوں کہ امام جب قوم کی امامت کررہا ہو تو وہ ان کے لیے کافی ہے۔ (رواہ البیہقی) کلام : ۔۔۔ بیہقی (رح) کہتے ہیں : اس حدیث کا اول حصہ محفوظ ہے اور دوسرا حصہ خطا ہے۔
22955- عن أبي الدرداء قال: "سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم أفي كل صلاة قراءة؟ فقال: نعم، فقال رجل من الأنصار: وجبت، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم وكنت أقرب القوم إليه: "ما أرى الإمام إذا أم القوم إلا قد كفاهم". "ق فيه وقال: "هذا خطأ؛ والمحفوظ الأول".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22956 ۔۔۔ حضرت ابودرداء (رض) روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہر نماز میں قرات ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں ، ایک آدمی بولا : واجب ہے واجب ہے حضرت ابو درداء (رض) کہتے ہیں : میں نہیں سمجھتا کہ امام جب لوگوں کی امامت کررہا ہو مگر یہ کہ وہ ان کے لیے کافی ہے۔ (رواہ البیہقی فی القراۃ) فائدہ : ۔۔۔ ان دونوں حدیثوں میں حضرت ابو درداء (رض) نے امام کو مقتدیوں کے لیے کافی سمجھا ہے یعنی امام کی قرات مقتدیوں کی قرات کے لیے کافی ہے مقتدیوں کو قرات کی ضرورت نہیں۔
22956- عن أبي الدرداء أن رجلا قال: "يا رسول الله في كل صلاة قراءة؟ " قال: "نعم"، فقال رجل: وجبت وجبت، فقال أبو الدرداء: ما أرى الإمام إذا أم القوم إلا قد كفاهم". "ق فيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22957 ۔۔۔ حضرت ابو سعید (رض) فرماتے ہیں میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ آدمی جب امام کے پیچھے قرات نہ کرے تو یہ اسے کافی ہوگا ؟ ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ (رواہ البیہقی فی القراۃ) کلام : ۔۔۔ بیہقی (رح) نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
22957- عن أبي سعيد قال: "سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الرجل خلف الإمام لا يقرأ شيئا أيجزئه ذلك؟ " قال: "نعم". "ق فيه وضعفه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22958 ۔۔۔ ابو قتادہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم میرے پیچھے قرات کرتے ہو ؟ ہم نے عرض کیا : جی ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بجز سورت فاتحہ کے کچھ نہ پڑھو۔ (رواہ البیہقی فی القراۃ)
22958- عن أبي قتادة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "أتقرأون خلفي؟ " قلنا: نعم،" قال: "فلا تفعلوا إلا بفاتحة القرآن - وفي لفظ - إلا بفاتحة الكتاب". "ق في القراءة".
tahqiq

তাহকীক: