কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২৩০৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کا مرد کی اقتداء میں نماز پڑھنا :
23039 ۔۔۔ ” مسند سہل بن سعد ساعدی “۔ حضرت سہل بن سعد (رح) کہتے ہیں میں نے مردوں کو کپڑوں کی تنگدستی کی وجہ سے بچوں کی طرح گردنوں سے زاروں کو باندھ کر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ، ایک آدمی کہنے لگا ! اے عورتوں کی جماعت ! تم (سجدہ سے) مردوں سے پہلے سر مت اٹھاؤ ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
23039- "مسند سهل بن سعد الساعدي" لقد رأيت الرجال عاقدين أزرهم في أعناقهم مثل الصبيان من ضيق الأزر خلف النبي صلى الله عليه وسلم فقال قائل: "يا معشر النساء لا ترفعن رؤوسكن حتى يرفع الرجال". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کا مرد کی اقتداء میں نماز پڑھنا :
23040 ۔۔۔ ” مسند حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) “۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کہتے ہیں ایک مرتبہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلو میں نماز پڑھی اور حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) نے ہمارے پیچھے (ہمارے ساتھ) نماز پڑھی ۔ (رواہ عبدالرزاق)
23040- "مسند ابن عباس رضي الله عنهما" صليت إلى جنب النبي صلى الله عليه وسلم وعائشة خلفنا تصلي معنا. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کا مرد کی اقتداء میں نماز پڑھنا :
23041 ۔۔۔ قاسم (رح) روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کا غلام ذکوان ان کی امامت کرتا تھا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
23041- عن القاسم أن عائشة كان يؤمها غلامها ذكوان. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کا مرد کی اقتداء میں نماز پڑھنا :
23042 ۔۔۔ ” مسند انس بن مالک (رض) حضرت ابوطلحہ (رض) نے اپنے گھر میں نماز کے لیے ایک جگہ مقرر کی ابوطلحہ (رض) نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیغام بھیج کر اپنے ہاں منگوایا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اور ابو طلحہ (رض) کو نماز پڑھائی درآنحالیکہ ام سلیم (رض) ہمارے پیچھے کھڑی تھیں ۔ (رواہ الطبرانی)
23042- "مسند أنس بن مالك رضي الله عنه" اتخذ أبو طلحة مسجدا في داره فأرسل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بي وبأبي طلحة، وأم سليم خلفنا. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کا مرد کی اقتداء میں نماز پڑھنا :
23043 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) روایت کرتے ہیں کہ میری دادی ملیکہ نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھانے پر مدعو کیا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھانا تناول کیا اور پھر فرمایا : کھڑے ہوجاؤ تاکہ ہم تمہارے لیے نماز پڑھیں ۔ ہمارے ہاں ایک چٹائی تھی جو پرانی ہونے کی وجہ سے سیاہی مائل ہوگئی تھی میں نے اسے پانی سے صاف کیا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے کھڑے ہوئے جب کہ میں نے اور یتیم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے صف بنا لی اور بڑھیا ہمارے پیچھے کھڑی ہوگئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی اور پھر ہمارے ہاں سے تشریف لے گئے ۔
23043- عن أنس أن جدته مليكة دعت النبي صلى الله عليه وسلم بطعام صنعته له فأكل منه، ثم قال: "قوموا فلنصل لكم فقمت إلى حصير لنا قد اسود من طول ما لبس فنضحته بماء، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم وصففت أنا واليتيم من ورائه والعجوز من ورائنا، فصلى لنا ركعتين، ثم انصرف". "مالك عب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کی امامت :
23044 ۔۔۔ ” مسند خلاد انصاری “ عبدالرحمن بن خلاد (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ام ورقہ (رض) کو اجازت دی تھی کہ وہ اپنے گھر والوں کی امامت کرائے چنانچہ ان کا ایک موذن بھی تھا ۔ (رواہ ابو نعیم)
23044- "مسند خلاد الأنصاري" عن عبد الرحمن بن خلاد عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أذن لأم ورقة أن تؤم أهل دارها وكان لها مؤذن. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں خلیفہ مقرر کرنا :
23045 ۔۔۔ محمد بن حارث بن ابو ضرور سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ (رض) کو نکسیر آگئی آپ (رض) نے ایک آدمی کا ہاتھ پکڑا اور اسے (امامت کے لئے) آگے بڑھا دیا آپ (رض) وضو کے لیے چلے گئے واپس آئے لیکن پھر دوبارہ وضو کرنے چلے گئے اب آئے تو بقیہ نماز پڑھی اس دوران آپ نے کلام نہیں کیا ۔ (رواہ البیہقی فی جزنہ)
23045- عن محمد بن الحارث بن أبي ضرار أن عمر بن الخطاب كان يصلي بأصحابه فرعف فأخذ بيد رجل فقدمه، ثم ذهب فتوضأ، ثم صلى ما بقي من صلاته ولم يتكلم. "العيسى في جزئه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں خلیفہ مقرر کرنا :
23046 ۔۔۔ ابو رزین سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے پیچھے نماز پڑھی اسی اثناء میں آپ (رض) کو نکسیر آگئی ایک آدمی کو آگے بڑھایا اور آپ (رض) مسجد سے باہر نکل گئے ۔ (رواہ البیہقی)
23046- عن أبي رزين قال: "صليت خلف علي فرعف فالتفت فأخذ بيد رجل فقدمه يصلي وخرج علي". "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں خلیفہ مقرر کرنا :
23047 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ کوئی آدمی بھی کسی دوسرے کی طرف سے نماز نہ پڑھے اگر دوسرے کی طرف سے کوئی عمل کرنا بھی چاہے تو صدقہ کر دے یا اس کی طرف سے ہدیہ کر دے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
23047- عن ابن عمر قال: "لا يصلين أحد عن أحد ولكن إن كنت فاعلا تصدقت عنه أو أهديت". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں خلیفہ مقرر کرنا :
23048 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے کپڑوں میں خون کا اثر دیکھے دراں حالیکہ وہ نماز میں ہو وہ نماز سے لوٹ جائے اور خون کو دھو لے بقیہ کو پڑھی ہوئی نماز پر مکمل کرے جب تک کہ اس نے کلام نہ کیا ہو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
23048- عن ابن عمر قال: "إذا رأى الإنسان في ثوبه دما وهو في الصلاة فانصرف يغسله، أتم ما بقي على ما مضى ما لم يتكلم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں خلیفہ مقرر کرنا :
23049 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ آدمی کو جب نماز میں نکسیر آجائے یا قے ہوجائے یا مذی خارج ہوجائے تو وہ واپس لوٹ جائے اور وضو کرے پھر جائے نماز پر آئے اور بقیہ کو پڑھی ہوئی نماز پر مکمل کرے ، بشرطیکہ اس نے (اس دوران) کلام نہ کیا ہو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
23049- عن ابن عمر قال: "إذا رعف الرجل في الصلاة أو ذرعه القيء أو وجد مذيا فإنه ينصرف فيتوضأ، ثم يرجع فيتم ما بقي على ما مضى ما لم يتكلم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں خلیفہ مقرر کرنا :
23050 ۔۔۔ قیس بن سکن اور ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) نے فرمایا شیطان نماز میں آدمی کے دل میں طرح طرح کے خیالات پیدا کرتا رہتا ہے تاکہ اس کی نماز توڑ ڈالے چنانچہ شیطان جب نمازی کو ورغلانے سے مایوس ہوجاتا ہے تو اس کے دبر میں پھونک مار جاتا ہے لہٰذا جو شخص بھی اپنے پیٹ میں ایسا محسوس کرے وہ نماز نہ توڑے حتی کہ آواز نہ سن لے یا ہوا خارج ہوتی نہ محسوس کرے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
23050- عن قيس بن السكن وإبراهيم قالا: قال عبد الله بن مسعود: "إن الشيطان ليطيف بالرجل في صلاته ليقطع عليه صلاته فإذا أعياه نفخ في دبره فإذا أحس أحدكم ذلك فلا ينصرف حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عذر ہائے جماعت :
23051 ۔۔۔ عبداللہ بن جعفر عبدالرحمن بن مسور بن مخرمہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سعید بن یربوع (رض) کے پاس ان کے گھر پر تشریف لائے اور ان کی نظر ختم ہوجانے پر ان کی تعزیت کی اور پھر فرمایا : نماز جمعہ اور پنجگانہ نماز کو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد سے مت چھوڑو سعید (رض) بولے : میرے پاس کوئی قائد (رہبر) نہیں ہے عمر (رض) نے فرمایا : چلو ہم تمہارے پاس کسی قائد کو بھیج دیں گے چنانچہ آپ (رض) نے سعید (رض) کے پاس قیدیوں میں سے ایک غلام بھیج دیا (جوا نہیں ہاتھ سے پکڑ کر مسجد میں لایا کرتا تھا) (رواہ ابن سعد)
23051- عن عبد الله بن جعفر عن عبد الرحمن بن مسور بن مخرمة قال: "جاء عمر بن الخطاب سعيد بن يربوع إلى منزله فعزاه بذهاب بصره" وقال: "لا تدع الجمعة ولا الصلاة في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم،" قال: "ليس لي قائد،" قال: "فنحن نبعث إليك بقائد، فبعث إليه بغلام من السبي". "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عذر ہائے جماعت :
23052 ۔۔۔ نعیم بن تمام (رض) کہتے ہیں کہ میں نے ایک شدید ٹھنڈی رات میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے موذن کی (اذان کی) آواز سنی ، میں نے اپنے اوپر لحاف اوڑھ رکھا تھا میں نے تمنا کی کہ مؤذن اگر یوں کہہ دے کہ ” صلوا فی رحاکم “ یعنی اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو ، چنانچہ موذن جب ” حی علی الفلاح پر پہنچا تو موذن نے کہا ” صلوا فی رحالکم “ بعد میں میں نے اس کے متعلق ریافت کیا تو پتہ چلا کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا حکم دیا تھا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
23052- "مسند نعيم بن التمام" سمعت مؤذن النبي صلى الله عليه وسلم في ليلة باردة وأنا في لحاف فتمنيت أن يقول: صلوا في رحالكم، فلما بلغ حي على الفلاح قال: "صلوا في رحالكم، ثم سألت عنها فإذا النبي صلى الله عليه وسلم كان أمر بذلك". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عذر ہائے جماعت :
23053 ۔۔۔ نعیم بن تمام (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ شدید سردی والی رات میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے موذن نے اذان دی میں لحاف میں گھسا ہوا تھا ، میں نے تمنا کی کاش اللہ تبارک وتعالیٰ اگر موذن کی زبان پر ” ولا حرج “ یعنی گھروں میں نماز پڑھ لو اس میں کوئی حرج نہیں ڈال دے “۔ چنانچہ موذن جب اذان سے فارغ ہوا تو کہا : ولا حرج “۔
23053- "أيضا" أذن مؤذن النبي صلى الله عليه وسلم في ليلة فيها برد وأنا تحت لحافي فتمنيت أن يلقي الله على لسانه ولا حرج، فلما فرغ قال: ولا حرج. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عذر ہائے جماعت :
23054 ۔۔۔ عمرو بن اوس (رض) روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف کے ایک آدمی نے انھیں بتایا کہ ایک مرتبہ اس نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے موذن کی آواز سنی جب کہ یہ رات کا وقت تھا اور شدید بارش برس رہی تھی ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے موذن کو حکم دیا کہ یوں کہو ” حئی علی الصلوۃ حی علی الفلاح صلوا فی رحالکم یعنی اپنے اپنے ٹھکا کوں میں نماز پڑھ لو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
23054- عن عمرو بن أوس أن رجلا من ثقيف أخبره أنه سمع مؤذن رسول الله صلى الله عليه وسلم في ليلة مطيرة، فأمره يقول: حي على الصلاة حي على الفلاح، صلوا في رحالكم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عذر ہائے جماعت :
23055 ۔۔۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک سفر میں ہم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے کہ بارش برسنے لگی : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے جو چاہے اپنے کجاوے میں نماز پڑھ لے۔ (رواہ ابن حبان والبزار) کلام : ۔۔۔ سند کے اعتبار سے یہ حدیث ضعیف ہے دیکھے ذخیرۃ الحفاظ 2764 ۔
23055- عن جابر بن عبد الله قال: "خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فمطرنا فقال: ليصل من شاء منكم في رحله". "حب، ز".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عذر ہائے جماعت :
23056 ۔۔۔ جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت ہے کہ رات کو جب شدید آندھی چلتی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تشریف لے آتے جب تک آندھی نہ رک جاتی باہر نہ نکلتے اسی طرح آسمان میں جب کوئی نئی بات رونما ہوتی مثلا سورج یا چاند کو گرہن لگ جاتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جائے نماز پر تشریف لے جاتے حتی کہ گرہن ختم ہوجاتا ۔ (رواہ ابن ابی الدنیا وابن عساکر وسندہ حسن)
23056- "أيضا" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا كانت ليلة ريح شديدة كان مفزعه إلى المسجد حتى تسكن الريح، وإذا حدث في السماء حدث من كسوف شمس أو قمر كان مفزعه إلى المصلى حتى تنجلي. "ابن أبي الدنيا، كر وسنده حسن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عذر ہائے جماعت :
23057 ۔۔۔ عبداللہ حارث (رض) روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن موسلادھار بارش رہی تھی حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) نے اپنے مؤذن کو حکم دیا کہ جب تم ” حی علی الفلاح “۔ پر پہنچو تو کہو ” الاصلوا فی الرحال “ یعنی اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو ، حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے اس کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھ سے بہتر ہستی (حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا کیا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
23057- عن عبد الله بن الحارث أن ابن عباس أمر مناديه يوم الجمعة في يوم مطير فإذا بلغت حي على الفلاح فقل: ألا صلوا في الرحال فقيل له ما هذا؟ فقال: فعله من هو خير مني. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عذر ہائے جماعت :
23058 ۔۔۔ نافع روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ تیز ہوا چل رہی تھی اور سردی بھی شدید تھی حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان مقام ضجنان میں تھے چنانچہ جب عشاء کی اذان مکمل ہوئی تو آپ (رض) نے اپنے ساتھیوں سے کہا : نماز اپنے اپنے کجاو وں میں پڑھ لو ، پھر آپ (رض) نے حدیث بیان فرمائی کہ ایک مرتبہ سخت ٹھنڈی رات میں بارش بھی برس رہی تھی یا آندھی چل رہی تھی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مؤذن کو حکم دیا تھا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا موذن جب اذان سے فارغ ہوا تو دو مرتبہ کہا : نماز اپنے اپنے کجاوہ میں پڑھ لو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
23058- عن نافع أن ابن عمر أذن وهو بضجنان بين مكة والمدينة في عشية ذات ريح وبرد فلما قضى النداء قال لأصحابه: "ألا صلوا في الرحال، ثم حدث أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يأمر مناديه بذلك في الليلة الباردة والمطيرة أو ذات ريح إذا فرغ من أذانه" قال: "ألا صلوا في الرحال مرتين". "عب".
tahqiq

তাহকীক: