কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২৩০১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کا کچھ حصہ پالینے کا بیان :
23019 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : امام کے ساتھ جتنی نماز تم پالو وہ تمہاری نماز کا اول حصہ ہوگا اور جس قدر قرات گزرچکی ہے اس کی قضاء کرلو (رواہ عبدالرزاق، وابن ابی شیبۃ والبیہقی)
23019- عن علي قال: ما أدركت مع الإمام فهو أول صلاتك، واقض ما سبقك به من القراءة. "عب ش ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کا کچھ حصہ پالینے کا بیان :
23020 ۔۔۔ محجن بن ادرع کہتے ہیں ایک مرتبہ میں نے ظہر اور عصر کی نماز اپنے گھر پر پڑھ لی پھر میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں آپ کے پاس بیٹھ گیا اتنے میں نماز کھڑی کردی گئی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھ لی جب کہ میں نے نماز نہ پڑھی نماز سے فارغ ہو کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تو مسلمان نہیں ہے ؟ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیوں نہیں میں تو مسلمان ہوں فرمایا : پھر کیا وجہ سے تم نے نماز کیوں نہیں پڑھی ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیوں نہیں میں تو مسلمان ہوں فرمایا : پھر کیا وجہ ہے تم نے نماز کیوں نہیں پڑھی ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے گھر پر نماز پڑھ لی ہے اس پر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب نماز کھڑی کردی جائے تو (جماعت کے ساتھ دوبارہ) نماز پڑھ لوگو کہ تم پہلے گھر پر نماز پڑھ چکے ہو (رواہ عبدالرزاق)
23020- "مسند محجن بن الأدرع" صليت الظهر أو العصر في بيتي، ثم جئت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فجلست عنده فأقيمت الصلاة فصلى النبي صلى الله عليه وسلم ولم أصل، فلما انصرف قال: "ألست بمسلم؟ " قلت: بلى قال: "فما بالك لم تصل؟ " قال: "إني صليت في رحلي، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "إذا أقيمت الصلاة فصل، وإن كنت قد صليت في رحلك". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کا کچھ حصہ پالینے کا بیان :
23021 ۔۔۔ ” مسند زید بن ثابت “۔ ابو امامہ بن سہل بن حنیف کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زید بن ثابت (رض) کو مسجد میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا اور حالیکہ امام رکوع میں تھا چنانچہ آپ (رض) قبلہ رو کھڑے ہوئے (تکبیر کہہ کر) پھر رکوع میں چلے گئے حتی کہ رکوع کی حالت ہی میں صف ساتھ جا ملے (رواہ عبدالرزاق) فائدہ : ۔۔۔ اس مضمون کی ایک حدیث پہلے بھی گزر چکی ہے بہرحال حضرت زید (رض) کا اپنا اجتھاد تھا اس میں ترتیب یہ ہے کہ صف میں کھڑے ہو کر تکبیر کہنی ہے اور پھر اگر رکوع مل جائے تو فبہا ورنہ سجدہ میں چلا جائے اور اس رکعت کی قضاء کرے مندرجہ ذیل حدیث اسی کی مؤید ہ ۔
23021- "مسند زيد بن ثابت" عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف قال: "رأيت زيد بن ثابت دخل المسجد والإمام راكع فاستقبل ثم ركع ثم دب راكعا حتى وصل إلى الصف". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کا کچھ حصہ پالینے کا بیان :
23022 ۔۔۔ حضرت حسن بصری (رح) روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ حالت رکوع میں جھکے جھکے جلدی سے صف کی طرف چل رہا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہاری حرص میں اضافہ کرے بہرحال دوبارہ ایسا نہیں کرنا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
23022- عن الحسن البصري قال: "سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا وهو يسرع إلى الصف وهو راكع فقال: "زادك الله حرصا ولا تعد". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کا کچھ حصہ پالینے کا بیان :
23023 ۔۔۔ حسن بصری (رح) روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آدمی کی طرف التفات کیا اور فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہاری حرص میں اضافہ کرے اور دوبارہ ایسا نہیں کرنا چنانچہ وہ آدمی اپنی جگہ پر جم گیا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
23023- عن الحسن البصري قال: "التفت إليه النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "زادك الله حرصا ولا تعد" قال، فثبت مكانه". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کا کچھ حصہ پالینے کا بیان :
23024 ۔۔۔ ھبیرہ ابن مریم : حضرت علی (رض) اور حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ان دونوں حضرات نے فرمایا : جس نے پہلی رکعت (رکوع میں) نہ پائی تو وہ سجدہ سے اس رکعت کو شمار میں نہ لائے ۔ یعنی اس کی یہ رکعت فوت ہوچکی ۔ (رواہ عبدالرزاق)
23024- عن هبيرة بن مريم عن علي وابن مسعود قالا: من لم يدرك الركعة الأولى فلا يعتد بالسجدة. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسبوق کا بیان :
23025 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں کہ جس نے امام کے ساتھ ایک رکعت پالی یا اس کی ایک رکعت فوت ہوگئی وہ امام کے ساتھ تشہد نہ پڑھے بلکہ تہلیل کرتا رہے حتی کہ امام (نماز سے فارغ ہو کر) کھڑا ہوجائے (رواہ عبدالرزاق، عن عمر وبن الشرید)
23025- عن علي قال: "من أدرك ركعة مع الإمام أو فاتته ركعة، فلا يتشهد مع الإمام وليهلل حتى يقوم الإمام". "عب عن عمرو بن الشريد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسبوق کا بیان :
23026 ۔۔۔ بلال (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں جب کوئی آدمی (مسجد میں) داخل ہوتا دراں حالیکہ اس کی نماز میں سے ایک دو رکعتیں فوت ہوچکی ہوتیں تو لوگ اس کی طرف اشارہ کرتے کہ پہلے فوت شدہ نماز پڑھ لو اور پھر جماعت کے ساتھ شریک ہوجاؤ چنانچہ ایک دن حضرت معاذ بن جبل (رض) مسجد میں داخل ہوئے لوگوں نے ان کی طرف اشارہ کیا لیکن انھوں نے لوگوں کی اشارے کی طرف مطلق دھیان نہ دیا اور فورا جماعت کے ساتھ شریک ہوئے جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا تذکرہ کیا ، حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے لیے معاذ بن جبل نے اچھی سنت جاری کردی ہے۔ (رواہ عبدالرزاق ، عن عبدالرحمن بن ابی لیلی)
23026- "مسند بلال" كان الناس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا جاء الرجل وقد فاته من الصلاة شيء أشار إليه الناس فصلى ما فاته، ثم دخل في الصلاة حتى جاء يوما معاذ بن جبل فأشاروا إليه فدخل ولم ينتظر ما قالوا، فلما صلى النبي صلى الله عليه وسلم ذكروا ذلك له فقال النبي صلى الله عليه وسلم: سن لكم معاذ. "عب عن عبد الرحمن بن أبي ليلى"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسبوق کا بیان :
23027 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) روایت کرتے ہیں کہ (شروع میں) جب لوگوں نے وتر کی ایک رکعت پڑھی ہوتی اور امام دو رکعتیں پڑھ چکا ہوتا تو لوگ کھڑے ہوجاتے اور امام بیٹھا رہتا یا لوگ بیٹھے ہوتے اور امام کھڑا ہوجاتا (یعنی ایسی حالت میں) لوگ امام کی اقتداء نہیں کرتے تھے چنانچہ ایک مرتبہ ابن مسعود (رض) نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اس پر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یقیناً حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) نے تمہارے لیے ایک سنت جاری کی ہے تم بھی اسے اپنا لو۔ (رواہ عبدالرزاق، عن ابی جریج عن عطاء)
23027- "أيضا" كان الناس لا يأتمون بإمام إذا كان لهم وتر وله شفع يقومون وهو جالس، ويجلسون وهو قائم حتى صلى ابن مسعود وراء النبي صلى الله عليه وسلم قائما، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "إن ابن مسعود سن لكم سنة فاستنوا بها ". "عب عن ابن جريج عن عطاء".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسبوق کا بیان :
23028 ۔۔۔ حضرت ابوذر (رض) فرماتے ہیں جو آدمی نماز میں شریک ہونے کے لیے آرہا ہو کہ اتنے میں نماز کھڑی کردی جائے وہ ابھی راستے میں ہو تو اسے جلدی نہیں کرنی چاہیے بلکہ وقار و سکون کے ساتھ چلتا رہے جس قدر نماز پالے امام کے ساتھ پڑھ لے اور جو نماز نہیں پاسکا اسے بعد میں پوری کرے اور جب نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے چہرے کو نہ پونچھے اگر چہرے کو پونچھنا ضروری سمجھے بھی تو صرف ایک بار اور اگر صبر کرے تو اس کے لیے سو اونٹنیوں سے بھی زیادہ بہتر ہوگا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
23028- عن أبي ذر قال: "من أقبل يشهد الصلاة فأقيمت وهو بالطريق فلا يسرع، ولا يزيد على هينة مشيته الأولى فما أدرك فليصل مع الإمام، وما لم يدرك فليتمه، ولا يمسح إذا صلى وجهه، فإن مسح فواحدة وإن يصبر عنها خير له من مائة ناقة سوداء الحدق. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسبوق کا بیان :
23029 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی آدمی نماز کے لیے آرہا ہے کہ اتنے میں نماز کھڑی کردی جائے تو اسے چاہیے کہ وقار و سکون کے ساتھ چلتا رہے چونکہ وہ نماز کے حکم میں ہے (یعنی نماز کے لیے آنا نماز کے حکم میں ہے) سو جس قدر نماز پائے (امام کے ساتھ) پڑھ لے اور جو فوت ہوجائے اسے بعد میں قضاء کرلے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
23029- عن أبي هريرة قال: "إذا كان أحدكم مقبلا إلى الصلاة فأقيمت الصلاة فليمش على رسله فإنه في صلاة، فما أدرك فصلى وما فاته فليقض بعد". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسبوق کا بیان :
23030 ۔۔۔ عبدالعزیزبن رفیع (رض) روایت کرتے ہیں کہ اہل مدینہ کا ایک آدمی جس کا تعلق انصار سے تھا کہتا ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے پاؤں کی چاپ سنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ میں تھے جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : میں نے کسی کے قدموں کی چاپ سنی ہے ؟ عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ہوں ۔ فرمایا : تم نے کیا کیا کہا کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سجدہ میں پایا لہٰذا میں بھی سجدہ میں چلا گیا ارشاد فرمایا تم بھی اسی طرح کیا کرو اور اس رکعت کو شمار میں نہ لاؤ جو شخص بھی مجھے رکوع یا قیام یا سجدہ میں پائے اسے چاہیے کہ اسی حالت میں میرے ساتھ شامل ہوجائے (رواہ ابن ابی شیبۃ)
23030- عن عبد العزيز بن رفيع عن رجل من أهل المدينة من الأنصار عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه سمع خفق نعلي وهو ساجد، فلما فرغ من صلاته قال: "من هذا الذي سمعت خفق نعله؟ " قال: "أنا يا رسول الله قال: "فما صنعت؟ " قال: "وجدتك ساجدا فسجدت فقال: "هكذا فاصنعوا، ولا تعتدوا بها، من وجدني راكعا أو قائما أو ساجدا فليكن معي على حالتي التي أنا عليها". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسبوق کا بیان :
23031 ۔۔۔ زہری کی روایت ہے کہ حضرت زید بن ثابت (رض) اور حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) فتوی دیا کرتے تھے کہ کوئی آدمی جب مسجد میں آئے اگر لوگ رکوع میں ہوں وہ تکبیر کہہ کر ان کے ساتھ رکوع میں شامل ہوجائے یوں اس نے یہ رکعت پائی ، اور اگر لوگوں کو سجدہ میں پائے اور اس نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کرلیا تو اس رکعت کو شمار میں نہ لائے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
23031- عن الزهري أن زيد بن ثابت وابن عمر كانا يفتيان الرجل إذا انتهى إلى القوم وهم ركوع أن يكبر تكبيرة وقد أدرك الركعة قالا: وإن وجدهم سجودا سجد معهم ولم يعتد بذلك. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسبوق کا بیان :
23032 ۔۔۔ نافع روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے جب کوئی رکعت فوت ہوجاتی تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑے ہوجاتے اور فوت شدہ رکعت قضا کرلیتے اور جب کوئی رکعت فوت نہ ہوتی تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوتے جب تک کہ امام نہ کھڑا ہوجاتا ۔ (رواہ عبدالرزاق، وابن ماجہ)
23032- عن نافع قال: "كان ابن عمر إذا سبق بشيء من الصلاة فإذا سلم الإمام قام فقضى ما فاته، وإذا لم يسبق بشيء لم يقم حتى يقوم الإمام". "عب هـ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسبوق کا بیان :
23033 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جس نے رکوع پالیا اس نے نماز (یعنی وہ رکعت پالی اور جس سے رکوع فوت ہوگیا تو وہ سجدہ (سے نماز کو) شمار میں نہ لائے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
23033- عن ابن مسعود قال: "من أدرك الركعة فقد أدرك الصلاة ومن فاته الركوع فلا يعتد بالسجود". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسبوق کا بیان :
23034 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ آدمی صف تک پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کرلے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
23034- عن ابن مسعود قال: "لا بأس يركع دون الصف". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسبوق کا بیان :
23035 ۔۔۔ زید بن وہب کہتے ہیں کہ میں اور حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) مسجد میں داخل ہوئے اور امام رکوع میں تھا ہم فورا رکوع میں چلے گئے پھر ہم اسی حالت میں چلتے ہوئے صف میں جا ملے امام جب نماز سے فارغ ہوا تو کہا : انشاء اللہ تم نے رکعت پالی ۔ (رواہ عبدالرزاق)
23035- عن زيد بن وهب قال: "دخلت أنا وابن مسعود المسجد والإمام راكع فركعنا، ثم مضينا حتى استوينا في الصف فلما فرغ الإمام قمت فقال: قد أدركت إن شاء الله تعالى". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسبوق کا بیان :
23036 ۔۔۔ عبدالرحمن بن ابولیلی کہتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں جب کوئی آدمی (مسجد میں) آتا دراں حالیکہ کچھ نماز فوت ہوچکی ہوتی تو لوگ اس کی طرف اشارہ کرتے وہ فوت شدہ نماز پڑھتا اور پھر امام کے ساتھ نماز میں داخل ہوجاتا ، چنانچہ ایک دن حضرت معاذ بن جبل (رض) مسجد میں آئے اور لوگوں نے ان کی طرف اشارہ کیا انھوں نے لوگوں کے اشارہ کی طرف مطلق توجہ نہ کی اور نماز میں شامل ہوگئے جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے لوگوں نے ان سے ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : معاذ نے تمہارے لیے ایک سنت جاری کردی ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
23036- عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: "كان الناس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا جاء الرجل وقد فاته من الصلاة شيء أشار إليه الناس يصلي ما فاته، ثم دخل في الصلاة حتى جاء يوما معاذ بن جبل فأشاروا إليه فدخل ولم ينتظر ما قالوا، فلما صلى النبي صلى الله عليه وسلم ذكروا ذلك له، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "سن لكم معاذ". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسبوق کا بیان :
23037 ۔۔۔ عطاء کہتے ہیں شروع میں لوگوں کا یہ حال تھا کہ جب انھوں نے وتر پڑھے ہوتے جب کہ امام کی دو رکعتیں ہوچکی ہوتیں تو وہ امام کی اقتداء نہیں کرتے تھے بلکہ کھڑے ہوجاتے امام بیٹھا ہوتا یا لوگ بیٹھے ہوئے اور امام کھڑا ہوتا حتی کہ ایک دن حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑے ہوگئے اس پر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاشبہ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) نے تمہارے لیے ایک سنت جاری کی ہے اسے تم بھی اپناؤ ۔ (رواہ عبدالرزاق)
23037- عن عطاء قال: "كان الناس لا يأتمون بالإمام إذا كان لهم وتر وله شفع يقومون وهو جالس، ويجلسون وهو قائم حتى صلى ابن مسعود وراء النبي صلى الله عليه وسلم قائما فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "إن ابن مسعود سن لكم سنة فاستنوا بها". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩০৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسبوق کا بیان :
23038 ۔۔۔ ایک مرتبہ ابن زبیر (رض) نے منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو سمجھایا کہ آدمی کو چاہیے کہ اہتمام کے ساتھ رکوع کرے بلاشبہ میں نے زبیر (رض) کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
23038- "مسند ابن الزبير رضي الله عنهما" عن ابن الزبير أنه علم الناس على المنبر يقول: ليركع ثم ليتمن راكعا، وأنه رأى الزبير يفعله. "عب".
tahqiq

তাহকীক: