কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৪৪ টি
হাদীস নং: ৪৫৯৭৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک
45964 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : بدصورت شخص کے ساتھ شادی کرنے پر اپنی بیٹیوں پر زبردستی مت کرو چونکہ وہ بھی وہ کچھ پسند کرتی ہیں جو کچھ تم پسند کرتے ہو۔ رواہ سعید بن المنصور وابن ابی شیبہ
45964- عن عمر قال: لا تكرهوا فتياتكم على الرجل الدميم - وفي لفظ: القبيح - فإنهن يحببن مثل ما تحبون. "ص، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৭৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متعلقات اولاد
45965 جمیل بن سنان کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کو منبر پر چڑھتے دیکھا پھر آپ (رض) نے فرمایا : چھوٹے چھوٹے قدموں والا اور کمزور بدن والا۔ اے چھوٹی آنکھوں والے اوپر چڑھتے جاؤ۔ رواہ وکیع الصغیر فی الغرر۔ فائدہ : اس حدیث کے عربی الفاظ یوں ہیں حذقہ حزقۃ +ترق عین بقہ۔ یہ بچوں کو سنانے کی لوری ہے چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حسن و حسین (رض) کو سناتے تھے۔
45965- عن جميل بن سنان السلمي قال: رأيت علي بن أبي طالب يصعد المنبر وهو يقول: حزقة حزقة 1 ترق عين بقه. "وكيع الصغير في الغرر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৭৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نام اور کنیت کا بیان
45966 ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ان لڑکوں کو اپنے پاس جمع کیا جن کا نام کسی نبی کے نام پر تھا چنانچہ آپ (رض) نے ان سب کو اپنے گھر میں داخل کیا تاکہ ان کے نام تبدیل کردیں اتنے میں ان لڑکوں کے باپ آگئے اور آپ (رض) کے سامنے کھڑے ہو کر کہنے لگے : ان میں سے عام لڑکوں کے نام جناب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود رکھے ہیں۔ آپ (رض) نے لڑکوں کا راستہ چھوڑ دیا۔ ابوبکر کہتے ہیں ان لڑکوں میں میرے والد بھی شامل تھے ؟ رواہ ابن سعد وابن راھویہ وحسن
45966- عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن أبيه أن عمر بن الخطاب جمع كل غلام اسمه اسم نبي فأدخلهم الدار ليغير أسماءهم، فجاء آباؤهم فأقاموا بينه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سمى عامتهم، فخلى عنهم، قال أبو بكر: وكان أبي فيهم. "ابن سعد، وابن راهويه، وحسن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৭৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نام اور کنیت کا بیان
45967 عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی روایت کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ابوعبدالحمید کی طرف دیکھا ان کا نام محمد تھا جب کہ انھیں ایک شخص یوں کہتا ” فعل اللہ بک “ اور ان کلمات کو ایک طرح کی گالی بنادی تھی۔ عمر (رض) نے فرمایا : اے ابن زید ! قریب ہوجاؤ میں نہیں چاہتا کہ تمہاری وجہ سے محمد کی گستاخی کی جائے۔ بخدا ! جب تک میں زندہ ہوں تجھے محمد کے نام سے نہیں پکارا جائے گا۔ چنانچہ آپ (رض) نے ان کا نام عبدالرحمن تجویز کیا۔ پھر آپ (رض) نے طلحہ (رض) کے بیٹیوں کو پیغام دے کر اپنے پاس بلایا وہ اس وقت سات تھے اور ان میں سے بڑا محمد بن طلحہ تھا۔ آپ (رض) نے ان کا نام تبدیل کرنا چاہا اس پر وہ بولے، اے امیر المومنین ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں بخدا میرا نام محمد تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہی رکھا ہے۔ اس پر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم لوگ چلے جاؤ جو نام محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکھا ہو اس میں میرے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ رواہ ابن سعد واحمد بن حنبل و ابونعیم فی المعرفۃ
45967- عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: نظر عمر بن الخطاب إلى أبي عبد الحميد وكان اسمه محمدا ورجل يقول له: فعل الله بك وفعل - وجعل يسبه، فقال عند ذلك: يا ابن زيد ادن مني، لا أرى محمدا يسب بك! والله لا تدعى محمدا ما دمت حيا! وسماه عبد الرحمن، ثم أرسل إلى بني طلحة، وهم يومئذ سبعة، وأكبرهم وسيدهم محمد بن طلحة، فأراد أن يغير اسمه، فقال محمد بن طلحة: يا أمير المؤمنين! أنشدك الله، فوالله! إن سماني محمدا إلا محمد، فقال عمر: قوموا، فلا سبيل إلى شيء سماه محمد صلى الله عليه وسلم. "ابن سعد، حم، وأبو نعيم في المعرفة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৮০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نام اور کنیت کا بیان
45968 ابوبکر بن عثمان مخزومی جن کا تعلق آل یربوع سے ہے روایت نقل کرتے ہیں کہ عبدالرحمن بن حارث بن ہشام کا نام ابراھیم تھا۔ چنانچہ عبدالرحمن بن حارث حضرت عمر (رض) کے پاس حاضر ہوئے تاکہ ان کا نام بدل دیں چونکہ آپ (رض) نے اپنے دور خلافت میں ایک وقت ایسے لوگوں کے نام بدلنے چاہے تھے جن کے نام انبیاء کے ناموں پر تھے چنانچہ آپ نے ابراہیم کا نام بدل کر عبدالرحمن رکھا ان کا نام اب تک یہی ہے۔ رواہ ابن سعد
45968- عن أبي بكر بن عثمان المخزومي من آل يربوع أن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام كان اسمه إبراهيم، فدخل على عمر بن الخطاب في ولايته حين أراد أن يغير اسم من تسمى بأسماء الأنبياء، فغير اسمه فسماه عبد الرحمن، فثبت اسمه إلى اليوم. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৮১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نام اور کنیت کا بیان
45969 ابوبکر بن عثمان یربوعی کی روایت ہے کہ عبدالرحمن بن زید عدوی حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس وقت عبدالرحمن کا نام موسیٰ تھا۔ چنانچہ آپ (رض) نے ان کا نام عبدالرحمن رکھا تو آج تک ان کا نام یہی رہا یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت عمر (رض) نے ایسے لوگوں کے نام تبدیل کرنا چاہے جن کے نام انبیاء کے ناموں پر تھے۔ رواہ ابن سعد
45969- عن أبي بكر بن عثمان من آل يربوع قال: دخل عبد الرحمن بن زيد العدوي على عمر بن الخطاب وكان اسمه موسى، فسماه عبد الرحمن، فثبت اسمه إلى اليوم، وذلك حين أراد عمر أن يغير اسم من تسمى بأسماء الأنبياء. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৮২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نام اور کنیت کا بیان
45670” مسند “ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے بتائیں اگر آپ کے بعد میرا کوئی بیٹا پیدا ہو میں چاہتا ہوں اس کا نام آپ کے نام پر رکھوں اور اس کی کنیت آپ کی کنیت پر رکھو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں چنانچہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے حضرت علی (رض) کو یہ رخصت تھی۔ رواہ احمد بن حنبل وابوداؤد والترمذی وقال صحیح وابویعلی والحاکم فی اکنی والطحاوی والبیہقی والضیاء المقدسی وابن عساکر
45970- "مسند علي" عن علي قال: قلت يا رسول الله! أرأيت إن ولد لي ولد بعدك أسميه باسمك وأكنيه بكنيتك؟ فقال: "نعم، فكانت رخصة من رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي. "حم، د، ت وقال صحيح، ع، والحاكم في الكنى، والطحاوي، ك، ق، ض، ابن عساكر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৮৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نام اور کنیت کا بیان
45671 ابوالقاسم زاہربن طاہر ابوبکر بیہقی ابوبکر محمد بن ابراہیم فارسی ابو اسحاق ابراہیم ابن عبداللہ اصبہانی ابواحمد محمد بن سلیمان بن فارس محمد بن اسماعیل، احمد بن حارث (تحویل سند) ابوغنائم محمد بن علی ابوالفضل بن ناصر احمد بن حسین و مبارک بن عبدالجبار ومحمد بن علی واللفظ لہ۔۔۔ ابواحمد۔ احمد نے یہ اضافہ کیا ہے ومحمد بن حسین، احمد بن عبدان، محمد بن سہل، محمد بن اسماعیل، عبداللہ بن جرادا نہیں صحابیت کا شرف حاصل ہے۔ امام بخاری، احمد بن حارث، ابوقتادہ شامی۔ یہ حرانی نہیں ہیں 164 ھ میں انھوں نے وفات پائی ہے کہ سلسلہ سند سے حضرت عبداللہ بن جراد (رض) کی روایت ہے کہ موتہ کا ایک شخص میرے ساتھ ہولیا وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں بھی اس کے ساتھ تھا، اس نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میرا ایک بیٹا پیدا ہوا ہے سب سے بہتر نام کونسا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب سے بہترین نام حارث اور ھمام ہیں اور سب سے اچھے نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں انبیاء کے ناموں پر نام رکھو لیکن فرشتوں کے نام مت رکھو۔ عرض کیا : آپ کے نام پر نام رکھ سکتے ہیں ؟ فرمایا : میرا نام رکھ سکتے ہو لیکن میری کنیت نہیں رکھ سکتے ہو ابن سھل نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ اس حدیث کی سند میں نظر ہے۔
45971- أخبرنا أبو القاسم زاهر بن طاهر أنبأنا أبو بكر البيهقي أنبأنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي أنبأنا أبو إسحاق إبراهيم ابن عبد الله الأصبهاني حدثنا أبو أحمد محمد بن سليمان بن فارس أنبأنا محمد بن إسماعيل قال قال لي أحمد بن الحارث "ح" وأنبأنا أبو الغنائم محمد بن علي قال حدثنا أبو الفضل بن ناصر أنبأنا أحمد بن الحسين والمبارك بن عبد الجبار ومحمد بن علي - وللفظ له - قالوا انبأنا أبو أحمد - زاد أحمد: ومحمد بن الحسين - قالا أنبأنا أحمد بن عبدان أنبأنا محمد بن سهل أنبأنا محمد بن إسماعيل قال: عبد الله بن جراد له صحبة. قال البخاري: قال لي أحمد بن الحارث ثنا أبو قتادة الشامي - ليس بالحراني - مات سنة أربع وستين ومائة: أنبأنا عبد الله بن جراد قال صحبني رجل من مؤتة فأتى النبي صلى الله عليه وسلم وأنا معه فقال: يا رسول الله! ولد لي مولود فما خير الأسماء؟ قال: "إن خير أسمائكم الحارث وهمام، ونعم الاسم عبد الله وعبد الرحمن، وسموا بأسماء الأنبياء ولا تسموا بأسماء الملائكة، قال: وباسمك؟ قال: وباسمي، ولا تكنوا بكنيتي - زاد ابن سهل: في إسناده نظر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৮৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نام اور کنیت کا بیان
45972 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مجلس میں تھے ایک شخص بولا : اے سعد ! دوسرا بولا : اے سعد ! تیسرا بولا : اے سعد ! اس پر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس مجلس میں تین سعد جمع ہوں اس مجلس والے نہایت خوش بخت ہیں۔ رواہ ابن عساکر
45972- عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في مجلس فقال رجل: يا سعد! وقال آخر: يا سعد! وقال آخر: يا سعد! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما جمع ثلاثة سعود في حديث إلا سعد أهله. " كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৮৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نام اور کنیت کا بیان
45973 ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ بشیر بن صامت کا نام قلیل تھا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا نام کثیر رکھ دیا مطیع بن اسود کا نام عاص تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا نام مطیع رکھا، ام عاصم بنت عمر کا نام عاصیہ تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا نام سہلہ رکھا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (برے) نام سے بدفالی لیتے تھے ۔ رواہ ابن عساکر وابن مندہ
45973- عن ابن عمر أن كثير بن الصامت كان اسمه قليلا، فسماه النبي صلى الله عليه وسلم كثيرا، وأن مطيع بن الأسود كان اسمه العاص، فسماه النبي صلى الله عليه وسلم مطيعا، وأن أم عاصم بن عمر كان اسمها عاصية، فسماها رسول الله صلى الله عليه وسلم سهلة، وكان يتفاءل بالاسم. "ابن منده، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৮৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نام اور کنیت کا بیان
45974 عتبہ بن عبدالسلمی کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جب کوئی شخص آتا جس کا نام آپ کو اچھا نہ لگتا آپ اس کا نام تبدیل کردیتے ۔ چنانچہ ایک مرتبہ ہم بنی سلیم کے نو آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت عرباض بن ساریہ (رض) ہم سب میں بڑے تھے ہم سب نے اکٹھے ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کی۔۔ رواہ ابن مندہ و ابونعیم وابن عساکر
45974- عن عتبة بن عبد السلمي قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أتاه الرجل وله الاسم لا يحبه حوله، ولقد أتيناه لتسعة من بني سليم، أكبرنا العرباض بن سارية فبايعناه جميعا معا. "ابن منده، وأبو نعيم، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৮৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نام اور کنیت کا بیان
45975 یحییٰ بن عتبہ بن عبد اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نوجوان لڑکا تھا مجھے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پاس بلایا مجھ سے پوچھا : تمہارا کیا نام ہے میں نے عرض کیا : میرا نام عتلۃ بن عبد ہے فرمایا : بلکہ تمہارے نام عتبہ بن عبد سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے اپنی تلوار کھاؤ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تلوار سونتی اور اسے دیکھا آپ نے تلوار میں قدرت رقت اور کمزوری دیکھی فرمایا : اس تلوار سے ضرب نہیں لگانی البتہ کچوکا لگا سکتے ہو غزوہ بنو قریضہ ونضیر کے موقع پر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اس قلعہ میں تیرداخل کرے گا اس کے لیے جنت واجب ہوجائے گی ، عتبہ (رض) کہتے ہیں میں نے اس قلعہ میں تین تیرداخل کیے۔۔ رواہ الحسن بن سفیان وابن مندہ و ابونعیم وابن عساکر
45975- عن يحيى بن عتبة بن عبد عن أبيه قال: دعاني رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا غلام حدث، فقال: "ما اسمك؟ قلت: عتلة ابن عبد، قال: بل أنت عتبة بن عبد، وقال: أرني سيفك، فسله فنظر إليه، فلما رآه رأى فيه رقة وضعفا، فقال: لا تضربن بهذا ولكن اطعن به طعنا؛ وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم قريظة والنضير: من أدخل هذا الحصن سهما وجبت له الجنة، قال عتبة: فأدخلت فيه ثلاثة أسهم. "الحسن بن سفيان، وابن منده، وأبو نعيم، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৮৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوع نام
45976” مسند عمر “ اسلم کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اپنے ایک بیٹے کو اس وجہ سے مارا کہ وہ ابو عیسیٰ اپنی کنیت کرتے تھے حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) بھی ابوعیسیٰ اپنی کنیت کرتے تھے تاہم حضرت عمر (رض) نے ان سے فرمایا : کیا تمہیں کافی نہیں کہ تم ابوعبداللہ اپنی کنیت رکھ لو ؟ مغیرہ (رض) نے جواب دیا کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری یہ کنیت رکھی ہے عمر (رض) نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے ہیں ہم تو اپنی گن گرج میں ہیں چنانچہ عمر (رض) مغیرہ بن شعبہ (رض) ابوعبداللہ کی کنیت سے پکارتے رہے۔ حتیٰ کہ آپ (رض) دنیا سے رخصت ہوئے۔۔ رواہ ابوداؤد والحاکم فی الکنی والبیہقی و سعید بن المنصور
45976- "مسند عمر" عن أسلم أن عمر بن الخطاب ضرب ابنا له يكنى أبا عيسى، وأن المغيرة بن شعبة يكنى بأبي عيسى، فقال له عمر: أما يكفيك أن تكنى بأبي عبد الله؟ فقال: رسول الله صلى الله عليه وسلم كناني، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر وإنا في جلجتنا! فلم يزل يكني بأبي عبد الله حتى هلك. "د، والحاكم في الكنى، ق، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৮৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوع نام
45977 حضرت عمر (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ مطھرہ ام سلمہ (رض) کے بھائی کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا اس کا نام انھوں نے ولید رکھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے اپنے فرعونوں کے نام پر اس لڑکے کا نام رکھا ہے تاکہ اس امت میں ایک شخص ایسا بھی ہو جسے ” ولید “ کہا جائے ، جب کہ وہ فرعون سے بھی زیادہ اس امت کے لیے بڑا ہوگا ۔ رواہ احمد بن حنبل وابن حبان فی الضعفاء ابن حبان کہتے ہیں یہ حدیث باطل ہے جب کہ ابن جوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں وارد کیا ہے محدثین نے ابن حبان کے قول کو مستند قرار دیا ہے جب ابن حجر نے اپنی کتاب ” القول المسدد فی الذب عن مسند احمد “ میں ابن حبان اور ابن جوزی کے ۔ کلام کو رد کیا ہے۔ جب کہ ان کے ۔ کلام کو کتاب ” الآلی المضوعۃ “ میں بھی ذکر کیا گیا ہے جب کہ اس حدیث کے اور طرق بھی ہیں جو موصولہ اور مرسلہ ہیں جو اس کتاب میں اپنی اپنی جگہ ذکر کردیئے گئے ہیں۔ وقدروی ھذا الحدیث ابونعیم فی لدلائل وزادفیہ بعد قولہ باسماء فراعنتکم غیر واسمہ فسموہ عبدالہل فانہ سیکوں ولبقیۃ سواء ۔ کلام : بہرحال تحقیق بالا کے باوجود حدیث ضعیف ضرور ہے۔ دیکھئے الموضوعات 462
45977- عن عمر قال: ولد لأخي أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم غلام فسموه الوليد، فقال النبي صلى الله عليه وسلم سميتموه باسم فراعنتكم! ليكونن في هذه الأمة رجل يقال له "الوليد" لهو شر لهذه الأمة من فرعون لقومه. "حم، حب في الضعفاء. وقال: خبر باطل، وأورده ابن الجوزي في الموضوعات، واستندوا إلى قول ابن حبان، ورد الحافظ ابن حجر في كتاب القول المسدد في الذب عن مسند أحمد كلام ابن حبان وابن الجوزي، وقد سقت كلامه في كتاب اللآلى المصنوعة، وللحديث طرق أخرى موصولة ومرسلة تأتي في محالها من هذا الكتاب، وقد روى هذا الحديث أبو نعيم في الدلائل، وزاد فيه بعد قوله "بأسماء فراعنتكم" غيروا اسمه، فسموه عبد الله فإنه سيكون - والبقية سواء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৯০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوع نام
45978 حضرت عمر (رض) کی روایت ہے کہ انھوں نے منیٰ میں ایک شخص کو پکارتے ہوئے سنا کہ وہ کہے رہا تھا۔ اے ذوالقرنین ! حضرت عمر (رض) نے اس شخص سے فرمایا : یا اللہ ! تیری مغفرت ! تم لوگ انبیاء کے ناموں پر کیوں نام رکھتے ہو اور فرشتوں کے ناموں سے بھی پرہیز کرو۔ ابن عبدالحکم فی فتوح مشروابن المنذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن الاری فی کتاب الاصداد
45978- عن عمر أنه سمع رجلا ينادي بمنى: يا ذا القرنين! فقال له عمر: اللهم غفرا! ها أنتم قد سميتم بأسماء الأنبياء فما لكم وأسماء الملائكة. "ابن عبد الحكم في فتوح مصر، وابن المنذر، وابن أبي حاتم، وأبو الشيخ، وابن الأنباري في كتاب الأضداد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৯১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوع نام
45979 شعبی کی روایت ہے کہ جب مسروق حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تم کون ہو ؟ عرض کیا : میں مسروق بن اجدع ہوں فرمایا : اجدع تو شیطان کا نام ہے۔ لیکن تم مسروق بن عبدالرحمن ہو چنانچہ وہ مسروق بن عبدالرحمن لکھتے تھے۔۔ رواہ ابن سعد الخطیب
45979- عن الشعبي قال: لما قدم مسروق على عمر قال: من أنت؟ قال: مسروق بن الأجدع، قال: الأجدع شيطان! ولكن مسروق بن عبد الرحمن، فكان يكتب مسروق بن عبد الرحمن. "ابن سعد، خط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৯২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوحکم کنیت رکھنے کی ممانعت
45980 نافع کی روایت ہے کہ کثیر بن صامت کا نام قلیل تھا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ان کا نام کثیر تجویز کیا۔ رواہ ابن سعد
45980- عن نافع أن كثير بن الصامت كان اسمه قليلا فسماه عمر بن الخطاب كثيرا. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৯৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوحکم کنیت رکھنے کی ممانعت
45981 لیث بن ابی سلیم کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : حکم نام مت رکھو اور نہ ہی ابو حکم کنیت کرو چونکہ حکم اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور راستے کو سکہ بھی مت کہو۔۔ رواہ عبدالرزاق
45981- عن ليث بن أبي سليم أن عمر بن الخطاب قال: لا تسموا الحكم ولا أبا الحكم، وإن الله هو الحكم، ولا تسموا الطريق السكة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৯৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوحکم کنیت رکھنے کی ممانعت
45982 ابن جریر، ابن بشار، ابواحمد زبیر، سفیان، ابوزبیر کے سلسلہ سند سے حضرت جابر (رض) حضرت عمر (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میں زندہ رہا تو نافع برکت اور یسار نام رکھنے سے ضرور منع کروں گا۔ (ابن جریر کہتے ہیں یہ حدیث ہمارے نزدیک صحیح ہے اور اس کی سند میں کوئی علت نہیں جو اس کی کمزوری کا سبب بنے اور نہ اس کے ضعیف ہونے کا کوئی اور سبب ہے جب کہ بعض دوسرے محدثین کے نزدیک یہ حدیث ضعیف اور غیر صحیح ہے اور اس کے ضعف کی چند علتیں بیان کی گئی ہیں۔ )1 ۔۔۔اس حدیث کی معروف روایت وہ ہے جس میں حضرت جابر پر اکتفا کیا گیا ہے اور جابر (رض) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی درمیان عمر (رض) کا واسطہ نہیں ہے۔ 2 ۔۔۔جب کہ اس حدیث کو سفیان کے علاوہ بقیہ راوی ابوزبیر سے روایت کرتے ہیں لہٰذا ان راویوں نے عمر (رض) کے واسطے کے ترک پر ان راویوں کی موافقت کی ہے جو سفیان سے روایت نقل کرتے ہیں، لہٰذا انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جابر (رض) کے درمیان عمر (رض) کا واسطہ نہیں ذکر کیا۔ 3 ۔۔۔جب کہ ابوزبیر ان راویوں میں سے ہیں جن کی روایتوں پر چند اسباب کی وجہ سے اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ 4 ۔۔۔عمر (رض) کے واسطے سے اس حدیث کا اس مخرج کے علاوہ اور کوئی مخرج نہیں ہے انتھی۔
45982- قال ابن جرير ثنا ابن بشار ثنا أبو أحمد الزبيري ثنا سفيان عن أبي الزبير عن جابر عن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لئن عشت لأنهين أن يسمى نافعا وبركة ويسارا. " قال ابن جرير: هذا خبر عندنا صحيح سنده لا علة فيه توهنه ولا سبب يضعفه، وقد يكون على مذهب الآخرين سقيما غير صحيح لعلل: أحدها: أن المعروف من رواية هذا الحديث القصورية على جابر من غير إدخال عمر بينه وبين النبي صلى الله عليه وسلم؛ والثانية: إنه قد حدث به عن أبي الزبير غير سفيان فوافق في تركه إدخال عمر بين جابر وبين النبي صلى الله عليه وسلم برواية الذين رووه عن سفيان، فلم يدخلوا في حديثهم عنه بين جابر وبين رسول الله صلى الله عليه وسلم أحدا؛ والثالثة أن أبا الزبير عندهم ممن لا يعتمد على روايته لأسباب؛ الرابعة أنه خبر لا يعرف له مخرج عن عمر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا من هذا الوجه - انتهى".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৯৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوحکم کنیت رکھنے کی ممانعت
45983 اسلم کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے درے سے اپنے بیٹے عبداللہ کو مارا اور فرمایا تم نے اپنی کنیت ابوعیسی تجویز کی ہے کیا عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ تھا۔ رواہ الحاکم
45983- عن أسلم أن عمر ضرب عبد الله ابنه بالدرة وقال: أتكنى بأبي عيسى! أو كان له أب. "ك".
তাহকীক: