কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
وراثت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৩৪ টি
হাদীস নং: ৩০৫৪০
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقسیم میراث سے پہلے مسلمان ہوگیا
30529 ۔۔۔ عبداللہ بن عبیدرحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے خالہ بو اور نما ہو اس کے آقا کا وارث قرار دیا ۔ ابن ابی شبیة
30529- عن عبد الله بن عبيد أن عمر ورث خلالا مولى من مولاه. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৪১
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقسیم میراث سے پہلے مسلمان ہوگیا
30530 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) نے ایک قوم جو ایک ساتھ غرق ہوئی تھی ایک دوسرے کا وارث قرار دیا۔
30530- عن عمر أنه ورث قوما غرقوا بعضهم من بعض. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৪২
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقسیم میراث سے پہلے مسلمان ہوگیا
30531 ۔۔۔ حضرت علی (رض) نے اس عورت کے بارے میں فیصلہ فرمایا جس کے لیے مہر مقرر نہیں ہوا اور نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے ہی شوہر کا انتقال ہوگیا فرمایا اس پر عدت گذارنا لازم ہے اور وہ شوہر کی وارث بھی ہوگی البتہ اس کو مہر نہیں ملے گا اور فرمایا کہ کتاب اللہ کے مقابلہ میں قبیلہ اشجع کی ایک عورت کا قول قابل قبول نہیں۔ عبدالرزاق سعید بن منصور بن ابی شیبة بیہقی
30531- عن علي بن أبي طالب قال في الرجل يتزوج المرأة فيموت عنها ولم يدخل بها ولم يفرض لها: كان يجعل لها الميراث وعليها العدة: ولا يجعل لها صداقا؛ قال: لا يقبل قول أعرابي من أشجع علىكتاب الله. "عب، ص، ش، هق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৪৩
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقسیم میراث سے پہلے مسلمان ہوگیا
30532 ۔۔۔ حکیم بن عقال کہتے ہیں کہ ایک عورت کا انتقال ہو اور ثہ میں دوچچازاد بھائی چھوڑے ایک ان کا شوہر ہے دوسرا اس کا ماں شریک بھائی مقدمہ کا فیصلہ قاضی شریح کی عدالت میں لے گئے تو انھوں نے فیصلہ فرمایا کہ شوہر کو نصف مال شریک بھائی کا حق ہے پھر معاملہ حضرت علی (رض) کی عدالت میں لے گئے حضرت علی (رض) نے پوچھا کہ آپ کو یہ مسئلہ کتاب اللہ میں ملایا سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں قاضی شریح نے کہا بلکہ کتاب اللہ میں پوچھا کتاب اللہ میں کس جگہ بتایا والو الارحام بعطھم اولی ببعض فی کتاب اللہ حضرت علی (رض) فرمایا کیا تم کتاب اللہ میں پاتے ہوشوہر کے لیے نصف اور ماں شریک بھالی کے لیے سدس تو حضرت علی (رض) نے فیصلہ فرمایا کہ شوہر کو نصف دیا جائے اور بھائی کو سدس بقیہ سدس میں دونوں شریک ہوں گے۔ سعید بن منصور ابن جریر بیہقی ابن عساکر
30532- عن حكيم بن عقال أن امرأة ماتت وتركت ابني عمها: أحدهما زوجها والآخر أخوها لأمها، فاختصموا إلى شريح، فقال: للزوج النصف، وما بقي فللأخ من الأم، فارتفعوا إلى علي، فقال له: أفي كتاب الله وجدت هذا أم في سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: بل في كتاب الله قال: وأين هو من كتاب الله؟ قال: يقول الله: {وَأُولُوا الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ} فقال علي: هل تجد في كتاب الله النصف للزوج وما بقي فللأخ من الأم؟ فقال علي: للزوج النصف، وللأخ من الأم السدس، وما بقي فهو بينهما نصفين. "ص وابن جرير، هق، كر"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৪৪
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقسیم میراث سے پہلے مسلمان ہوگیا
30533 ۔۔۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ جب لڑکی بالغ یا قریب البلوغ ہوجائے تو اس کی ذمہ داری اٹھانے کے اولیا زیادہ حقدار ہیں۔ (رو)
30533- عن علي قال: إذا بلغ النساء نص الحقاق3 فالعصبة أولى. "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৪৫
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقسیم میراث سے پہلے مسلمان ہوگیا
30534 ۔۔۔ ابن حنیفہ اپنے والدعلی (رض) سے روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کا انتقال ہو اور ثہ میں ایک بیٹی اور ایک آقا تھے توبینی کو نصف اور آقا کے لیے نصف مال کا فیصلہ فرمایا اور فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح فیصلہ فرمایا تھا۔ ابوشیخ فی الفوائض
30534- عن ابن الحنفية عن أبيه علي في رجل مات وترك ابنته مولاه: فللابنة النصف وللمولى النصف - قال ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم وفعله. "أبو الشيخ في الفرائض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৪৬
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقسیم میراث سے پہلے مسلمان ہوگیا
30535 ۔۔۔ حارث حضرت علی (رض) سے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ جب کسی شخص کے عصبہ میں ماں اور باپ دونوں طرف کے رشتہ دار ہوں اور ایک ان میں ماں کی طرف سے زیادہ قریب ہو تو وہ میراث کا زیادہ حقدار ہوگا۔ ابوالشیخ
30535- عن الحارث عن علي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إذا كانت العصبة من قبل أبيهم وأمهم واحدة وكان فيهم من هو أقرب بأم كان هو أولى بالميراث. "أبو الشيخ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৪৭
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقسیم میراث سے پہلے مسلمان ہوگیا
30536 ۔۔۔ حارث حضرت علی (رض) سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ ماں باپ شریک بھائی وارث ہوکانہ کہ صرف باپ شریک۔ (ابوالشیخ)
30536- عن الحارث عن علي قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن الرجل يرث أخاه لأبيه وأمه دون أخيه لأبيه. "أبو الشيخ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৪৮
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقسیم میراث سے پہلے مسلمان ہوگیا
30537 ۔۔۔ حضرت علی (رض) کی خدمت میں مسئلہ پیش ہوا کہ ایک عورت اور ماں باپ اور لڑکیاں ورثہ ہوں تو فرمایا کہ بیوہ کا حق تو ثمن (آٹھواں حصہ ) ہے اور یہ نواں ہوگیا ۔ عبدالرزاق سعبد بن منصور ابوعبید فی الغریب دار قطنی بیہقی
30537- عن علي أنه أتي في امرأة وأبوين وبنات فقال للمرأة أرى ثمنك قد صار تسعا. "عب، ص وأبو عبيد في الغريب، قط، هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৪৯
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقسیم میراث سے پہلے مسلمان ہوگیا
30538 ۔۔۔ امام شعبی بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) اور زید بن ثابت (رض) دونوں کہتے ہیں ، غلام بھالی یہودوانصاری ہو ماں کے لیے حاجب بنیں گے نہ ہی وارث ہوں گے اور عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا کہ حاجب بنیں گے وارث نہیں ہوں گے۔ (سفیان نوری فی الفرائض عبدالرزاق سبھقی)
30538- عن الشعبي أن عليا وزيدا قالا: الإخوة المملوكون واليهود والنصارى لا يحجبون الأم ولا يرثون، وقال عبد الله: يحجبون ولا يرثون. "سفيان الثوري في الفرائض، عب، هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৫০
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقسیم میراث سے پہلے مسلمان ہوگیا
30539 ۔۔۔ ابوصادق حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جو شخص محروم ہو وہ حاجب نہیں بن سکتا۔ رواہ عبدالرزاق
30539- عن أبي صادق عن علي قال: لا يحجب من لا يرث. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৫১
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقسیم میراث سے پہلے مسلمان ہوگیا
30540 ۔۔۔ امام شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) اصحابہ الفرائض میں ہر ایک پر بقدر سہم رہ کرتے تھے ، سوائے میاں بیوی کے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) ماں کے ہوتے ہوئے ماں شریک پر رو کے قائل نہیں تھے اس طرح بنت حقیقی کے ہوتے ہوئے پوتی پر رد نہ ہوگا اسی طرح عینی بہن کے ہوتے ہوئی علاتی بہن محروم ہوگی اس طرح دادی اور میاں بیوی پر بھی رد نہیں۔ (سفیان عبدالرزق سعید بن منصور )
30540- عن الشعبي قال: كان علي يرد على كل ذي سهم قدر سهمه إلا الزوج والمرأة؛ وكان عبد الله لا يرد على أخت لأم مع الأم، ولا على بنت ابن مع بنت الصلب، ولا على أخت لأب مع أخت لأب وأم،ولا على جدة، ولا على امرأة، ولا على زوج. "سفيان عب، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৫২
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقسیم میراث سے پہلے مسلمان ہوگیا
30541 ۔۔۔ حارث بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) سے ذکر کیا گیا کہ ایک شخص چچازاد بھائیوں ووارث چھوڑ کر انتقال کرگیا ان میں سے ایک ماں شریک بھائی بھی ہے ابن مسعود (رض) نے سارے مال کا وارث اسی کو قرار دیا ہے تو حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عبداللہ بن مسعود (رض) پر رحم فرمائے وہ فقیہ ہیں اگر ان کی جگہ میں ہوتا تو اس کا حصہ (یعنی سدس) اس کو دیتا پھر اس کو اور بھائی کا شریک قرار دیتا۔ (عبدالرزاق سعید بن منصور ابن حریر بیہقی)
30541- عن الحارث قال: ذكر لعلي في رجل ترك بني عمه أحدهم أخوه لأمه أن ابن مسعود جعل له المال كله، فقال: رحم الله عبد الله! إن كان لفقيها، لو كنت أنا لجعلت له سهمه ثم شركت بينهم. "عب ص وابن جرير، هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৫৩
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقسیم میراث سے پہلے مسلمان ہوگیا
30542 ۔۔۔ دوبھائی جنگ صفین میں مارے گئے یا ایک شخص اور اس کا بیٹا مارا گیا تو حضرت علی (رض) نے دونوں کو ایک دوسرے کا وارث قرار دیا۔ عبدالرزاق ، بیہقی
30542- عن علي أن أخوين قتلا بصفين - أورجل وابنه - فورث أحدهما من الآخر. "عب، هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৫৪
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقسیم میراث سے پہلے مسلمان ہوگیا
30543 ۔۔۔ امام شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ایک خنی کو مرد فرض کر لیے وارث قرار دیا مردانہ آلہ سے پیشاب کرنے کی وجہ سے۔ رواہ عبدالرزاق
30543- عن الشعبي أن عليا ورث خنثى ذكرا من حيث يبول. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৫৫
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقسیم میراث سے پہلے مسلمان ہوگیا
30544 ۔۔۔ (مسند بریدة بن الحصیب الاسلمی) بریدة بن حصیب اسلمی کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھا ایک شخص آیا اور کہنے لگایا رسول اللہ ! میرے پاس قبیلہ ازد کے ایک شخص کی میراث ہے کوئی ازدی مجھے مل نہیں ہے کہ میں مال اس کے حوالہ کروں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جاؤ ازدی کو سال بھرتلاش کرو اور مال اس کے حوالہ کرو وہ شخص چلا گیا دوسرے سال پھر آیا اور کہا یارسول اللہ مجھے کوئی ازدی نہیں ملا جسے میں مال حوالہ کرو آپ نے فرمایا کہ جاؤ قبیلہ خزاعیہ کی پہلی نسل میں اس کو تلاش کرو اس کو پاؤ گے تو وہ شخص جانے لگا تو آپ نے فرمایا کہ اس شخص کو واپس بلاؤ وہ آگیا تو آپ نے فرمایا کہ جاؤ قبیلہ خزاعہ کے سردار کے حوالہ کردو ۔ ابن ابی شبیہ
30544-"مسند بريدة بن الحصيب الأسلمي" عن بريدة بن الحصيب الأسلمي: كنت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاءه رجل فقال: يا رسول الله! إن عندي ميراث رجل من الأزد فلم أكن أجد أزديا أدفعه إليه، قال: انطلق فالتمس أزديا عاما أو حولا فادفعه إليه! فانطلق ثم أتاه في العام التابع فقال: يا رسول الله! ما وجدت أزديا أؤدي إليه، قال: انطلق إلى أول خزاعة تجده فادفعه إليه! فلما قفا قال: علي به! قال: فاذهب فادفعه إلى أكبر خزاعة. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৫৬
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقسیم میراث سے پہلے مسلمان ہوگیا
30545 ۔۔۔ اسود بن یزید کہتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل کو جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن کا گورنر بناکر بھیجا تو انھوں نے میراث کے متعلق ایک فیصلہ فرمایا کہ ورثہ میں ایک لڑکی اور ایک بہن تھیں لڑکی کو نصف اور بہن کو نصف مال دیا۔ رواہ عبدالرزاق
30545- عن الأسود بن يزيد أن معاذ بن جبل حين بعثه رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى باليمن في بنت وأخت فجعل للبنت النصف وللأخت النصف. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৫৭
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقسیم میراث سے پہلے مسلمان ہوگیا
30546 ۔۔۔ اسود کہتے ہیں معاذ (رض) نے یمن میں فیصلہ فرمایا تھا میت کی لڑکی اور بہن کے بارے میں لڑکی کے لیے نصف اور بہن کے نصف ۔ رواہ عبدالرزاق
30546- عن الأسود أن معاذا قضى باليمن في ابنة وأخت فجعل للإبنة النصف وللأخت النصف. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৫৮
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقسیم میراث سے پہلے مسلمان ہوگیا
30547 ۔۔۔ قبیصہ بن ذونیب کہتے ہیں کہ ایک وادی ، نانی حضرت صدیق اکبر (رض) کی خدمت میں آئی اپنے پوتے کی یانواسے کی میراث کے سلسلہ میں توصدیق اکبر (رض) نے جواب دیا کہ کتاب میں تو تمہارا حصہ مذکور نہیں پاتا نہ ہی تمہارے حصہ میراث کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میں نے کچھ سنا کہ انھوں نے تمہارے لیے کوئی حصہ مقرر کیا ہوا البتہ شام کو دیگر صحابہ کرام (رض) سے پوچھو کا ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ایک وادی نانی ، پوتے یانواسے کی میراث کا مطالبہ کررہی ہے مجھے تو قرآن کریم اور سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ان کیے لیے میراث کا کوئی حصہ نہیں ملا کیا تم میں سے کسی نے اس سلسلہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی حدیث سنی ہے تو حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کھڑے ہوئے اور کہا کہ میں گواہی دیتاہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے حق میں سدس کا فیصلہ فرمایا ہے صدیق اکبر (رض) نے فرمایا کہ آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے تو محمد بن مسلمہ (رض) نے بھی اس کی گواہی دی تو صدیق اکبر (رض) نے دادی کے لیے سدس کا فیصلہ فرمایا دیا جب حضرت عمر (رض) کا دور خلافت آیا دوسری جدہ (یعنی نانی) آئی تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ فیصلہ تو دوسری کے حق میں تھا لیکن جب تم دونوں بیک وقت ایک میراث میں جمع ہوں تو دونوں سدس میں شریک ہوں گی اور جو تنہا وارث ہو اسی کو سد ملے گا۔ (مالک عبدالرزاق سعید بن منصور)
30547- عن قبيصة بن ذؤيب قال: جاءت الجدة إلى أبي بكر تطلب ميراثها من ابن ابنها أو ابنتها فقال أبو بكر رضي الله عنه: ما أجد لك في كتاب الله شيئا ولا سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقضي لك بشيء وسأسأل الناس العشية! فلما صلى الظهر أقبل على الناس فقال: إن الجدة أتتني تسألني ميراثها من ابن ابنها أو ابن بنتها وإني لم أجد لها في كتاب الله شيئا ولم أسمع النبي صلى الله عليه وسلم يقضي لها بشيء فهل سمع أحد منكم من رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها شيئا؟ فقام المغيرة بن شعبة فقال: شهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقضي لها السدس، فقال: من معك؟ فشهد محمد بن مسلمة، فأعطاها أبو بكر السدس؛ فلما جاءت خلافة عمر رضي الله عنه جاءته الجدة التي تخالفها فقال عمر: إنما كان القضاء في غيرك ولكن إذا اجتمعتما فالسدس بينكما وأيتكما خلت به فهو لها. "مالك، عب، ص"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫৫৯
وراثت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھانجہ کے وارث ہونے کی صورت
30548 ۔۔۔ محمد بن یحییٰ بن حبان اپنے چچاوامع بن حبان سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا کہ ثابت بن وحداحہ کا انتقال ہوا اور اپنے پیچھے نہ کوئی وارث چھوڑا نہ عصبہ تو ان کا معاملہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کیا گیا ان کے متعلق عاصم بن عدی سے پوچھا کیا اس نے کوئی وارث چھوڑا ہے تو عاصم نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی نہیں چھوڑا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سارا مال ان کے بھانجے ابولبابة بن عبدالعند رکودے دیا۔ (سعید بن منصور وسدہ صحیح)
30548- عن محمد بن يحيى بن حبان عن عمه واسع بن حبان قال: توفي ثابت بن الدحداحة ولم يدع وارثا ولا عصبة فرفع شأنه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فسأل عنه عاصم بن عدي: هل ترك من أحد؟ فقال: يا رسول الله ما ترك أحدا، فدفع رسول الله صلى الله عليه وسلم ماله إلى ابن أخته أبي لبابة بن عبد المنذر. "ص؛ وسنده صحيح".
তাহকীক: