কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৫৮৫০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بندہ کے گمان کے مطابق اللہ معاملہ فرماتا ہے
٥٨٥٠۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں اپنے بندے کے ساتھ اس گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں جو وہ میرے بارے میں رکھتا ہے اگر اس نے اچھا گمان کیا تو اس کا (فائدہ) اور اگر برا گمان کیا تو اس کا (نقصان) ۔ (مسند احمد عن ابوہریرہ (رض))
5850- قال الله تعالى: أنا عند ظن عبدي بي، إن ظن خيرا فله وإن ظن شرا فله. "حم عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৫১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بندہ کے گمان کے مطابق اللہ معاملہ فرماتا ہے
٥٨٥١۔۔۔ آدمی کی اچھی عبادت کی وجہ سے اچھا گمان پیدا ہوتا ہے۔ (ابن عدی فی الکامل ، خطیب عن انس)
5851- من حسن عبادة المرء حسن ظنه. "عد خط عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৫২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بندہ کے گمان کے مطابق اللہ معاملہ فرماتا ہے
٥٨٥٢۔۔۔ تم میں سے کوئی ہرگز اس حالت میں نہ مرے مگر اللہ تعالیٰ کے بارے اس کا اچھا گمان ہو۔ (مسند احمد مسلم ، ابو داؤد، ابن ماجہ عن جابر)
تشریح :۔۔۔ یعنی مرنے سے پہلے اس کی زندگی اس طرح گزرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے نیک گمان رکھتا ہو۔
تشریح :۔۔۔ یعنی مرنے سے پہلے اس کی زندگی اس طرح گزرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے نیک گمان رکھتا ہو۔
5852- لا يموتن أحد منكم إلا وهو يحسن الظن بالله تعالى. "حم م د هـ عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৫৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بندہ کے گمان کے مطابق اللہ معاملہ فرماتا ہے
٥٨٥٣۔۔۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ایک شخص کو چوری کرتے دیکھا ، تو آپ نے فرمایا : کیا تو نے چوری کی ہے ؟ وہ کہنے لگا، ہرگز ایسا نہیں اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، آپ نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں، میں اپنی آنکھ کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔ (مسند احمد، بخاری، مسلم، نسائی، ابن ماجہ عن ابوہریرہ (رض))
5853- رأى عيسى بن مريم رجلا يسرق، فقال له: أسرقت؟ قال: كلا والله الذي لا إله إلا هو، فقال عيسى: آمنت بالله وكذبت عيني. "حم ق ن هـ عن أبي هريرة"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৫৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٥٨٥٤۔۔۔ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ کے بارے اچھا گمان رکھو، اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق معامہ کرتے ہیں۔ (ابن ابی الدنیا وابن النجار عن ابوہریرہ (رض))
5854- أحسنوا - يا أيها الناس برب العالمين - الظن، فإن الرب عند ظن عبده به. "ابن أبي الدنيا"1.وابن النجار عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৫৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٥٨٥٥۔۔۔ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ کے بارے اچھا گمان رکھو، اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق معاملہ فرماتے ہیں۔ (طبرانی فی الکبیر، حاکم عن ابوہریرہ (رض))
5855- يا أيها الناس أحسنوا الظن برب العالمين، فإن الرب عند ظن عبده. "طب ك عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৫৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٥٨٥٦۔۔۔ بندے کے ساتھ، اس کے اللہ تعالیٰ کے بارے گمان کے مطابق معاملہ ہوتا ہے اور وہ قیامت کے روز اپنے دوستوں کے ہمراہ ہوگا۔ (ابو الشیخ عن ابوہریرہ (رض))
5856- العبد عند ظنه بالله عز وجل، وهو مع أحبابه يوم القيامة. "أبو الشيخ عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৫৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٥٨٥٧۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں۔ (طبرانی فی الکبیر عن بھز بن حکیم عن ابیہ عن جدہ) ۔
کلام : اس سند میں لطافت یہ ہے کہ اس کے تینوں راوی باپ ، بیٹا اور پوتا ہیں جیسے عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ والی سند ہے۔
کلام : اس سند میں لطافت یہ ہے کہ اس کے تینوں راوی باپ ، بیٹا اور پوتا ہیں جیسے عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ والی سند ہے۔
5857- قال الله تعالى: أنا عند ظن عبدي بي. "طب عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৫৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٥٨٥٨۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں اپنے بندے کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہوں جو وہ میرے بارے میں گمان رکھتا ہے اگر اچھا گمان رکھے تو اچھا اور برا رکھے تو برا۔ (طبرانی فی الکبیر، بیہقی فی شعب الایمان عن واثلہ بن الاسقع)
5858- قال الله تعالى: أنا عند ظن عبدي بي، إن ظن خيرا فخيرا وإن ظن شرا فشرا. "طب هب عن واثلة بن الأسقع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৫৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٥٨٥٩۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے بندے میں اس طرح معاملہ کرتا ہوں جس طرح تو میرے بارے گمان رکھتا ہے اور میں تیرے ساتھ ہوں گا جب تو مجھے یاد کرے گا۔ (حاکم غریب صحیح عن انس)
تشریح :۔۔۔ معیت الٰہی جسم و جان ہیت و مکان سے پاک ہے ویسے تو ہر مسلمان کو معیت الٰہی حاصل ہے لیکن ذکر کے وقت معیت خاص حاصل ہوجاتی ہے، مثلاً بادشاہ تمام رعایا کا نگران ہوتا ہے مگر جو شخص صبح و شام بادشاہ کے دربار میں حاضری دے اسے پورا اعتماد ہوتا ہے کہ میں بادشاہ کی نظر میں ہوں اور باری تعالیٰ کے ہاں تو معاملہ دل کے تعلق و ارتباط کا ہے۔
تشریح :۔۔۔ معیت الٰہی جسم و جان ہیت و مکان سے پاک ہے ویسے تو ہر مسلمان کو معیت الٰہی حاصل ہے لیکن ذکر کے وقت معیت خاص حاصل ہوجاتی ہے، مثلاً بادشاہ تمام رعایا کا نگران ہوتا ہے مگر جو شخص صبح و شام بادشاہ کے دربار میں حاضری دے اسے پورا اعتماد ہوتا ہے کہ میں بادشاہ کی نظر میں ہوں اور باری تعالیٰ کے ہاں تو معاملہ دل کے تعلق و ارتباط کا ہے۔
5859- قال الله تعالى: عبدي أنا عند ظنك بي، وأنا معك إذا ذكرتني. "ك غريب صحيح عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٥٨٦٠۔۔۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کو بندہ کی کوئی چیز محبوب نہیں سوائے حسن طن کے، جو وہ اس (اللہ) کے ساتھ رکھتا ہو۔ ابو نعیم عن جابر
5860- ما عبد الله تعالى بشيء أحب إليه من حسن الظن به. "أبو نعيم عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٥٨٦١۔۔۔ تم میں سے جو بھی مرے وہ اس حال میں مرے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے حسن ظن ہو اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے نیک گمان رکھنا جنت کی قیمت ہے۔ (ابن جمیع، فی معجمہ والخطیب وابن عساکر عن انس، وفیہ ابو نواس الشاعر قال الذھبی : فسقہ ظاھر فلیس باھل ان یروی عنہ)
تشریح :۔۔۔ اس لیے کہ حسن ظن ہی تمام عبادات کی جان ہے، اور جنت کی قیمت قرار دینا بطور انعام و فضل ہے ورنہ کوئی عمل جنت کا بدل نہیں ہوسکتا۔
تشریح :۔۔۔ اس لیے کہ حسن ظن ہی تمام عبادات کی جان ہے، اور جنت کی قیمت قرار دینا بطور انعام و فضل ہے ورنہ کوئی عمل جنت کا بدل نہیں ہوسکتا۔
5861- لا يموتن أحدكم حتى يحسن ظنه بالله تعالى، فإن حسن الظن بالله تعالى ثمن الجنة. "ابن جميع في معجمه والخطيب وابن عساكر عن أنس" وفيه أبو نواس2 الشاعر، قال الذهبي: فسقه ظاهر فليس بأهل أن يروى عنه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٥٨٦٢۔۔۔ جس کے بس میں یہ ہو کہ وہ جب مرنے لگے تو اللہ تعالیٰ کے بارے اس کا گمان اچھا ہو تو وہ ایسا کرلے۔ (ابن حبان عن جابر)
تشریح :۔۔۔ مرنا جینا تو کسی کے بس میں نہیں، البتہ حسن ظن رکھنا اختیار میں ہے اور حدیث میں اسی کا حکم ہے یہ چیز حاصل ہوتی ہے علم دین سے یا علماء کی مجالس یا صلحاء کے ہاں حاضری دینے سے۔
تشریح :۔۔۔ مرنا جینا تو کسی کے بس میں نہیں، البتہ حسن ظن رکھنا اختیار میں ہے اور حدیث میں اسی کا حکم ہے یہ چیز حاصل ہوتی ہے علم دین سے یا علماء کی مجالس یا صلحاء کے ہاں حاضری دینے سے۔
5862- من استطاع منكم أن لا يموت إلا وظنه بالله حسن فليفعل. "حب عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٥٨٦٣۔۔۔ غصہ ایمان کو اسی طرح خراب کردیتا ہے جیسے ایلوا شہد کو خراب کردیتا ہے اے معاویہ بن حیدۃ ! اگر تم سے یہ ہوسکے کہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرو کہ تمہارا اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان ہو تو اسی طرح کرنا، اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ بندے کے گمان کے مطابق اس سے معاملہ فرماتے ہیں۔ (طبرانی فی الکبیر ابن عساکر ، عن بھزبن حکیم عن ابیہ عن جدہ
5863- إن الغضب يفسد الإيمان كما يفسد الصبر العسل، يا معاوية بن حيدة إن استطعت أن تلق الله وأنت تحسن الظن به فافعل فإن الله عز وجل عند ظن عبده به. "طب كر عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خوف وامید
٥٨٦٤۔۔۔ میں قسم کھاتا ہوں : کہ خوف اور امید جس (کے دل) میں جمع ہوں اور پھر وہ جہنم کی بدبو سونگھے، اور جس (کے دل) میں دونوں جدا ہوں اور وہ دنیا میں جنت کی خوشبو سونگھ لے (یہ نہیں ہوسکتا) ۔ (بیہقی فی شعب الایمان عن واثلہ)
تشریح :۔۔۔ خوف کی وجہ سے انسان گناہوں سے باز رہتا ہے اور امید کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا طلبگار ہوتا ہے ، جہنم کی بدبو اس میں آگ اور لوگوں کے گلنے سڑنے کی وجہ ہے، اور جنت میں خوشبو مسک و عنبر، اور دیگر نعمتوں کی وجہ سے ، جیسے دنیا میں ایک طرف بوچھڑ خانہ ہو اور دوسری طرف کوئی پھل پھول کا باغ ہو۔
تشریح :۔۔۔ خوف کی وجہ سے انسان گناہوں سے باز رہتا ہے اور امید کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا طلبگار ہوتا ہے ، جہنم کی بدبو اس میں آگ اور لوگوں کے گلنے سڑنے کی وجہ ہے، اور جنت میں خوشبو مسک و عنبر، اور دیگر نعمتوں کی وجہ سے ، جیسے دنیا میں ایک طرف بوچھڑ خانہ ہو اور دوسری طرف کوئی پھل پھول کا باغ ہو۔
5864- أقسم: الخوف والرجاء أن لا يجتمعا في أحد في الدنيا فيريح ريح النار، ولا يفترقا في أحد في الدنيا فيريح ريح الجنة. "هب عن واثلة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خوف وامید
٥٨٦٥۔۔۔ اللہ تعالیٰ انسان پر اسی کو مسلط کرتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے اگر انسان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈرے تو اللہ تعالیٰ اس پر کسی کو مسلط نہ کرے، اور جب کسی سے امید رکھے تو اسی حوالہ کردیا جاتا ہے، اگر انسان صرف اللہ تعالیٰ سے امید رکھے تو اللہ تعالیٰ اسے کسی کے حوالہ نہ کرے۔ (الحکیم عن ابن عمر (رض))
تشریح :۔۔۔ غیر اللہ سے خوف، خوف مافوق الاسباب مراد ہے یعنی انسان دوسروں سے اس طرح ڈرے جس طرح اللہ تعالیٰ سے ڈرا جاتا ہے، باقی خوف طبعی تو انبیاء میں بھی تھا، دیکھیں موسیٰ (علیہ السلام) لاٹھی سے بنے سانپ کو دیکھ کر سرپٹ بھاگے، اور غیر اللہ سے امید کا مطلب بھی یہی ہے کہ انسانوں سے ایسی امید رکھی جائے جیسے اللہ تعالیٰ سے رکھی جاتی ہے ورنہ دنیا میں ہم کہتے ہیں : بھئ مجھے آپ سے یہ امید نہ تھی۔ جیسے بعض بدعتی لوگ جو شرکیہ اعمال کرتے ہیں قبر والوں سے ڈرتے ہیں کہ ہمیں کوئی تکلیف پہنچائیں گے، یا ان سے یہ امید رکھنا کہ ہمارا فلاں کام بنادیں گے، چاہے وہ زندہ ہوں یا مردہ ، ان سے اس درجہ کا خوف اور ایسی امید رکھنا بالکل غلط ہے۔
تشریح :۔۔۔ غیر اللہ سے خوف، خوف مافوق الاسباب مراد ہے یعنی انسان دوسروں سے اس طرح ڈرے جس طرح اللہ تعالیٰ سے ڈرا جاتا ہے، باقی خوف طبعی تو انبیاء میں بھی تھا، دیکھیں موسیٰ (علیہ السلام) لاٹھی سے بنے سانپ کو دیکھ کر سرپٹ بھاگے، اور غیر اللہ سے امید کا مطلب بھی یہی ہے کہ انسانوں سے ایسی امید رکھی جائے جیسے اللہ تعالیٰ سے رکھی جاتی ہے ورنہ دنیا میں ہم کہتے ہیں : بھئ مجھے آپ سے یہ امید نہ تھی۔ جیسے بعض بدعتی لوگ جو شرکیہ اعمال کرتے ہیں قبر والوں سے ڈرتے ہیں کہ ہمیں کوئی تکلیف پہنچائیں گے، یا ان سے یہ امید رکھنا کہ ہمارا فلاں کام بنادیں گے، چاہے وہ زندہ ہوں یا مردہ ، ان سے اس درجہ کا خوف اور ایسی امید رکھنا بالکل غلط ہے۔
5865- إنما يسلط الله على ابن آدم من خافه ابن آدم، ولو أن ابن آدم لم يخف غير الله لم يسلط الله عليه أحدا، وإذا وكل ابن آدم لمن رجا ابن آدم، ولو أن ابن آدم لم يرج إلا الله لم يكله الله إلى غيره. "الحكيم عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خوف وامید
٥٨٦٦۔۔۔ جنت میں وہی داخل ہوگا جسے اس کی امید ہے اور جہنم سے وہی بچے گا جو اس کا خوف رکھتا ہے اسی پر رحم کیا جاتا ہے جو (دوسروں پر) رحم کرتا ہے۔ (بیہقی فی عن ابن عمر)
تشریح :۔۔۔ جسے جنت کی امید ہی نہیں وہ نیک عمل کیونکر کرے اور جسے جہنم کا خوف نہیں وہ برائی سے بچے تو کس لیے ؟ لہٰذا امید کے پیچھے جنت اور خوف کے پس پردہ جہنم ہے۔
تشریح :۔۔۔ جسے جنت کی امید ہی نہیں وہ نیک عمل کیونکر کرے اور جسے جہنم کا خوف نہیں وہ برائی سے بچے تو کس لیے ؟ لہٰذا امید کے پیچھے جنت اور خوف کے پس پردہ جہنم ہے۔
5866- إنما يدخل الجنة من يرجوها، وإنما يجتنب من النار من يخافها وإنما يرحم من يرحم. "هب عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خوف وامید
٥٨٦٧۔۔۔ اگر مومن کو یہ پتہ چل جائے جو اللہ تعالیٰ کے پاس سزائیں تیار ہیں تو کوئی بھی جنت کی خواہش نہ کرے اور اگر کافر کو یہ پتہ چل جائے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں رحمت ہے تو کوئی بھی جنت سے مایوس نہ ہو۔ (ترمذی عن ابوہریرہ (رض) )
تشریح :۔۔۔ علم سے مراد علم عین الیقین ہے اس لیے کہ معلومات تو سب کو ہیں ، دیکھیں سزائے زنا رجم وسنگساری جب سرعام دی جائے تو دیکھنے والے اپنی حلال بیوی سے قربت کرنے میں بھی باک محسوس کریں گے۔
تشریح :۔۔۔ علم سے مراد علم عین الیقین ہے اس لیے کہ معلومات تو سب کو ہیں ، دیکھیں سزائے زنا رجم وسنگساری جب سرعام دی جائے تو دیکھنے والے اپنی حلال بیوی سے قربت کرنے میں بھی باک محسوس کریں گے۔
5867- لو يعلم المؤمن ما عند الله من العقوبة ما طمع في الجنة أحد ولو يعلم الكافر ما عند الله من الرحمة ما قنط من الجنة أحد. "ت عن أبي هريرة"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خوف وامید
٥٨٦٨۔۔۔ جس مومن کے دل میں امید و خوف جمع ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کی امید برآری کرلے گا اور خوف سے امن بخشے گا۔ (بیہقی فی شعب الایمان عن سعید بن المسیب)
5868- ما اجتمع الرجاء والخوف في قلب مؤمن إلا أعطاه الله عز وجل الرجاء وآمنه الخوف. "هب عن سعيد بن المسيب" مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خوف وامید
٥٨٦٩۔۔۔ وہ فاجر شخص جسے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے زیادہ قریب ہے اس عبادت گزار سے جو ناامید ہے۔ (الحکیم والشیرازی فی الالقاب عن ابن مسعود)
تشریح :۔۔۔ گناہ گار اس رحمت کی امید پر عبادت میں لگ جائے گا جبکہ عبادت گزار مایوسی کی وجہ سے عبادت ترک کر دے گا۔
تشریح :۔۔۔ گناہ گار اس رحمت کی امید پر عبادت میں لگ جائے گا جبکہ عبادت گزار مایوسی کی وجہ سے عبادت ترک کر دے گا۔
5869- الفاجر الراجي لرحمة الله تعالى أقرب منها من العابد المقنط. "الحكيم والشيرازي في الألقاب عن ابن مسعود".
তাহকীক: