কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৭২৫০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیت و ارادہ
٧٢٥٠۔۔۔ اس شخص کے لیے کوئی اجر نہیں جسے (ثواب کی) امید نہیں۔ (ابن المبارک عن القاسم ، مرسلاً )
7250- لا أجر لمن لا حسبة له ابن المبارك عن القاسم مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৫১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیت و ارادہ
٧٢٥١۔۔۔ اجر تو (ثواب کی) امید پر ملتا ہے اور بغیر نیت کوئی عمل نہیں (ہوتا) ۔ (فردوس عن ابی ذر)
7251- لا أجر إلا عن حسبة ولا عمل إلا بنية. "فر" عن أبي ذر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৫২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیت و ارادہ
٧٢٥٢۔۔۔ اللہ تعالیٰ جب اپنا عذاب اپنے نافرمانوں پر نازل کرتا ہے تو (بسا اوقات) وہ نیک لوگوں کی عمروں کے برابر واقع ہوجاتا ہے یوں ان کی ہلاکت کے ساتھ یہ لوگ بھی ہلاک ہوجاتے ہیں ، پھر ان کو ان کی نیتوں اور اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔ (بیہقی عن عائشہ)
تشریح :۔۔۔ یعنی جن ایام میں عذاب نازل ہونا تھا انہی دنوں ان نیک لوگوں نے مرنا تھا یوں ان کی عمروں اور عذاب کے نزول میں اتفاق ہوجاتا ہے، دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ بھی اس عذاب میں گرفتار تھے، لیکن فرق اعمال اور نیتوں کی وجہ سے بعثت اور حشر میں ظاہر ہوگا۔
تشریح :۔۔۔ یعنی جن ایام میں عذاب نازل ہونا تھا انہی دنوں ان نیک لوگوں نے مرنا تھا یوں ان کی عمروں اور عذاب کے نزول میں اتفاق ہوجاتا ہے، دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ بھی اس عذاب میں گرفتار تھے، لیکن فرق اعمال اور نیتوں کی وجہ سے بعثت اور حشر میں ظاہر ہوگا۔
7252- إن الله تعالى إذا أنزل سطواته على أهل نقمته فوافت آجال قوم صالحين فأهلكوا بهلاكهم، ثم يبعثون على نياتهم وأعمالهم. "هب" عن عائشة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৫৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیت و ارادہ
٧٢٥٣۔۔۔ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو عذاب میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو جو اس قوم میں (نیک و بد) ہوتا ہے سب کو عذاب پہنچاتے ہیں، پھر ان کے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔ (بیہقی عن ابن عمر)
7253- إذا أراد الله بقوم عذابا أصاب العذاب من كان فيهم، ثم بعثوا على أعمالهم. "ق" عن ابن عمر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৫৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیت و ارادہ
٧٢٥٤۔۔۔ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر عذاب نازل کرنا چاہتے ہیں تو جو بھی ان میں ہوتا ہے اسے وہ عذاب پہنچتا ہے پھر ان کے اعمال کے مطابق انھیں اٹھایا جائے گا۔ (مسند احمد بخاری عن ابن عمر)
7254- إذا أنزل الله بقوم عذابا أصاب العذاب من كان فيهم ثم بعثوا على أعمالهم. "حم خ" عن ابن عمر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৫৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیت و ارادہ
٧٢٥٥۔۔۔ جب زمین میں کوئی (اجتماعی) برائی روپذیر ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ زمین والوں پر اپنا عذاب نازل کرتے ہیں، اگرچہ ان میں نیک لوگ موجود ہوں ، انھیں بھی وہی عذاب پہنچتا ہے جو اور لوگوں کو پہنچتا ہے، پھر وہ (نیک لوگ) اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ (طبرانی فی الکبیر، الحلیۃ عن ام سلمۃ)
7255- إذا ظهر السوء في الأرض أنزل الله بأسه بأهل الأرض وإن كان فيهم قوم صالحون، يصيبهم ما أصاب الناس، ثم يرجعون إلى رحمة الله ومغفرته. "طب حل" عن أم سلمة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৫৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٢٥٦۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کی نیت کے مطابق اجر دے دیا۔ (مسند احمد، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ، بیہقی والبغوی، حاکم وابو نعیم عن جابر بن عتیک)
7256- إن الله قد أوقع أجره على قدر نيته. "حم د ن هـ هب" والبغوي "ك" وأبو نعيم عن جابر بن عتيك.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৫৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٢٥٧۔۔۔ اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو کچھ اہمیت نہیں دیتے، لیکن تمہارے قلوب اور تمہارے اعمال کو دیکھتے ہیں جس کا دل نیک ہو اللہ تعالیٰ اس پر مہربان ہوں گے۔ (الحکیم عن یحییٰ بن ابی کثیر، مرسلاً )
7257- إن الله تعالى لا ينظر إلى صوركم، ولا إلى أموالكم، ولكن ينظر إلى قلوبكم وأعمالكم، فمن كان له قلب صالح تحنن الله عليه. الحكيم عن يحيى بن أبي كثير مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৫৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٢٥٨۔۔۔ اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتے، لیکن تمہارے دلوں کو دیکھتے ہیں، تو جس کا دل صالح ہوا اس پر اللہ تعالیٰ مہربان ہوں گے، بہرکیف تم سب آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہو مجھے تم میں سے سب سے زیادہ وہ پسند ہے جو تم میں سب سے پرہیزگار ہو۔ (طبرانی ، عن ابی مالک الاشعری)
7258- إن الله تعالى لا ينظر إلى أجسامكم، ولا إلى أحسابكم، ولا إلى أموالكم، ولكن ينظر إلى قلوبكم، فمن كان له قلب صالح تحنن الله عليه، وأما أنتم بنو آدم فأحبكم إلي أتقاكم. "طب" عن أبي مالك الأشعري.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৫৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٢٥٩۔۔۔ اچھی نیت اپنے مالک کو جنت میں داخل کر دے گی، اچھے اخلاق اپنے موصوف کو جنت میں داخل کریں گے، اور اچھا پڑوس اپنے پڑوسی کو جنت میں ے جائے گا، ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگرچہ وہ شخص برا ہو ؟ آپ نے فرمایا : ہاں اگرچہ تمہاری ناک خال آلود ہوجائے۔ (الدیلمی عن جابر)
7259- النية الحسنة تدخل صاحبها الجنة، والخلق الحسن يدخل صاحبه الجنة، والجوار الحسن يدخل صاحبه الجنة، قال رجل: يا رسول الله وإن كان رجل سوء، قال: نعم على رغم أنفك. الديلمي عن جابر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٢٦٠۔۔۔ مدینہ میں کچھ مرد ایسے جنہیں عذر نے روک رکھا ہے، تم نے جو وادی پار کی اور جو راستہ تم نے طے کیا وہ اجر میں تمہارے ساتھ شریک ہیں۔ (ابن ماجہ عن جابر)
7260- إن بالمدينة رجالا ما قطعتم واديا، ولا سلكتم طريقا إلا شركوكم في الأجر، حبسهم العذر. "هـ" عن جابر
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھی نیت پر اجر ملتا ہے
٧٢٦١۔۔۔ ہم مدینہ میں کچھ لوگ چھوڑ آئے ہیں، کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں چاہے ہم کوئی وادی عبور کریں یا کسی بلند جگہ چڑھیں یا کسی نشیبی زمین میں اتریں، لوگوں نے عرض کی : وہ ہمارے ساتھ کیسے ہیں جبکہ وہ حاضر نہیں ہوئے ؟ آپ نے فرمایا : اپنی نیتوں کی بنا پر۔ (الحسن بن سفیان والدیلمی عن ہشام بن عورۃ رن ابیہ عن جدہ الزبیر بن العوام)
7261- تركنا في المدينة أقواما لا نقطع واديا، ولا نصعد صعودا ولا نهبط هبوطا إلا كانوا معنا، قالوا: كيف يكونون معنا ولم يشهدوا؟ قال: نياتهم. الحسن بن سفيان والديلمي عن هشام بن عروة عن أبيه عن جده الزبير بن العوام.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھی نیت پر اجر ملتا ہے
٧٢٦٢۔۔۔ مدینہ میں کچھ لوگ ہیں کہ تم جس راستہ پر چلے اور تم نے جو خرچ کیا، یا کوئی وادی عبور کی وہ بھی اجر میں تمہارے ساتھ ہیں لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! کیسے حالانکہ وہ مدینہ میں ہیں ؟ آپ نے فرمایا : وہ اگرچہ مدینہ میں ہیں (وہ ہمارے ساتھ ہوتے) انھیں عذر نے روک رکھا ہے۔ (مسند احمد، ابن ابی شیبہ وعبید بن حمید بخاری، ابو داؤد، ابن ماجہ، وابو عوانہ، ابن حبان عن انس، عبد بن حمید، مسلم ابن ماجہ عن جابر)
7262- إن بالمدينة أقواما، ما سرتم مسيرا ولا أنفقتم من نفقة، ولا قطعتم واديا إلا كانوا معكم فيه، قالوا يا رسول الله وهم بالمدينة؟ قال: وهم بالمدينة، حبسهم العذر. "حم ش" وعبد بن حميد "خ د هـ" وأبو عوانة "حب" عن أنس، عبد بن حميد "م هـ" عن جابر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھی نیت پر اجر ملتا ہے
٧٢٦٣۔۔۔ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر آدمی کے لیے وہی ہے جو اس کی نیت ہے تو جس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہوئی تو اس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے ہوگی، اور جس کی ہجرت دنیا کے ارادے جسے وہ حاصل کرے یا کسی عورت کے ارادہ سے ہو کہ وہ اس سے نکاح کرے تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہوگی جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ (مالک فی روایۃ محمد بن الحسن، مسند احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ عن عمر)
تشریح :۔۔۔ یہ ایک صاحب تھے، جو مہاجر ام قیس کے نام سے مشہور تھے، ان کی محبوبہ جب مکہ سے مدینہ رخصت ہوگئی تو یہ بھی وہاں سے چل دئیے، اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ارشاد فرمایا۔
تشریح :۔۔۔ یہ ایک صاحب تھے، جو مہاجر ام قیس کے نام سے مشہور تھے، ان کی محبوبہ جب مکہ سے مدینہ رخصت ہوگئی تو یہ بھی وہاں سے چل دئیے، اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ارشاد فرمایا۔
7263- إنما الأعمال بالنية، وإنما لكل امرئ ما نوى، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهجرته إلى الله ورسوله، ومن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها أو امرأة يتزوجها فهجرته إلى ما هاجر إليه. مالك في رواية محمد بن الحسن "حم خ م د ت ن هـ" عن عمر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھی نیت پر اجر ملتا ہے
٧٢٦٤۔۔۔ یقیناً وہ لوگ جنہیں مدینہ میں معذوری نے روک رکھا ہے تمہارے ساتھ (اجر میں) حاضر ہیں۔ (ابن حبان عن جابر) ۔ فرماتے ہیں : ہم ایک غزوہ تھے تو آپ نے یہ ارشاد فرمایا۔
7264- لقد شهدكم أقوام بالمدينة، حبسهم المرض. "حب" عن جابر، قال: كنا في غزاة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھی نیت پر اجر ملتا ہے
٧٢٦٥۔۔۔ تمہارے لیے اس کا اجر ہے جس کی تم نے نیت کی ہے۔ (ابو یعلی عن معن بن یزید)
7265- لك أجر ما نويت. "ع" عن معن بن يزيد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھی نیت پر اجر ملتا ہے
٧٢٦٦۔۔۔ اے یزید تمہارے لیے اس کا اجر ہے جس کی تم نے نیت کی ہے، اور اے معین تمہارے لیے وہ ہے جو تم نے لے لیا۔ (مسند احمد بخاری عن معن بن یزید)
تشریح :۔۔۔ فرماتے ہیں میرے والد نے کچھ دینار صدقہ کی نیت سے نکال کر لائے اور مسجد میں بیٹھے ایک شخص کے پاس رکھ دئیے میں نے آکر وہ دینار لے لیے، تو والد صاحب نے کہا : بخدا میں نے تمہاری نیت سے تو نہیں لائے تھے چنانچہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں یہ جھگڑا پیش کیا، تو آپ نے یہ فرمایا۔
تشریح :۔۔۔ فرماتے ہیں میرے والد نے کچھ دینار صدقہ کی نیت سے نکال کر لائے اور مسجد میں بیٹھے ایک شخص کے پاس رکھ دئیے میں نے آکر وہ دینار لے لیے، تو والد صاحب نے کہا : بخدا میں نے تمہاری نیت سے تو نہیں لائے تھے چنانچہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں یہ جھگڑا پیش کیا، تو آپ نے یہ فرمایا۔
7266- لك أجر ما نويت يا يزيد، ولك ما أخذت يا معن. "حم خ" عن معن بن يزيد، قال: أخرج أبي دنانير يتصدق بها فوضعها عند رجل في المسجد، فجئت فأخذتها، فقال والله ما إياك أردت فخاصمته إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھی نیت پر اجر ملتا ہے
٧٢٦٧۔۔۔ اگر ایک شخص دن بھر روزہ رکھتا ہے اور پوری رات قیام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی نیت کے مطابق اٹھائے گا یا جنت کی طرف یا جہنم کی جانب۔ (الدیلمی عن ابن عمر)
7267- لو أن رجلا صام نهاره، وقام ليله حشره الله على نيته: إما إلى الجنة، وإما إلى النار. الديلمي عن ابن عمر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھی نیت پر اجر ملتا ہے
٧٢٦٨۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے جس بستی پر بھی عذاب بھیجا تو عمومی بھیجا، پھر قیامت کے روز لوگ اپنی اپنی نیتوں کے پیش نظر اٹھائے جائیں گے۔ (ابو داؤد طیالسی عن ابن عمر)
7268- ما أصاب الله أهل قرية بعذاب إلا عمهم، ثم يبعثون يوم القيامة على نياتهم. "ط" عن ابن عمر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭২৬৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھی نیت پر اجر ملتا ہے
٧٢٦٩۔۔۔ مومن کی نیت اس کے عمل سے گہری سے ہوتی ہے۔ (الحکیم والعسکری فی الامثال عن ثابت البناتی ، بلاغاً )
7269- نية المؤمن أبلغ من عمله. الحكيم والعسكري في الأمثال عن ثابت البناني بلاغا.
তাহকীক: