কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حج اور عمرۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৭০ টি

হাদীস নং: ১২৩০১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کے احکام
12301 حج اور عمرے دو فریضے ہیں، جس سے بھی تم ابتداء کرو تمہیں کوئی نقصان نہیں۔

رواہ الحاکم فی المستدرک عن زید بن ثابت ، رواہ الفردوس الدیلمی عن جابر (رض) ۔

کلام : حسن الاثر 225، ضعیف الجامع 2764 ۔
12301- الحج والعمرة فريضتان لا يضرك بأيهما بدأت. "ك4عن زيد بن ثابت" "فر عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩০২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام حجۃ الوداع۔۔۔حجۃ الوداع کے احکامات
12302 تم مجھ سے اپنے مناسک حج سیکھ لو، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ شاید اپنے اس حج کے بعد (آئندہ سال) کوئی حج کرسکوں گا۔ رواہ مسلم عن جابر (رض) ۔
12302- لتأخذوا عني مناسككم فإني لا أدري لعلي لا أحج بعد حجتي هذه. "م عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩০৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام حجۃ الوداع۔۔۔حجۃ الوداع کے احکامات
12303 اے لوگو ! آگاہ رہو ! سب سے زیادہ کس دن کی حرمت ہے ؟ کونسا دن سب سے زیادہ محترم ہے ؟ کونسا دن سب سے زیادہ حرمت والا ہے ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا کہ : حج اکبر کا دن (سب سے زیادہ محترم ہے ؟ ) تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ بیشک تمہارے خون (جان) تمہارے مال اور تمہاری آبرو تم پر ایسی ہی محترم (حرمت والی) ہیں جس طرح تمہارے اس شہر (مکہ) میں تمہارے اس مہینہ میں (ذی الحجہ) تمہارے اس دن (دسویں ذی الحجہ) میں محترم ہیں۔ یعنی جس طرح تم عرفہ کے دن، ذی الحج کے مہینہ میں اور مکہ مکرمہ میں قتل و غارت اور لوٹ مار کو حرام سمجھتے ہو اسی طرح ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اور ہر جگہ ایک مسلمان کی جان ومال دوسرے مسلمان پر حرام ہے لہٰذا تم میں سے کوئی بھی کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ کسی کا خون نہ کرے، کسی کا مال چوری ودغابازی سے نہ کھائے اور کسی کو کسی جانی اور مالی تکلیف و مصیبت میں مبتلا نہ کرے۔

خبردار ! یاد رکھو ! کوئی جنایت (جرم) کرنے والا جنایت نہیں کرتا مگر اپنی ہی جان پر (یعنی اس کا تاوان اسی پر عائد ہوگا) نہ والد اپنی اولاد پر جنایت کرتا اور نہ اولاد اپنے والد پر جنایت کرتی (جس نے کوئی نقصان یا جرم کیا اس کی چٹی اور تاوان خود اسی پر ہوگا) آگاہ رہو شیطان مایوس ہوگیا ہے کہ تمہارے اس شہر (مکہ ) میں اس کی عبادت کی جائے گی، لیکن تمہارے کچھ اعمال میں اس کی اطاعت کی جائے گی جن کو تم معمولی اور حقیر خیال کرو گے اور وہ اس پر راضی ہوجائے گا ، خبردار مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ پس کسی مسلمان کے لیے اس کے بھائی کی کوئی چیز حلال نہیں مگر یہ کہ وہ خود اس کے لیے کچھ حال کردے ۔ آگاہ رہو جاہلیت کا ہر سود ختم کیا جاتا ہے۔ اب تمہارے لیے صرف تمہارے اصل (راس المال) ہی ہیں۔ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔ سوائے عباس بن عبدالمطلب کے سود وہ سارا ہی (بمع اصل المال) ختم کیا جاتا ہے۔ یونہی جاہلیت کے سارے خون آج معاف کردیئے گئے اور سب سے پہلا خون جس کو میں معاف کرتا ہوں وہ حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے۔ خبردار ! عورتوں کے ساتھ خیر خواہی برتو، وہ تمہاری مددگاری ہیں ، تم ان کے اوپر کسی طرح زیادتی کے مالک نہیں ہو سوائے اس صورت کے کہ وہ کوئی کھلی بدکاری کی مرتکب ہوں۔ اگر وہ ایسا کچھ کریں تو ان سے بستر علیحدہ کرلو اور ایسی مار مارو جس کے نشانات نہ ہوں۔ پھر اگر وہ تمہاری اطاعت پر آجائیں تو پھر مارنے کے لیے بہانے تلاش نہ کرو۔ آگاہ رہو تمہارے اپنی عورتوں پر کچھ حقوق ہیں اور تمہاری عورتوں کے تم پر کچھ حقوق ہیں تمہارے حقوق عورتوں پر یہ ہیں کہ وہ تمہارے بستروں پر ایسے افراد کو نہ آنے دیں جن کو تم ناپسند کرتے اور نہ تمہارے گھروں میں تمہارے ناپسندیدہ لوگوں کو آنے دیں۔ آگاہ رہو ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم ان کے کھانے اور پہننے (وغیرہ ) میں ان کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرو۔
12303- يا أيها الناس ألا أي يوم أحرم؟ أي يوم أحرم؟ أي يوم أحرم، قالوا: يوم الحج الأكبر، قال: فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا في شهركم هذا، ألا لا يجني جان إلا على نفسه، ألا ولا يجني والد على ولده ولا ولد على والده ألا إن الشيطان قد أيس أن يعبد في بلدكم هذا أبدا، ولكن سيكون له طاعة في بعض ما تحتقرون من أعمالكم فيرضى بها، ألا إن المسلم أخو المسلم فلا يحل لمسلم من أخيه شيء، إلا ما أحل من نفسه، ألا وإن كل ربا في الجاهلية موضوع، لكم رؤس أموالكم لا تظلمون ولا تظلمون غير ربا العباس بن عبد المطلب فإنه موضوع كله. وإن كل دم كان في الجاهلية موضوع، وأول دم أضع من دم الجاهلية دم الحارث ابن عبد المطلب، ألا واستوصوا بالنساء خيرا، فإنهن عوان عندكم، ليس تملكون منهن شيئا غير ذلك، إلا أن يأتين بفاحشة مبينة فإن فعلن فاهجروهن في المضاجع واضربوهن ضربا غير مبرح فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا، ألا وإن لكم على نسائكم حقا ولنسائكم عليكم حقا، فأما حقكم،على نسائكم، فلا يوطئن فرشكم من تكرهون ولا يأذن في بيوتكم من تكرهون، ألا وإن حقهن عليكم أن تحسنوا إليهن في كسوتهن وطعامهن. "ت ن هـ عن عمرو بن الأحوص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩০৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام حجۃ الوداع۔۔۔حجۃ الوداع کے احکامات
12304 بیشک تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارے اس دن (عرفہ) میں تمہارے اس مہینہ (ذی الحجہ) میں اور تمہارے اس شہر (مکہ) میں حرام ہیں۔ یاد رکھو زمانہ جاہلیت کی ہر چیز میرے قدموں کے نیچے ہے اور پامال وبے قدر (یعنی موقوف و باطل) ہے۔ لہٰذا اسلام سے پہلے جس نے جو کچھ کیا میں نے وہ اسب معاف کیا اور زمانہ جاہلیت کے تمام رسم و رواج کو موقوف وختم کردیا اور زمانہ جاہلیت کے خون معاف کردیئے گئے ہیں۔ لہٰذا زمانہ جاہلیت میں اگر کسی نے خون کردیا تھا تو اب نہ اس کا قصاص ہے، نہ دیت اور نہ کفارہ بلکہ اس کی معافی کا اعلان ہے اور سب سے پہلا خون جسے میں اپنے خونوں میں سے معاف کرتا ہوں وہ ربیعہ ابن الحارث کے بیٹے کا خون ہے (جو شیر خوار بچہ تھا اور قبیلہ بنی سعد میں دودھ پیتا تھا اور ہذیل نے اس کو مار ڈالا تھا) زمانہ جاہلیت کا سود معاف کردیا گیا ہے اور سب سے پہلا سود جسے میں اپنے سودوں میں سے معاف کرتا ہوں وہ عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے، لہٰذا (زمانہ جاہلیت کا سود) بالکل معاف کردیا گیا ہے۔

لوگو ! عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو ، تم نے ان کو خدا کی امان کے ساتھ لیا ہے (یعنی ان کے حقوق کی ادائیگی اور ان کی عزت و احترام کے ساتھ رکھنے کا جو عہد خدا نے تم سے لیا ہے یا اس کا عہد جو تم نے خدا سے کیا ہے اسی کے مطابق عورتیں تمہارے پاس آئی ہیں) اور ان کی شرم گاہوں کو خدا کے حکم سے (یعنی ” فانکحوا “ کے مطابق رشتہ زن وشو قائم کرکے) اپنے لیے تم نے حلال بنایا ہے، اور عورتوں پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جس کا آنا تم کو ناگوار گزرے (یعنی وہ تمہارے گھروں میں کسی کو بھی تمہاری اجازت کے بغیر نہ آنے دیں خواہ وہ مرد ہو یا عورت) پس اگر وہ اس معاملہ میں نافرمانی کریں (کہ تمہاری اجازت کے بغیر کسی کو گھر آنے دیں اور ڈانٹ ڈپٹ کے بعد بھی وہ اس سے باز نہ آئیں) تو تم ان کو مارو مگر اس طرح نہ مارو جس سے سختی وشدت ظاہر ہو اور انھیں کوئی گزند پہنچ جائے ، اور تم پر ان کا حق یہ ہے کہ تم ان کو اپنی استطاعت و حیثیت کے مطابق کھانے پینے کا سامان (اور مکان) اور کپڑا دو ۔

لوگو ! میں تمہارے درمیان ایک ایسی چیز چھوڑتا ہوں جس کو اگر تم مضبوطی سے تھامے رہو گے تو میرے بعد (یا اس کو مضبوطی سے تھامے رہنے اور اس پر عمل کرنے کے بعد) تم ہرگز گمراہ نہیں ہوگے اور وہ چیز کتاب اللہ ہے۔

لوگو ! میرے بارے میں تم سے پوچھا جائے گا (کہ میں نے منصب رسالت کے فرائض پوری طرح انجام دیئے یا نہیں ؟ اور میں نے دین کے احکام تم تک پہنچائے یا نہیں ؟ ) تو تم کیا جواب دوں گے ؟ اس موقع پر صحابہ (رض) نے (بیک زبان) کہا کہ ” ہم (اللہ کے سامنے) اس بات کی شہادت دیں گے کہ آپ نے دین کو ہم تک پہنچا دیا، اپنے فرائض نبوت کو ادا کردیا اور ہماری خیرخواہی کی۔ “

اس کے بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا بایں طور کہ آسمان کی طرف اٹھایا اور پھر لوگوں کی طرف جھکا کر) یہ کہا : اے اللہ ! (اپنے بندوں کے اس اقرار پر) تو گواہ رہ۔ “

رواہ مسلم وابوداؤد وابن ماجہ عن جابر (رض) ۔
12304- إن دماءكم وأموالكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا إن كل شيء من أمر الجاهلية تحت قدمي موضوع ودماء الجاهلية موضوعة وأول دم أضعه من دمائنا دم ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب، وربا الجاهلية موضوع وأول ربا أضع من ربائنا ربا العباس بن عبد المطلب فإنه موضوع كله، فاتقوا الله في النساء فإنكم أخذتموهن بأمانة الله واستحللتم فروجهن بكلمة الله وإن لكم عليهن أن لا يوطئن فرشكم أحدا تكرهونه، فإن فعلن ذلك فاضربوهن ضربا غير مبرح ولهن عليكم رزقهن وكسوتهن بالمعروف وإني قد تركت فيكم ما لن تضلوا بعده إن اعتصمتم به كتاب الله وأنتم مسؤلون عني، فما أنتم قائلون؟ قالوا: نشهد أنك قد بلغت وأديت ونصحت، فقال: اللهم اشهد "م د هـ عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩০৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کے احکام اکمال میں سے
12305 آگاہ رہ ! اور اگر تو عمرہ کرے تو تیرے لیے خیر کی بات ہے۔ رواہ احمد فی مسندہ والترمذی وابویعلی فی مسندہ وابن خزیمۃ۔ کہ ایک شخص نے پوچھا کہ : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے بتائیے کہ عمرہ واجب ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پھر مذکورہ حدیث ذکر فرمائی (امام ترمذی (رح)) نے اس حدیث کو ” حسن صحیح “ کہا ہے۔
12305- ألا وإن تعتمر خير لك. "حم ت حسن صحيح ع وابن خزيمة قط ص عن جابر" أن رجلا قال: يا رسول الله أخبرني عن العمرة أواجبة؟ قال: فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩০৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کے احکام اکمال میں سے
12306 عمرہ کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ اپنے اوپر سے زرد رنگ کے اثر کو دھو ڈال، اور اپنا جبہ اتاردے (احرام باندھ لے) اور جو کچھ تم اپنے حج میں افعال انجام دیتے ہو، وہی اپنے عمرہ میں بھی کرو (یعنی جن چیزوں سے حج میں بچتے ہو، عمرہ میں بھی بچو اور جو حج کے لیے لازم ہیں وہی عمرہ کے لیے ہیں جیسے احرام ، تلبیہ ، عدم رفث وغیرہ) ۔

رواہ ابن حبان فی صحیحہ عن یعلی بن امیۃ۔
12306- أين السائل عن العمرة؟ اغسل عنك أثر الصفرة، واخلع عنك جبتك واصنع في عمرتك ما أنت صانع في حجك1. "حب عن يعلى بن أمية" مر [11934] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩০৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کے احکام اکمال میں سے
12307 تم میں سے جو اس بات کو پسند کرے کہ حج سے پہلے عمرہ سے ابتداء کرے تو وہ کرلے۔

رواہ احمد فی مسندہ عن عائشہ (رض) ۔
12307- من أحب منكم أن يبدأ بعمرة قبل الحج فليفعل. "حم عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩০৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کے احکام اکمال میں سے
12308 حج اور عمرہ ساتھ کرو (حج قران کرو یا یہ مطلب ہے کہ اگر حج کرلو تو پھر عمرہ بھی کرو اور اگر عمرہ کرلو تو پھر حج بھی کرو) کیونکہ ان دونوں کو ساتھ کرنا عمر میں زیادتی کا سبب ہے، اور یہ دونوں فقروفاقہ اور گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں جس طرح لوہار کی بھٹی زنگ کو دور کرتی ہے۔

رواہ احمد فی مسندہ والحمیدی والعدنی وابن ماجہ و سعید بن منصور شعب الایمان للبیہقی عن ابن عمر (رض) ۔
12308- تابعوا بين الحج والعمرة فإن متابعة بينهما يزيدان في الأجل وينفيان الفقر والذنوب كما ينفي الكير الخبث. "حم والحميدي والعدني هـ ص هب عن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩০৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کے احکام اکمال میں سے
12309 حج اور عمرہ ساتھ کرو (حج قران کرو) کیونکہ یہ دونوں (بلکہ ان میں سے ہر ایک) فقروفاقہ اور خطاؤں کو اس طرح دور کرتے ہیں جس طرح لوہے کے زنگ کو لوہار کی بھٹی دور کرتی ہے۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابن عباس (رض) ۔
12309- تابعوا بين الحج والعمرة فإنهما ينفيان الفقر والخطايا كما ينفي الكير خبث الحديد.

"طب عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩১০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کے احکام اکمال میں سے
12310 حج وعمرہ ساتھ کرو اس لیے کہ یہ دونوں (بلکہ ان میں سے ہر ایک) عمر اور رزق میں زیادتی کا سبب ہیں اور فقروفاقہ کو اس طرح دور کرتے ہیں جس طرح لوہے کے زنگ کو لوہار کی بھٹی دور کرتی ہے۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر وابن عساکر عن عامر بن ربیعۃ (رض) ۔
12310- تابعوا بين الحج والعمرة فإنهما يزيدان في العمر والرزق وينفيان الفقر كما ينفي الكير خبث الحديد. "طب وابن عساكر عن عامر بن ربيعة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩১১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کے احکام اکمال میں سے
12311 حج وعمرہ ساتھ کرو، اس لیے کہ ان دونوں کو ساتھ کرنا فقروفاقہ اور گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں جس طرح لوہے کے زنگ کو لوہار کی بھٹی دور کرتی ہے۔

رواہ ابویعلی فی مسندہ و سعید بن منصور۔
12311- تابعوا بين العمرة والحج فإن متابعة بينهما تنفي الفقر والذنوب كما ينفي الكير خبث الحديد. "ع ص عن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩১২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کے احکام اکمال میں سے
12312 جب رمضان المبارک آئے تو اس میں تم عمرہ کرنا، کیونکہ رمضان میں عمرہ کرنے کا ثواب کے برابر ہے۔ رواہ النسائی عن ابن عباس (رض) ۔
12312- إذا كان رمضان فاعتمري؛ فإن عمرة فيه تعدل حجة. "ن عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩১৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کے احکام اکمال میں سے
12313 رمضان کے مہینہ میں عمرہ کرو، اس لیے کہ رمضان میں عمرہ کا ثواب ایک حج کے ثواب کے برابر ہے۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن یوسف بن عبداللہ بن سلام۔
12313- اعتمروا في شهر رمضان فإن عمرة فيه كحجة. "طب عن يوسف بن عبد الله بن سلام".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩১৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کے احکام اکمال میں سے
12314 رمضان میں عمرہ کرو، اس لیے کہ رمضان میں عمرہ کا ثواب ایک حج کے ثواب کے برابر ہے۔ رواہ احمد فی مسندہ والبیہقی عن معقل بن ابی معقل ، رواہ ابوداؤد عن امہ ام معقل ۔ رواہ البیہقی عن عبدالرحمن بن خنیس۔
12314- اعتمري في رمضان؛ فإن عمرة فيه كحجة. "حم ق ق عن معقل بن أبي معقل" "د عن أمه أم معقل" "ق عن عبد الرحمن بن خنيس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩১৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کے احکام اکمال میں سے
12315 اے ام سلیم ! رمضان المبارک میں عمرہ کا ثواب ایک حج کے ثواب کے برابر ہے۔

رواہ ابن حبان عن ابن عباس (رض) ۔
12315- يا أم سليم عمرة في رمضان تعدل حجة. "حب عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩১৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کے احکام اکمال میں سے
12316 اے ام سلیم ! رمضان المبارک میں عمرہ کرنا تجھے ایک حج سے کافی ہے (یعنی رمضان میں عمرہ کا ثواب حج کے ثواب کے برابر ہے، ایک عمرہ رمضان میں کرنا حج کے ثواب کے حصول کے لیے کافی ہے) ۔ الخطیب عن ام سلیم۔
12316- يا أم سليم، عمرة في رمضان تجزئك عن حجة. "الخطيب عن أم سليم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩১৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمرہ کے احکام اکمال میں سے
12317 سن ! اگر تو اس (عورت) کو وقف کے اونٹ پر حج کے لیے بھیجے تو وہ (اونٹ) اللہ کی راہ میں شمار ہوگا اور اس (عورت) کو میری طرف سے سلام کہہ دینا اور اس کو بتا دینا کہ رمضان میں عمرہ کرنا ایسا ہے جیسا میرے ساتھ حج کرنا۔ النسائی، مستدرک الحاکم عن ابن عباس (رض) ۔
12317- أما إنك لو كنت أحججت بها يعني على الجمل الحبيس لكان في سبيل الله أقرئها مني السلام ورحمة الله فأخبرها أنها تعدل حجة معي عمرة في رمضان. "ن ك عن ابن عباس"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩১৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نسک المراۃ من الاکمال

عورت کا حج
12318 تم غسل کرلو، اور کسی کپڑے (کرسف وغیرہ) کو اپنی فرج (شرمگاہ) پر باندھ لو (تاکہ سیلان دم باہر نہ ہو) اور (پھر) احرام باندھ لو۔ رواہ مسلم وابوداؤد والنسائی وابن ماجہ عن جابر (رض) ۔

حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم ذوالحلیفہ پہنچ گئے، تو حضرت اسماء بنت عمیس (رض) کے ہاں ولادت ہوئی تو انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ میں کس طرح (افعال حج) انجام دوں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پھر مذکورہ حدیث ذکر فرمائی۔
12318- اغتسلي واستثفري2 بثوب وأحرمي. "م د ن هـ عن جابر" قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى أتينا ذا الحليفة فولدت أسماء بنت عميس فأرسلت إليه كيف أصنع؟ قال: فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩১৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نسک المراۃ من الاکمال

عورت کا حج
12319 جس طرح حاجی افعال حج انجام دیتے ہیں تم اسی طرح افعال حج انجام دوالبتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا، یہاں تک کہ تم پاک ہوجاؤ (رواہ البخاری عن عائشہ (رض)) فرماتی ہیں کہ : میں مکہ پہنچی تو حالت حیض میں تھی، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پھر مذکورہ حدیث ذکر فرمائی۔
12319- افعلي ما يفعل الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت حتى تطهري. "خ عن عائشة" قالت: قدمت مكة وأنا حائض، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: فذكره
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩২০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نسک المراۃ من الاکمال

عورت کا حج
12320 محرم خاتون خوشبو والے کپڑے نہ پہنے ہاں بغیر خوشبو والے زرد رنگ کے کپڑے پہن لے۔ رواہ الطحاوی عن جابر (رض) ۔
12320- المهلة لا تلبس ثياب الطيب وتلبس الثياب المعصفرات من غير الطيب. "الطحاوي عن جابر".
tahqiq

তাহকীক: