কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حج اور عمرۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৭০ টি

হাদীস নং: ১২৩২১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نسک المراۃ من الاکمال

عورت کا حج
12321 محرم عورت نہ نقاب لگائے اور نہ ہی دستانے پہنے۔ رواہ البیہقی عن ابن عمرو (رض) ۔
12321- لا تنتقب المرأة المحرمة ولا تلبس القفازين. "ق عن ابن عمرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩২২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نسک المراۃ من الاکمال

عورت کا حج
12322 (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) عورتوں کو حالت احرام میں دستانے پہننے اور نقاب لگانے سے منع فرماتے تھے، اور ایسے کپڑے پہننے سے منع فرماتے کہ جن پر ورس (خوشبودار گھاس) اور زعفران لگا، ہوا س کے علاوہ رنگین کپڑوں میں سے وہ جو پسند کرے پہن لے۔

رواہ الحاکم فی المستدرک عن ابن عمر (رض) ۔
12322- ينهى النساء في إحرامهن عن القفازين والنقاب وما مس الورس والزعفران من الثياب ولتلبس بعد ذلك ما أحبت من ألوان الثياب. "ك عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩২৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نسک المراۃ من الاکمال

عورت کا حج
12323 حالت احرام میں تم خوشبونہ لگاو (یہ خطاب حضرت ام سلمہ (رض) جو ام المومنین ہیں، سے ہے) اور مہندی نہ لگاؤ اس لیے کہ یہ بھی خوشبو (میں اور زینت میں داخل) ہے۔

رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ام سلمۃ (رض) ۔
12323- لا تطيبي وأنت محرمة، ولا تمسي الحناء فإنه طيب. "طب عن أم سلمة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩২৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نسک المراۃ من الاکمال

عورت کا حج
12324 اے عمیس کی بیٹی ! تم (عورتوں) پر غسل نہیں ہے (دوران حج حالت حیض ونفاس میں) اور نہ جمعہ کی نماز فرض ہے اور نہ سر منڈانا ہے اور نہ بال تراشنا ہے، البتہ یوم نحر (دسویں ذی الحجہ) کو جب تم میں سے کوئی حج کرے تو وہ بذات خود یا اس کا کوئی محرم اس کے سر کے سامنے کے بالوں کے کنارے تراش لے۔ رواہ الطبرانی عن اسماء بنت عمیس (رض) ۔
12324- يا بنت عميس، لا غسل عليكن، ولا جمعة ولا حلاق ولا تقصير إلا أن تأخذ إحداكن لنفسها أو من كان منها بمحرم من أطراف شعرها من مقدم رأسها يوم النحر إذا حجت. "طب عن أسماء بنت عميس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩২৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الشرط والاستثناء ” من الاکمال “

حج میں شرط لگانا اور استثناء کرنا
12325 تم اپنے احرام باندھنے کے وقت یہ شرط لگالینا کہ :

” مجلی حیث جستنی “

ترجمہ : میرے احرام سے نکلنے کی وہی جگہ ہوگی جہاں میں (بیماری کے سبب) روک دی جاؤں پس تمہارے لیے یہی حکم ہوگا۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ جس جگہ مجھ پر مرض غالب ہوجائے اور میں وہاں سے خانہ کعبہ کی طرف آگے نہ چل سکوں تو اسی جگہ میں احرام کھول دوں گی (یہ خطاب ام سلمہ (رض)) سے ہے۔ رواہ البیہقی عن ابن عباس (رض) ۔
12325- اشترطي عند إحرامك محلي حيث حبستني فإن ذلك لك. "ق عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩২৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الشرط والاستثناء ” من الاکمال “

حج میں شرط لگانا اور استثناء کرنا
12326 تم شرط لگا لینا اور اس طرح کہنا :

” محلی حیث جستنی “

ترجمہ : میرے احرام سے نکلنے کی وہ جگہ ہے جہاں میں (بیمار وغیرہ کے سبب) روک دی جاؤں۔ رواہ سعید بن منصور عن جابر (رض) ۔
12326- اشترطي وقولي: محلي حيث حبستني. "ص عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩২৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الشرط والاستثناء ” من الاکمال “

حج میں شرط لگانا اور استثناء کرنا
12327 حج کا احرام باندھ لو اور اس طرح کہو : ” محلی حیث جستنی “ کہ میرے احرام سے نکلنے کی وہ جگہ ہے جہاں میں (بیماری وغیرہ کے سبب) روک دیا جاؤں۔

رواہ احمد فی مسند عن ام سلمہ (رض) ۔
12327- أهلي بالحج وقولي: محلي حيث حبستني. "حم عن أم سلمة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩২৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الشرط والاستثناء ” من الاکمال “

حج میں شرط لگانا اور استثناء کرنا
12328 تم حج کرو، اور شرط لگالو، اور یہ کہو : اللھم محلی حیث جستنی “ یعنی کہ میرے احرام سے نکلنے کی وہ جگہ ہے جہاں میں (بیماری وغیرہ کے سبب) روک دیا جاؤں۔

رواہ احمد فی مسندہ ومسلم والنسائی وابن حبان فی صحیحہ عن عائشہ (رض) ، رواہ مسلم وابوداؤ و النسائی وابن ماجہ وابن حبان فی صحیحہ عن ابن عباس (رض) رواہ ابن ماجہ وابو نعیم والبیہقی عن ضباعۃ (رض) ، رواہ ابن ماجہ عن ابی بکر بن عبداللہ بن الزبیر عن جدتہ، رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابن عمر (رض) ، رواہ البیہقی عن جابر (رض) ۔
12328- حجي واشترطي وقولي: اللهم محلي حيث حبستني. "حم م ن حب عن عائشة" "م د ت ن هـ حب عن ابن عباس" "هـ وأبو نعيم ق عن ضباعة" "هـ عن أبي بكر بن عبد الله بن الزبير عن جدته" "طب عن ابن عمر" "ق عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩২৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الشرط والاستثناء ” من الاکمال “

حج میں شرط لگانا اور استثناء کرنا
12329 تم یہ کہو :

لبیک اللھم لبیک و محلی من الارض حیث تحبسنیٰ ۔

ترجمہ : اے اللہ میں حاضر ہوں، اور میرے احرام سے نکلنے کی وہ جگہ ہے جہاں میں (بیماری وغیرہ کے سبب) روک دی جاؤں ۔ پس تمہارے لیے اللہ کی طرف سے وہی (حکم) ہوگا جو تم نے استثناء کیا۔

رواہ النسائی وابن ماجہ والطبرانی فی الکبیر عن ابن عباس (رض) ، رواہ احمد فی مسندہ عن ضباعۃ بنت الزبیر (رض) ۔
12329- قولي: لبيك اللهم لبيك ومحلي من الأرض حيث تحبسني، فإن لك على ربك ما استثنيت. "ن هـ طب عن ابن عباس" "حم عن ضباعة بنت الزبير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৩০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع النسک ” من الاکمال “
12330 حضرت جبرائیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر نازل ہوئے، اور انھیں لے کر چلے، پھر ظہر، مغرب اور عشاء اور فجر کی نماز مقام منیٰ میں ادا کیں، پھر انھیں منیٰ سے عرفات کی جانب لے چلے، پھر (جمع بین الصلاتین) ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ پڑھیں، پھر وہاں وقوف کیا، یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا، پھر انھیں لے کر روانہ ہوئے، یہاں تک کہ مزدلفہ آئے تو وہاں نزول فرمایا، پھر وہاں رات گزاری ، اور پھر فجر کی نماز اتنے مختصر وقت میں پڑھی جتنا سرعت کے ساتھ مسلمانوں میں سے کوئی مسلمان نماز پڑھے، ۔ یعنی فجر کی نماز بہت مختصر کرکے پڑھی جتنا کہ کوئی جلدی اسے پڑھ سکتا ہو پھر وہاں وقوف کیا اتنی دیر کہ جتنی دیر میں کوئی مسلمان سست رفتار سے نماز ادا کرے، پھر انھیں لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ جمرات کی طرف پہنچے تو ان پر کنکریاں پھینکی ، پھر ذبح (قربانی) کی، اور سر منڈایا پھر انھیں لے کر بیت اللہ آئے، اور بیت اللہ کا طواف کیا، پھر انھیں لے کر (دوباری) منیٰ لوٹے، پھر وہاں ان دنوں میں قیام کیا، پھر اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل فرمائی کہ :

” آپ ابرایم کے طریقے پر جو بالکل ایک (خدا) کی طرف ہورہے تھے ، چلئے “

البیہقی فی شعب الایمان عن ابن عمرو (رض) ۔

کلام : یہ بیہقی نے مرفوعاً اور موقوفاً دونوں سند سے روایت کی ہے، اور انھوں نے موقوف کو محفوظ کہا ہے۔
12330- نزل جبريل على إبراهيم فراغ به فصلى بمنى الظهر والمغرب والعشاء والصبح، ثم غدا به من منى إلى عرفة فصلى به الصلاتين الظهر والعصر، ثم وقف به حتى غابت الشمس ثم دفع به حتى أتى المزدلفة فنزل به، فبات فصلى الصبح كأعجل ما يصلي أحد من المسلمين، ثم وقف به كأبطأ ما يصلي أحد من المسلمين، ثم أفاض به حتى أتى الجمرة فرماها، ثم ذبح وحلق، ثم أتى به البيت فطاف به، ثم رجع به إلى منى فأقام فيها تلك الأيام، ثم أوحى الله إلى محمد أن اتبع ملة إبراهيم حنيفا. "هب عن ابن عمرو" مرفوعا وموقوفا وقال: المحفوظ للموقوف.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৩১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الحج عن الغیر من الاکمال

دوسرے کی جانب سے حج کرنا
12331 بتاؤ ! اگر تمہارے باپ پر قرضہ ہوتا تو تم اس کو ادا کرتے یا نہیں ؟ تو انھوں (حصین بن عوف) نے فرمایا کہ : جی ہاں (ادا کرتا) تو پھر اللہ کا قرضہ زیادہ حقدار ہے کہ ادا کیا جائے (رواہ الطبرانی فی الکبیر عن حصین بن عوف) حصین بن عوف فرماتے ہیں کہ : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں اپنے والد کی جانب سے حج کرسکتا ہوں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر مذکورہ حدیث ذکر فرمائی۔
12331- أرأيت لو كان على أبيك دين أكنت قاضيه؟ قال: نعم، قال: فدين الله أحق أن يقضى. "طب عن حصين بن عوف" قال: قلت يا رسول الله أحج عن أبي؟ قال: فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৩২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الحج عن الغیر من الاکمال

دوسرے کی جانب سے حج کرنا
12332 بتاؤ ! اگر تمہارے باپ پر قرضہ ہوتا، اور تم وہ قرضہ اس کی جانب سے ادا کرتے، تو وہ قرضہ تم سے قبول کیا جاتا یا نہیں ؟ تو انھوں نے فرمایا : کہ جی ہاں (قبول کیا جاتا) تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پس اللہ تعالیٰ زیادہ رحم کرنے والے ہیں ، لہٰذا اپنے باپ کی طرف سے تم حج کرلو۔

رواہ البیہقی عن سودۃ بنت زمعۃ (رض) ۔
12332- أرأيت لو كان على أبيك دين فقضيته عنه قبل منك؟ قال: نعم، قال: فالله أرحم، حج عن أبيك. "ق عن سودة بنت زمعة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৩৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الحج عن الغیر من الاکمال

دوسرے کی جانب سے حج کرنا
12333 بتاؤ ! اگر تمہارے باپ پر قرضہ ہوتا اور تم اس کی جانب سے وہ قرضہ ادا کرتے ، تو وہ کافی ہوتا یا نہیں ؟ تو انھوں نے فرمایا : جی ہاں۔ کافی ہوتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پس تم اپنے والد کی جانب سے حج ادا کرو۔ رواہ ابن حبان فی صحیحہ عن ابن عباس (رض) ۔
12333- أرأيت لو كان على أبيك دين فقضيته عنه كان يجزئ قال: نعم، قال: فاحجج عن أبيك. "حب عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৩৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الحج عن الغیر من الاکمال

دوسرے کی جانب سے حج کرنا
12334 بتاؤ ! اگر تمہارے باپ پر قرضہ ہوتا، اور وہ قرضہ تم ادا کرتے تو تمہارے ادا کرنے سے ادا ہوتا یا نہیں ؟ تو انھوں نے فرمایا کہ : جی ہاں (ادا ہوجاتا) تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ : اپنے والد کی جانب سے حج ادا کرو۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن انس (رض) ۔
12334- أرأيت إن كان على أبيك دين فقضيته أقضي عنك؟ قال: نعم، قال: حج عن أبيك.

"طب عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৩৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الحج عن الغیر من الاکمال

دوسرے کی جانب سے حج کرنا
12335 جو شخص میری امت کے لیے حج کرتا ہے اس کی مثال موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی سی ہے، جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دودھ پلاتی تھیں ، اور وہ فرعون سے (اس دودھ پلانے کی) اجرت بھی لیتی تھیں۔ رواہ الدیلمی عن جبیر بن نفیر عن عوف بن مالک۔

کلام : روایت ضعیف ومحتمل الموضوع ہے : تذکرۃ الموضوعات 73، الموضوعات 220/219/2 ۔
12335- مثل الذي يحج لأمتي مثل أم موسى كانت ترضعه وهي كانت تأخذ الكراء من فرعون. "الديلمي عن جبير بن نفير عن عوف بن مالك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৩৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الحج عن الغیر من الاکمال

دوسرے کی جانب سے حج کرنا
12336 تم اپنے والد کی طرف سے حج کرلو۔

رواہ الترمذی عن علی (رض) ، حسن صحیح ، رواہ الطبرانی فی الکبیر عن الفضل۔
12336- حجي عن أبيك. "ت عن علي" "طب عن الفضل"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৩৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الحج عن الغیر من الاکمال

دوسرے کی جانب سے حج کرنا
12337 تم اپنے والد کی طرف سے حج کرلو۔ رواہ ابن ماجہ عن ابی الغوت بن حصین عن ابن عباس عن حصین بن عوف، رواہ الحاکم فی المستدرک عن ابوہریرہ (رض) ۔

کلام : مذکورہ روایت کی سند میں عثمان بن عطاء النحراسانی ہے، ابن معین نے اس کو ضعیف کہا ہے اور ایک قول اس کے منکر الحدیث متروک ہونے کا ہے زوائد ابن ماجہ میں امام حاکم فرماتے ہیں یہ شخص اپنے والد سے موضوع روایات روایت کرتا ہے۔ الحاکم فی المستدرک 481/1 ۔
12337- حج عن أبيك. "هـ عن أبي الغوث بن حصين عن ابن عباس عن حصين بن عوف ك عن أبي هريرة"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৩৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الحج عن الغیر من الاکمال

دوسرے کی جانب سے حج کرنا
12338 تم اپنے باپ کی طرف سے حج کرو۔

رواہ الترمذی عن علی (رض) ، رواہ الطبرانی فی الکبیر عن الفضل۔
12338- حججت عن أبيك. "ت عن علي" "طب عن الفضل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৩৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الحج عن الغیر من الاکمال

دوسرے کی جانب سے حج کرنا
12339 جس شخص نے اپنے والدین کی وفات کے بعد ان کی طرف سے حج کیا، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم سے آزادی لکھ دیتے ہیں، اور اس کے والدین کو ان کے ثواب میں بغیر کوئی کمی کے ایک کامل حج کا ثواب ملتا ہے اور ذورحم شخص کسی سے جو صلہ رحمی کرتا ہے وہ زیادہ افضل ہے اس حج سے جو وہ اس کی موت کے بعداس کی قبر میں داخل کرتا ہے (یعنی اس حج کے ثواب پہنچانے سے اس شخص کے ساتھ اس کی زندگی میں صلہ رحمی افضل ہے) اور جو شخص اپنی سواری پر اس شخص کے پیچھے چلا (صلہ رحمی کے لئے) تو گویا اس نے ایک گردن (غلام) آزاد کیا۔

رواہ البیہقی فی شعب الایمان وضعفہ وابن عساکر عن عبدالعزیز بن عبیداللہ بن عمر عن ابیہ عن جدہ۔

کلام : بیہقی (رح) نے مذکورہ روایت کو ضعیف کہا ہے۔
12339- من حج عن والديه بعد وفاتهما، كتب الله له عتقا من النار، وكان للمحجوج عنهما أجر حجة تامة من غير أن ينقص من أجورهما شيء، وما وصل ذو رحم رحمه بأفضل من حجة يدخلها عليه بعد موته في قبره، ومن مشى على راحلته عقبه، فكأنما أعتق رقبة. "هب وضعفه وابن عساكر عن عبد العزيز بن عبيد الله بن عمر عن أبيه عن جده".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৪০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الحج عن الغیر من الاکمال

دوسرے کی جانب سے حج کرنا
12340 جس شخص نے اپنے والد یا اپنی والدہ کی جانب سے حج کیا تو وہ حج اس کی جانب سے اور ان دونوں کی جانب سے کفایت کرے گا۔ یعنی اس حج کا مکمل ثواب اس حج کرنے والے کو بھی ملے گا اور ان دونوں (والدین کو بھی مکمل ملے گا) ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن زید بن ارقم۔
12340- من حج عن أبيه، أو عن أمه أجزأه ذلك عنه وعنهما. "طب عن زيد بن أرقم".
tahqiq

তাহকীক: