কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حج اور عمرۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৭০ টি
হাদীস নং: ১২৭০১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12701 ابوحمید سے مروی ہے کہ ہم عتبۃ بن عبدالسلمی (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ یزید مقری تشریف لائے اور عتبہ کو عرض کیا : اے ابوالولید ہم قربانی کے لیے اونٹ کی تلاش میں نکلے تھے مگر سوائے ایک موٹے اونٹ کے جس کے اگلے دو دانت بھی گرے ہوئے تھے کے سوا کوئی جانور نہیں مل رہا ؟ حضرت عتبہ نے فرمایا : تم وہ ہمیں لادو۔ یزید بولے، اللہ تم کو بخشے ! کیا وہ اونٹ تمہاری طرف سے قربانی میں کام آسکتا ہے اور میری طرف سے نہیں آسکتا ؟ عتبہ بولے ہاں، یزید لے پوچھا وہ کیوں ؟ فرمایا : تم اس کے متعلق شک میں پڑے ہوئے ہو (کہ معلوم نہیں اس کی قربانی ہوگی یا نہیں) جبکہ تجھے کوئی شک نہیں۔ پھر عتبہ نے اپنا ہاتھ نکالا اور ارشاد فرمایا : بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانچ چیزوں سے منع فرمایا ہے، موصلہ سے، مصفرہ سے ، شفاء سے، کسراء سے اور مشیعہ سے۔ پھر فرمایا : موصلہ وہ (جانور) ہے جس کے (دانت) جڑ سے اکھاڑے گئے ہوں اور مصفرۃ وہ ہے جس کے کان جڑ سے اکھاڑے گئے ہوں اور بخقاء وہ جانور جس کا بھینگا پن بالکل ظاہر ہو اور مشعیہ وہ کمزور اور بیمار جانور جو ریوڑ میں بکریوں سے پیچھے رہ جائے (اور کسراء وہ جانور جس کے سینگ ٹوٹے ہوئے ہوں) ۔ ابن جریر
12701- عن أبي حميد قال: كنا جلوسا إلى عتبة بن عبد السلمي فأقبل يزيد المقرى فقال لعتبة: يا أبا الوليد إنا خرجنا آنفا في التماس جزر للنسك، فلم نكد نجد شيئا غير أني وجدت ثرماء1 سمينة فقال عتبة: فلو ما جئتنا به؟ قال: اللهم غفرا2 أتجزئ عنك ولا تجزئ عني؟ قال: نعم قال: ولم ذاك؟ قال: إنك تشك ولا أشك، ثم أخرج عتبة يده فقال: إنما نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن خمس: عن الموصلة والمصفرة والبخقاء والكسراء والمشيعة قال: والموصلة المستأصل بها، والمصفرة المستأصلة أذنها، والبخقاء العوراء البين عورها، والمشيعة المهزولة والمريضة التي لا تتبع الغنم. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭০২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12702 زید بن ارقم (رض) سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ قربانی کے جانوروں کی حقیقت کیا ہے ؟ فرمایا : تمہارے باپ (ابراہیم (علیہ السلام)) کی ملت ہے۔ پوچھا : ہمارے لیے ان میں کیا (ثواب) ہے ؟ فرمایا : ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔ پوچھا : اور اون ؟ فرمایا : اون میں بھی (ہر اون کے بال کے بدلے میں) ایک نیکی ہے۔ ابن زنجویہ
12702- عن زيد بن أرقم أنهم قالوا: يا رسول الله، هذه الأضاحي ماهي؟ قال: ملة أبيكم، قالوا: فما لنا فيها؟ قال: بكل شعرة حسنة قالوا: فالصوف؟ قال: بكل صوفة حسنة. "ابن زنجويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭০৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12703 حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوم النحر کو دو مینڈھے ذبح فرمائے ۔ النسائی
12703- عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين يوم النحر. "ن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭০৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12704 ثوبان (رض) سے مروی ہے، فرمایا : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قربانی ذبح فرمائی اور پھر مجھے فرمایا : اے ثوبان ! اس قربانی کے گوشے کو درست کرکے رکھو۔ چنانچہ پھر میں اس میں سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھلاتا رہا حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینے تشریف لے گئے۔ ابن عساکر
12704- عن ثوبان قال: ذبح النبي صلى الله عليه وسلم أضحيته ثم قال: يا ثوبان أصلح لحم هذه الأضحية فلم أزل أطعمه منها حتى قدم المدينة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭০৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الھدایا
12705 ابوبکر صدیق (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوجہل کو ایک اونٹ ہدیہ کیا۔ الدارقطنی فی العلل، الاسماعیلی فی معجمہ، الدار قطنی فی السنن، الخطیب فی التاریخ فی رواۃ مالک
ھدی وہ جانور کہلاتا ہے جو حاجی اپنے ساتھ حرم کو لے جائے تاکہ اس کو ذبح کرکے اللہ کا قرب حاصل کرے اسی طرح کی جنایت سے جو دم لازم ہو وہ بھی ہدی ہے۔
ھدی وہ جانور کہلاتا ہے جو حاجی اپنے ساتھ حرم کو لے جائے تاکہ اس کو ذبح کرکے اللہ کا قرب حاصل کرے اسی طرح کی جنایت سے جو دم لازم ہو وہ بھی ہدی ہے۔
12705- عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم أهدى جملا لأبي جهل. "قط في العلل والإسماعيلي في معجمه قط خط في رواة مالك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭০৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الھدایا
12706 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا اے لوگو ! حج کرو اور ہدی (اللہ کی راہ میں جانور ذبح) کرو۔ بیشک اللہ ہدی کو پسند کرتا ہے۔ ابن سعد، النسائی فی حدیث فتیبۃ
12706- عن عمر قال: يا أيها الناس حجوا واهدوا فإن الله يحب الهدى. "ابن سعد ن في حديث قتيبة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭০৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الھدایا
12707 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : جو نفلی ہدی لے کر آیا پھر حرم پہنچنے سے پہلے ہی اس کی قربانی مجبوراً کرنا پڑی تو اس سے کچھ نہ کھائے اگر کھالی تو اس پر اس کا بدل ہے۔
مصنف ابن ابی شیبہ
مصنف ابن ابی شیبہ
12707- عن عمر قال: من أهدى هديا تطوعا فعطب نحره دون الحرم ولم يأكل منه شيئا فإن أكل فعليه البدل. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭০৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الھدایا
12708 حضرت علی (رض) سے سوال کیا گیا کہ کیا آدمی اپنی ہدی کے جانور پر سوار ہوسکتا ہے ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیدل لوگوں کے پاس سے گزرتے تھے تو ان کو حکم فرماتے اور وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہدی کے جانوروں پر سوار ہوجاتے تھے۔ پھر حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : اور تم اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت سے زیادہ افضل کسی اور چیز کی اتباع نہیں کرسکتے۔ مسند احمد
12708- عن علي أنه سئل هل يركب الرجل هديه؟ فقال: لا بأس به قد كان النبي صلى الله عليه وسلم يمر بالرجال يمشون فيأمرهم يركبون هدى النبي صلى الله عليه وسلم قال: ولا تتبعون شيئا هو أفضل من سنة نبيكم صلى الله عليه وسلم. "حم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭০৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الھدایا
12709 مغیرہ بن حرب حضرت علی (رض) یا حضرت حذیفہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کے درمیان ان کی ہدی میں شراکت قائم کی۔ گائے کو سات افراد کی طرف سے ۔ ابوداؤد
12709- عن المغيرة بن حرب عن علي أو حذيفة أن النبي صلى الله عليه وسلم أشرك بين المسلمين في هديهم، البقرة عن سبعة. "ط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭১০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الھدایا
12710 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے حج میں سو اونٹ لے کر آئے۔ الحارث
12710- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم ساق مائة بدنة في حجته. "الحارث".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭১১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الھدایا
12711 حضرت علی (رض) سے مروی ہے، فرمایا : جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اونٹ (ھدی والے) قربان کیے تو تیس اونٹ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود اپنے ہاتھ سے نحر کیے (ذبح کیے) اور مجھے حکم کیا تو باقی سارے میں نے نحر (ذبح) کیے۔
ابن داؤد، السنن للبیہقی، ابن ابی الدنیا فی الاضاحی
ابن ابی الدنیا نے یہ الفاظ اضافہ فرمائے ہیں : مزید حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا کہ ان کا گوشت لوگوں کے درمیان تقسیم کردو اور ان کے لباس (زین وغیرہ) اور کھالوں کو بھی تقسیم کردو اور ان میں سے کوئی چیز کسی (قصائی) کو (اجرت میں) نہ دو ۔
کلام : روایت محل کلام ہے ضعیف ابی داؤد 386 ۔
ابن داؤد، السنن للبیہقی، ابن ابی الدنیا فی الاضاحی
ابن ابی الدنیا نے یہ الفاظ اضافہ فرمائے ہیں : مزید حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بھی فرمایا کہ ان کا گوشت لوگوں کے درمیان تقسیم کردو اور ان کے لباس (زین وغیرہ) اور کھالوں کو بھی تقسیم کردو اور ان میں سے کوئی چیز کسی (قصائی) کو (اجرت میں) نہ دو ۔
کلام : روایت محل کلام ہے ضعیف ابی داؤد 386 ۔
12711- عن علي قال: لما نحر النبي صلى الله عليه وسلم بدنه فنحر ثلاثين بيده، وأمرني فنحرت سائرها. "د ق وابن أبي الدنيا في الأضاحي" وزاد وقال: اقسم لحومها بين الناس، وجلالها وجلودها، ولا تعط جازرا منها شيئا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭১২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الھدایا
12712 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ان سے ہدی کے بارے میں سوال کیا کہ وہ کس جانور سے ہونی چاہیے ؟ گویا آدمی کو ہدی میں شک تھا۔ حضرت علی (رض) نے پوچھا : کیا تو قرآن پڑھ سکتا ہے ؟ عرض کیا : جی ہاں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں نے اللہ پاک کا فرمان سنا ہے :
یا ایھا الذین امنوا اوفوا بالعقود احلت لکم بھیمۃ الانعام الا مایتلی علیکم۔
اے ایمان والو ! اپنے اقراروں کو پورا کرو تمہارے لیے چار پائے جانور (جو چیرنے والے ہیں) حلال کردیئے گئے ہیں بجزان کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔
آدمی نے عرض کیا : جی ہاں (ایسے ہی فرمان الٰہی ہے) اور چوپائے جانور حلال ہیں پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : اسی طرح فرمان الٰہی ہے :
لیذکروا اسم اللہ علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام، ومن الانعام حمولۃ وفرشافکلوا ممن بھیمۃ الانعام
پس ذکر کریں وہ اللہ کا نام ان پر جو اللہ نے ان کو چوپائے جانور دیئے ہیں اور مویشیوں میں جو باربرداری والے ہیں اور جو کھانے کے کام آتے ہیں۔ پس کھاؤ چوپائے جانوروں میں سے۔
آدمی نے عرض کیا : جی ہاں۔ ایسا ہی ہے۔ پھر فرمایا : اسی طرح فرمان الٰہی ہے۔
من الضان اثنین ومن العمزاثنین ومن الابل اثنین ومن البقر اثنین۔
بھیڑوں میں جوڑا اور بکریوں سے جوڑا اور اونٹوں سے جوڑا اور گائے سے جوڑا۔
عرض کیا : جی ہاں (اللہ کا فرمان ایسے ہی ہے) پھر حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : (اسی طرح) میں نے اللہ کا فرمان سنا ہے :
یا ایھا الذین امنو ا لا تقتلوا الصید وانتم حرم سے بالغ الکعبۃ ۔ تک
اپنے مومنو ! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا۔ اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے تو (یا تو اس کا) بدلہ (دے اور یہ قربانی) کعبہ پہنچائی جائے۔
یہاں ہدی کا ترجمہ قربانی سے کیا گیا ہے، یہ سب آیات سن کر سائل کو واضح ہوگیا کہ ھدی کی قربانی اللہ کا حکم ہے تب اس نے کہا : مجھ سے ایک ہرن قتل ہوگیا ہے اب مجھ پر کیا لازم ہے ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : ایک بکری جو کعبہ لائی جائے (اور پھر اسے ذبح کیا جائے) جیسا کہ ابھی تو نے سنا۔
ابن ابی حاتم، السنن للبیہقی
یا ایھا الذین امنوا اوفوا بالعقود احلت لکم بھیمۃ الانعام الا مایتلی علیکم۔
اے ایمان والو ! اپنے اقراروں کو پورا کرو تمہارے لیے چار پائے جانور (جو چیرنے والے ہیں) حلال کردیئے گئے ہیں بجزان کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔
آدمی نے عرض کیا : جی ہاں (ایسے ہی فرمان الٰہی ہے) اور چوپائے جانور حلال ہیں پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : اسی طرح فرمان الٰہی ہے :
لیذکروا اسم اللہ علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام، ومن الانعام حمولۃ وفرشافکلوا ممن بھیمۃ الانعام
پس ذکر کریں وہ اللہ کا نام ان پر جو اللہ نے ان کو چوپائے جانور دیئے ہیں اور مویشیوں میں جو باربرداری والے ہیں اور جو کھانے کے کام آتے ہیں۔ پس کھاؤ چوپائے جانوروں میں سے۔
آدمی نے عرض کیا : جی ہاں۔ ایسا ہی ہے۔ پھر فرمایا : اسی طرح فرمان الٰہی ہے۔
من الضان اثنین ومن العمزاثنین ومن الابل اثنین ومن البقر اثنین۔
بھیڑوں میں جوڑا اور بکریوں سے جوڑا اور اونٹوں سے جوڑا اور گائے سے جوڑا۔
عرض کیا : جی ہاں (اللہ کا فرمان ایسے ہی ہے) پھر حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : (اسی طرح) میں نے اللہ کا فرمان سنا ہے :
یا ایھا الذین امنو ا لا تقتلوا الصید وانتم حرم سے بالغ الکعبۃ ۔ تک
اپنے مومنو ! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا۔ اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے تو (یا تو اس کا) بدلہ (دے اور یہ قربانی) کعبہ پہنچائی جائے۔
یہاں ہدی کا ترجمہ قربانی سے کیا گیا ہے، یہ سب آیات سن کر سائل کو واضح ہوگیا کہ ھدی کی قربانی اللہ کا حکم ہے تب اس نے کہا : مجھ سے ایک ہرن قتل ہوگیا ہے اب مجھ پر کیا لازم ہے ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : ایک بکری جو کعبہ لائی جائے (اور پھر اسے ذبح کیا جائے) جیسا کہ ابھی تو نے سنا۔
ابن ابی حاتم، السنن للبیہقی
12712- عن علي أن رجلا سأله عن الهدى مما هو؟ فقال: من الثمانية الأزواج فكأن الرجل شك، فقال: هل تقرأ القرآن؟ قال: نعم قال: سمعت الله يقول: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ أُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ} ، قال: نعم وسمعته يقول: {لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ} ، {وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً1 وفرشا} فكلوا من بهيمة الأنعام، قال: نعم، قال: فسمعته يقول: {مِنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْأِبِلِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ} قال: نعم قال: فسمعته يقول: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ} إلى قوله {هَدْياً بَالِغَ الْكَعْبَةِ} قال الرجل: نعم قال: قتلت ظبيا فماذا علي؟ قال: شاة، قال علي: هديا بالغ الكعبة كما تسمع. "ابن أبي حاتم ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭১৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الھدایا
12713 حضرت علی (رض) سے مروی ہے، مجھے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت سے اونٹ دے کر بھیجا اور ارشاد فرمایا : ان کو جاکر نحر کرو (ذبح کرو) اور ان کا گوشت یا کھالیں قصاب کو اجرت میں ہرگز نہ دینا۔ ابن جریر
12713- عن علي قال: بعثني نبي الله صلى الله عليه وسلم ببدن فقال: انحرها ولا تعط من لحومها ولا جلودها في جزارتها شيئا من أجرة. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭১৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الھدایا
12714 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا کہ میں اونٹوں کا گوشت تقسیم کردوں۔ چنانچہ میں نے تقسیم کردیا۔ پھر حضور نے مجھے فرمایا ان کی کھالیں تقسیم کردوں۔ تو میں نے ان کی کھالیں بھی تقسیم کردیں پھر حضور نے مجھے ان کی زین وغیرہ تقسیم کرنے کا فرمایا سو وہ بھی میں نے تقسیم کردیں۔ ابن جریر
12714- عن علي قال: أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أقسم لحوم البدن فقسمت، فأمرني أن أقسم جلودها فقسمت، فأمرني أن أقسم جلالها فقسمت. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭১৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الھدایا
12715 مالک عن جعفر بن محمد عن ابیہ عن علی بن ابی طالب، حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ اونٹ اپنے دست اقدس سے نحر کیے اور کچھ اونٹ آپ کے سوا اور کسی نے کیے۔ مالک، مسلم
12715- مالك عن جعفر بن محمد عن أبيه عن علي بن أبي طالب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نحر بعض هديه بيده ونحر بعضه غيره
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭১৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الھدایا
12716 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب ہدی (قربانی) کے جانوروں کے ساتھ بھیجا تو یہ بھی حکم دیا کہ میں ان کی کھالوں اور لباسوں کو تقسیم کردوں اور کسی قصاب کو ان میں سے کوئی چیز نہ دوں (بطور اجرت) پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : اور میرے ساتھ نبی کے بھیجے ہوئے سو اونٹ تھے۔ زاھر بن طاھر بن طاھر فی تحفۃ عبدالاضحی
12716- عن علي رضي الله عنه قال: أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم حين بعث معي الهدى أن أتصدق بجلودها وجلالها، ولا أعطى الجازر منها شيئا ومعي مائة بدنة. "زاهر بن طاهر بن طاهر في تحفة عيد الأضحى".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭১৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الھدایا
12717 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو ھدی کا اونٹ مہار تھامے ہوئے پیدل لے کر جاتے ہوئے دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس پر سوار ہوجا۔ آدمی نے عرض کیا کہ یہ بدنہ ہے (قربانی کا جانور ہے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سوار ہوجا۔ مصنف ابن ابی شیبہ
12717- عن أنس قال: رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا يسوق بدنة فقال: اركبها قال: إنها بدنة قال: اركبها. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭১৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الھدایا
12718 عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو ہدی کے اونٹ قربانی کرنے کا حکم دیا نیز فرمایا کہ ان کی زین وغیرہ اور کھالیں بھی تقسیم کردیں اور قصاب کو ان میں سے کوئی چیز (بطور اجرت) نہ دیں۔ ابن جریر
12718- عن عبد الرحمن بن أبي ليلى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر عليا أن ينحر بدنه، وأن يتصدق بأجلتها وجلودها، ولا يعطى الجزار منها شيئا. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭১৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الھدایا
12719 مجزاۃ بن زاھر اپنے والد سے، وہ ناجیۃ بن جندب (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدی (مکہ میں) لانے سے روک دیا گیا تھا۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میرے ساتھ ہدی بھیج دیجئے میں اس کو حرم میں لے جاکر نحر (قربان) کردوں گا۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تو اس کو کیسے لے جائے گا ؟ انھوں نے عرض کیا : میں ایسی وادیوں سے اس کو لے کر جاؤں گا جہاں سے وہ لوگ (مشرکین) اس پر قادر نہ ہوسکیں گے۔ چنانچہ میں اس کو لے کر چلا گیا اور لے جاکر حرم میں نحر (قربان کردیا) ۔ ابونعیم
12719- عن مجزأة بن زاهر عن أبيه عن ناجية بن جندب قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم حين صد عن الهدى، قلت: يا رسول الله ابعث معي الهدى فلأنحره في الحرم قال: وكيف تصنع به؟ قال: أمر به في أودية لا يقدرون عليها، فانطلقت به حتى نحرته في الحرم. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭২০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الھدایا
12720 ناجیۃ بن کعب الخزاعی سے مروی ہے ، فرماتے ہیں میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! جو ہدی کے اونٹ راستے میں تھک کر قریب الہلاکت ہوجائیں میں ان کا کیا کروں ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ان کو نحر کردو پھر اونٹ کے پاؤں اس کے خون سے رنگین کردو پھر لوگوں کو اس کا گوشت کھانے کے لیے چھوڑ دو ۔
مصنف ابن ابی شیبہ، الترمذی، حسن صحیح، ابن حبان حدیث صحیح
مصنف ابن ابی شیبہ، الترمذی، حسن صحیح، ابن حبان حدیث صحیح
12720- عن ناجية بن كعب الخزاعي قلت: يا رسول الله كيف أصنع بما عطب من البدن؟ قال: انحرها، ثم اغمس نعلها في دمها، ثم خل بين الناس وبينها فيأكلوها. "ش ت قال حسن صحيح حب".
তাহকীক: