কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حج اور عمرۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৭০ টি
হাদীস নং: ১২৬৮১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12681 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم قربانی نہ کریں مقابلہ (آگے سے کان کٹے ہوئے) جانور کی، اور نہ مدابرۃ (پیچھے سے کان کٹے ہوئے) جانور کی، اور نہ شرقاء (لمبائی میں چیرے ہوئے کان والے) جانور کی، اور نہ خرقاء (پھٹے ہوئے کان والے) جانور کی اور نہ ہم کانے بھینگے جانور کی قربانی کریں۔ السنن للبیہقی
12681- عن علي قال: أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن لا نضحي بمقابلة ولا مدابرة ولا شرقاء ولا خرقاء وأن لا نضحي بالعوراء. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12682 امام مالک (رح) فرماتے ہیں ان کو یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) فرماتے تھے کہ دو دن (مزید) ہیں یوم الاضحی کے بعد۔ السنن للبیہقی
12682- مالك أنه بلغه أن علي بن أبي طالب كان يقول: الأضحى يومان بعد يوم الأضحى. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12683 ابراہیم سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) حج کرتے تھے پر قربانی نہ کرتے تھے۔ مسدد
12683- عن إبراهيم أن عمر كان يحج فلا يضحي. "مسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12684 عاصر بن شریب سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے قربانی کے دن ایک مینڈھا منگوایا اور یہ پڑھا (اور اس کو ذبح کیا) ۔
بسم اللہ واللہ اکبر، اللھم منک ولک ومن علی منک۔
اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ اے اللہ ! یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے اور علی کی طرف سے ہے (اور) تیری طرف سے ہے۔
پھر آپ (رض) نے ایک طباق منگوایا اور سارا گوشت صدقہ کردیا۔ ابن ابی الدنیا، السنن للبیہقی
بسم اللہ واللہ اکبر، اللھم منک ولک ومن علی منک۔
اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ اے اللہ ! یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے اور علی کی طرف سے ہے (اور) تیری طرف سے ہے۔
پھر آپ (رض) نے ایک طباق منگوایا اور سارا گوشت صدقہ کردیا۔ ابن ابی الدنیا، السنن للبیہقی
12684- عن عاصم بن شريب أن عليا دعا يوم النحر بكبش فقال: بسم الله والله أكبر، اللهم منك ولك ومن علي منك، وقال: ائتني منه بطابق وتصدق بسائره. "ابن أبي الدنيا ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12685 خنش کنائی سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے ذبح کے وقت یہ دعا پڑھی :
وجھت وجھی للذی فطرالسموات والارض حنیفا وما انا من المشرکین، ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین لا شریک لہ وبذلک امرت وانا اول المسلمین،
بسم اللہ واللہ اکبر منک ولک ، اللھم تقبل من فلان
میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے آپ کو اسی ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں (یہ بھی) کہہ دو کہ میری نماز اور میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب خدائے رب العالمین ہی کے لیے ہے۔ جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی بات کا حکم ملا ہے اور میں سب سے اول فرمان بردار ہوں۔
اللہ کے نام یہ قربانی کرتا ہوں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے، اے اللہ یہ قربانی تیری طرف سے ہے، تیرے لیے ہے۔ ، اے اللہ ! اس کو فلاں کی طرف سے شرف قبولیت بخش۔ ابن ابی الدنیا
وجھت وجھی للذی فطرالسموات والارض حنیفا وما انا من المشرکین، ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین لا شریک لہ وبذلک امرت وانا اول المسلمین،
بسم اللہ واللہ اکبر منک ولک ، اللھم تقبل من فلان
میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے آپ کو اسی ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں (یہ بھی) کہہ دو کہ میری نماز اور میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب خدائے رب العالمین ہی کے لیے ہے۔ جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی بات کا حکم ملا ہے اور میں سب سے اول فرمان بردار ہوں۔
اللہ کے نام یہ قربانی کرتا ہوں اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے، اے اللہ یہ قربانی تیری طرف سے ہے، تیرے لیے ہے۔ ، اے اللہ ! اس کو فلاں کی طرف سے شرف قبولیت بخش۔ ابن ابی الدنیا
12685- عن حنش الكناني أن عليا قال حين ذبح: وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين، بسم الله والله أكبر منك ولك، اللهم تقبل من فلان. "ابن أبي الدنيا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12686 حضرت علی (رض) کے متعلق مروی ہے کہ آپ (رض) اپنے سارے گھر والوں کی طرف سے ایک ہی قربانی کیا کرتے تھے۔ ابن ابی الدنیا
12686- عن علي أنه كان يضحي بالأضحية الواحدة عن جماعة أهله. "ابن أبي الدنيا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12687 حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا : ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا ہے کہ ہمیں جو موٹا تازہ جانور ملے اس کی قربانی کریں ۔ گائے (بیل وغیرہ) کو سات افراد کی طرف سے اور اونٹ کو سات افراد کی طرف سے اور ہم تکبیر کو بلند آواز سے کہیں اور سکون ووقار کو اپنا شعار بنائیں۔ ابن ابی الدنیا
12687- عن علي قال: أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نضحي بأسمن ما نجد، والبقرة عن سبع، والجزور عن سبع، وأن نظهر التكبير وعلينا السكينة والوقار. "ابن أبي الدنيا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12688 مجاہد (رح) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو حکم فرمایا کہ وہ اونٹوں کو نحر (ذبح) کریں اور نیز یہ حکم بھی دیا کہ ان کی کھالوں اور ان کے لباس (وغیرہ) کو صدقہ کردیں۔ ابن جریر
12688- عن مجاهد أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر عليا أن ينحر البدن وأمره أن يتصدق بجلودها وجلالها. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৮৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12689 طاؤ وس (رح) سے مروی ہے فرمایا : اس (قربانی کے) دن کے اندر قربانی کے خون بہانے سے بڑھ کر کوئی چیز اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرسکتے سوائے کسی محتاج رشتہ دار سے صلہ رحمی کے (یعنی اس کی اعانت بھی اس دن بڑا ثواب ہے) ۔ ابن زنجویہ
12689- عن طاوس قال: ما أنفق الناس من نفقة أعظم من دم يهراق في هذا اليوم إلا رحما محتاجة يصلها يعني يوم النحر. "ابن زنجويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৯০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12690 کثیرۃ بنت سفیان جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کرنے والوں میں سے تھیں فرماتی ہیں :
میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! جاہلیت کے زمانے میں میں نے اپنی چار بیٹیاں زندہ درگور کی ہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ایسی بکری جس کے بالوں میں سفید دھبے ہوں کیونکہ اللہ کے نزدیک ایسی ایک بکری کی قربانی دو کالی بکریوں کی قربانی سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ ابونعیم
کلام : مذکور روایت کی سند میں محمد بن سلمان بن مسمول ضعیف راوی ہے۔
مجمع الزوائد للبیہقی 18/4
میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! جاہلیت کے زمانے میں میں نے اپنی چار بیٹیاں زندہ درگور کی ہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ایسی بکری جس کے بالوں میں سفید دھبے ہوں کیونکہ اللہ کے نزدیک ایسی ایک بکری کی قربانی دو کالی بکریوں کی قربانی سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ ابونعیم
کلام : مذکور روایت کی سند میں محمد بن سلمان بن مسمول ضعیف راوی ہے۔
مجمع الزوائد للبیہقی 18/4
12690- عن كثيرة بنت سفيان وكانت من المبايعات، قالت: قلت يا رسول الله وأدت أربع بنيات لي في الجاهلية فقال: اعتقي أربع رقاب قالت: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أبرقوا فإن دم عفراء أزكى عند الله من دم سوداوين. "أبو نعيم"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৯১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12691 کلیب سے مروی ہے ہم غزو وں میں ہوتے تھے تو ہم پر امیر صرف اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے کسی کو چنا جاتا تھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ مزینہ کے ایک شہ سوار صحابی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم پر امیر مقرر تھے۔ اس وقت گائے مہنگی ہوگئیں حتیٰ کہ ہم دو یا تین بچھڑوں کے عوض ایک گائے لے پاتے تھے۔ تب یہ صحابی ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا : یہ دن ہم کو پہلے بھی پیش آگیا تھا کہ گائیں کم پڑگئیں تھیں حتیٰ کہ ہم ایک گائے یا دو یا تین بچھڑوں میں خریدتے تھے تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان کھڑے ہوئے تھے اور ارشاد فرمایا تھا : گائے کام دیتی ہے جہاں دو سالہ بچھڑا کام دیتا ہے۔ یعنی دو سال مکمل ہونے والا بچھڑا بھی گائے کی جگہ کافی ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
12691- عن كليب قال: كنا في المغازي لا يؤمر علينا إلا أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان بفارس علينا رجل من مزينة من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، فغلت علينا المسان، حتى كنا نشتري المسن بالجذعتين والثلاث، فقام فينا هذا الرجل فقال: إن هذا اليوم أدركنا فقلت علينا المسان1 حتى كنا نشتري المسن بالجذعتين والثلاث، فقام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إن المسن يوفى بما يوفى منه الثني. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৯২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12692 کلیب ، مزینہ کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سفر میں قربانی کی ۔ مصنف ابن ابی شیبہ
12692- عن كليب عن رجل من مزينة أن النبي صلى الله عليه وسلم ضحى في السفر. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৯৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12693 ابوالاسد سلمی عن ابیہ عن جدہ کی سند سے روایت ہیں، ان کے دادا کہتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ساتواں فرد تھا (یعنی ہم کل سات افراد ایک موقع پر تھے) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو حکم دیا تو ہم میں سے ہر ایک نے ایک ایک درہم جمع کیا اور سات دراہم میں ہم نے ایک قربانی کا جانور خرید لیا۔ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ جانور ہم کو مہنگا پڑا ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
اللہ کے ہاں افضل ترین قربانی کے جانور زیادہ مہنگے اور زیادہ قیمتی ہیں۔
پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سب کو حکم فرمایا تو ایک آدمی نے جانور کا ایک ہاتھ پکڑ لیا ایک آدمی نے دوسرا ہاتھ پکڑ لیا، ایک آدمی نے ایک ٹانگ پکڑ لی اور ایک آدمی نے ایک ٹانگ پکڑلی، ایک آدمی نے ایک سینگ پکڑ لیا اور ایک آدمی نے دوسرا سینگ پکڑ لیا اور ساتویں نے اس کو ذبح کیا جبکہ ہم ساتوں نے مل کر (بیک آواز) اس پر تکبیر کہی۔
بقیہ کہتے ہیں : میں نے حماد بن زید کو پوچھا ساتواں (ذبح کرنے والا) کون تھا ؟ انھوں نے فرمایا : میں نہیں جانتا تو میں نے کہا : وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے۔ ابن عساکر
کلام : روایت محل کلام ہے : الضعیفۃ 1678 ۔
اللہ کے ہاں افضل ترین قربانی کے جانور زیادہ مہنگے اور زیادہ قیمتی ہیں۔
پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سب کو حکم فرمایا تو ایک آدمی نے جانور کا ایک ہاتھ پکڑ لیا ایک آدمی نے دوسرا ہاتھ پکڑ لیا، ایک آدمی نے ایک ٹانگ پکڑ لی اور ایک آدمی نے ایک ٹانگ پکڑلی، ایک آدمی نے ایک سینگ پکڑ لیا اور ایک آدمی نے دوسرا سینگ پکڑ لیا اور ساتویں نے اس کو ذبح کیا جبکہ ہم ساتوں نے مل کر (بیک آواز) اس پر تکبیر کہی۔
بقیہ کہتے ہیں : میں نے حماد بن زید کو پوچھا ساتواں (ذبح کرنے والا) کون تھا ؟ انھوں نے فرمایا : میں نہیں جانتا تو میں نے کہا : وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے۔ ابن عساکر
کلام : روایت محل کلام ہے : الضعیفۃ 1678 ۔
12693- عن أبي الأسد السلمي عن أبيه عن جده قال: كنت سابع سبعة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فأمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فجمع كل واحد منا درهما، فاشترينا أضحية بسبعة دراهم، فقلنا: يا رسول الله لقد أغلينا بها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن أفضل الضحايا عند الله أغلاها وأنفسها فأمر النبي صلى الله عليه وسلم رجلا فأخذ بيد ورجلا بيد ورجلا برجل ورجلا برجل ورجلا بقرن ورجلا بقرن، وذبحها السابع وكبرنا علينا جميعا. قال بقية: فقلت لحماد بن زيد: من السابع؟ قال: لا أدري فقلت: رسول الله صلى الله عليه وسلم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৯৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12694 حضرت ابو ہریرہ (رض) سے مروی ہے فرمایا قربانی کے جانور میں (کچھ کچھ) سفیدی والا جانور مجھے دو کالے جانوروں سے زیادہ محبوب ہے۔ ابن النجار
12694- عن أبي هريرة قال: بيضاء في الأضحى أحب إلي من سوداوين. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৯৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12695 ابوطلحہ (رض) سے مروی ہے فرمایا : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو چتکبرے (کالے سفید دھبوں والے) مینڈھے ذبح فرمائے۔ پہلے کو ذبح کرتے وقت فرمایا : محمد اور آل محمد کی طرف سے اور دوسرے کو ذبح کرتے وقت فرمایا : میری امت کے ہر اس شخص کی طرف سے جو مجھ پر ایمان لایا اور اس نے میری تصدیق کی۔ الکبیر للطبرانی
12695- عن أبي طلحة قال: ضحى النبي صلى الله عليه وسلم بكبشين أملحين فقال عند الأول: عن محمد وآل محمد، وقال عند الثاني: عمن آمن بي وصدقني من أمتي. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৯৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12696 سعید بن عبدالعزیز، یونس بن میسرۃ بن حبلس سے روایت کرتے ہیں، یونس بن میسرۃ کہتے ہیں میں حضرت ابوسعد الرزقی (رض) جو صحابی رسول ہیں کے ساتھ قربانی کا جانور خریدنے گیا۔ انھوں نے ایک کالے سر والے مینڈھے جو اور مینڈھوں میں زیادہ اونچا نہ تھا کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یہ مینڈھا گویا وہی مینڈھا ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذبح فرمایا تھا۔ لہٰذا پھر انھوں نے مجھے اسی کے خریدنے کا حکم دیا تو میں نے اس کو خرید لیا۔ ابن مندہ، ابن عساکر
12696- عن سعيد بن عبد العزيز عن يونس بن ميسرة بن حلبس قال: خرجت مع أبي سعد الزرقي - وكانت له صحبة - إلى شرى الضحايا فأشار إلى كبش أدغم الرأس ليس بأرفع الكباش، فقال: كأنه الكبش الذي ضحى به رسول الله صلى الله عليه وسلم فأمرني فاشتريته قال سعيد: الأدغم الأسود الرأس. "ابن منده كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৯৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12697 ابورافع (رح) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مینڈھا ذبح فرمایا اور پھر ارشاد فرمایا : یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کی طرف سے ہے۔ الکبیر للطبرانی
12697- عن أبي رافع قال: ذبح رسول الله صلى الله عليه وسلم كبشا ثم قال: هذا عني وعن أمتي. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৯৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12698 ابوالدرداء (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دو چتکبرے مینڈھے ہدیہ میں دیئے گئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کی قربانی کی۔ مسند ابی یعلی، ابن عساکر
12698- عن أبي الدرداء قال: أهدي لرسول الله صلى الله عليه وسلم كبشان أملحان جذعان فضحى بهما. "ع كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৯৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12699 حبیب بن مخنف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، مخنف (رض) کہتے ہیں میں عرفہ کے روز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچا تو آپ فرما رہے تھے : کیا جانتے ہو اس کو ؟ پھر مجھے معلوم نہیں لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیا جواب دیا۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہر گھر والوں پر لازم ہے کہ وہ ہر رجب میں ایک بکری ذبح کریں اور ہر یوم الاضحی کو قربانی کریں۔ ابونعیم
12699- عن حبيب بن مخنف عن أبيه قال: انتهيت إلى النبي صلى الله عليه وسلم يوم عرفة وهو يقول: هل تعرفونها فما أدري ما رجعوا إليه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: على كل أهل بيت أن يذبحوا شاة في كل رجب وفي كل أضحى. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৭০০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12700 حضرت ابوسعید خدری (رض) کے متعلق مروی ہے کہ وہ سفر سے واپس تشریف لائے تو ان کے گھر والوں نے ان کی خدمت میں قربانی کے گوشت سے کچھ گوشت پیش کیا۔ حضرت ابوسعید خدری (رض) نے فرمایا : میں جب تک اس کے متعلق پوچھ نہ آؤں اس کو نہیں کھا سکتا۔ چنانچہ وہ اٹھ کر اپنے ماں شریک بھائی حضرت قتادہ بن النعمان (رض) کے پاس گئے، یہ بدری صحابی تھے۔ ان سے اس گوشت کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا : ہاں تمہارے بعد نیا حکم آگیا ہے جس نے اس کو توڑ دیا جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی کے گوشت کو تین دن کے بعد کھانے سے منع فرمایا تھا (لہٰذا تم وہ گوشت کھاسکتے ہو) ۔ ابن عساکر
12700- عن أبي سعيد الخدري أنه قدم من سفر فقدم إليه أهله لحما من لحوم الأضاحي فقال: ما أنا بآكله حتى أسأل فانطلق إلى أخيه لأمه وكان بدريا قتادة بن النعمان، فسأله عن ذلك فقال: إنه قد حدث بعدك أمر نقضا لما كانوا نهوا عنه من أكل لحوم الأضاحي بعد ثلاثة أيام. "كر".
তাহকীক: