কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩০১১ টি

হাদীস নং: ৪১৭০৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کے شروع میں بسم اللہ پڑھنابھول جائے
٤١٦٩٥۔۔۔ (ازمسندجابربن عبداللہ) سفیان ثوری، ابن المنکدر سے وہ حضرت جابر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دودھ نوش فرمایا اور کلی کی اور فرمایا اس کی چکنا ہٹ ہوتی ہے۔ رواہ ابن عساکر
41695- من مسند جابر بن عبد الله سفيان الثوري عن ابن المنكدر عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم شرب لبنا فمضمض وقال: "إن له دسما"."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭০৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کے شروع میں بسم اللہ پڑھنابھول جائے
٤١٦٩٦۔۔۔ (ازمسندجعفر بن ابی الحکم) عبدالحکم بن صہیب سے روایت ہے کہ جعفر بن ابی الحکم نے مجھے دیکھا اور میں ادھرادھر سے کھارہا تھا تو فرمایا : ارے ! بھتیجے اس طرح شیطان کھاتا ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کھانا کھاتے تھے تو اپنے ہاتھ کو اپنے سامنے پھیرتے نہ تھے۔ ابونعیم
41696- من مسند جعفر بن أبي الحكم عن عبد الحكم ابن صهيب قال: رآني جعفر بن أبي - الحكم وأنا آكل من ههنا ومن ههنا فقال: مه يا ابن أخي! هكذا يأكل الشيطان، إن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا أكل لم تعد يده بين يديه."أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭১০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کے شروع میں بسم اللہ پڑھنابھول جائے
٤١٦٩٧۔۔۔ (مسندعلی) ابن اعبد سے روایت ہے فرماتے ہیں حضرت علی (رض) نے فرمایا : ابن اعبد ! پتہ ہے کہ کھانے کا کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کی کیا حق ہے ؟ فرمایا : تم بسم اللہ کہو اور کہواے اللہ ! جو کچھ نے تو نے ہمیں دیا اس میں برکت دے پھر فرمایا : جب کھانے سے فارغ ہوجاؤ تو اس کا شکر کیا ہے ؟ میں نے کہا : اس کا شکر کیا ہے ؟ فرمایا : تم کہو : الحمد للہ الذی اطعمنا وسقانا، ابن ابی شیبۃ، ابن ابی الدنیا فی الذعاء حلیۃ الاولیاء ابن حبان

کھانا اپنے سامنے سے کھائے
41697- مسند علي عن ابن أعبد قال قال علي: يا ابن أعبد! هل تدري ما حق الطعام؟ قلت: وما حقه؟ قال: تقول "بسم الله، اللهم! بارك لنا فيما رزقتنا"؛ ثم قال أتدري ما شكره إذا فرغت؟ قلت: وما شكره؟ قال: تقول "الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا"."ش وابن أبي الدنيا في الدعاء، حل، حب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭১১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کے شروع میں بسم اللہ پڑھنابھول جائے
٤١٦٩٨۔۔۔ عمروبن ابی سلمۃ سے روایت ہے فرمایا : ایک دن میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھانا کھایا تو میں برتن کے کناروں سے گوشت اٹھانے لگا آپ نے فرمایا : اپنے سامنے سے کھاؤ۔ رواہ ابن النجار
41698- عن عمرو بن أبي سلمة قال: أكلت يوما مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعلت آخذ من لحم حول الصحفة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"كل مما يليك"."ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭১২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کے شروع میں بسم اللہ پڑھنابھول جائے
٤١٦٩٩۔۔۔ (مسندعمروبن مرہ الجہی) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کھانے سے فارغ ہوتے تو فرماتے : تمام تعریفین اللہ کے لیے جس نے ہم پر احسان کرکے ہمیں ہدایت دی تمام تعریفیں اللہ کے لیے جس نے ہمیں سیر اور سیراب کیا اور ہمیں ہر اچھی آزمائش میں آزمایا۔ رواہ ابن شیبۃ
41699- مسند عمرو بن مرة الجهني كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا فرغ من طعام قال: "الحمد لله الذي من علينا فهدانا، والحمد لله الذي أشبعنا وأروانا، وكل بلاء حسن - أو: صالح - أبلانا"."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭১৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کے شروع میں بسم اللہ پڑھنابھول جائے
٤١٧٠٠۔۔۔ حضرت حذیفۃ (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے اچانک ایک برتن لایا گیا اور رکھ دیا گیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے اپنا ہاتھ کھینچ لیاتو ہم نے بھی اپنے ہاتھ پیچھے کرلئے اور ہماری عادت تھی جب تک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھاناشروع نہ کرتے ہم شروع نہ کرتے تھے اتنے میں ایک اعرابی آیا گویا اسے دھکیلاجارہا ہے اسے اشارہ کیا گیا کہ وہ اس سے کھائے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ پکڑلیا، اتنے میں ایک بچی آئی گویا اسے دھکیلاجارہا ہے وہ گئی تاکہ کھاناشروع کرے تو آپ نے اس کا ہاتھ بھی روک لیا پھر فرمایا : شیطان ان لوگوں کا کھاناحلال سمجھ لیتا ہے جو کھانے پر اللہ کا نام نہیں لیتے، جب اس نے دیکھا کہ ہم کھانے سے ہاتھ روکے ہوئے ہیں تو وہ ہمارے پاس اس کھانے کو اس طرح حلال کرلے اس ذات کی قسم جس کے سوا دعاوعبادت کے لائق کوئی معبود نہیں اس کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے۔ بزار
41700- عن حذيفة قال: بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ أتى بجفنة فوضعت، فكف عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم يده وكففنا أيدينا، وكنا لا نضع أيدينا حتى يضع يده، فجاء أعرابي كأنه يطرد فأومى إلى الجفنة ليأكل منها، فأخذ النبي صلى الله عليه وسلم بيده، فجاءت جارية كأنها تدفع فذهبت لتضع يدها في الطعام، فأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدها، ثم قال: "إن الشيطان يستحل طعام القوم إذا لم يذكر اسم الله عليه، وإنه لما رآنا كففنا عنها جاءنا ليستحل به، فوالذي لا إله إلا هو، إن يده في يدي مع يدهما"."ز".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭১৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کے شروع میں بسم اللہ پڑھنابھول جائے
٤١٧٠١۔۔۔ (مسندالحکم بن رافع بن بنان) جعفر بن عبداللہ بن الحکم بن رافع سے روایت ہے فرمایا : مجھے حکم نے دیکھا میں اس وقت لڑکا تھا برتن میں سے ادھرادھر سے کھانے لگا : تو انھوں نے مجھے کہا (رح) : لڑکے اس طرح نہ کھا اس طریقہ سے شیطان کھاتا ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کھاناتناول فرماتے تو آپ کی انگلیاں آپ کے سامنے گردش نہیں کرتی تھیں۔ ابونعیم
41701- مسند الحكم بن رافع بن سنان عن جعفر بن عبد الله بن الحكم بن رافع قال: رآني الحكم وأنا غلام آكل من ههنا وههنا، فقال لي: يا غلام! لا تأكل هكذا كما يأكل الشيطان، إن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا أكل لم تعد أصابعه بين يديه."أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭১৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کے شروع میں بسم اللہ پڑھنابھول جائے
٤١٧٠٢۔۔۔ (ازمسندحمزہ بن عمروالاسلمی) میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھانا کھایا آپ نے فرمایا : دائیں ہاتھ سے اور اپنے سامنے سے بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ۔ طبرانی فی الکبیر وابو نعیم من طریق منجاب بن الحارث بن شریک بن ہشام بن عروۃ عن ابیہ عن حمزۃ بن عمرو الاسلمی قال : منجاب : ھذاخطاء اخطاء فیہ شریک بن ہشام، انا بہ علی بن مسھر عن ہشام بن عروۃ عن عمرو بن ابی سلمۃ
41702- من مسند حمزة بن عمرو الأسلمي أكلت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم طعاما فقال: "كل بيمينك، وكل مما يليك، واذكر اسم الله"."طب وأبو نعيم من طريق منجاب بن الحارث عن شريك بن هشام بن عروة عن أبيه عن حمزة بن عمرو الأسلمي؛ قال منجاب: هذا خطأ أخطأ فيه شريك بن هشام، أنا به علي بن مسهر عن هشام بن عروة عن أبيه عن عمرو بن أبي سلمة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭১৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کے شروع میں بسم اللہ پڑھنابھول جائے
٤١٧٠٣۔۔۔ واثلۃ (رض) سے روایت ہے فرمایا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر فتح کیا تو میں نے ان کے لیے کھانا تیار کیا تو آپ نے ٹیک لگا کر گردن جھکا کر کھانا کھایا اور آپ کو دھوپ لگی تو آپ نے اپنے اوپر سائبان کرلیا۔ رواہ ابن عساکر
41703- عن واثلة قال لما فتح رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر جعلت له مائدة فأكل متكئا وأطلى، وأصابته الشمس ولبس الظلة."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭১৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کے شروع میں بسم اللہ پڑھنابھول جائے
٤١٧٠٤۔۔۔ عبداللہ بن بسر سے روایت ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابی کے پاس آئے اور ان کے پاس ٹھہرے وہ آپ کے پاس ستوکا کھانا اور حلوہ لائے آپ نے کھایا پھر وہ آپ کے پاس پانی لائے تو آپ نے پانی پیا پھر باقی ماندہ اس شخص نے لیاجو آپ کی دائیں جانب تھا اور آپ جب کھجوریں کھاتے تو گٹھلیاں اس طرح رکھتے۔ حضرت عبداللہ نے اپنی انگلی سے اس کی پشت کی طرف اشارہ کیا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری پر سوار ہوئے تو حضرت ابی نے آپ کے خچر کی لگام پکڑ کر عرض کی یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ کے حضور ہمارے لیے دعافرمائیے ! آپ نے فرمایا : اے اللہ جو کچھ تو نے انھیں عطا کیا ہے اس میں برکت دے ان کی بخشش فرما اور ان پر رحم فرما۔ ابن ابی شیبۃ و ابونعیم
41704- عن عبد الله بن بسر قال: جاء النبي صلى الله عليه وسلم إلى أبي فنزل فأتاه بطعام سويق وحيس فأكل، وأتاه بشراب فشرب، فتناول من عن يمينه، وكان إذا أكل تمرا ألقى النوى هكذا - وأشار باصبعه على ظهرها، فلما ركب النبي صلى الله عليه وسلم قام أبي فأخذ بلجام بغلته فقال: يا رسول الله! ادع الله لنا، فقال: "اللهم! بارك لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم"."ش وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭১৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کے شروع میں بسم اللہ پڑھنابھول جائے
٤١٧٠٥۔۔۔ عبداللہ بن بسر سے روایت ہے فرمایا : حضرت ابی نے میری والدہ سے کہا : اگر آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کھانا بنادیتیں تو انھوں نے ثرید بنائی ابی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلانے گئے جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے تو آپ نے اس کے بلند حصہ پر اپنا ہاتھ رکھا اور فرمایا : بسم اللہ شروع کرو تو وہ لوگ اس کے کناروں سے کھانے لگے جب کھاچکے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ان کی بخشش فرماان پر رحم فرماان کے رزق میں برکت دے ۔ رواہ ابن عساکر
41705- عن عبد الله بن بسر قال قال أبي لأمي: لو صنعت طعاما لرسول الله صلى الله عليه وسلم! فصنعت ثريدة، فانطلق أبي فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فوضع النبي صلى الله عليه وسلم يده على ذروتها وقال: "خذوا بسم الله"! فأخذوا من نواحيها، فلما طعموا قال النبي صلى الله عليه وسلم: "اللهم اغفر لهم وارحمهم وبارك لهم في رزقهم"."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭১৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کے شروع میں بسم اللہ پڑھنابھول جائے
٤١٧٠٦۔۔۔ عبداللہ بن بسر سے روایت ہے فرمایا : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دیگر لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانے لگا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بچے ! اللہ کا نام لے، دائیں ہاتھ سے اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔ رواہ ابن عساکر
41706- عن عبد الله بن بسر قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم وجلست آكل معهم: "يا بني! اذكر الله وكل بيمينك وكل مما يليك"."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭২০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کے شروع میں بسم اللہ پڑھنابھول جائے
٤١٧٠٧۔۔۔ عبداللہ بن بسر سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کسی نے بکری کا گوشت بدیہ کیا اس وقت کھاناکم ہوتا تھا آپ نے اپنے گھروالوں سے فرمایا : اس بکری کو پکاؤ اور اس آٹے کو دیکھو روٹیاں اس سے پکانا اور اس گوشت کی ثرید بنالینا۔ فرماتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک بڑا پیالہ تھا جسے، غرائ، کہا جاتا تھا جسے چار آدمی اٹھاتے تھے جب صبح ہوئی اور آپ نے چاشت کی نماز پڑھ لی تو اس برتن کو لایا گیا لوگ اس کے آس پاس جمع ہوگئے جب لوگوں کی تعداد بڑھ گئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھٹنے بچھاکربیٹھ گئے تو ایک دیہاتی شخص بولا : یہ کیسی نشست ہے ! تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے شریف انسان بنایا ہے متکبر اور دشمنی کرنے والا نہیں بنایا، پھر فرمایا : اس کے کناروں سے کھاؤ اس کی اونچائی چھوڑدو اس میں اللہ تعالیٰ برکت دے گا اس کے بعد فرمایا : کھاؤ شروع کرو اللہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے ! تمہارے لیے روم وفارس کی زمین ضرور فتح ہوگی اور کھانا بکثرت ہوجائے گا لیکن افسوس اس پر اللہ تعالیٰ کا نام غفلت سے نہ لیا جائے گا۔ ابوبکر فی الغیلانیات ابن عساکر
41707- عن عبد الله بن بسر قال: أهديت للنبي صلى الله عليه وسلم شاة والطعام يومئذ قليل فقال لأهله: "أطبخوا هذه الشاة وانظروا إلى هذا الدقيق فاخبزوه واطبخوا واثردوا عليه"، قال: وكانت للنبي صلى الله عليه وسلم قصعة يقال لها "الغراء" يحملها أربعة رجال، فلما أصبح وسبح الضحى أتى بتلك القصعة والتفوا عليها، فإذا كثر الناس جثا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أعرابي: ما هذه الجلسة! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "إن الله جعلني عبدا كريما ولم يجعلني جبارا عنيدا"، ثم قال: "كلوا من حواشيها ودعوا ذروتها يبارك الله فيها، ثم قال: خذوا فكلوا فوالذي نفس محمد بيده! لتفتحن عليكم أرض فارس والروم حتى يكثر الطعام ولا يذكر اسم الله عليه"."أبو بكر في الغيلانيات، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭২১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کے شروع میں بسم اللہ پڑھنابھول جائے
٤١٧٠٨۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چھ آدمیوں کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے اتنے میں ایک اعرابی آیا اور اس نے ان کے سامنے سے دولقمے کھائے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر یہ شخص اللہ تعالیٰ کا نام لے لیتا تو یہ کافی ہوجاتا جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اللہ تعالیٰ کا نام لے اگر بھول جائے جب یاد آئے تو کہے بسم اللہ اولہ واخرہ۔ رواہ ابن النجار
41708- عن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكل طعاما في ستة رهط إذ دخل أعرابي فأكل ما بين أيديهم بلقمتين، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لو كان ذكر اسم الله لكفاهم، فإذا أكل أحدكم طعاما فليذكر اسم الله تعالى، فإن نسي ثم ذكر فليقل: بسم الله أوله وآخره"."ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭২২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی مباح کیفیتیں
٤١٧٠٩۔۔۔ مسندابی السائب خباب، عبداللہ بن السائب بن خباب اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چارپائی پر ٹیک لگاکر ثرید کھاتے دیکھا پھر مٹی کے برتن سے پانی پیتے تھے۔ ابونعیم وقال وھو وھم الصواب ابن عبداللہ بن السائب عن ابیہ عن جدہ
41709- مسند أبي السائب بن خباب عن عبد الله بن السائب بن خباب عن أبيه عن جده قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يأكل ثريدا متكئا على سرير ثم يشرب من فخارة."أبو نعيم وقال: هو وهم، والصواب: ابن عبد الله بن السائب عن أبيه عن جده".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭২৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی مباح کیفیتیں
٤١٧١٠۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں کبھی کبھار چلتے کھالیتے اور کھڑے ہو کرپی لیتے تھے۔ رواہ ابن جریر

کھانے کے بعد کیا کہا جائے
41710- عن ابن عمر قال: كنا على عهد النبي صلى الله عليه وسلم نأكل ونحن نمشي ونشرب ونحن قيام."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭২৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی مباح کیفیتیں
٤١٧١١۔۔۔ حارث بن حارث غامدی (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں نے رسول اللہ کو کھانے سے فراغت کے بعد فرماتے سنا : اے اللہ ! تیرے لیے سب تعریفیں ہیں تو نے ہمیں کھلایاپلایا، سیر اور سیراب کیا تیرے لیے ہی تعریف ہے جس میں نہ ناشکری ہے نہ رخصت اور نہ ہمارے رب تجھ سے بےاحتیاطی ہے۔ طبرانی فی الکبیر و ابونعیم
41711- عن الحارث بن الحارث الغامدي قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول عند فراغه من طعامه: "اللهم! لك الحمد أطعمت وأسقيت وأشبعت وأرويت، لك الحمد غير مكفور ولا مودع ولا مستغنى عنك ربنا"."طب وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭২৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی ممنوع چیزیں
٤١٧١٢۔۔۔ حمیدبن ہلال سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمربن الخطاب (رض) نے گوشت اور گھی کو اکٹھے کھانے سے منع فرمایا ہے۔ ابن السنی فی کتاب الاخوۃ
41712- عن حميد بن هلال قال: نهى عمر بن الخطاب عن اللحم والسمن أن يجمع بينهما."ابن السني في كتاب الاخوة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭২৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی ممنوع چیزیں
٤١٧١٣۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : پیٹ بھرکرکھانے پینے سے پرہیز کرنا کیونکہ اس سے جسم خراب ہوجاتا ہے بیماریاں جنم لیتی ہیں نماز میں سستی پیدا ہوتی ہے ان دونوں میں میانہ روی اختیار کرو کیونکہ اس سے جسم درست رہتا فضول خرچی سے دور رکھتی ہے اللہ تعالیٰ کو لحیم شحیم آدی سے نفرت ہے آدمی اسی وقت ہلاکت میں پڑتا ہے جب اپنی خواہش کو اپنے دین پر غالب کردیتا ہے۔ ابونعیم
41713- عن عمر قال: إياكم والبطنة في الطعام والشراب! فإنها مفسدة للجسد، مورثة للسقم، مكسلة عن الصلاة؛ وعليكم بالقصد فيهما! فإنه أصلح للجسد، وأبعد من السرف؛ وإن الله تعالى ليبغض الحبر السمين، وإن الرجل لن يهلك حتى يؤثر شهوته على دينه."أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭২৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی ممنوع چیزیں
٤١٧١٤۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا اور میں نے ایک دن میں دو مرتبہ کھانا کھایا آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ تمہارا مشغلہ صرف تمہارا پیٹ ہو، دن میں دو مرتبہ کھانا اسراف ہے اور اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ رواہ الدیلمی
41714- عن عائشة قالت: رآني رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد أكلت في يوم مرتين فقال: "يا عائشة! أما تحبين أن يكون لك شغل إلا في جوفك! الأكل في اليوم مرتين من الإسراف، والله لا يحب المسرفين"."الديلمي".
tahqiq

তাহকীক: