কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০১১ টি
হাদীস নং: ৪৬৩২৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غارثور میں دشمن کو نظر نہ آنا
46317 حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر (رض) کے ساتھ ہجرت کے لیے روانہ ہوئے تو ابوبکر (رض) اپنے ساتھ اپنا سارا مال جو پانچ ہزار درہم تھا لیتے گئے ان کے چلے جانے کے بعد میرے دادا ابوقحافہ گھر میں داخل ہوئے ان کی بصارت ختم ہوچکی تھی کہنے لگے : بخدا ! میں سمجھتا ہوں ابوبکر نے تمہیں اپنی جان کے ساتھ ساتھ اپنے مال سے بھی تکلیف پہنچائی ہے میں نے کہا : اے دادا جان ! ہرگز نہیں وہ بہت سارا مال ہمارے لیے چھوڑ کر گئے ہیں چنانچہ میں نے کچھ کنکریاں لیں اور گھر میں اس جگہ ڈال دیں جہاں میرے والد مال رکھتے تھے، پھر میں نے کنکریوں پر ایک کپڑا ڈال دیا۔ اور دادا کا ہاتھ پکڑ کرلے آئی اور کہا : دادا جان اس مال پر اپنا ہاتھ رکھیں، دادا مال رکھتے تھے، پھر میں نے کنکریوں پر ایک کپڑا ڈال دیا۔ اور دادا کا ہاتھ پکڑ کرلے آئی اور کہا : دادا جان اس مال پر اپنا ہاتھ رکھیں ، دادا نے اپنا ہاتھ رکھا اور کہا : کوئی حرج نہیں جب تمہارے لیے اتنا مال چھوڑ گیا ہے تو اس نے بہت اچھا کیا، اس سے تمہارا اچھا خاصا گزارا چل جائے گا۔ حضرت اسماء کہتی ہیں اللہ کی قسم ! ابوبکر ہمارے لیے کوئی چیز نہیں چھوڑ کر گئے تھے لیکن میں نے اس بوڑھے کو خاموش کرنا چاہا۔ چنانچہ جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) جاچکے تو قریش کی ایک جماعت ہمارے پاس آئی جن میں ابوجہل بھی تھا، وہ دروازے پر آیا اور ابوبکر ! ابوبکر پکارنے لگا۔ میں نے ان کی طرف گھر سے باہر نکلی ان لوگوں نے مجھ سے پوچھا : اے دختر ابی بکر تمہارا بات کہاں ہے ؟ میں نے جواب دیا : اللہ کی قسم مجھے پتا نہیں کہ وہ کہاں چلے گئے ہیں ابوجہل فاحش مزاج اور خبیث سرشت انسان تھا اس نے جو اپنا ہاتھ اٹھایا تو مجھے ایک تھپڑ دے مارا جس سے میری بالی وہ جالگی۔ پھر وہ لوگ واپس لوٹ گئے تین دن ہم نے بیخبری کے عالم میں گزارے ہمیں نہیں پتہ تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہاں لے گئے حتیٰ کہ مکہ کے نشیبی حصہ میں کسی جن کی آواز سنائی دی جو عربوں کی لے میں اشعار گنگنارہا تھا جب کہ لوگ آواز سن سکتے تھے مگر آواز والے کو نہیں دیکھ سکتے تھے حتیٰ کہ آواز والا مکہ کے اوپر والے حصہ سے کہیں غائب ہوگیا۔ چند اشعار یہ ہیں :
جزی اللہ رب الناس خیر جزاہ
رفیقین حلا خیمتی ام معبد
اللہ تعالیٰ جو کہ سب لوگوں کا پروردگار ہے دوررفیقوں کو جزائے خیر عطا فرمائے جو ام معبد کے خیمہ میں اترے۔
ھما نزلا بالبر ثم تروحا
فافلح من اسمی رفیق محمد
وہ دونوں خشکی میں اترے پھر کوچ کر گئے اور جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رفیق سفر ہوا وہ کامیاب ہوگیا۔
لیھن بنی کعب مکان فتاتھم
ومقعدھا للمومنین بمر صد
مبارک ہو بنی کعب کو ان کی عورتوں کا مقام اور اہل ایمان کو ان کے مقام کا ٹھکانا ہے۔
رواہ ابن اسحاق
جزی اللہ رب الناس خیر جزاہ
رفیقین حلا خیمتی ام معبد
اللہ تعالیٰ جو کہ سب لوگوں کا پروردگار ہے دوررفیقوں کو جزائے خیر عطا فرمائے جو ام معبد کے خیمہ میں اترے۔
ھما نزلا بالبر ثم تروحا
فافلح من اسمی رفیق محمد
وہ دونوں خشکی میں اترے پھر کوچ کر گئے اور جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رفیق سفر ہوا وہ کامیاب ہوگیا۔
لیھن بنی کعب مکان فتاتھم
ومقعدھا للمومنین بمر صد
مبارک ہو بنی کعب کو ان کی عورتوں کا مقام اور اہل ایمان کو ان کے مقام کا ٹھکانا ہے۔
رواہ ابن اسحاق
46317- عن أسماء بنت أبي بكر قالت: لما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وخرج معه أبو بكر احتمل أبو بكر ماله كله خمسة آلاف درهم، فانطلق بها معه، فدخل جدي أبو قحافة وقد ذهب بصره فقال: والله إني لأراكم قد فجعتم بماله مع نفسه، قلت: كلا يا أبت! إنه قد ترك خيرا كثيرا، فأخذت أحجارا فوضعتها في كوة من البيت التي كان أبي يضع ماله فيها، ثم وضعت عليها ثوبا، ثم أخذت بيده فقلت: يا أبت! ضع يدك على هذا المال، فوضع يده عليه، وقال: لا بأس، إذا ترك لكم هذا فقد أحسن، وفي هذا بلاغ لكم؛ لا والله ما ترك لنا شيئا ولكن أردت أن أسكت الشيخ بذلك، قالت: فلما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر أتانا نفر من قريش فيهم أبو جهل فوقف على باب أبو بكر، فخرجت إليهم فقالوا: أين أبوك يا ابنة أبي بكر؟ قلت: لا أدري والله أين أبي، فرفع أبو جهل يده، وكان فاحشا خبيثا فلطم خدي لطمة طرح منها قرطي، ثم انصرفوا، فمكثنا ثلاث ليال، ما ندري أين وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى أقبل رجل من الجن من أسفل مكة يتغنى بأبيات من شعر غناء العرب وإن الناس ليتبعونه، يسمعون صوته ولا يرونه حتى خرج من أعلى مكة:
جزى الله رب الناس خير جزائه ... رفيقين حلا خيمتي أم معبد
هما نزلا بالبر ثم تروحا ... فأفلح من أمسى رفيق محمد
ليهن بني كعب مكان فتاتهم ... ومقعدها للمؤمنين بمرصد "ابن إسحاق".
جزى الله رب الناس خير جزائه ... رفيقين حلا خيمتي أم معبد
هما نزلا بالبر ثم تروحا ... فأفلح من أمسى رفيق محمد
ليهن بني كعب مكان فتاتهم ... ومقعدها للمؤمنين بمرصد "ابن إسحاق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩৩০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غارثور میں دشمن کو نظر نہ آنا
46318 حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن میں دوپہر کے وقت دیوار کے سائے تلے کھیل رہی تھی میں ابھی چھوٹی لڑکی تھی۔ اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے میں بھاگ کر اپنے والد صاحب کے پاس گئی اور کہا : یہ میرے چچا ہیں جو آچکے ہیں۔ میرے والد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف نکلے اور خوش آمدید کہا، آپ نے فرمایا : اے ابوبکر ! کیا مجھے خبر نہیں دو گے کہ میں اللہ تعالیٰ سے یہاں سے نکل جانے کی اجازت طلب کرتا رہا ہوں ؟ عرض کیا : جی ہاں۔ آپ نے فرمایا : لو مجھے اجازت مل گئی ہے حضرت ابوبکر نے کہا : آہا پھر تو مزیدار صحبت ہوگی۔ میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں جنہیں میں چھ ماہ سے چارا کھلاتا رہا ہوں ایک آپ لے لیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلکہ میں خریدوں گا چنانچہ آپ نے اونٹنی خریدی اور پھر دونوں گھر سے نکل گئے دونوں حضرات نے غار میں پڑاؤ کیا جب کہ عامر بن فھیرہ مولائے ابی بکر بکریاں چرایا کرتا تھا شام کے وقت وہ ان کے پاس دودھ اور گوشت لے کر حاضر ہوجاتا جب کہ عبداللہ بن ابی بکر بھی مکہ والوں کی خبریں لے کر ان کے پاس جاتے رہتے پھر واپس لوٹ آتے اور صبح کو مکہ سے اٹھتے، لوگ یہی سمجھتے کہ عبداللہ نے یہیں رات گزاری ہے۔ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا حتیٰ کہ رسول اللہ وہاں سے کوچ کر گئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی اونٹنی پر سوار رہتے جب کہ عامر بن فہیرہ ابوبکر (رض) کے ساتھ چلتے اور کبھی ابوبکر انھیں اپنے پاس بٹھالیتے حضرت اسمائ (رض) کہا کرتی تھیں جب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کے لیے زادراہ تیار کرتی تو ابو قحافہ روٹی پکنے کی بوسونگھتے، پوچھتے یہ کیسی بو ہے میں کہہ دیتی۔ کچھ نہیں : میں روٹی پکارہی ہوں تاکہ اسے ہم کھائیں۔ پھر میں نے زادراہ باندھنے کے لیے کوئی رسی نہ پائی میں نے اپنے کمربند کی رسی کھولی اور اس سے زادراہ باندھا (اسی وجہ سے حضرت سمائ (رض) کو ذات النطا قین کا لقب دیا گیا ہے) چنانچہ جب ابوبکر جاچکے تو ابوقحافہ نے انھیں تلاش کرنا شروع کردیا اور کہتے ابوبکر چلا گیا اور اپنے عیال کا بوجھ مجھ پر ڈالتا گیا۔ شاید مال بھی اپنے ساتھ لیتا چلا گیا ہے ابوقحافہ نابینا ہوچکے تھے میں نے کہا : ایسا نہیں، میں نے ابوقحافہ کا ہاتھ پکڑا اور ایک تھلے کے اس لے گئے جس میں پنیر کے کچھ ٹکڑے تھے ابوقحافہ نے اس پر ہاتھ پھیرا اور میں نے کہا : یہ رہا ابوبکر کا مال۔ رواہ البغوی وقال ابن کثیر حسن الاسناد
46318- عن عائشة قالت: بينا أنا ألعب في ظهيرة في ظل جدار وأنا جارية جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فاشتددت إلى أبي فقلت: هذا عمي قد جاء! فخرج إليه فرحب برسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: يا أبا بكر! ألم ترني كنت استأذن الله في الخروج؟ قال أجل، قال: فقد أذن لي، قال: أبو بكر: الصحابة! قال الصحابة، قال أبو بكر: إن عندي راحلتين قد علفتهما من ستة أشهر لهذا فخذ أحدهما، فقال: بل أشتريها، فاشتراها منه، فخرجا، فكانا في الغار، وكان عامر بن فهيرة مولى أبي بكر يرعى غنما لأبي بكر، فكان يأتيهما إذا أمسيا باللبن واللحم، وكان عبد الله بن أبي بكر يسمى إليهما فيأتيهما بما يكون بمكة من خبرهم، ثم يرجع فيصبح بمكة، فلا يرون إلا أنه بات معهم، فكان ذلك حتى سار رسول الله صلى الله عليه وسلم، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم على راحلته وعامر بن فهيرة يمشي مع أبي بكر مرة وربما أردفه، وكانت أسماء تقول: لما صنعت لرسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي سفرتهما وجد أبو قحافة ريح الخبز فقال: ما هذا؟ لأي شيء هذا؟ فقلت: لا شيء، هذا خبز عملناه نأكله، ثم إني لم أجد حبلا للسفرة، فنزعت حبل منطقي وربطت السفرة، فلذلك سميت ذات النطاقين، فلما خرج أبو بكر جعل أبو قحافة يلتمسه ويقول: أقد فعلها! خرج وترك عياله علي! ولعله قد ذهب بماله! وكان قد عمى، فقلت: لا، فأخذت بيده فذهبت به إلى جلد فيه أقط فمسه، فقلت: هذا ماله. "البغوي، قال ابن كثير: حسن الإسناد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩৩১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غارثور میں دشمن کو نظر نہ آنا
46319 ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ اہل مدینہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہتے تھے : مدینہ میں رشد و ہدایت کے ساتھ داخل ہوجائیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں داخل ہوئے تو لوگ راستوں اور گلیوں میں نکل آئے آپ جن لوگوں کے پاس سے بھی گزرتے وہ کہتے : یارسول اللہ ! ہمارے یہاں قیام کریں رسول اللہ فرماتے : اسے (یعنی اونٹنی کو) چھوڑ دو اسے اللہ کی طرف سے حکم ملا ہوا ہے۔ حتیٰ کہ اونٹنی حضرت ابوایوب انصاری (رض) کے دروازے پر جابیٹھی۔
رواہ ابن عدی وابن عساکر
رواہ ابن عدی وابن عساکر
46319- عن ابن عمر قال قال أهل المدينة لرسول الله صلى الله عليه وسلم: ادخل المدينة راشدا مهديا، فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة فخرج الناس فجعلوا ينظرون إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، كلما مر على قوم قالوا: يا رسول الله! ههنا! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "دعوها فإنها مأمورة - يعني ناقته - حتى بركت على باب أبي أيوب الأنصاري. "عد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩৩২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غارثور میں دشمن کو نظر نہ آنا
46320 ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ اس امت میں سب سے پہلے قریش کے دو لڑکوں نے ہجرت کی ہے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
46320- عن ابن مسعود قال: إن أول من هاجر من هذه الأمة غلامان من قريش. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩৩৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غارثور میں دشمن کو نظر نہ آنا
46321 ابن ہشام نے سیرت میں نقل کیا ہے مجھے بعض اہل علم نے حدیث سنائی ہے کہ حسن ابن ابی الحسن کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کے وقت غار میں پہنچے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے ابوبکر (رض) غار میں داخل ہوئے اور اندر سے اچھی طرح معائنہ کیا کہ کوئی درندہ نہ ہو یا کوئی سانپ نہ ہو اتنی دیر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر کھڑے رہے۔
46321- ابن هشام في السيرة: حدثني بعض أهل العلم أن الحسن بن أبي الحسن قال: انتهى رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الغار ليلا، فدخل أبو بكر قبل رسول الله صلى الله عليه وسلم فلمس الغار لينظر أفيه سبعا أو حية يقي رسول الله صلى الله عليه وسلم بنفسه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩৩৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن ابی بکرکا غار ثور میں کھانا لانا
46322 عروہ کی روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی بکر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کے پاس کھانا لاتے تھے جب کہ یہ دونوں حضرات غار میں تھے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
46322- عن عروة أن عبد الله بن أبي بكر كان الذي يختلف بالطعام إلى النبي صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وهما في الغار. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩৩৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن ابی بکرکا غار ثور میں کھانا لانا
46323 حضرت عروہ (رض) کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) اور عامر بن فہیرہ (رض) کے ساتھ ہجرت مدینہ کی تو راستے میں حضرت طلحہ (رض) کا ہدیہ ابوبکر (رض) کو ملا جس میں کچھ کپڑے اور انڈے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) مدینہ میں داخل ہوگئے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
46323- عن عروة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما هاجر إلى المدينة هو وأبو بكر وعامر بن فهيرة استقبلتهم هدية طلحة إلى أبي بكر في الطريق فيها ثياب بيض، فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر المدينة. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩৩৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن ابی بکرکا غار ثور میں کھانا لانا
46324 حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت مدین کی تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے بعد یہیں مکہ میں مقیم رہوں حتیٰ کہ لوگوں کی جو امانتیں آپ کے پاس تھیں وہ ادا کردوں۔ چنانچہ آپ کو امین کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ میں نے آپ کے بعد تین دن قیام کیا اور سرعام گھومتا پھرتا تھا۔ میں ایک دن بھی روپوش نہیں ہوا ہوں پھر میں بھی رسول اللہ کے پیچھے چل پڑا حتیٰ کہ بنی عمروبن عوف کے پاس جا اترا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقیم ہوچکے تھے میں کلثوم بن الھدم کے پاس اترا اور یہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیام کئے ہوئے تھے۔ رواہ ابن سعد
46324- عن علي قال: لما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى المدينة في الهجرة أمرني أن أقيم بعده حتى أؤدي ودائع كانت عنده للناس، وإنما كان يسمى الأمين، فأقمت ثلاثا وكنت أظهر، ما تغيبت يوما واحدا، ثم خرجت فجعلت أتبع طريق رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى قدمت بني عمرو بن عوف ورسول الله صلى الله عليه وسلم مقيم، فنزلت على كلثوم بن الهدم وهنالك منزل رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩৩৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن ابی بکرکا غار ثور میں کھانا لانا
46325 ابن شہاب کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قبل جن صحابہ کرام (رض) نے ہجرت کی وہ یہ ہیں ابوسلمہ بن عبدالاسد، ام سلمہ، مصعب بن عمیر، عثمان مظعون، ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ، عبداللہ بن جحش ، عمار بن یاسر، شماس بن عثمان بن شرید، عامر بن ربیعہ اور ان کی بیوی ام عبداللہ بنت ابی حثمہ چنانچہ ابوسلمہ اور عبداللہ بن جحش اپنے ساتھیوں کے ساتھ بنی عمروہ بن عوف میں اترے، پھر حضرت عمر بن خطاب اور عیاش بن ابی ربیعہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تشریف لے گئے اور یہ بھی بین عمرو بن عوف کے پاس جا اترے۔ رواہ ابن عساکر
46325- عن ابن شهاب قال: خرج قبل خروج النبي صلى الله عليه وسلم أبو سلمة بن عبد الأسد وأم سلمة ومصعب بن عمير وعثمان بن مظعون وأبو حذيفة بن عتبة بن ربيعة وعبد الله بن جحش وعمار بن ياسر وشماس بن عثمان بن الشريد وعامر بن ربيعة ومعه امرأته أم عبد الله بنت أبي حثمة، فنزل أبو سلمة وعبد الله بن جحش في بني عمرو بن عوف في أصحاب لهم، ثم خرج عمر بن الخطاب وعياش ابن أبي ربيعة في أصحاب لهم، فنزلوا على بني عمرو بن عوف. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩৩৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن ابی بکرکا غار ثور میں کھانا لانا
46326 نافع بن عمر حمحی، ابن ابی ملیکہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) غارثور کی طرف نکلے ابوبکر (رض) کبھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آگے چلتے اور کبھی آپ کے پیچھے چلتے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) سے اس کی وجہ پوچھی، ابوبکر (رض) نے جواب دیا جب میں آپ کے آگے چلتا ہوں اس وقت مجھے خدشہ لاحق ہوتا ہے کہ آپ کو کوئی پیچھے سے نہ آن لے اور جب آپ کے پیچھے چلتا ہوں مجھے خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں آپ کو کوئی آگے سے نہ آن لے حلیٰ کہ جب غارثور تک پہنچے تو ابوبکر (رض) نے عرض کیا : آپ یہیں کھڑے رہیں میں اندر جاکر معائنہ کرلو تاکہ اگر کوئی سانپ بچھو ہو آپ سے قبل مجھے گزند پہنچائے نافع کہتے ہیں : غار میں ایک سوراخ تھا جس پر ابوبکر (رض) نے اپنا پاؤں رکھ دیا تھا کہ کوئی سانپ یا بچھو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیت نہ پہنچاسکے۔ (رواہ البغوی وقال ابن کثیر ھذا مرسل حسن قال وقدرواہ وکیع ابن الجراح عن نافع عن ابن عمر المکی المکی عن رجل لم یسمہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) جب غارثور میں پہنچے تو غار میں ایک سوراخ تھا ابوبکر (رض) نے سوراخ پر اپنا پاؤں رکھ دیا اور عرض کیا یارسول اللہ ! اگر بچھو یا سانپ ہو تو اس کا ڈس آپ کے علاوہ مجھے لگے) ۔
46326- عن نافع بن عمر الجمحي عن ابن أبي مليكة أن النبي صلى الله عليه وسلم لما خرج هو وأبو بكر إلى ثور، فجعل أبو بكر يكون أمام النبي صلى الله عليه وسلم مرة وخلفه مرة، فسأله النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك، فقال: إذا كنت أمامك خشيت أن تؤتي من ورائك، وإذا كنت خلفك خشيت أن تؤتي من أمامك، حتى إذا انتهى إلى الغار من ثور، قال أبو بكر: كما أنت حتى أدخل يدي فأحسه وأقصه! فإن كانت فيه دابة أصابتني قبلك، قال نافع: فبلغني أنه كان في الغار جحر فألقم أبو بكر رجله ذلك الجحر تخوفا أن يخرج منه دابة أو شيء يؤذي رسول الله صلى الله عليه وسلم. "البغوي، قال ابن كثير: هذا مرسل حسن، قال: وقد رواه وكيع بن الجراح عن نافع عن ابن عمر الجمحي المكي عن رجل لم يسمه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبا بكر لما انتهينا إلى الغار إذا جحر في الغار قال: فألقمها أبو بكر رجله فقال: يا رسول الله! إن كانت لدغة أو لسعة كانت بي دونك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৬৩৩৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن ابی بکرکا غار ثور میں کھانا لانا
46327 ابوبرزہ (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکرصدیق (رض) نے اپنے بیٹے سے کہا : اے بیٹا ! لوگوں میں کوئی نئی بات ہوجائے تو اس کی مجھے خبر دینے غار میں آجانا جس میں میں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روپوش ہوں گے۔ یقیناً اس غار میں صبح شام تمہارا رزق پہنچتا رہے گا۔۔ رواہ ابن ابی الدنیا فی المعرفۃ والبزار وفیہ موسیٰ بن مطیر القرش واہ
46327- عن أبي برزة أن أبا بكر الصديق قال لابنه: يا بني! إن حدث في الناس حدث فائت الغار الذي رأيتني اختبأت فيه أنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم فكن فيه، فإنه سيأتيك فيه رزقك غدوة وعشية. "ابن أبي الدنيا في المعرفة، والبزار، وفيه موسى بن مطير القرشي واه".
তাহকীক: