আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৭৩ টি
হাদীস নং: ৩০১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کانوں کے مسح کا بیان
(٣٠٢) ربیع بنت معوذ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے کانوں کے ظاہری اور اندرونی حصے کا مسح کیا۔
(۳۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ عَنِ الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ-مَسَحَ أُذُنَیْہِ ظَاہِرَہُمَا وَبَاطِنَہُمَا۔ [صحیح لغیرہٖ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کانوں کے مسح کا بیان
(٣٠٣) حمید کہتے ہیں کہ سیدنا انس (رض) نے وضو کیا، ہم آپ کے پاس تھے، آپ نے کانوں کے ظاہری اور اندرونی حصوں کا مسح کیا تو ہماری وضو کی طرف غور سے دیکھا اور فرمایا : سیدنا ابن مسعود (رض) ہمیں اس کا حکم دیا کرتے تھے۔
(۳۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ قَالَ: تَوَضَّأَ أَنَسٌ وَنَحْنُ عِنْدَہُ ، فَجَعَلَ یَمْسَحُ بَاطِنَ أُذُنَیْہِ وَظَاہِرَہُمَا ، فَرَأَی شِدَّۃَ نَظَرِنَا إِلَیْہِ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ کَانَ یَأْمُرُنَا بِہَذَا۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کانوں کے مسح کا بیان
(٣٠٤) حمید کہتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک (رض) کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انھوں نے اپنے کانوں کے ظاہری اور اندرونی حصوں کا مسح کیا، ہم نے ان کی طرف دیکھا تو انھوں نے فرمایا : ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود (رض) ) ہم کو یہی حکم دیا کرتے تھے۔
(۳۰۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ عَنْ حُمَیْدٍ قَالَ: رَأَیْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ أُذُنَیْہِ ظَاہِرَہُمَا وَبَاطِنَہُمَا ، فَنَظَرْنَا إِلَیْہِ فَقَالَ: کَانَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ یَأْمُرُنَا بِذَلِکَ۔ [صحیح لغیرہٖ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگلیاں کانوں میں داخل کرنے کا بیان
(٣٠٥) (الف) مقدام بن معدی کرب فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کرتے ہوئے دیکھا (پھر وضو کا طریقہ بیان کرتے ہوئے) فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے کانوں کے ظاہری اور اندرونی حصوں پر مسح کیا۔
(ب) ہشام نے یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے کانوں کے سوراخوں میں اپنی انگلیاں داخل کیں۔
(ب) ہشام نے یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے کانوں کے سوراخوں میں اپنی انگلیاں داخل کیں۔
(۳۰۵) أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ وَہِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْمَعْنَی قَالاَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ حَرِیزِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَیْسَرَۃَ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیکَرِبَ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-تَوَضَّأَ قَالَ وَمَسَحَ بِأُذُنَیْہِ بَاطِنِہِمَا وَظَاہِرِہِمَا۔
زَادَ ہِشَامٌ: وَأَدْخَلَ أَصَابِعَہُ فِی صِمَاخَیْ أُذُنَیْہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۲۳]
زَادَ ہِشَامٌ: وَأَدْخَلَ أَصَابِعَہُ فِی صِمَاخَیْ أُذُنَیْہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۲۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگلیاں کانوں میں داخل کرنے کا بیان
(٣٠٦) ربیع بنت معوذ بن عفرائ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا تو اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں میں داخل کیا۔
(۳۰۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ الذُّہْلِیُّ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا وَکِیعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ عَنِ الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَائَ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ-تَوَضَّأَ فَأَدْخَلَ إِصْبَعَیْہِ فِی أُذُنَیْہِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۳۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگلیاں کانوں میں داخل کرنے کا بیان
(٣٠٧) عبداللہ بن محمد عقیل نے پچھلی حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے اور فرمایا : آپ کی انگلیاں آپ کے کانوں کے سوراخوں میں تھیں۔
(۳۰۷) وَأَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ وَقَالَ: إِصْبَعَیْہِ فِی جُحْرَیْ أُذُنَیْہِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۳۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نئے پانی کے ساتھ کانوں کا مسح کرنا
(٣٠٨) سیدنا عبداللہ بن زید فرماتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کانوں کے لیے اس پانی کے علاوہ پانی لیا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے سر کے لیے لیا تھا (یعنی مسح کے لیے نیا پانی لیا) ۔
(۳۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ خَارِجَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ الأَنْصَارِیِّ أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ زَیْدٍ یَذْکُرُ: أَنَّہُ رَأَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-یَتَوَضَّأُ فَأَخَذَ لأُذُنَیْہِ مَائً خِلاَفَ الْمَائِ الَّذِی أَخَذَ لِرَأْسِہِ۔وَہَذَا إِسْنَادٌ صَحِیحٌ۔
(ت) وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ مِقْلاَصٍ وَحَرْمَلَۃَ بْنِ یَحْیَی عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔
[صحیح۔ أخرجہ الحاکم ۱/۲۵۳]
(ت) وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ مِقْلاَصٍ وَحَرْمَلَۃَ بْنِ یَحْیَی عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔
[صحیح۔ أخرجہ الحاکم ۱/۲۵۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نئے پانی کے ساتھ کانوں کا مسح کرنا
(٣٠٩) ابن وھب صحیح سند سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھوں کے بچے ہوئے پانی کے علاوہ اپنے سر کا مسح کیا، لیکن کانوں کا ذکر نہیں کیا۔
(ب) دوسری روایت پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
(ب) دوسری روایت پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
(۳۰۹) وَرَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ وَہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ الأَیْلِیِّ وَأَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ بِإِسْنَادٍ صَحِیحٍ: أَنَّہُ رَأَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-یَتَوَضَّأُ۔فَذَکَرَ وُضُوئَ ہُ قَالَ: وَمَسَحَ رَأْسَہُ بِمَائٍ غَیْرِ فَضْلِ یَدَیْہِ وَلَمْ یَذْکُرِ الأُذُنَیْنِ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ یَعْنِی أَبَا الْطَاہِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ فَذَکَرَہُ۔
وَہَذَا أَصَحُّ مِنَ الَّذِی قَبْلَہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک ۶۷]
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ یَعْنِی أَبَا الْطَاہِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ فَذَکَرَہُ۔
وَہَذَا أَصَحُّ مِنَ الَّذِی قَبْلَہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک ۶۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نئے پانی کے ساتھ کانوں کا مسح کرنا
(٣١٠) حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) جب وضو کرتے تھے تو اپنے کانوں کے لیے اپنی انگلیوں کے ساتھ پانی لیتے تھے۔
(۳۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَمَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یُعِیدُ إِصْبَعَیْہِ فِی الْمَائِ فَیَمْسَحُ بِہِمَا أُذُنَیْہِ۔
[صحیح۔ أخرجہ مالک ۶۷]
[صحیح۔ أخرجہ مالک ۶۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نئے پانی کے ساتھ کانوں کا مسح کرنا
(٣١٢) حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) کانوں کے مسح کے لیے انگلیوں کے ساتھ پانی لیتے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول روایت میں کان سر کا حصہ ہیں۔ یہ روایت ضعیف اسناد کے ساتھ منقول ہے، ان میں اختلاف ہے ہم نے ذکر کردیا ہے اور مشہور سند وہ ہے جو ہم نے بیان کردی۔
(۳۱۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا تَوَضَّأَ یَأْخُذُ الْمَائَ بِإِصْبَعَیْہِ لأُذُنَیْہِ۔ وَأَمَّا مَا رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-أَنَّہُ قَالَ: ((الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ))۔ فَرُوِیَ ذَلِکَ بَأَسَانِیدَ ضِعَافٍ ذَکَرَنَاہَا فِی الْخِلاَفِ۔وَأَشْہَرُ إِسْنَادٍ فِیہِ مَا۔ [صحیح۔ بطرقہ أخرجہ ابو داؤد ۱۳۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نئے پانی کے ساتھ کانوں کا مسح کرنا
(٣١٢) سیدنا ابوامامہ سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا، اپنے چہرے اور ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا اور فرمایا : کان سر کا حصہ ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کن پٹی کا مسح کرتے تھے۔
(ب) اس حدیث میں دو لحاظ سے کلام ہے : 1 بعض راوی ضعیف ہیں 2 اس کے مرفوع ہونے میں شک ہے۔
(ج) یحییٰ بن معین فرماتے ہیں کہ سنان بن ربیعہ جو حماد بن زید سے نقل کرتا ہے قوی نہیں۔
(د) ابن عون کے پاس شہر بن حوشب کا ذکر کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : شہر کے بارے میں لوگوں نے طعن کیا ہے۔
(ر) شعبہ کہتے ہیں کہ شہر بن حوشب اہل شام میں سے کسی شخص سے ملا تو اس نے شہر پر چوری کا الزام لگایا۔
(س) ابوبکیر کہتے ہیں کہ شہر بن حوشب کی ذمہ داری بیت المال پر تھی تو اس نے درہموں کی ایک تھیلی چرا لی تو کسی نے کہا : شہر نے اپنا دین ایک تھیلی کے عوض بیچ دیا ہے۔ اے شہر ! تیرے بعد قراء کیسے محفوظ رہیں گے۔
(ش) موسیٰ بن ہارون کہتے ہیں کہ یہ حدیث ثابت نہیں۔ اس میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہے۔ امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : اس روایت کے مرفوع ہونے میں شک ہے۔
(ب) اس حدیث میں دو لحاظ سے کلام ہے : 1 بعض راوی ضعیف ہیں 2 اس کے مرفوع ہونے میں شک ہے۔
(ج) یحییٰ بن معین فرماتے ہیں کہ سنان بن ربیعہ جو حماد بن زید سے نقل کرتا ہے قوی نہیں۔
(د) ابن عون کے پاس شہر بن حوشب کا ذکر کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : شہر کے بارے میں لوگوں نے طعن کیا ہے۔
(ر) شعبہ کہتے ہیں کہ شہر بن حوشب اہل شام میں سے کسی شخص سے ملا تو اس نے شہر پر چوری کا الزام لگایا۔
(س) ابوبکیر کہتے ہیں کہ شہر بن حوشب کی ذمہ داری بیت المال پر تھی تو اس نے درہموں کی ایک تھیلی چرا لی تو کسی نے کہا : شہر نے اپنا دین ایک تھیلی کے عوض بیچ دیا ہے۔ اے شہر ! تیرے بعد قراء کیسے محفوظ رہیں گے۔
(ش) موسیٰ بن ہارون کہتے ہیں کہ یہ حدیث ثابت نہیں۔ اس میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہے۔ امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : اس روایت کے مرفوع ہونے میں شک ہے۔
(۳۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَبُو الرَّبِیعِ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا سِنَانُ بْنُ رَبِیعَۃَ عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْہَہُ ثَلاَثًا ، وَیَدَیْہِ ثَلاَثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ ، وَقَالَ: ((الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ))۔ وَکَانَ یَمْسَحُ الْمَأْقَیْنِ۔
وَہَذَا الْحَدِیثُ یُقَالُ فِیہِ مِنْ وَجْہَیْنِ: أَحَدُہُمَا ضَعْفُ بَعْضِ الرُّوَاۃِ وَالآخَرُ دُخُولُ الشَّکِّ فِی رَفْعِہِ۔ (ج)وَبِصِحَّۃِ ذَلِکَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ:مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِیُّ قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ یَقُولُ: سِنَانُ بْنُ رَبِیعَۃَ یُحَدِّثُ عَنْہُ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ لَیْسَ ہُوَ بِالقَّوِیِّ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ الْخَلاَّلُ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَیْلاَنَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ وَذُکِرَ عِنْدَہُ شَہْرُ بْنُ حَوْشَبٍ فَقَالَ: إِنَّ شَہْرًا نَزَکُوہُ۔قَوْلُہُ نَزَکُوہُ أَیْ طَعَنُوا فِیہِ وَأَخَذَتْہُ أَلْسِنَۃُ النَّاسِ۔
وَبِإِسْنَادِہِ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَیْلاَنَ حَدَّثَنَا شَبابۃُ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَۃَ یَقُولُ: کَانَ شَہْرُ بْنُ حَوْشَبٍ رَافَقَ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الشَّامِ فَسَرَقَ عَیْبَتَہُ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا أَبِی قَالَ: کَانَ شَہْرُ بْنُ حَوْشَبٍ عَلَی بَیْتِ الْمَالِ ، فَأَخَذَ خَرِیطَۃً فِیہَا دَرَاہِمُ فَقَالَ الْقَائِلُ:
لَقَدْ بَاعَ شَہْرٌ دِینَہُ بِخَرِیطَۃٍ فَمَنْ یَأْمَنُ الْقُرَّائَ بَعْدَکَ یَا شَہْرُ
أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ: سَأَلْتُ مُوسَی بْنَ ہَارُونَ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ ، فَقَالَ: لَیْسَ بِشَیْئٍ ، فِیہِ شَہْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَشَہْرٌ ضَعِیفٌ۔
قال البیہقی: وَالْحَدِیثُ فِی رَفْعِہِ شَکٌّ۔ [صحیح۔ بطرقہ أخرجہ ابو داؤد ۱۳۴]
وَہَذَا الْحَدِیثُ یُقَالُ فِیہِ مِنْ وَجْہَیْنِ: أَحَدُہُمَا ضَعْفُ بَعْضِ الرُّوَاۃِ وَالآخَرُ دُخُولُ الشَّکِّ فِی رَفْعِہِ۔ (ج)وَبِصِحَّۃِ ذَلِکَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ:مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِیُّ قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ یَقُولُ: سِنَانُ بْنُ رَبِیعَۃَ یُحَدِّثُ عَنْہُ حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ لَیْسَ ہُوَ بِالقَّوِیِّ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ الْخَلاَّلُ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَیْلاَنَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ وَذُکِرَ عِنْدَہُ شَہْرُ بْنُ حَوْشَبٍ فَقَالَ: إِنَّ شَہْرًا نَزَکُوہُ۔قَوْلُہُ نَزَکُوہُ أَیْ طَعَنُوا فِیہِ وَأَخَذَتْہُ أَلْسِنَۃُ النَّاسِ۔
وَبِإِسْنَادِہِ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَیْلاَنَ حَدَّثَنَا شَبابۃُ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَۃَ یَقُولُ: کَانَ شَہْرُ بْنُ حَوْشَبٍ رَافَقَ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الشَّامِ فَسَرَقَ عَیْبَتَہُ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا أَبِی قَالَ: کَانَ شَہْرُ بْنُ حَوْشَبٍ عَلَی بَیْتِ الْمَالِ ، فَأَخَذَ خَرِیطَۃً فِیہَا دَرَاہِمُ فَقَالَ الْقَائِلُ:
لَقَدْ بَاعَ شَہْرٌ دِینَہُ بِخَرِیطَۃٍ فَمَنْ یَأْمَنُ الْقُرَّائَ بَعْدَکَ یَا شَہْرُ
أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ: سَأَلْتُ مُوسَی بْنَ ہَارُونَ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ ، فَقَالَ: لَیْسَ بِشَیْئٍ ، فِیہِ شَہْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَشَہْرٌ ضَعِیفٌ۔
قال البیہقی: وَالْحَدِیثُ فِی رَفْعِہِ شَکٌّ۔ [صحیح۔ بطرقہ أخرجہ ابو داؤد ۱۳۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نئے پانی کے ساتھ کانوں کا مسح کرنا
(٣١٣) ابو امامۃ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کا طریقہ منقول ہے، فرماتے ہیں : جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کرتے تھے تو پانی سے اپنی کن پٹیوں کا مسح کرتے تھے اور فرمایا : کان سر کا حصہ ہیں۔
(ب) سلیمان بن حرب فرماتے ہیں کہ کان سر کا حصہ ہیں، یہ ابو امامہ کا قول ہے، جس نے اس کے علاوہ کہا یا اس کو تبدیل کیا یا کوئی کلمہ کہا تو اس کا قائل سلیمان ہے یعنی اس نے غلطی کی ہے۔
(ب) سلیمان بن حرب فرماتے ہیں کہ کان سر کا حصہ ہیں، یہ ابو امامہ کا قول ہے، جس نے اس کے علاوہ کہا یا اس کو تبدیل کیا یا کوئی کلمہ کہا تو اس کا قائل سلیمان ہے یعنی اس نے غلطی کی ہے۔
(۳۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنَا عَلِیٌّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَیْشٍ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ مُوسَی الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِیعَۃَ عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ: أَنَّہُ وَصَفَ وُضُوئَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-فَقَالَ: کَانَ إِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ مَأْقَیْہِ بِالْمَائِ ، وَقَالَ أَبُو أُمَامَۃَ: الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ۔
قَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ: الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ۔إِنَّمَا ہُوَ مَنْ قَوْلِ أَبِی أُمَامَۃَ ، فَمَنْ قَالَ غَیْرَ ہَذَا فَقَدْ بَدَّلَ أَوْ کَلِمَۃً قَالَہَا سُلَیْمَانُ أَیْ أَخْطَأَ۔ [صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۰۴]
قَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ: الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ۔إِنَّمَا ہُوَ مَنْ قَوْلِ أَبِی أُمَامَۃَ ، فَمَنْ قَالَ غَیْرَ ہَذَا فَقَدْ بَدَّلَ أَوْ کَلِمَۃً قَالَہَا سُلَیْمَانُ أَیْ أَخْطَأَ۔ [صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۰۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نئے پانی کے ساتھ کانوں کا مسح کرنا
(٣١٤) سیدنا ابو امامہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کا تذکرہ کیا، فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی کن پٹیوں کا مسح کیا کرتے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کان سر کا حصہ ہیں۔
(ب) سلیمان بن حرب کہتے ہیں : یہ ابو امامہ (رض) کا قول ہے۔ (ج) حماد کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول ہے یا ابوامامہ (رح) کا ۔
(د) ابو سنان ربیعہ کی کتاب میں ” مأقین “ کے الفاظ ہیں، ابن داسہ کی روایت میں بھی اس طرح ہے۔
(ر) ابو سلیمان نے مأقین کی تشریح کی ہے کہ آنکھ کا وہ کنارہ جو ناک کے ساتھ ملا ہوتا ہے اور وہ آنسوؤں کے نکلنے کی جگہ ہے۔ گزشتہ روایات میں سر اور دونوں کانوں کے مسح کا مجمل بیان ہے اور کیفیت اس روایت میں ہے۔
(ب) سلیمان بن حرب کہتے ہیں : یہ ابو امامہ (رض) کا قول ہے۔ (ج) حماد کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قول ہے یا ابوامامہ (رح) کا ۔
(د) ابو سنان ربیعہ کی کتاب میں ” مأقین “ کے الفاظ ہیں، ابن داسہ کی روایت میں بھی اس طرح ہے۔
(ر) ابو سلیمان نے مأقین کی تشریح کی ہے کہ آنکھ کا وہ کنارہ جو ناک کے ساتھ ملا ہوتا ہے اور وہ آنسوؤں کے نکلنے کی جگہ ہے۔ گزشتہ روایات میں سر اور دونوں کانوں کے مسح کا مجمل بیان ہے اور کیفیت اس روایت میں ہے۔
(۳۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُسَدَّدٌ وَقُتَیْبَۃُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِیعَۃَ عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ: ذَکَرَ وُضُوئَ النَّبِیِّ -ﷺ-قَالَ: فَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-یَمْسَحُ الْمَأْقَیْنِ قَالَ وَقَالَ: ((الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ))۔
قَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ یَقُولُہَا أَبُو أُمَامَۃَ۔
قَالَ قُتَیْبَۃُ قَالَ حَمَّادٌ: لاَ أَدْرِی ہُوَ مِنْ قَوْلِ النَّبِیِّ -ﷺ-أَوْ أَبِی أُمَامَۃَ یَعْنِی قِصَّۃَ الأُذُنَیْنِ۔
قَالَ قُتَیْبَۃُ عَنْ سِنَانِ أَبِی رَبِیعَۃَ کَذَا فِی کِتَابِی الْمَأْقَیْنِ وَہُوَ فِی رِوَایَۃِ أَبِی سُلَیْمَانَ الْخَطَّابِیِّ عَنِ ابْنِ دَاسَۃَ الْمَاقَیْنِ۔(غ)فَسَّرَہُ أَبُو سُلَیْمَانَ بِطَرَفِ الْعَیْنِ الَّذِی یَلِی الأَنْفَ وَہُوَ مَخْرَجُ الدَّمْعِ۔
وَالَّذِی رُوِیَ مِنْ مَسْحِہِ رَأْسَہُ وَأُذُنَیْہِ فِی بَعْضِ مَا مَضَی مُجْمَلٌ وَکَیْفِیَّتُہُ مَوْجُودَۃٌ فِیمَا۔
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ أبوداؤد ۱۳۴]
قَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ یَقُولُہَا أَبُو أُمَامَۃَ۔
قَالَ قُتَیْبَۃُ قَالَ حَمَّادٌ: لاَ أَدْرِی ہُوَ مِنْ قَوْلِ النَّبِیِّ -ﷺ-أَوْ أَبِی أُمَامَۃَ یَعْنِی قِصَّۃَ الأُذُنَیْنِ۔
قَالَ قُتَیْبَۃُ عَنْ سِنَانِ أَبِی رَبِیعَۃَ کَذَا فِی کِتَابِی الْمَأْقَیْنِ وَہُوَ فِی رِوَایَۃِ أَبِی سُلَیْمَانَ الْخَطَّابِیِّ عَنِ ابْنِ دَاسَۃَ الْمَاقَیْنِ۔(غ)فَسَّرَہُ أَبُو سُلَیْمَانَ بِطَرَفِ الْعَیْنِ الَّذِی یَلِی الأَنْفَ وَہُوَ مَخْرَجُ الدَّمْعِ۔
وَالَّذِی رُوِیَ مِنْ مَسْحِہِ رَأْسَہُ وَأُذُنَیْہِ فِی بَعْضِ مَا مَضَی مُجْمَلٌ وَکَیْفِیَّتُہُ مَوْجُودَۃٌ فِیمَا۔
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ أبوداؤد ۱۳۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نئے پانی کے ساتھ کانوں کا مسح کرنا
(٣١٥) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا، پھر لمبی حدیث بیان کی۔ فرماتے ہیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ پانی لیا تو اس کے ساتھ سر کا مسح کیا، پھر اپنے کانوں کے اندرونی حصے میں اپنی درمیانی انگلیوں سے اور انگوٹھوں سے اپنے کانوں کی پچھلی جانب کا مسح کیا۔ حسن۔
(ب) ہمارے اصحاب کہتے ہیں کہ آپ دونوں ہاتھوں کی دو انگلیوں کے ساتھ سر کا مسح کرنے کے بعد انھی انگلیوں کے ساتھ کانوں کا مسح کرتے۔
(ب) ہمارے اصحاب کہتے ہیں کہ آپ دونوں ہاتھوں کی دو انگلیوں کے ساتھ سر کا مسح کرنے کے بعد انھی انگلیوں کے ساتھ کانوں کا مسح کرتے۔
(۳۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-تَوَضَّأَ۔فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ شَیْئًا مِنْ مَائٍ فَمَسَحَ بِہِ رَأْسَہُ وَقَالَ بِالْوُسْطَیَیْنِ مِنْ أَصَابِعِہِ فِی بَاطِنِ أُذُنَیْہِ وَالإِبْہَامَیْنِ مِنْ وَرَائِ أُذُنَیْہِ۔
(ق) وَقَالَ أَصْحَابُنَا: فَکَأَنَّہُ کَانَ یَعْزِلُ مِنْ کُلِّ یَدٍ إِصْبَعَیْنِ فَإِذَا فَرَغَ مِنْ مَسْحِ الرَّأْسِ مَسَحَ بِہِمَا أُذُنَیْہِ۔
(ق) وَقَالَ أَصْحَابُنَا: فَکَأَنَّہُ کَانَ یَعْزِلُ مِنْ کُلِّ یَدٍ إِصْبَعَیْنِ فَإِذَا فَرَغَ مِنْ مَسْحِ الرَّأْسِ مَسَحَ بِہِمَا أُذُنَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نئے پانی کے ساتھ کانوں کا مسح کرنا
(٣١٦) اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ اپنی دو سبابہ انگلیوں کو داخل کر کے اپنے کانوں کا مسح کیا اور انگوٹھوں کے ساتھ مخالف سمت میں مسح کیا، پھر اپنے کانوں کے ظاہری اور اندرونی حصوں کا مسح کیا۔ حسن أخرجہ ابن حبان [١٠٨٦]
(۳۱۶) وَقَدْ رُوِیَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ: مَسَحَ أُذُنَیْہِ دَاخِلَہُمَا بِالسَّبابتَیْنِ وَخَالَفَ بابہَامَیْہِ فَمَسَحَ بَاطِنَہُمَا وَظَاہِرَہُمَا۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ۔
أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں دھونے کا بیان
(٣١٧) سیدنا ابن عباس (رض) نے فرمایا : کیا میں تم کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو نہ دکھاؤں ؟ پھر وضو کا طریقہ بیان کیا اور آپ نے ایک مرتبہ اپنے ہاتھوں کو دھویا اور ایک مرتبہ کلی کی، ایک مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا اور ایک مرتبہ اپنے چہرے کو دھویا اور اپنے بازوؤں کو ایک مرتبہ دھویا اور ایک مرتبہ ہی اپنے سر کا مسح کیا اور ایک مرتبہ اپنے پاؤں کو دھویا، پھر فرمایا : یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو ہے۔
(۳۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا وَرْقَائُ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلاَ أُرِیکُمْ وُضُوئَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَالَ: فَغَسَلَ یَدَیْہِ مَرَّۃً مَرَّۃً ، وَمَضْمَضَ مَرَّۃً وَاسْتَنْشَقَ مَرَّۃً ، وَغَسَلَ وَجْہَہُ مَرَّۃً ، وَذِرَاعَیْہِ مَرَّۃً مَرَّۃً ، وَمَسَحَ رَأْسَہُ مَرَّۃً ، وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ مَرَّۃً مَرَّۃً ، ثُمَّ قَالَ: ہَذَا وُضُوئُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ ہَذَا إِسْنَادٌ صَحِیحٌ۔ [حسن۔ أخرجہ الشافعی ۵۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں کو تکرار سے دھونا
(٣١٨) سیدنا عثمان بن عفان (رض) نے ایک دن پانی منگوا کر وضو کیا، اپنی ہتھیلیوں کو تین تین مرتبہ دھویا، پھر کلی کی اور تین مرتبہ ناک جھاڑا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر اسی طرح بائیں ہاتھ کو دھویا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دائیں پاؤں کو ٹخنوں سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر اسی طرح طرح بائیں پاؤں کو دھویا، پھر فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک دن اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جس نے میرے اس وضو جیسا وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھیں اور اپنے دل میں کوئی خیال پیدا نہیں ہونے دیا تو اس کے پہلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ “
(۳۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ۔قَالَ وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ عَطَائَ بْنَ یَزِیدَ اللَّیْثِیَّ أَخْبَرَہُ أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَی عُثْمَانَ أَخْبَرَہُ: أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ دَعَا یَوْمًا بِوَضُوئٍ فَتَوَضَّأَ ، فَغَسَلَ کَفَّیْہِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الْیُمْنَی إِلَی الْمِرْفَقِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ الْیُسْرَی مِثْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِہِ ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَہُ الْیُمْنَی إِلَی الْکَعْبَیْنِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ الْیُسْرَی مِثْلَ ذَلِکَ ، ثُمَّ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-یَوْمًا تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِی ہَذَا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِی ہَذَا ، ثُمَّ قَامَ فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ لاَ یُحَدِّثُ فِیہِمَا نَفْسَہُ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ وَأَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ ، أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۲۶]
رَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ وَأَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ ، أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۲۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں کو تکرار سے دھونا
(٣١٩) عبد خیر فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا علی (رض) آئے، آپ نے نماز پڑھی، پھر پانی منگوایا۔ ہم نے عرض کیا : آپ پانی سے کیا کریں گے حالانکہ آپ نے نماز پڑھ لی ہے ؟ وہ ہمیں وضو کا طریقہ سکھلانا چاہتے تھے، چنانچہ ایک برتن اور تھال لایا گیا، جس میں پانی تھا۔ آپ نے برتن سے اپنے دائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اس کو تین مرتبہ دھویا، پھر کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، آپ کلی اور ناک اسی ہتھیلی سے جھاڑتے جس سے پانی لیتے تھے، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے دائیں اور بائیں ہاتھ کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور ایک مرتبہ سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں بایاں پاؤں تین مرتبہ دھویا پھر فرمایا : جس کو پسند ہو کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو جانے تو یہی آپ کا وضو ہے۔
(۳۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْہَدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ قَالَ: أَتَانَا عَلِیٌّ وَقَدْ صَلَّی فَدَعَا بِطَہُورٍ ، فَقُلْنَا مَا یَصْنَعُ بِالطَّہُورِ وَقَدْ صَلَّی؟ مَا یُرِیدُ إِلاَّ لِیُعَلِّمَنَا ، فَأُتِیَ بِإِنَائٍ فِیہِ مَائٌ وَطَسْتٍ ، فَأَفْرَغَ مِنَ الإِنَائِ عَلَی یَمِینِہِ ، فَغَسَلَ یَدَہُ ثَلاَثًا ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلاَثًا ، مَضْمَضَ وَنَثَرَ مِنَ الْکَفِّ الَّذِی یَأْخُذُ مِنْہُ الْمَائَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلاَثًا وَغَسَلَ یَدَہُ الْیُمْنَی ثَلاَثًا ، وَغَسَلَ یَدَہُ الشِّمَالَ ثَلاَثًا ، ثُمَّ جَعَلَ یَدَہُ فِی الإِنَائِ فَمَسَحَ بِرَأْسِہِ مَرَّۃً وَاحِدَۃً ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَہُ الْیُمْنَی ثَلاَثًا ، وَرِجْلَہُ الشِّمَالَ ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ: مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَعْلَمَ وُضُوئَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-فَہُوَ ہَذَا۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۱۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں دھونے کی فرضیت کی دلیل اور مسح کے ناکافی ہونے کا بیان
(٣٢٠) سیدنا عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ ایک سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم سے پیچھے رہ گئے، ہم سفر کرتے رہے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں پا لیا، عصر کی نماز ہم سے چھوٹ گئی تھی اور ہم وضو کر رہے تھے، ہم اپنے پاؤں پر مسح کرنا شروع ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونچی آواز سے فرمایا : ایڑیوں کے لیے آگ کی ہلاکت ہے۔
(۳۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَالْحَجَبِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ یُوسُفَ بْنِ مَاہَکَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: تَخَلَّفَ عَنَّا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-فِی سَفْرَۃٍ سَافَرْنَاہَا فَأَدْرَکَنَا ، وَقَدْ أَرْہَقَتْنَا صَلاَۃُ الْعَصْرِ وَنَحْنُ نَتَوَضَّأُ فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَی أَرْجُلِنَا فَنَادَی بِأَعْلَی صَوْتِہِ: ((وَیْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَمُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ وَأَبِی النُّعْمَانِ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ شَیْبَانَ وَأَبِی کَامِلٍ کُلِّہِمْ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۶۰]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَمُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ وَأَبِی النُّعْمَانِ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ شَیْبَانَ وَأَبِی کَامِلٍ کُلِّہِمْ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۶۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں دھونے کی فرضیت کی دلیل اور مسح کے ناکافی ہونے کا بیان
(٣٢١) سیدنا عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف لوٹے، راستے میں ہم نے پانی کے پاس پڑاؤ ڈالا، لوگوں نے وضو کرنے میں جلدی کی تاکہ عصر کی نماز ادا کریں، ہم ان پاس پہنچے تو دیکھا کہ ان کی سفید ایڑیاں چمک رہی تھیں، ان کو پانی نہیں لگا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مکمل وضو کرو، ایڑیوں کے لیے آگ کی ہلاکت ہے لہٰذا مکمل وضو کرو۔
(۳۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو زَکَرِیَّا یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی وَأَبُو سَعِیدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ وَأَبُو سَعِیدٍ: مَسْعُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرْجَانِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سُلَیْمَانَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ مَنْصُورٍ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ یِسَافٍ عَنْ أَبِی یَحْیَی عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: رَجَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-مِنْ مَکَّۃَ إِلَی الْمَدِینَۃِ فَانْتَہَیْنَا إِلَی مَائٍ بِالطَّرِیقِ ، فَتَعَجَّلَ قَوْمٌ یَتَوَضَّئُونَ وَہُمْ عِجَالٌ عِنْدَ صَلاَۃِ الْعَصْرِ ، فَانْتَہَیْنَا إِلَیْہِمْ وَأَعْقَابُہُمْ بِیضٌ تَلُوحُ ، لَمْ یَمَسَّہَا الْمَائُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((أَسْبِغُوا الْوُضُوئَ ، وَیْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ، أَسْبِغُوا الْوُضُوئَ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَعَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ وَکِیعٍ عَنِ الثَّوْرِیِّ۔ [صحیح۔ أخرجہ لہٰذا للفظ ابن خزیمۃ ۱۶۱]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ یِسَافٍ عَنْ أَبِی یَحْیَی عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: رَجَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-مِنْ مَکَّۃَ إِلَی الْمَدِینَۃِ فَانْتَہَیْنَا إِلَی مَائٍ بِالطَّرِیقِ ، فَتَعَجَّلَ قَوْمٌ یَتَوَضَّئُونَ وَہُمْ عِجَالٌ عِنْدَ صَلاَۃِ الْعَصْرِ ، فَانْتَہَیْنَا إِلَیْہِمْ وَأَعْقَابُہُمْ بِیضٌ تَلُوحُ ، لَمْ یَمَسَّہَا الْمَائُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((أَسْبِغُوا الْوُضُوئَ ، وَیْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ ، أَسْبِغُوا الْوُضُوئَ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَعَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ وَکِیعٍ عَنِ الثَّوْرِیِّ۔ [صحیح۔ أخرجہ لہٰذا للفظ ابن خزیمۃ ۱۶۱]
তাহকীক: