আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৭৩ টি
হাদীস নং: ৩২১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں دھونے کی فرضیت کی دلیل اور مسح کے ناکافی ہونے کا بیان
(٣٢٢) محمد بن زیاد فرماتے ہیں : میں نے سیدنا ابوہریرہ (رض) سے سنا، وہ ہمارے پاس سے گزر رہے تھے اور لوگ برتن سے وضو کر رہے تھے۔ انھوں نے فرمایا : مکمل وضو کرو، یقیناً ابو القاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ایڑیوں کے لیے آگ کی ہلاکت ہے۔ “
(۳۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو الْقَاسِمِ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الأَسَدِیُّ بِہَمَذَانَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِیَادٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ وَکَانَ یَمُرُّ بِنَا وَالنَّاسُ یَتَوَضَّئُونَ مِنَ الْمِطْہَرَۃِ فَیَقُولُ: أَسْبِغُوا الْوُضُوئَ ، فَإِنَّ أَبَا الْقَاسِمِ -ﷺ-قَالَ: ((وَیْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ آدَمَ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۶۳]
(ح) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو الْقَاسِمِ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الأَسَدِیُّ بِہَمَذَانَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِیَادٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ وَکَانَ یَمُرُّ بِنَا وَالنَّاسُ یَتَوَضَّئُونَ مِنَ الْمِطْہَرَۃِ فَیَقُولُ: أَسْبِغُوا الْوُضُوئَ ، فَإِنَّ أَبَا الْقَاسِمِ -ﷺ-قَالَ: ((وَیْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ آدَمَ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۶۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں دھونے کی فرضیت کی دلیل اور مسح کے ناکافی ہونے کا بیان
(٣٢٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو دیکھا، اس نے اپنی ایڑھیاں نہیں دھوئیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ایڑیوں کے لیے آگ کی ہلاکت ہے۔ “
(۳۲۳) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلاَّمٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ-رَأَی رَجُلاً لَمْ یَغْسِلْ عَقِبَہُ فَقَالَ: ((وَیْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَلاَّمٍ۔(ت)وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں دھونے کی فرضیت کی دلیل اور مسح کے ناکافی ہونے کا بیان
(٣٢٤) سالم سبلان فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ (رض) سے سنا، وہ اپنے بھائی سے کہتی تھیں : اے عبد الرحمن ! مکمل وضو کرو، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن ایڑیوں کے لیے آگ کی ہلاکت ہے۔
(۳۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ بَشِیرٍ عَنْ سَالِمٍ سَبَلاَنَ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَقُولُ لأَخِیہَا: یَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْبِغِ الْوُضُوئَ ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-یَقُولُ: ((وَیْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ))۔
[صحیح لغیرہٖ]
[صحیح لغیرہٖ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں دھونے کی فرضیت کی دلیل اور مسح کے ناکافی ہونے کا بیان
(٣٢٥) سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر سیدہ عائشہ (رض) کے پاس آئے، انھوں نے آپ (رض) کے پاس وضو کیا تو سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا : اے عبد الرحمن ! مکمل وضو کر، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : ” قیامت کے دن ایڑیوں کے لیے آگ کی ہلاکت ہے۔ “
(۳۲۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ: الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُلَیْمَانَ وَعَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ قُدَیْدٍ وَعَاصِمُ بْنُ رَازِحٍ الْمِصْرِیُونَ بِمِصْرَ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الطَّاہِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ مَخْرَمَۃَ بْنِ بُکَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَالِمٍ مَوْلَی شَدَّادٍ: أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِی بَکْرٍ دَخَلَ عَلَی عَائِشَۃَ فَتَوَضَّأَ عِنْدَہَا فَقَالَتْ: یَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْبِغِ الْوُضُوئَ ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-یَقُولُ: ((وَیْلٌ لِلْعَرَاقِیبِ مِنَ النَّارِ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: لِلأَعْقَابِ۔
(ت) وَقَدْ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَنُعَیْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سَالِمٍ بِمَعْنَاہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۴۲]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: لِلأَعْقَابِ۔
(ت) وَقَدْ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَنُعَیْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سَالِمٍ بِمَعْنَاہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۴۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں دھونے کی فرضیت کی دلیل اور مسح کے ناکافی ہونے کا بیان
(٣٢٦) عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : ” ایڑیوں اور پاؤں کے اندرونی حصے کے لیے آگ کی ہلاکت ہے “ (پاؤں کا جو حصہ خشک ہوگا وہ آگ میں جائے گا) ۔
(۳۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ قَالَ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ عَنْ حَیْوَۃَ بْنِ شُرَیْحٍ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْئٍ الزُّبَیْدِیِّ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ -ﷺ- یَقُولُ: ((وَیْلٌ لِلأَعْقَابِ وَبُطُونِ الأَقْدَامِ مِنَ النَّارِ))۔
[صحیح۔ أخرجہ أحمد ۴/۱۹۱]
(ح) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ قَالَ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ عَنْ حَیْوَۃَ بْنِ شُرَیْحٍ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْئٍ الزُّبَیْدِیِّ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ -ﷺ- یَقُولُ: ((وَیْلٌ لِلأَعْقَابِ وَبُطُونِ الأَقْدَامِ مِنَ النَّارِ))۔
[صحیح۔ أخرجہ أحمد ۴/۱۹۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں دھونے کی فرضیت کی دلیل اور مسح کے ناکافی ہونے کا بیان
(٣٢٧) سیدنا جابر (رض) فرماتے ہیں : مجھ کو سیدنا عمر بن خطاب (رض) نے بتلایا کہ ایک شخص نے وضو کیا تو اس نے اپنے پاؤں پر ناخن کے برابر جگہ خشک چھوڑ دی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو دیکھ کر فرمایا : ” واپس جاؤ اچھی طرح وضو کرو ۔ وہ لوٹا پھر اس نے نماز پڑھی۔ “
(۳۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْدَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ شَبِیبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْیَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: أَنَّ رَجُلاً تَوَضَّأَ فَتَرَکَ مَوْضِعَ ظُفُرٍ عَلَی قَدَمِہِ فَأَبْصَرَہُ النَّبِیُّ -ﷺ-فَقَالَ: ((ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوئَ کَ))۔فَرَجَعَ ثُمَّ صَلَّی۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ شَبِیبٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۴۳]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ شَبِیبٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۴۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں دھونے کی فرضیت کی دلیل اور مسح کے ناکافی ہونے کا بیان
(٣٢٨) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اس نے وضو کیا تو اپنے پاؤں پر ناخن کے برابر جگہ خشک چھوڑ دی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو۔ “
(۳۲۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ أَنَّہُ سَمِعَ قَتَادَۃَ بْنَ دِعَامَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ: أَنَّ رَجُلاً جَائَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ-قَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَکَ عَلَی قَدَمِہِ مِثْلَ مَوْضِعِ الظُّفْرِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوئَ کَ))۔ [صحیح۔ أخرجہ أبو داؤد ۱۷۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٢٩) سیدنا ابن عباس (رض) پڑھا کرتے تھے : { وَامْسَحُوا بِرُئُ وسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ } اور فرماتے پاؤں کا حکم دھونے کی طرف لوٹ گیا۔
(۳۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ: الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ زَکَرِیَّا الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّہُ کَانَ یُقْرَأُ { وَامْسَحُوا بِرُئُ وسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ } قَالَ: عَادَ الأَمْرُ إِلَی الْغَسْلِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٣٠) سیدنا علی (رض) بھی اسی طرح پڑھا کرتے تھے (یعنی أَرْجُلَکُمْ ) ۔
(۳۳۰) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ مَوْلَی قُرَیْشٍ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الرَّبِیعِ عَنْ عَلِیٍّ: أَنَّہُ کَانَ یَقْرَؤُہَا کَذَلِکَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٣١) سیدنا ابن مسعود (رض) { وَأَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ } پڑھا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ پاؤں دھونے کا حکم ہے۔
(۳۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قَیْسُ بْنُ الرَّبِیعِ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ أَنَّہُ کَانَ یَقْرَأُ { وَأَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ } قَالَ: رَجَعَ الأَمْرُ إِلَی الْغَسْلِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٣٢) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ قرآن کا حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے (یعنی پاؤں کو دھونے کا حکم ہے) اور آپ نے { وَأَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ } نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔
(۳۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: رَجَعَ الْقُرْآنُ إِلَی الْغَسْلِ وَقَرَأَ {وَأَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ} بِنَصْبِہَا۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن ابی شیبہ ۱۹۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٣٣) مجاہد فرماتے ہیں : قرآن کا حکم دھونے کی طرف لوٹ آیا ہے اور آپ نے { وَأَرْجُلَکُمْ } نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔
(۳۳۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ قَیْسٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: رَجَعَ الْقُرْآنُ إِلَی الْغَسْلِ وَقَرَأَ { وَأَرْجُلَکُمْ } بِنَصْبِہَا۔
[صحیح۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح المعانی ۱/۴۰]
[صحیح۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح المعانی ۱/۴۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٣٤) عطاء سے روایت کہ وہ { وَأَرْجُلَکُمْ } کو منصوب پڑھا کرتے تھے۔
(۳۳۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ قَیْسٍ عَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ کَانَ یَقْرَؤُہَا {وَأَرْجُلَکُمْ} نَصَبًا۔ [ضعیف جدًا]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٣٥) حضرت عبد الرحمن (رض) { وَأَرْجُلَکُمْ } کو منصوب پڑھا کرتے تھے۔
(۳۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی عَنْ أُسَیْدِ بْنِ یَزِیدَ: أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجَ کَانَ یَنْصِبُہَا {وَأَرْجُلَکُمْ}
قَالَ وَأَخْبَرَنَا ہَارُونُ بْنُ مُوسَی عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ غَیْلاَنَ {وَأَرْجُلَکُمْ} نَصَبًا۔ [ضعیف]
قَالَ وَأَخْبَرَنَا ہَارُونُ بْنُ مُوسَی عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ غَیْلاَنَ {وَأَرْجُلَکُمْ} نَصَبًا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٣٦) عیسیٰ بن میناء قالون فرماتے ہیں کہ میں نے نافع بن عبد الرحمن بن ابو نعیم قاری سے یہ قراءت کئی مرتبہ پڑھی، انھوں نے بھی { بِرُئُ وسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ } منصوب پڑھا ہے۔
(۳۳۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ مِینَائَ قَالُونُ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَی نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی نُعَیْمٍ الْقَارِئِ ہَذِہِ الْقِرَائَ ۃَ غَیْرَ مَرَّۃٍ فَذَکَرَ فِیہَا { بِرُئُ وسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ} مَفْتُوحَۃً۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٣٧) (الف) ولید بن حسان ثوری نے ابو محمد یعقوب بن اسحاق بن یزید حضرمی پر قرآن پڑھا اور وہ قرآن کی قراءت وں کے عالم تھے، انھوں نے بھی { وَأَرْجُلَکُمْ } کو منصوب پڑھا ہے۔
(ب) ابراہیم بن یزید تیمی بھی اس کو منصوب پڑھا کرتے تھے۔
(ج) کسائی فرماتے ہیں کہ تمام نحوی اس کو منصوب پڑھا کرتے تھے اور جس نے اس کو مجرور پڑھا ہے وہ قریب ہونے کی بنا پر پڑھا ہے۔
(د) اعمش فرماتے ہیں : وہ اسے مجرور پڑھتے تھے اور پاؤں دھوتے تھے۔
(ب) ابراہیم بن یزید تیمی بھی اس کو منصوب پڑھا کرتے تھے۔
(ج) کسائی فرماتے ہیں کہ تمام نحوی اس کو منصوب پڑھا کرتے تھے اور جس نے اس کو مجرور پڑھا ہے وہ قریب ہونے کی بنا پر پڑھا ہے۔
(د) اعمش فرماتے ہیں : وہ اسے مجرور پڑھتے تھے اور پاؤں دھوتے تھے۔
(۳۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ وَأَبُو سَعِیدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَہْمِ أَخْبَرَنِی الْوَلِیدُ بْنُ حَسَّانَ الثَّوْرِیُّ: أَنَّہُ قَرَأَ الْقُرْآنَ عَلَی أَبِی مُحَمَّدٍ: یَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ یَزِیدَ الْحَضْرَمِیِّ وَکَانَ عَالِمًا بِوُجُوہِ الْقِرَائَ اتِ وَذَکَرَ فِیہَا {وَأَرْجُلَکُمْ} مُنْتَصِبَ اللاَّمِ۔
(ت)وَبَلَغَنِی عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ یَزِیدَ التَّیْمِیِّ أَنَّہُ کَانَ یَقْرَؤُہَا نَصْبًا۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَامِرٍ الْیَحْصُبِیِّ وَعَنْ عَاصِمٍ بِرِوَایَۃِ حَفْصٍ وَعَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَیَّاشٍ بِرِوَایَۃِ الأَعْشَی وَعَنِ الْکِسَائِیِّ کُلُّ ہَؤُلاَئِ نَصَبُوہَا وَمَنْ خَفَضَہَا فَإِنَّمَا ہُوَ لِلْمُجَاوَرَۃِ۔
قَالَ الأَعْمَشُ: کَانُوا یَقْرَئُ ونَہَا بِالْخَفْضِ وَکَانُوا یَغْسِلُونَ۔ [صحیح]
(ت)وَبَلَغَنِی عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ یَزِیدَ التَّیْمِیِّ أَنَّہُ کَانَ یَقْرَؤُہَا نَصْبًا۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَامِرٍ الْیَحْصُبِیِّ وَعَنْ عَاصِمٍ بِرِوَایَۃِ حَفْصٍ وَعَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَیَّاشٍ بِرِوَایَۃِ الأَعْشَی وَعَنِ الْکِسَائِیِّ کُلُّ ہَؤُلاَئِ نَصَبُوہَا وَمَنْ خَفَضَہَا فَإِنَّمَا ہُوَ لِلْمُجَاوَرَۃِ۔
قَالَ الأَعْمَشُ: کَانُوا یَقْرَئُ ونَہَا بِالْخَفْضِ وَکَانُوا یَغْسِلُونَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٣٨) (الف) سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں : قدموں کو ٹخنوں تک اس طرح دھوؤ جس طرح تم کو حکم دیا گیا ہے۔
(ب) عمرو بن عبسہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وضو کے بارے میں نقل فرماتے ہیں : آپ نے اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک اس طرح دھویا جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں حکم دیا ہے۔ اس کی دلیل ہے کہ اللہ نے پاؤں دھونے کا حکم دیا ہے۔
(ب) عمرو بن عبسہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وضو کے بارے میں نقل فرماتے ہیں : آپ نے اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک اس طرح دھویا جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں حکم دیا ہے۔ اس کی دلیل ہے کہ اللہ نے پاؤں دھونے کا حکم دیا ہے۔
(۳۳۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ وَأَبُو الْقَاسِمِ: طَلْحَۃُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الصَّقْرِ بِبَغْدَادَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الآدَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَیْقٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ أَنَّہُ قَالَ: اغْسِلُوا الْقَدَمَیْنِ إِلَی الْکَعْبَیْنِ کَمَا أُمِرْتُمْ۔
(ت) وَرُوِّینَا فِی الْحَدِیثِ الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-فِی الْوُضُوئِ ثُمَّ یَغْسِلُ قَدَمَیْہِ إِلَی الْکَعْبَیْنِ کَمَا أَمَرَہُ اللَّہُ تَعَالَی۔(ق)وَفِی ذَلِکَ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ اللَّہَ تَعَالَی أَمَرَ بَغَسْلِہِمَا۔
وَأَمَّا الأَثَرُ الَّذِی: [ضعیف]
(ت) وَرُوِّینَا فِی الْحَدِیثِ الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-فِی الْوُضُوئِ ثُمَّ یَغْسِلُ قَدَمَیْہِ إِلَی الْکَعْبَیْنِ کَمَا أَمَرَہُ اللَّہُ تَعَالَی۔(ق)وَفِی ذَلِکَ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ اللَّہَ تَعَالَی أَمَرَ بَغَسْلِہِمَا۔
وَأَمَّا الأَثَرُ الَّذِی: [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٣٩) موسیٰ بن انس فرماتے ہیں کہ حجاج بن یوسف نے لوگوں کو خطبہ دیا کہ اپنے چہروں، ہاتھوں اور پاؤں کو دھوؤ اور اس کے ظاہری اور اندرونی اور اوپر والے حصے کو دھوؤ، بیشک یہ تمہاری جنت کے زیادہ قریب ہے (یعنی جنت میں لے جانے کا سبب ہے) ۔
(ب) سیدنا انس (رض) فرماتے ہیں : اللہ نے سچ کہا اور حجاج نے جھوٹ کہا : وہ أَرْجُلَکُمْ کو مجرور پڑھتے تھے۔
(ج) سیدنا انس (رض) نے اس قراءت کا انکار کیا ہے جس میں غسل کا تذکرہ نہیں ہے۔ اسی طرح ہم نے سیدنا انس بن مالک کی وہ روایت بیان کی ہے جس میں غسل کے وجوب کا ذکر ہے۔
(ب) سیدنا انس (رض) فرماتے ہیں : اللہ نے سچ کہا اور حجاج نے جھوٹ کہا : وہ أَرْجُلَکُمْ کو مجرور پڑھتے تھے۔
(ج) سیدنا انس (رض) نے اس قراءت کا انکار کیا ہے جس میں غسل کا تذکرہ نہیں ہے۔ اسی طرح ہم نے سیدنا انس بن مالک کی وہ روایت بیان کی ہے جس میں غسل کے وجوب کا ذکر ہے۔
(۳۳۹) أَخْبَرَنَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا حُمَیْدٍ عَنْ مُوسَی بْنِ أَنَسٍ قَالَ: خَطَبَ الْحَجَّاجُ بْنُ یُوسُفَ النَّاسَ فَقَالَ: اغْسِلُوا وُجُوہَکُمْ وَأَیْدِیَکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ فَاغْسِلُوا ظَاہِرَہُمَا وَبَاطِنَہُمَا وَعَرَاقِیبَہُمَا ، فَإِنَّ ذَلِکَ أَقْرَبُ إِلَی جَنَّتِکُمْ۔فَقَالَ أَنَسٌ: صَدَقَ اللَّہُ وَکَذَبَ الْحَجَّاجُ ((فَامْسَحُوا بِرُئُ وسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَیْنِ)) قَالَ: قَرَأَہَا جَرًّا۔
(ق) فَإِنَّمَا أَنْکَرَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ الْقِرَائَ ۃَ دُونَ الْغَسْلِ فَقَدْ رُوِّینَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-مَا دَلَّ عَلَی وُجُوبِ الْغَسْلِ۔ وَأَمَّا الَّذِی: [حسن]
(ق) فَإِنَّمَا أَنْکَرَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ الْقِرَائَ ۃَ دُونَ الْغَسْلِ فَقَدْ رُوِّینَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-مَا دَلَّ عَلَی وُجُوبِ الْغَسْلِ۔ وَأَمَّا الَّذِی: [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٤٠) عبداللہ بن محمد بن عقیل بیان کرتے ہیں کہ علی بن حسین (رض) نے انھیں ربیع بنت معوذ (رض) کی طرف بھیجا کہ وہ رسول اللہ کے وضو کے (طریقے کے) بارے میں پوچھے، انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کے طریقے کے بارے میں حدیث بیان کی، جس میں ہے کہ آپ نے اپنے پاؤں کو دھویا۔ فرماتی ہیں کہ میرے پاس ابن عباس (رض) آئے، میں نے انھیں حدیث بیان کی تو انھوں نے فرمایا کہ میں صرف کتاب (قرآن) میں دو دفعہ دھونے اور دو بار مسح کو پاتا ہوں۔
اگر یہ بات صحیح ہو تو اس میں احتمال ہے کہ ابن عباس (رض) قراءت کو مجرور خیال کرتے تھے، حالانکہ وہ مسح کا تقاضا کرتی ہے۔ جب ابن عباس (رض) کو یہ بات پہنچی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے نہ دھونے والے کو ڈانٹا ہے یا کسی چیز کے چھوڑنے کو ڈانٹا ہے تو پھر ابن عباس (رض) پاؤں کے دھونے کو واجب سمجھتے تھے اور آیت کو منصوب پڑھتے تھے۔ ابن عباس (رض) سے منصوب پڑھنے کی قراءت بھی روایت کی گئی ہے۔
اگر یہ بات صحیح ہو تو اس میں احتمال ہے کہ ابن عباس (رض) قراءت کو مجرور خیال کرتے تھے، حالانکہ وہ مسح کا تقاضا کرتی ہے۔ جب ابن عباس (رض) کو یہ بات پہنچی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے نہ دھونے والے کو ڈانٹا ہے یا کسی چیز کے چھوڑنے کو ڈانٹا ہے تو پھر ابن عباس (رض) پاؤں کے دھونے کو واجب سمجھتے تھے اور آیت کو منصوب پڑھتے تھے۔ ابن عباس (رض) سے منصوب پڑھنے کی قراءت بھی روایت کی گئی ہے۔
(۳۴۰) أَخْبَرَنَا الْفَقِیہُ أَبُو بَکْرِ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ یَزِیدَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ قَالَ: حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ: أَنَّ عَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ أَرْسَلَہُ إِلَی الرُّبَیِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ یَسْأَلُہَا عَنْ وُضُوئِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی صِفَۃِ وُضُوئِ النَّبِیِّ -ﷺ-وَفِیہِ قَالَتْ: ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ۔ قَالَتْ: وَقَدْ أَتَانِی ابْنُ عَمٍّ لَکَ تَعْنِی ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُہُ فَقَالَ: مَا أَجِدُ فِی الْکِتَابِ إِلاَّ غَسْلَتَیْنِ وَمَسْحَتَیْنِ۔
(ق) فَہَذَا إِنْ صَحَّ فَیَحْتَمِلُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یَرَی الْقِرَائَ ۃَ بِالْخَفْضِ وَأَنَّہَا تَقْتَضِی الْمَسْحَ ثُمَّ لَمَّا بَلَغَہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ-تَوَعَّدَ عَلَی تَرْکِ غَسْلِہِمَا أَوْ تَرْکِ شَیْئٍ مِنْہُمَا ذَہَبَ إِلَی وُجُوبِ غَسْلِہِمَا وَقَرَأَہَا نَصَبًا وَقَدْ رُوِّینَا عَنْہُ أَنَّہُ قَرَأَہَا نَصَبًا۔ وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی: [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۹۶]
(ق) فَہَذَا إِنْ صَحَّ فَیَحْتَمِلُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یَرَی الْقِرَائَ ۃَ بِالْخَفْضِ وَأَنَّہَا تَقْتَضِی الْمَسْحَ ثُمَّ لَمَّا بَلَغَہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ-تَوَعَّدَ عَلَی تَرْکِ غَسْلِہِمَا أَوْ تَرْکِ شَیْئٍ مِنْہُمَا ذَہَبَ إِلَی وُجُوبِ غَسْلِہِمَا وَقَرَأَہَا نَصَبًا وَقَدْ رُوِّینَا عَنْہُ أَنَّہُ قَرَأَہَا نَصَبًا۔ وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی: [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۹۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٤١) عطاء بن یسار کہتے ہیں : ہم کو سیدنا ابن عباس (رض) نے کہا : کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تم کو بتلاؤں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیسے وضو کیا کرتے تھے ؟ پھر لمبی حدیث ذکر کی، فرماتے ہیں : پھر آپ نے دوسرا چلو بھرا تو اپنے پاؤں پر چھڑ کا اور اس میں جوتی تھی اور بائیں پاؤں میں بھی ایسا ہی کیا اور جوتیوں کے نیچے مسح کیا۔
(۳۴۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَیْہِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنَا زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ قَالَ لَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتُحِبُّونَ أَنْ أُحَدِّثَکُمْ کَیْفَ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-یَتَوَضَّأُ؟ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ: ثُمَّ اغْتَرَفَ غَرْفَۃً أُخْرَی فَرَشَّ عَلَی رِجْلِہِ وَفِیہَا النَّعْلُ ، وَالْیُسْرَی مِثْلَ ذَلِکَ ، وَمَسَحَ بِأَسْفَلِ النَّعْلَیْنِ۔
[صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۳۷]
[صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۳۷]
তাহকীক: