আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৭৩ টি
হাদীস নং: ১২২১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیادہ پانی نجاست گرنے سے ناپاک نہیں ہوتا جب تک تبدیل نہ ہوجائے
(١٢٢٢) سیدنا عکرمہ (رض) سے روایت ہے کہ سیدنا عمر (رض) مجنہ کے حوض کے پاس آئے۔ عرض کیا گیا : اے امیر المومنین ! ابھی ابھی کتے نے اس میں منہ ڈالا ہے تو انھوں نے کہا : کتا اپنی زبان سے پیتا ہے۔ پھر انھوں نے (پانی) پیا اور وضو کیا۔
(ب) سیدنا عکرمہ (رض) سے یہی قصہ منقول ہے۔ اس میں ہے کہ وہ چلا گیا جس میں اس نے منہ ڈالا۔ یعنی کتے وہ پانی اپنے پیٹوں میں لے گئے۔
(ب) سیدنا عکرمہ (رض) سے یہی قصہ منقول ہے۔ اس میں ہے کہ وہ چلا گیا جس میں اس نے منہ ڈالا۔ یعنی کتے وہ پانی اپنے پیٹوں میں لے گئے۔
(۱۲۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الإِسْفَرَائِنِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَہَارِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ عِکْرِمَۃَ : أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَرَدَ حَوْضَ مَجَنَّۃَ فَقِیلَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّمَا وَلَغَ الْکَلْبُ فِیہِ آنِفًا۔ فَقَالَ : إِنَّمَا وَلَغَ الْکَلْبُ بِلِسَانِہِ۔ فَشَرِبَ وَتَوَضَّأَ۔
وَرُوِیَ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ فِی ہَذِہِ الْقَصَّۃِ قَالَ : قَدْ ذَہَبَتْ بِمَا وَلَغَتْ۔ یَعْنِی الْکِلاَبَ فِی بُطُونِہَا۔
وَہَذِہِ قِصَّۃٌ مَشْہُورَۃٌ عَنْ عُمَرَ وَإِنْ کَانَتْ مَرْسَلَۃً ، وَقَدْ رُوِّینَا فِی مَعْنَاہَا عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ عُمَرَ۔ [ضعیف۔ أخرجہ عبد الرزاق ۲۴۹]
وَرُوِیَ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ فِی ہَذِہِ الْقَصَّۃِ قَالَ : قَدْ ذَہَبَتْ بِمَا وَلَغَتْ۔ یَعْنِی الْکِلاَبَ فِی بُطُونِہَا۔
وَہَذِہِ قِصَّۃٌ مَشْہُورَۃٌ عَنْ عُمَرَ وَإِنْ کَانَتْ مَرْسَلَۃً ، وَقَدْ رُوِّینَا فِی مَعْنَاہَا عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ عَنْ عُمَرَ۔ [ضعیف۔ أخرجہ عبد الرزاق ۲۴۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیادہ پانی نجاست گرنے سے ناپاک نہیں ہوتا جب تک تبدیل نہ ہوجائے
(١٢٢٣) منبوذ اپنے والدہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم میمونہ (رض) کے ساتھ سفر کر رہے تھے ۔ وہ کنویں کے پاس سے گزریں، اس میں اونٹ کا گوبر اور کیڑے تھے تو انھوں اس سے پیا اور وضو کیا۔ سفیان کہتے ہیں : اس میں شک نہیں ہے انھوں نے پینے کا ارادہ کیا تو پیا اور جب وضو کا ارادہ کیا تو وضو کیا۔
(۱۲۲۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ الإِسْفَرَائِنِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَحْرٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا مَنْبُوذٌ عَنْ أُمَّہِ قَالَتْ : کُنَّا نُسَافِرُ مَعَ مَیْمُونَۃَ فَتَمُرُّ بِالْغَدِیرِ فِیہِ الْبَعْرُ وَالْجُعْلاَنُ ، فَتَشْرَبُ مِنْہُ أَوْ تَوَضَّأُ بِہِ۔ قَالَ سُفْیَانُ : وَہَذَا لَیْسَ بِشَکٍّ ، إِنَّمَا أَرَادَ تَشْرَبُ إِنْ أَرَادَتْ أَوْ تَوَضَّأُ إِنْ أَرَادَتْ۔
[ضعیف۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ ۱۵۱۰]
[ضعیف۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ ۱۵۱۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیادہ پانی نجاست گرنے سے ناپاک نہیں ہوتا جب تک تبدیل نہ ہوجائے
(١٢٢٤) (الف) داؤد بن أبی ہند فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا کہ تمام پانی پاک ہے، اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
(ب) سعید بن مسیب ہی سے منقول ہے کہ ہم نے ان سے ان حوضوں کے متعلق پوچھا جن میں کتے پانی پیتے ہیں۔ انھوں نے کہا : پانی پاک اتارا گیا ہے اور اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
(ب) سعید بن مسیب ہی سے منقول ہے کہ ہم نے ان سے ان حوضوں کے متعلق پوچھا جن میں کتے پانی پیتے ہیں۔ انھوں نے کہا : پانی پاک اتارا گیا ہے اور اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
(۱۲۲۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَۃَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یَقُولُ : إِنَّ الْمَائَ طَہُورٌ کُلَّہُ لاَ یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ۔
وَزَادَ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ دَاوُدَ عَنْ سَعِیدٍ : سَأَلْنَاہُ عَنِ الْحِیَاضِ تَلَغُ فِیہَا الْکِلاَبُ قَالَ : أُنْزِلَ الْمَائُ طَہُورًا لاَ یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ۔ [صحیح۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۲۹]
وَزَادَ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ دَاوُدَ عَنْ سَعِیدٍ : سَأَلْنَاہُ عَنِ الْحِیَاضِ تَلَغُ فِیہَا الْکِلاَبُ قَالَ : أُنْزِلَ الْمَائُ طَہُورًا لاَ یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ۔ [صحیح۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۲۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیادہ پانی نجاست گرنے سے ناپاک نہیں ہوتا جب تک تبدیل نہ ہوجائے
(١٢٢٥) امام زہری اس کنویں کے متعلق بیان کرتے ہیں، جس میں چوپائے گر جانے کے بعد مرجاتے ہیں کہ پانی پاک ہے جب تک کم نہ ہو، پھر مردار اس کے ذائقے اور بو کو ناپاک کردیتا ہے۔
(۱۲۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ : فِی الْغَدِیرِ تَقَعُ فِیہِ الدَّابَّۃُ فَتَمُوتُ قَالَ : الْمَائُ طَہُورٌ مَا لَمْ یَقِلَّ فَتُنَجِّسُہُ الْمَیْتَۃُ طَعْمَہُ أَوْ رِیحَہُ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیادہ پانی ناپاک ہے اگر نجاست اسے تبدیل کر دے
(١٢٢٦) سیدنا ابوامامہ باہلی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی، مگر جب اس کے ذائقے اور بوپر غالب آجائے۔
(۱۲۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا رِشْدِینُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((الْمَائُ لاَ یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ إِلاَّ مَا غَلَبَ عَلَیْہِ طَعْمِہِ أَوْ رِیحِہِ))۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن ماجہ ۵۲۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیادہ پانی ناپاک ہے اگر نجاست اسے تبدیل کر دے
(١٢٢٧) ابو ازہر نے اپنی سند سے پچھلی حدیث کی طرح نقل کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب پانی دو مٹکے ہو تو اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی مگر جو اس کے ذائقے اور بوپر غالب آجائے۔ “
(۱۲۲۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ مِثْلَہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -قَالَ : ((إِذَا کَانَ الْمَائُ قُلَّتَیْنِ لَمْ یُنَجِّسْہُ شَیْئٌ إِلاَّ مَا غَلَبَہُ رِیحَہُ أَوْ طَعْمَہُ))۔ کَذَا وَجَدْتُہُ وَلَفْظُ الْقُلَّتَیْنِ فِیہِ غَرِیبٌ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیادہ پانی ناپاک ہے اگر نجاست اسے تبدیل کر دے
(١٢٢٨) سیدنا ابو امامہ باہلی (رض) سے منقول ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” پانی پاک ہیجب تک اس کی بو ، ذائقہ یا رنگ نجاست گرنے سے تبدیل نہ ہوجائے۔ “
(۱۲۲۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا الشَّامَاتِیُّ حَدَّثَنَا عَطِیَّۃُ بْنُ بَقِیَّۃَ بْنِ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ ثَوْرِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -قَالَ : ((إِنَّ الْمَائَ طَاہِرٌ إِلاَّ إِنْ تَغَیَّرَ رِیحُہُ أَوْ طَعْمُہُ أَوْ لَوْنُہُ بِنَجَاسَۃٍ تَحْدُثُ فِیہِ))۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیادہ پانی ناپاک ہے اگر نجاست اسے تبدیل کر دے
(١٢٢٩) سیدنا ابو امامہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” پانی ناپاک نہیں ہوتاجب تک اس کی بو اور ذائقہ تبدیل نہ ہو۔ “
(۱۲۲۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُوحَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوأَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: أَحْمَدُ بْنُ عُمَیْرِ بْنِ یُوسُفَ الدِّمَشْقِیُّ بِدِمَشْقَ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَیَّۃَ یَعْنِی مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ یَزِیدَ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((الْمَائُ لاَ یَنْجُسُ إِلاَّ مَا غَیَّرَ رِیحَہُ أَوْ طَعْمَہُ))۔
وَرَوَاہُ عِیسَی بْنُ یُونُسَ عَنِ الأَحْوَصِ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -مُرْسَلاً۔ وَرَوَاہُ أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الأَحْوَصِ عَنِ أَبِی عَوْنٍ وَرَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ مِنْ قَوْلِہِمَا۔ وَالْحَدِیثُ غَیْرُ قَوِیٍّ۔
إِلاَّ أَنَّا لاَ نَعْلَمُ فِی نَجَاسَۃِ الْمَائِ إِذَا تَغَیَّرَ بِالنَّجَاسَۃِ خِلاَفًا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
وَرَوَاہُ عِیسَی بْنُ یُونُسَ عَنِ الأَحْوَصِ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -مُرْسَلاً۔ وَرَوَاہُ أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الأَحْوَصِ عَنِ أَبِی عَوْنٍ وَرَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ مِنْ قَوْلِہِمَا۔ وَالْحَدِیثُ غَیْرُ قَوِیٍّ۔
إِلاَّ أَنَّا لاَ نَعْلَمُ فِی نَجَاسَۃِ الْمَائِ إِذَا تَغَیَّرَ بِالنَّجَاسَۃِ خِلاَفًا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زیادہ پانی ناپاک ہے اگر نجاست اسے تبدیل کر دے
(١٢٣٠) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جب پانی کا ذائقہ ، بو اور رنگ تبدیل ہوجائے تو وہ ناپاک ہوگا والی روایت ایسی سند سے منقول ہے جو محدثین کے ہاں ثابت نہیں۔ یہی جمہور کا قول ہے۔ مجھے ان کے اختلاف کا علم نہیں۔
(۱۲۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ حَدَّثَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ : وَمَا قُلْتُ مِنْ أَنَّہُ إِذَا تَغَیَّرَ طَعْمُ الْمَائِ وَرِیحُہُ وَلَوْنُہُ کَانَ نَجِسًا یُرْوَی عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -مِنْ وَجْہٍ لاَ یُثْبِتُ أَہْلُ الْحَدِیثِ مِثْلَہُ ، وَہُوَ قَوْلُ الْعَامَّۃِ لاَ أَعْلَمَ بَیْنَہُمْ فِیہِ خِلاَفًا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم پانی کے درمیان فرق جو ناپاک ہوتا ہے اور زیادہ کے درمیان جو ناپاک نہیں ہوتا جب تک وہ تبدیل نہ ہو
(١٢٣١) عبید اللہ بن عبداللہ بن عمر (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس پانی کے متعلق سوال کیا گیا جس پر درندے اور چوپائے آتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب پانی دو مٹکے ہو تو وہ گندگی نہیں اٹھاتا (یعنی ناپاک نہیں ہوتا) ۔ “
(۱۲۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوسَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو وَأَبُوصَادِقٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ یَعْنِی ابْنَ الزُّبَیْرِ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -عَنِ الْمَائِ وَمَا یَنُوبُہُ مِنَ السِّبَاعِ وَالدَّوَابِّ فَقَالَ: ((إِذَا کَانَ الْمَائِ قُلَّتَیْنِ لَمْ یَحْمِلِ الْخَبَثَ))۔
وَہَکَذَا رَوَاہُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحَنْظَلِیُّ وَجَمَاعَۃٌ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ أبو داؤد۶۳]
وَہَکَذَا رَوَاہُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحَنْظَلِیُّ وَجَمَاعَۃٌ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ أبو داؤد۶۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم پانی کے درمیان فرق جو ناپاک ہوتا ہے اور زیادہ کے درمیان جو ناپاک نہیں ہوتا جب تک وہ تبدیل نہ ہو
(١٢٣٢) عبید اللہ بن عبداللہ بن عمر (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب پانی دو مٹکے ہو تو وہ گندگی نہیں اٹھاتا (یعنی ناپاک نہیں ہوتا) ۔
(ب) امام دارقطنی ان دونوں روایات کے متعلق کہتے ہیں کہ جب سند میں علی بن اسامہ پر اختلاف ہے تو ہمیں خواہش ہوئی کہ یہ جانیں کہ درست کیا ہے ؟ غور کرنے سے معلوم ہوا کہ شعیب بن ایوب نے دونوں سندوں میں ابو اسامہ ولید بن کثیر سے روایت کیا ہے تو ابو اسامہ سے دونوں قول صحیح ثابت ہیں۔ ولیدبن کثیر بھی دونوں سے نقل کرتا ہے۔ ابو اسامہ کبھی ولید بن کثیر عن محمد بن جعفر بن زبیر بیان کرتا ہے اور کبھی ولید عن محمد بن عباد بن جعفر بیان کرتا ہے۔ واللہ اعلم
(ب) امام دارقطنی ان دونوں روایات کے متعلق کہتے ہیں کہ جب سند میں علی بن اسامہ پر اختلاف ہے تو ہمیں خواہش ہوئی کہ یہ جانیں کہ درست کیا ہے ؟ غور کرنے سے معلوم ہوا کہ شعیب بن ایوب نے دونوں سندوں میں ابو اسامہ ولید بن کثیر سے روایت کیا ہے تو ابو اسامہ سے دونوں قول صحیح ثابت ہیں۔ ولیدبن کثیر بھی دونوں سے نقل کرتا ہے۔ ابو اسامہ کبھی ولید بن کثیر عن محمد بن جعفر بن زبیر بیان کرتا ہے اور کبھی ولید عن محمد بن عباد بن جعفر بیان کرتا ہے۔ واللہ اعلم
(۱۲۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الإِسْفَرَائِنِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَحْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ کَوْثَرٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ : حَمَّادُ بْنُ أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ کَثِیرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : ((إِذَا کَانَ الْمَائُ قُلَّتَیْنِ لَمْ یَحْمِلْ خَبَثًا))۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ کَرَامَۃَ وَجَمَاعَۃٌ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالَ قَالَ أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِیُّ الْحَافِظُ فِی ہَاتَیْنِ الرِّوَایَتَیْنِ: فَلَمَّا اخْتُلِفَ عَلَی أَبِی أُسَامَۃَ فِی إِسْنَادِہِ أَحْبَبْنَا أَنْ نَعْلَمَ مَنْ أَتَی بِالصَّوَابِ، فَنَظَرْنَا فِی ذَلِکَ فَإِذَا شُعَیْبُ بْنُ أَیُّوبَ قَدْ رَوَاہُ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ عَلَی الْوَجْہَیْنِ جَمِیعًا ، فَصَحَّ الْقَوْلاَنِ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ ، وَصَحَّ أَنَّ الْوَلِیدَ بْنَ کَثِیرٍ رَوَاہُ عَنْہُمَا جَمِیعًا، فَکَانَ أَبُو أُسَامَۃَ مَرَّۃً یُحَدِّثُ بِہِ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ وَمَرَّۃً یُحَدِّثُ بِہِ عَنِ الْوَلِیدِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ کَرَامَۃَ وَجَمَاعَۃٌ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالَ قَالَ أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الدَّارَقُطْنِیُّ الْحَافِظُ فِی ہَاتَیْنِ الرِّوَایَتَیْنِ: فَلَمَّا اخْتُلِفَ عَلَی أَبِی أُسَامَۃَ فِی إِسْنَادِہِ أَحْبَبْنَا أَنْ نَعْلَمَ مَنْ أَتَی بِالصَّوَابِ، فَنَظَرْنَا فِی ذَلِکَ فَإِذَا شُعَیْبُ بْنُ أَیُّوبَ قَدْ رَوَاہُ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ عَلَی الْوَجْہَیْنِ جَمِیعًا ، فَصَحَّ الْقَوْلاَنِ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ ، وَصَحَّ أَنَّ الْوَلِیدَ بْنَ کَثِیرٍ رَوَاہُ عَنْہُمَا جَمِیعًا، فَکَانَ أَبُو أُسَامَۃَ مَرَّۃً یُحَدِّثُ بِہِ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ وَمَرَّۃً یُحَدِّثُ بِہِ عَنِ الْوَلِیدِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم پانی کے درمیان فرق جو ناپاک ہوتا ہے اور زیادہ کے درمیان جو ناپاک نہیں ہوتا جب تک وہ تبدیل نہ ہو
(١٢٣٣) عبید اللہ بن عبداللہ بن عمر (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پانی کے متعلق سوال کیا گیا جس پر درندے اور چوپائے آتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب پانی دو مٹکے ہو تو وہ گندگی نہیں اٹھاتا (یعنی ناپاک نہیں ہوتا) ۔ “
(۱۲۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ الصَّیْدَلاَنِیُّ بِوَاسِطٍ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -سُئِلَ عَنِ الْمَائِ وَمَا یَنُوبُہُ مِنَ السِّبَاعِ وَالدَّوَابِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((إِذَا کَانَ الْمَائُ قُلَّتَیْنِ لَمْ یَحْمِلِ الْخَبَثَ))۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم پانی کے درمیان فرق جو ناپاک ہوتا ہے اور زیادہ کے درمیان جو ناپاک نہیں ہوتا جب تک وہ تبدیل نہ ہو
(١٢٣٤) عبداللہ بن عبداللہ بن عمر (رض) اپنے والد سے اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح نقل فرماتے ہیں۔
(۱۲۳۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبُو بَکْرٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیٌّ حَدَّثَنَا ابْنُ سَعْدَانَ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -مِثْلَہُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم پانی کے درمیان فرق جو ناپاک ہوتا ہے اور زیادہ کے درمیان جو ناپاک نہیں ہوتا جب تک وہ تبدیل نہ ہو
(١٢٣٥) عبید اللہ بن عبداللہ بن عمر (رض) اپنیوالد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پانی کے متعلق سوال کیا گیا۔۔۔ انھوں نے اس (پچھلی حدیث) کیطرحبیان کیا ہے۔
(۱۲۳۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو عَلِیٍّ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الإِسْفَرَائِنِیُّ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ وَأَنَا سَأَلْتُہُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُبَشِّرٍ الْوَاسِطِیِّ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ کَثِیرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -عَنِ الْمَائِ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔
وَقَدْ رُوِیَ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ کَمَا رَوَاہُ الْعَامِرِیُّ ، وَفِی الأُخْرَی کَمَا رَوَاہُ الْحُمَیْدِیُّ ، وَفِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیِّ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ کَمَا رَوَاہُ الْعَامِرِیُّ وَفِی الأُخْرَی کَمَا رَوَاہُ الْحُمَیْدِیُّ وَفِی کُلِّ ذَلِکَ دَلاَلَۃٌ عَلَی صِحَّۃِ الرِّوَایَتَیْنِ جَمِیعًا۔
أَمَّا الرِّوَایَۃُ الأُولَی عَنْ عُثْمَانَ۔[صحیح]
وَقَدْ رُوِیَ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ کَمَا رَوَاہُ الْعَامِرِیُّ ، وَفِی الأُخْرَی کَمَا رَوَاہُ الْحُمَیْدِیُّ ، وَفِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیِّ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ کَمَا رَوَاہُ الْعَامِرِیُّ وَفِی الأُخْرَی کَمَا رَوَاہُ الْحُمَیْدِیُّ وَفِی کُلِّ ذَلِکَ دَلاَلَۃٌ عَلَی صِحَّۃِ الرِّوَایَتَیْنِ جَمِیعًا۔
أَمَّا الرِّوَایَۃُ الأُولَی عَنْ عُثْمَانَ۔[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم پانی کے درمیان فرق جو ناپاک ہوتا ہے اور زیادہ کے درمیان جو ناپاک نہیں ہوتا جب تک وہ تبدیل نہ ہو
(١٢٣٦) محمد بن جعفر بن زبیر۔۔۔ نے اس کو بیان کیا ہے۔
(۱۲۳۶) فَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُاللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرٍ وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَاَمَۃَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ کَثِیرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ… فَذَکَرَہُ۔
وَأَمَّا الرِّوَایَۃُ الأُخْرَی عَنْہُ۔ [صحیح]
وَأَمَّا الرِّوَایَۃُ الأُخْرَی عَنْہُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم پانی کے درمیان فرق جو ناپاک ہوتا ہے اور زیادہ کے درمیان جو ناپاک نہیں ہوتا جب تک وہ تبدیل نہ ہو
(١٢٣٧) پہلی روایت احمد بن عبد الحمید سے ہے۔
(۱۲۳۷) فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ۔
وَأَمَّا الرِّوَایَۃُ الأُولَی عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الْحَمِیدِ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۶۳]
وَأَمَّا الرِّوَایَۃُ الأُولَی عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الْحَمِیدِ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۶۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم پانی کے درمیان فرق جو ناپاک ہوتا ہے اور زیادہ کے درمیان جو ناپاک نہیں ہوتا جب تک وہ تبدیل نہ ہو
(١٢٣٨) محمد بن جعفر بن زبیر۔۔۔ نے اس کو بیان کیا ہے۔
(۱۲۳۸) فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ … فَذَکَرَہُ۔
وَأَمَّا الرِّوَایَۃُ الأُخْرَی۔ [صحیح]
وَأَمَّا الرِّوَایَۃُ الأُخْرَی۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم پانی کے درمیان فرق جو ناپاک ہوتا ہے اور زیادہ کے درمیان جو ناپاک نہیں ہوتا جب تک وہ تبدیل نہ ہو
(١٢٣٩) محمد بن عباد بن جعفر۔۔۔ نے بیان کیا ہے۔
(۱۲۳۹) فَأَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِیدٍ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِالْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُوأُسَامَۃَ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ کَثِیرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ… فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم پانی کے درمیان فرق جو ناپاک ہوتا ہے اور زیادہ کے درمیان جو ناپاک نہیں ہوتا جب تک وہ تبدیل نہ ہو
(١٢٤٠) جریر محمد بن اسحاق سے بیان کرتے ہیں۔
(۱۲۴۰) وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ مُنِیبٍ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ۔ [صحیح لغیرہٖ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم پانی کے درمیان فرق جو ناپاک ہوتا ہے اور زیادہ کے درمیان جو ناپاک نہیں ہوتا جب تک وہ تبدیل نہ ہو
(١٢٤١) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پانی کے متعلق سوال کیا گیا جو وسیع میدان میں ہو اور اس پر چوپائے اور درندے آتے ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب پانی دو مٹکوں کی مقدار کے برابر ہو تو وہ گندگی نہیں اٹھاتا (یعنی ناپاک نہیں ہوتا) ۔ “
(۱۲۴۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِیٍّ الْحِمْصِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَہْبِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- وَسُئِلَ عَنِ الْمَائِ یَکُونُ بِأَرْضِ الْفَلاَۃِ وَمَا یَنُوبُہُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((إِذَا کَانَ الْمَائُ قَدْرَ قُلَّتَیْنِ لَمْ یَحْمِلِ الْخَبَثَ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظِ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ الزُّہْرِیُّ وَزَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ وَجَمَاعَۃٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ۔ صحیح لغیرہٖ أخرجہ الحاکم [۲۲۴۱۱]
لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظِ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ الزُّہْرِیُّ وَزَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ وَجَمَاعَۃٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ۔ صحیح لغیرہٖ أخرجہ الحاکم [۲۲۴۱۱]
তাহকীক: