আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৭৩ টি
হাদীস নং: ১২৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم پانی کے درمیان فرق جو ناپاک ہوتا ہے اور زیادہ کے درمیان جو ناپاک نہیں ہوتا جب تک وہ تبدیل نہ ہو
(١٢٤٢) عبید اللہ بن عبداللہ بن عمر (رض) اپنیوالد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (اس) پانی کے متعلق سوال کیا گیا جو پانی وسیع میدان میں ہوتا ہے جس پر درندے اور کتے آتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب پانی دو مٹکے ہو تو وہ گندگی نہیں اٹھاتا (یعنی ناپاک نہیں ہوتا) ۔ “
(ب) اسی طرح دوسری روایت میں ہے : ” کتے اور درندے “ اور یہ روایت غریب ہے۔
(ج) محمد بن اسحاق فرماتے ہیں : کتے اور چوپائے۔ اس کی سند میں ابن عیاش کے متعلق اختلاف ہے۔
(ب) اسی طرح دوسری روایت میں ہے : ” کتے اور درندے “ اور یہ روایت غریب ہے۔
(ج) محمد بن اسحاق فرماتے ہیں : کتے اور چوپائے۔ اس کی سند میں ابن عیاش کے متعلق اختلاف ہے۔
(۱۲۴۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ رَجَائٍ الأَدِیبُ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِہِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَیْہِ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ الصَّقْرِ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَائِشَۃَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- سُئِلَ عَنِ الْمَائِ یَکُونُ فِی الْفَلاَۃِ وَتَرِدُہُ السِّبَاعُ وَالْکِلاَبُ قَالَ: ((إِذَا کَانَ الْمَائُ قُلَّتَیْنِ لاَ یَحْمِلُ الْخَبَثَ))۔
کَذَا قَالَ : ((الْکِلاَبُ وَالسِّبَاعُ)) وَہُوَ غَرِیبٌ۔
وَکَذَلِکَ قَالَہُ مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ وَقَالَ إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ : الْکِلاَبُ وَالدَّوَابُّ۔ إِلاَّ أَنَّ ابْنَ عَیَّاشٍ اخْتُلِفَ عَلَیْہِ فِی إِسْنَادِہِ۔
وَرَوَی ہَذَا الْحَدِیثَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -وَفِیہِ قُوَّۃٌ لِرِوَایَۃِ ابْنِ إِسْحَاقَ۔ [صحیح لغیرہ]
کَذَا قَالَ : ((الْکِلاَبُ وَالسِّبَاعُ)) وَہُوَ غَرِیبٌ۔
وَکَذَلِکَ قَالَہُ مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ وَقَالَ إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ : الْکِلاَبُ وَالدَّوَابُّ۔ إِلاَّ أَنَّ ابْنَ عَیَّاشٍ اخْتُلِفَ عَلَیْہِ فِی إِسْنَادِہِ۔
وَرَوَی ہَذَا الْحَدِیثَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -وَفِیہِ قُوَّۃٌ لِرِوَایَۃِ ابْنِ إِسْحَاقَ۔ [صحیح لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم پانی کے درمیان فرق جو ناپاک ہوتا ہے اور زیادہ کے درمیان جو ناپاک نہیں ہوتا جب تک وہ تبدیل نہ ہو
(١٢٤٣) عبید اللہ بن عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے میرے باپ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب پانی دو مٹکے ہو تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔ “
(۱۲۴۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ الْمُنْذِرِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : ((إِذَا کَانَ الْمَائُ قُلَّتَیْنِ فَإِنَّہُ لاَ یَنْجُسُ))۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ بِشْرُ بْنُ السَّرِیِّ وَیَعْقُوبُ الْحَضْرَمِیُّ وَالْعَلاَئُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْمَکِّیُّ وَعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ وَأَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ عَنْ حَمَّادٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۶۵]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ بِشْرُ بْنُ السَّرِیِّ وَیَعْقُوبُ الْحَضْرَمِیُّ وَالْعَلاَئُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْمَکِّیُّ وَعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ وَأَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ عَنْ حَمَّادٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۶۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم پانی کے درمیان فرق جو ناپاک ہوتا ہے اور زیادہ کے درمیان جو ناپاک نہیں ہوتا جب تک وہ تبدیل نہ ہو
(١٢٤٤) عاصم بن منذر بن زبیر فرماتے ہیں کہ میں عبید اللہ بن عبداللہ بن عمر (رض) کے ساتھ باغ میں داخل ہوا، اس میں پانی کا مٹکا تھا، جو مردہ اونٹ کے چمڑے کا بنا ہواتھا۔ انھوں نے اس سے وضو کیا، میں نے کہا : کیا آپ اس سے وضو کرو گے اس میں مردہ اونٹ کا چمڑا ہے ؟ انھوں نے اپنے والد سے مجھ کو حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت بیان کی کہ جب پانی دو یا تین مٹکوں کی مقدار کے برابرہو تو اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
(۱۲۴۴) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ قَالاَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَجَّاجِ وَہُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ۔
عَنْ عَاصِمِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بُسْتَانًا فِیہِ مَقْرَی مَائٍ فِیہِ جِلْدُ بَعِیرٍ مَیِّتٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْہُ فَقُلْتُ: أَتَتَوَضَّأُ مِنْہُ وَفِیہِ جِلْدُ بَعِیرٍ مَیِّتٍ؟ فَحَدَّثَنِی عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : إِذَا بَلَغَ الْمَائُ قَدْرَ قُلَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثٍ لَمْ یُنَجِّسْہُ شَیْئٌ کَذَا قَالاَ أَوْ ثَلاَثٍ۔
وَکَذَلِکَ قَالَہُ یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ وَکَامِلُ بْنُ طَلْحَۃَ ، وَرِوِایَۃُ الْجَمَاعَۃِ الَّذِینَ لَمْ یَشُکُّوا أَوْلَی۔
[صحیح۔ أخرجہ الحاکم ۱/۲۲۷]
عَنْ عَاصِمِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بُسْتَانًا فِیہِ مَقْرَی مَائٍ فِیہِ جِلْدُ بَعِیرٍ مَیِّتٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْہُ فَقُلْتُ: أَتَتَوَضَّأُ مِنْہُ وَفِیہِ جِلْدُ بَعِیرٍ مَیِّتٍ؟ فَحَدَّثَنِی عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : إِذَا بَلَغَ الْمَائُ قَدْرَ قُلَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثٍ لَمْ یُنَجِّسْہُ شَیْئٌ کَذَا قَالاَ أَوْ ثَلاَثٍ۔
وَکَذَلِکَ قَالَہُ یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ وَکَامِلُ بْنُ طَلْحَۃَ ، وَرِوِایَۃُ الْجَمَاعَۃِ الَّذِینَ لَمْ یَشُکُّوا أَوْلَی۔
[صحیح۔ أخرجہ الحاکم ۱/۲۲۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم پانی کے درمیان فرق جو ناپاک ہوتا ہے اور زیادہ کے درمیان جو ناپاک نہیں ہوتا جب تک وہ تبدیل نہ ہو
(١٢٤٥) ابن عمر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب پانی دو مٹکے ہو تو اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
(ب) یہ روایت زائدہ سے موقوفاً منقول ہے اور یہی درست ہے۔
(ب) یہ روایت زائدہ سے موقوفاً منقول ہے اور یہی درست ہے۔
(۱۲۴۵) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْفَارِسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ الْمِصِّیصِیُّ عَنْ زَائِدَۃَ عَنْ لَیْثِ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -قَالَ : ((إِذَا کَانَ الْمَائُ قُلَّتَیْنِ فَلاَ یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ))۔
قَالَ عَلِیٌّ : رَفَعَہُ ہَذَا الشَّیْخُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ عَنْ زَائِدَۃَ۔ وَرَوَاہُ مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَائِدَۃَ مَوْقُوفًا وَہُوَ الصَّوَابُ۔ [صحیح لغیرہٖ]
قَالَ عَلِیٌّ : رَفَعَہُ ہَذَا الشَّیْخُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ عَنْ زَائِدَۃَ۔ وَرَوَاہُ مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَائِدَۃَ مَوْقُوفًا وَہُوَ الصَّوَابُ۔ [صحیح لغیرہٖ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم پانی کے درمیان فرق جو ناپاک ہوتا ہے اور زیادہ کے درمیان جو ناپاک نہیں ہوتا جب تک وہ تبدیل نہ ہو
(١٢٤٦) ابن عمر (رض) نے اس کی مثل موقوف روایت بیان کی ہے۔
(۱۲۴۶) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ أَخْبَرَنَا عَلِیٌّ قَالَ حَدَّثَنَا بِہِ الْقَاضِی الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ لَیْثٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَہُ مَوْقُوفًا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم پانی کے درمیان فرق جو ناپاک ہوتا ہے اور زیادہ کے درمیان جو ناپاک نہیں ہوتا جب تک وہ تبدیل نہ ہو
(١٢٤٧) مجاہد سے روایت ہے کہ ابن عباس (رض) نے کہا : جب پانی دو مٹکے یا اس سے زیادہ ہو تو اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
(۱۲۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ أَحْمَدَ الرَّازِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: زَاہِرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرٍ: عَبْدُاللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنِی أَبُوحُمَیْدٍ الْمِصِّیصِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی لُوطٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ مُجَاہِدٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: إِذَا کَانَ الْمَائُ قُلَّتْیَّنِ فَصَاعِدًا لَمْ یُنَجِّسْہُ شَیْئٌ۔
وَرَوَاہُ أَبُو بَکْرٍ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ أَبَانَ عَنْ أَبِی یَحْیَی عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ کَذَلِکَ مَوْقُوفًا۔ [ضعیف]
وَرَوَاہُ أَبُو بَکْرٍ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ أَبَانَ عَنْ أَبِی یَحْیَی عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ کَذَلِکَ مَوْقُوفًا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم پانی کے درمیان فرق جو ناپاک ہوتا ہے اور زیادہ کے درمیان جو ناپاک نہیں ہوتا جب تک وہ تبدیل نہ ہو
(١٢٤٨) (الف) سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب پانی چالیس مٹکوں تک پہنچ جائے تو وہ گندگی نہیں اٹھاتا۔ “
(ب) جابر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب پانی چالیس مٹکوں تک پہنچ جائے۔ لیکن یہ روایت درست نہیں ہے۔ امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ اس روایت میں قاسم کو وہم ہوا ہے۔ یہ سخت ضعیف اور کثیر الخطا راوی ہے۔
(ب) جابر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب پانی چالیس مٹکوں تک پہنچ جائے۔ لیکن یہ روایت درست نہیں ہے۔ امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ اس روایت میں قاسم کو وہم ہوا ہے۔ یہ سخت ضعیف اور کثیر الخطا راوی ہے۔
(۱۲۴۸) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِیلِ الصُّوفِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا سُوَیْدٌ یَعْنِی ابْنَ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((إِذَا بَلَغَ الْمَائُ أَرْبَعِینَ قُلَّۃً لاَ یَحْمِلُ الْخَبَثَ))۔
فَہَذَا حَدِیثٌ تَفَرَّدَ بِہِ الْقَاسِمُ الْعُمَرِیُّ ہَکَذَا وَقَدْ غَلِطَ فِیہِ۔ (ج) وَکَانَ ضَعِیفًا فِی الْحَدِیثِ جَرَحَہُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَیَحْیَی بْنُ مَعِینٍ وَالْبُخَارِیُّ وَغَیْرُہُمْ مِنَ الْحُفَّاظِ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَلِیٍّ الْحَافِظَ یَقُولُ حَدِیثُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -: إِذَا بَلَغَ الْمَائَ أَرْبَعِینَ قُلَّۃً ۔ خَطَأٌ وَالصَّحِیحُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو قَوْلُہُ ، وَبِمَعْنَاہُ قَالَہُ لِی أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ عَنْ أَبِی الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِیِّ الْحَافِظِ قَالَ : وَوَہِمَ فِیہِ الْقَاسِمُ وَکَانَ ضَعِیفًا کَثِیرَ الْخَطَإِ۔ [باطل۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۲۶]
فَہَذَا حَدِیثٌ تَفَرَّدَ بِہِ الْقَاسِمُ الْعُمَرِیُّ ہَکَذَا وَقَدْ غَلِطَ فِیہِ۔ (ج) وَکَانَ ضَعِیفًا فِی الْحَدِیثِ جَرَحَہُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَیَحْیَی بْنُ مَعِینٍ وَالْبُخَارِیُّ وَغَیْرُہُمْ مِنَ الْحُفَّاظِ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَلِیٍّ الْحَافِظَ یَقُولُ حَدِیثُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -: إِذَا بَلَغَ الْمَائَ أَرْبَعِینَ قُلَّۃً ۔ خَطَأٌ وَالصَّحِیحُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو قَوْلُہُ ، وَبِمَعْنَاہُ قَالَہُ لِی أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ عَنْ أَبِی الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِیِّ الْحَافِظِ قَالَ : وَوَہِمَ فِیہِ الْقَاسِمُ وَکَانَ ضَعِیفًا کَثِیرَ الْخَطَإِ۔ [باطل۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۲۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم پانی کے درمیان فرق جو ناپاک ہوتا ہے اور زیادہ کے درمیان جو ناپاک نہیں ہوتا جب تک وہ تبدیل نہ ہو
(١٢٤٩) (الف) عبداللہ بن عمرو بن عاصی فرماتے ہیں : جب پانی چالیس مٹکے ہو تو اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
(ب) عبدالرحمن بن ابوہریرہ (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب پانی چالیس مٹکے ہو تو وہ گندگی نہیں اٹھاتا۔ دوسروں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چالیس بڑے ڈول۔ بعض کہتے ہیں دلو۔
(ج) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ پانی کے چالیس ڈول ہوں تو ان کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی، اگرچہ اس میں جنبی غسل کرے اور دوسری روایت اس کی متابعت ہے اور یہ اولیٰ ہے۔ ابن لھیعہ قابل حجت نہیں۔
(د) قلتین والی حدیث میں جس صحابی کا قول رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول کے موافق ہے اس کی اتباع اولیٰ ہے۔
(ب) عبدالرحمن بن ابوہریرہ (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب پانی چالیس مٹکے ہو تو وہ گندگی نہیں اٹھاتا۔ دوسروں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چالیس بڑے ڈول۔ بعض کہتے ہیں دلو۔
(ج) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ پانی کے چالیس ڈول ہوں تو ان کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی، اگرچہ اس میں جنبی غسل کرے اور دوسری روایت اس کی متابعت ہے اور یہ اولیٰ ہے۔ ابن لھیعہ قابل حجت نہیں۔
(د) قلتین والی حدیث میں جس صحابی کا قول رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول کے موافق ہے اس کی اتباع اولیٰ ہے۔
(۱۲۴۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِیُّ وَمَعْمَرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِی قَالَ : إِذَا کَانَ الْمَائُ أَرْبَعِینَ قُلَّۃً لَمْ یُنَجِّسْہُ شَیْئٌ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ ، وَرَوَاہُ أَیُّوبُ السَّخْتِیَانِیُّ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ مِنْ قَوْلِہِ لَمْ یُجَاوِزْ بِہِ۔
وَرَوَی ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ سِنَانٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : إِذَا کَانَ الْمَائُ قَدْرَ أَرْبَعِینَ قُلَّۃً لَمْ یَحْمِلْ خَبَثًا۔ وَخَالَفَہُ غَیْرُ وَاحِدٍ فَرَوَوْہُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَقَالُوا : أَرْبَعِینَ غَرْبًا وَمِنْہُمْ مَنْ قَالَ : أَرْبَعِینَ دَلْوًا۔
قَالَہُ لِی أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِی الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِیِّ الْحَافِظِ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ لَہِیعَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَیْثٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: أَرْبَعُونَ دَلْوًا مِنْ مَائٍ لاَ یُنَجِّسُہُ ، وَإِنِ اغْتَسَلَ فِیہِ الْجُنُبُ وَأَتْبَعَہُ آخَرُ۔ وَہَذَا أَوْلَی۔
وَابْنُ لَہِیعَۃَ غَیْرُ مُحْتَجٍّ بِہِ۔
وَقَوْلُ مَنْ یُوَافِقُ قَوْلُہُ مِنَ الصَّحَابَۃِ قَوْلَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فِی الْقُلَّتَیْنِ أَوْلَی أَنْ یُتَّبَعَ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔
[صحیح۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۲۷]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ ، وَرَوَاہُ أَیُّوبُ السَّخْتِیَانِیُّ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ مِنْ قَوْلِہِ لَمْ یُجَاوِزْ بِہِ۔
وَرَوَی ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ سِنَانٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : إِذَا کَانَ الْمَائُ قَدْرَ أَرْبَعِینَ قُلَّۃً لَمْ یَحْمِلْ خَبَثًا۔ وَخَالَفَہُ غَیْرُ وَاحِدٍ فَرَوَوْہُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَقَالُوا : أَرْبَعِینَ غَرْبًا وَمِنْہُمْ مَنْ قَالَ : أَرْبَعِینَ دَلْوًا۔
قَالَہُ لِی أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِی الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِیِّ الْحَافِظِ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الذُّہْلِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ لَہِیعَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَیْثٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: أَرْبَعُونَ دَلْوًا مِنْ مَائٍ لاَ یُنَجِّسُہُ ، وَإِنِ اغْتَسَلَ فِیہِ الْجُنُبُ وَأَتْبَعَہُ آخَرُ۔ وَہَذَا أَوْلَی۔
وَابْنُ لَہِیعَۃَ غَیْرُ مُحْتَجٍّ بِہِ۔
وَقَوْلُ مَنْ یُوَافِقُ قَوْلُہُ مِنَ الصَّحَابَۃِ قَوْلَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فِی الْقُلَّتَیْنِ أَوْلَی أَنْ یُتَّبَعَ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔
[صحیح۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۲۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو مٹکوں کی مقدار
(١٢٥٠) ابن جریج ایک سند سے نقل فرماتے ہیں : اس کا ذکر مجھے یاد نہیں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب پانی دو مٹکے ہو تو وہ گندگی کو نہیں اٹھاتا (یعنی ناپاک نہیں ہوتا) ۔
(۱۲۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ بِإِسْنَادٍ لاَ یَحْضُرُنِی ذِکْرُہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ : ((إِذَا کَانَ الْمَائُ قُلَّتَیْنِ لَمْ یُحْمَلْ خَبَثًا))۔
وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : بِقِلاَلِ ہَجَرَ ۔
قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ : وَقَدْ رَأَیْتُ قِلاَلَ ہَجَرَ ، فَالْقُلَّۃُ تَسْعُ قِرْبَتَیْنِ أَوْ قِرْبَتَیْنِ وَشَیْئًا۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : کَانَ مُسْلِمٌ یَذْہَبُ إِلَی أَنَّ ذَلِکَ أَقَلُّ مِنْ نِصْفِ الْقِرْبَۃِ أَوْ نِصْفِ الْقِرْبَۃِ فَیَقُولُ : خَمْسُ قِرَبٍ ہُوَ أَکْثَرُ مَا تَسَعُ قُلَّتَیْنِ ، وَقَدْ تَکُونُ الْقُلَّتَانِ أَقَلَّ مِنْ خَمْسِ قِرَبٍ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَالاِحْتِیَاطُ أَنْ تَکُونَ الْقُلَّۃُ قِرْبَتَیْنِ وَنِصْفًا ، فَإِذَا کَانَ الْمَائُ خَمْسَ قِرَبٍ لَمْ یَحْمَلْ نَجَسًا فِی جَرٍّ کَانَ أَوْ غَیْرِہِ إِلاَّ أَنْ یَظْہَرَ فِی الْمَائِ مِنْہُ رِیحٌ أَوْ طَعْمٌ أَوْ لَوْنٌ قَالَ وَقِرَبُ الْحِجَازِ کِبَارٌ فَلاَ یَکُونُ الْمَائُ الَّذِی لاَ یَحْمِلُ النَّجَاسَۃَ إِلاَّ بِقِرَبٍ کِبَارٍ۔ ضعیف أخرجہ الشافعی [۷۹۹]
وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : بِقِلاَلِ ہَجَرَ ۔
قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ : وَقَدْ رَأَیْتُ قِلاَلَ ہَجَرَ ، فَالْقُلَّۃُ تَسْعُ قِرْبَتَیْنِ أَوْ قِرْبَتَیْنِ وَشَیْئًا۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : کَانَ مُسْلِمٌ یَذْہَبُ إِلَی أَنَّ ذَلِکَ أَقَلُّ مِنْ نِصْفِ الْقِرْبَۃِ أَوْ نِصْفِ الْقِرْبَۃِ فَیَقُولُ : خَمْسُ قِرَبٍ ہُوَ أَکْثَرُ مَا تَسَعُ قُلَّتَیْنِ ، وَقَدْ تَکُونُ الْقُلَّتَانِ أَقَلَّ مِنْ خَمْسِ قِرَبٍ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَالاِحْتِیَاطُ أَنْ تَکُونَ الْقُلَّۃُ قِرْبَتَیْنِ وَنِصْفًا ، فَإِذَا کَانَ الْمَائُ خَمْسَ قِرَبٍ لَمْ یَحْمَلْ نَجَسًا فِی جَرٍّ کَانَ أَوْ غَیْرِہِ إِلاَّ أَنْ یَظْہَرَ فِی الْمَائِ مِنْہُ رِیحٌ أَوْ طَعْمٌ أَوْ لَوْنٌ قَالَ وَقِرَبُ الْحِجَازِ کِبَارٌ فَلاَ یَکُونُ الْمَائُ الَّذِی لاَ یَحْمِلُ النَّجَاسَۃَ إِلاَّ بِقِرَبٍ کِبَارٍ۔ ضعیف أخرجہ الشافعی [۷۹۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو مٹکوں کی مقدار
(١٢٥١) یحییٰ بن یعمر کو خبر دی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب پانی دو مٹکے ہو تو وہ گندگی نہیں اٹھاتا اور اس میں کوئی حرج نہیں ۔ راوی کہتا ہے : میں نے یحییٰ بن عقیل سے پوچھا : ہجر شہر کے مٹکے ؟ انھوں نے کہا : جی ہاں ہجر شہر کے مٹکے۔ راوی کہتا ہے : میرا گمان ہے کہ ہر مٹکے میں دو فرق پانی آتا ہے۔ احمد بن علی نے اپنی روایت میں زیادتی نقل کی ہے کہ فرق سولہ رطل کا ہوتا ہے۔
(۱۲۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الرَّازِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : زَاہِرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرٍ: عَبْدُاللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حُمَیْدٍ الْمَصِّیصِیُّ أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدٌ أَنَّ یَحْیَی بْنَ عُقَیْلٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ یَحْیَی بْنَ یَعْمَرَ أَخْبَرَہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -قَالَ : ((إِذَا کَانَ الْمَائُ قُلَّتَیْنِ لَمْ یَحْمِلْ نَجِسًا وَلاَ بَأْسًا))۔ قَالَ فَقُلْتُ لِیَحْیَی بْنِ عُقَیْلٍ : قِلاَلُ ہَجَرَ؟ قَالَ قِلاَلُ ہَجَرَ قَالَ : فَأَظُنُّ أَنَّ کُلَّ قُلَّۃٍ تَأْخُذُ فَرَقَیْنِ۔ زَادَ أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ فِی رِوَایَتِہِ : وَالْفَرَقُ سِتَّۃَ عَشَرَ رَطْلاً۔ [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۲۴]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الرَّازِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : زَاہِرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرٍ: عَبْدُاللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حُمَیْدٍ الْمَصِّیصِیُّ أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدٌ أَنَّ یَحْیَی بْنَ عُقَیْلٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ یَحْیَی بْنَ یَعْمَرَ أَخْبَرَہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -قَالَ : ((إِذَا کَانَ الْمَائُ قُلَّتَیْنِ لَمْ یَحْمِلْ نَجِسًا وَلاَ بَأْسًا))۔ قَالَ فَقُلْتُ لِیَحْیَی بْنِ عُقَیْلٍ : قِلاَلُ ہَجَرَ؟ قَالَ قِلاَلُ ہَجَرَ قَالَ : فَأَظُنُّ أَنَّ کُلَّ قُلَّۃٍ تَأْخُذُ فَرَقَیْنِ۔ زَادَ أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ فِی رِوَایَتِہِ : وَالْفَرَقُ سِتَّۃَ عَشَرَ رَطْلاً۔ [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۲۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو مٹکوں کی مقدار
(١٢٥٢) ابن جریج کہتے ہیں : مجھ کو محمد نے خبر دی ہے کہ میں نے یحییٰ بن عقیل سے پوچھا : کون سے مٹکے ؟ انھوں نے کہا : ہجر شہر کے مٹکے۔ محمد راوی کہتا ہے کہ میں نے ہجر شہر کے مٹکے دیکھے ہیں میرے گمان کے مطابق ہر مٹکا دو مشکیزوں کے برابر تھا۔
(۱۲۵۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الأَزْہَرِ السِّجِسْتَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ یَعْنِی أَبَا حُمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّۃَ یَعْنِی مُوسَی بْنَ طَارِقٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدٌ فَذَکَرَہُ۔
قَالَ مُحَمَّدٌ قُلْتُ لِیَحْیَی بْنِ عُقَیْلٍ : أَیُّ قِلاَلٍ؟ قَالَ : قِلاَلُ ہَجَرَ۔ قَالَ مُحَمَّدٌ : فَرَأَیْتُ قِلاَلَ ہَجَرَ فَأَظُنُّ کُلَّ قُلَّۃٍ تَأْخُذُ قِرْبَتَیْنِ۔
کَذَا فِی کِتَابِ شَیْخِی قِرْبَتَیْنِ وَہَذَا أَقْرَبُ مِمَّا قَالَ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، وَالإِسْنَادُ الأَوَّلُ أَحْفَظُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
قَالَ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ : مُحَمَّدٌ ہَذَا الَّذِی حَدَّثَ عَنْہُ ابْنُ جُرَیْجٍ ہُوَ مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی یُحَدِّثُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ وَیَحْیَی بْنِ عُقَیْلٍ۔ [ضعیف]
قَالَ مُحَمَّدٌ قُلْتُ لِیَحْیَی بْنِ عُقَیْلٍ : أَیُّ قِلاَلٍ؟ قَالَ : قِلاَلُ ہَجَرَ۔ قَالَ مُحَمَّدٌ : فَرَأَیْتُ قِلاَلَ ہَجَرَ فَأَظُنُّ کُلَّ قُلَّۃٍ تَأْخُذُ قِرْبَتَیْنِ۔
کَذَا فِی کِتَابِ شَیْخِی قِرْبَتَیْنِ وَہَذَا أَقْرَبُ مِمَّا قَالَ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، وَالإِسْنَادُ الأَوَّلُ أَحْفَظُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
قَالَ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ : مُحَمَّدٌ ہَذَا الَّذِی حَدَّثَ عَنْہُ ابْنُ جُرَیْجٍ ہُوَ مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی یُحَدِّثُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ وَیَحْیَی بْنِ عُقَیْلٍ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو مٹکوں کی مقدار
(١٢٥٣) مجاہد کہتے ہیں : جب پانی دو مٹکے ہوں تو اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ راوی کہتا ہے : میں نے کہا : قلتین کیا ہیں ؟ انھوں نے کہا : دو مٹکے۔
(۱۲۵۳) أَخْبَرَنَا الشَّرِیفُ أَبُو الْفَتْحِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَیْحِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شَرِیکٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ السَّبِیعِیِّ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : إِذَا کَانَ الْمَائُ قُلَّتَیْنِ لَمْ یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ۔قَالَ قُلْتُ : مَا الْقُلَّتَیْنِ؟ قَالَ : الْجَرَّتَیْنِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۵۳۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو مٹکوں کی مقدار
(١٢٥٤) عاصم بن منذر کہتے ہیں : القلال بڑے بڑے مٹکے ہوتے ہیں۔
(۱۲۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ الْمَاسَرْجِسِیُّ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ یَعْنِی ابْنَ إِبْرَاہِیمَ الْحَنْظَلِیَّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی رِزْمَۃَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ الْمُنْذِرِ قَالَ : الْقِلاَلُ الْخَوَابِی الْعِظَامُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو مٹکوں کی مقدار
(١٢٥٥) ابن سلیمان فرماتے ہیں : ہم نے محمد بن اسحاق بن یسار سے قلتین کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا : یہ وہی مٹکا ہے جس میں پانی اور ستو پلایا جاتا ہے۔
۱۲۵۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ قَالَ قَالَ عَبْدُ الرَّحِیمِ یَعْنِی ابْنَ سُلَیْمَانَ : سَأَلْنَا ابْنَ إِسْحَاقَ یَعْنِی مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ عَنِ الْقُلَّتَیْنِ فَقَالَ : ہَذِہِ الْجِرَارُ الَّتِی یُسْتَقَی فِیہَا الْمَائُ وَالدَّوَارِیقُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو مٹکوں کی مقدار
(١٢٥٦) حسن بن عرفہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشیم کو کہتے ہوئے سنا : قلتین سے مراد دو بڑے بڑے مٹکے ہیں۔
(۱۲۵۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْوَکِیلُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَۃَ قَالَ سَمِعْتُ ہُشَیْمًا یَقُولُ : الْقُلَّتَیْنِ یَعْنِی الْجَرَّتَیْنِ الْکِبَارَ۔ [صحیح۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو مٹکوں کی مقدار
(١٢٥٧) وکیع کہتے ہیں : قلۃ سے مراد مٹکا ہے۔
(۱۲۵۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْحَسَّانِیُّ قَالَ قَالَ وَکِیعٌ : یَعْنِی بِالْقُلَّۃِ الْجَرَّۃَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو مٹکوں کی مقدار
(١٢٥٨) یحییٰ بن آدم کہتے ہیں : قلۃ سے مراد مٹکا ہے۔
(۱۲۵۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ قَالَ یَحْیَی بْنُ آدَمَ : الْقُلَّۃُ الْجَرَّۃُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو مٹکوں کی مقدار
(١٢٥٩) مالک بن صعصعہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معراج والی حدیث بیان کی ، اس میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سدرۃ المنتہیٰ کی طرف اٹھایا گیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے اور اس کے بیر ہجر شہر کے مٹکوں کی طرح تھے۔
(۱۲۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ یَعْنِی ابْنَ عَطَائٍ الْخَفَّافَ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ یَعْنِی ابْنَ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ صَعْصَعَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -فَذَکَرَ حَدِیثَ الْمِعْرَاجِ وَفِیہِ : ثُمَّ رُفِعَتْ إِلَیَّ سِدْرَۃُ الْمُنْتَہَی ۔ فَحَدَّثَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ -: أَنَّ وَرَقَہَا مِثْلُ آذَانُ الْفِیَلَۃِ وَأَنَّ نَبَقَہَا مِثْلُ قِلاَلِ ہَجَرَ ۔
مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحِینِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۶۷۴]
مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحِینِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۶۷۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بضاعہ کنویں کی حالت
(١٢٦٠) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : بضاعہ کنویں والی حدیث جس میں ہے کہ بضاعہ کنویں میں بہت زیادہ گہرا پانی ہوتا تھا اور اس میں گندگیاں پھینکی جاتیں تھیں جو اس کے رنگ اور ذائقے کو تبدیل نہیں کرتی تھیں اور نہ ہی اس میں بدبو ظاہر ہوتی تھی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا : آپ بضاعہ کنویں سے وضو کرتے ہیں حالانکہ اس میں اس طرح کی چیزیں پھینکی جاتی ہیں ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیتے ہوئے فرمایا : ” پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ اس سے واضح ہوگیا کہ وہ پانی میں اسی طرح تھا، جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے متعلق جواب دیا۔ “
(۱۲۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ : أَمَّا حَدِیثُ بِئْرِ بُضَاعَۃَ فَإِنَّ بِئْرَ بُضَاعَۃَ کَثِیرَۃُ الْمَائِ وَاسِعَۃٌ کَانَ یُطْرَحُ فِیہَا مِنَ الأَنْجَاسِ مَا لاَ یُغَیِّرِ لَہَا لَوْنًا وَلاَ طَعْمًا وَلاَ یَظْہُرَ لَہُ فِیہَا رِیحٌ ، فَقِیلَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ -: تَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَۃَ وَہِیَ یُطْرَحُ فِیہَا کَذَا وَکَذَا؟ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ -مُجِیبًا : الْمَائُ لاَ یُنَجِّسُہُ شَیْئٌ ۔ وَبَیَّنَ أَنَّہُ فِی الْمَائِ مَثَلُہَا إِذْ کَانَ مُجِیبًا عَلَیْہَا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بضاعہ کنویں کی حالت
(١٢٦١) قتیبہ بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے قیم سے بضاعہ کنویں کی گہرائی کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا : زیادہ سے زیادہ پانی ناف تک تھا ۔ میں نے کہا : کم سے کم ؟ انھوں نے کہا : شرمگاہ سے اوپر۔ امام ابوداؤد کہتے ہیں کہ بضاعہ کنویں کا میں نے اپنی چادر سے اندازہ لگایا، میں نے اس کو اس پر پھیلایا پھر اس کی پیمائش کی تو اس کا عرض چھ ہاتھ تھا۔ جس شخص نے میرے لیے دروازہ کھولا تھا میں نے اس سے سوال کیا تو وہ مجھے اس کنویں پر لے کر گیا میں نے پوچھا : کیا اس کی بنیادیں تبدیل کردی گئی ہیں جس پر وہ پہلے تھا ؟ اس نے کہا : نہیں۔ میں نے اس میں پانی دیکھا جس کا رنگ تبدیل ہوچکا تھا۔
(۱۲۶۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ قَالَ قَالَ قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ : سَأَلْتُ قَیِّمَ بِئْرِ بُضَاعَۃَ عَنْ عُمْقِہَا فَقَالَ : أَکْثَرُ مَا یَکُونُ فِیہَا الْمَائُ إِلَی الْعَانَۃِ۔ قُلْتُ : فَإِذَا نَقَصَ قَالَ دُونَ الْعَوْرَۃِ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : قَدَّرْتُ بِئْرَ بُضَاعَۃَ بِرِدَائِی ، مَدَدْتُہُ عَلَیْہَا ثُمَّ ذَرَعْتُہُ ، فَإِذَا عَرْضُہَا سِتَّۃُ أَذْرُعٍ ، وَسَأَلْتُ الَّذِی فَتَحَ لِی بَابَ الْبُسْتَانِ فَأَدْخَلَنِی إِلَیْہِ : ہَلْ غُیِّرَ بِنَاؤُہَا عَمَّا کَانَتْ عَلَیْہِ؟ فَقَالَ : لاَ۔ وَرَأَیْتُ فِیہَا مَائً مُتَغَیِّرَ اللَّوْنِ۔ [صحیح]
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : قَدَّرْتُ بِئْرَ بُضَاعَۃَ بِرِدَائِی ، مَدَدْتُہُ عَلَیْہَا ثُمَّ ذَرَعْتُہُ ، فَإِذَا عَرْضُہَا سِتَّۃُ أَذْرُعٍ ، وَسَأَلْتُ الَّذِی فَتَحَ لِی بَابَ الْبُسْتَانِ فَأَدْخَلَنِی إِلَیْہِ : ہَلْ غُیِّرَ بِنَاؤُہَا عَمَّا کَانَتْ عَلَیْہِ؟ فَقَالَ : لاَ۔ وَرَأَیْتُ فِیہَا مَائً مُتَغَیِّرَ اللَّوْنِ۔ [صحیح]
তাহকীক: