আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৬৬ টি

হাদীস নং: ১৩৫৯২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جسم کا بوسہ لینے کا بیان
(١٣٥٨٦) حضرت اسید بن حضیر سے روایت ہے کہ ایک انصاری ایک دن لوگوں کو مزاح والی باتیں کر کے ہنسا رہا تھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکڑی کے ساتھ اس کے پہلو میں چوکا لگایا تو اس نے کہا : میں اس پر ڈٹا رہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بدلہ لے لے، اس نے کہا : آپ کے بدن پر قمیص ہے اور میرا بدن بغیر قمیص کے تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قمیص اٹھا دی تو اس نے آپ کو پکڑ لیا اور آپ کے پہلو کو چومنے لگا اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میرا تو صرف یہی (آپ کا بدن چومنے کا) ارادہ تھا۔
(۱۳۵۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ حَصِینٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ أُسَیْدِ بْنِ حُضَیْرٍ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَیْنَمَا ہُوَ یُحَدِّثُ الْقَوْمَ وَکَانَ فِیہِ مِزَاحٌ بَیْنَا یُضْحِکُہُمْ فَطَعَنَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- فِی خَاصِرَتِہِ بِعُودٍ فَقَالَ : اصْبِرْنِی قَالَ : اصْطَبِرْ ۔ قَالَ : إِنَّ عَلَیْکَ قَمِیصًا وَلَیْسَ عَلَیَّ قَمِیصٌ فَرَفَعَ النَّبِیُّ -ﷺ- عَنْ قَمِیصِہِ فَاحْتَضَنَہُ وَجَعَلَ یُقَبِّلُ کَشْحَہُ قَالَ : إِنَّمَا أَرَدْتُ ہَذَا یَا رَسُولَ اللَّہِ۔

(غ) قَوْلُہُ اصْبِرْنِی یُرِیدُ أَقِدْنِی مِنْ نَفْسِکَ وَقَوْلُہُ : اصْطَبِرْ ۔ مَعْنَاہُ اسْتَقِدْ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৯৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جسم کا بوسہ لینے کا بیان
(١٣٥٨٧) حضرت زراع سے روایت ہے کہ وہ وفد عبدالقیس میں تھے، کہتے ہیں کہ ہم اپنی سواریوں سے سبقت کرتے ہوئے اترے، تاکہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ اور پاؤں کو بوسہ دیں۔ منذر اشج نے انتظار کیا، یہاں تک کہ وہ اپنے تھیلے کے پاس آئے تو انھوں نے (اس میں سے نکال کر) کپڑے پہنے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھ میں دو خصلتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتے ہیں وہ حلم اور اناۃ ہے۔ کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے وہ دونوں عطا ہوں گی یا اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ خصلتیں عادتاً عطا کی ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلکہ تجھے اللہ تعالیٰ نے وہ دونوں جبلتاً دی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ تعالیٰ ان دو اچھی صفات کے عطا کرنے پر شکر ادا کیا کہ وہ دونوں خصلتیں اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہیں۔
(۱۳۵۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْنَقُ قَالَ حَدَّثَتْنِی أُمُّ أَبَانَ بِنْتُ الْوَازِعِ بْنِ زَارِعٍ عَنْ جَدِّہَا زَارِعٍ وَکَانَ فِی وَفْدِ عَبْدِ الْقَیْسِ قَالَ : فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا فَنُقَبِّلُ یَدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَرِجْلَہُ وَانْتَظَرَ الْمُنْذِرُ الأَشَجُّ حَتَّی أَتَی عَیْبَتَہُ فَلَبِسَ ثَوْبَیْہِ ثُمَّ أَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ : إِنَّ فِیکَ خَلَّتَیْنِ یُحِبُّہُمَا اللَّہُ الْحِلْمُ وَالأَنَاۃُ ۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَا أَتَخَلَّقُ بِہِمَا أَمِ اللَّہُ جَبَلَنِی عَلَیْہِمَا قَالَ : بَلِ اللَّہُ جَبَلَکَ عَلَیْہِمَا ۔ قَالَ : الْحَمْدُ اللَّہِ الَّذِی جَبَلَنِی عَلَی خُلُقَیْنِ یُحِبُّہُمَا اللَّہُ وَرَسُولُہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৯৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ بھی احتمال ہے کہ ان کی رہنمائی کی ہو ان کے نکاح کا اہل ہونے پر۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر وہ فقیر ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں مال دار کردیں گے۔ اس میں دلیل ہے کہ اس میں غنیٰ اور عافیت ہے جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : سفر کرو، تم صحیح رہو گے اور تمہیں رزق
(١٣٥٨٨) ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سفر کرو، صحت مند رہو گے اور غنیمت حاصل کرو گے (یعنی غنی ہوجاؤ گے) ۔
(۱۳۵۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَدَّادٍ شَیْخٌ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : سَافِرُوا تَصِحُّوا وَتَغْنَمُوا۔ [منکر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৯৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ بھی احتمال ہے کہ ان کی رہنمائی کی ہو ان کے نکاح کا اہل ہونے پر۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر وہ فقیر ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں مال دار کردیں گے۔ اس میں دلیل ہے کہ اس میں غنیٰ اور عافیت ہے جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : سفر کرو، تم صحیح رہو گے اور تمہیں رزق
(١٣٥٨٩) ایضاً ۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ دلالت حتمی نہیں ہے کہ طلب رزق اور صحت کے لیے سفر کیا جائے، یہ ممکن ہے کہ نکاح کا حکم حتمی ہو اور جو اللہ کی طرف سے ہو اس میں بھلائی ہے۔
(۱۳۵۸۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ : أَبُو الْعَبَّاسِ الدَّامَغَانِیُّ بِنَیْسَابُورَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ حَدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : سَافِرُوا تَصِحُّوا وَتَغْنَمُوا ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی : وَإِنَّمَا ہَذَا دَلاَلَۃٌ لاَ حَتْمًا أَنْ یُسَافِرَ لِطَلَبِ صِحَّۃٍ وَرِزْقٍ قَالَ وَیَحْتَمِلُ أَنْ یَکُونَ الأَمْرُ بِالنِّکَاحِ حَتْمًا وَفِی کُلِّ الْحَتْمِ مِنَ اللَّہِ الرُّشْدُ قَالَ وَقَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ الأَمْرُ کُلُّہُ عَلَی الإِبَاحَۃِ وَالدَّلاَلَۃُ عَلَی الرُّشْدِ حَتَّی تُوجَدَ الدِّلاَلَۃُ عَلَی أَنَّہُ أُرِیدَ بِالأَمْرِ الْحَتْمُ وَمَا نَہَی اللَّہُ عَنْہُ فَہُوَ مُحَرَّمٌ حَتَّی تُوجَدَ الدِّلاَلَۃُ عَلَیْہِ بِأَنَّ النَّہْیَ عَنْہُ عَلَی غَیْرِ التَّحْرِیمِ۔ [ضعیف جداً]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৯৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ بھی احتمال ہے کہ ان کی رہنمائی کی ہو ان کے نکاح کا اہل ہونے پر۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر وہ فقیر ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں مال دار کردیں گے۔ اس میں دلیل ہے کہ اس میں غنیٰ اور عافیت ہے جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : سفر کرو، تم صحیح رہو گے اور تمہیں رزق
(١٣٥٩٠) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ اسی پر اکتفا کرو جو میں نے تمہارے درمیان چھوڑا ہے، بیشک جو تم سے پہلے لوگ تھے وہ سوال کی کثرت کی وجہ سے اور انبیاء کرام ۔ سے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوگئے جس چیز کا میں حکم دوں اس کام کو کرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو اور جس سے منع کروں اس سے رک جایا کرو۔
(۱۳۵۹۰) وَاسْتَدَلَّ لِہَذَا الْقَائِلُ بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ذَرُونِی مَا تَرَکْتُکُمْ فَإِنَّہُ إِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِکَثْرَۃِ سُؤَالِہِمْ وَاخْتِلاَفِہِمْ عَلَی أَنْبِیَائِہِمْ فَمَا أَمَرْتُکُمْ بِہِ مِنْ أَمْرٍ فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَمَا نَہَیْتُکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا۔

[صحیح۔ بخاری ۷۲۸۸۔ مسلم ۱۳۳۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৯৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ بھی احتمال ہے کہ ان کی رہنمائی کی ہو ان کے نکاح کا اہل ہونے پر۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر وہ فقیر ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں مال دار کردیں گے۔ اس میں دلیل ہے کہ اس میں غنیٰ اور عافیت ہے جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : سفر کرو، تم صحیح رہو گے اور تمہیں رزق
(١٣٥٩١) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے پچھلی روایت کے ہم معنی روایت ہے۔
(۱۳۵۹۱) قَالَ وَأَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمِثْلِ مَعْنَاہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৯৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ بھی احتمال ہے کہ ان کی رہنمائی کی ہو ان کے نکاح کا اہل ہونے پر۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر وہ فقیر ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں مال دار کردیں گے۔ اس میں دلیل ہے کہ اس میں غنیٰ اور عافیت ہے جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : سفر کرو، تم صحیح رہو گے اور تمہیں رزق
(١٣٥٩٢) صحیح مسلم میں سیدنا ابن عمر (رض) سے پچھلی روایت کے ہم معنی منقول ہے۔
(۱۳۵۹۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَیْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ فَذَکَرَہُ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৯৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ بھی احتمال ہے کہ ان کی رہنمائی کی ہو ان کے نکاح کا اہل ہونے پر۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر وہ فقیر ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں مال دار کردیں گے۔ اس میں دلیل ہے کہ اس میں غنیٰ اور عافیت ہے جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : سفر کرو، تم صحیح رہو گے اور تمہیں رزق
(١٣٥٩٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک میں تم سے یکسو رہوں تم بھی مجھے چھوڑ دو (اور سوالات وغیرہ نہ کرو) کیونکہ تم سے پہلے کی امتیں اپنے (غیر ضروری) سوالات اور انبیاء کے سامنے اختلاف کی وجہ سے تباہ ہوگئیں، جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو اس کو بجا لاؤ، جس حد تک تم میں طاقت ہو اور جب تمہیں کسی چیز سے روکوں تو تم اس سے بچو۔

امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اس بات کا احتمال ہے کہ امر نہی کے معنی میں ہو تو دونوں لازم ہوجائے۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس قول سے وہ دونوں غیر لازم ہیں : (فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ) تو امر کا حکم استطاعت کے مطابق ہے؛ چونکہ لوگ استطاعت کے مطابق مکلف ٹھہراتے ہیں۔
(۱۳۵۹۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ذَرُونِی مَا تَرَکْتُکُمْ فَإِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِسُؤَالِہِمْ وَاخْتِلاَفِہِمْ عَلَی أَنْبِیَائِہِمْ فَإِذَا أَمَرْتُکُمْ بِشَیْئٍ فَخُذُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَہَیْتُکُمْ عَنْ شَیْئٍ فَانْتَہُوا۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ۔

(ش) قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ الأَمْرُ فِی مَعْنَی النَّہْیِ فَیَکُونَانِ لاَزِمَیْنِ إِلاَّ بِدَلاَلَۃِ أَنَّہُمَا غَیْرُ لاَزِمَیْنِ وَیَکُونُ قَوْلُہُ -ﷺ- : فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ۔ أَنْ یَقُولَ عَلَیْہِمْ إِتْیَانُ الأَمْرِ فِیمَا اسْتَطَاعُوا لأَنَّ النَّاسَ إِنَّمَا کُلِّفُوا مَا اسْتَطَاعُوا وَعَلَی أَہْلِ الْعِلْمِ طَلَبُ الدَّلاَئِلِ لِیُفَرِّقُوا بَیْنَ الْحَتْمِ وَالْمُبَاحِ وَالإِرْشَادِ الَّذِی لَیْسَ بِحَتْمٍ فِی الأَمْرِ وَالنَّہْیِ مَعًا۔ [صحیح تقدم]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬০০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آزاد یا بالغہ عورتوں کے اولیاء پر لازم ہے کہ جب وہ (عورتیں) نکاح کا ارادہ کریں اور وہ (عورتیں) رضا مندی سے شادی کی خواہش کا اظہار کریں تو وہ (اولیائ) ان کی شادی کردیں

قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَبَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَلاَ
(١٣٥٩٤) عبید بن حسن اللہ تعالیٰ کے اس قول { فَلاَ تَعْضُلُوہُنَّ أَنْ یَنْکِحْنَ أَزْوَاجَہُنَّ } [البقرۃ ] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ مجھے معقل بن یسار (رض) نے حدیث بیان کی کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔ میں نے اپنی بہن کی شادی ایک آدمی سے کی۔ اس نے اس کو طلاق دے دی۔ یہاں تک کہ اس کی عدت ختم ہوگئی۔ پھر وہ آیا، اس نے دوبارہ پھر شادی کا پیغام دیا۔ میں نے اس کو کہا کہ میں نے تیری اس سے شادی کی اور تیرے لیے شب باشی کا انتظام کیا اور تیری عزت کی تم نے اس کو طلاق دے دی پھر تو آگیا شادی کا پیغام لے کر۔ اللہ کی قسم ! میں اس سے تیری شادی ہرگز نہیں کروں گا، اس آدمی نے کہا کہ کوئی بات نہیں۔ حالانکہ عورت کا ارادہ تھا کہ وہ اپنے خاوند کی طرف لوٹ جائے تو پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : { وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ } [البقرۃ ] تو میں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! اب میں اس کی شادی کر دوں گا اور میں نے اس کی شادی کردی۔
(۱۳۵۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّرْقِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ وَالْفَرَّائُ یَعْنِی عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مُحَمَّدٍ وَقَطَنٌ قَالُوا حَدَّثَنَا حَفْصٌ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ یَعْنِی ابْنَ طَہْمَانَ عَنْ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّہُ قَالَ فِی قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ { فَلاَ تَعْضُلُوہُنَّ أَنْ یَنْکِحْنَ أَزْوَاجَہُنَّ } الآیَۃَ حَدَّثَنِی مَعْقِلُ بْنُ یَسَارٍ الْمُزَنِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہَا نَزَلَتْ فِیہِ قَالَ : کُنْتُ زَوَّجْتُ أُخْتًا لِی مِنْ رَجُلٍ فَطَلَّقَہَا حَتَّی إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُہَا جَائَ یَخْطُبُہَا فَقُلْتُ لَہُ زَوَّجْتُکَ وَفَرَشْتُکَ وَأَکْرَمْتُکَ فَطَلَّقْتَہَا ثُمَّ جِئْتَ تَخْطُبُہَا لاَ وَاللَّہِ لاَ تَعُودُ إِلَیْہَا أَبَدًا قَالَ وَکَانَ رَجُلاً لاَ بَأْسَ بِہِ وَکَانَتِ الْمَرْأَۃُ تُرِیدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَیْہِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ ہَذِہِ الآیَۃَ فَقُلْتُ : الآنَ أَفْعَلُ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَزَوَّجْتُہَا إِیَّاہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَفْصٍ۔

[صحیح۔ بخاری ۴۵۲۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬০১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آزاد یا بالغہ عورتوں کے اولیاء پر لازم ہے کہ جب وہ (عورتیں) نکاح کا ارادہ کریں اور وہ (عورتیں) رضا مندی سے شادی کی خواہش کا اظہار کریں تو وہ (اولیائ) ان کی شادی کردیں

قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَبَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَلاَ
(١٣٥٩٥) حضرت معقل بن یسار (رض) کی بہن ایک شخص کے نکاح میں تھی۔ اس نے انھیں طلاق دے دی پھر اس کو چھوڑ دیا۔ جب اس کی عدت گذر گئی تو قریب آیا اور اسے پیغامِ نکاح دیا۔ حضرت معقل نے اس سے غیرت کھائی اور کہا : پہلے اس نے علیحدہ اختیار کرلی تھی حالانکہ یہ رجوع کرسکتا تھا۔ اب یہ دوبارہ پیغامِ نکاح لے آیا ہے۔ وہ ان دونوں کے درمیان حائل ہوگئے پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : { وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَبَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوہُنَّ أَنْ یَنْکِحْنَ أَزْوَاجَہُنَّ } انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلایا اور یہ آیت تلاوت کی۔ پھر انھوں نے غیرت کو چھوڑ دیا اور ان کا عقد کروا دیاں کلبی کا گمان ہے کہ ان کی بہن کا نام جمیل بنت یسار تھا۔
(۱۳۵۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبِسْطَامِیُّ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَبُنْدَارٌ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ : أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ یَسَارٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَتْ أُخْتُہُ عِنْدَ رَجُلٍ فَطَلَّقَہَا ثُمَّ تُخَلِّی عَنْہَا حَتَّی إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُہَا ثُمَّ قَرُبَ یَخْطُبُہَا فَحَمِیَ مَعْقِلٌ مِنْ ذَلِکَ أَنَفًا قَالَ خَلَّی عَنْہَا وَہُوَ یَقْدِرُ ثُمَّ قَرُبَ یَخْطُبُہَا فَحَالَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی { وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَبَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوہُنَّ أَنْ یَنْکِحْنَ أَزْوَاجَہُنَّ } الآیَۃَ فَدَعَاہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَرَأَہَا عَلَیْہِ فَتَرَکَ الْحَمِیَّۃَ ثُمَّ اسْتَقَادَ لأَمْرِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی وَزَعَمَ الْکَلْبِیُّ أَنَّ أُخْتَہُ جَمِیلُ بِنْتُ یَسَارٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬০২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
(١٣٥٩٦) معقل بن یسار (رض) فرماتے ہیں کہ میری ایک بہن تھی۔ لوگوں نے میری طرف اس سے شادی کرنے کا پیغام بھیجا : لیکن میں نے لوگوں کو منع کردیا۔ آخر کار میرے چچا کا بیٹا آیا۔ اس نے شادی کا ارادہ ظاہر کیا اور میں نے اس سے شادی کردی۔ وہ اکٹھے رہے جب تک اللہ نے چاہا۔ پھر اس نے طلاق دے دی۔ وہ رجوع کا بھی مالک تھا، لیکن اس نے رجوع نہ کیا اور اس طرح عدت گزر گئی۔ جب دوسرے لوگوں کے پیغام میری طرف آنے لگے تو وہ پھر شادی کا پیغام لے کر عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ آگیا تو میں نے کہا : لوگوں کو میں نے شادی سے منع کیا اور تجھے میں نے ترجیح دی۔ پھر تو نے اس کو طلاق دے دی حالانکہ تو رجوع بھی کرسکتا تھا، پھر میں نے انتظار کیا تاکہ اس کی عدت گزر جائے اور اب جب کہ دوسری طرف سے پیغام آرہے ہیں تو تو ابن خطاب کو لے کر آگیا ہے۔ میں تیری اس سے کبھی بھی شادی نہیں کروں گا تو اللہ پاک نے یہ آیت نازل کردی : { وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ } [البقرۃ ] پھر میں نے اپنی قسم کا کفارہ دیا اور اس سے شادی کردی۔
(۱۳۵۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ یَقُولُ حَدَّثَنِی مَعْقِلُ بْنُ یَسَارٍ الْمُزَنِیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغَوِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنِی مَعْقِلُ بْنُ یَسَارٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَتْ لِی أُخْتٌ فَخُطِبَتْ إِلَیَّ فَکُنْتُ أَمْنَعُہَا النَّاسَ فَأَتَانِی ابْنُ عَمٍّ لِی فَخَطَبَہَا فَأَنْکَحْتُہَا إِیَّاہُ فَاصْطَحَبَا مَا شَائَ اللَّہُ ثُمَّ طَلَّقَہَا طَلاَقًا یَمْلِکُ الرَّجْعَۃَ ثُمَّ تَرَکَہَا حَتَّی انْقَضَتْ عِدَّتُہَا فَلَمَّا خُطِبَتْ إِلَیَّ أَتَانِی فَخَطَبَہَا مَعَ الْخُطَّابِ فَقُلْتُ : مَنَعْتُہَا النَّاسَ وَآثَرْتُکَ بِہَا ثُمَّ طَلَّقْتَہَا طَلاَقًا لَہُ رَجْعَۃٌ ثُمَّ تَرَکْتُہَا حَتَّی انْقَضَتْ عِدَّتُہَا فَلَمَّا خُطِبَتْ إِلَیَّ أَتَیْتَنِی مَعَ الْخُطَّابِ لاَ أُزَوِّجُکَ أَبَدًا فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی (وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَبَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوہُنَّ أَنْ یَنْکِحْنَ أَزْوَاجَہُنَّ) فَکَفَّرْتُ عَنْ یَمِینِی وَأَنْکَحْتُہَا إِیَّاہُ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْعَقَدِیِّ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬০৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
(١٣٥٩٧) ابوعامر نے اسی طرح ذکر کیا ہے صرف یہ فرق ہے کہ انھوں نے کہا : میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں کبھی اس کا نکاح تجھ سے نہیں کروں گا۔ پھر میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ امام شافعی (رح) نے فرمایا : قرآنی آیات میں یہ واضح آیت ہے کہ ولی کے لیے اس عورت کے ساتھ اس کی ذات میں حق ہے اور ولی پر لازم ہے کہ اسے نہ روکے جب وہ دستور کے مطابق اپنا نکاح کرنا چاہے اور فرمایا : کتاب اللہ کے مطلب کے مطابق یہی سنت ہے۔
(۱۳۵۹۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِی أَبُو عَامِرٍ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ مُخْتَصَرًا إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فَقُلْتُ : وَاللَّہِ لاَ أُنْکِحُکَہَا أَبَدًا قَالَ : فَفِیَّ نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ أَبِی عَامِرٍ الْعَقَدِیِّ۔

(ش) قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَہَذَا أَبْیَنُ مَا فِی الْقُرْآنِ مِنْ أَنَّ لِلْوَلِیِّ مَعَ الْمَرْأَۃِ فِی نَفْسِہَا حَقًّا وَأَنَّ عَلَی الْوَلِیِّ أَنْ لاَ یَعْضِلَہَا إِذَا رَضِیَتْ أَنْ تُنْکَحَ بِالْمَعْرُوفِ وَقَالَ : جَائَ تِ السُّنَّۃُ بِمِثْلِ مَعْنَی کِتَابِ اللَّہِ تَعَالَی۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬০৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
(١٣٥٩٨) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی سیدہ عائشہ (رض) روایت کرتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورت اپنے ولی کے حکم کے بغیر نکاح نہ کرے۔ اگر اس نے نکاح کرلیا تو وہ نکاح باطل ہوگا، تین دفعہ یہ الفاظ دھرائے۔ اگر وہ نکاح کرے تو اس کے لیے حق مہر ہوگا جماع کرنے کی وجہ سے اور اگر ولی آپس میں اختلاف کریں تو سلطان ولی ہوگا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔
(۱۳۵۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : لاَ تُنْکَحُ امْرَأَۃٌ بِغَیْرٍ أَمْرِ وَلِیِّہَا فَإِنْ نَکَحَتْ فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَإِنْ أَصَابَہَا فَلَہَا مَہْرُ مِثْلِہَا بِمَا أَصَابَ مِنْہَا فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِیُّ مَنْ لاَ وَلِیَّ لَہُ ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬০৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
(١٣٥٩٩) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو عورت بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرتی ہے تو اس کا نکاح باطل ہے اور اس کے لیے حق مہر ہوگا جو اس سے جماع کیا گیا۔ اگر ولی آپس میں اختلاف کریں تو سلطان ولی ہوگا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔
(۱۳۵۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ فَارِسٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مَسْعُودٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَنَّ سُلَیْمَانَ بْنَ مُوسَی أَخْبَرَہُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی أَنَّ ابْنَ شِہَابٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَخْبَرَتْہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ نُکِحَتْ بِغَیْرِ إِذْنِ وَلِیِّہَا فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ فَنِکَاحِہَا بَاطِلٌ وَلَہَا مَہْرُہَا بِمَا أَصَابَ مِنْہَا فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِیُّ مَنْ لاَ وَلِیَّ لَہُ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ حَجَّاجٍ وَفِی رِوَایَۃِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ : بِغَیْرِ إِذْنِ مَوَالِیہَا فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ وَلَہَا الْمَہْرُ بِمَا أَصَابَہَا ۔ ثُمَّ الْبَاقِی مِثْلَہُ۔ وَرَوَاہُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ نُکِحَتْ بِغَیْرِ إِذْنِ وَلِیِّہَا ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ وَعَبْدِ الْمَجِیدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬০৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
(١٣٦٠٠) ایضاً
(۱۳۶۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ : الْمَوْلَی عِنْدَ کَثِیرٍ مِنَ النَّاسِ ہُوَ ابْنُ الْعَمِّ خَاصَّۃً وَلَیْسَ ہُوَ ہَکَذَا وَلَکِنَّہُ الْوَلِیُّ فَکُلُّ وَلِیٍّ لِلإِنْسَانِ فَہُوَ مَوْلاَہُ مِثْلُ الأَبِ وَالأَخِ وَابْنِ الأَخِ وَالْعَمِّ وَابْنِ الْعَمِّ وَمَا وَرَائَ ذَلِکَ مِنَ الْعَصَبَۃِ کُلِّہِمْ وَمِنْہُ قَوْلُہُ تَعَالَی {إِنِّی خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَرَائِی} قَالَ وَمِمَّا یُبَیِّنُ لَکَ أَنَّ الْمَوْلَی کُلُّ وَلِیٍّ حَدِیثُ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ نُکِحَتْ بِغَیْرِ إِذْنِ مَوْلاَہَا فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ ۔ أَرَادَ بِالْمَوْلَی الْوَلِیَّ وَقَالَ اللَّہُ تَعَالَی { یَوْمَ لاَ یُغْنِی مَوْلًی عَنْ مَوْلًی شَیْئًا } أَفَتَرَی إِنَّمَا عَنَی ابْنَ الْعَمِّ خَاصَّۃً دُونَ سَائِرِ أَہْلِ بَیْتِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬০৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
(١٣٦٠١) سند کی بحث ہے۔ امام زہری فرماتے ہیں کہ مکحول ہمارے اور سلیمان بن موسیٰ کے پاس آتا تھا، اللہ کی قسم ! سلیمان بن موسیٰ دونوں سے زیادہ ثقہ راوی ہے۔
(۱۳۶۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ رَجَائٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّی حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ قَالَ قَالَ لِی الزُّہْرِیُّ : إِنَّ مَکْحُولاً یَأْتِینَا وَسُلَیْمَانَ بْنَ مُوسَی وَایْمُ اللَّہِ إِنَّ سُلَیْمَانَ بْنَ مُوسَی لأَحْفَظُ الرَّجُلَیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬০৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
(١٣٦٠٢) اس میں بھی سند پر بحث کی گئی ہے۔ سعید دارمی نے یحییٰ بن معین سے سلیمان بن موسیٰ کا حال پوچھا تو انھوں نے کہا : امام زہری نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے۔
(۱۳۶۰۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الأُشْنَانِیُّ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِیدٍ الدَّارِمِیَّ یَقُولُ قُلْتُ لِیَحْیَی بْنِ مَعِینٍ فَمَا حَالُ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی فِی الزُّہْرِیِّ فَقَالَ ثِقَۃٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬০৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
(١٣٦٠٣) امام احمد بن حنبل (رح) کے پاس ابن علیہ کا تذکرہ کیا گیا کہ وہ ابن جریج سے حدیث بیان کرتا ہے ” لاَ نِکَاحَ إِلاَّ بِوَلِیٍّ “ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں زہری سے ملا اور اس کے متعلق پوچھا تو انھوں نے کہا : میں اس کو نہیں جانتا البتہ سلیمان بن موسیٰ کی تعریف کی تو امام احمد بن حنبل نے کہا کہ ابن جریج کے پاس مدون کتب تھیں، لیکن ان کتب میں ابن علیہ کا ابن جریج سے روایت کرنا موجود نہیں۔
(۱۳۶۰۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَیُّوبَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِیسَ الرَّازِیُّ قَالَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ یَقُولُ وَذُکِرَ عِنْدَہُ أَنَّ ابْنَ عُلَیَّۃَ یَذْکُرُ حَدِیثَ ابْنِ جُرَیْجٍ : لاَ نِکَاحَ إِلاَّ بِوَلِیٍّ ۔ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ فَلَقِیتُ الزُّہْرِیَّ فَسَأَلْتُہُ عَنْہُ فَلَمْ یَعْرِفْہُ وَأَثْنَی عَلَی سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی فَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ إِنَّ ابْنَ جُرَیْجٍ لَہُ کُتُبٌ مُدَوَّنَۃٌ وَلَیْسَ ہَذَا فِی کُتُبِہِ یَعْنِی حِکَایَۃَ ابْنِ عُلَیَّۃَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬১০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
(١٣٦٠٤) عباس بن محمد فرماتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین کو اس روایت کے متعلق کہتے ہوئے سنا ” لاَ نِکَاحَ إِلاَّ بِوَلِیٍّ “ جس کو ابن جریج نے روایت کیا ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ ابن جریج اس کو روایت کرتا ہے، ابن جریج نے کہا : میں نے امام زہری (رح) سے سوال کیا تو انھوں نے کہا : مجھے یاد نہیں۔ یحییٰ بن معین نے کہا : یہ بات صرف ابن علیہ بیان کرتا ہے۔ ابن علیہ نے ابن جریج کی کتابیں عبدالحمید بن عبدالعزیز بن ابوداؤد پر پیش کیں تو انھوں نے درست قرار دیا۔ میں نے یحییٰ بن معین سے کہا کہ میرا گمان ہے، عبدالمجید نے اس طرح کہا ہے تو انھوں نے کہا : وہ عبدالمجید ابن جریج کی روایت کو زیادہ جانتے والے تھے لیکن انھوں نے حصول حدیث کے لیے کوئی زیادہ محنت نہیں کی۔
(۱۳۶۰۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ قَالَ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ یَقُولُ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ یَقُولُ فِی حَدِیثِ : لاَ نِکَاحَ إِلاَّ بِوَلِیٍّ الَّذِی ۔ یَرْوِیہِ ابْنُ جُرَیْجٍ قُلْتُ لَہُ إِنَّ ابْنَ عُلَیَّۃَ یَقُولُ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ فَسَأَلْتُ عَنْہُ الزُّہْرِیَّ فَقَالَ لَسْتُ أَحْفَظُہُ فَقَالَ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ : لَیْسَ یَقُولُ ہَذَا إِلاَّ ابْنُ عُلَیَّۃَ وَإِنَّمَا عَرَضَ ابْنُ عُلَیَّۃَ کُتُبَ ابْنِ جُرَیْجٍ عَلَی عَبْدِ الْمَجِیدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ أَبِی رَوَّادٍ فَأَصْلَحَہَا لَہُ فَقُلْتُ لِیَحْیَی : مَا کُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ عَبْدَ الْمَجِیدِ ہَکَذَا فَقَالَ : کَانَ أَعْلَمَ النَّاسِ بِحَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ وَلَکِنْ لَمْ یَبْذُلْ نَفْسَہُ لِلْحَدِیثِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৬১১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
(١٣٦٠٥) پچھلی روایت کی طرح ہے۔
(۱۳۶۰۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی یَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِیدٍ : مُحَمَّدَ بْنَ ہَارُونَ یَقُولُ سَمِعْتُ جَعْفَرَ الطَّیَالِسِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ یُوَہِّنُ رِوَایَۃَ ابْنِ عُلَیَّۃَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَنَّہُ أَنْکَرَ مَعْرِفَۃَ حَدِیثِ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی وَقَالَ لَمْ یَذْکُرْہُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ غَیْرُ ابْنِ عُلَیَّۃَ وَإِنَّمَا سَمِعَ ابْنُ عُلَیَّۃَ مِنِ ابْنِ جُرَیْجٍ سَمَاعًا لَیْسَ بِذَاکَ إِنَّمَا صَحَّحَ کُتُبَہُ عَلَی کُتُبِ عَبْدِ الْمَجِیدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَضَعَّفَ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ رِوَایَۃَ إِسْمَاعِیلَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ جِدًّا۔
tahqiq

তাহকীক: