আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৬৬ টি

হাদীস নং: ১৩৫৭২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کے آدمی کی اور عورت کے عورت کی شرم گاہ کی طرف دیکھنے یا ان میں سے کوئی دوسرے کے ساتھ لیٹنے کا بیان
(١٣٥٦٦) حسن (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ دیکھنے والے (بدنظری کرنے والے) اور جس کی طرف دیکھا جا رہا ہے اس پر لعنت کرتا ہے۔
(۱۳۵۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمَانَ عَنْ عَمْرٍو مَوْلَی الْمُطَّلِبِ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ بَلَغَنِی أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لَعَنَ اللَّہُ النَّاظِرَ وَالْمَنْظُورَ إِلَیْہِ ۔ ہَذَا مُرْسَلٌ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৭৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوبصورت نابالغ بچے کی طرف شہوت کی نگاہ سے دیکھنے کا حکم

قَالَ اللَّہُ جَلَّ ثَنَاؤُہُ { قُلْ لِلْمُؤْمِنِینَ یَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوجَہُمْ }
(١٣٥٦٧) وضین بعض مشائخ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ خوبصورت چہرے والے نابالغ کی طرف دیکھنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
(۱۳۵۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ شَمَّاسٍ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ عَنِ الْوَضِینِ عَنْ بَعْضِ الْمَشْیَخَۃِ قَالَ : کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یُحَدَّ النَّظَرُ إِلَی الْغُلاَمِ الأَمْرَدِ الْجَمِیلِ الْوَجْہِ۔ وَقَدْ رُوِیَ ہَذَا عَنْ بَقِیَّۃَ عَنِ الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ وَہُوَ ضَعِیفٌ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَرْفُوعًا بِبَعْضِ مَعْنَاہُ وَالْمَشْہُورُ عَنْ بَقِیَّۃَ مَا ذَکَرْنَاہُ وَرَوَی أَبُو حَفْصٍ : عُمَرُ الطَّحَّانُ فِی مَعْنَاہُ حَدِیثًا مَوْضُوعًا عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَرْفُوعًا وَفِیمَا ذَکَرْنَا مِنَ الآیَۃِ غُنْیَۃٌ عَنْ غَیْرِہَا وَفِتْنَتُہُ ظَاہِرَۃٌ لاَ تَحْتَاجُ إِلَی خَبَرٍ یُبَیِّنُہَا وَبِاللَّہِ تَعَالَی التَّوْفِیقُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৭৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا آدمی سے مصافحہ کرنے کا بیان
(١٣٥٦٨) قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) سے سوال کیا کہ کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ مصافحہ کرتے تھے ؟ تو انھوں نے کہا : جی ہاں۔
(۱۳۵۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَکَانَتِ الْمُصَافَحَۃُ فِی أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَالَ : نَعَمْ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ عَنْ ہَمَّامٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۲۶۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৭৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا آدمی سے مصافحہ کرنے کا بیان
(١٣٥٦٩) براء بن عازب (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں اور اللہ کی تعریف کرتے ہیں اور استغفار کرتے ہیں تو ان دونوں کو معاف کردیا جاتا ہے۔
(۱۳۵۶۹) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو شُعَیْبٍ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ عَنْ أَبِی بَلْجٍ قَالَ حَدَّثَنِی زَیْدُ بْنُ أَبِی الشَّعْثَائِ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا الْتَقَی الْمُسْلِمَانِ فَتَصَافَحَا فَحَمِدَا اللَّہَ وَاسْتَغْفَرَاہُ غُفِرَ لَہُمَا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৭৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا آدمی سے مصافحہ کرنے کا بیان
(١٣٥٧٠) ایضاً
(۱۳۵۷۰) وَرَوَاہُ أَبُودَاوُدَ فِی السُّنَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْنٍ عَنْ ہُشَیْمٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ عَنْ زَیْدٍ أَبِی الْحَکَمِ الْعَنَزِیِّ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৭৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا آدمی سے مصافحہ کرنے کا بیان
(١٣٥٧١) براء بن عازب (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو بھی دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں ان کو جدا ہونے سے پہلے معاف کردیا جاتا ہے۔
(۱۳۵۷۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ وَابْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَجْلَحِ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَا مِنْ مُسْلِمَیْنِ یَلْتَقِیَانِ فَیَتَصَافَحَانِ إِلاَّ غُفِرَ لَہُمَا قَبْلَ أَنْ یَفْتَرِقَا ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৭৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا آدمی کے گلے ملنا جب شہوت برانگیختہ ہونے کا خدشہ نہ ہو
(١٣٥٧٢) عزہ کے ایک آدمی نے ابوذر (رض) کو کہا، جب ان کو شام کی طرف بھیجا کہ میں تم سے حدیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں پوچھتا ہوں، انھوں نے کہا : اگر میں تجھے بتلا دوں تو کیا آپ اسے صیغہ راز میں رکھیں گے، میں نے کہا : وہ ایسی بات نہیں ہے۔ کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم سے مصافحہ کرتے تھے، جب تم ان سے ملاقات کرتے ؟ تو انھوں نے کہا : جب بھی میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے مصافحہ ہی کیا ہے اور میری طرف ایک دن کسی کو بھیجا اور میں گھر میں نہیں تھا۔ جب میں گھر میں آیا تو مجھے بتایا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کو میری طرف بھیجا، میں آپ کے پاس آیا اور آپ چارپائی پر بیٹھے تھے، آپ مجھ سے لپٹ گئے، یہ بہت اچھا موقعہ تھا، بہت اچھا تھا۔
(۱۳۵۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ یَعْنِی خَالِدَ بْنَ ذَکْوَانَ عَنْ أَیُّوبَ بْنِ بُشَیْرِ بْنِ کَعْبٍ الْعَدَوِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَۃَ أَنَّہُ قَالَ لأَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَیْثُ سُیِّرَ مِنَ الشَّامِ : إِنِّی أُرِیدُ أَنْ أَسْأَلَکَ عَنْ حَدِیثٍ مِنْ حَدِیثِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: إِذًا أُخْبِرَکَ بِہِ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ سِرًّا قُلْتُ: إِنَّہُ لَیْسَ بِسِّرٍ ہَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَافِحُکُمْ إِذَا لَقِیتُمُوہُ؟ قَالَ: مَا لَقِیتُہُ قَطُّ إِلاَّ صَافَحَنِی وَبَعَثَ إِلَیَّ ذَاتَ یَوْمٍ وَلَمْ أَکُنْ فِی أَہْلِی فَلَمَّا جِئْتُ أُخْبِرْتُ أَنَّہُ أَرْسَلَ إِلَیَّ فَأَتَیْتُہُ وَہُوَ عَلَی سَرِیرِہِ فَالْتَزَمَنِی فَکَانَتْ تِلْکَ أَجْوَدَ وَأَجْوَدَ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৭৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا آدمی کے گلے ملنا جب شہوت برانگیختہ ہونے کا خدشہ نہ ہو
(١٣٥٧٣) انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ کہا گیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا جب ہم ملاقات کریں تو ایک دوسرے کے لیے جھکیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں۔ پھر پوچھا : ہم ایک دوسرے کو گلے مل لیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں، پھر پوچھا : مصافحہ کرلیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔
(۱۳۵۷۳) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا حَنْظَلَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قِیلَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیَنْحَنِی بَعْضُنَا لِبَعْضٍ إِذَا الْتَقَیْنَا؟ قَالَ: لاَ۔ قِیلَ: فَیَلْتَزِمُ بَعْضُنَا بَعْضًا؟ قَالَ: لاَ۔ قِیلَ: فَیُصَافِحُ بَعْضُنَا بَعْضًا؟ قَالَ: نَعَمْ۔ فَہَذَا یَتَفَرَّدُ بِہِ حَنْظَلَۃُ السَّدُوسِیُّ وَکَانَ قَدِ اخْتَلَطَ تَرَکَہُ یَحْیَی الْقَطَّانُ لاِخْتِلاَطِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৮০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا آدمی کے گلے ملنا جب شہوت برانگیختہ ہونے کا خدشہ نہ ہو
(١٣٥٧٤) ابن عمر (رض) پانی پر تھے، ان کو خبر ملی کہ حسین بن علی (رض) عراق کی طرف جا رہے ہیں تو وہ ان کو ملے، لمبی حدیث ذکر کی۔ جس میں اس کو لوٹنے کا حکم دیا تو انھوں نے لوٹنے سے انکار کردیا، ابن عمر (رض) ان کے گلے ملے اور رو پڑے اور فرمایا : میں تجھے تیرے قتل ہونے کے ڈر سے اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔
(۱۳۵۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ الأَسَدِیُّ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِیَّ یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ کَانَ بِمَائٍ لَہُ فَبَلَغَہُ أَنَّ الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا تَوَجَّہَ الْعِرَاقَ فَلَحِقَہُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی أَمْرِہِ بِالرُّجُوعِ فَأَبَی أَنْ یَرْجِعَ فَاعْتَنَقَہُ ابْنُ عُمَرَ وَبَکَی وَقَالَ : أَسْتَوْدِعُکَ اللَّہَ مِنْ قَتِیلٍ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ شَبَابَۃُ۔

(ت) وَرَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ یَحْیَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الشَّعْبِیِّ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৮১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا آدمی کے گلے ملنا جب شہوت برانگیختہ ہونے کا خدشہ نہ ہو
(١٣٥٧٥) محمد بن سیرین مصافحہ کو ناپسند کرتے تھے۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے اس بات کا ذکر شعبی سے کیا تو انھوں نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی جب بھی ملتے تھے تو مصافحہ کرتے تھے اور جب سفر سے آتے تو گلے ملتے تھے۔
(۱۳۵۷۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ إِسْمَاعِیلَ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ قَالَ: کَانَ مُحَمَّدُ بْنُ سِیرِینَ یَکْرَہُ الْمُصَافَحَۃَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِلشَّعْبِیِّ فَقَالَ : کَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ -ﷺ- إِذَا الْتَقَوْا صَافَحُوا فَإِذَا قَدِمُوا مِنْ سَفَرٍ عَانَقَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৮২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنی اولاد کا بوسہ لینے کا بیان
(١٣٥٧٦) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حسن بن علی (رض) کا بوسہ لیا اور اقرع بن حابس (رض) ساتھ بیٹھے تھے تو انھوں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! میرے دس بیٹے ہیں، میں نے کبھی بھی ان کا بوسہ نہیں لیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا : بیشک جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔
(۱۳۵۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَبَّلَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَالأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِیمِیُّ جَالِسٌ عِنْدَہُ فَقَالَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ لِی عَشْرَۃً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ مِنْہُمْ إِنْسَانًا قَطُّ قَالَ فَنَظَرَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : إِنَّ مَنْ لاَ یَرْحَمُ لاَ یُرْحَمُ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِالرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔

[صحیح۔ بخاری ۵۹۹۷۔ مسلم ۲۳۱۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৮৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنی اولاد کا بوسہ لینے کا بیان
(١٣٥٧٧) عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بچوں کے بوسہ لیتے ہو، ہم تو نہیں لیتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تیرے دل سے اللہ پاک نے رحم کو ختم کیا ہے تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔
(۱۳۵۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُفَ قَالَ ذَکَرَ سُفْیَانُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : جَائَ أَعْرَابِیٌّ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ : أَتُقَبِّلُونَ الصِّبْیَانَ فَمَا نُقَبِّلُہُمْ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَوَأَمْلِکُ لَکَ أَنْ نَزَعَ اللَّہُ مِنْ قَلْبِکَ الرَّحْمَۃَ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفِرْیَابِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۹۹۸۔ مسلم ۲۳۱۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৮৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنی اولاد کا بوسہ لینے کا بیان
(١٣٥٧٨) عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے فاطمہ (رض) سے بڑھ کر نہیں دیکھا کسی کو کہ وہ باتیں کرنے یا کلام میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشابہ ہو۔ جب وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتی تو آپ اس کو خوش آمدید کہتے اور کھڑے ہوجاتے، اس کے ہاتھ کو پکڑ لیتے، اس کو بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر بٹھا دیتے اور جب آپ اس کے پاس جاتے تو وہ آپ کو خوش آمدید کہتی اور کھڑی ہوجاتی آپ کے ہاتھ کو پکڑ لیتی اور اس کو بوسہ دیتی تھی۔
(۱۳۵۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ مَیْسَرَۃَ بْنِ حَبِیبٍ عَنِ الْمِنْہَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : مَا رَأَیْتُ أَحَدًا کَانَ أَشْبَہَ کَلاَمًا وَحَدِیثًا مِنْ فَاطِمَۃَ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَیْہِ رَحَّبَ بِہَا وَقَامَ إِلَیْہَا فَأَخَذَ بِیَدِہَا فَقَبَّلَہَا وَأَجْلَسَہَا فِی مَجْلِسِہِ وَکَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَیْہَا رَحَّبَتْ بِہِ وَقَامَتْ فَأَخَذَتْ بِیَدِہِ فَقَبَّلَتْہُ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৮৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سر کا بوسہ لینے کا بیان
(١٣٥٧٩) سیدہ عائشہ (رض) واقعہ افک کے بارے میں فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عائشہ ! تیرے لیے خوشخبری ہے؛ کیونکہ اللہ پاک نے تیرا عذر نازل کیا ہے اور قرآن پڑھا تو میرے والدین نے کہا : اے عائشہ اٹھو اور آپ کے سر کا بوسہ لے لو تو میں نے کہا : میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کروں گی نہ کہ آپ لوگوں کی۔
(۱۳۵۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ فِی قِصَّۃِ الإِفْکِ ثُمَّ قَالَ تَعْنِی النَّبِیَّ -ﷺ- : أَبْشِرِی یَا عَائِشَۃُ فَإِنَّ اللَّہَ قَدْ أَنْزَلَ عُذْرَکِ ۔ وَقَرَأَ عَلَیْہَا الْقُرْآنَ فَقَالَ أَبَوَایَ : قُومِی فَقَبِّلِی رَأْسَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ : أَحْمَدُ اللَّہَ لاَ إِیَّاکُمَا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৮৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آنکھوں کے درمیان بوسہ لینے کا بیان
(١٣٥٨٠) جب جعفر (رض) حبشہ سے آئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو گلے ملے اور آنکھوں کے درمیان سے بوسہ لیا۔ راوی کہتا ہے کہ مجھے نہیں پتہ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیبر کی فتح کی وجہ سے خوش ہوئے ہیں یا جعفر (رض) کے آنے کی وجہ سے خوش ہوئے ہیں۔
(۱۳۵۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : زَیْدُ بْنُ أَبِی ہَاشِمٍ الْعَلَوِیُّ وَأَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّجَّارِ الْمُقْرِئُ بِالْکُوفَۃِ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ الأَجْلَحِ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ جَعْفَرٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنَ الْحَبَشَۃِ ضَمَّہُ النَّبِیُّ -ﷺ- وَقَبَّلَ مَا بَیْنَ عَیْنَیْہِ وَقَالَ : مَا أَدْرِی بِأَیِّہِمَا أَنَا أَشَدُّ فَرَحًا فَتْحِ خَیْبَرَ أَوْ قُدُومِ جَعْفَرٍ ۔ ہَذَا مُرْسَلٌ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৮৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آنکھوں کے درمیان بوسہ لینے کا بیان
(١٣٥٨١) ایضاً ۔
(۱۳۵۸۱) وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الزَّاہِدُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ بُنْدَارٍ الصُّوفِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ الْجَوَالِیقِیُّ حَدَّثَنَا خَلِیفَۃُ بْنُ خَیَّاطٍ حَدَّثَنَا زِیَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ جَعْفَرٌ مِنَ الْحَبَشَۃِ اسْتَقْبَلَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَبَّلَہُ۔ وَالْمَحْفُوظُ ہُوَ الأَوَّلُ مُرْسَلاً۔ [منکر]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৮৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رخسار کا بوسہ لینے کا بیان
(١٣٥٨٢) براء بن عازب فرماتے ہیں کہ میں ابوبکر (رض) کے ساتھ داخل ہوا، جب وہ نئے نئے مدینہ میں آئے تھے۔ عائشہ (رض) کو بخار تھا۔ ابوبکر (رض) اس کے پاس آئے اور کہا : میری بیٹی کیسی ہے اور اس کے رخساروں کا بوسہ لیا۔
(۱۳۵۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَہَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سَالِمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ یُوسُفَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَوَّلَ مَا قَدِمَ الْمَدِینَۃَ فَإِذَا عَائِشَۃُ ابْنَتُہُ مُضْطَجِعَۃٌ قَدْ أَصَابَہَا حُمَّی فَأَتَاہَا أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : کَیْفَ أَنْتِ یَا بُنَیَّۃُ وَقَبَّلَ خَدَّہَا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৮৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رخسار کا بوسہ لینے کا بیان
(١٣٥٨٣) ایاس بن دغفل کہتے ہیں کہ میں نے ابو نظر کو دیکھا، وہ حسن بصری (رح) کے رخسار کا بوسہ لے رہے تھے۔
(۱۳۵۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ إِیَاسِ بْنِ دَغْفَلٍ قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا نَضْرَۃَ قَبَّلَ خَدَّ الْحَسَنِ یَعْنِی الْبَصْرِیَّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৯০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہاتھوں کا بوسہ لینے کا بیان
(١٣٥٨٤) عبداللہ بن عمر (رض) نے حدیث بیان کی اور قصہ کا ذکر کیا کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہوئے اور آپ کے ہاتھوں کا بوسہ لیا۔
(۱۳۵۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِی لَیْلَی حَدَّثَہُ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا حَدَّثَہُ وَذَکَرَ قِصَّۃً قَالَ : فَدَنَوْنَا مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَبَّلْنَا یَدَہُ۔ [ضعیف جداً]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৫৯১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہاتھوں کا بوسہ لینے کا بیان
(١٣٥٨٥) جب عمر (رض) شام آئے تو ابوعبیدہ بن جراح نے ان کا استقبال کیا اور ان کے ہاتھ کا بوسہ لیا۔ پھر وہ علیحدہ ہوئے اور رونے لگے۔ راوی کہتا ہے کہ تمیم کہتے ہیں کہ ہاتھوں کا بوسہ لینا سنت ہے۔
(۱۳۵۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِیُّ عَنْ زِیَادِ بْنِ فَیَّاضٍ عَنْ تَمِیمِ بْنِ سَلَمَۃَ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الشَّامَ اسْتَقْبَلَہُ أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَبَّلَ یَدَہُ ثُمَّ خَلَوْا یَبْکِیَانِ قَالَ : فَکَانَ تَمِیمٌ یَقُولُ : تَقْبِیلُ الْیَدِ سُنَّـۃٌ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক: