আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৬৬ টি
হাদীস নং: ১৩৭৯২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب بیوی راضی ہو تو غیر کفو کا نکاح رد نہ کیا جائے اور مسلمان کا نکاح بھی رد نہ ہوگا (چاہے کسی کنبے قبیلے کا ہو)
(١٣٧٨٦) حنظلہ بن ابی سفیان جمحی اپنی والدہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن عوف کی بہن کو بلال کے نکاح میں دیکھا۔
(۱۳۷۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَتِیقُ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ أَبِی الْحَسَنِ عَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ الْجُمَحِیِّ عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ: رَأَیْتُ أُخْتَ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ تَحْتَ بِلاَلٍ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الدارقطنی ۲۰۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৯৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب بیوی راضی ہو تو غیر کفو کا نکاح رد نہ کیا جائے اور مسلمان کا نکاح بھی رد نہ ہوگا (چاہے کسی کنبے قبیلے کا ہو)
(١٣٧٨٧) زید بن اسلم مرسل روایت نقل فرماتے ہیں کہ بنو بکیر کے بیٹے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری بہن کی شادی فلاں سے کردیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلال کے بارے تمہاری کیا رائے ہے تو انھوں نے شادی کردی۔ راوی کہتے ہیں کہ بنو بکیر مہاجرین کے قبیلہ بنو لیث سے تھے۔
(۱۳۷۸۷) وَفِیمَا ذَکَرَ أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ زَیْدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَیْدٌ بْنِ أَسْلَمَ مُرْسَلاً : أَنَّ بَنِی بُکَیْرٍ أَتَوْا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالُوا : زَوِّجْ أُخْتَنَا مِنْ فُلاَنٍ فَقَالَ : أَیْنَ أَنْتُمْ عَنْ بِلاَلٍ ۔ فَعَادُوا فَأَعَادَ ثَلاَثًا فَزَوَّجُوہُ قَالَ وَکَانَ بَنُو بُکَیْرٍ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ مِنْ بَنِی لَیْثٍ۔أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৯৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب بیوی راضی ہو تو غیر کفو کا نکاح رد نہ کیا جائے اور مسلمان کا نکاح بھی رد نہ ہوگا (چاہے کسی کنبے قبیلے کا ہو)
(١٣٧٨٨) عمرو بن میمون فرماتے ہیں : مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ بلال کا ایک بھائی تھا جو اپنی نسبت عرب کی طرف کرتا تھا اور اپنے آپ کو عرب ہی خیال کرتا تھا۔ اس نے عرب کی ایک عورت کو پیغام نکاح دیا۔ انھوں نے کہا : اگر بلال آجائیں تو ہم آپ کی شادی کردیں گے۔ بلال آگئے تو انھوں نے کہا : میں بلال بن رباح ہوں اور یہ میرا بھائی جو دین و اخلاق کے اعتبار سے برا ہے۔ اگر تم چاہو تو شادی کر دو اور شادی کرا دو ۔ اگر تم چھوڑنا چاہو تو چھوڑ دو ۔ انھوں نے کہا : جس کے آپ بھائی ہوں ہم اس کی شادی کردیتے ہیں تو انھوں نے شادی کردی۔
(۱۳۷۸۸) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الزَّاہِدُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَیْمُونٍ حَدَّثَنِی أَبِی : أَنَّ أَخًا لِبِلاَلٍ کَانَ یَنْتَمِی فِی الْعَرَبِ وَیَزْعُمُ أَنَّہُ مِنْہُمْ فَخَطَبَ امْرَأَۃً مِنَ الْعَرَبِ فَقَالُوا : إِنْ حَضَرَ بِلاَلٌ زَوَّجْنَاکَ قَالَ فَحَضَرَ بِلاَلٌ فَقَالَ : أَنَا بِلاَلُ بْنُ رَبَاحٍ وَہَذَا أَخِی وَہُوَ امْرُؤُ سَوْئٍ سَیِّئُ الْخُلُقِ وَالدِّینِ فَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تُزَوِّجُوہُ فَزَوِّجُوہُ وَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَدَعُوا فَدَعُوا فَقَالُوا : مَنْ تَکُنْ أَخَاہُ نُزَوِّجْہُ فَزَوَّجُوہُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৯৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حق مہر کی کمی کی وجہ سے نکاح رد نہ کیا جائے گا جب بیوی راضی ہو؛ کیونکہ یہ اپنے معاملہ کی مالکہ ہے حق مہر عورت کا ہے ولیوں کا نہیں
(١٣٧٨٩) عبداللہ بن عامر بن ربیعہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے دو جوتوں کے عوض نکاح کرلیا تو اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا : کیا تو صرف دو جوتوں کے عوض راضی ہے ؟ اس نے کہا : ہاں تو آپ نے اجازت دے دی۔
(۱۳۷۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرُوَیْہِ بْنِ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیعَۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ امْرَأَۃً تَزَوَّجَتْ عَلَی نَعْلَیْنِ فَجِیئَ بِہَا إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ لَہَا : أَرَضِیتِ مِنْ نَفْسِکِ وَمَالِکِ بِنَعْلَیْنِ؟ ۔ فَقَالَتْ : نَعَمْ فَأَجَازَہُ النَّبِیُّ -ﷺ-
وَفِیہِ أَخْبَارٌ أُخَرُ مَوْضِعُہَا کِتَابُ الصَّدَاقِ۔ [ضعیف]
وَفِیہِ أَخْبَارٌ أُخَرُ مَوْضِعُہَا کِتَابُ الصَّدَاقِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৯৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت جب کفو کی جانب رغبت رکھتی ہو تو ولی کے منع کرنے کا حکم
قال اللہ تعالیٰ : { فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ } [البقرۃ ٢٣٢] ” تم عورتوں کو مت روکو جب وہ اپنے خاوندوں سے نکاح کرنا چاہیں۔ “
قال اللہ تعالیٰ : { فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ } [البقرۃ ٢٣٢] ” تم عورتوں کو مت روکو جب وہ اپنے خاوندوں سے نکاح کرنا چاہیں۔ “
(١٣٧٩٠) حضرت حسن اللہ کے اس قول { فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ } [البقرۃ ٢٣٢] ” تم ان عورتوں کو مت روکو جو اپنے خاوندوں سے نکاح کرنا چاہیں۔ “ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ مجھے معقل بن یسار نے بیان کیا کہ یہ ان کے بارے میں نازل ہوئی کہ میں نے اپنی بہن کا نکاح ایک مرد سے کردیا، اس نے طلاق دے دی، جب اس کی عدت ختم ہوئی تو اس نے دوبارہ نکاح کا پیغام دیا۔ میں نے اس سے کہا : میں نے تیرا نکاح کیا اور تیری عزت کی لیکن تو نے طلاق دے دی۔ پھر نکاح کا پیغام لے کر آگئے ہو۔ اللہ کی قسم ! اب تو اس کی طرف کبھی نہ لوٹے گا۔ راوی کہتے ہیں : آدمی میں کوئی عیب بھی نہ تھا اور عورت بھی واپسی کا ارادہ رکھتی تھی تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، میں نے کہا : اب میں نے اے اللہ کے رسول ! اس کا نکاح اس کے ساتھ کردیا ہے۔
(۱۳۷۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ التَّمِیمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ فِی قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ (فَلاَ تَعْضُلُوہُنَّ أَنْ یَنْکِحْنَ أَزْوَاجَہُنَّ) قَالَ حَدَّثَنِی مَعْقِلُ بْنُ یَسَارٍ الْمُزَنِیُّ : أَنَّہَا نَزَلَتْ فِیہِ قَالَ کُنْتُ زَوَّجْتُ أُخْتًا لِی مِنْ رَجُلٍ فَطَلَّقَہَا حَتَّی إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُہَا جَائَ یَخْطُبُہَا فَقُلْتُ لَہُ : زَوَّجْتُکَ وَفَرَشْتُکَ وَأَکْرَمْتُکَ فَطَلَّقْتَہَا ثُمَّ جِئْتَ تَخْطُبُہَا : لاَ وَاللَّہِ لاَ تَعُودُ إِلَیْہَا أَبَدًا قَالَ وَکَانَ رَجُلاً لاَ بَأْسَ بِہِ وَکَانَتِ امْرَأَتُہُ تُرِیدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَیْہِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ہَذِہِ الآیَۃَ فَقُلْتُ الآنَ أَفْعَلُ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَزَوَّجْتُہَا إِیَّاہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَفْصٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۳۰]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَفْصٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۳۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৯৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت جب کفو کی جانب رغبت رکھتی ہو تو ولی کے منع کرنے کا حکم
قال اللہ تعالیٰ : { فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ } [البقرۃ ٢٣٢] ” تم عورتوں کو مت روکو جب وہ اپنے خاوندوں سے نکاح کرنا چاہیں۔ “
قال اللہ تعالیٰ : { فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ } [البقرۃ ٢٣٢] ” تم عورتوں کو مت روکو جب وہ اپنے خاوندوں سے نکاح کرنا چاہیں۔ “
(١٣٧٩١) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : جس عورت نے اپنے والیوں کی اجازت کے بغیر نکاح کرلیا، اس کا نکاح باطل ہے۔ اس کا نکاح باطل ہے۔ اگر خاوند نے ہمبستری کرلی تو عورت کے لیے حق مہر ہے اگر ولی آپس میں جھگڑا کریں تو بادشاہ اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہیں۔
(ب) مجاہد شعبی سے اور وہ حضرت علی، عبداللہ اور شریح سے نقل فرماتے ہیں کہ نکاح ولی کے بغیر جائز نہیں مگر وہ عورت جس کو اس کا ولی روکے تو وہ بادشاہ یا قاضی کے پاس آجائے۔
(ج) زیاد بن علاقہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے لکھا : اگر کفو موجود ہو تو عورت کے باپ سے کہو کہ ان کی شادی کردیں، اگر وہ انکار کرے تو تم اس کی شادی کر دو ۔
(ب) مجاہد شعبی سے اور وہ حضرت علی، عبداللہ اور شریح سے نقل فرماتے ہیں کہ نکاح ولی کے بغیر جائز نہیں مگر وہ عورت جس کو اس کا ولی روکے تو وہ بادشاہ یا قاضی کے پاس آجائے۔
(ج) زیاد بن علاقہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے لکھا : اگر کفو موجود ہو تو عورت کے باپ سے کہو کہ ان کی شادی کردیں، اگر وہ انکار کرے تو تم اس کی شادی کر دو ۔
(۱۳۷۹۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَہْمِ السِّمَّرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ : الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ قَالَ سَمِعْتُ سُلَیْمَانَ بْنَ مُوسَی یَقُولُ حَدَّثَنَا الزُّہْرِیُّ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ یَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ نُکِحَتْ بِغَیْرٍ إِذْنِ مَوَالِیہَا فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ فَنِکَاحُہَا بَاطِلٌ فَإِنْ أَصَابَہَا فَلَہَا مَہْرُہَا بِمَا أَصَابَہَا وَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِیُّ مَنْ لاَ وَلِیَّ لَہُ ۔
وَرُوِّینَا عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَلِیٍّ وَعَبْدِ اللَّہِ وَشُرَیْحٍ قَالُوا : لاَ نِکَاحَ إِلاَّ بِوَلِیٍّ إِلاَّ امْرَأَۃً یَعْضُلُہَا الْوَلِیُّ فَتَأْتِی السُّلْطَانَ أَوِ الْقَاضِیَ
وَعَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ قَالَ : کَتَبَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنْ کَانَ کُفْؤًا فَقُولُوا لأَبِیہَا یُزَوِّجُہَا فَإِنْ أَبَی فَزَوِّجُوہَا۔ [صحیح۔ انظر الارواء ۱۳۴۰]
وَرُوِّینَا عَنْ مُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عَلِیٍّ وَعَبْدِ اللَّہِ وَشُرَیْحٍ قَالُوا : لاَ نِکَاحَ إِلاَّ بِوَلِیٍّ إِلاَّ امْرَأَۃً یَعْضُلُہَا الْوَلِیُّ فَتَأْتِی السُّلْطَانَ أَوِ الْقَاضِیَ
وَعَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ قَالَ : کَتَبَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنْ کَانَ کُفْؤًا فَقُولُوا لأَبِیہَا یُزَوِّجُہَا فَإِنْ أَبَی فَزَوِّجُوہَا۔ [صحیح۔ انظر الارواء ۱۳۴۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৯৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرے کی ممانعت کی تفسیر بیان جس سے اللہ نے منع کیا ہے
(١٣٧٩٢) عطاء ابو الحسن السوائی حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے اس آیت کے بارے میں نقل فرماتے ہیں { لَا یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآئَ کَرْھًا وَ لَا تَعْضُلُوْھُنَّ } [النساء ١٩] ” تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم عورتوں کے وارث ہوجاؤ زبردستی اور مت منع کرو ان کو۔ “ جب مرد فوت ہوجاتا تو اس کے ورثاء اس کی عورت کے زیادہ حق دار ہوتے اس کے ولیوں سے۔ اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اس سے شادی کرلیتے یا اس کی شادی کرا دیتے۔ اگر نہ چاہتے تو شادی نہ کرتے تو یہ آیت اس کے بارے میں نازل ہوئی۔
(۱۳۷۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ یَعْنِی ابْنَ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِیعٍ وَابْنُ سَمُرَۃَ الأَحْمَسِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا الشَّیْبَانِیُّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ الشَّیْبَانِیُّ وَذَکَرَہُ عَطَاء ٌ أَبُو الْحَسَنِ السُّوائِیُّ وَلاَ أَظُنُّہُ ذَکَرَہُ إِلاَّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ {لاَ یَحِلُّ لَکُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَائَ کَرْہًا وَلاَ تَعْضُلُوہُنَّ} قَالَ وَکَانَ الرَّجُلُ إِذَا مَاتَ کَانَ أَوْلِیَاؤُہُ أَحَقَّ بِامْرَأَتِہِ مِنْ وَلِیِّ نَفْسِہَا إِنْ شَائَ بَعْضُہُمْ تَزَوَّجَہَا وَإِنْ شَائُ وا زَوَّجُوہَا وَإِنْ شَائُ وا لَمْ یُزَوِّجُوہَا فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ فِی ذَلِکَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ أَسْبَاطٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۵۷۹]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ أَسْبَاطٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۵۷۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৯৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرے کی ممانعت کی تفسیر بیان جس سے اللہ نے منع کیا ہے
(١٣٧٩٣) مقاتل بن حبان اللہ کے اس قول : { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآئَ کَرْھًا } ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بنو۔ “ کے بارے میں فرماتے ہیں : جب جاہلیت میں آدمی فوت ہوجاتا تو میت کے ورثاء اس کی بیوی پر کپڑا ڈال کر اس کے نکاح کے وارث بن جاتے تو وہ اس کے نکاح کے زیادہ حق دار ہوتے۔ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : { وَ لَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْھَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَیْتُمُوْھُنَّ } [النساء ١٩] ” اور مت روکو ان کو تاکہ لے لو تم وہ چیز جو تم نے ان کو دی ہے “ یعنی حق مہر۔ مرد عورت کو روکتا حالانکہ اس کو اس کی کوئی ضرورت نہ ہوتی صرف فدیہ کا ارادہ رکھتا۔ یہ اللہ کا قول { وَ لَا تَعْضُلُوْھُنَّ } ” تم مت روکو ان کو۔ “ وہ کہتے کہ تم مت منع کرو۔ یا مت روکو۔ { لِتَذْھَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَیْتُمُوْھُنَّ } ” یعنی جو تم نے ان کو عطا کردیا۔ “ { اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ } [النساء ١٩] ” یعنی واضح نافرمانی۔ “ اس کی وجہ سے اللہ نے مارنے اور چھوڑنے کی اجازت دی ہے۔ اگر وہ انکار کرے تو پھر فدیہ بھی جائز ہے۔
(۱۳۷۹۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَیَّانَ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ یَحِلُّ لَکُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَائَ کَرْہًا} قَالَ کَانَ إِذَا تُوُفِّیَ الرَّجُلُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ عَمَدَ حَمِیمُ الْمَیِّتِ إِلَی امْرَأَتِہِ فَأَلْقَی عَلَیْہَا ثَوْبًا فَیَرِثُ نِکَاحَہَا فَیَکُونُ ہُوَ أَحَقَّ بِہَا فَأَنْزَلَ اللَّہُ ہَذِہِ الآیَۃَ وَقَوْلُہُ {وَلاَ تَعْضُلُوہُنَّ لِتَذْہَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَیْتُمُوہُنَّ} مِنَ الْمَہْرِ فَہُوَ الرَّجُلُ یَعْضُلُ امْرَأَتَہُ فَیَحْبِسُہَا وَلاَ حَاجَۃَ لَہُ فِیہَا إِرَادَۃَ أَنْ تَفْتَدِیَ مِنْہُ فَذَلِکَ قَوْلُہُ {وَلاَ تَعْضُلُوہُنَّ} یَقُولُ وَلاَ تَحْبِسُوہُنَّ { لِتَذْہَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَیْتُمُوہُنَّ} یَعْنِی مَا أَعْطَیْتُمُوہَنُّ {إِلاَّ أَنْ یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ} یَعْنِی الْعِصْیَانَ الْبَیِّنَ وَہُوَ النُّشُوزُ فَقَدْ أَحَلَّ اللَّہُ الضَّرْبَ وَالْہِجْرَانَ فَإِنْ أَبَتْ حَلَّتْ لَہُ الْفِدْیَۃُ۔ وَتَمَامُ ہَذَا الْبَابِ یَرِدُ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی فِی کِتَابِ الْقَسْمِ حَیْثُ نَقَلْنَا کَلاَمَ الشَّافِعِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮০০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نکاح میں وکالت کا بیان
(١٣٧٩٤) حضرت عقبہ بن عامر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب دو ولی نکاح کردیں تو پہلے کا نکاح معتبر ہے اور جب کوئی آدمی دو آدمیوں کو مال فروخت کرے تو وہ پہلے خریدار کا ہوگا۔
(۱۳۷۹۴) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : إِذَا أَنْکَحَ الْوَلِیَانِ فَہُوَ لِلأَوَّلِ مِنْہُمَا وَإِذَا بَایَعَ الرَّجُلُ بَیْعًا مِنَ الرَّجُلَیْنِ فَہُوَ لِلأَوَّلِ مِنْہُمَا۔ [منکر]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮০১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نکاح میں وکالت کا بیان
(١٣٧٩٥) سمرہ بن جندب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب دو ولی نکاح کردیں تو پہلے ولی کے نکاح کا اعتبار ہوگا اور جب کوئی مرد اپنا سامان دو آدمیوں کو فروخت کر دے تو وہ سامان پہلے خریدار کا ہوگا۔
(۱۳۷۹۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدَبٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : إِذَا أَنْکَحَ وَلِیَّانِ فَالنِّکَاحُ لِلأَوَّلِ مِنْہُمَا وَإِذَا بَاعَ رَجُلٌ مَتَاعًا مِنْ رَجُلَیْنِ فَہُوَ لِلأَوَّلِ مِنْہُمَا ۔
ہَکَذَا رِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ وَہُوَ الْمَحْفُوظُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : لاَ یَکُونُ نِکَاحُ وَلِیَّیْنَ مُتَکَافِئًا حَتَّی یَکُونَ لِلأَوَّلِ مِنْہُمَا إِلاَّ بِوِکَالَۃٍ مِنْہُمَا مَعَ تَوْکِیلِ النَّبِیِّ -ﷺ- عَمْرَو بْنَ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیَّ فَزَوَّجَہُ أُمَّ حَبِیبَۃَ بِنْتَ أَبِی سُفْیَانَ۔
ہَکَذَا رِوَایَۃُ الْجَمَاعَۃِ وَہُوَ الْمَحْفُوظُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : لاَ یَکُونُ نِکَاحُ وَلِیَّیْنَ مُتَکَافِئًا حَتَّی یَکُونَ لِلأَوَّلِ مِنْہُمَا إِلاَّ بِوِکَالَۃٍ مِنْہُمَا مَعَ تَوْکِیلِ النَّبِیِّ -ﷺ- عَمْرَو بْنَ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیَّ فَزَوَّجَہُ أُمَّ حَبِیبَۃَ بِنْتَ أَبِی سُفْیَانَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮০২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نکاح میں وکالت کا بیان
(١٣٧٩٦) ابو جعفر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو بن امیہ ضمری کو نجاشی کے پاس بھیجا تو اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے وکالت کرتے ہوئے ام حبیبہ بنت ابی سفیان سے نکاح کیا ۔ آپ کا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے ٤٠٠٠ دینار ادا کیے۔
(ب) ام کلثوم بنت علی کے نکاح کے بارے میں جو حضرت عمر بن خطاب سے ہوا یہ ہے کہ حضرت علی نے حسن و حسین سے کہا کہ تم اپنے چچا کا نکاح کر دو تو ان دونوں نے نکاح کردیا۔
(ب) ام کلثوم بنت علی کے نکاح کے بارے میں جو حضرت عمر بن خطاب سے ہوا یہ ہے کہ حضرت علی نے حسن و حسین سے کہا کہ تم اپنے چچا کا نکاح کر دو تو ان دونوں نے نکاح کردیا۔
(۱۳۷۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی أَبُو جَعْفَرٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَمْرَو بْنَ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیَّ إِلَی النَّجَاشِیِّ فَزَوَّجَہُ أُمَّ حَبِیبَۃَ بِنْتَ أَبِی سُفْیَانَ وَسَاقَ عَنْہُ أَرْبَعَمِائَۃِ دِینَارٍ۔
وَرُوِّینَا فِی تَزْوِیجِ أُمِّ کُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِیٍّ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ فَقَالَ عَلِیٌّ لَحَسَنٍ وَحُسَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ : زَوِّجَا عَمَّکُمَا فَزَوَّجَاہُ۔ [ضعیف]
وَرُوِّینَا فِی تَزْوِیجِ أُمِّ کُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِیٍّ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ فَقَالَ عَلِیٌّ لَحَسَنٍ وَحُسَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ : زَوِّجَا عَمَّکُمَا فَزَوَّجَاہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮০৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر مسلمان عورت کا ولی نہ ہوگا امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ابن سعید بن العاص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح ام حبیبہ بنت ابی سفیان سے کیا، حالانکہ ابوسفیان زندہ تھے : کیونکہ ام حبیبہ بھی مسلمان تھیں اور ابن سعید بھی مسلمان تھے لیکن ابو سفیان مسلمان نہ تھے اور اللہ نے مس
(١٣٧٩٧) عروہ ام حبیبہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ عبیداللہ بن جحش کے نکاح میں تھیں تو عبیداللہ حبشہ کے علاقہ میں فوت ہوگئے تو نجاشی نے ام حبیبہ کا نکاح نبی سے کردیا اور اپنی جانب سے چار ہزار حق مہر ادا کیا اور شرحبیل بن حسنہ کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف روانہ کردیا۔
(۱۳۷۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ أُمِّ حَبِیبَۃَ : أَنَّہَا کَانَتْ تَحْتَ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ جَحْشٍ فَمَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ فَزَوَّجَہَا النَّجَاشِیُّ النَّبِیَّ -ﷺ- وَأَمْہَرَہَا عَنْہُ أَرْبَعَۃَ آلاَفٍ وَبَعَثَ بِہَا إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مَعَ شُرَحْبِیلَ ابْنِ حَسَنَۃَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮০৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر مسلمان عورت کا ولی نہ ہوگا امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ابن سعید بن العاص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح ام حبیبہ بنت ابی سفیان سے کیا، حالانکہ ابوسفیان زندہ تھے : کیونکہ ام حبیبہ بھی مسلمان تھیں اور ابن سعید بھی مسلمان تھے لیکن ابو سفیان مسلمان نہ تھے اور اللہ نے مس
(١٣٧٩٨) محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ مجھے خبر ملی ہے کہ ام حبیبہ کے نکاح میں ولی ان کے چچا کے بیٹے خالد بن سعید بن العاص تھے۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ اس کے باپ کے چچا کے بیٹے کا بیٹا تھا؛ کیونکہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان بن حرب بن امیہ ہیں اور العاص امیہ کے بیٹے ہیں۔
(ب) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت عثمان بن عفان وہ ان کے نکاح کے ولی تھے۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ اس کے باپ کے چچا کے بیٹے کا بیٹا تھا؛ کیونکہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان بن حرب بن امیہ ہیں اور العاص امیہ کے بیٹے ہیں۔
(ب) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت عثمان بن عفان وہ ان کے نکاح کے ولی تھے۔
(۱۳۷۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ عِیسَی بْنِ یُونُسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ الَّذِی وَلِیَ نِکَاحَہَا ابْنُ عَمِّہَا خَالِدُ بْنُ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَہُوَ ابْنُ ابْنِ عَمِّ أَبِیہَا فَإِنَّہَا أُمُّ حَبِیبَۃَ بِنْتُ أَبِی سُفْیَانَ بْنِ حَرْبِ بْنِ أُمَیَّۃَ وَالْعَاصُ ہُوَ ابْنُ أُمَیَّۃَ۔
وَقَدْ قِیلَ إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ہُوَ الَّذِی وَلِیَ نِکَاحَہَا۔ [ضعیف]
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَہُوَ ابْنُ ابْنِ عَمِّ أَبِیہَا فَإِنَّہَا أُمُّ حَبِیبَۃَ بِنْتُ أَبِی سُفْیَانَ بْنِ حَرْبِ بْنِ أُمَیَّۃَ وَالْعَاصُ ہُوَ ابْنُ أُمَیَّۃَ۔
وَقَدْ قِیلَ إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ہُوَ الَّذِی وَلِیَ نِکَاحَہَا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮০৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر مسلمان عورت کا ولی نہ ہوگا امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ابن سعید بن العاص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح ام حبیبہ بنت ابی سفیان سے کیا، حالانکہ ابوسفیان زندہ تھے : کیونکہ ام حبیبہ بھی مسلمان تھیں اور ابن سعید بھی مسلمان تھے لیکن ابو سفیان مسلمان نہ تھے اور اللہ نے مس
(٩٩ ١٣٧) ابو الاسود حضرت عروہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ام حبیبہ کا نکاح حضرت عثمان بن عفان (رض) نے حبشہ کی زمین میں کروایا تھا۔
(ب) زہری نے بھی اسی طرح کہا ہے جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے اور عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ دونوں میں سے جس نے بھی نکاح کروایا ولایت قائم ہے۔ اختلاف تیسرے میں پایا جاتا ہے۔
(ب) زہری نے بھی اسی طرح کہا ہے جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے اور عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ دونوں میں سے جس نے بھی نکاح کروایا ولایت قائم ہے۔ اختلاف تیسرے میں پایا جاتا ہے۔
(۱۳۷۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ وَحَسَّانُ عَنِ ابْنِ لَہِیعَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ : أَنْکَحَہُ إِیَّاہَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ۔
وَکَذَلِکَ قَالَہُ الزُّہْرِیُّ وَقَدْ مَضَی ذِکْرُہُ۔ وَعُثْمَانُ ہُوَ ابْنُ عَفَّانَ بْنِ أَبِی الْعَاصِ بْنِ أُمَیَّۃَ ابْنُ ابْنِ عَمِّ أَبِیہَا وَأَیُّہُمَا زَوَّجَہَا فَالْوِلاَیَۃُ قَائِمَۃٌ إِلاَّ أَنَّ فِیہِ اخْتِلاَفًا ثَالِثًا۔ [ضعیف]
وَکَذَلِکَ قَالَہُ الزُّہْرِیُّ وَقَدْ مَضَی ذِکْرُہُ۔ وَعُثْمَانُ ہُوَ ابْنُ عَفَّانَ بْنِ أَبِی الْعَاصِ بْنِ أُمَیَّۃَ ابْنُ ابْنِ عَمِّ أَبِیہَا وَأَیُّہُمَا زَوَّجَہَا فَالْوِلاَیَۃُ قَائِمَۃٌ إِلاَّ أَنَّ فِیہِ اخْتِلاَفًا ثَالِثًا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮০৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر مسلمان عورت کا ولی نہ ہوگا امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ابن سعید بن العاص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نکاح ام حبیبہ بنت ابی سفیان سے کیا، حالانکہ ابوسفیان زندہ تھے : کیونکہ ام حبیبہ بھی مسلمان تھیں اور ابن سعید بھی مسلمان تھے لیکن ابو سفیان مسلمان نہ تھے اور اللہ نے مس
(١٣٨٠٠) ابو زمیل حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ مسلمان ابو سفیان کی طرف توجہ بھی نہ کرتے اور ان کے ساتھ بیٹھتے بھی نہ تھے۔ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اے اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے ان کو تین چیزیں دی ہیں : 1 میرے پاس عرب کی حسین و جمیل بیٹی تھی جس کی میں نے آپ سے شادی کردی۔ 2 اور معاویہ کو آپ نے کاتب وحی کرلیا جو میرا بیٹا ہے۔ (٣) آپ نے مجھے امیر مقرر کردیا تاکہ میں کفار سے جہاد کروں جیسے مسلمانوں کے خلاف لڑا کرتا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین مرتبہ ہاں ہی فرمایا۔ ابو زمیل کہتے ہیں : جو بھی اس نے دیا تھا واپسی کا مطالبہ نہ تھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر مرتبہ نعم ہی کہا۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں : یہ حدیث ام حبیبہ کے قصہ کے بارے میں ہے۔ لیکن اہل مغازی اس میں اختلاف پر متفق ہیں اور ان کا اس پر اتفاق ہے کہ ام حبیبہ کا نکاح جعفر بن ابی طالب اور ان کے ساتھیوں کا حبشہ سے لوٹنے سے پہلے ہوا اور وہ خیبر کے زمانہ میں واپس آتے تھے اور ام حبیبہ کا نکاح اس سے پہلے ہوچکا تھا اور ابو سفیان کا اسلام قبول کرنا فتح مکہ کے سال ہوا جو نکاح کے دو یا تین سال بعد ہے تو پھر کیسے درست ہے کہ اس کا نکاح سوال کی وجہ سے ہوا۔ اگر یہ پوچھنے کی بنا پر ہے تو مدینہ کے بعض سفروں میں ممکن ہے جس وقت وہ کافر تھے۔ جب انھوں نے ام حبیبہ کے خاوند کی وفات کی خبر سنی اور باقی دو سوال یہ ان کے اسلام لانے کے بعد واقع ہوئے۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں : یہ حدیث ام حبیبہ کے قصہ کے بارے میں ہے۔ لیکن اہل مغازی اس میں اختلاف پر متفق ہیں اور ان کا اس پر اتفاق ہے کہ ام حبیبہ کا نکاح جعفر بن ابی طالب اور ان کے ساتھیوں کا حبشہ سے لوٹنے سے پہلے ہوا اور وہ خیبر کے زمانہ میں واپس آتے تھے اور ام حبیبہ کا نکاح اس سے پہلے ہوچکا تھا اور ابو سفیان کا اسلام قبول کرنا فتح مکہ کے سال ہوا جو نکاح کے دو یا تین سال بعد ہے تو پھر کیسے درست ہے کہ اس کا نکاح سوال کی وجہ سے ہوا۔ اگر یہ پوچھنے کی بنا پر ہے تو مدینہ کے بعض سفروں میں ممکن ہے جس وقت وہ کافر تھے۔ جب انھوں نے ام حبیبہ کے خاوند کی وفات کی خبر سنی اور باقی دو سوال یہ ان کے اسلام لانے کے بعد واقع ہوئے۔
(۱۳۸۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ وَأَبُو عَمْرٍو الْفَقِیہُ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِیمِ الْعَنْبَرِیُّ وَأَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ قَالاَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو زُمَیْلٍ حَدَّثَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ الْمُسْلِمُونَ لاَ یَنْظُرُونَ إِلَی أَبِی سُفْیَانَ وَلاَ یُقَاعِدُونَہُ فَقَالَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- یَا نَبِیَّ اللَّہِ ثَلاَثٌ أُعْطِیتُہُنَّ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : عِنْدِی أَحْسَنُ الْعَرَبِ وَأَجْمَلُہُنَّ أُمُّ حَبِیبَۃَ بِنْتُ أَبِی سُفْیَانَ أُزَوِّجُکَہَا قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ وَمُعَاوِیَۃُ تَجْعَلُہُ کَاتِبًا بَیْنَ یَدَیْکَ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : وَتُؤَمِّرُنِی حَتَّی أُقَاتِلَ الْکُفَّارَ کَمَا کُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِینَ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ أَبُو زُمَیْلٍ وَلَوْلاَ أَنَّہُ طَلَبَ ذَلِکَ مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ- مَا أَعْطَاہُ ذَلِکَ لأَنَّہُ لَمْ یَکُنْ یَسْأَلُ شَیْئًا إِلاَّ قَالَ : نَعَمْ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْعَظِیمِ وَأَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ۔
فَہَذَا أَحَدُ مَا اخْتَلَفَ فِیہِ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ وَتَرَکَہُ الْبُخَارِیُّ وَکَانَ لاَ یَحْتَجُّ فِی کِتَابِہِ الصَّحِیحِ بِعِکْرَمَۃِ بْنِ عَمَّارٍ وَقَالَ : لَمْ یَکُنْ عِنْدَہُ کِتَابٌ فَاضْطَرَبَ حَدِیثُہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَہَذَا الْحَدِیثُ فِی قِصَّۃِ أُمِّ حَبِیبَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَدْ أَجْمَعَ أَہْلُ الْمَغَازِی عَلَی خِلاَفِہِ فَإِنَّہُمْ لَمْ یَخْتَلِفُوا فِی أَنَّ تَزْوِیجَ أُمِّ حَبِیبَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا کَانَ قَبْلَ رُجُوعِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَأَصْحَابِہِ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَۃِ وَإِنَّمَا رَجَعُوا زَمَنَ خَیْبَرَ فَتَزَویجُ أُمِّ حَبِیبَۃَ کَانَ قَبْلَہُ وَإِسْلاَمُ أَبِی سُفْیَانَ بْنِ حَرْبٍ کَانَ زَمَنَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَکَّۃَ بَعْدَ نِکَاحِہَا بِسَنَتَیْنِ أَوْ ثَلاَثٍ فَکَیْفَ یَصِحُّ أَنْ یَکُونَ تَزْوِیجُہَا بِمَسْأَلَتِہِ وَإِنْ کَانَتْ مَسْأَلَتُہُ الأُولَی إِیَّاہُ وَقَعَتْ فِی بَعْضِ خَرَجَاتِہِ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَہُوَ کَافِرٌ حِینَ سَمِعَ نَعْیَ زَوْجِ أُمِّ حَبِیبَۃَ بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ وَالْمَسْأَلَۃُ الثَّانِیَۃُ وَالثَّالِثَۃُ وَقَعَتَا بَعْدَ إِسْلاَمِہِ لاَ یُحْتَمَلُ إِنْ کَانَ الْحَدِیثُ مَحْفُوظًا إِلاَّ ذَلِکَ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔ [منکر۔ مسلم ۲۵۰۱]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ وَأَبُو عَمْرٍو الْفَقِیہُ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِیمِ الْعَنْبَرِیُّ وَأَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ قَالاَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو زُمَیْلٍ حَدَّثَنِی ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ الْمُسْلِمُونَ لاَ یَنْظُرُونَ إِلَی أَبِی سُفْیَانَ وَلاَ یُقَاعِدُونَہُ فَقَالَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- یَا نَبِیَّ اللَّہِ ثَلاَثٌ أُعْطِیتُہُنَّ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : عِنْدِی أَحْسَنُ الْعَرَبِ وَأَجْمَلُہُنَّ أُمُّ حَبِیبَۃَ بِنْتُ أَبِی سُفْیَانَ أُزَوِّجُکَہَا قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ وَمُعَاوِیَۃُ تَجْعَلُہُ کَاتِبًا بَیْنَ یَدَیْکَ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : وَتُؤَمِّرُنِی حَتَّی أُقَاتِلَ الْکُفَّارَ کَمَا کُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِینَ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ أَبُو زُمَیْلٍ وَلَوْلاَ أَنَّہُ طَلَبَ ذَلِکَ مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ- مَا أَعْطَاہُ ذَلِکَ لأَنَّہُ لَمْ یَکُنْ یَسْأَلُ شَیْئًا إِلاَّ قَالَ : نَعَمْ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْعَظِیمِ وَأَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ۔
فَہَذَا أَحَدُ مَا اخْتَلَفَ فِیہِ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ وَتَرَکَہُ الْبُخَارِیُّ وَکَانَ لاَ یَحْتَجُّ فِی کِتَابِہِ الصَّحِیحِ بِعِکْرَمَۃِ بْنِ عَمَّارٍ وَقَالَ : لَمْ یَکُنْ عِنْدَہُ کِتَابٌ فَاضْطَرَبَ حَدِیثُہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَہَذَا الْحَدِیثُ فِی قِصَّۃِ أُمِّ حَبِیبَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَدْ أَجْمَعَ أَہْلُ الْمَغَازِی عَلَی خِلاَفِہِ فَإِنَّہُمْ لَمْ یَخْتَلِفُوا فِی أَنَّ تَزْوِیجَ أُمِّ حَبِیبَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا کَانَ قَبْلَ رُجُوعِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَأَصْحَابِہِ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَۃِ وَإِنَّمَا رَجَعُوا زَمَنَ خَیْبَرَ فَتَزَویجُ أُمِّ حَبِیبَۃَ کَانَ قَبْلَہُ وَإِسْلاَمُ أَبِی سُفْیَانَ بْنِ حَرْبٍ کَانَ زَمَنَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَکَّۃَ بَعْدَ نِکَاحِہَا بِسَنَتَیْنِ أَوْ ثَلاَثٍ فَکَیْفَ یَصِحُّ أَنْ یَکُونَ تَزْوِیجُہَا بِمَسْأَلَتِہِ وَإِنْ کَانَتْ مَسْأَلَتُہُ الأُولَی إِیَّاہُ وَقَعَتْ فِی بَعْضِ خَرَجَاتِہِ إِلَی الْمَدِینَۃِ وَہُوَ کَافِرٌ حِینَ سَمِعَ نَعْیَ زَوْجِ أُمِّ حَبِیبَۃَ بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ وَالْمَسْأَلَۃُ الثَّانِیَۃُ وَالثَّالِثَۃُ وَقَعَتَا بَعْدَ إِسْلاَمِہِ لاَ یُحْتَمَلُ إِنْ کَانَ الْحَدِیثُ مَحْفُوظًا إِلاَّ ذَلِکَ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔ [منکر۔ مسلم ۲۵۰۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮০৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو ولیوں کے نکاح کروانے کا حکم
(١٣٨٠١) حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب دو ولی نکاح کریں تو پہلا زیادہ حق رکھتا ہے۔
(ب) املاء میں یہ لفظ زیادہ ہیں : جب دو فروخت کریں تو پہلے کی بات زیادہ معتبر ہے۔
(ب) املاء میں یہ لفظ زیادہ ہیں : جب دو فروخت کریں تو پہلے کی بات زیادہ معتبر ہے۔
(۱۳۸۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ عُلَیَّۃَ عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : إِذَا أَنْکَحَ الْوَلِیَّانِ فَالأَوَّلُ أَحَقُّ ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی کِتَابِ تَحْرِیمِ الْجَمْعِ وَفِی الإِمْلاَئِ وَزَادَ فِیہِ فِی الإِمْلاَئِ : وَإِذَا بَاعَ الْمُجِیزَانِ فَالأَوَّلُ أَحَقُّ ۔ [منکر۔ تقدم برقم ۱۳۷۹۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮০৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو ولیوں کے نکاح کروانے کا حکم
(١٣٨٠٢) ایضاً ۔
(۱۳۸۰۲) وَرَوَاہُ فِی کِتَابِ أَحْکَامِ الْقُرْآنِ کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو بَکْرٍ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ مِنَ الْمُسْنَدِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بِإِسْنَادِہِ وَمَتْنِہِ بِتَمَامِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮০৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو ولیوں کے نکاح کروانے کا حکم
(١٣٨٠٣) عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس عورت کا دو ولیوں نے نکاح کردیا تو پہلے کا نکاح زیادہ معتبر ہے۔
(۱۳۸۰۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ الْبَکْرَاوِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ زَوَّجَہَا وَلِیَّانِ فَہِیَ لِلأَوَّلِ مِنْہُمَا ۔ [منکر]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮১০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو ولیوں کے نکاح کروانے کا حکم
(١٣٨٠٤) سمرہ بن جندب فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے دو آدمیوں کو سامان فروخت کیا تو سامان پہلے کا ہے اور جس عورت کا دو ولیوں نے نکاح کردیا تو نکاح پہلے کا معتبر ہے۔
(۱۳۸۰۴) أَخْبَرَنا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ فِی کِتَابِ الْمُسْتَدْرَکِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدَبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : أَیُّمَا رَجُلٍ بَاعَ مِنْ رَجُلَیْنِ بَیْعًا فَہُوَ لِلأَوَّلِ مِنْہُمَا وَأَیُّمَا امْرَأَۃٍ زَوَّجَہَا وَلِیَّانِ فَہِیَ لِلأَوَّلِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮১১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو ولیوں کے نکاح کروانے کا حکم
(١٣٨٠٥) حضرت حسن سمرہ یا عقبہ سے نقل فرماتے ہیں، سعید کہتے ہیں : میرے خیال میں عقبہ سے نقل فرماتے ہیں۔ سعید کے بارے میں شک ہے۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس عورت کا نکاح دو ولی کردیں تو پہلے کی بات کا اعتبار کیا جائے گا۔
(۱۳۸۰۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ بْنِ دِعَامَۃَ السَّدُوسِیُّ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَۃَ أَوْ عَنْ عُقْبَۃَ قَالَ سَعِیدٌ مَا أُرَاہُ إِلاَّ عَنْ عُقْبَۃَ الشَّکُّ مِنْ سَعِیدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ زَوَّجَہَا وَلِیَّانِ فَہِیَ لِلأَوَّلِ مِنْہُمَا۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক: