আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৬৬ টি
হাদীস নং: ১৩৭৭২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برابری میں نسب کے اعتبار کا بیان
(١٣٧٦٦) حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ اے اہل عرب ! تم دو خصلتوں کی وجہ سے ہم سے افضل ہو : 1 ہم تمہاری عورتوں سے نکاح نہیں کرتے۔ یعنی اجازت نہیں۔ 2 اور ہم تمہاری امامت نہیں کرواتے۔
(۱۳۷۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَابِ حَدَّثَنَا عَمَّارٌ یَعْنِی ابْنَ رُزَیْقٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ : ثِنْتَانَ فَضَلْتُمُونَا بِہَا یَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ لاَ نَنْکِحُ نِسَائَ کُمْ وَلاَ نَؤُمُّکُمْ۔ ہَذَا ہُوَ الْمَحْفُوظُ مَوْقُوفٌ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برابری میں نسب کے اعتبار کا بیان
(١٣٧٦٧) حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں منع کیا کہ ہم تمہاری امامت کروائیں اور تمہاری عورتوں سے نکاح کریں۔
(۱۳۷۶۷) وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَامِدٍ الْبَلْخِیُّ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَلْخِیُّ حَدَّثَنَا مَکِّیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ سَلْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : نَہَانَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ نَتَقَدَّمَ أَمَامَکُمْ أَوْ نَنْکِحَ نِسَائَ کُمْ۔
وَرُوِیَ ذَلِکَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ ضَعِیفٍ عَنْ سَلْمَانَ۔ [ضعیف]
وَرُوِیَ ذَلِکَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ ضَعِیفٍ عَنْ سَلْمَانَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برابری میں آزادی کے اعتبار کا بیان
(١٣٧٦٨) عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور وہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے انصار کے لوگوں سے بریرہ کو خریدا اور انھوں نے ولاء کی شرط رکھی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ولاء اس کی ہوتی ہے جو نعمت کا والی بنتا ہے۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بریرہ کو اختیار دیا؛ کیونکہ اس کا خاوند غلام تھا۔
(۱۳۷۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا اشْتَرَتْ بَرِیرَۃَ مِنْ أُنَاسٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَاشْتَرَطُوا الْوَلاَئَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْوَلاَئُ لِمَنْ وَلِیَ النِّعْمَۃَ ۔ قَالَتْ : وَخَیَّرَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَ زَوْجُہَا عَبْدًا۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ زَائِدَۃَ۔ [صحیح]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ زَائِدَۃَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برابری میں کاریگری (پیشہ) کے اعتبار کا بیان
(١٣٧٦٩) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عرب ایک دوسرے کے لیے کفو ہیں۔ ایک قبیلہ اور نسل کے اعتبار سے دوسرے کا کفو ہے اور آدمی آدمی کا اور غلام ایک دوسرے کے کفو ہیں قبیلہ کے اعتبار سے اور آدمیوں کے اعتبار سے۔ لیکن جولاہا اور نائی۔
(۱۳۷۶۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا بَعْضُ إِخْوَانِنَا عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْعَرَبُ بَعْضُہَا أَکْفَاء ٌ لِبَعْضٍ قَبِیلَۃٌ بِقَبِیلَۃٍ وَرَجُلٌ بِرَجُلٍ وَالْمَوَالِی بَعْضُہُمْ أَکْفَاء ٌ لِبَعْضٍ قَبِیلَۃٌ بِقَبِیلَۃٍ وَرَجُلٌ بِرَجُلٍ إِلاَّ حَائِکٌ أَوْ حَجَّامٌ ۔
ہَذَا مُنْقَطِعٌ بَیْنَ شُجَاعٍ وَابْنِ جُرَیْجٍ حَیْثُ لَمْ یُسَمِّ شُجَاعٌ بَعْضَ أَصْحَابِہِ۔ وَرَوَاہُ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عُرْوَۃَ الدِّمَشْقِیِّ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَہُوَ ضَعِیفٌ۔
وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ نَافِعٍ وَہُوَ أَیْضًا ضَعِیفٌ بِمَرَّۃٍ۔ [موضوع]
ہَذَا مُنْقَطِعٌ بَیْنَ شُجَاعٍ وَابْنِ جُرَیْجٍ حَیْثُ لَمْ یُسَمِّ شُجَاعٌ بَعْضَ أَصْحَابِہِ۔ وَرَوَاہُ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عُرْوَۃَ الدِّمَشْقِیِّ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَہُوَ ضَعِیفٌ۔
وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ نَافِعٍ وَہُوَ أَیْضًا ضَعِیفٌ بِمَرَّۃٍ۔ [موضوع]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برابری میں کاریگری (پیشہ) کے اعتبار کا بیان
(١٣٧٧٠) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عرب نسل کے اعتبار سے ایک دوسرے کے کفو ہیں اور غلام بھی نسل کے اعتبار سے ایک دوسرے کے کفو ہیں۔ سوائے جو لا ہے اور حجام کے۔
(۱۳۷۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الإِسْفَرَائِینِیُّ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو صَادِقٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّیْدَلاَنِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَۃَ : أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ حَدَّثَنَا زُرْعَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الزُّبَیْدِیُّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِی الْفَضْلِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْعَرَبُ أَکْفَاء ٌ بَعْضُہَا بَعْضًا قَبِیلٌ بِقَبِیلٍ وَرَجُلٌ بِرَجُلٍ وَالْمَوَالِی أَکْفَاء ٌ بَعْضُہَا بَعْضًا قَبِیلٌ بِقَبِیلٍ وَرَجُلٌ بِرَجُلٍ إِلاَّ حَائِکٌ أَوْ حَجَّامٌ ۔
وَرُوِیَ ذَلِکَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ وَہُوَ أَیْضًا ضَعِیفٌ۔ [موضوع]
وَرُوِیَ ذَلِکَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ وَہُوَ أَیْضًا ضَعِیفٌ۔ [موضوع]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برابری میں کاریگری (پیشہ) کے اعتبار کا بیان
(١٣٧٧١) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عرب ایک دوسرے کے کفو ہیں اور غلام بھی ایک دوسرے کے کفو ہیں سوائے جو لا ہے اور حجام کے۔
(۱۳۷۷۱) أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَزْدِیُّ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْعَرَبُ لِلْعَرَبِ أَکْفَاء ٌ وَالْمَوَالِی أَکْفَاء ٌ لِلْمَوَالِی إِلاَّ حَائِکٌ أَوْ حَجَّامٌ ۔ [موضوع]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفو میں تندرستی کے اعتبار کا بیان
(١٣٧٧٢) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی ہامہ (میت کے سر سے ابونکل کر دھائی دیتا ہے انتقام لینے تک صبر سے نہیں بیٹھتا یہ جاہلیت میں کہا کرتے تھے) اور صفر بھی نہیں اور کوڑھی سے اس طرح بھاگ جیسے شیر سے بھاگا جاتا ہے یا اسود کے لفظ ذکر کیے ہیں۔
(ب) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تندرست انسان کے پاس بیمار کو نہ رکھا جائے۔ یہ حدیث وہاں آئے گی جہاں پانچ عیوب کی وجہ سے نکاح کو رد کیے جانے پر ہم استدلال کریں گے۔
(ب) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تندرست انسان کے پاس بیمار کو نہ رکھا جائے۔ یہ حدیث وہاں آئے گی جہاں پانچ عیوب کی وجہ سے نکاح کو رد کیے جانے پر ہم استدلال کریں گے۔
(۱۳۷۷۲) أَخْبَرَنَا السَّیِّدُ أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَنْجُذَانِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا سَلِیمُ بْنُ حَیَّانَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مِینَائَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : لاَ عَدْوَی وَلاَ ہَامَۃَ وَلاَ صَفَرَ وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ فِرَارَکَ مِنَ الأَسَدِ أَوْ قَالَ: مِنَ الأَسْوَدِ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ فَقَالَ وَقَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِیمٌ فَذَکَرَہُ۔ وَرُوِّینَا عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : لاَ یُورِدُ مُمْرِضٍ عَلَی مُصِحٍّ ۔ وَذَلِکَ یَرِدُ مَعَ مَا نَسْتَدِلُّ بِہِ فِی رَدِّ النِّکَاحِ بِالْعُیُوبِ الْخَمْسَۃِ إِنْ شَائَ اللَّہُ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۲۲۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفو میں تندرستی کے اعتبار کا بیان
(١٣٧٧٣) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) فرماتے تھے کہ جب کوئی مرد کسی عورت سے شادی کرے اور وہ پاگل یا کوڑھی یا پھل بہری والی ہو تو اگر مرد نے اس سے دخول کرلیا تو مقرر شدہ حق مہر ادا کرنا ہوگا جو اس کے ولی کے ذمہ ہے۔
(۱۳۷۷۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ یَحْیَی عَنْ سَعِیدٍ یَعْنِی ابْنَ الْمُسَیَّبِ قَالَ قَالَ عُمَرُ : إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْمَرْأَۃَ وَبِہَا جُنُونٌ أَوْ جُذَامٌ أَوْ بَرَصٌ أَوْ قَرْنٌ فَإِنْ کَانَ دَخَلَ بِہَا فَلَہَا الصَّدَاقُ بِمَسِّہِ إِیَّاہَا وَہُوَ لَہُ عَلَی الْوَلِیِّ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৮০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفو میں خوشحالی کے اعتبار کا بیان
(١٣٧٧٤) فاطمہ بنت قیس فرماتی ہیں کہ ابو عمرو بن حفص نے اپنی عدم موجودگی میں طلاق بتہ دے دی۔ اس نے حدیث کو ذکر کیا۔ جب میں حلال ہوگی (یعنی عدت پوری ہوگئی) تو میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تذکرہ کیا کہ معاویہ اور ابوجہم نے مجھے نکاح کا پیغام دیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابو جہم اپنے کندھے سے عصا نہیں اتارتا۔ 1 ہاتھ مارتا ہے 2 یا سفروں میں رہتا ہے اور معاویہ فقیر آدمی ہے اس کے پاس مال نہیں ہے، آپ اسامہ بن زید سے نکاح کرلیں۔ کہتی ہیں : میں نے اس کو ناپسند کیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسامہ سے نکاح کرلو۔ میں نے اسامہ سے نکاح کرلیا تو اللہ نے اس میں برکت ڈال دی اور مجھ پر رشک کیا جاتا تھا۔
(۱۳۷۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ مَوْلَی الأَسْوَدِ بْنِ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَہَا الْبَتَّۃَ وَہُوَ غَائِبٌ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَکَرْتُ لَہُ یَعْنِی النَّبِیَّ -ﷺ- أَنَّ مُعَاوِیَۃَ وَأَبَا جَہْمٍ خَطَبَانِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَمَّا أَبُو جَہْمٍ فَلاَ یَضَعُ عَصَاہُ عَنْ عَاتَقِہِ وَأَمَّا مُعَاوِیَۃُ فَصُعْلُوکٌ لاَ مَالَ لَہُ انْکِحِی أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ ۔ قَالَتْ فَکَرِہْتُہُ ثُمَّ قَالَ : انْکِحِی أُسَامَۃَ ۔ فَنَکَحْتُہُ فَجَعَلَ اللَّہُ فِیہِ خَیْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِہِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۴۸۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৮১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفو میں خوشحالی کے اعتبار کا بیان
(١٣٧٧٥) حضرت ابوبریدہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : دنیا والوں کا حسب یہ مال ہے۔
(۱۳۷۷۵) أَخْبَرَنَا السَّیِّدُ أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَکَمِ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ وَاقِدٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی بُرَیْدَۃَ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : إِنَّ أَحْسَابَ أَہْلِ الدُّنْیَا ہَذَا الْمَالُ ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ وَعَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ وَاقِدٍ۔ [حسن]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ وَعَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ وَاقِدٍ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৮২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفو میں خوشحالی کے اعتبار کا بیان
(١٣٧٧٦) حضرت سمرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حسب مال ہے اور کرم تقویٰ ہے۔
(۱۳۷۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ أَبِی مُطِیعٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الْحَسَبُ الْمَالُ وَالْکَرَمُ التَّقْوَی۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৮৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کفو میں خوشحالی کے اعتبار کا بیان
(١٣٧٧٧) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدمی کا کرم اس کا دین ہے اس کی مروت عقل ہے اور حسب اخلاق ہے۔
(ب) ابن یوسف کی روایت میں ہے کہ اس کی مروت عقل ہے۔
(ب) ابن یوسف کی روایت میں ہے کہ اس کی مروت عقل ہے۔
(۱۳۷۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ قَالَ قُرِئَ عَلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَہُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّہِ الرَّقَاشِیُّ حَدَّثَنَا أَبِی قَالاَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ الْعَلاَئِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : کَرَمُ الْمَرْئِ دِینُہُ وَمُرُوئَ تُہُ عَقْلَہُ وَحَسَبُہُ خُلُقُہُ ۔
لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَلَیْسَ فِی رِوَایَۃِ ابْنِ یُوسُفَ : وَمُرُوئَ تُہُ عَقْلُہُ ۔
وَرُوِیَ مِثْلُ ہَذَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ قَوْلِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ قَالَ قُرِئَ عَلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَہُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّہِ الرَّقَاشِیُّ حَدَّثَنَا أَبِی قَالاَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ الْعَلاَئِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : کَرَمُ الْمَرْئِ دِینُہُ وَمُرُوئَ تُہُ عَقْلَہُ وَحَسَبُہُ خُلُقُہُ ۔
لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَلَیْسَ فِی رِوَایَۃِ ابْنِ یُوسُفَ : وَمُرُوئَ تُہُ عَقْلُہُ ۔
وَرُوِیَ مِثْلُ ہَذَا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ قَوْلِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৮৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب بیوی راضی ہو تو غیر کفو کا نکاح رد نہ کیا جائے اور مسلمان کا نکاح بھی رد نہ ہوگا (چاہے کسی کنبے قبیلے کا ہو)
(١٣٧٧٨) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنو بیاضہ ! ابو ہند کا نکاح کراؤ اور خود بھی اس قبیلہ میں شادی کراؤ اور وہ حجام تھا۔
(۱۳۷۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : یَا بَنِی بَیَاضَۃَ أَنْکِحُوا أَبَا ہِنْدٍ وَانْکِحُوا إِلَیْہِ ۔ قَالَ : وَکَانَ حَجَّامًا۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৮৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب بیوی راضی ہو تو غیر کفو کا نکاح رد نہ کیا جائے اور مسلمان کا نکاح بھی رد نہ ہوگا (چاہے کسی کنبے قبیلے کا ہو)
(١٣٧٧٩) ایضاً ۔
(۱۳۷۷۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৮৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب بیوی راضی ہو تو غیر کفو کا نکاح رد نہ کیا جائے اور مسلمان کا نکاح بھی رد نہ ہوگا (چاہے کسی کنبے قبیلے کا ہو)
(١٣٧٨٠) زہری اس قصہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم اپنی بیٹیوں کی شادی اپنے غلاموں سے کردیتے ہیں تو اللہ نے یہ آیت نازل کی : { اِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا } [الحجرات ١٣] ” تحقیق ہم نے تم کو ایک مرد سے اور عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تم کو کنبے اور قبیلے میں بانٹ دیا تاکہ ایک دوسرے کو پہچانو۔ “
(۱۳۷۸۰) وَفِیمَا ذَکَرَ أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ وَکَثِیرِ بْنِ عُبَیْدٍ عَنْ بَقِیَّۃَ حَدَّثَنَا الزُّبَیْدِیُّ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ أَنَّہُمْ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ نُزَوِّجُ بَنَاتِنَا مَوَالِیَنَا فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { إِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَأُنْثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا } الآیَۃَ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৮৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب بیوی راضی ہو تو غیر کفو کا نکاح رد نہ کیا جائے اور مسلمان کا نکاح بھی رد نہ ہوگا (چاہے کسی کنبے قبیلے کا ہو)
(١٣٧٨١) ابوبکر بن ابی الجہم عدوی فرماتے ہیں کہ میں نے فاطمہ بنت قیس سے سنا وہ کہہ رہی تھی کہ اس کے خاوند نے تین طلاقین دے دیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے خرچہ اور رہائش مقرر نہ کی۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب حلال ہوجاؤ تو مجھے اطلاع دینا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع دی تو مجھے ابو جہم، معاویہ، اسامہ بن زید نے نکاح کا پیغام دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : معاویہ ایسا آدمی ہے جس کے پاس مال نہیں اور ابو جہم عورتوں کو بہت مارتا ہے۔ لیکن اسامہ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اور رسول کی اطاعت تیرے لیے بہتر ہے۔ فرماتی ہیں : میں نے شادی کرلی تو میں رشک کی جانے لگی۔
(ب) فاطمہ بنت قیس قریشیہ بنو فہر سے تھی اور اسامہ بن زید یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام تھے۔
(ب) فاطمہ بنت قیس قریشیہ بنو فہر سے تھی اور اسامہ بن زید یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام تھے۔
(۱۳۷۸۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ النَّسَوِیُّ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی الْجَہْمِ الْعَدَوِیِّ قَالَ سَمِعْتُ فَاطِمَۃَ بِنْتَ قَیْسٍ تَقُولُ : إِنَّ زَوْجَہَا طَلَّقَہَا ثَلاَثًا فَلَمْ یَجْعَلْ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- سُکْنَی وَلاَ نَفَقَۃً قَالَتْ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِینِی ۔ فَآذَنْتُہُ فَخَطَبَہَا مُعَاوِیَۃُ وَأَبُو جَہْمٍ وَأُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَمَّا مُعَاوِیَۃُ فَرَجُلٌ لاَ مَالَ لَہُ وَأَمَّا أَبُو جَہْمٍ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَائِ وَلَکِنْ أُسَامَۃُ ۔ فَقَالَتْ بِیَدِہَا ہَکَذَا أُسَامَۃُ أُسَامَۃُ قَالَ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : طَاعَۃُ اللَّہِ وَطَاعَۃُ رَسُولِہِ خَیْرٌ لَکَ ۔ قَالَتْ : فَزُوِّجْتُہُ فَاغْتَبَطْتُ بِہِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔
وَفَاطِمَۃُ بِنْتُ قَیْسٍ قُرَشِیَّۃٌ مِنْ بَنِی فِہْرٍ فَإِنَّہَا فَاطِمَۃُ بِنْتُ قَیْسِ بْنِ خَالِدِ بْنِ وَہْبِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ بْنِ وَائِلَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنُ شَیْبَانَ بْنِ مُحَارِبِ بْنِ فِہْرٍ وَأُسَامَۃُ ہُوَ ابْنُ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ بْنِ شَرَاحِیلَ الْکَلْبِیُّ مَوْلَی رَسُولِ اللَّہِ-ﷺ-۔
[ضعیف]
وَفَاطِمَۃُ بِنْتُ قَیْسٍ قُرَشِیَّۃٌ مِنْ بَنِی فِہْرٍ فَإِنَّہَا فَاطِمَۃُ بِنْتُ قَیْسِ بْنِ خَالِدِ بْنِ وَہْبِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ بْنِ وَائِلَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنُ شَیْبَانَ بْنِ مُحَارِبِ بْنِ فِہْرٍ وَأُسَامَۃُ ہُوَ ابْنُ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ بْنِ شَرَاحِیلَ الْکَلْبِیُّ مَوْلَی رَسُولِ اللَّہِ-ﷺ-۔
[ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৮৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب بیوی راضی ہو تو غیر کفو کا نکاح رد نہ کیا جائے اور مسلمان کا نکاح بھی رد نہ ہوگا (چاہے کسی کنبے قبیلے کا ہو)
(١٣٧٨٢) زینب بنت جحش فرماتی ہیں کہ کئی صحابہ نے مجھے نکاح کا پیغام دیا تو میں نے اپنی بہن کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مشورہ کے لیے بھیجا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اس کو کتاب اللہ اور سنت رسول کی تعلیم دے۔ کہنے لگی : وہ کون ؟ فرمایا : زید بن حارثہ تو وہ ناراض ہوگئی اور کہنے لگی : آپ اپنے چچا کی بیٹی کا نکاح اپنے غلام سے کرو گے تو زینب بنت جحش کہتی ہیں۔ میری بہن نے مجھے بتایا تو میں نے اس سے بھی سخت بات کہی اور زیادہ غصے ہوئی تو اللہ نے یہ آیت نازل کردی : { وَ مَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِھِمْ } [الاحزاب ٣٦] ” اور کسی مومن مرد اور عورت کے لیے یہ لائق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کوئی فیصلہ فرما دیں تو انھیں اپنے معاملے میں اختیار ہو۔ “ کہتی ہیں : میں نے کہا : جس سے چاہو نکاح کر دو ۔ فرماتی ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے میرا نکاح کردیا، میں نے زبان درازی کی تو اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شکایت کی اور کہنے لگے : میں اس کو طلاق دیتا ہوں، انھوں نے مجھے طلاق بائنہ دے دی، جب میری عدت ختم ہوئی تو مجھے معلوم بھی نہ تھا کہ میرے کھلے ہوئے بالوں کی حالت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے۔ میں نے کہا : یہ آسمان کا معاملہ ہے۔ میں نے کہہ دیا : اے اللہ کے رسول ! بغیر خطبہ اور گواہ کے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نکاح کرنے والے اور جبرائیل گواہ ہے۔
(ب) زینب بنت جحش یہ بنو اسد بن خزیمہ سے ہیں اور ان کی والدہ امیمہ یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپھی ہے اور زینب زید بن حارثہ کے نکاح میں تھی۔ جب انھوں نے طلاق دے دی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے شادی کی اور حدیث میں ابْنَۃَ عَمَّتِکَ ہے لیکن درست الفاظ ابْنَۃَ عَمَّتِکَ ہیں۔
(ب) زینب بنت جحش یہ بنو اسد بن خزیمہ سے ہیں اور ان کی والدہ امیمہ یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپھی ہے اور زینب زید بن حارثہ کے نکاح میں تھی۔ جب انھوں نے طلاق دے دی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے شادی کی اور حدیث میں ابْنَۃَ عَمَّتِکَ ہے لیکن درست الفاظ ابْنَۃَ عَمَّتِکَ ہیں۔
(۱۳۷۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ اللَّیْثِ حَدَّثَنِی حُسَیْنُ بْنُ أَبِی السَّرِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْیَنَ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَیْمَانَ الأَسَدِیُّ عَنِ الْکُمَیْتِ بْنِ زَیْدٍ الأَسَدِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی مَذْکُورٌ مَوْلَی زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : خَطَبَنِی عِدَّۃٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَأَرْسَلْتُ إِلَیْہِ أُخْتِی أُشَاوِرُہُ فِی ذَلِکَ قَالَ : فَأَیْنَ ہِیَ مِمَّنْ یُعَلِّمُہَا کِتَابَ رَبِّہَا وَسُنَّۃَ نَبِیِّہَا ۔ قَالَتْ : مَنْ؟ قَالَ : زَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ ۔فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ : تُزَوِّجُ بِنْتَ عَمِّکَ مَوْلاَکَ ثُمَّ أَتَتْنِی فَأَخْبَرَتْنِی بِذَلِکَ فَقُلْتُ أَشَدَّ مِنْ قَوْلِہَا وَغَضِبْتُ أَشَدَّ مِنْ غَضَبِہَا فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ (وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلاَ مُؤْمِنَۃٍ إِذَا قَضَی اللَّہُ وَرَسُولَہُ أَمْرًا أَنْ یَکُونَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ أَمْرِہِمْ) قَالَتْ : فَأَرْسَلْتُ إِلَیْہِ زَوِّجْنِی مَنْ شِئْتَ قَالَتْ فَزَوَّجَنِی مِنْہُ فَأَخَذْتُہُ بِلِسَانِی فَشَکَانِی إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللَّہَ ثُمَّ أَخَذْتُہُ بِلِسَانِی فَشَکَانِی إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَقَالَ أَنَا أُطَلِّقْہَا فَطَلَّقَنِی فَبَتَّ طَلاَقِی فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِی لَمْ أَشْعُرْ إِلاَّ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- وَأَنَا مَکْشُوفَۃُ الشَّعَرِ فَقُلْتُ : ہَذَا أَمْرٌ مِنَ السَّمَائِ وَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ بِلاَ خُطْبَۃٍ وَلاَ شَہَادَۃٍ قَالَ : اللَّہُ الْمُزَوِّجُ وَجِبْرِیلُ الشَّاہِدُ ۔
وَہَذَا وَإِنْ کَانَ إِسْنَادُہُ لاَ تَقُومُ بِمِثْلِہِ حُجَّۃٌ فَمَشْہُورٌ أَنَّ زَیْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ وَہِیَ مِنْ بَنِی أَسَدِ بْنِ خُزَیْمَۃَ وَأُمُّہَا أُمَیْمَۃُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ ہَاشِمٍ عَمَّۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- کَانَتْ عِنْدَ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ حَتَّی طَلَّقَہَا ثُمَّ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِہَا وَکَذَا فِی الْحَدِیثِ ابْنَۃُ عَمِّکَ وَالصَّوَابُ ابْنَۃَ عَمَّتِکَ۔ [ضعیف جداً]
وَہَذَا وَإِنْ کَانَ إِسْنَادُہُ لاَ تَقُومُ بِمِثْلِہِ حُجَّۃٌ فَمَشْہُورٌ أَنَّ زَیْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ وَہِیَ مِنْ بَنِی أَسَدِ بْنِ خُزَیْمَۃَ وَأُمُّہَا أُمَیْمَۃُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ ہَاشِمٍ عَمَّۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- کَانَتْ عِنْدَ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ حَتَّی طَلَّقَہَا ثُمَّ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِہَا وَکَذَا فِی الْحَدِیثِ ابْنَۃُ عَمِّکَ وَالصَّوَابُ ابْنَۃَ عَمَّتِکَ۔ [ضعیف جداً]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৮৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب بیوی راضی ہو تو غیر کفو کا نکاح رد نہ کیا جائے اور مسلمان کا نکاح بھی رد نہ ہوگا (چاہے کسی کنبے قبیلے کا ہو)
(١٣٧٨٣) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ضباعۃ بنت زبیر بن عبدالمطلب کے پاس آئے اور فرمایا : تو حج کا ارادہ رکھتی ہے۔ وہ کہنے لگی : میں بیماری محسوس کرتی ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حج کر اور شرط رکھ کہ میرے حلال ہونے کی وہی جگہ ہے جہاں تو نے مجھے روک لیا اور یہ مقداد بن اسود کے نکاح میں تھی۔
(۱۳۷۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِیُّ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی ضُبَاعَۃَ بِنْتِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ لَہَا : کَأَنَّکِ تُرِیدِینَ الْحَجَّ ۔ قَالَتْ : أَجِدُنِی شَاکِیَۃً قَالَ لَہَا : حُجِّی وَاشْتَرِطِی أَنَّ مَحِلِّی حَیْثُ حَبَسْتَنِی ۔وَکَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ کِلاَہُمَا عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔
[صحیح۔ بخاری ۶۰۸۹]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ کِلاَہُمَا عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔
[صحیح۔ بخاری ۶۰۸۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৯০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب بیوی راضی ہو تو غیر کفو کا نکاح رد نہ کیا جائے اور مسلمان کا نکاح بھی رد نہ ہوگا (چاہے کسی کنبے قبیلے کا ہو)
(١٣٧٨٤) حضرت جابر شعبی سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے مقداد اور زید کی شادی کی۔ تاکہ وہ اللہ کے ہاں بلند مرتبہ ہو جو تم سے اچھے اخلاق کا ہو۔
(ب) مقداد بنو زہرہ سے ہیں جبکہ ضباعۃ بنو ہاشم سے ہیں۔
(ب) مقداد بنو زہرہ سے ہیں جبکہ ضباعۃ بنو ہاشم سے ہیں۔
(۱۳۷۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ النَّرْسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : زَوَّجْتُ الْمِقْدَادَ وَزَیْدًا لِیَکُونَ أَشْرَفَکُمْ عِنْدَ اللَّہِ أَحْسَنُکُمْ خُلُقًا ۔
ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَفِیمَا قَبْلَہُ کِفَایَۃٌ وَالْمِقْدَادُ ہُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ ثَعْلَبَۃَ بْنِ مَالِکٍ حَلِیفُ الأَسْوَدِ رَجُلٍ مِنْ بَنِی زُہْرَۃَ فَنُسِبَ إِلَیْہِ وَلَمْ یَکُنْ مِنْ صُلْبِہِمْ وَقَدْ زُوِّجَتْ مِنْہُ ضُبَاعَۃُ بِنْتُ الزُّبَیْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ ہَاشِمٍ۔
[ضعیف جداً]
ہَذَا مُنْقَطِعٌ وَفِیمَا قَبْلَہُ کِفَایَۃٌ وَالْمِقْدَادُ ہُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ ثَعْلَبَۃَ بْنِ مَالِکٍ حَلِیفُ الأَسْوَدِ رَجُلٍ مِنْ بَنِی زُہْرَۃَ فَنُسِبَ إِلَیْہِ وَلَمْ یَکُنْ مِنْ صُلْبِہِمْ وَقَدْ زُوِّجَتْ مِنْہُ ضُبَاعَۃُ بِنْتُ الزُّبَیْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ ہَاشِمٍ۔
[ضعیف جداً]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৯১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب بیوی راضی ہو تو غیر کفو کا نکاح رد نہ کیا جائے اور مسلمان کا نکاح بھی رد نہ ہوگا (چاہے کسی کنبے قبیلے کا ہو)
(١٣٧٨٥) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بدر میں حاضر ہوئے تھے، انھوں نے سالم کو منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا۔ انھوں نے اپنی بھتیجی کی شادی ان سے کردی، یعنی ہند بنت ولید بن عتبہ وہ انصار کی ایک عورت کے غلام تھے، جیسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زید کو منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا۔
(ب) امام بخاری ابو الیمان سے نقل فرماتے ہیں : یہ قریشی تھی بنو عبد شمس بن عبد مناف سے تھی۔ اس کی شادی غلام سے کی گئی۔
(ب) امام بخاری ابو الیمان سے نقل فرماتے ہیں : یہ قریشی تھی بنو عبد شمس بن عبد مناف سے تھی۔ اس کی شادی غلام سے کی گئی۔
(۱۳۷۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی أَخْبَرَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ أَبَا حُذَیْفَۃَ بْنَ عُتْبَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ وَکَانَ مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- تَبَنَّی سَالِمًا وَزَوَّجَہُ ابْنَۃَ أَخِیہِ ہِنْدَ بِنْتَ الْوَلِیدِ بْنِ عُتْبَۃَ وَہُوَ مَوْلًی لاِمْرَأَۃٍ مِنَ الأَنْصَارِ کَمَا تَبَنَّی النَّبِیُّ -ﷺ- زَیْدًا۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ فَہَذِہِ قُرَشِیَّۃٌ مِنْ بَنِی عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ زُوِّجَتْ مِنْ مَوْلًی۔ [صحیح۔ بخاری ۴۰۰۰]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ فَہَذِہِ قُرَشِیَّۃٌ مِنْ بَنِی عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ زُوِّجَتْ مِنْ مَوْلًی۔ [صحیح۔ بخاری ۴۰۰۰]
তাহকীক: