আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৬৬ টি
হাদীস নং: ১৩৮৩২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطبہ نکاح کا بیان
(١٣٨٢٦) عبیدہ بن عبداللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ حاجت سکھایا۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ ہم اسی سے مدد و بخشش طلب کرتے ہیں اور اپنے نفس کی شرارتوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ جس کو اللہ رب العزت ہدایت دے اس کو گمراہ کرنے والا کوئی نہیں اور جس کو اللہ گمراہ کریں اس کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ پھر آپ یہ تین آیات تلاوت کرتے : { یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا } [النساء ١] ” اے لوگو ! اپنے رب سے ڈر جاؤ، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا ہے اور اس سے اس کی بیوی بھی پیدا کی ہے۔ “ { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ } [آل عمران ١٠٢] ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈر جاؤ جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ “ { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا ۔ یُّصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا ۔ } [الاحزاب ٧٠، ٧١] ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈر جاؤ اور درست بات کہو، وہ تمہارے اعمال درست کر دے گا۔۔۔“ اس کے بعد اپنی حاجت کا تذکرہ کرے۔ شعبہ کہتے ہیں : میں نے ابواسحاق سے پوچھا : یہ نکاح کے خطبہ کے بارے میں ہے یا اس کے علاوہ بھی ؟ کہنے لگے : ہر حاجت میں۔
(۱۳۸۲۶) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- خُطْبَۃَ الْحَاجَۃِ الْحَمْدُ لِلَّہِ أَوْ إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّہِ نَسْتَعِینُہُ نَسْتَغْفِرُہُ وَنَعُوذُ بِاللَّہِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ یَہْدِہِ اللَّہُ فَلاَ مُضِلَّ لَہُ وَمَنْ یُضْلِلِ اللَّہُ فَلاَ ہَادِیَ لَہُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَشْہَدُ أَنْ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ ثُمَّ تَقْرَأُ الثَّلاَثَ آیَاتٍ { یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا} {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ حَقَّ تُقَاتِہِ} إِلَی آخِرِ الآیَۃِ ثُمَّ تَقْرَأُ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ و قُولُوا قَوْلاً سَدِیدًا} إِلَی آخِرِ الآیَۃِ ثُمَّ تَتَکَلَّمُ بِحَاجَتِکَ قَالَ شُعْبَۃُ : قُلْتُ لأَبِی إِسْحَاقَ ہَذِہِ فِی خُطْبَۃِ النِّکَاحِ أَوْ فِی غَیْرِہَا قَالَ فِی کُلِّ حَاجَۃٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৩৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطبہ نکاح کا بیان
(١٣٨٢٧) حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حاجت کے خطبہ میں کہا کرتے تھے : اس کے مثل ذکر کیا ہے، لیکن شعبہ نے جو ابی اسحاق سے کہا اس کا ذکر نہیں ہے۔
(۱۳۸۲۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَبُو بِسْطَامَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ قَالَ وَأُرَاہُ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ فِی تَشَہُّدِ الْحَاجَۃِ فَذَکَرَ نَحْوَہُ لَمْ یَذْکُرْ قَوْلَ شُعْبَۃَ لأَبِی إِسْحَاقَ۔ [تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৩৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطبہ نکاح کا بیان
(١٣٨٢٨) اسرائیل نے بھی اسی کے مثل ذکر کیا ہے، لیکن فرماتے ہیں { یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَ بَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّ نِسَآئً وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآئَ لُوْنَ بِہٖ وَ الْاَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا } [النساء ١] ” اے لوگو ! اپنے رب سے ڈر جاؤ، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس کی بیوی بھی پیدا کی اور اس سے بہت سارے مرد اور عورتیں پیدا کیے اور اس اللہ سے ڈر جاؤ جس کو رشتہ داریوں کا واسطہ دے کر سوال کرتے ہو۔ بیشک اللہ تمہارا نگہبان ہے۔ اس کے بعد دوسری دو آیات ذکر کیں، لیکن یہ نہیں کہا کہ وہ اپنی حاجت کے بارے میں کلام کرے۔
(۱۳۸۲۸) وَرَوَاہُ إِسْرَائِیلُ بْنُ یُونُسَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ وَأَبِی عُبَیْدَۃَ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- خُطْبَۃَ الْحَاجَۃِ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْحَضْرَمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ الَّذِی تَسَائَ لُونَ بِہِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیبًا} ثُمَّ ذَکَرَ الآیَتَیْنِ الآخِرَتَیْنِ وَلَمْ یَقُلْ ثُمَّ یَتَکَلَّمُ بِحَاجَتِہِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৩৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطبہ نکاح کا بیان
(١٣٨٢٩) ابوعبید حضرت عبداللہ (رض) سے خطبہ حاجت کے بارہ میں نقل فرماتے ہیں : تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد کرتے ہیں اور اس سے مدد طلب کرتے ہیں، اس کی مثل ذکر کیا ہے؛ لیکن مرفوع بیان نہیں کیا۔
(۱۳۸۲۹) وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ مَوْقُوفًا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ فِی خُطْبَۃِ الْحَاجَۃِ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی نَحْمَدُہُ وَنَسْتَعِینُہُ فَذَکَرَ نَحْوَہُ وَلَمْ یَرْفَعْہُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৩৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطبہ نکاح کا بیان
(١٣٨٣٠) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ جب خطبہ ارشاد فرماتے تو کہتے : تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ہم اس سے مدد و بخشش طلب کرتے ہیں۔ اور اپنے نفس کی شرارتوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں جس کو اللہ ہدایت دیں اس کو گمراہ کرنے والا کوئی نہیں اور جس کو اللہ گمراہ کریں اس کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ نے آپ کو قیامت سے پہلے خوشخبری دینے والا اور ذرانے والا بنا کر مبعوث کیا ہے اور جس نے اللہ ورسول کی اطاعت کی وہ کامیاب ہوگیا اور جس نے نافرمانی کی وہ اپنا نقصان کرے گا اللہ کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔
(۱۳۸۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الأَصَمُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ عَنْ أَبِی عِیَاضٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ إِذَا تَشَہَّدَ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّہِ نَسْتَعِینُہُ وَنَسْتَغْفِرُہُ وَنَعُوذُ بِاللَّہِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ یَہْدِہِ اللَّہُ فَلاَ مُضِلَّ لَہُ وَمَنْ یُضْلِلْ فَلاَ ہَادِیَ لَہُ وَأَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ أَرْسَلَہُ بِالْحَقِّ بَشِیرًا وَنَذِیرًا بَیْنَ یَدَیِ السَّاعَۃِ مَنْ یُطِعِ اللَّہَ وَرَسُولَہُ فَقَدْ رَشَدَ وَمَنْ یَعْصِہِمَا فَإِنَّہُ لاَ یَضُرُّ إِلاَّ نَفْسَہُ وَلاَ یَضُرُّ اللَّہَ شَیْئًا۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৩৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطبہ نکاح کا بیان
(١٣٨٣١) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ہمیں تشھد اور خطبہ اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی کوئی سورة۔ بدن اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ پر سلامتی، اللہ کی رحمت و برکات ہو، ہمارے اوپر اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور خطبہ، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس کی حمد کرتے ہیں، ہم اس سے مدد و استغفار طلب کرتے ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندے اور رسول ہیں { وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآئَ لُوْنَ بِہٖ وَ الْاَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا ۔ } [النساء ١] ” اور اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم رشتہ داریوں کا سوال کرتے ہو۔ بیشک اللہ تمہارے اوپر نگہبان ہے۔ “ { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا ۔ } [الاحزاب ٧٠] ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈر جاؤ اور درست بات کہو “ { یُصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا ۔ } [الاحزاب ٧١] ” تاکہ وہ تمہارے اعمال درست کر دے اور تمہارے گناہ معاف کر دے اور جس نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کرلی۔ “
(۱۳۸۳۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا حُرَیْثٌ عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ عَنْ شَقِیقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُعَلِّمُنَا التَّشَہُّدَ وَالْخُطْبَۃَ کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّورَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ التَّحِیَّاتُ لِلَّہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ السَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَبَرَکَاتُہُ السَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّہِ الصَّالِحِینَ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہُ إِلاَّ اللَّہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ وَالْخُطْبَۃُ الْحَمْدُ لِلَّہِ نَحْمَدُہُ وَنَسْتَعِینُہُ وَنَسْتَغْفِرُہُ أَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ {وَاتَّقُوا اللَّہَ الَّذِی تَسَائَ لُونَ بِہِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیبًا} {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ و قُولُوا قَوْلاً سَدِیدًا یُصْلِحُ لَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَمَنْ یُطِعِ اللَّہَ وَرَسُولَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیمًا} [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৩৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی کے لیے کون سا خطبہ اور کلام مستحب ہے
(١٣٨٣٢) عروہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ میں ابن عمر (رض) سے ملا اور میں نے اپنی بیٹی کے نکاح کا پیغام دیا تو ابن ابی عبداللہ نے مجھے کہا : ابن ابی عبداللہ نکاح کے قابل ہے۔ ہم اپنے رب کی حمد کرتے ہیں اور اپنے نبی پر درود پڑھتے ہیں اور ہم تیرا نکاح کردیتے جو اللہ نے حکم فرمایا ہے۔ اچھائی سے روکنا ہے یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔
(۱۳۸۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْزَۃَ الْہَرَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنِی مَنْ سَمِعَ أَبَا بَکْرِ بْنَ حَفْصٍ یُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ : لَحِقْتُ ابْنَ عُمَرَ فَخَطَبْتُ إِلَیْہِ ابْنَتَہُ فَقَالَ لِیَ ابْنُ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ : إِنَّ ابْنَ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ لأَہْلٌ أَنْ یُنْکِحَ نَحْمَدُ رَبَّنَا وَنُصَلِّی عَلَی نَبِیِّنَا وَقَدْ أَنْکَحْنَاکَ عَلَی مَا أَمَرَ اللَّہُ بِہِ إِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৩৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولی کے لیے کون سا خطبہ اور کلام مستحب ہے
(١٣٨٣٣) ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ جب بھی ابن عمر (رض) نکاح پڑھاتے تو فرماتے : میں تیرا نکاح ویسے کرتا ہوں جیسے اللہ نے حکم فرمایا ہے یا تو بھلائی سے چھوڑ دینا ہے یا اچھائی سے روکے رکھنا ہے۔
(۱۳۸۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا أَنْکَحَ قَالَ : أُنْکِحُکَ عَلَی مَا أَمَرَ اللَّہُ عَلَی إِمْسَاکٍ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٍ بِإِحْسَانٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৪০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو عقد نکاح سے زیادہ نہیں کرتا
(١٣٨٣٤) حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے تو ایک عورت نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنا آپ پیش کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نظر جھکائی اور اٹھائی، لیکن آپ نے اس کا قصد نہ کیا تو صحابہ میں سے ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس کا نکاح مجھ سے کردیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے پاس کچھ نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں تو کہنے لگا : لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں، لیکن میں اپنی چادر دو حصوں میں تقسیم کر کے آدھا اس کو دے دیتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تجھے قرآن یاد ہے اس نے کہا : ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ میں نے تیرا نکاح اس کے ساتھ اس قرآن کے بدلے کردیا ہے، یعنی اسے تعلیم دے دینا۔
(۱۳۸۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْمَرْوَزِیُّ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ہُوَ ابْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا فُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَہْلُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَجَائَ تْہُ امْرَأَۃٌ تَعْرِضُ نَفْسَہَا عَلَیْہِ فَخَفَّضَ فِیہَا النَّظَرَ وَرَفَعَہُ فَلَمْ یُرِدْہَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِہِ : زَوِّجْنِیہَا یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : ہَلْ عِنْدَکَ شَیْء ٌ ۔ قَالَ : مَا عِنْدِی شَیْء ٌ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : وَلاَ خَاتَمٌ مِنْ حَدِیدٍ ۔ قَالَ : وَلاَ خَاتَمٌ مِنْ حَدِیدٍ وَلَکِنْ أَشُقُّ بُرْدَتِی ہَذِہِ فَأُعْطِیہَا النِّصْفَ وَآخُذُ النِّصْفَ قَالَ : لاَ وَلَکِنْ ہَلْ مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ شَیْء ٌ ۔ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : اذْہَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُکَہَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ الْمِقْدَامِ عَنْ فُضَیْلِ بْنِ سُلَیْمَانَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ الْمِقْدَامِ عَنْ فُضَیْلِ بْنِ سُلَیْمَانَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৪১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو عقد نکاح سے زیادہ نہیں کرتا
(١٣٨٣٥) اسماعیل بن ابراہیم بنو سلیم کے ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے کہا : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو امامہ بنت عبدالمطلب کے نکاح کا پیغام دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بغیر خطبہ کے میرا نکاح پڑھایا۔
(ب) ابن سلم اپنی حدیث میں بنو تمیم کے ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو امامہ بنت عبدالمطلب کے نکاح کا پیغام دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بغیر خطبہ کے نکاح پڑھایا۔
(ب) ابن سلم اپنی حدیث میں بنو تمیم کے ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو امامہ بنت عبدالمطلب کے نکاح کا پیغام دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بغیر خطبہ کے نکاح پڑھایا۔
(۱۳۸۳۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ الْحَافِظُ یَعْنِی الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبَّاسٍ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا بَدَلٌ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ سَلْمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی الزَّجَّاجُ حَدَّثَنَا بَدَلٌ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ قَالَ : خَطَبْتُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- أُمَامَۃَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَنْکَحَنِی مِنْ غَیْرِ أَنْ یَتَشَہَّدَ وَقَالَ ابْنُ سَلْمٍ فِی حَدِیثِہِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ أَنَّہُ خَطَبَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- أُمَامَۃَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : فَأَنْکَحَنِی مِنْ غَیْرِ أَنْ یَتَشَہَّدَّ یَعْنِی الْخُطْبَۃَ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی التَّارِیخِ عَنْ بُنْدَارٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ عَنِ الْعَلاَئِ ابْنِ أَخِی شُعَیْبٍ الْوَزَّانِ وَکَذَلِکَ قَالَہُ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ عَنْ بُنْدَارٍ۔ [ضعیف جداً]
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ سَلْمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی الزَّجَّاجُ حَدَّثَنَا بَدَلٌ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ قَالَ : خَطَبْتُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- أُمَامَۃَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَنْکَحَنِی مِنْ غَیْرِ أَنْ یَتَشَہَّدَ وَقَالَ ابْنُ سَلْمٍ فِی حَدِیثِہِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ أَنَّہُ خَطَبَ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- أُمَامَۃَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : فَأَنْکَحَنِی مِنْ غَیْرِ أَنْ یَتَشَہَّدَّ یَعْنِی الْخُطْبَۃَ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی التَّارِیخِ عَنْ بُنْدَارٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ عَنِ الْعَلاَئِ ابْنِ أَخِی شُعَیْبٍ الْوَزَّانِ وَکَذَلِکَ قَالَہُ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ عَنْ بُنْدَارٍ۔ [ضعیف جداً]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৪২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو عقد نکاح سے زیادہ نہیں کرتا
(١٣٨٣٦) عباد بن شیبان اپنے والد سے اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ان کی پھوپھی کے لیے پیغام نکاح بھیجا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بغیر خطبہ کے نکاح فرما دیا۔
(۱۳۸۳۶) وَقَدْ قِیلَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ شَیْبَانَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ : خَطَبْتُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- عَمَّتَہُ فَأَنْکَحَنِی وَلَمْ یَتَشَہَّدْ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ الْفَارِسِیُّ الْمَشَّاطُ أَخْبَرَنَاہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ حَدَّثَنَا الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَۃَ السَّدُوسِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ فَذَکَرَہُ وَقَدْ قِیلَ غَیْرُ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৪৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نکاح وغیرہ میں استخارہ کا بیان حضرت جابر بن عبداللہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استخارہ کے بارے میں نقل فرماتے ہیں یہ کتاب الحج اور کتاب الصلوٰۃ میں گزر چکا ہے۔
(١٣٨٣٧) ایوب بن خالد بن ابی ایوب انصاری اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نکاح سے رک جاؤ۔ پھر اچھی طرح وضو کرو۔ پھر جو اللہ نے تمہارے مقدر میں نماز کی ہے پڑھو۔ پھر اللہ کی حمد اور بزرگی بیان کر۔ پھر کہہ : اے اللہ ! تو قدرت رکھتا ہے، میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے میں نہیں جانتا۔ تو غیبوں کو جاننے والا ہے، اگر فلاں میں میرے لیے دنیاو دین اور آخرت میں بہتری ہے تو اس کو میرے مقدر میں کر دے۔ اس کا نام لے۔ اگر اس کے علاوہ کسی دوسری میں میری دنیا و دین اور آخرت کی بہتری ہے تو اس کو میرے مقدر میں کر دے۔
(۱۳۸۳۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ أَنَّ الْوَلِیدَ بْنَ أَبِی الْوَلِیدِ أَخْبَرَہُ أَنَّ أَیُّوبَ بْنَ خَالِدِ بْنِ أَبِی أَیُّوبَ الأَنْصَارِیَّ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : اکْتُمِ الْخِطْبَۃَ ثُمَّ تَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوئَ کَ ثُمَّ صَلِّ مَا کَتَبَ اللَّہُ لَکَ ثُمَّ احْمَدْ رَبَّکَ وَمَجِّدْہُ ثُمَّ قُلِ اللَّہُمَّ إِنَّکَ تَقْدِرُ وَلاَ أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ إِنْ رَأَیْتَ لِی فُلاَنَۃَ وَیُسَمِّیہَا بِاسْمِہَا خَیْرًا لِی فِی دِینِی وَدُنْیَایَ وَآخِرَتِی فَاقْدُرْہَا لِی وَإِنْ کَانَ غَیْرُہَا خَیْرًا لِی فِی دِینِی وَدُنْیَایَ وَآخِرَتِی فَاقْدُرْہَا لِی۔ [ضعیف۔ احمد ۵/ ۴۲۳۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৪৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت سے نکاح اور دخول کے وقت کیا کہے
(١٣٨٣٨) حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی عورت یا خادم یا چوپائے سے فائدہ اٹھائے تو اس کی پیشانی کو پکڑ کر اللہ کا نام لے اور کہے اے اللہ ! میں اس کی بھلائی اور جو اس کے اندر پیدا کی گئی ہے اس بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اے اللہ ! میں اس کی برائی سے اور جو اس کے اندر برائی رکھی گئی ہے اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔
(۱۳۸۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : إِذَا أَفَادَ أَحَدُکُمُ امْرَأَۃً أَوْ خَادِمًا أَوْ دَابَّۃً فَلْیَأْخُذْ بِنَاصِیَتِہَا وَلْیُسَمِّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ وَلْیَقُلِ اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ خَیْرَہَا وَخَیْرَ مَا جُبِلَتْ عَلَیْہِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّہَا وَشَرِّ مَا جُبِلَتْ عَلَیْہِ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৪৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت سے نکاح اور دخول کے وقت کیا کہے
(١٣٨٣٩) ابن عجلان نے بھی اس کی مانند ذکر کیا ہے کہ وہ اس کی پیشانی کو پکڑ کر برکت کی دعا کرے اور کہے۔
(ب) اس نے ذکر کیا اور زیادہ کیا کہ اگر اونٹ ہو تو اس کی کوہان کو پکڑ کر کہے۔
(ب) اس نے ذکر کیا اور زیادہ کیا کہ اگر اونٹ ہو تو اس کی کوہان کو پکڑ کر کہے۔
(۱۳۸۳۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الشَّہِیدُ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلاَنَ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : فَلْیَأْخُذْ بِنَاصِیَتِہَا وَلْیَدْعُ بِالْبَرَکَۃِ وَلْیَقُلْ ۔
فَذَکَرَہُ وَزَادَ : وَإِنْ کَانَ بَعِیرًا فَلْیَأْخُذْ بِذِرْوَۃِ سَنَامِہِ ۔ [حسن۔ تقدم قبلہ]
فَذَکَرَہُ وَزَادَ : وَإِنْ کَانَ بَعِیرًا فَلْیَأْخُذْ بِذِرْوَۃِ سَنَامِہِ ۔ [حسن۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৪৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نکاح کرنے والے سے کیا کہا جائے
(١٣٨٤٠) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبدالرحمن بن عوف پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا : اے ابو محمد ! یہ کیا ہے ؟ تو عبدالرحمن کہنے لگے : اے اللہ کے نبی ! میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے، کھجور کی گٹھلی کے وزن کے برابر سونے سے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تجھے برکت دے، ولیمہ کرو چاہے ایک بکری ہی سہی۔
(۱۳۸۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- رَأَی عَلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَثَرَ صُفْرَۃٍ فَقَالَ : مَا ہَذَا یَا أَبَا مُحَمَّدٍ؟ ۔
قَالَ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَۃً عَلَی وَزْنِ نَوَاۃٍ مِنْ ذَہَبٍ قَالَ : بَارَکَ اللَّہُ لَکَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاۃٍ ۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۴۲۷]
قَالَ : تَزَوَّجْتُ امْرَأَۃً عَلَی وَزْنِ نَوَاۃٍ مِنْ ذَہَبٍ قَالَ : بَارَکَ اللَّہُ لَکَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاۃٍ ۔
أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۴۲۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৪৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نکاح کرنے والے سے کیا کہا جائے
(١٣٨٤١) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی شادی کرنے والے شخص کو مبارک باد دیتے تو فرماتے ؟ اللہ تجھے برکت دے اور تیرے اوپر برکت کرے اور تم دونوں کو بھلائی میں جمع کر دے۔
(ب) مقری کی روایت میں ہے کہ جب کوئی شخص شادی کرتا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو مبارکباد دیتے تھے۔
(ب) مقری کی روایت میں ہے کہ جب کوئی شخص شادی کرتا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو مبارکباد دیتے تھے۔
(۱۳۸۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ الدَّرَاوَرْدِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ نُعَیْمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سُہَیْلٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ إِذَا رَفَّأَ الإِنْسَانَ إِذَا تَزَوَّجَ قَالَ : بَارَکَ اللَّہُ لَکَ وَبَارَکَ عَلَیْکَ وَجَمَعَ بَیْنَکُمَا فِی خَیْرٍ۔ وَفِی رِوَایَۃِ الْمُقْرِئِ قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- إِذَا تَزَوَّجَ رَجُلٌ فَرَفَّأَہُ قَالَ فَذَکَرَہُ۔ [حسن]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ نُعَیْمٍ قَالاَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سُہَیْلٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ إِذَا رَفَّأَ الإِنْسَانَ إِذَا تَزَوَّجَ قَالَ : بَارَکَ اللَّہُ لَکَ وَبَارَکَ عَلَیْکَ وَجَمَعَ بَیْنَکُمَا فِی خَیْرٍ۔ وَفِی رِوَایَۃِ الْمُقْرِئِ قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- إِذَا تَزَوَّجَ رَجُلٌ فَرَفَّأَہُ قَالَ فَذَکَرَہُ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৪৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نکاح کرنے والے سے کیا کہا جائے
(١٣٨٤٢) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ عقیل بن ابی طالب نے بنو جشم قبیلہ کی عورت سے بصرہ میں شادی کی تو لوگوں نے ان سے کہا : مبارک باد ہو اور بیٹے کی مبارک باد بھی دی تو عقیل کہنے لگے : ایسے نہ کہو؛ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا ہے اور ہمیں حکم دیا کہ یوں کہو کہ اللہ آپ کو برکت دے اور آپ کے اوپر برکت کرے۔
(۱۳۸۴۲) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَیَّانَ التَّمَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ یَقُولُ : قَدِمَ عَقِیلُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ الْبِصْرَۃَ فَتَزَوَّجَ امْرَأَۃً مِنْ بَنِی جُشَمٍ فَقَالُوا لَہُ : بِالرِّفَائِ وَالْبَنِینَ فَقَالَ : لاَ تَقُولُوا کَذَلِکَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی عَنْ ذَلِکَ وَأَمَرَنَا أَنْ نَقُولَ : بَارَکَ اللَّہُ لَکَ وَبَارَکَ عَلَیْکَ ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৪৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتیں شادی کے موقع پر کیا کہیں
(١٣٨٤٣) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے نکاح ٦ برس کی عمر میں کیا اور ہم مدینہ میں بنو حارث بن خزرج کے ہاں ٹھہرے۔ میں تھک چکی تھی، میرے بال بکھرے ہوئے تھے تو میں نے اپنے بال سنوارے، میری والدہ ام رومان آئیں اور میں اپنی سہیلوں کے ساتھ جھولے میں تھی۔ انھوں نے مجھے بلایا، میں ان کے پاس آئی، مجھے معلوم نہ تھا ان کا کیا ارادہ ہے، انھوں نے مجھے پکڑ کر گھر کی دہلیز پر کھڑا کردیا اور تھکاوٹ کی وجہ سے میرا سانس پھول رہا تھا۔ پھر انھوں نے پانی کے مانند کوئی چیز لے کر میرے سر اور چہرے پر ملی۔ پھر مجھے گھر میں داخل کردیا۔ اچانک گھر میں انصار کی عورتیں تھیں۔ انھوں نے کہا : آپ پر خیر و برکت ہو۔ پھر میری والدہ نے مجھے ان کے سپرد کردیا۔ انھوں نے میری حالت کو سنوارا۔ پھر چاشت کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے دکھائی دیے تو ان عورتوں نے مجھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سپرد کردیا، اس وقت میری عمر نو برس کی تھی۔
(۱۳۸۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ خَلِیلٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ الْخَلِیلِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : تَزَوَّجَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَنَا ابْنَۃُ سَتِّ سِنِینَ فَقَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ فَنَزَلْنَا فِی بَنِی الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَوُعِکْتُ فَتَمَرَّقَ شَعَرِی فَأَوْفَی جُمَیْمَۃً فَأَتَتْنِی أُمِّی أُمُّ رُومَانَ وَإِنِّی لَفِی أُرْجُوحَۃٍ وَمَعِی صَوَاحِبَاتٌ لِی فَصَرَخَتْ بِی فَأَتَیْتُہَا وَمَا أَدْرِی مَا تُرِیدُ بِی فَأَخَذَتْ بِیَدِی حَتَّی وَقَفَتْنِی عَلَی بَابِ الدَّارِ وَإِنِّی لأَنْہَجُ حَتَّی سَکَنَ بَعْضُ نَفَسِی۔ ثُمَّ أَخَذَتْ شَیْئًا مِنْ مَائٍ فَمَسَحَتْ بِہِ وَجْہِی وَرَأْسِی ثُمَّ أَدْخَلَتْنِی الدَّارَ فَإِذَا نِسْوَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ فِی بَیْتٍ فَقُلْنَ : عَلَی الْخَیْرِ وَالْبَرَکَۃِ وَعَلَی خَیْرِ طَائِرٍ فَأَسْلَمَتْنِی إِلَیْہِنَّ فَأَصْلَحْنَ مِنْ شَأْنِی فَلَمْ یَرُعْنِی إِلاَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ضُحًی فَأَسْلَمْنَنِی إِلَیْہِ وَأَنَا یَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِینَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ فَرْوَۃَ بْنِ أَبِی الْمَغْرَائِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُسْہِرٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ الْخَلِیلِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : تَزَوَّجَنِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَنَا ابْنَۃُ سَتِّ سِنِینَ فَقَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ فَنَزَلْنَا فِی بَنِی الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَوُعِکْتُ فَتَمَرَّقَ شَعَرِی فَأَوْفَی جُمَیْمَۃً فَأَتَتْنِی أُمِّی أُمُّ رُومَانَ وَإِنِّی لَفِی أُرْجُوحَۃٍ وَمَعِی صَوَاحِبَاتٌ لِی فَصَرَخَتْ بِی فَأَتَیْتُہَا وَمَا أَدْرِی مَا تُرِیدُ بِی فَأَخَذَتْ بِیَدِی حَتَّی وَقَفَتْنِی عَلَی بَابِ الدَّارِ وَإِنِّی لأَنْہَجُ حَتَّی سَکَنَ بَعْضُ نَفَسِی۔ ثُمَّ أَخَذَتْ شَیْئًا مِنْ مَائٍ فَمَسَحَتْ بِہِ وَجْہِی وَرَأْسِی ثُمَّ أَدْخَلَتْنِی الدَّارَ فَإِذَا نِسْوَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ فِی بَیْتٍ فَقُلْنَ : عَلَی الْخَیْرِ وَالْبَرَکَۃِ وَعَلَی خَیْرِ طَائِرٍ فَأَسْلَمَتْنِی إِلَیْہِنَّ فَأَصْلَحْنَ مِنْ شَأْنِی فَلَمْ یَرُعْنِی إِلاَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ضُحًی فَأَسْلَمْنَنِی إِلَیْہِ وَأَنَا یَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِینَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ فَرْوَۃَ بْنِ أَبِی الْمَغْرَائِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُسْہِرٍ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৫০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خاوند بیوی سے ہمبستری کرتے وقت کیا کہے
(١٣٨٤٤) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے مجامعت کا ارادہ کرے تو کہے : اللہ کے نام سے، اے اللہ ! مجھے اور جو مجھے اولاد دے اس کو شیطان سے محفوظ رکھ۔ پھر جو وہ اولاد دیا جائے یا جو ان کے درمیان فیصلہ ہو شیطان اس کو نقصان نہیں دیتا۔
(۱۳۸۴۴) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ رَجَائٍ أَخْبَرَنَا ہَمَّامٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ حَدَّثَنِی سَالِمُ بْنُ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ کُرَیْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : أَمَا إِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ یَأْتِیَ أَہْلَہُ قَالَ بِسْمِ اللَّہِ اللَّہُمَّ جَنِّبْنِی الشَّیْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّیْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا ثُمَّ رُزِقَ أَوْ قُضِیَ بَیْنَہُمَا وَلَدٌ لَمْ یَضُرَّہُ الشَّیْطَانُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ ہَمَّامٍ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ مَنْصُورٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۴۳۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৫১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آزاد اور لونڈیوں میں سے کتنی عورتیں جائز ہیں
قال اللہ تعالیٰ : { قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْہِمْ فِی أَزْوَاجِہِمْ وَمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُمْ }[الاحزاب ٥٠] ” تحقیق ہم نے جان لیا جو کچھ مقرر کیا ہے ہم نے ان کے اوپر ان کی بیویوں کے بارے میں اور ان
قال اللہ تعالیٰ : { قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْہِمْ فِی أَزْوَاجِہِمْ وَمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُمْ }[الاحزاب ٥٠] ” تحقیق ہم نے جان لیا جو کچھ مقرر کیا ہے ہم نے ان کے اوپر ان کی بیویوں کے بارے میں اور ان
(١٣٨٤٥) حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص جس کو غیلان بن سلمہ ثقفی کہا جاتا تھا دور جاہلیت میں اس کے نکاح میں دس عورتیں تھیں، جب وہ مسلمان ہوئے تو عورتیں بھی مسلمان ہوگئیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان میں سے چار کا انتخاب کرلے۔
(۱۳۸۴۵) فَذَکَرَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُلاَعِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ حَدَّثَہُ : أَنَّ رَجُلاً کَانَ یُقَالَ لَہُ غَیْلاَنُ بْنُ سَلَمَۃَ الثَّقَفِیُّ کَانَ تَحْتَہُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ عَشْرُ نِسْوَۃٍ فَأَسْلَمَ وَأَسْلَمْنَ مَعَہُ فَأَمَرَہُ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یَتَخَیَّرَ مِنْہُنَّ أَرْبَعًا۔ [منکر]
তাহকীক: