আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৬৬ টি
হাদীস নং: ১৩৮৫২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آزاد اور لونڈیوں میں سے کتنی عورتیں جائز ہیں
قال اللہ تعالیٰ : { قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْہِمْ فِی أَزْوَاجِہِمْ وَمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُمْ }[الاحزاب ٥٠] ” تحقیق ہم نے جان لیا جو کچھ مقرر کیا ہے ہم نے ان کے اوپر ان کی بیویوں کے بارے میں اور ان
قال اللہ تعالیٰ : { قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْہِمْ فِی أَزْوَاجِہِمْ وَمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُمْ }[الاحزاب ٥٠] ” تحقیق ہم نے جان لیا جو کچھ مقرر کیا ہے ہم نے ان کے اوپر ان کی بیویوں کے بارے میں اور ان
(١٣٨٤٦) حارث بن قیس بن عمیرہ فرماتے ہیں کہ میں نے اور میری ٨ بیویوں نے اسلام قبول کرلیا، میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تذکرہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چار کا انتخاب کرلو۔
(ب) اس باب میں جتنی بھی احادیث مذکور ہیں اس شخص کے بارے میں ہے جس کے پاس ٤ سے زائد بیویاں تھیں۔
(ب) اس باب میں جتنی بھی احادیث مذکور ہیں اس شخص کے بارے میں ہے جس کے پاس ٤ سے زائد بیویاں تھیں۔
(۱۳۸۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ حُمَیْضَۃَ بْنِ الشَّمَرْدَلِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَیْسِ بْنِ عَمِیرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَسْلَمْتُ وَعِنْدِی ثَمَانِ نِسْوَۃٍ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : اخْتَرْ مِنْہُنَّ أَرْبَعًا ۔ لَفْظُ مُسَدَّدٍ وَسَائِرُ الأَحَادِیثِ الَّتِی ذُکِرَتْ فِی ہَذَا الْبَابِ مَذْکُورَۃٌ فِی بَابِ الرَّجُلِ یُسْلِمُ وَعِنْدَہُ أَکْثَرُ مِنْ أَرْبَعِ نِسْوَۃٍ۔[ضعیف]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ حُمَیْضَۃَ بْنِ الشَّمَرْدَلِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَیْسِ بْنِ عَمِیرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَسْلَمْتُ وَعِنْدِی ثَمَانِ نِسْوَۃٍ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : اخْتَرْ مِنْہُنَّ أَرْبَعًا ۔ لَفْظُ مُسَدَّدٍ وَسَائِرُ الأَحَادِیثِ الَّتِی ذُکِرَتْ فِی ہَذَا الْبَابِ مَذْکُورَۃٌ فِی بَابِ الرَّجُلِ یُسْلِمُ وَعِنْدَہُ أَکْثَرُ مِنْ أَرْبَعِ نِسْوَۃٍ۔[ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৫৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آزاد اور لونڈیوں میں سے کتنی عورتیں جائز ہیں
قال اللہ تعالیٰ : { قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْہِمْ فِی أَزْوَاجِہِمْ وَمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُمْ }[الاحزاب ٥٠] ” تحقیق ہم نے جان لیا جو کچھ مقرر کیا ہے ہم نے ان کے اوپر ان کی بیویوں کے بارے میں اور ان
قال اللہ تعالیٰ : { قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْہِمْ فِی أَزْوَاجِہِمْ وَمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُمْ }[الاحزاب ٥٠] ” تحقیق ہم نے جان لیا جو کچھ مقرر کیا ہے ہم نے ان کے اوپر ان کی بیویوں کے بارے میں اور ان
(١٣٨٤٧) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اللہ کے اس قول : { وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ } [النساء ٣] ” اگر تمہیں خوف ہو کہ یتیم بچیوں کے بارے میں تم انصاف نہ کر پاؤ گے پھر تم نکاح کرو جو عورتیں تمہیں اچھی لگیں دو دو اور تین تین اور چار چار۔ اگر تمہیں بےانصافی کا خوف تو ایک ہی کافی ہے یا جو تمہاری لونڈیاں ہیں۔ “ ہم دور جاہلیت میں دس بیوہ عورتوں سے شادی کرلیتے تھے اور یتیم بچی کی حالت کو بڑا خیال کرتے تھے اور انھوں نے یتیم بچیوں کے بارے میں اپنی شریعت میں کچھ نہ پایا اور انھوں نے جو جاہلیت کے اندر بھی نکاح کرتے تھے چھوڑ دیا۔ اللہ کا فرمان ہے : { وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ مَثْنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ } [النساء ٣] اور جو جاہلیت میں نکاح کرتے تھے ان سے بھی منع کردیا۔ “
(۱۳۸۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ أَنَّ مُعَاوِیَۃَ بْنَ صَالِحٍ حَدَّثَہُ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {وإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِی الْیَتَامَی} قَالَ : کَانُوا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ یَنْکِحُونَ عَشْرًا مِنَ النِّسَائِ الأَیَامَی وَکَانُوا یُعَظِّمُونَ شَأْنَ الْیَتِیمِ فَتَفَقَّدُوا مِنْ دِینِہِمْ شَأْنَ الْیَتَامَی وَتَرَکُوا مَا کَانُوا یَنْکِحُونَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی { وإِنْ خِفْتُمْ أَنْ لاَ تُقْسِطُوا فِی الْیَتَامَی فَانْکِحُوا مَا طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَائِ مَثْنَی وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ } وَنَہَاہُمْ عَمَّا کَانُوا یَنْکِحُونَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৫৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آزاد اور لونڈیوں میں سے کتنی عورتیں جائز ہیں
قال اللہ تعالیٰ : { قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْہِمْ فِی أَزْوَاجِہِمْ وَمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُمْ }[الاحزاب ٥٠] ” تحقیق ہم نے جان لیا جو کچھ مقرر کیا ہے ہم نے ان کے اوپر ان کی بیویوں کے بارے میں اور ان
قال اللہ تعالیٰ : { قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْہِمْ فِی أَزْوَاجِہِمْ وَمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُمْ }[الاحزاب ٥٠] ” تحقیق ہم نے جان لیا جو کچھ مقرر کیا ہے ہم نے ان کے اوپر ان کی بیویوں کے بارے میں اور ان
(١٣٨٤٨) حضرت عکرمہ عبداللہ بن عباس (رض) سے { وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآئِ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ کِتٰبَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ } [النساء ٢٤] ” اور حرام کی گئی شادی شدہ عورتیں مگر جو تمہاری لونڈیاں ہیں، اللہ نے تمہارے اوپر لکھ دیا ہے۔ “ کے متعلق نقل فرماتے ہیں کہ مسلمان کے لیے چار سے زائد کے ساتھ شادی کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر کرے گا تو یہ اس کی ماں اور بہن کی طرح (حرام) ہے۔
(ب) عبیدہ سلمانی اللہ کے اس قول : { کِتٰبَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ } کے بارے فرماتے ہیں کہ اس سے مراد چار عورتیں ہیں، اس طرح حسن بصری سے بھی منقول ہے۔
(ب) عبیدہ سلمانی اللہ کے اس قول : { کِتٰبَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ } کے بارے فرماتے ہیں کہ اس سے مراد چار عورتیں ہیں، اس طرح حسن بصری سے بھی منقول ہے۔
(۱۳۸۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَنْ إِسْرَائِیلَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ إِلاَّ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ کِتَابَ اللَّہِ عَلَیْکُمْ} قَالَ : لاَ یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ یَتَزَوَّجَ فَوْقَ أَرْبَعٍ فَإِنْ فَعَلَ فَہِیَ عَلَیْہِ مِثْلُ أُمِّہِ أَوْ أُخْتِہِ۔ وَرُوِّینَا عَنْ عَبِیدَۃَ السَّلْمَانِیِّ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {کِتَابَ اللَّہِ عَلَیْکُمْ} قالَ : أَرْبَعُ نِسْوَۃٍ وَکَذَلِکَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৫৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آزاد اور لونڈیوں میں سے کتنی عورتیں جائز ہیں
قال اللہ تعالیٰ : { قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْہِمْ فِی أَزْوَاجِہِمْ وَمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُمْ }[الاحزاب ٥٠] ” تحقیق ہم نے جان لیا جو کچھ مقرر کیا ہے ہم نے ان کے اوپر ان کی بیویوں کے بارے میں اور ان
قال اللہ تعالیٰ : { قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْہِمْ فِی أَزْوَاجِہِمْ وَمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُمْ }[الاحزاب ٥٠] ” تحقیق ہم نے جان لیا جو کچھ مقرر کیا ہے ہم نے ان کے اوپر ان کی بیویوں کے بارے میں اور ان
(١٣٨٤٩) ام سعید حضرت علی (رض) کی ام ولد تھیں فرماتی ہیں کہ میں حضرت علی (رض) کو وضو کروا رہی تھی تو حضرت علی (رض) فرمانے لگے : میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔ ام سعید کہنے لگی : میں نے کہا : اے امیرالمومنین کس چیز نے آپ کو روک رکھا ہے۔ فرمانے لگے : کیا چار کے بعد بھی ؟ کہتی ہیں : میں نے کہا : ایک کو طلاق دو اور کسی دوسری سے شادی کرلو۔ فرمانے لگے : طلاق بری چیز ہے میں اس کو ناپسند کرتا ہوں۔
(۱۳۸۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُاللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَتْنِی أُمُّ زَیْنَبَ أَنَّ أُمَّ سَعِیدٍ أُمَّ وَلَدِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَدَّثَتْہَا قَالَتْ : کُنْتُ أَصُبُّ عَلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الْمَائَ وَہُوَ یَتَوَضَّأُ فَقَالَ: یَا أُمَّ سَعِیدٍ قَدِ اشْتَقْتُ أَنْ أَکُونَ عَرُوسًا قَالَتْ فَقُلْتُ: وَیْحَکَ مَا یَمْنَعُکَ یَا أَمِیرَالْمُؤْمِنِینَ قَالَ: أَبَعْدَ أَرْبَعٍ قَالَتْ فَقُلْتُ : تُطَلِّقُ وَاحِدَۃً مِنْہُنَّ وَتَزَوَّجُ أُخْرَی قَالَ : إِنَّ الطَّلاَقَ قَبِیحٌ أَکْرَہُہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৫৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص اپنی چار بیویوں کو طلاق دے کر اس کی جگہ دوسری چار بیویاں کرسکتا ہے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : نہ تو اس کی کوئی بیوی ہے اور نہ ہی اس کے ذمہ کوئی عدت ہے۔ زوجیت ختم ہوجاتی ہے، احکام کے منقطع ہونے کی وجہ سے۔ جیسے ایلاء ظہار، لعان، میراث وغیرہ۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : نہ تو اس کی کوئی بیوی ہے اور نہ ہی اس کے ذمہ کوئی عدت ہے۔ زوجیت ختم ہوجاتی ہے، احکام کے منقطع ہونے کی وجہ سے۔ جیسے ایلاء ظہار، لعان، میراث وغیرہ۔
(١٣٨٥٠) عروہ بن زبیر اور قاسم بن محمد دونوں اس شخص کے بارے میں بیان کرتے ہیں جس کے پاس چار بیویاں ہوں کہ ان میں سے ایک کو طلاق بائنہ دے دے تو وہ جب چاہے شادی کرسکتا ہے وہ اس کی عدت گزرنے کا انتظار بھی نہ کرے گا۔
(۱۳۸۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ کَانَا یَقُولاَنِ فِی الرَّجُلِ تَکُونُ عِنْدَہُ أَرْبَعُ نِسْوَۃٍ فَیُطَلِّقُ إِحْدَاہُنَّ الْبَتَّۃَ : أَنَّہُ یَتَزَوَّجُ إِذَا شَائَ وَلاَ یَنْتَظِرُ حَتَّی تَمْضِیَ عِدَّتُہَا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৫৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص اپنی چار بیویوں کو طلاق دے کر اس کی جگہ دوسری چار بیویاں کرسکتا ہے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : نہ تو اس کی کوئی بیوی ہے اور نہ ہی اس کے ذمہ کوئی عدت ہے۔ زوجیت ختم ہوجاتی ہے، احکام کے منقطع ہونے کی وجہ سے۔ جیسے ایلاء ظہار، لعان، میراث وغیرہ۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : نہ تو اس کی کوئی بیوی ہے اور نہ ہی اس کے ذمہ کوئی عدت ہے۔ زوجیت ختم ہوجاتی ہے، احکام کے منقطع ہونے کی وجہ سے۔ جیسے ایلاء ظہار، لعان، میراث وغیرہ۔
(١٣٨٥١) قتادہ حضرت سعید بن مسیب سے اس شخص کے بارے میں روایت فرماتے ہیں جس کے نکاح میں چار بیویاں تھیں، اس نے ایک کو طلاق دے دی، فرماتے ہیں : اگر وہ چاہے تو اس کی عدت کے اندر پانچویں سے شادی کرلے۔ اس طرح وہ دو بہنوں کے متعلق بھی فرماتے ہیں۔
(ب) قتادہ حضرت سعید بن مسیب سے نقل فرماتے ہیں کہ جس کو طلاق بائنہ ہوچکی ہو۔
(ب) قتادہ حضرت سعید بن مسیب سے نقل فرماتے ہیں کہ جس کو طلاق بائنہ ہوچکی ہو۔
(۱۳۸۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْمَعْرُوفِ الْفَقِیہُ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ: عَبْدُاللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَہَّابِ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ فِی رَجُلٍ کَانَتْ تَحْتَہُ أَرْبَعُ نِسْوَۃٍ فَطَلَّقَ وَاحِدَۃً مِنْہُنَّ قَالَ : إِنْ شَائَ تَزَوَّجَ الْخَامِسَۃَ فِی الْعِدَّۃِ قَالَ وَکَذَلِکَ قَالَ فِی الأُخْتَیْنِ۔ وَرَوَاہُ ابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ فِیمَنْ بَتَّ طَلاَقَہَا بِنَحْوِہِ
وَرُوِّینَاہُ عَنِ الْحَسَنِ وَعَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ وَبَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیِّ وَخِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو۔ [ضعیف]
وَرُوِّینَاہُ عَنِ الْحَسَنِ وَعَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ وَبَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیِّ وَخِلاَسِ بْنِ عَمْرٍو۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৫৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص اپنی والدہ یا والد کی لونڈی سے شادی کرے تو یہ لونڈی والدین کے حلال کرنے سے بھی حلال نہ ہوگی
(١٣٨٥٢) حضرت سعید بن وہب فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس آیا اور کہا : میری والدہ نے اپنی لونڈی میرے لیے حلال قرار دے دی ہے تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرمانے لگے : یہ تیرے لیے حلال نہیں ہے، لیکن تین طریقوں سے : 1 ہبہ کر دے 2 فروخت کر دے۔ 3 نکاح کر دے۔
(۱۳۸۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ إِنَّ أُمِّی أَحَلَّتْ لِی جَارِیَتَہَا فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّہَا لاَ تَحِلُّ لَکَ إِلاَّ بِإِحْدَی ثَلاَثٍ : ہِبَۃٍ بَتَّۃً أَوْ شِرًی أَوْ نِکَاحٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৫৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کا لونڈی سے شادی کرنے کا بیان
(١٣٨٥٣) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے غلام لونڈیوں سے شادی کرتے تھے اور وہ ان پر عیب نہ لگاتے۔
(۱۳۸۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ : عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ : کَانَ عَبِیدُ ابْنِ عُمَرَ یَتَسَرَّوْنَ فَلاَ یَعِیبُ عَلَیْہِمْ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کا لونڈی سے شادی کرنے کا بیان
(١٣٨٥٤) حضرت نافع عبداللہ بن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ کوئی مرد لونڈی سے مجامعت نہ کرے، لیکن اس کو فروخت یا ہبہ کرنا چاہے یا پھر اس کے ساتھ جو بھی سلوک کرے۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ امام شافعی (رح) کے جدید قول میں غلام کی لونڈی سے شادی کی ممانعت ہے اور پہلے اثر کو پیش کرتے ہیں، حالانکہ یہ ابن عمر (رض) اس آزاد شخص کے بارے میں فرماتے ہیں، جو لونڈی فاسد شرط کے ذریعہ خریدتا ہے۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ امام شافعی (رح) کے جدید قول میں غلام کی لونڈی سے شادی کی ممانعت ہے اور پہلے اثر کو پیش کرتے ہیں، حالانکہ یہ ابن عمر (رض) اس آزاد شخص کے بارے میں فرماتے ہیں، جو لونڈی فاسد شرط کے ذریعہ خریدتا ہے۔
(۱۳۸۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا کَانَ یَقُولُ : لاَ یَطَأُ الرَّجُلُ وَلِیدَۃً إِلاَّ وَلِیدَۃً إِنْ شَائَ بَاعَہَا وَإِنْ شَائَ وَہَبَہَا وَإِنْ شَائَ صَنَعَ بِہَا مَا شَائَ ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : قَدْ مَنَعَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ الْعَبْدَ مِنَ التَّسَرِّی فِی الْجَدِیدِ وَعَارَضَ الأَثَرَ الأَوَّلَ بِہَذَا وَہَذَا إِنَّمَا قَالَہُ ابْنُ عُمَرَ فِی الْحُرِّ إِذَا اشْتَرَی وَلِیدَۃً بِشَرْطٍ فَاسِدٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبل الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کا لونڈی سے شادی کرنے کا بیان
(١٣٨٥٥) حضرت عبداللہ نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ کوئی شخص لونڈی سے مجامعت نہ کرے لیکن اس کو فروخت کر دے یا ہبہ کر دے۔ آزاد کر دے اس میں شرط نہیں ہے۔
(۱۳۸۵۵) فَقَدْ رَوَاہُ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : لاَ یَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ یَطَأَ فَرْجًا إِلاَّ فَرْجًا إِنْ شَائَ وَہَبَہُ وَإِنْ شَائَ بَاعَہُ وَإِنْ شَائَ أَعْتَقَہُ لَیْسَ فِیہِ شَرْطٌ۔ أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کا لونڈی سے شادی کرنے کا بیان
(١٣٨٥٦) ابو معبد فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے اپنے غلام کی شادی لونڈی سے کردی تو اس نے طلاق دے دی۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا : رجوع کرو، اس نے انکار کردیا۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہ تیری ملکیت ہے تو اس سے مجامعت کر، ان کی مراد یہ تھی کہ یہ نکاح کی وجہ سے حلال ہوگئی ہے اور طلاق کا اختیار نہیں۔
امام شافعی (رح) اپنے جدید قول میں فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے اپنے غلام سے کہا، جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی کہ تیری طلاق نہیں، اپنی بیوی کو روکے رکھ۔ تو اس نے انکار کردیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا مقصد یہ تھا کہ یہ تیرے لیے نکاح کی وجہ سے حلال ہے۔ اس پر طلاق نہیں ہے۔
امام شافعی (رح) اپنے جدید قول میں فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے اپنے غلام سے کہا، جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی کہ تیری طلاق نہیں، اپنی بیوی کو روکے رکھ۔ تو اس نے انکار کردیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا مقصد یہ تھا کہ یہ تیرے لیے نکاح کی وجہ سے حلال ہے۔ اس پر طلاق نہیں ہے۔
(۱۳۸۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ أَبِی مَعْبَدٍ قَالَ : زَوَّجَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَبْدًا لَہُ وَلِیدَۃً لَہُ فَطَلَّقَہَا فَقَالَ : ارْجِعْ فَأَبَی قَالَ فَقَالَ : ہِیَ لَکَ طَأْہَا بِمِلْکِ یَمِینِکَ۔ (ش) قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی الْجَدِیدِ : وَابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا قَالَ ذَلِکَ لِعَبْدٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ فَقَالَ لَیْسَ لَکَ طَلاَقٌ وَأَمَرَہُ أَنْ یُمْسِکَہَا فَأَبَی فَقَالَ : فَہِیَ لَکَ فَاسْتَحِلَّہَا بِمِلْکِ الْیَمِینِ یُرِیدُ لَہُ أَنَّہَا حَلاَلٌ بِالنِّکَاحِ وَلاَ طَلاَقَ لَہُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کا لونڈی سے شادی کرنے کا بیان
(١٣٨٥٧) شیخ (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ اس غلام کو مالک نے اجازت بھی دی تھی یا نہیں ؟ پھر اس آیت کی تلاوت کی : { ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْکًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰی شَیْئٍ } [النحل ٧٥] ” اللہ نے ایسے غلام کی مثال بیان کی جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ “
(۱۳۸۵۷) قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ ہُوَ کَمَا قَالَ فَقَدْ رَوَی عَطَاء ٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : الأَمْرُ إِلَی الْمَوْلَی أَذِنَ لَہُ أَمْ لَمْ یَأْذَنْ لَہُ وَیَتْلُو ہَذِہِ الآیَۃَ {ضَرَبَ اللَّہُ مِثْلاً عَبْدًا مَمْلُوکًا لاَ یَقْدِرُ عَلَی شَیْئٍ } أَخْبَرَنَاہُ أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیْرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَکَرَہُ وَقَدْ رُوِیَ فِی حَدِیثِ أَبِی مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا یَدُلُّ عَلَی ذَلِکَ۔ [صحیح۔ اخرجہ سعید بن منصور ۸۰۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کا لونڈی سے شادی کرنے کا بیان
(١٣٨٥٨) ابو معبد فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا ایک غلام تھا، اس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں، حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا : رجوع کرو۔ اس نے انکار کردیا تو حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا : یہ تیری ملکیت ہونے کی وجہ سے حلال ہے (یعنی نکاح کی وجہ سے)
دلالت : یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے دو طلاقوں کے بعد غلام کو رجوع کا حکم دیا لیکن اس نے انکار کردیا تو حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا اعتقاد تھا کہ غلام بغیر اجازت کے طلاق نہیں دے سکتا، اس لیے تو فرمایا : یہ تمہاری ملکیت ہے (یعنی نکاح کی وجہ سے) حالانکہ ایک جماعت کا اتفاق ہے کہ اس کی طلاق درست ہے۔ واللہ اعلم
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے مالکوں کو لونڈی سے شادی کرنا جائز رکھا ہے اور غلام فی الحال اس کا مالک نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْکًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰی شَیْئٍ } [النحل ٧٥] ” اللہ نے ایسے غلام کی مثال بیان کی جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ “
(ب) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے غلام فروخت کیا اور غلام کا مال بھی تھا تو مال فروخت کرنے والے کا ہے، الایہ کہ خریدنے والا شرط لگالے۔
دلالت : یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے دو طلاقوں کے بعد غلام کو رجوع کا حکم دیا لیکن اس نے انکار کردیا تو حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا اعتقاد تھا کہ غلام بغیر اجازت کے طلاق نہیں دے سکتا، اس لیے تو فرمایا : یہ تمہاری ملکیت ہے (یعنی نکاح کی وجہ سے) حالانکہ ایک جماعت کا اتفاق ہے کہ اس کی طلاق درست ہے۔ واللہ اعلم
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے مالکوں کو لونڈی سے شادی کرنا جائز رکھا ہے اور غلام فی الحال اس کا مالک نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْکًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰی شَیْئٍ } [النحل ٧٥] ” اللہ نے ایسے غلام کی مثال بیان کی جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ “
(ب) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے غلام فروخت کیا اور غلام کا مال بھی تھا تو مال فروخت کرنے والے کا ہے، الایہ کہ خریدنے والا شرط لگالے۔
(۱۳۸۵۸) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو حَازِمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ہُوَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِی مَعْبَدٍ : أَنَّ غُلاَمًا لاِبْنِ عَبَّاسٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ تَطْلِیقَتَیْنِ فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : ارْجِعْہَا فَأَبَی قَالَ ہِیَ لَکَ اسْتَحِلَّہَا بِمِلْکِ الْیَمِینِ۔ فِی ہَذَا دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّہُ إِنَّمَا أَمَرَ بِالرِّجُوعِ إِلَیْہَا بَعْدَ تَطْلِیقَتَیْنِ وَلاَ رَجْعَۃَ لِلْعَبْدِ بَعْدَہُمَا فَکَأَنَّہُ اعْتَقَدَ أَنَّ الطَّلاَقَ لَمْ یَقَعْ حَیْثُ لَمْ یَأْذَنْ فِیہِ فَحِینَ أَبِی قَالَ ہِیَ لَکَ اسْتَحِلَّہَا بِمِلْکِ الْیَمِینِ وَمَذْہَبُ الْجَمَاعَۃِ عَلَی صِحَّۃِ طَلاَقِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : إِنَّمَا أَحَلَّ اللَّہُ التَّسَرِّیَ لِلْمَالِکِینَ وَلاَ یَکُونُ الْعَبْدُ مَالِکًا بِحَالٍ قَالَ اللَّہُ تَعَالَی (ضَرَبَ اللَّہُ مِثْلاً عَبْدًا مَمْلُوکًا لاَ یَقْدِرُ عَلَی شَیْئٍ ) وَذَکَرَ مَا رُوِّینَا فِی کِتَابِ الْبُیُوعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : مَنْ بَاعَ عَبْدًا لَہُ مَالٌ فَمَالُہُ لِلْبَائِعِ إِلاَّ أَنْ یَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ۔
[صحیح۔ تقدم قبل الذی قبلہ]
[صحیح۔ تقدم قبل الذی قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اور اللہ کا فرمان : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً وَّالزَّانِیَۃُ لاَ یَنکِحُہَا اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ } [النور : ٣] ” زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زان
(١٣٨٥٩) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ ایک عورت کو ام مہزول کہا جاتا تھا، وہ لمبی گردن والی تھی، وہ زانیہ تھی۔ کوئی شخص اس سے شادی کرتا تو وہ شرط لگاتی کہ وہ اس کے خرچے کی بھی کفایت کرے گی تو اس سے شادی کے متعلق ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھ لیا ؟ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھایا یہ آیت نازل ہوئی : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً } (النور : ٣) ” زانی مرد زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے۔ “
(۱۳۸۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَمُسَدَّدٌ وَاللَّفْظُ لِعَلِیٍّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْحَضْرَمِیِّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ امْرَأَۃً کَانَ یُقَالُ لَہَا أُمُّ مَہْزُولٍ وَکَانَتْ تَکُونُ بِأَجْیَادَ وَکَانَتْ مُسَافِحَۃً کَانَتْ یَتَزَوَّجُہَا الرَّجُلُ وَتَشْتَرِطُ لَہُ أَنْ تَکْفِیَہُ النَّفَقَۃَ فَسَأَلَ رَجُلٌ عَنْہَا النَّبِیَّ -ﷺ- أَیَتَزَوَّجُہَا فَقَرأَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- أَوْ أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ ہَذِہِ الآیَۃُ {الزَّانِی لاَ یَنْکِحُ إِلاَّ زَانِیَۃً} الآیَۃَ۔ [صحیح لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اور اللہ کا فرمان : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً وَّالزَّانِیَۃُ لاَ یَنکِحُہَا اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ } [النور : ٣] ” زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زان
(١٣٨٦٠) معتمر اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت ام مہزول تھی، وہ کسی شخص سے شادی کرتی تو اس شرط پر کہ وہ اس کو زنا کی اجازت دے۔ وہ اس شخص کا خرچہ بھی اٹھائے گی تو بعض نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نکاح کی اجازت طلب کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
(۱۳۸۶۰) قَالَ وَأَخْبَرَنَا الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنِی عُبَیْدُ بْنُ عَبِیدَۃَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ : أَنَّ امْرَأَۃً کَانَتْ تُسَمَّی أُمَّ مَہْزُولٍ وَأَنَّہَا کَانَتْ تَتَزَوَّجُ الرَّجُلَ عَلَی أَنْ یَأْذَنَ لَہَا فِی السِّفَاحِ وَتَکْفِیہِ النَّفَقَۃَ فَاسْتَأْذَنَ بَعْضُہُمُ النَّبِیَّ -ﷺ- أَنْ یَتَزَوَّجَہَا قَالَ فَقَرأَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ہَذِہِ الآیَۃَ إِلَی آخِرِہَا۔
(صحیح لغیرہ۔ تقدم قبلہ]
(صحیح لغیرہ۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اور اللہ کا فرمان : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً وَّالزَّانِیَۃُ لاَ یَنکِحُہَا اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ } [النور : ٣] ” زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زان
(١٣٨٦١) حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص مرثد بن ابی مرثد تھا، جو مکہ سے قیدی اٹھا کر مدینہ لایا کرتا تھا۔ ایک چاندنی رات مکہ کی دیواروں میں سے کسی دیوار کے سائے میں تھا۔ عناق نامی عورت نے میرے سائے کی سیاہی کو دیوار کی جانب دیکھ لیا۔ جب وہ میرے قریب آئی تو اس نے مجھے پہچان لیا اور کہنی لگی : مرثد ! میں نے کہا : ہاں مرثد تو کہنے لگی : کیا آج رات میرے پاس گزارو گے ؟ مرثد کہتے ہیں : میں نے کہہ دیا کہ اللہ نے زنا کو حرام کردیا ہے تو اس عناق نامی عورت نے آواز دی۔ اے گھر والو ! یہ شخص تمہارے قیدی اٹھا کرلے جاتا ہے۔ کہتے ہیں : ٨ اشخاص نے میرا پیچھا کیا اور میں دیوار سے سائے میں چلا، یہاں تک میں ایک غار تک جا پہنچا اور اس میں داخل ہوگیا۔ وہ آئے اور میرے سر کے اوپر سے گزر گئے۔ انھوں نے پیشاب کیا تو ان کا پیشاب میرے سر کے اوپر گرا۔ اللہ نے ان کو اندھا کردیا، وہ واپس پلٹ گئے۔ میں نے واپس پلٹ کر قیدی کو اٹھا لیا۔ وہ بھاری شخص تھا، میں اسے لے کر اذخر تک آیا۔ میں نے اس کی بیڑی کو کھول دیا۔ میں اس کو اٹھاتا تھا وہ میری مدد کررہا تھا۔ اس طرح میں مدینہ آیا۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! کیا میں عناق سے نکاح کرلوں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ دیر خاموش رہے اور مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر یہ سورة نازل ہوئی : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً وَّالزَّانِیَۃُ لاَ یَنکِحُہَا اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ } (النور : ٣) ” زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زانی مرد یا مشرک سے نکاح کرتی ہے اور یہ مومنوں پر حرام کیا گیا ہے اے مرثد ! زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زانی یا مشرک مرد سے نکاح کرتی ہے۔ “ (صحیح لغیرہ، تقدم قبلہ ]
(۱۳۸۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ : أَحْمَدُ بْنُ الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ الأَخْنَسِ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : کَانَ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ مَرْثَدُ بْنُ أَبِی مَرْثَدٍ وَکَانَ رَجُلاً یَحْمِلُ الأَسْرَی مِنْ مَکَّۃَ حَتَّی یَأْتِیَ بِہِمُ الْمَدِینَۃَ قَالَ وَکَانَ بِمَکَّۃَ بَغِیٌّ یُقَالُ لَہَا عَنَاقُ وَکَانَتْ صَدِیقَتَہُ وَأَنَّہُ وَعَدَ رَجُلاً یَحْمِلُہُ مِنْ أَسْرَی مَکَّۃَ قَالَ فَجِئْتُ حَتَّی انْتَہَیْتُ إِلَی ظِلِّ حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ مَکَّۃَ فِی لَیْلَۃٍ مُقْمِرَۃٍ قَالَ : فَجَائَ تْ عَنَاقُ فَأَبْصَرَتْ سَوَادَ ظِلِّی بِجَنْبِ الْحَائِطِ فَلَمَّا انْتَہَتْ إِلَیَّ عُرِفْتُ قَالَتْ : مَرْثَدٌ۔ قُلْتُ : مَرْثَدٌ قَالَتْ : ہَلْ لَکَ أَنْ تَبِیتَ عِنْدَنَا اللَّیْلَۃَ قُلْتُ : یَا عَنَاقُ قَدْ حَرَّمَ اللَّہُ الزِّنَا قَالَتْ : یَا أَہْلَ الْخِیَامِ ہَذَا الرَّجُلُ الَّذِی یَحْمِلُ أَسْرَاکُمْ فَاتَّبَعَنِی ثَمَانِیَۃٌ وَسَلَکْتُ الْخَنْدَمَۃَ فَانْتَہَیْتُ إِلَی کَہْفٍ أَوْ غَارٍ فَدَخَلْتُہُ فَجَائُ وا حَتَّی جَازُوا عَلَی رَأْسِی فَبَالُوا فَظَلَّ بَوْلُہُمْ عَلَی رَأْسِی وَعَمَاہُمُ اللَّہُ حَتَّی رَجَعُوا وَرَجَعْتُ إِلَی صَاحِبِی فَحَمَلْتُہُ و کَانَ رَجُلاً ثَقِیلاً حَتَّی انْتَہَیْتُ إِلَی الإِذْخِرِ فَفَکَکْتُ عَنْہُ کَبْلَہُ فَجَعَلْتُ أَحْمِلُہُ وَیُعِیینُی حَتَّی قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنْکِحُ عَنَاقًا؟ فَأَمْسَکَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ شَیْئًا حَتَّی نَزَلَتْ ہَذِہِ السُّورَۃُ {الزَّانِی لاَ یَنْکِحُ إِلاَّ زَانِیَۃً أَوْ مُشْرِکَۃً وَالزَّانِیَۃُ لاَ یَنْکِحُہَا إِلاَّ زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذَلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ} فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَا مَرْثَدُ الزَّانِی لاَ یَنْکِحُ إِلاَّ زَانِیَۃً أَوْ مُشْرِکَۃً وَالزَّانِیَۃُ لاَ یَنْکِحُہَا إِلاَّ زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اور اللہ کا فرمان : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً وَّالزَّانِیَۃُ لاَ یَنکِحُہَا اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ } [النور : ٣] ” زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زان
(١٣٨٦٢) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ دور جاہلیت میں زانی عورتیں اعلان کرتی تھیں کہ وہ آل فلاں کی زانیہ عورتیں ہیں تو اللہ نے فرمایا : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً وَّالزَّانِیَۃُ لاَ یَنکِحُہَا اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ } [النور ٣] ” زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زانی مرد یا مشرک سے نکاح کرتی ہے اور مومنوں پر یہ حرام ہے۔ “ تو اللہ نے اسلام کے ذریعے جاہلیت کے اس فعل سے منع فرما دیا۔ ابن جریج کہتے ہیں : عطاء سے کہا گیا : یہ خبر آپ کو ابن عباس (رض) سے ملی ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : ہاں۔
(۱۳۸۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قِرَائَ ۃً وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَہْدِیٍّ الْقُشَیْرِیُّ لَفْظًا قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ أَنَّہُ قَالَ : کُنَّ بَغَایَا مُتَعَلِّنَاتٍ أَوْ مُعْلِنَاتٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ بَغِیُّ آلِ فُلاَنٍ وَبَغِیُّ آلِ فُلاَنٍ فَقَالَ اللَّہُ تَعَالَی {الزَّانِی لاَ یَنْکِحُ إِلاَّ زَانِیَۃً أَوْ مُشْرِکَۃً وَالزَّانِیَۃُ لاَ یَنْکِحُہَا إِلاَّ زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذَلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ} قَالَ فَأَحْکَمَ اللَّہُ مِنْ ذَلِکَ أَمْرَ الْجَاہِلِیَّۃِ بِالإِسْلاَمِ۔ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ : فَقِیلَ لِعَطَائٍ أَبَلَغَکَ ذَلِکَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَعَمْ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اور اللہ کا فرمان : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً وَّالزَّانِیَۃُ لاَ یَنکِحُہَا اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ } [النور : ٣] ” زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زان
(١٣٨٦٣) حضرت قتادہ سعید بن جبیر سے اس آیت کے بارے میں نقل فرماتے ہیں : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً } [النور ٣] کہ مدینہ میں زانیہ عورتوں کی شہرت تھی تو اللہ نے مومنوں کو ان سے نکاح کرنے سے منع فرما دیا۔ یہ قتادہ کے قول ہے۔
(۱۳۸۶۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَعُبَیْدٌ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا یَحْیَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ أَنَّہُ قَالَ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ {الزَّانِی لاَ یَنْکِحُ إِلاَّ زَانِیَۃً أَوْ مُشْرِکَۃً} قَالَ : کُنَّ بَغَایَا فِی الْمَدِینَۃِ مَعْلُومٌ شَأْنُہُنَّ فَحَرَّمَ اللَّہُ نِکَاحَہُنَّ عَلَی الْمُؤْمِنِینِ وَہُوَ قَوْلُ قَتَادَۃَ۔ [صحیح لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৭০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اور اللہ کا فرمان : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً وَّالزَّانِیَۃُ لاَ یَنکِحُہَا اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ } [النور : ٣] ” زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زان
(١٣٨٦٤) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ کچھ انسان دور جاہلیت کی مشہور زانیہ عورتوں سے نکاح کا ارادہ رکھتے تھے تو ان سے کہا گیا کہ یہ حرام ہیں۔ ان کے بارے میں اللہ نے یہ آیت نازل کردی کہ اللہ نے ان سے نکاح کو حرام قرار دیا ہے۔
(۱۳۸۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : ہَمَّ رِجَالٌ کَانُوا یُرِیدُونَ نِکَاحَ نِسَائٍ زَوَانٍ بَغَایَا مُتَعَالِنَاتٍ کُنَّ کَذَلِکَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَقِیلَ لَہُمْ ہَذَا حَرَامٌ فَنَزَلَتْ فِیہِمْ ہَذِہِ الآیَۃُ فَحَرَّمَ اللَّہُ نِکَاحَہُنَّ۔ [صحیح لغیرہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৭১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اور اللہ کا فرمان : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً وَّالزَّانِیَۃُ لاَ یَنکِحُہَا اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ } [النور : ٣] ” زانی صرف زانیہ یا مشرکہ عورت سے نکاح کرتا ہے اور زانیہ عورت صرف زان
(١٣٨٦٥) عبیداللہ بن ابی یزید نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے پوچھا : { الزَّانِی لاَ یَنکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً } (النور : ٣) فرماتے ہیں : یہ حکم ان دو کے درمیان ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ زانی مرد زانیہ یا مشرکہ عورت سے زنا کرتا ہے اور زانیہ عورت سے زانی یا مشرک مرد ہی زنا کرتا ہے یہاں تک کہ نکاح کر کے اس کو حاصل کرلیتا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ زانی مرد زانیہ یا مشرکہ عورت سے زنا کرتا ہے اور زانیہ عورت سے زانی یا مشرک مرد ہی زنا کرتا ہے یہاں تک کہ نکاح کر کے اس کو حاصل کرلیتا ہے۔
(۱۳۸۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی یَزِیدَ : أَنَّہُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ (الزَّانِی لاَ یَنْکِحُ إِلاَّ زَانِیَۃً أَوْ مُشْرِکَۃً) قَالَ : ذَلِکَ حُکْمٌ بَیْنَہُمَا۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَرُوِیَ عَنْ عِکْرِمَۃَ أَنَّہُ قَالَ : الزَّانِی لاَ یَزْنِی إِلاَّ بِزَانِیَۃٍ أَوْ مُشْرِکَۃٍ وَالزَّانِیَۃُ لاَ یَزْنِی بِہَا إِلاَّ زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ یَذْہَبُ إِلَی أَنَّ قَوْلَہُ یَنْکِحُ یُصِیبُ۔ [صحیح]
তাহকীক: