আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৬৬ টি

হাদীস নং: ১৩৩৯২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوتے اور وضو نہ کرتے
(١٣٣٨٦) ابو سالم بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے عائشہ (رض) سے سوال کیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز رمضان میں کیسی تھی، تو انھوں نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چار رکعت پڑھتے نہ سوال کر ان کی خوبصورتی اور لمبائی کا، پھر چار رکعات پڑھتے اور نہ سوال کر ان کے خوبصورتی اور لمبائی کا۔ پھر تین رکعت پڑھتے۔ عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتر پڑھنے سے پہلے سوتے نہیں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عائشہ ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل جاگتا ہے۔
(۱۳۳۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- کَیْفَ کَانَتْ صَلاَۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ : مَا کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَزِیدُ فِی رَمَضَانَ وَلاَ فِی غَیْرِہِ عَلَی إِحْدَی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً یُصَلِّی أَرْبَعًا فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِہِنَّ ثُمَّ یُصَلِّی أَرْبَعًا فَلاَ تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِہِنَّ وَطُولِہِنَّ ثُمَّ یُصَلِّی ثَلاَثًا قَالَتْ عَائِشَۃُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ فَقَالَ : یَا عَائِشَۃُ إِنَّ عَیْنَیَّ تَنَامَانِ وَلاَ یَنَامُ قَلْبِی ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْقَعْنَبِیِّ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [بخاری ۱۱۴۷۔ مسلم ۷۳۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৯৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوتے اور وضو نہ کرتے
(١٣٣٨٧) عبداللہ بن ابو نمر کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) کو فرماتے ہوئے سنا وہ ہم کو معراج کی رات والی حدیث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرما رہے تھے کہ تین بندے وحی کے نازل ہونے سے پہلے آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد حرام میں سوئے ہوئے تھے۔ ایک نے کہا : کیا یہ وہی ہے ؟ درمیانے نے کہا : یہ بہترین بندہ ہے۔

آخری نے کہا : اس بہترین کو پکڑ لو، یہ اس رات تھا۔ اس کے بعد میں نے ان کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ وہ دوسری رات پھر آئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھیں سوتی تھیں اور دل جاگتا تھا، اسی طرح تمام انبیاء کی آنکھیں سوتی اور دل جاگتا ہے۔
(۱۳۳۸۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمُرَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی نَمِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یُحَدِّثُنَا عَنْ لَیْلَۃِ أُسْرِیَ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنْ مَسْجِدِ الْکَعْبَۃِ : أَنَّہُ جَائَ ہُ ثَلاَثَۃُ نَفَرٍ قَبْلَ أَنْ یُوحَی إِلَیْہِ وَہُوَ نَائِمٌ فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَقَالَ أَوَّلُہُمْ ہُوَ ہُوَ وَقَالَ وَسَطُہُمْ ہُوَ خَیْرُہُمْ وَقَالَ آخِرُہُمْ خُذُوا خْیَرَہُمْ فَکَانَتْ تِلْکَ فَلَمْ یَرَہُمْ حَتَّی جَائَ ہُ لَیْلَۃً أُخْرَی فِیمَا یَرَی قَلْبُہُ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- تَنَامُ عَیْنُہُ وَلاَ یَنَامُ قَلْبُہُ وَکَذَلِکَ الأَنْبِیَائُ عَلَیْہِمُ الصَّلاَۃُ وَالسَّلاَمُ تَنَامُ أَعْیُنُہُمْ وَلاَ تَنَامُ قُلُوبُہُمْ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ سُلَیْمَانَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ ہَارُونَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔

[بخاری ۳۵۷۰۔ مسلم ۳۵۷۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৯৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نفلی نماز بیٹھ کر پڑھنا کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی طرح ہے اگرچہ (بیٹھنے کی) کوئی وجہ نہ بھی ہو
(١٣٣٨٨) عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آدمی کی بیٹھے ہوئے نماز کا ثواب آدھا ہے، میں اللہ کے نبی کے پاس آیا، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ نے یہ حدیث بیان کی ہے اور خود بیٹھ کر پڑھتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں لیکن میں تم میں سے کسی جیسا نہیں ہوں۔
(۱۳۳۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَۃَ بْنِ أَعْیَنَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ ہِلاَلٍ یعنی ابْنَ یَسَافٍ عَنْ أَبِی یَحْیَی عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ حُدِّثْتُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : صَلاَۃُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلاَۃِ ۔

فَأَتَیْتُہُ فَوَجَدْتُہُ یُصَلِّی جَالِسًا فَوَضَعْتُ یَدِی عَلَی رَأْسِی فَقَالَ : مَا لَکَ یَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرٍو ۔ قُلْتُ : حُدِّثْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَّکَ قُلْتَ : صَلاَۃُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلاَۃِ ۔ وَأَنْتَ تُصَلِّی قَاعِدًا فَقَالَ : أَجَلْ وَلَکِنْ لَسْتُ کَأَحَدٍ مِنْکُمْ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَرِیرٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف۔ احمد ۶۵۱۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৯৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ کی بیٹیوں کی اولاد کی نسبت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہے
(١٣٣٨٩) ابوبکرہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے، یعنی حسن بن علی (رض) اور شاید مسلمانوں کی دو جماعتیں اس کی وجہ سے صلح کرلیں۔
(۱۳۳۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصُّوفِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَیْثَمَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : إِنَّ ابْنِی ہَذَا سَیِّدٌ یَعْنِی الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ عَلَیْہِمَا السَّلاَمُ وَلَعَلَّ اللَّہَ أَنْ یُصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ المُسْلِمِینَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ جَمَاعَۃٍ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ وَقَدْ سَمَّی النَّبِیُّ -ﷺ- ابْنَہُ حِینَ وُلِدَ وَسَمَّی أَخَوَیْہِ بِذَلِکَ حِینَ وُلِدَا فَقَالَ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مَا سَمَّیْتَ ابْنِی؟ [بخاری ۲۷۰۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৯৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ کی بیٹیوں کی اولاد کی نسبت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہے
(١٣٣٩٠) علی (رض) فرماتے ہیں کہ جب حسن پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام حرب رکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں بلکہ وہ حسن ہے اور جب حسین پیدا ہوئے تو آپ نے پوچھا : اس کا نام کیا ہے ؟ میں نے کہا : حرب۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں، وہ حسین ہے۔

پھر جب محسن پیدا ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے بیٹے کا نام کیا ہے ؟ میں نے کہا : حرب تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں بلکہ وہ محسن ہے، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے اپنے ان بیٹوں کے نام ہارون کے بیٹوں جیسے رکھے۔ اس کا شبر اور پھر شبیر اور پھر مبشر۔
(۱۳۳۹۰) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ رَجَائٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّیْبَانِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّہْرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ ہَانِئِ بْنِ ہَانِئٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا أَنْ وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّیْتُہُ حَرْبًا فَقَالَ لِی النَّبِیُّ -ﷺ- : مَا سَمَّیْتَ ابْنِی؟ ۔ قُلْتُ : حَرْبًا قَالَ : ہُوَ الْحَسَنُ ۔

فَلَمَّا أَنْ وُلِدَ الْحُسَیْنُ سَمَّیْتُہُ حَرْبًا فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : مَا سَمَّیْتَ ابْنِی؟ قُلْتُ: حَرْبًا قَالَ : ہُوَ الْحُسَیْنُ۔

فَلَمَّا أَنْ وُلِدَ مُحَسِّنٌ قَالَ: مَا سَمَّیْتَ ابْنِی۔ قُلْتُ: حَرْبًا۔ قَالَ : ہُوَ مُحَسِّنٌ۔ ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ-: إِنِّی سَمَّیْتُ بَنِیَّ ہَؤُلاَئِ بِتَسْمِیَۃِ ہَارُونَ بَنِیہِ شَبَّرًا وَشَبِیرًا وَمُشَبِّرًا۔ لَفْظُ حَدِیثِ یُونُسَ وَفِی رِوَایَۃِ إِسْرَائِیلَ: أَرُونِی ابْنِی مَا سَمَّیْتُمُوہُ ۔ وَالْبَاقِی بِمَعْنَاہُ۔ [ضعیف۔ احمد ۱/ ۹۸، ح ۷۶۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৯৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ کی بیٹیوں کی اولاد کی نسبت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہے
(١٣٣٩١) سعد (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہوئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے کپڑے کے نیچے علی، فاطمہ، حسن، حسین (رض) کو داخل کیا اور فرمایا : اے اللہ ! یہ میرے اہل میں سے ہیں اور میرے اہل بیت میں سے ہیں۔
(۱۳۳۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بَرْہَانَ الْغَزَّالُ وَأَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ وَغَیْرُہُمْ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِیُّ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ مِسْمَارٍ مَوْلَی عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ یَقُولُ قَالَ سَعْدٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : نَزَلَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْوَحْیُ فَأَدْخَلَ عَلِیًّا وَفَاطِمَۃَ وَابْنَیْہَا تَحْتَ ثَوْبِہِ قَالَ : اللَّہُمَّ ہَؤُلاَئِ أَہْلِی وَأَہْلُ بَیْتِی ۔ [مسلم ۲۴۰۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৯৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ کی بیٹیوں کی اولاد کی نسبت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہے
(١٣٣٩٢) حضرت سعد فرماتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل ہوئی : { نَدْعُ أَبْنَائَ نَا وَأَبْنَائَ کُمْ وَنِسَائَ نَا وَنِسَائَ کُمْ } [اٰل عمران : ٦١] تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین (رض) کے لیے دعا کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! یہ میرے اہل میں سے ہیں۔
(۱۳۳۹۲) وَرَوَی حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ مِسْمَارٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {نَدْعُ أَبْنَائَ نَا وَأَبْنَائَ کُمْ وَنِسَائَ نَا وَنِسَائَ کُمْ} دَعَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلِیًّا وَفَاطِمَۃَ وَحَسَنًا وَحُسَیْنًا فَقَالَ : اللَّہُمَّ ہَؤُلاَئِ أَہْلِی۔ حَدَّثَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ الْخُلْدِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ بَالُوَیْہِ قَالاَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ فَذَکَرَہُ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ [ضعیف۔ دارقطنی]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৩৯৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے دن حقیقی نسب کے علاوہ باقی سب نسب ختم ہوجائیں گے
(١٣٣٩٣) حضرت علی بن حسین فرماتے ہیں : جب عمر بن خطاب (رض) کی شادی ام کلثوم بنت علی (رض) سے ہوئی تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں میں مجلس میں حاضر ہوئے، قبر اور منبر کے درمیانی جگہ جو مہاجرین کے لیے تھی، اس میں ان کے علاوہ کوئی نہ بیٹھتا تھا۔ وہ ان کے لیے برکت کی دعا کرتے۔ آپ نے فرمایا : میں نے ان سے شادی اس لیے کی ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : تمام سبب اور نسب قیامت والے دن ختم کردیے جائیں گے میرے سبب اور نسب کے علاوہ۔
(۱۳۳۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ عِصْمَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا السَّرِیُّ بْنُ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا وُہَیْبُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِالْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی أَبُوجَعْفَرٍ عَنْ أَبِیہِ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أُمَّ کُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ أَتَی مَجْلِسًا فِی مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بَیْنَ الْقَبْرِ وَالْمِنْبَرِ لِلْمُہَاجِرِینَ لَمْ یَکُنْ یَجْلِسُ فِیہِ غَیْرُہُمْ فَدَعَوْا لَہُ بِالْبَرَکَۃِ۔ فَقَالَ : أَمَا وَاللَّہِ مَا دَعَانِی إِلَی تَزْوِیجِہَا إِلاَّ أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : کُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلاَّ مَا کَانَ مِنْ سَبَبِی وَنَسَبِی۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ إِسْحَاقَ وَہُوَ مُرْسَلٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِیَ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ مَوْصُولاً وَمُرْسَلاً۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪০০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے دن حقیقی نسب کے علاوہ باقی سب نسب ختم ہوجائیں گے
(١٣٣٩٤) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتے ہوئے سنا کہ ہر سبب اور نسب قیامت والے دن ختم کردیا جائے گا علاوہ میرے سبب اور نسب کے تو میں نے پسند کیا کہ میرے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نسب بھی ہو اور سبب بھی ہو تو علی (رض) نے حضرت حسن اور حسین (رض) سے فرمایا : اپنے چچا کی شادی کر دو ۔ وہ کہنے لگے : وہ ایک خود مختار عورت ہے حضرت علی (رض) غصے میں کھڑے ہوئے تو حضرت حسن (رض) نے آپ کا کپڑا پکڑ لیا “ اور عرض کیا : اے ابا جان آپ کی جدائیگی پر صبر و تحمل نہیں ہے۔ پھر انھوں نے آپ (رض) کا نکاح کردیا۔
(۱۳۳۹۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ وَکِیعِ بْنِ الْجَرَّاحِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی مُلَیْکَۃَ أَخْبَرَنِی حَسَنُ بْنُ حَسَنٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خَطَبَ إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أُمَّ کُلْثُومٍ فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّہَا تَصْغُرُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ عُمَرُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : کُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلاَّ سَبَبِی وَنَسَبِی فَأَحْبَبْتُ أَنْ یَکُونَ لِی مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- سَبَبٌ وَنَسَبٌ ۔ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَحَسَنٍ وَحُسَیْنٍ: زَوِّجَا عَمَّکُمَا فَقَالاَ : ہِیَ امْرَأَۃٌ مِنَ النِّسَائِ تَخْتَارُ لِنَفْسِہَا فَقَامَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مُغْضَبًا فَأَمْسَکَ الْحَسَنُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِثَوْبِہِ وَقَالَ: لاَ صَبَرَ عَلَی ہِجْرَانِکَ یَا أَبَتَاہُ قَالَ فَزَوَّجَاہُ۔[ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪০১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے دن حقیقی نسب کے علاوہ باقی سب نسب ختم ہوجائیں گے
(١٣٣٩٥) حضرت مسور سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فاطمہ میرے دل کا ٹکڑا ہے، جو اس کو تکلیف پہنچائے گا، وہ مجھے تکلف پہنچائے گا اور جو انھیں خوشی دے گا وہ مجھے خوشی دے گا، اور تمام نسب قیامت والے دن ختم کردیے جائیں گے میرے نسب اور سبب اور سسرال کے علاوہ۔
(۱۳۳۹۵) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ مَوْلَی بَنِی ہَاشِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَتْنَا أُمُّ بَکْرٍ بِنْتُ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ عَنِ الْمِسْوَرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : فَاطِمَۃُ مُضْغَۃٌ مِنِّی یَقْبِضُنِی مَا قَبَضَہَا وَیَبْسُطُنِی مَا بَسَطَہَا وَإِنَّ الأَنْسَابَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ تَنْقَطِعُ غَیْرَ نَسَبِی وَسَبَبِی وَصِہْرِی۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪০২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے دن حقیقی نسب کے علاوہ باقی سب نسب ختم ہوجائیں گے
(١٣٣٩٦) حضرت مسور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے سببی، نسبی اور سسرالی رشتوں کے علاوہ تمام رشتے منقطع ہوجائیں گے۔
(۱۳۳۹۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الزُّہْرِیُّ عَنْ أُمِّ بَکْرٍ بِنْتِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَنْقَطِعُ کُلُّ نَسَبٍ إِلاَّ نَسَبِی وَسَبَبِی وَصِہْرِی ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ دُونَ ابْنِ أَبِی رَافِعٍ فِی إِسْنَادِہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪০৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے نمازی کو بلانا جائز ہے اور وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جواب دے گا اگرچہ وہ نماز میں ہو
(١٣٣٩٧) سعید بن معلی انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بلایا اور وہ نماز پڑھ رہے تھے، جب نماز مکمل ہوئی تو وہ نبی (علیہ السلام) کے پاس آیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کس چیز نے تم کو روکا، جب میں نے پکارا تھا تو صحابی نے کہا : میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا اللہ پاک نے قرآن میں ارشاد نہیں فرمایا :{ یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اسْتَجِیبُوا لِلَّہِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ } [الانفال ] پھر آپ نے فرمایا : کیا میں تم کو قرآن مجید کی سب سے بڑی سورت نہ سکھلاؤں ؟ راوی کہتا ہے : ایسے لگتا تھا کہ وہ بھول گیا ہے یا بھلا دیا گیا ہے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کیا کہا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : { الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ } [الفاتحۃ ] یہ سات آیات بار بار پڑھی جانے والی اور قرآن عظیم جو میں دیا گیا ہوں۔
(۱۳۳۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ خُبَیْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِی سَعِیدِ بْنِ الْمُعَلَّی الأَنْصَارِیِّ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- دَعَاہُ وَہُوَ یُصَلِّی فَصَلَّی ثُمَّ أَتَاہُ فَقَالَ : مَا مَنَعَکَ أَنْ تُجِیبَنِی إِذْ دَعْوَتَکَ ۔ قَالَ : إِنِّی کُنْتُ أُصَلِّی فَقَالَ : أَلَمْ یَقُلِ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اسْتَجِیبُوا لِلَّہِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاکُمْ} ۔ الآیَۃَ ثُمَّ قَالَ : أَلاَ أُعَلِّمُکَ أَعْظَمَ سُورَۃٍ فِی الْقُرْآنِ ۔ قَالَ : فَکَأَنَّہُ نَسِیَہَا أَوْ نُسِّیَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ الَّذِی قُلْتَ لِی قَالَ: {الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ} ہِیَ السَّبْعُ الْمَثَانِی وَالْقُرْآنُ الْعَظِیمُ الَّذِی أُوتِیتُہُ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ۔ [بخاری ۴۴۷۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪০৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد آپ کا مال آپ کی بیویوں کے نفقہ اور آپ کے خلفاء کے لیے ہے
(١٣٣٩٨) عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ فاطمہ (رض) نے ابوبکر کی طرف پیغام بھیجا، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وراثت کا سوال کرتی تھی۔ جو مال غنیمت اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا اور باغ فدک کے بارے میں اور باقی جو خیبر کا خمس تھا تو ابوبکر (رض) نے فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم وراثت نہیں چھوڑتے، جو ہم چھوڑتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس مال سے کھاتے ہیں۔ اللہ کی قسم ! میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدقے کو تبدیل نہیں کروں گا، جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں تھا اور میں اس پر ضرور عمل کروں گا جس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔
(۱۳۳۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَرْسَلَتْ إِلَی أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ تَسْأَلُہُ مِیرَاثَہَا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِمَّا أَفَائَ اللَّہُ بِالْمَدِینَۃِ وَفَدَکَ وَمَا بَقِیَ مِنْ خُمُسِ خَیْبَرَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ إِنَّمَا یَأْکُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِی ہَذَا الْمَالِ ۔ وَإِنِّی وَاللَّہِ لاَ أُغَیِّرُ شَیْئًا مِنْ صَدَقَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ حَالِہَا الَّتِی کَانَتْ عَلَیْہِ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَلأَعْمَلَنَّ فِیہَا بِمَا عَمِلَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ بُکَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ اللَّیْثِ۔ [بخاری، مسلم ۱۷۵۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪০৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد آپ کا مال آپ کی بیویوں کے نفقہ اور آپ کے خلفاء کے لیے ہے
(١٣٣٩٩) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری وراثت دیناروں میں تقسیم نہیں ہوتی، جو بعد میں میں نے چھوڑا ہے وہ میری بیویوں کا نفقہ (خرچہ) ہے اور جائیداد کا اہتمام کرنے والے کا خرچ نکالنے کے بعد صدقہ ہے۔
(۱۳۳۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ أَبِی عُمَرَ الْمَکِّیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : لاَ یَقْتَسِمُ وَرَثَتِی دِینَارًا مَا تَرَکْتُ بَعْدَ نَفَقَۃِ نِسَائِی وَمَؤُنَۃِ عَامِلِی فَہُوَ صَدَقَۃٌ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ۔

[بخاری ۲۷۷۶۔ مسلم ۱۷۶۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪০৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناپاک کے مسجد میں داخل ہونے کا حکم
(١٣٤٠٠) ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر نکلے اور مسجد کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : خبردار کسی ناپاک مرد یاحائضہ عورت کے لیے مسجد حلال نہیں ہے مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، علی، فاطمہ، حسن اور حسین کے لیے۔ خبردار ! میں نے ان کے نام واضح کردیے ہیں تاکہ تم گمراہ نہ ہو۔
(۱۳۴۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی غَنِیَّۃَ عَنْ أَبِی الْخَطَّابِ الْہَجَرِیِّ عَنْ مَحْدُوجٍ الذُّہْلِیِّ عَنْ جَسْرَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : خَرَجَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَوَجَّہَ ہَذَا الْمَسْجِدَ فَقَالَ : أَلاَ لاَ یَحِلُّ ہَذَا الْمَسْجِدُ لِجُنُبٍ وَلاَ حَائِضٍ إِلاَّ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَعَلِیٍّ وَفَاطِمَۃَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ أَلاَ قَدْ بَیَّنْتُ لَکُمُ الأَسْمَائَ أَنْ لاَ تَضِلُّوا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪০৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناپاک کے مسجد میں داخل ہونے کا حکم
(١٣٤٠١) یہ روایت ابو خطاب سے منقول ہے اور اس میں اختلاف ہے۔
(۱۳۴۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ یَقُولُ قَالَ الْبُخَارِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ مَحْدُوجٌ الذُّہْلِیُّ عَنْ جَسْرَۃَ قَالَہُ ابْنُ أَبِی غَنِیَّۃَ عَنْ أَبِی الْخَطَّابِ فِیہِ نَظَرٌ۔

قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ قَدْ رُوِیَ ہَذَا مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ جَسْرَۃَ وَفِیہِ ضَعْفٌ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪০৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناپاک کے مسجد میں داخل ہونے کا حکم
(١٣٤٠٢) حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خبردار ! میری مسجد جنبی مرد کے لیے اور حائضہ عورت کے لیے حرام ہے علاوہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور آپ کے اہل بیت، علی، فاطمہ، حسن اور حسین (رض) کے ۔
(۱۳۴۰۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا مُطَیَّنٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمْزَۃَ التَّمَّارُ قَالَ سَمِعْتُ عَطَائَ بْنَ مُسْلِمٍ یَذْکُرُ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ جَسْرَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَلاَ إِنَّ مَسْجِدِی حَرَامٌ عَلَی کُلِّ حَائِضٍ مِنَ النِّسَائِ وَکُلِّ جُنُبٍ مِنَ الرِّجَالِ إِلاَّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَأَہْلِ بَیْتِہِ عَلِیٍّ وَفَاطِمَۃَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ قَالَ قَالَ الْبُخَارِیُّ فَذَکَرَ رِوَایَۃَ مَحْدُوجٍ عَنْ جَسْرَۃَ ثُمَّ قَالَ الْبُخَارِیُّ وَقَالَ أَفْلَتُ عَنْ جَسْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَلاَ یَصِحُّ ہَذَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪০৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناپاک کے مسجد میں داخل ہونے کا حکم
(١٣٤٠٣) حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ! کسی جنبی کے لیے مسجد میرے اور تیرے علاوہ حلال نہیں ہے۔
(۱۳۴۰۳) وَقَدْ رَوَی مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی حَفْصَۃَ عَنْ عَطِیَّۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا عَلِیُّ لاَ یَحِلُّ لأَحَدٍ یُجْنِبُ فِی ہَذَا الْمَسْجِدِ غَیْرِی وَغَیْرُکَ ۔ أَنْبَأَنِیہِ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ : عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ أَخْبَرَہُمْ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ أَبِی حَفْصَۃَ فَذَکَرَہُ وَرُوِیَ ذَلِکَ أَیْضًا مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَطِیَّۃَ۔ وَعَطِیَّۃُ ہُوَ ابْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِیُّ غَیْرُ مُحْتَجٍّ بِہِ وَاللَّہُ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی أَعْلَمُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪১০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اپنے متعلق کوئی فیصلہ کرنا یا جو آپ کے لیے گواہی دے اور اس کی گواہی کو قبول کرنا جائز ہے اس بناء پر اپنی اولاد اور آگے ان کی اولاد کے متعلق فیصلہ کرنا بھی
(١٣٤٠٤) حضرت عمارہ بن خزیمہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی دیہاتی سے گھوڑا خریدا اور اس سے بکوانے کی خواہش کی تاکہ گھوڑے کی قیمت کا معاملہ حل ہوجائے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلدی چلے اور اس نے سست روی کی تو لوگ دیہاتی کے پاس آکر اس گھوڑے کی قیمت کا بھاؤ کرنے لگے اور انھیں معلوم نہیں تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس گھوڑے کو خرید چکے ہیں، ان میں سے بعض نے گھوڑے کی قیمت اس قیمت سے زیادہ لگا دی، جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خریدا تھا۔ جب دیہاتی نے قیمت زیادہ دیکھی تو اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آواز دی۔ اگر آپ اس گھوڑے کو خریدنا چاہتے ہیں تو خرید لیں وگرنہ میں اس کو ضرور بیچ دوں گا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آواز سن کر ٹھہر گئے اور جب دیہاتی آپ کے پاس آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کہا : کیا میں نے تجھ سے خرید نہیں لیا۔ دیہاتی نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے آپ کو نہیں بیچا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیوں نہیں۔ میں تجھ سے خرید چکا ہوں۔ لوگ آپ اور دیہاتی کے گرد جمع ہوگئے۔ دیہاتی نے کہا : کوئی گواہ لاؤ جو گواہی دے کہ میں نے آپ کو بیچا ہے۔ بعض مسلمانوں نے دیہاتی سے کہا : تیرا ستیاناس ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف سچ بات کہہ رہے ہیں، یہاں تک کہ خزیمہ (رض) آئے تو انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات اور دیہاتی کی بات سنی، دیہاتی کہہ رہا تھا : کوئی گواہ لاؤ جو گواہی دے کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گھوڑا بیچا ہے۔ حضرت خزیمہ نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیچا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت خزیمہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا : تو کس دلیل کی بنا پر گواہی دیتا ہے، انھوں نے کہا : آپ کے سچا ہونے کے ساتھ، اے اللہ کے رسول ! تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خزیمہ (رض) کی گواہی کو ٢ آدمیوں کی گواہی کے قائم مقام قرار دیا۔ واللہ اعلم۔
(۱۳۴۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَۃَ الْحَلَبِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِی مَنِیعٍ الرُّصَافِیُّ حَدَّثَنِی جَدِّی عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی عُمَارَۃُ بْنُ خُزَیْمَۃَ أَنَّ عَمَّہُ أَخْبَرَہُ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الأَعْرَابِ فَاسْتَتْبَعَہُ لِیَقْضِیَہُ ثَمَنَ فَرَسِہِ فَأَسْرَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْمَشْیَ وَأَبْطَأَ الأَعْرَابِیُّ فَطَفِقَ رِجَالٌ یَعْتَرِضُونَ الأَعْرَابِیَّ فَسَاوَمُوہُ بِالْفَرَسِ وَلاَ یَشْعُرُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدِ ابْتَاعَہُ حَتَّی زَادَ بَعْضُہُمُ الأَعْرَابِیَّ فِی السَّوْمِ عَلَی ثَمَنِ الْفَرَسِ الَّذِی ابْتَاعَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَلَمَّا زَادَہُ نَادَی الأَعْرَابِیُّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : إِنْ کُنْتَ مُبْتَاعًا ہَذَا الْفَرَسَ فَابْتَعْہُ أَوْ لأَبِیعَنَّہُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ سَمِعَ نِدَائَ الأَعْرَابِیِّ حَتَّی أَتَاہُ الأَعْرَابِیُّ فَقَالَ لَہُ : أَوَلَسْتُ قَدِ ابْتَعْتُہُ مِنْکَ ۔ قَالَ الأَعْرَابِیُّ : لاَ وَاللَّہِ مَا بِعْتُکَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : بَلَی قَدِ ابْتَعْتُہُ مِنْکَ ۔ فَطَفِقَ النَّاسُ یَلُوذُونَ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَبِالأَعْرَابِیِّ وَہُمَا یَتَرَاجَعَانِ وَطَفِقَ الأَعْرَابِیُّ یَقُولُ ہَلُمَّ شَہِیدًا یَشْہَدُ أَنِّی بَایَعْتُکَ فَمَنْ جَائَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ قَالَ لِلأَعْرَابِیِّ : وَیْلَکَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَمْ یَکُنْ یَقُولُ إِلاَّ حَقًّا حَتَّی جَائَ خُزَیْمَۃُ فَاسْتَمَعَ مَا یُرَاجِعُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَیُرَاجِعُ الأَعْرَابِیُّ وَطَفِقَ الأَعْرَابِیُّ یَقُولُ : ہَلُمَّ شُہَدَائَ یَشْہَدُونَ أَنِّی بَایَعْتُکَ قَالَ خُزَیْمَۃُ : أَنَا أَشْہَدُ أَنَّکَ قَدْ بَایَعْتَہُ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی خُزَیْمَۃَ قَالَ : بِمْ تَشْہَدُ؟ ۔ قَالَ : بِتَصْدِیقِکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- شَہَادَۃَ خُزَیْمَۃَ شَہَادَۃَ رَجُلَیْنِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

[صحیح۔ احمد ۲۲۲۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৪১১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کسی جھگڑے میں اپنے علم کے ساتھ یا کسی دوسرے کے جھگڑے میں (وحی کے ذریعے) معلوم ہونے کے ذریعے فیصلہ کرنا، اس میں دو قول ہیں
(١٣٤٠٥) حضرت عروہ بن زبیر (رض) سے روایت ہے کہ ہندہ بنت عتبہ بن ربیعہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں اور کہا : اے اللہ کے رسول ! روئے زمین پر کوئی گھرانہ ایسا نہ تھا، جس کے متعلق اس درجہ میں ذلت کی خواہش مند ہوں۔ جتنا آپ کے گھرانہ کی ذلت و رسوائی کی میں خواہش مند تھی لیکن اب میرا یہ حال ہے کہ میں سب سے زیادہ خواہش مند ہوں کہ روئے زمین کے تمام گھرانوں میں آپ کا گھرانہ عزت و سر بلندی والا ہے، پھر انھوں نے کیا : ابوسفیان بخیل آدمی ہیں تو کیا میرے لیے کوئی حرج تو نہیں کہ اگر میں ان کے مال میں سے (ان کی اجازت کے بغیر) اپنے اہل و عیال کو کھلاؤں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : تمہارے لیے کوئی حرج نہیں اگر تم انھیں دستور کے مطابق کھلاؤ۔
(۱۳۴۰۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ التَّمَّارُ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ : الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ وَحَدَّثَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنْ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : جَائَ تْ ہِنْدُ بِنْتُ عُتْبَۃَ بْنِ رَبِیعَۃَ فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَاللَّہِ مَا کَانَ عَلَی ظَہْرِ الأَرْضِ أَہْلُ خِبَائٍ أَحَبَّ إِلَیَّ أَنْ یَذِلُّوا مِنْ أَہْلِ خِبَائِکَ ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْیَوْمَ عَلَیَّ ظَہْرِ الأَرْضِ أَہْلُ خِبَائٍ أَحَبَّ إِلَیَّ أَنْ یَعِزُّوا مِنْ أَہْلِ خِبَائِکَ ثُمَّ قَالَتْ : إِنَّ أَبَا سُفْیَانَ رَجُلٌ مُمْسِکٌ فَہَلْ عَلَیَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِی لَہُ عِیَالَنَا فَقَالَ لَہَا : لاَ حَرَجَ عَلَیْکِ أَنْ تُطْعِمِیہِمْ بِالْمَعْرُوفِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [بخاری ۱۷۶۱۔ مسلم ۱۷۱۴]
tahqiq

তাহকীক: