আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৬৬ টি
হাদীস নং: ১৩৪১২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے آپ کا پیشاب اور خون پیا آپ نے اس کا انکار نہیں کیا
(١٣٤٠٦) حضرت امیمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لکڑی کے بنے ہوئے ایک پیالے میں پیشاب کرتے ، پھر اسے اپنی چارپائی کے نیچے رکھ دیتے، ایک دن آپ نے پیشاب کیا اور چارپائی کے نیچے رکھ دیا۔ آپ آئے اور اسے (باہر) پھینکنے کا ارادہ کیا تو پیالا خالی تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے برکہ نامی عورت سے کہا، جو سیدہ ام حبیبہ (رض) کی خادمہ تھی اور حبشہ سے آئی تھی، اس پیالے میں جو پیشاب تھا وہ کدھر گیا ؟ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں نے پی لیا تھا۔
(۱۳۴۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَامِدٍ الْعَطَّارُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ أَخْبَرَتْنِی حُکَیْمَۃُ بِنْتُ أُمَیْمَۃَ عَنْ أُمَیْمَۃَ أُمِّہَا : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یَبُولُ فِی قَدَحٍ مِنْ عَیْدَانٍ ثُمَّ وُضِعَ تَحْتَ سَرِیرِہِ فَبَالَ فَوُضِعَ تَحْتَ سَرِیرِہِ فَجَائَ فَأَرَادَہُ فَإِذَا الْقَدَحُ لَیْسَ فِیہِ شَیْء ٌ فَقَالَ لاِمْرَأَۃٍ یُقَالُ لَہَا بَرَکَۃُ کَانَتْ تَخْدِمُہُ لأُمِّ حَبِیبَۃَ جَائَ تْ مَعَہَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَۃِ أَیْنَ الْبَوْلُ الَّذِی کَانَ فِی ہَذَا الْقَدَحِ قَالَتْ : شَرِبْتُہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪১৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے آپ کا پیشاب اور خون پیا آپ نے اس کا انکار نہیں کیا
(١٣٤٠٧) حضرت زبیر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سینگی لگوائی اور اس کا خون مجھے دیا اور کہا : اس کو جلدی سے لے جاؤ (اور کہیں دفن کر دو ) تاکہ درندے، کتے اور انسان کو پتا نہ چلے۔ کہتے ہیں : میں چلا تو (راستے میں) میں نے وہ خون پی لیا، پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تو نے (اس خون کا) کیا کیا ؟ میں نے کہا : جیسے آپ نے حکم دیا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : میرے خیال میں تو نے پی لیا ہے۔ میں نے کہا : جی ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھ کو جو ملا ہے وہ میری امت سے کسی کو نہیں ملا۔
(۱۳۴۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ أَبُو سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا ہُنَیْدُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَعْطَانِی دَمَہُ فَقَالَ : اذْہَبْ فَوَارِہِ لاَ یَبْحَثْ عَنْہُ سَبُعٌ أَوْ کَلْبٌ أَوْ إِنْسَانٌ ۔ قَالَ فَتَنَحَّیْتُ فَشَرِبْتُہُ ثُمَّ أَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : مَا صَنَعْتَ؟ ۔ قُلْتُ : صَنَعْتُ الَّذِی أَمَرْتَنِی قَالَ : مَا أَرَاکَ إِلاَّ قَدْ شَرِبْتَہُ ۔ قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : مَاذَا تَلْقَی أُمَّتِی مِنْکَ ۔ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ وَزَادَنِی بَعْضُ أَصْحَابِ الْحَدِیثِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ قَالَ : فَیُرَوْنَ أَنَّ الْقُوَّۃَ الَّتِی کَانَتْ فِی ابْنِ الزُّبَیْرِ مِنْ قُوَّۃِ دَمِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَرُوِیَ ذَلِکَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ وَعَنْ سَلْمَانَ فِی شُرْبِ ابْنِ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ دَمَہُ وَرُوِیَ عَنْ سَفِینَۃَ أَنَّہُ شَرِبَہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪১৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس نے آپ کا پیشاب اور خون پیا آپ نے اس کا انکار نہیں کیا
(١٣٤٠٨) بریہ بن عمر اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سینگی لگوائی، پھر مجھ سے کہا : یہ خون لو اور اس کو جانوروں اور پرندوں سے چھپا دو یا کہا : لوگوں اور جانوروں سے چھپا دو ۔ ابن ابی فدیک کو شک ہے، کہتے ہیں : میں آنکھوں سے اوجھل ہوگیا اور اسے پی لیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا : تو میں نے بتلایا کہ پی لیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے۔
(۱۳۴۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِالْجَبَّارِ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ أَسْبَاطٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُرَیْجُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ حَدَّثَنَا بُرَیْہُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَفِینَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: احْتَجَمَ النَّبِیُّ -ﷺ- ثُمَّ قَالَ لِی: خُذْ ہَذَا الدَّمَ فَادْفِنْہُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالطَّیْرِ أَوْ قَالَ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ۔ شَکَّ ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ قَالَ : فَتَغَیَّبْتُ بِہِ فَشَرِبْتُہُ قَالَ ثُمَّ سَأَلَنِی فَأَخْبَرْتُہُ أَنِّی شَرِبْتُہُ فَضَحِکَ۔[ضعیف جداً]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪১৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنے صحابہ میں اپنے (سر کے) بال تقسیم کرنا
(١٣٤٠٩) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمی کی اور قربانی کی تو اپنے سر کی دائیں جانب نائی کے سامنے کی تو اس نے دائیں جانب مونڈ دی آپ اس کے بال ابو طلحہ کو دے دیے، پھر بائیں جانب اس کی طرف کی تو اس نے مونڈ دی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے حکم دیا کہ لوگوں میں تقسیم کر دے۔
(۱۳۴۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا رَمَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْجَمْرَۃَ وَنَحَرَ ہَدْیَہُ نَاوَلَ الْحَلاَّقَ شِقَّہُ الأَیْمَنَ فَحَلَقَہُ فَنَاوَلَہُ أَبَا طَلْحَۃَ ثُمَّ نَاوَلَہُ شِقَّہُ الأَیْسَرَ فَحَلَقَہُ وَأَمَرَہُ أَنْ یَقْسِمَ بَیْنَ النَّاسِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ عَنْ سُفْیَانَ۔
[مسلم ۱۳۰۵]
[مسلم ۱۳۰۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪১৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنے صحابہ میں اپنے (سر کے) بال تقسیم کرنا
(١٣٤١٠) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ جب قربانی والے دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بال کٹوائے تو لوگ علیحدہ ہوگئے اور وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بال کو لینے لگ گئے۔ ابو طلحہ نے بھی ان میں سے کچھ بال حاصل کرلیے۔
(۱۳۴۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَمَّا حَلَقَ شَعَرَہُ یَوْمَ النَّحْرِ تَفَرُّقَ النَّاسُ فَأَخَذُوا شَعَرَہُ فَأَخَذَ أَبُو طَلْحَۃَ مِنْہُ طَائِفَۃً۔
قَالَ ابْنُ سِیرِینَ : لأَنْ یَکُونَ عِنْدِی مِنْہُ شَعَرَۃٌ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ صَاعِقَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ سُلَیْمَانَ دُونَ قَوْلِ ابْنِ سِیرِینَ۔ وَیُذْکَرُ عَنْ أَیُّوبَ وَابْنِ عَوْنٍ وَعَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ عَبِیدَۃَ أَنَّہُ قَالَ ہَذَا الْقَوْلَ۔ [صحیح]
قَالَ ابْنُ سِیرِینَ : لأَنْ یَکُونَ عِنْدِی مِنْہُ شَعَرَۃٌ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ صَاعِقَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ سُلَیْمَانَ دُونَ قَوْلِ ابْنِ سِیرِینَ۔ وَیُذْکَرُ عَنْ أَیُّوبَ وَابْنِ عَوْنٍ وَعَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ عَبِیدَۃَ أَنَّہُ قَالَ ہَذَا الْقَوْلَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪১৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنے صحابہ میں اپنے (سر کے) بال تقسیم کرنا
(١٣٤١١) انس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور بال کاٹنے والے کو دیکھا۔ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بال کاٹ رہا تھا اور صحابہ کرام (رض) اوپر کھڑے تھے اور ان کا ارادہ یہ تھا کہ بال ان کے ہاتھوں میں گریں۔
ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اگر میرے پاس آپ کے بال ہوتے تو یہ دنیا ومافیہا سے بہتر تھا۔
ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اگر میرے پاس آپ کے بال ہوتے تو یہ دنیا ومافیہا سے بہتر تھا۔
(۱۳۴۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرُوَیْہِ بْنِ أَحْمَدَ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَنْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَالْحَلاَّقُ یَحْلِقُہُ وَقَدْ أَطَافَ بِہِ أَصْحَابُہُ فَمَا یُرِیدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَۃٌ إِلاَّ فِی یَدِ رَجُلٍ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ۔
[صحیح]
[صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪১৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعوت میں اچانک پہنچنا ابوالعباس (رض) فرماتے ہیں کہ آپ نے ” طَعَامِ الْفُجَائَ ۃِ “ سے منع کیا ہے اور ابودرداء اچانک کھانے پر پہنچے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں کھانے کا حکم دیا، یہ ان کا خاصہ ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ میں اس ممانعت کی حدیث یاد نہیں رکھ سکا۔
(١٣٤١٢) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کو دعوت دی گئی اور اس نے قبول نہ کی، اس نے اللہ اور رسول کی نافرمانی کی ہے اور جو کوئی بغیر دعوت کے داخل ہوگیا وہ چور بن کر گیا اور ڈاکو بن کر نکلا۔
(۱۳۴۱۲) وَالَّذِی أَحْفَظُہُ مِمَّا فِی بَعْضِ مَعْنَاہُ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا دُرُسْتُ بْنُ زِیَادٍ عَنْ أَبَانَ بْنِ طَارِقٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ دُعِیَ فَلَمْ یُجِبْ فَقَدْ عَصَی اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَمَنْ دَخَلَ عَلَی غَیْرِ دَعْوَۃٍ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِیرًا۔
(ق) وَہَذَا وَرَدَ فِی الرَّجُلِ یَدْخُلُ عَلَی آخَرَ وَہُوَ یَعْلَمُ أَنَّہُ یَأْکُلُ لِیَأْکُلَ مَعَہُ وَقَدْ رُوِیَ حَدِیثٌ بِنَفْیِ التَّخْصِیصَ الَّذِی تَوَہَّمَہُ أَبُو الْعَبَّاسِ فِی طَعَامِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی قِصَّۃِ أَبِی الدَّرْدَائِ ۔ [ضعیف]
(ق) وَہَذَا وَرَدَ فِی الرَّجُلِ یَدْخُلُ عَلَی آخَرَ وَہُوَ یَعْلَمُ أَنَّہُ یَأْکُلُ لِیَأْکُلَ مَعَہُ وَقَدْ رُوِیَ حَدِیثٌ بِنَفْیِ التَّخْصِیصَ الَّذِی تَوَہَّمَہُ أَبُو الْعَبَّاسِ فِی طَعَامِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی قِصَّۃِ أَبِی الدَّرْدَائِ ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪১৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعوت میں اچانک پہنچنا ابوالعباس (رض) فرماتے ہیں کہ آپ نے ” طَعَامِ الْفُجَائَ ۃِ “ سے منع کیا ہے اور ابودرداء اچانک کھانے پر پہنچے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں کھانے کا حکم دیا، یہ ان کا خاصہ ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ میں اس ممانعت کی حدیث یاد نہیں رکھ سکا۔
(١٣٤١٣) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شعب جبل کی طرف گئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قضائے حاجت کی اور ہمارے لوہے یا چمڑے کی ڈھال پر کھجوریں پڑی ہوئی تھیں۔ ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دعوت دی۔ آپ نے ہمارے ساتھ کھایا اور پانی کو ہاتھ کو نہ لگایا۔
(۱۳۴۱۳) حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْہَیْثَمِ الْعُکْبَرِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْما مِنْ شِعْبِ الْجَبَلِ وَقَدْ قَضَی حَاجَتَہُ وَبَیْنَ أَیْدِینَا تَمْرٌ عَلَی تُرْسٍ أَوْ حَجَفَۃٍ فَدَعَوْنَاہُ إِلَیْہِ فَأَکَلَ مَعَنَا وَمَا مَسَّ مَائً ۔
أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی کِتَابِ السُّنَنِ۔ [صحیح]
أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی کِتَابِ السُّنَنِ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪২০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعوت میں اچانک پہنچنا ابوالعباس (رض) فرماتے ہیں کہ آپ نے ” طَعَامِ الْفُجَائَ ۃِ “ سے منع کیا ہے اور ابودرداء اچانک کھانے پر پہنچے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں کھانے کا حکم دیا، یہ ان کا خاصہ ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ میں اس ممانعت کی حدیث یاد نہیں رکھ سکا۔
(١٣٤١٤) ایضاً
(۱۳۴۱۴) وَرُوِیَ ذَلِکَ أَیْضًا عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُمْ کَانُوا یَأْکُلُونَ تَمْرًا عَلَی تُرْسٍ قَالَ فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَقَدْ جَائَ مِنَ الْغَائِطِ فَقُلْنَا : ہَلُمَّ فَقَعَدَ فَأَکَلَ مَعَنَا مِنَ التَّمْرِ وَلَمْ یَمَسَّ مَائً ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعِیدٍ الصَّیْرَفِیُّ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ أَعْیَنَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪২১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعوت میں اچانک پہنچنا ابوالعباس (رض) فرماتے ہیں کہ آپ نے ” طَعَامِ الْفُجَائَ ۃِ “ سے منع کیا ہے اور ابودرداء اچانک کھانے پر پہنچے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں کھانے کا حکم دیا، یہ ان کا خاصہ ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ میں اس ممانعت کی حدیث یاد نہیں رکھ سکا۔
(١٣٤١٥) اشعث بن قیس عبداللہ کے پاس عاشورا والے دن آئے اور وہ کھا رہے تھے، اس نے کہا : اے ابو محمد ! قریب ہو اور کھاؤ تو انھوں نے کہا : میں روزہ دار ہوں۔ فرمایا کہ ہم بھی (اس دن کا) روزہ رکھتے تھے، پھر چھوڑ دیا گیا۔
(۱۳۴۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ سُفْیَانَ قَالَ حَدَّثَنِی زُبَیْدٌ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ السَّکَنِ : أَنَّ الأَشْعَثَ بْنَ قَیْسٍ دَخَلَ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ یَوْمَ عَاشُورَائَ وَہُوَ یَأْکُلُ فَقَالَ : یَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُہْ فَکُلْ۔ فَقَالَ : إِنِّی صَائِمٌ۔ قَالَ : کُنَّا نَصُومُہُ ثُمَّ تُرِکَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ یَحْیَی۔ وَفِی ہَذَا أَخْبَارٌ کَثِیرَۃٌ وَکُلُّ ذَلِکَ یَنْفِی التَّخْصِیصَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪২২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بخار کا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے زیادہ ہونا زیادہ اجر کی وجہ سے ہے اور یہ آپ کا خاصہ ہے ابوالعباس (رح) نے اسے ذکر نہیں کیا
(١٣٤١٦) عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بخار تھا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوا تو میں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! آپ کو تو بہت زیادہ بخار ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں مجھے تمہارے دو آدمیوں جتنا بخار ہوتا ہے تو میں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اجر بھی دو گنا ہوگا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے زمین پر کوئی بھی مسلمان نہیں ہے کہ اس کو کوئی تکلیف آئے یا بیماری مگر اللہ پاک اس کے گناہ مٹا دیتا ہے جس طرح درخت اپنے پتے گرا دیتا ہے۔
(۱۳۴۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْبُورٍ الدَّہَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ الضَّرِیرُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَإِذا ہُوَ یُوعَکُ فَمَسِسْتُہُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّکَ تُوعَکُ وَعْکًا شَدِیدًا قَالَ : أَجَلْ إِنِّی أُوعَکُ کَمَا یُوعَکُ رَجُلاَنِ مِنْکُمْ۔ قَالَ قُلْتُ : لأَنَّ لَکَ أَجْرَیْنِ۔ قَالَ : نَعَمْ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا عَلَی الأَرْضِ مِنْ مُسْلِمٍ یُصِیبُہُ أَذًی مَرَضٌ فَمَا سِوَاہُ إِلاَّ حَطَّ اللَّہُ عَنْہُ خَطَایَاہُ کَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَۃُ وَرَقَہَا ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٍ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الأَعْمَشِ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔
[بخاری ۵۶۴۷۔ مسلم ۲۵۷۱]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْبُورٍ الدَّہَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ الضَّرِیرُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَإِذا ہُوَ یُوعَکُ فَمَسِسْتُہُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّکَ تُوعَکُ وَعْکًا شَدِیدًا قَالَ : أَجَلْ إِنِّی أُوعَکُ کَمَا یُوعَکُ رَجُلاَنِ مِنْکُمْ۔ قَالَ قُلْتُ : لأَنَّ لَکَ أَجْرَیْنِ۔ قَالَ : نَعَمْ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا عَلَی الأَرْضِ مِنْ مُسْلِمٍ یُصِیبُہُ أَذًی مَرَضٌ فَمَا سِوَاہُ إِلاَّ حَطَّ اللَّہُ عَنْہُ خَطَایَاہُ کَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَۃُ وَرَقَہَا ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٍ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الأَعْمَشِ وَاللَّہُ تَعَالَی أَعْلَمُ۔
[بخاری ۵۶۴۷۔ مسلم ۲۵۷۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪২৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر نبی کو موت سے پہلے دنیا اور آخرت کا اختیار دیا جاتا ہے
(١٣٤١٧) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم سنا کرتی تھیں کہ نبی اس وقت تک فوت نہیں ہوتے جب تک کہ اس کو دنیا اور آخرت کا اختیار نہ دیا جائے اور فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بیماری میں تھے جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز بھاری ہوچکی تھی۔ میں نے سنا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے : { مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدائِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا } [النساء ] فرماتی ہیں کہ میں نے سمجھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دنیا اور آخرت میں اختیار دیا جا رہا ہے۔
(۱۳۴۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : کُنَّا نَسْمَعُ أَنَّ نَبِیًّا لاَ یَمُوتُ حَتَّی یُخَیَّرَ بَیْنَ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ قَالَتْ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی وَجَعِہِ الَّذِی تُوُفِّیَ فِیہِ أَخَذَتْہُ بُحَّۃٌ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ { مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدائِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا } قَالَتْ : فَظَنَنْتُہُ خُیِّرَ بَیْنَ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [بخاری]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : کُنَّا نَسْمَعُ أَنَّ نَبِیًّا لاَ یَمُوتُ حَتَّی یُخَیَّرَ بَیْنَ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ قَالَتْ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی وَجَعِہِ الَّذِی تُوُفِّیَ فِیہِ أَخَذَتْہُ بُحَّۃٌ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ { مَعَ الَّذِینَ أَنْعَمَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدائِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا } قَالَتْ : فَظَنَنْتُہُ خُیِّرَ بَیْنَ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [بخاری]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪২৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خاصہ ہے کہ امہات المومنین سے نکاح کے بعد باقی تمام لوگوں کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد ان سے نکاح کرنا حرام ہے
(١٣٤١٨) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں میں سے کسی نے کہا : اگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے تو میں حضرت عائشہ (رض) یا حضرت ام سلمہ (رض) سے شادی کرلوں گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کردی : { وَمَا کَانَ لَکُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّہِ وَلاَ أَنْ تَنْکِحُوا أَزْوَاجَہُ مِنْ بَعْدِہِ أَبَدًا إِنَّ ذَلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اللَّہِ عَظِیمًا } [الاحزاب ]
(۱۳۴۱۸) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدٍ حَدَّثَنَا مِہْرَانُ بْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- : لَوْ قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- تَزَوَّجْتُ عَائِشَۃَ أَوْ أُمَّ سَلَمَۃَ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { وَمَا کَانَ لَکُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّہِ وَلاَ أَنْ تَنْکِحُوا أَزْوَاجَہُ مِنْ بَعْدِہِ أَبَدًا إِنَّ ذَلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اللَّہِ عَظِیمًا } قَالَ سُلَیْمَانُ لَمْ یَرْوِہِ عَنْ سُفْیَانَ إِلاَّ مِہْرَانُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪২৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خاصہ ہے کہ امہات المومنین سے نکاح کے بعد باقی تمام لوگوں کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد ان سے نکاح کرنا حرام ہے
(١٣٤١٩) عمر بن خطاب (رض) ایک بچے کے پاس سے گزرے وہ پڑھ رہا تھا : { النَّبِیُّ أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ وَأَزْوَاجُہُ أُمَّہَاتُہُمْ } [الاحزاب ] اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے باپ ہیں، تو انھوں نے کہا : اے بچے ! اس کو مٹا دے۔ اس نے کہا : یہ مصحف ابی ہے تو وہ ابی کی طرف گئے اور اس سے پوچھا تو انھوں نے کہا : اس لیے کہ قرآن مجھے مشغول رکھتا ہے (میں قرآن پڑھتا ہوں) اور تجھے بازار کا شور وغل مصروف رکھتا ہے (یعنی خریدو فروخت) ۔
(۱۳۴۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ بَجَالَۃَ أَوْ غَیْرِہِ قَالَ : مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِغُلاَمٍ وَہُوَ یَقْرَأُ فِی الْمُصْحَفِ {النَّبِیُّ أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ وَأَزْوَاجُہُ أُمَّہَاتُہُمْ} وَہُوَ أَبٌ لَہُمْ فَقَالَ : یَا غُلاَمُ حُکَّہَا قَالَ : ہَذَا مُصْحَفُ أُبَیٍّ فَذَہَبَ إِلَیْہِ فَسَأَلَہُ فَقَالَ : إِنَّہُ کَانَ یُلْہِینِی الْقُرْآنُ وَیُلْہِیکَ الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪২৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خاصہ ہے کہ امہات المومنین سے نکاح کے بعد باقی تمام لوگوں کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد ان سے نکاح کرنا حرام ہے
(١٣٤٢٠) ابن عباس (رض) یہ آیت پڑھتے : { النَّبِیُّ أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ } { وَأَزْوَاجُہُ أُمَّہَاتُہُمْ } اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے باپ ہیں۔
(۱۳۴۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنْ طَلْحَۃَ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّہُ کَانَ یَقْرَأُ ہَذِہِ الآیَۃَ {النَّبِیُّ أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ} وَہُوَ أَبٌ لَہُمْ {وَأَزْوَاجُہُ أُمَّہَاتُہُمْ}۔ [ضعیف جداً]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪২৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خاصہ ہے کہ امہات المومنین سے نکاح کے بعد باقی تمام لوگوں کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد ان سے نکاح کرنا حرام ہے
(١٣٤٢١) حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنی بیوی کو فرمایا : اگر تجھے یہ بات پسند ہے کہ تو جنت میں بھی میری بیوی ہو تو میرے بعد کسی اور سے نکاح نہ کرنا، کیونکہ عورت جنت میں اپنی آخری خاوند جو دنیا میں تھا، اس کی بیوی ہوگی، اس لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں سے نکاح کرنا حرام ہوگیا۔ کیونکہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جنت میں بیویاں ہوں گی۔
(۱۳۴۲۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ صِلَۃَ عَنْ حُذَیْفَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ لاِمْرَأَتِہِ : إِنْ سَرَّکِ أَنْ تَکُونِی زَوْجَتِی فِی الْجَنَّۃِ فَلاَ تَزَوَّجِی بَعْدِی فَإِنَّ الْمَرْأَۃَ فِی الْجَنَّۃِ لآخِرِ أَزْوَاجِہَا فِی الدُّنْیَا فَلِذَلِکَ حَرُمَ عَلَی أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنْ یَنْکِحْنَ بَعْدَہُ لأَنَّہُنَّ أَزْوَاجُہُ فِی الْجَنَّۃِ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪২৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہ بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خاصہ ہے کہ امہات المومنین سے نکاح کے بعد باقی تمام لوگوں کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد ان سے نکاح کرنا حرام ہے
(١٣٤٢٢) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے ان کو کہا : اے امی ! تو انھوں نے کہا کہ میں تمہارے آدمیوں کی ماں ہوں تمہاری ماں نہیں ہوں۔
(۱۳۴۲۲) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی قُمَاشٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَائِشَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ امْرَأَۃً قَالَتْ لَہَا یَا أُمَّہْ فَقَالَتْ أَنَا أُمُّ رِجَالِکُمْ لَسْتُ بِأُمِّکِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪২৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں اور بیٹیوں کے نام اور بیٹیوں کی شادی
(١٣٤٢٣) اللہ تعالیٰ کے ارشاد { أُمَّہَاتُہُمْ } سے معلوم ہوتا ہے کہ ان (مومنین) کے لیے ان (ازواجِ مطہرات) سے کسی بھی حالت میں نکاح حلال نہیں ہے۔ البتہ ان کی بیٹیوں سے نکاح حرام نہیں ہے جیسے دیگر ماؤں کی بیٹیوں سے نکاح حرام ہوتا ہے خواہ حقیقی ہوں یا رضاعی۔
امام زہری (رح) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سب سے پہلی بیوی حضرت خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی ہیں۔ آپ نے ان سے زمانہ جاہلیت میں نکاح فرمایا۔ آپ کا ان سے نکاح ان کے والد خویلد نے کیا۔ ان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیٹے قاسم پیدا ہوئے، جن کے نام سے آپ کی کنیت مشہور تھی۔ ان کے علاوہ طاہر، زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ (رض) بھی آپ (رض) سے ہی پیدا ہوئے۔ حضرت زینب (رض) کا نکاح زمانہ جاہلیت میں ابو العاص بن ربیع بن عبدالعزی بن عبدالشمس بن عبد مناف سے ہوا۔ ان سے ابوالعاص کی بیٹی امامہ پیدا ہوئیں، جن کا نکاح حضرت فاطمہ (رض) کی وفات کے بعد حضرت علی (رض) سے ہوا۔ ان کی زندگی میں ہی حضرت علی (رض) کا انتقال ہوگیا۔ آپ (رض) کے بعد ان کا نکاح حضرت مغیرہ بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم سے ہوا اور انہی کے پاس آپ (رض) کا انتقال ہوا۔ ابوالعاص بن ربیع کی والدہ ہالۃ بنت خویلد بن اسد تھیں اور حضرت خدیجہ (رض) ان کی خالہ تھیں۔
حضرت رقیہ (رض) کا نکاح جاہلیت میں حضرت عثمان (رض) سے ہوا۔ ان سے حضرت عثمان کے بیٹے عبداللہ پیدا ہوئے، جن کے نام سے آپ کی کنیت مشہور تھی۔ ان کے بعد عمرو (رض) کے نام سے کنیت مشہور ہوئی۔ آپ (رض) ہر ایک کے نام کے ساتھ کنیت رکھ لیا کرتے تھے۔ حضرت رقیہ کا انتقال غزوہ بدر کے زمانے میں ہوا۔ حضرت عثمان (رض) ان کی تجہیز و تکفین کے لیے پیچھے رہ گئے اور غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے۔
جب حضرت عثمان بن عفان (رض) نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تو حضرت رقیہ (رض) بھی ان کے ساتھ تھیں۔ آپ (رض) کا انتقال اس وقت ہوا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غلام حضرت زید بن حارثہ (رض) نے بدر سے واپسی پر فتح کی خوشخبری دی۔
حضرت ام کلثوم (رض) کا نکاح بھی حضرت عثمان (رض) سے ہوا۔ حضرت رقیہ کی حضرت عثمان سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔
حضرت فاطمہ (رض) کا نکاح حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے ہوا۔ ان سے آپ کے دو صاحبزادے حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) پیدا ہوئے۔ جو عراق میں طف مقام پر شہید ہوئے۔ اسی طرح دو بیٹیاں حضرت زینب (رض) اور ام کلثوم (رض) بھی پیدا ہوئیں۔
حضرت زینب (رض) کا نکاح عبداللہ بن جعفر (رض) سے ہوا۔ انہی کے پاس آپ (رض) کا انتقال ہوا۔ ان سے حضرت عبداللہ کے دو بیٹے علی اور عون پیدا ہوئے۔ حضرت ام کلثوم (رض) کا نکاح حضرت عمر بن خطاب (رض) سے ہوا۔ ان سے آپ کے بیٹے زید پیدا ہوئے۔ انھیں ابن مطیع کی لڑائی میں سخت زخم آئے، جن سے یہ جانبر نہ ہو سکے اور انتقال فرما گئے۔ پھر ان کے انتقال کے بعد آپ (رض) کا نکاح عون بن جعفر سے ہوا۔ لیکن ان سے کوئی اولاد نہ ہوئی۔
پھر ام کلثوم کا نکاح محمد بن جعفر سے ہوا۔ ان سے ایک بچی بثنہ پیدا ہوئی یہ مکہ سے مدینہ چارپائی پر لائی گئیں اور مدینہ پہنچ کر اس کا انتقال ہوگیا۔ پھر ان کا نکاح عبداللہ بن جعفر سے ہوا اور انہی کے پاس ان کا انتقال ہوا لیکن ان سے کوئی اولاد نہ ہوئی۔
حضرت خدیجہ (رض) کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے دو شخصوں سے نکاح ہوا تھا، پہلے عتیق بن عائز بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم ہیں۔ ان سے ایک بچی پیدا ہوئی تھی۔ یہ وہی ہیں جو محمد بن صیفی مخزومی کی والدہ ہیں۔ پھر آپ کا نکاح ابو ھالہ تمیمی سے ہوا۔ وہ بنو اسید بن عمرو بن تمیم سے تعلق رکھتے تھے۔ ان سے ہند پیدا ہوئی۔
حضرت خدیجہ (رض) کا انتقال مکہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ آنے سے پہلے ہوا۔ اس وقت تک نماز بھی فرض نہ ہوئی تھی۔ وہ عورتوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سب سے پہلے ایمان لائیں۔ لوگوں کا گمان ہے (خدا بہتر جانتا ہے) آپ سے ان کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کے لیے (جنت میں) موتیوں سے محل تعمیر کیا گیا ہے نہ اس میں کوئی سوراخ ہے اور نہ جوڑ۔
حضرت خدیجہ (رض) کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ (رض) سے شادی کی یہ آپ کو خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئیں اور کہا گیا : یہ آپ کی بیوی ہیں۔ حضرت عائشہ (رض) کی عمر اس وقت چھ سال تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ میں ان سے نکاح کیا، آپ (رض) کی عمر اس وقت چھ برس تھی، پھر مدینہ آنے کے بعد آپ کی رخصتی ہوئی۔ آپ کا نسب نامہ یوں ہے : عائشہ بنت ابی بکر بن ابی قحافہ بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فھر۔۔۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے باکرہ ہونے کی حالت میں نکاح کیا۔ ابوبکر (رض) کا نام عتیق تھا اور ابوقحافہ کا اصل نام عثمان تھا۔
پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ بنت عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن ریاح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لؤی بن غالب بن فھر سے نکاح کیا۔ یہ آپ سے پہلے ابن حذافہ بن قیس بن عدی بن حذافہ بن سھم بن عمرو بن ھصیص بن کعب بن لؤی بن غالب کے نکاح میں تھیں، ان کے انتقال کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے نکاح کیا۔
پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ام سلمہ سے نکاح فرمایا : ان کا نسب نامہ یوں ہے : ھند بنت ابی امیہ بن مغیرۃ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے وہ ابو سلمہ کے نکاح میں تھیں۔ ان کا نسب نامہ یوں ہے : عبداللہ بن عبدالاسد بن ہلال بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم۔ ان سے ایک بیٹے سلمہ حبشہ میں پیدا ہوئے اور ایک بیٹی زینب پیدا ہوئی۔ ابوسلمہ اور ام سلمہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ حضرت ام سلمہ (رض) کا انتقال ازواجِ مطہرات میں سب سے آخر میں ہوا۔ ان کی ایک بیٹی درّۃ بنت ابی سلمہ بھی تھیں۔
پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سودہ بنت زمعہ بن قیس بن عبد شمس بن عبدودّ بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لؤی بن غالب بن فھر سے نکاح فرمایا۔ آپ سے پہلے وہ سکران بن عمرو بن عبد شمس بن عبد ودّ بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لؤی بن غالب بن فھر کے نکاح میں تھیں۔
پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ام حبیبہ بنت ابی سفیان بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن کعب بن لؤی بن غالب بن فھر سے نکاح فرمایا۔ آپ سے پہلے وہ عبیداللہ بن جحش بن رئاب کے نکاح میں تھیں۔ ان کا تعلق اسد بن خزیمہ سے تھا۔ ان کا انتقال حبشہ میں نصرانیت پر ہوا۔ یہ ان کے ساتھ تھیں۔ ان سے آپ کی بیٹی حبیبہ پیدا ہوئیں۔ انہی کے نام سے آپ کی کنیت ام حبیبہ مشہور ہوئی۔
حضرت ام حبیبہ (رض) کا اصل نام رملہ تھا۔ آپ کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نکاح حضرت عثمان (رض) نے کروایا کیونکہ ام حبیبہ کی ماں صفیہ بنت ابی العاص (رض) تھیں اور یہ حضرت عثمان (رض) کی پھوپھی تھیں۔
حضرت ام حبیبہ (رض) کو شرحبیل بن حسنہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لائے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زینب بن جحش بن رئاب سے نکاح فرمایا۔ ان کا تعلق بنو اسد بن خزیمہ سے تھا۔ ان کی والدہ کا نام اسماء بنت عبدالمطلب بن ہاشم ہے۔ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپھی تھیں۔ ان سے پہلے یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غلام حضرت زید بن حارثہ کے نکاح میں تھیں۔ جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا۔ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد سب سے پہلے فوت ہوئیں اور انھیں پر سب سے پہلے تابوت بنایا گیا۔ یہ تابوت عبداللہ بن جعفر کی والدہ اسماء بنت عمیس خثعمیہ نے تیار کیا تھا۔ حبشہ قیام کے دوران انھوں نے دیکھا کہ وہاں کے لوگ تابوت بناتے تھے۔ حضرت زینب کی وفات کے موقع پر انھوں نے تعمیر کیا۔
پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زینب بنت خزیمہ (رض) سے نکاح فرمایا : ان کا لقب ام المساکین تھا۔ ان کا تعلق بنو عبد مناف بن مالک بن عامر بن صعصعہ سے تھا اور یعقوب کی روایت میں ہے کہ ابن ھلال بن عامر صعصعہ سے تھا آپ سے پہلے یہ عبداللہ بن جحش بن رئاب کے نکاح میں تھیں۔ یہ احد کے دن شہید ہوگئے۔ حضرت زینب بنت خزیمہ (رض) کا انتقال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں ہی ہوگیا۔ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بہت تھوڑا عرصہ رہیں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میمونہ بنت حارث بن حزن بن بجریہ بن ھزم بن رویبہ بن عبداللہ بن ھلال بن عامر بن صعصعہ سے نکاح کیا۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے اپنے کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ھبہ کردیا تھا۔ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے دو شخصوں سے نکاح کیا تھا۔ پہلے ابن عبد یا لیل بنعمرو ثقفی تھے۔ یہ ان کی زندگی میں فوت ہوگئے۔ ان کے بعد ابو رھم بن عبدالعزی بن أبی قیس بن عبدود بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لؤی بن غالب بن فھر سے نکاح ہوا۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مریسیع مقام پر غزوہ بنی مصطلق میں جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار بن حارث بن عائذ بن مالک بن مصطلق کو قیدی بنایا۔ ان کا تعلق خزاعہ سے تھا اور مصطلق کا نام خزیمہ تھاں اسی طرح صفیہ بنت حیی بن اخطب کو خیبر کے دن قیدی بنایا، ان کا تعلق بنو نضیر سے تھا۔ یہ کنانہ بن ابی الحقیق کی دلہن تھیں۔
یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گیارہ بیویاں تھیں، حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اپنے زمانہ خلافت میں ازواجِ مطہرات میں سے ہر ایک کے لیے بارہ ہزار مقرر فرمایا اور حضرت جویریہ اور صفیہ کے لیے چھ ہزار مقرار فرمائے۔ اس لیے کہ یہ دونوں قیدی تھیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے تقسیم کے علاوہ حجب بھی مقرر فرمایا تھا۔ اسی طرح آپ نے عالیہ بنت ظبیان بن عمرو سے بھی نکاح فرمایا۔ ان کا تعلق بنو ابی بکر بن کلاب سے تھا لیکن ان کو دخول سے پہلے طلاق دے دی اور یعقوب کی روایت میں دخول کے بعد طلاق دی۔
امام زہری (رح) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سب سے پہلی بیوی حضرت خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی ہیں۔ آپ نے ان سے زمانہ جاہلیت میں نکاح فرمایا۔ آپ کا ان سے نکاح ان کے والد خویلد نے کیا۔ ان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیٹے قاسم پیدا ہوئے، جن کے نام سے آپ کی کنیت مشہور تھی۔ ان کے علاوہ طاہر، زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ (رض) بھی آپ (رض) سے ہی پیدا ہوئے۔ حضرت زینب (رض) کا نکاح زمانہ جاہلیت میں ابو العاص بن ربیع بن عبدالعزی بن عبدالشمس بن عبد مناف سے ہوا۔ ان سے ابوالعاص کی بیٹی امامہ پیدا ہوئیں، جن کا نکاح حضرت فاطمہ (رض) کی وفات کے بعد حضرت علی (رض) سے ہوا۔ ان کی زندگی میں ہی حضرت علی (رض) کا انتقال ہوگیا۔ آپ (رض) کے بعد ان کا نکاح حضرت مغیرہ بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم سے ہوا اور انہی کے پاس آپ (رض) کا انتقال ہوا۔ ابوالعاص بن ربیع کی والدہ ہالۃ بنت خویلد بن اسد تھیں اور حضرت خدیجہ (رض) ان کی خالہ تھیں۔
حضرت رقیہ (رض) کا نکاح جاہلیت میں حضرت عثمان (رض) سے ہوا۔ ان سے حضرت عثمان کے بیٹے عبداللہ پیدا ہوئے، جن کے نام سے آپ کی کنیت مشہور تھی۔ ان کے بعد عمرو (رض) کے نام سے کنیت مشہور ہوئی۔ آپ (رض) ہر ایک کے نام کے ساتھ کنیت رکھ لیا کرتے تھے۔ حضرت رقیہ کا انتقال غزوہ بدر کے زمانے میں ہوا۔ حضرت عثمان (رض) ان کی تجہیز و تکفین کے لیے پیچھے رہ گئے اور غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے۔
جب حضرت عثمان بن عفان (رض) نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تو حضرت رقیہ (رض) بھی ان کے ساتھ تھیں۔ آپ (رض) کا انتقال اس وقت ہوا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غلام حضرت زید بن حارثہ (رض) نے بدر سے واپسی پر فتح کی خوشخبری دی۔
حضرت ام کلثوم (رض) کا نکاح بھی حضرت عثمان (رض) سے ہوا۔ حضرت رقیہ کی حضرت عثمان سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔
حضرت فاطمہ (رض) کا نکاح حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے ہوا۔ ان سے آپ کے دو صاحبزادے حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) پیدا ہوئے۔ جو عراق میں طف مقام پر شہید ہوئے۔ اسی طرح دو بیٹیاں حضرت زینب (رض) اور ام کلثوم (رض) بھی پیدا ہوئیں۔
حضرت زینب (رض) کا نکاح عبداللہ بن جعفر (رض) سے ہوا۔ انہی کے پاس آپ (رض) کا انتقال ہوا۔ ان سے حضرت عبداللہ کے دو بیٹے علی اور عون پیدا ہوئے۔ حضرت ام کلثوم (رض) کا نکاح حضرت عمر بن خطاب (رض) سے ہوا۔ ان سے آپ کے بیٹے زید پیدا ہوئے۔ انھیں ابن مطیع کی لڑائی میں سخت زخم آئے، جن سے یہ جانبر نہ ہو سکے اور انتقال فرما گئے۔ پھر ان کے انتقال کے بعد آپ (رض) کا نکاح عون بن جعفر سے ہوا۔ لیکن ان سے کوئی اولاد نہ ہوئی۔
پھر ام کلثوم کا نکاح محمد بن جعفر سے ہوا۔ ان سے ایک بچی بثنہ پیدا ہوئی یہ مکہ سے مدینہ چارپائی پر لائی گئیں اور مدینہ پہنچ کر اس کا انتقال ہوگیا۔ پھر ان کا نکاح عبداللہ بن جعفر سے ہوا اور انہی کے پاس ان کا انتقال ہوا لیکن ان سے کوئی اولاد نہ ہوئی۔
حضرت خدیجہ (رض) کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے دو شخصوں سے نکاح ہوا تھا، پہلے عتیق بن عائز بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم ہیں۔ ان سے ایک بچی پیدا ہوئی تھی۔ یہ وہی ہیں جو محمد بن صیفی مخزومی کی والدہ ہیں۔ پھر آپ کا نکاح ابو ھالہ تمیمی سے ہوا۔ وہ بنو اسید بن عمرو بن تمیم سے تعلق رکھتے تھے۔ ان سے ہند پیدا ہوئی۔
حضرت خدیجہ (رض) کا انتقال مکہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ آنے سے پہلے ہوا۔ اس وقت تک نماز بھی فرض نہ ہوئی تھی۔ وہ عورتوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سب سے پہلے ایمان لائیں۔ لوگوں کا گمان ہے (خدا بہتر جانتا ہے) آپ سے ان کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کے لیے (جنت میں) موتیوں سے محل تعمیر کیا گیا ہے نہ اس میں کوئی سوراخ ہے اور نہ جوڑ۔
حضرت خدیجہ (رض) کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ (رض) سے شادی کی یہ آپ کو خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئیں اور کہا گیا : یہ آپ کی بیوی ہیں۔ حضرت عائشہ (رض) کی عمر اس وقت چھ سال تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ میں ان سے نکاح کیا، آپ (رض) کی عمر اس وقت چھ برس تھی، پھر مدینہ آنے کے بعد آپ کی رخصتی ہوئی۔ آپ کا نسب نامہ یوں ہے : عائشہ بنت ابی بکر بن ابی قحافہ بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فھر۔۔۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے باکرہ ہونے کی حالت میں نکاح کیا۔ ابوبکر (رض) کا نام عتیق تھا اور ابوقحافہ کا اصل نام عثمان تھا۔
پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ بنت عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزی بن ریاح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح بن عدی بن کعب بن لؤی بن غالب بن فھر سے نکاح کیا۔ یہ آپ سے پہلے ابن حذافہ بن قیس بن عدی بن حذافہ بن سھم بن عمرو بن ھصیص بن کعب بن لؤی بن غالب کے نکاح میں تھیں، ان کے انتقال کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے نکاح کیا۔
پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ام سلمہ سے نکاح فرمایا : ان کا نسب نامہ یوں ہے : ھند بنت ابی امیہ بن مغیرۃ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے وہ ابو سلمہ کے نکاح میں تھیں۔ ان کا نسب نامہ یوں ہے : عبداللہ بن عبدالاسد بن ہلال بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم۔ ان سے ایک بیٹے سلمہ حبشہ میں پیدا ہوئے اور ایک بیٹی زینب پیدا ہوئی۔ ابوسلمہ اور ام سلمہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ حضرت ام سلمہ (رض) کا انتقال ازواجِ مطہرات میں سب سے آخر میں ہوا۔ ان کی ایک بیٹی درّۃ بنت ابی سلمہ بھی تھیں۔
پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سودہ بنت زمعہ بن قیس بن عبد شمس بن عبدودّ بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لؤی بن غالب بن فھر سے نکاح فرمایا۔ آپ سے پہلے وہ سکران بن عمرو بن عبد شمس بن عبد ودّ بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لؤی بن غالب بن فھر کے نکاح میں تھیں۔
پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ام حبیبہ بنت ابی سفیان بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن کعب بن لؤی بن غالب بن فھر سے نکاح فرمایا۔ آپ سے پہلے وہ عبیداللہ بن جحش بن رئاب کے نکاح میں تھیں۔ ان کا تعلق اسد بن خزیمہ سے تھا۔ ان کا انتقال حبشہ میں نصرانیت پر ہوا۔ یہ ان کے ساتھ تھیں۔ ان سے آپ کی بیٹی حبیبہ پیدا ہوئیں۔ انہی کے نام سے آپ کی کنیت ام حبیبہ مشہور ہوئی۔
حضرت ام حبیبہ (رض) کا اصل نام رملہ تھا۔ آپ کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نکاح حضرت عثمان (رض) نے کروایا کیونکہ ام حبیبہ کی ماں صفیہ بنت ابی العاص (رض) تھیں اور یہ حضرت عثمان (رض) کی پھوپھی تھیں۔
حضرت ام حبیبہ (رض) کو شرحبیل بن حسنہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لائے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زینب بن جحش بن رئاب سے نکاح فرمایا۔ ان کا تعلق بنو اسد بن خزیمہ سے تھا۔ ان کی والدہ کا نام اسماء بنت عبدالمطلب بن ہاشم ہے۔ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپھی تھیں۔ ان سے پہلے یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غلام حضرت زید بن حارثہ کے نکاح میں تھیں۔ جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا۔ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد سب سے پہلے فوت ہوئیں اور انھیں پر سب سے پہلے تابوت بنایا گیا۔ یہ تابوت عبداللہ بن جعفر کی والدہ اسماء بنت عمیس خثعمیہ نے تیار کیا تھا۔ حبشہ قیام کے دوران انھوں نے دیکھا کہ وہاں کے لوگ تابوت بناتے تھے۔ حضرت زینب کی وفات کے موقع پر انھوں نے تعمیر کیا۔
پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زینب بنت خزیمہ (رض) سے نکاح فرمایا : ان کا لقب ام المساکین تھا۔ ان کا تعلق بنو عبد مناف بن مالک بن عامر بن صعصعہ سے تھا اور یعقوب کی روایت میں ہے کہ ابن ھلال بن عامر صعصعہ سے تھا آپ سے پہلے یہ عبداللہ بن جحش بن رئاب کے نکاح میں تھیں۔ یہ احد کے دن شہید ہوگئے۔ حضرت زینب بنت خزیمہ (رض) کا انتقال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں ہی ہوگیا۔ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بہت تھوڑا عرصہ رہیں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میمونہ بنت حارث بن حزن بن بجریہ بن ھزم بن رویبہ بن عبداللہ بن ھلال بن عامر بن صعصعہ سے نکاح کیا۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے اپنے کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ھبہ کردیا تھا۔ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے دو شخصوں سے نکاح کیا تھا۔ پہلے ابن عبد یا لیل بنعمرو ثقفی تھے۔ یہ ان کی زندگی میں فوت ہوگئے۔ ان کے بعد ابو رھم بن عبدالعزی بن أبی قیس بن عبدود بن نصر بن مالک بن حسل بن عامر بن لؤی بن غالب بن فھر سے نکاح ہوا۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مریسیع مقام پر غزوہ بنی مصطلق میں جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار بن حارث بن عائذ بن مالک بن مصطلق کو قیدی بنایا۔ ان کا تعلق خزاعہ سے تھا اور مصطلق کا نام خزیمہ تھاں اسی طرح صفیہ بنت حیی بن اخطب کو خیبر کے دن قیدی بنایا، ان کا تعلق بنو نضیر سے تھا۔ یہ کنانہ بن ابی الحقیق کی دلہن تھیں۔
یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گیارہ بیویاں تھیں، حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اپنے زمانہ خلافت میں ازواجِ مطہرات میں سے ہر ایک کے لیے بارہ ہزار مقرر فرمایا اور حضرت جویریہ اور صفیہ کے لیے چھ ہزار مقرار فرمائے۔ اس لیے کہ یہ دونوں قیدی تھیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے تقسیم کے علاوہ حجب بھی مقرر فرمایا تھا۔ اسی طرح آپ نے عالیہ بنت ظبیان بن عمرو سے بھی نکاح فرمایا۔ ان کا تعلق بنو ابی بکر بن کلاب سے تھا لیکن ان کو دخول سے پہلے طلاق دے دی اور یعقوب کی روایت میں دخول کے بعد طلاق دی۔
(۱۳۴۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِی مَنِیعٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ الْحَلَبِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِی مَنِیعٍ الرُّصَافِیُّ حَدَّثَنِی جَدِّی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی زِیَادٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : أَوَّلُ امْرَأَۃٍ تَزَوَّجَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- خَدِیجَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّی بْنِ قُصَیٍّ تَزَوَّجَہَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَأَنْکَحَہُ إِیَّاہَا أَبُوہَا خُوَیْلِدٌ فَوَلَدَتْ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْقَاسِمَ بِہِ کَانَ یُکْنَی والطَاہِرَ وَزَیْنَبَ وَرُقَیَّۃَ وَأُمَّ کُلْثُومٍ وَفَاطِمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فَأَمَّا زَیْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَتَزَوَّجَہَا أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِیعِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّی بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَوَلَدَتْ لأَبِی الْعَاصِ جَارِیَۃً اسْمُہَا أُمَامَۃُ فَتَزَوَّجَہَا عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعْدَمَا تُوُفِّیَتْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَتُوُفِّیَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَعِنْدَہُ أُمَامَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَخَلَفَ عَلَی أُمَامَۃَ بَعْدَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الْمُغِیرَۃُ بْنُ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ ہَاشِمٍ فَتُوُفِّیَتْ عِنْدَہُ وَأُمُّ أَبِی الْعَاصِ بْنِ الرَّبِیعِ ہَالَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدِ بْنِ أَسَدٍ وَخَدِیجَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا خَالَتُہُ أُخْتُ أُمِّہِ وَأَمَّا رُقَیَّۃُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَتَزَوَّجَہَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَوَلَدَتْ لَہُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُثْمَانَ قَدْ کَانَ بِہِ یُکْنَی أَوَّلَ مَرَّۃٍ حَتَّی کُنِیَ بَعْدَ ذَلِکَ بِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ وَبِکُلٍّ کَانَ یُکْنَی ثُمَّ تُوُفِّیَتْ رُقَیَّۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَمَنَ بَدْرٍ فَتَخَلَّفَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی دَفْنِہَا فَذَلِکَ مَنَعَہُ أَنْ یَشْہَدَ بَدْرًا
وَقَدْ کَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ہَاجَرَ إِلَی أَرْضِ الْحَبَشَۃِ وَہَاجَرَ مَعَہُ بِرُقَیَّۃَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَتُوُفِّیَتْ رُقَیَّۃُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ قَدِمَ زَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ مَوْلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بَشِیرًا بِفَتْحِ بَدْرٍ وَأَمَّا أُمُّ کُلْثُومٍ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَتَزَوَّجَہَا أَیْضًا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعْدَ أُخْتِہَا رُقَیَّۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا ثُمَّ تُوُفِّیَتْ عِنْدَہُ وَلَمْ تَلِدْ لَہُ شَیْئًا وَأَمَّا فَاطِمَۃُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَتَزَوَّجَہَا عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَوَلَدَتْ لَہُ حَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ الأَکْبَرَ وَحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ وَہُوَ الْمَقْتُولُ بِالْعِرَاقِ بِالطَّفِّ وَزَیْنَبَ وَأُمَّ کُلْثُومٍ فَہَذَا مَا وَلَدَتْ فَاطِمَۃُ مِنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَأَمَّا زَیْنَبُ فَتَزَوَّجَہَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ فَمَاتَتْ عِنْدَہُ وَقَدْ وَلَدَتْ لَہُ عَلِیَّ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ وَأَخًا لَہُ آخَرَ یُقَالُ لَہُ عَوْنٌ ، وَأَمَّا أُمُّ کُلْثُومٍ فَتَزَوَّجَہَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَوَلَدَتْ لَہُ زَیْدَ بْنَ عُمَرَ ضُرِبَ لَیَالِیَ قِتَالِ ابْنِ مُطِیعٍ ضَرْبًا لَمْ یَزَلْ یَنْہَمُ لَہُ حَتَّی تُوُفِّیَ ثُمَّ خَلَفَ عَلَی أُمِّ کُلْثُومٍ بَعْدَ عُمَرَ عَوْنُ بْنُ جَعْفَرٍ فَلَمْ تَلِدْ لَہُ شَیْئًا حَتَّی مَاتَ ثُمَّ خَلَفَ عَلَی أُمِّ کُلْثُومٍ بَعْدَ عَوْنِ بْنِ جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ فَوَلَدَتْ لَہُ جَارِیَۃً یُقَالُ لَہَا بُثْنَۃُ نُعِشَتْ مِنْ مَکَّۃَ إِلَی الْمَدِینَۃِ عَلَی سَرِیرٍ فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِینَۃَ تُوُفِّیَتْ۔
ثُمَّ خَلَفَ عَلَی أُمِّ کُلْثُومٍ بَعْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَوْنِ بْنِ جَعْفَرٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ فَلَمْ تَلِدْ لَہُ شَیْئًا حَتَّی مَاتَتْ عِنْدَہُ وَتَزَوَّجَتْ خَدِیجَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَبْلَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- رَجُلَیْنِ الأَوَّلُ مِنْہُمَا عَتِیقَ بْنَ عَائِذِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ فَوَلَدَتْ لَہُ جَارِیَۃً فَہِیَ أُمُّ مُحَمَّدِ بْنِ صَیْفِیٍّ الْمَخْزُومِیِّ ثُمَّ خَلَفَ عَلَی خَدِیجَۃَ بِنْتِ خُوَیْلِدٍ بَعْدَ عَتِیقِ بْنِ عَائِذٍ أَبُو ہَالَۃَ التَّمِیمِیُّ وَہُوَ مِنْ بَنِی أُسَیْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ تَمِیمٍ فَوَلَدَتْ لَہُ ہِنْدًا وَتُوُفِّیَتْ خَدِیجَۃُ بِمَکَّۃَ قَبْلَ خُرُوجِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی الْمَدِینَۃِ وَقَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلاَۃُ وَکَانَتْ أَوَّلَ مَنْ آمَنَ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنَ النِّسَائِ فَزَعَمُوا وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنَّہُ سُئِلَ عَنْہَا فَقَالَ : لَہَا بَیْتٌ مِنْ قَصَبِ اللُّؤْلُؤِ لاَ صَخَبَ فِیہِ وَلاَ نَصَبَ۔
ثُمَّ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا بَعْدَ خَدِیجَۃَ وَکَانَ قَدْ أُرِیَ فِی النَّوْمِ مَرَّتَیْنَ یُقَالُ ہِیَ امْرَأَتُکَ وَعَائِشَۃُ یَوْمَئِذٍ بِنْتُ سِتِّ سِنِینَ فَنَکَحَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِمَکَّۃَ وَہِیَ ابْنَۃُ سِتِّ سِنِینَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بَنِی بِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا بَعْدَ مَا قَدِمَ الْمَدِینَۃَ وَعَائِشَۃُ یَوْمَ بَنَی بِہَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِینَ وَعَائِشَۃُ بِنْتُ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی قُحَافَۃَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ کَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَیْمِ بْنِ مُرَّۃَ بْنِ کَعْبِ بْنِ لُؤَیِ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِہْرٍ فَتَزَوَّجَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِکْرًا وَاسْمُ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَتِیقٌ وَاسْمُ أَبِی قُحَافَۃَ عُثْمَانُ وَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَفْصَۃَ بِنْتَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بْنِ نُفَیْلِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّی بْنِ رِیَاحِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قُرْطِ بْنِ رَزَاحِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ کَعْبِ بْنِ لُؤَیِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِہْرٍ کَانَتْ قَبْلَہُ تَحْتَ ابْنِ حُذَافَۃَ بْنِ قَیْسِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ حُذَافَۃَ بْنِ سَہْمِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ہُصَیْصِ بْنِ کَعْبِ بْنِ لُؤَیِّ بْنِ غَالِبٍ مَاتَ عَنْہَا مَوْتًا وَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أُمَّ سَلَمَۃَ وَاسْمُہَا ہِنْدُ بِنْتُ أَبِی أُمَیَّۃَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ کَانَتْ قَبْلَہُ تَحْتَ أَبِی سَلَمَۃَ وَاسْمُہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الأَسَدِ بْنِ ہِلاَلِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ فَوَلَدَتْ لأَبِی سَلَمَۃَ سَلَمَۃَ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ وُلِدَ بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ وَزَیْنَبَ بِنْتَ أَبِی سَلَمَۃَ وَکَانَ أَبُو سَلَمَۃَ وَأُمُّ سَلَمَۃَ مِمَّنْ ہَاجَرَ إِلَی أَرْضِ الْحَبَشَۃِ وَکَانَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ مِنْ آخِرِ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَفَاۃً بَعْدَہُ وَدُرَّۃَ بِنْتَ أَبِی سَلَمَۃَ وَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ سَوْدَۃَ بِنْتَ زَمْعَۃَ بْنِ قَیْسِ بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ وَدِّ بْنِ نَصْرِ بْنِ مَالِکِ بْنِ حِسْلِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَیِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِہْرٍ کَانَتْ قَبْلَہُ تَحْتَ السَّکْرَانِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ وَدِّ بْنِ نَصْرِ بْنِ مَالِکِ بْنِ حِسْلِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَیِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِہْرٍ وَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أُمَّ حَبِیبَۃَ بِنْتَ أَبِی سُفْیَانَ بْنِ حَرْبِ بْنِ أُمَیَّۃَ بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ قُصَیِّ بْنِ کِلاَبِ بْنِ مُرَّۃَ بْنِ کَعْبِ بْنِ لُؤَیِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِہْرٍ وَکَانَتْ قَبْلَہُ تَحْتَ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ جَحْشِ بْنِ رِئَابٍ مِنْ بَنِی أَسَدِ بْنِ خُزَیْمَۃَ مَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ نَصْرَانِیًّا وَکَانَتْ مَعَہُ بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ فَوَلَدَتْ أُمُّ حَبِیبَۃَ لِعُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ جَحْشٍ جَارِیَۃً یُقَالُ لَہَا حَبِیبَۃُ وَاسْمُ أُمِّ حَبِیبَۃَ رَمْلَۃُ أَنْکَحَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أُمَّ حَبِیبَۃَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ أَجْلِ أَنَّ أُمَّ حَبِیبَۃَ أُمُّہَا صَفِیَّۃُ بِنْتُ أَبِی الْعَاصِ وَصَفِیَّۃَ عَمَّۃُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أُخْتُ عَفَّانَ لأَبِیہِ وَأُمِّہِ وَقَدِمَ بِأُمِّ حَبِیبَۃَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- شُرَحْبِیلُ ابْنُ حَسَنَۃَ وَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- زَیْنَبَ بِنْتَ جَحْشِ بْنِ رِئَابٍ مِنْ بَنِی أَسَدِ بْنِ خُزَیْمَۃَ وَأُمُّہَا اسْمُہَا أَسْمَائُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ ہَاشِمٍ عَمَّۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَتْ قَبْلَہُ تَحْتَ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ الْکَلْبِیِّ مَوْلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الَّذِی ذَکَرَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِی الْقُرْآنِ اسْمَہُ وَشَأْنَہُ وَشَأَنَ زَوْجِہِ وَہِیَ أَوَّلُ نِسَائِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَفَاۃً بَعْدَہُ وَہِیَ أَوَّلُ امْرَأَۃٍ جُعِلَ عَلَیْہَا النَّعْشُ جَعَلَتْہُ لَہَا أَسْمَائُ بِنْتُ عُمَیْسٍ الْخَثْعَمِیَّۃُ أُمُّ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ کَانَتْ بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ فَرَأَتْہُمْ یَصْنَعُونَ النَّعْشَ فَصَنَعَتْہُ لِزَیْنَبَ یَوْمَ تُوُفِّیَتْ وَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- زَیْنَبَ بِنْتَ خُزَیْمَۃَ وَہِیَ أُمُّ الْمَسَاکِینِ وَہِیَ مِنْ بَنِی عَبْدِ مَنَافِ بْنِ مَالِکِ بْنِ عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَۃَ وَفِی رِوَایَۃِ یَعْقُوبَ : ابْنِ ہِلاَلِ بْنِ عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَۃَ کَانَتْ قَبْلَہُ تَحْتَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَحْشِ بْنِ رِئَابٍ قُتِلَ یَوْمَ أُحُدٍ فَتُوُفِّیَتْ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَیٌّ لَمْ تَلْبَثْ مَعَہُ إِلاَّ یَسِیرًا وَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَیْمُونَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ حَزْنِ بْنِ بُجَیْرِ بْنِ الْہُزَمِ بْنِ رُوَیْبَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ ہِلاَلِ بْنِ عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَۃَ وَہِیَ الَّتِی وَہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ -ﷺ- تَزَوَّجَتْ قَبْلَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- رَجُلَیْنِ الأَوَّلُ مِنْہُمَا ابْنُ عَبْدِ یَالِیلَ بْنِ عَمْرٍو الثَّقَفِیُّ مَاتَ عَنْہَا ثُمَّ خَلَفَ عَلَیْہَا أَبُو رُہْمِ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّی بْنِ أَبِی قَیْسِ بْنِ عَبْدِ وُدِّ بْنِ نَصْرِ بْنِ مَالِکِ بْنِ حِسْلِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَیِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِہْرٍ وَسَبَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- جُوَیْرِیَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ أَبِی ضِرَارِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَائِذِ بْنِ مَالِکِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ مِنْ خُزَاعَۃَ وَالْمُصْطَلِقُ اسْمُہُ خُزَیْمَۃُ یَوْمَ وَاقَعَ بَنِی الْمُصْطَلِقِ بِالْمُرَیْسِیعِ وَسَبَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَفِیَّۃَ بِنْتَ حُیَیِّ بْنِ أَخْطَبَ مِنْ بَنِی النَّضِیرِ یَوْمَ خَیْبَرَ وَہِیَ عَرُوسٌ بِکِنَانَۃَ بْنِ أَبِی الْحُقَیْقِ فَہَذِہِ إِحْدَی عَشْرَۃَ امْرَأَۃً دَخَلَ بِہِنَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَقَسَمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی خِلاَفَتِہِ لِنِسَائِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا لِکُلِّ امْرَأَۃٍ وَقَسَمَ لِجُوَیْرِیَۃَ وَصَفِیَّۃَ سِتَّۃَ آلاَفٍ لأَنَّہُمَا کَانَتَا سَبْیَیْنِ وَقَدْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَسَمَ لَہُمَا وَحَجَبَہَمُا وَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْعَالِیَۃَ بِنْتَ ظَبْیَانَ بْنِ عَمْرٍو مِنْ بَنِی أَبِی بَکْرِ بْنِ کِلاَبٍ وَلَمْ یَدْخُلْ بِہَا فَطَلَّقَہَا وَفِی رِوَایَۃِ یَعْقُوبَ فَدَخَلَ بِہَا فَطَلَّقَہَا۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ الْحَلَبِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِی مَنِیعٍ الرُّصَافِیُّ حَدَّثَنِی جَدِّی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی زِیَادٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ : أَوَّلُ امْرَأَۃٍ تَزَوَّجَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- خَدِیجَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّی بْنِ قُصَیٍّ تَزَوَّجَہَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَأَنْکَحَہُ إِیَّاہَا أَبُوہَا خُوَیْلِدٌ فَوَلَدَتْ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْقَاسِمَ بِہِ کَانَ یُکْنَی والطَاہِرَ وَزَیْنَبَ وَرُقَیَّۃَ وَأُمَّ کُلْثُومٍ وَفَاطِمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ فَأَمَّا زَیْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَتَزَوَّجَہَا أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِیعِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّی بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَوَلَدَتْ لأَبِی الْعَاصِ جَارِیَۃً اسْمُہَا أُمَامَۃُ فَتَزَوَّجَہَا عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعْدَمَا تُوُفِّیَتْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَتُوُفِّیَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَعِنْدَہُ أُمَامَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَخَلَفَ عَلَی أُمَامَۃَ بَعْدَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ الْمُغِیرَۃُ بْنُ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ ہَاشِمٍ فَتُوُفِّیَتْ عِنْدَہُ وَأُمُّ أَبِی الْعَاصِ بْنِ الرَّبِیعِ ہَالَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدِ بْنِ أَسَدٍ وَخَدِیجَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا خَالَتُہُ أُخْتُ أُمِّہِ وَأَمَّا رُقَیَّۃُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَتَزَوَّجَہَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَوَلَدَتْ لَہُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُثْمَانَ قَدْ کَانَ بِہِ یُکْنَی أَوَّلَ مَرَّۃٍ حَتَّی کُنِیَ بَعْدَ ذَلِکَ بِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ وَبِکُلٍّ کَانَ یُکْنَی ثُمَّ تُوُفِّیَتْ رُقَیَّۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَمَنَ بَدْرٍ فَتَخَلَّفَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی دَفْنِہَا فَذَلِکَ مَنَعَہُ أَنْ یَشْہَدَ بَدْرًا
وَقَدْ کَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ہَاجَرَ إِلَی أَرْضِ الْحَبَشَۃِ وَہَاجَرَ مَعَہُ بِرُقَیَّۃَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَتُوُفِّیَتْ رُقَیَّۃُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ قَدِمَ زَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ مَوْلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بَشِیرًا بِفَتْحِ بَدْرٍ وَأَمَّا أُمُّ کُلْثُومٍ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَتَزَوَّجَہَا أَیْضًا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعْدَ أُخْتِہَا رُقَیَّۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا ثُمَّ تُوُفِّیَتْ عِنْدَہُ وَلَمْ تَلِدْ لَہُ شَیْئًا وَأَمَّا فَاطِمَۃُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَتَزَوَّجَہَا عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَوَلَدَتْ لَہُ حَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ الأَکْبَرَ وَحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ وَہُوَ الْمَقْتُولُ بِالْعِرَاقِ بِالطَّفِّ وَزَیْنَبَ وَأُمَّ کُلْثُومٍ فَہَذَا مَا وَلَدَتْ فَاطِمَۃُ مِنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَأَمَّا زَیْنَبُ فَتَزَوَّجَہَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ فَمَاتَتْ عِنْدَہُ وَقَدْ وَلَدَتْ لَہُ عَلِیَّ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ وَأَخًا لَہُ آخَرَ یُقَالُ لَہُ عَوْنٌ ، وَأَمَّا أُمُّ کُلْثُومٍ فَتَزَوَّجَہَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَوَلَدَتْ لَہُ زَیْدَ بْنَ عُمَرَ ضُرِبَ لَیَالِیَ قِتَالِ ابْنِ مُطِیعٍ ضَرْبًا لَمْ یَزَلْ یَنْہَمُ لَہُ حَتَّی تُوُفِّیَ ثُمَّ خَلَفَ عَلَی أُمِّ کُلْثُومٍ بَعْدَ عُمَرَ عَوْنُ بْنُ جَعْفَرٍ فَلَمْ تَلِدْ لَہُ شَیْئًا حَتَّی مَاتَ ثُمَّ خَلَفَ عَلَی أُمِّ کُلْثُومٍ بَعْدَ عَوْنِ بْنِ جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ فَوَلَدَتْ لَہُ جَارِیَۃً یُقَالُ لَہَا بُثْنَۃُ نُعِشَتْ مِنْ مَکَّۃَ إِلَی الْمَدِینَۃِ عَلَی سَرِیرٍ فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِینَۃَ تُوُفِّیَتْ۔
ثُمَّ خَلَفَ عَلَی أُمِّ کُلْثُومٍ بَعْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعَوْنِ بْنِ جَعْفَرٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ فَلَمْ تَلِدْ لَہُ شَیْئًا حَتَّی مَاتَتْ عِنْدَہُ وَتَزَوَّجَتْ خَدِیجَۃُ بِنْتُ خُوَیْلِدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَبْلَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- رَجُلَیْنِ الأَوَّلُ مِنْہُمَا عَتِیقَ بْنَ عَائِذِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ فَوَلَدَتْ لَہُ جَارِیَۃً فَہِیَ أُمُّ مُحَمَّدِ بْنِ صَیْفِیٍّ الْمَخْزُومِیِّ ثُمَّ خَلَفَ عَلَی خَدِیجَۃَ بِنْتِ خُوَیْلِدٍ بَعْدَ عَتِیقِ بْنِ عَائِذٍ أَبُو ہَالَۃَ التَّمِیمِیُّ وَہُوَ مِنْ بَنِی أُسَیْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ تَمِیمٍ فَوَلَدَتْ لَہُ ہِنْدًا وَتُوُفِّیَتْ خَدِیجَۃُ بِمَکَّۃَ قَبْلَ خُرُوجِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی الْمَدِینَۃِ وَقَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلاَۃُ وَکَانَتْ أَوَّلَ مَنْ آمَنَ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنَ النِّسَائِ فَزَعَمُوا وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنَّہُ سُئِلَ عَنْہَا فَقَالَ : لَہَا بَیْتٌ مِنْ قَصَبِ اللُّؤْلُؤِ لاَ صَخَبَ فِیہِ وَلاَ نَصَبَ۔
ثُمَّ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا بَعْدَ خَدِیجَۃَ وَکَانَ قَدْ أُرِیَ فِی النَّوْمِ مَرَّتَیْنَ یُقَالُ ہِیَ امْرَأَتُکَ وَعَائِشَۃُ یَوْمَئِذٍ بِنْتُ سِتِّ سِنِینَ فَنَکَحَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِمَکَّۃَ وَہِیَ ابْنَۃُ سِتِّ سِنِینَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بَنِی بِعَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا بَعْدَ مَا قَدِمَ الْمَدِینَۃَ وَعَائِشَۃُ یَوْمَ بَنَی بِہَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِینَ وَعَائِشَۃُ بِنْتُ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی قُحَافَۃَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ کَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَیْمِ بْنِ مُرَّۃَ بْنِ کَعْبِ بْنِ لُؤَیِ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِہْرٍ فَتَزَوَّجَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِکْرًا وَاسْمُ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَتِیقٌ وَاسْمُ أَبِی قُحَافَۃَ عُثْمَانُ وَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَفْصَۃَ بِنْتَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بْنِ نُفَیْلِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّی بْنِ رِیَاحِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قُرْطِ بْنِ رَزَاحِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ کَعْبِ بْنِ لُؤَیِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِہْرٍ کَانَتْ قَبْلَہُ تَحْتَ ابْنِ حُذَافَۃَ بْنِ قَیْسِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ حُذَافَۃَ بْنِ سَہْمِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ہُصَیْصِ بْنِ کَعْبِ بْنِ لُؤَیِّ بْنِ غَالِبٍ مَاتَ عَنْہَا مَوْتًا وَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أُمَّ سَلَمَۃَ وَاسْمُہَا ہِنْدُ بِنْتُ أَبِی أُمَیَّۃَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ کَانَتْ قَبْلَہُ تَحْتَ أَبِی سَلَمَۃَ وَاسْمُہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الأَسَدِ بْنِ ہِلاَلِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ فَوَلَدَتْ لأَبِی سَلَمَۃَ سَلَمَۃَ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ وُلِدَ بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ وَزَیْنَبَ بِنْتَ أَبِی سَلَمَۃَ وَکَانَ أَبُو سَلَمَۃَ وَأُمُّ سَلَمَۃَ مِمَّنْ ہَاجَرَ إِلَی أَرْضِ الْحَبَشَۃِ وَکَانَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ مِنْ آخِرِ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَفَاۃً بَعْدَہُ وَدُرَّۃَ بِنْتَ أَبِی سَلَمَۃَ وَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ سَوْدَۃَ بِنْتَ زَمْعَۃَ بْنِ قَیْسِ بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ وَدِّ بْنِ نَصْرِ بْنِ مَالِکِ بْنِ حِسْلِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَیِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِہْرٍ کَانَتْ قَبْلَہُ تَحْتَ السَّکْرَانِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ وَدِّ بْنِ نَصْرِ بْنِ مَالِکِ بْنِ حِسْلِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَیِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِہْرٍ وَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أُمَّ حَبِیبَۃَ بِنْتَ أَبِی سُفْیَانَ بْنِ حَرْبِ بْنِ أُمَیَّۃَ بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ قُصَیِّ بْنِ کِلاَبِ بْنِ مُرَّۃَ بْنِ کَعْبِ بْنِ لُؤَیِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِہْرٍ وَکَانَتْ قَبْلَہُ تَحْتَ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ جَحْشِ بْنِ رِئَابٍ مِنْ بَنِی أَسَدِ بْنِ خُزَیْمَۃَ مَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ نَصْرَانِیًّا وَکَانَتْ مَعَہُ بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ فَوَلَدَتْ أُمُّ حَبِیبَۃَ لِعُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ جَحْشٍ جَارِیَۃً یُقَالُ لَہَا حَبِیبَۃُ وَاسْمُ أُمِّ حَبِیبَۃَ رَمْلَۃُ أَنْکَحَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أُمَّ حَبِیبَۃَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ أَجْلِ أَنَّ أُمَّ حَبِیبَۃَ أُمُّہَا صَفِیَّۃُ بِنْتُ أَبِی الْعَاصِ وَصَفِیَّۃَ عَمَّۃُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أُخْتُ عَفَّانَ لأَبِیہِ وَأُمِّہِ وَقَدِمَ بِأُمِّ حَبِیبَۃَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- شُرَحْبِیلُ ابْنُ حَسَنَۃَ وَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- زَیْنَبَ بِنْتَ جَحْشِ بْنِ رِئَابٍ مِنْ بَنِی أَسَدِ بْنِ خُزَیْمَۃَ وَأُمُّہَا اسْمُہَا أَسْمَائُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ ہَاشِمٍ عَمَّۃُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَتْ قَبْلَہُ تَحْتَ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ الْکَلْبِیِّ مَوْلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الَّذِی ذَکَرَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِی الْقُرْآنِ اسْمَہُ وَشَأْنَہُ وَشَأَنَ زَوْجِہِ وَہِیَ أَوَّلُ نِسَائِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَفَاۃً بَعْدَہُ وَہِیَ أَوَّلُ امْرَأَۃٍ جُعِلَ عَلَیْہَا النَّعْشُ جَعَلَتْہُ لَہَا أَسْمَائُ بِنْتُ عُمَیْسٍ الْخَثْعَمِیَّۃُ أُمُّ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ کَانَتْ بِأَرْضِ الْحَبَشَۃِ فَرَأَتْہُمْ یَصْنَعُونَ النَّعْشَ فَصَنَعَتْہُ لِزَیْنَبَ یَوْمَ تُوُفِّیَتْ وَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- زَیْنَبَ بِنْتَ خُزَیْمَۃَ وَہِیَ أُمُّ الْمَسَاکِینِ وَہِیَ مِنْ بَنِی عَبْدِ مَنَافِ بْنِ مَالِکِ بْنِ عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَۃَ وَفِی رِوَایَۃِ یَعْقُوبَ : ابْنِ ہِلاَلِ بْنِ عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَۃَ کَانَتْ قَبْلَہُ تَحْتَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَحْشِ بْنِ رِئَابٍ قُتِلَ یَوْمَ أُحُدٍ فَتُوُفِّیَتْ وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَیٌّ لَمْ تَلْبَثْ مَعَہُ إِلاَّ یَسِیرًا وَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَیْمُونَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ حَزْنِ بْنِ بُجَیْرِ بْنِ الْہُزَمِ بْنِ رُوَیْبَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ ہِلاَلِ بْنِ عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَۃَ وَہِیَ الَّتِی وَہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ -ﷺ- تَزَوَّجَتْ قَبْلَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- رَجُلَیْنِ الأَوَّلُ مِنْہُمَا ابْنُ عَبْدِ یَالِیلَ بْنِ عَمْرٍو الثَّقَفِیُّ مَاتَ عَنْہَا ثُمَّ خَلَفَ عَلَیْہَا أَبُو رُہْمِ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّی بْنِ أَبِی قَیْسِ بْنِ عَبْدِ وُدِّ بْنِ نَصْرِ بْنِ مَالِکِ بْنِ حِسْلِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَیِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِہْرٍ وَسَبَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- جُوَیْرِیَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ أَبِی ضِرَارِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَائِذِ بْنِ مَالِکِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ مِنْ خُزَاعَۃَ وَالْمُصْطَلِقُ اسْمُہُ خُزَیْمَۃُ یَوْمَ وَاقَعَ بَنِی الْمُصْطَلِقِ بِالْمُرَیْسِیعِ وَسَبَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَفِیَّۃَ بِنْتَ حُیَیِّ بْنِ أَخْطَبَ مِنْ بَنِی النَّضِیرِ یَوْمَ خَیْبَرَ وَہِیَ عَرُوسٌ بِکِنَانَۃَ بْنِ أَبِی الْحُقَیْقِ فَہَذِہِ إِحْدَی عَشْرَۃَ امْرَأَۃً دَخَلَ بِہِنَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَقَسَمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی خِلاَفَتِہِ لِنِسَائِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا لِکُلِّ امْرَأَۃٍ وَقَسَمَ لِجُوَیْرِیَۃَ وَصَفِیَّۃَ سِتَّۃَ آلاَفٍ لأَنَّہُمَا کَانَتَا سَبْیَیْنِ وَقَدْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَسَمَ لَہُمَا وَحَجَبَہَمُا وَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْعَالِیَۃَ بِنْتَ ظَبْیَانَ بْنِ عَمْرٍو مِنْ بَنِی أَبِی بَکْرِ بْنِ کِلاَبٍ وَلَمْ یَدْخُلْ بِہَا فَطَلَّقَہَا وَفِی رِوَایَۃِ یَعْقُوبَ فَدَخَلَ بِہَا فَطَلَّقَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৩০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں اور بیٹیوں کے نام اور بیٹیوں کی شادی
(١٣٤٢٤) زوجہ نبی حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : بنو ابوبکر بن کلاب کے ایک شخص ضحاک بن سفیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں پردے کے پیچھے سن رہی تھی، کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ کو ام شبیب کی بہن کی طرف رغبت ہے۔ ام شبیب ضحاک کی بیوی تھیں۔ یعقوب کی روایت میں ہے کہ ضحاک بن سفیان نے ان کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتلایا۔ باقی اسی طرح ذکر کیا۔ امام زہری (رح) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر بن کلاب کے بھائی عمرو بن کلاب کے قبیلے کی ایک عورت سے نکاح فرمایا۔ پھر اس (کے بالوں) میں کچھ سفیدی دیکھی تو اسے طلاق دے دی اور اس کے ساتھ دخول بھی نہیں فرمایا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبیلہ بنو جون کندی کی بہن سے شادی کی، یہ بنو فزارہ کے حلیف تھے۔ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اللہ کی پناہ مانگی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے بہت بڑی ذات سے پناہ مانگ لی ہے جا اپنے گھر چلی جا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو طلاق دے دی اور اس کے ساتھ دخول بھی نہیں فرمایا۔ آپ کی ایک قبطی باندی بھی تھی۔ جس کا نام ماریہ تھا۔ اس سے آپ کے بیٹے ابراہیم پیدا ہوئے۔ وہ پنگوڑھے میں ہی انتقال فرما گئے اس کی بیٹی تھی۔ اس کا نام ریحانہ بنت شمعون تھا۔ اس کا تعلق اہل کتاب کے قبیلے بنی خنافہ سے تھا۔ یہ بنو قریظہ کی ایک شاخ تھی۔ اسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آزاد فرما دیا تھا۔ بعض کا گمان ہے کہ وہ رک گئی تھی۔
(۱۳۴۲۴) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَنَّ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَرَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : دَخَلَ الضَّحَّاکُ بْنُ سُفْیَانَ مِنْ بَنِی أَبِی بَکْرِ بْنِ کِلاَبٍ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ وَبَیْنِی وَبَیْنَہُمَا الْحِجَابُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلْ لَکَ فِی أُخْتِ أُمِّ شَبِیبٍ وَأُمُّ شَبِیبٍ امْرَأَۃُ الضَّحَّاکِ وَفِی رِوَایَۃِ یَعْقُوبَ فَدَّلَ الضَّحَّاکُ بْنُ سُفْیَانَ مِنْ بَنِی أَبِی بَکْرِ بْنِ کِلاَبٍ عَلَیْہَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ ذَکَرَ الْبَاقِیَ قَالَ الزُّہْرِیُّ فِی تَزَوُّجِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- امْرَأَۃً مِنْ بَنِی عَمْرِو بْنِ کِلاَبٍ إِخْوَۃِ أَبِی بَکْرِ بْنِ کِلاَبٍ رَہْطِ زُفَرَ بْنِ الْحَارِثِ فَرَأَی بِہَا بَیَاضًا فَطَلَّقَہَا وَلَمْ یَدْخُلْ بِہَا وَتَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أُخْتَ بَنِی الْجَوْنِ الْکِنْدِیِّ وَہُمْ حُلَفَائُ بَنِی فَزَارَۃَ فَاسْتَعَاذَتْ مِنْہُ فَقَالَ : لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِیمٍ فَالْحَقِی بِأَہْلِکِ ۔ فَطَلَّقَہَا وَلَمْ یَدْخُلْ بِہَا وَکَانَتْ لَہُ سُرِّیَّۃٌ قِبطِیَّۃٌ یُقَالُ لَہَا مَارِیَۃُ فَوَلَدَتْ لَہُ غُلاَمًا یُقَالُ لَہُ إِبْرَاہِیمُ فَتُوُفِّیَ وَقَدْ مَلأَ الْمَہْدَ وَکَانَتْ لَہُ وَلِیدَۃٌ یُقَالُ لَہَا رَیْحَانَۃُ بِنْتُ شَمْعُونَ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ مِنْ بَنِی خُنَافَۃَ وَہُمْ بَطْنٌ مِنْ بَنِی قُرَیْظَۃَ فَأَعْتَقَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَیَزْعُمُونَ أَنَّہَا قَدِ احْتَجَبَتْ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৩১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں اور بیٹیوں کے نام اور بیٹیوں کی شادی
(١٣٤٢٥) ابن شہاب کہتے ہیں کہ ہم کو یہ بات پہنچی کہ عالیہ بنت ظبیان جن کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طلاق دی ان سے شادی کسی اور سے حرام ہونے کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں طلاق دے دی۔ انھوں نے اپنے چچا کے بیٹے سے شادی کی اور ان سے ان کی اولاد ہوئی۔
(۱۳۴۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَصْبُغُ بْنُ فَرَجٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ وَہْبٍ عَنْ یُونُسَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ : بَلَغَنَا أَنَّ الْعَالِیَۃَ بِنْتَ ظَبْیَانَ الَّتِی طَلَّقَہَا تَزَوَّجَتْ قَبْلْ أَنْ یُحَرِّمَ اللَّہُ نِسَائَ ہُ فَنَکَحْتِ ابْنَ عَمٍّ لَہَا وَوَلَدَتْ فِیہِمْ۔ [ضعیف]
তাহকীক: