আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৮৮ টি

হাদীস নং: ৯৯৭১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرمِ مدینہ کے احکام
(٩٩٦٧) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔ اس کے کانٹے دار درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کا شکار نہ کیا جائے۔
(۹۹۶۷) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَیُّوبَ اللَّخْمِیُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : إِنَّ إِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ حَرَّمَ مَکَّۃَ وَإِنِّی حَرَّمْتُ الْمَدِینَۃَ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا لاَ یُقْطَعُ عِضَاہُہَا وَلاَ یُصَادُ صَیْدُہَا ۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۶۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৭২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرمِ مدینہ کے احکام
(٩٩٦٨) یعلی بن عبدالرحمن بن ہرمز عبداللہ بن عبادہ زرقی سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اہاب کے کنویں پر چڑیوں کا شکار کرتے تھے جو وہاں تھیں، عبادہ نے مجھے دیکھ لیا، میں نے چڑیا پکڑ رکھی تھیں، اس نے مجھ سے چھین لیں اور چھوڑ دیں، پھر فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا ہے، جیسے ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا ہے اور عبادہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے تھے۔
(۹۹۶۸)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَۃَ : أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ اللَّیْثِیُّ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَۃَ عَنْ یَعْلَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ہُرْمُزَ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُبَادَۃَ الزُّرَقِیَّ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ کَانَ یَصِیدُ الْعَصَافِیرَ فِی بِئْرِ إِہَابٍ وَکَانَتْ لَہُمْ فَرَآنِی عُبَادَۃُ وَقَدْ أَخَذْتُ عُصْفُورًا فَانْتَزَعَہُ مِنِّی فَأَرْسَلَہُ وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ حَرَّمَ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا کَمَا حَرَّمَ إِبْرَاہِیمُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ مَکَّۃَ وَکَانَ عُبَادَۃُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُول اللَّہِ -ﷺ -۔

[صحیح لغیرہ۔ احمد ۳۱۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৭৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرمِ مدینہ کے احکام
(٩٩٦٩) صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے بم یا گولی کے ذریعہ پرندوں کا شکار کیا، میں ان کو اپنے ہاتھوں میں لے کر نکلا۔ مجھے ابوعبدالرحمن بن عوف ملے۔ اس نے کہا : تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ میں نے کہا : میں نے گولی یا بم سے پرندوں کا شکار کیا ہے، اس نے میرے کانوں کو خوب مسلا، رگڑا اور انھیں میرے ہاتھ سے چھین لیا اور چھوڑ دیا اور کہنے لگے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دو پہاڑوں یا فرمایا : مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا ہے۔

(ب) عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا ہے اور قصہ کا تذکرہ نہیں کیا۔
(۹۹۶۹)أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِیسَی أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا یَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الزُّہْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو ثَابِتٍ : عِمْرَانُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ مَوْلَی الْمُنْبَعِثِ عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : اصْطَدْتُ طَیْرًا بِالْقُنْبُلَۃِ فَخَرَجْتُ بِہِ فِی یَدِی فَلَقِیَنِی أَبِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ : مَا ہَذَا فِی یَدِکَ؟ قُلْتُ : طَیْرًا اصْطَدْتُہُ بِالْقُنْبُلَۃِ فَعَرَکَ أُذُنِی عَرْکًا شَدِیدًا وَاسْتَنْزَعَہُ مِنْ یَدِی فَأَرْسَلَہُ وَقَالَ : حَرَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ صَیْدَ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا۔ قَالَ أَبُو مُصْعَبٍ یَعْنِی حَرَّتَیِ الْمَدِینَۃِ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ عَبْدَانَ وَفِی رِوَایَۃِ الْمُؤَمَّلِیِّ قَالَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ : أَنَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ حَرَّمَ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا یَعْنِی الْمَدِینَۃَ وَلَمَ یَذْکُرِ الْقَصَّۃَ۔

[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ البزار ۳۔ رقم ۱۰۰۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৭৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرمِ مدینہ کے احکام
(٩٩٧٠) عطاء بن یسار حضرت ابو ایوب انصاری (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے دو بچوں کو پایا جو مدینہ کے اطراف میں لومڑی کو مجبور یا خوف زدہ کر رہے تھے تو انھوں نے ان کو اس لومڑی سے بھگایا۔ امام مالک (رض) فرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں مگر انھوں نے کہا : کیا اللہ کے رسول کے حرم میں یہ کیا جا رہا ہے۔

(ب) مالک ایک شخص سے روایت فرماتے ہیں کہ زید بن ثابت میرے پاس آئے اور میں اسواف نامی جگہ پر تھا۔ میں نے نہس کا شکار کیا۔ (لٹور کے مانند ایک پرندہ جو ہمیشہ دم ہلاتا رہتا ہے اور چڑیوں کا شکار کرتا ہے) تو زید نے میرے ہاتھ سے پکڑ لیا اور چھوڑ دیا۔
(۹۹۷۰)أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یُونُسَ بْنِ یُوسُفَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الأَنْصَارِیِّ : أَنَّہُ وَجَدَ غِلْمَانًا قَدْ أَلْجَئُوا ثَعْلَبًا إِلَی زَاوِیَۃٍ فَطَرَدَہُمْ عَنْہُ قَالَ مَالِکٌ : وَلاَ أَعْلَمُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : أَفِی حَرَمِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ یُصْنَعُ ہَذَا۔قَالَ وَحَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ رَجُلٍ قَالَ : دَخَلَ عَلَیَّ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَنَا بِالأَسْوَافِ وَقَدِ اصْطَدْتُ نُہَسًا فَأَخَذَہُ زَیْدٌ مِنْ یَدِی فَأَرْسَلَہُ۔

قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْبُوشَنْجِیُّ النُّہَسَائُ الطَّیْرُ الصَّغِیرُ فَوْقَ الْعُصْفُورِ شَبِیہٌ بِالْقُنْبُرَۃِ۔ الرَّجُلُ الَّذِی لَمْ یُسَمِّہِ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ رَحِمَنَا اللَّہُ وَإِیَّاہُ یُقَالُ ہُوَ شُرَحْبِیلُ أَبُو سَعْدٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ مالک ۱۵۷۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৭৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرمِ مدینہ کے احکام
(٩٩٧١) ولید کہتے ہیں کہ شرحبیل ابو سعید نے مجھے بیان کیا کہ وہ مدینہ کی جگہ اسواف میں داخل ہوا۔ اس نے ہنس پرندے کا شکار کیا۔ ان کے پاس زید بن ثابت آئے تو وہ پرندہ ان کے پاس ہی تھا۔ اس نے میرے کان ملے یا رگڑے پھر فرمایا : اس کا راستہ چھوڑو تیری ماں نہ رہے۔ کیا تو جانتا نہیں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کے ان دو پہاڑوں کے درمیانی جگہ میں شکار کو حرام قرار دیا ہے۔
(۹۹۷۱)أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ حَدَّثَنِی شُرَحْبِیلُ أَبُو سَعْدٍ : أَنَّہُ دَخَلَ الأَسْوَافَ مَوْضِعٌ مِنَ الْمَدِینَۃِ فَاصْطَادَ بِہَا نُہَسًا یَعْنِی طَیْرًا فَدَخَلَ عَلَیْہِ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَہُوَ مَعَہُ قَالَ فَعَرَکَ أُذُنِی ثُمَّ قَالَ : خَلِّ سَبِیلَہُ لاَ أُمَّ لَکَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ حَرَّمَ صَیْدَ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا وَرُوِیَ فِیہِ أَیْضًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ مَرْفُوعًا۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابن ابی شیبہ ۳۶۲۲۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৭৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرمِ مدینہ کے احکام
(٩٩٧٢) عامر بن سعد کہتے ہیں کہ سعد عقیق نامی جگہ کی طرف سوار ہو کر اپنے گھر گئے۔ انھوں نے ایک غلام کو پایا وہ درخت کاٹ رہا تھا۔ انھوں نے ان سے چھین لیا۔ جب وہ غلام گھر واپس گیا تو اس کے گھر والے آگئے۔ وہ سوال کر رہے تھے کہ واپس کریں جو ان کے غلام سے لیا گیا ہے۔ کہنے لگے : معاذ اللہ ! اللہ کی پناہ کہ میں کوئی چیز واپس کروں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے غنیمت میں دی ہے اور ان کی طرف کچھ بھی واپس نہ کیا۔
(۹۹۷۲)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ أَبُو عَوْفٍ الْبُزُورِیُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ سَعْدًا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَکِبَ إِلَی قَصْرِہِ بِالْعَقِیقِ فَوَجَدَ عَبْدًا یَقْطَعُ شَجَرًا فَاسْتَلَبَہُ فَلَمَّا رَجَعَ جَائَ ہُ أَہْلُ الْعَبْدِ یَسْأَلُونَہُ أَنْ یَرُدَّ عَلَیْہِمْ مَا أَخَذَ مِنْ عَبْدِہِمْ قَالَ : مَعَاذَ اللَّہِ أَنْ أَرُدَّ شَیْئًا نَفَّلَنِیہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فَلَمْ یَرُدَّ إِلَیْہِمْ شَیْئًا۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۶۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৭৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے حرم مدینہ میں درخت کاٹا یا شکار کیا یا کسی سے زبردستی کوئی چیز چھینی
(٩٩٧٣) عبداللہ بن جعفر مسور بن مخرمہ کی اولاد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے ایک غلام کو درخت کاٹتے ہوئے یا پتے جھاڑتے ہوئے پایاتو اس سے چھین لیا۔ اس کے آخر میں ہے کہ اس نے واپس کرنے سے انکار کردیا۔ [صحیح۔ انظر قبلہ ]
(۹۹۷۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَہَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی عَامِرٍ الْعَقَدِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ مِنْ وَلَدِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : فَوَجَدَ غُلاَمًا یَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ یَخْبِطُہُ فَسَلَبَہُ وَقَالَ فِی آخِرِہِ وَأَبَی أَنْ یَرُدَّ عَلَیْہِمْ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَغَیْرِہِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৭৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے حرم مدینہ میں درخت کاٹا یا شکار کیا یا کسی سے زبردستی کوئی چیز چھینی
(٩٩٧٤) سعد کی اولاد حضرت سعد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کو تم پکڑ لو کہ وہ حرم مدینہ سے درخت کاٹ رہا ہے۔ اس کی سلب یعنی سامان تمہارے لیے ہے۔ اس کے درختوں کا کاٹنا یا اکھاڑنا درست نہیں ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ حضرت سعد نے دو غلاموں کو درخت کاٹتے ہوئے پایا تو ان کا سامان لے لیا۔ وہ اپنے آقاؤں کے پاس گئے ان کو خبر دی کہ سعد نے اس طرح کیا ہے ؟ وہ آئے انھوں نے کہا : اے ابواسحاق ! تیرے غلاموں نے ہمارے غلاموں کا سامان چھین لیا ہے، فرمانے لگے : میں نے چھینا ہے۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ جس کو تم پکڑ لو کہ وہ حرم کے درخت کاٹ رہا ہو تو، اس کا سامان تمہارے لیے ہے، لیکن تم میرے مال کے بارے میں سوال کرو جو تم چاہو۔
(۹۹۷۴) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأَمَۃِ حَدَّثَنِی بَعْضُ وَلَدِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَالَ : مَنْ أَخَذْتُمُوہُ یَقْطَعُ مِنَ الشَّجَرِ شَیْئًا یَعْنِی شَجَرَ حَرَمِ الْمَدِینَۃِ فَلَکُمْ سَلَبُہُ لاَ یُعْضَدُ شَجَرُہَا وَلاَ یُقْطَعُ ۔ قَالَ فَرَأَی سَعْدٌ غِلْمَانًا یَقْطَعُونَ فَأَخَذَ مَتَاعَہُمْ فَانْتَہُوا إِلَی مَوَالِیہِمْ فَأَخْبَرُوہُمْ أَنَّ سَعْدًا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَعَلَ کَذَا وَکَذَا فَأَتَوْہُ فَقَالُوا : یَا أَبَا إِسْحَاقَ إِنَّ غِلْمَانَکَ أَوْ مَوَالِیکَ أَخَذُوا مَتَاعَ غِلْمَانِنَا قَالَ: بَلْ أَنَا أَخَذْتُہُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ یَقُولُ : مَنْ أَخَذْتُمُوہُ یَقْطَعُ مِنْ شَجَرِ الْحَرَمِ فَلَکُمْ سَلَبُہُ وَلَکِنْ سَلُونِی مِنْ مَالِی مَا شِئْتُمْ ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الطیالسی ۲۱۸۔ ابوداود ۲۰۳۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৭৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے حرم مدینہ میں درخت کاٹا یا شکار کیا یا کسی سے زبردستی کوئی چیز چھینی
(٩٩٧٥) عامر بن سعد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ مدینہ سے نکلے ، انھوں نے حاطب کے پاس تر درخت پایا جو انھوں نے مدینہ کے درختوں سے کاٹا تھا۔ انھوں نے ان کا سامان لے لیا۔ اس کے بارے میں کلام کی گئی۔ وہ کہنے لگے : میں مال غنیمت نہ چھوڑوں گا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے عطا کیا ہے اگرچہ میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ مال والا ہوں۔
(۹۹۷۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ وَأَبُوالْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَبِی عَلِیٍّ السَّقَّائُ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ کَانَ یَخْرُجُ مِنَ الْمَدِینَۃِ فَیَجِدُ الْحَاطِبَ مَعَہُ شَجَرٌ رَطْبٌ قَدْ عَضَدَہُ مِنْ بَعْضِ شَجَرِ الْمَدِینَۃِ فَیَأْخُذُ سَلَبَہُ فَیُکَلَّمُ فِیہِ فَیَقُولُ : لاَ أَدَعُ غَنِیمَۃً غَنَّمَنِیہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ قَالَ وَإِنِّی لَمِنْ أَکْثَرِ النَّاسِ مَالاً۔ أَبُوہُ إِسْحَاقُ بْنُ الْحَارِثِ الْقُرَشِیُّ۔ [صحیح لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৮০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے حرم مدینہ میں درخت کاٹا یا شکار کیا یا کسی سے زبردستی کوئی چیز چھینی
(٩٩٧٦) سلیمان بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص (رض) کو دیکھا، انھوں نے ایک آدمی کو پکڑا جو حرم مدینہ میں شکار کر رہا تھا، جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرم قرار دیا تھا۔ اس کے کپڑے چھین لیے۔ اس کے آقا آئے، انھوں نے اس کے بارے میں کلام کیا تو سعد بن ابی وقاص (رض) کہنے لگے کہ اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرم قرار دیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے کسی کو شکار کرتے پکڑ لیا وہ اس کا سامان لے لے۔ میں تو وہ مال یا کھانا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عطا کیا ہے ہرگز واپس نہ کروں گا۔ لیکن اگر تم چاہو تو میں اس کی قیمت واپس کردیتا ہوں۔
(۹۹۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَۃَ : مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنِی یَعْلَی بْنُ حَکِیمٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : رَأَیْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِی وَقَّاصٍ أَخَذَ رَجُلاً یَصِیدُ فِی حَرَمِ الْمَدِینَۃِ الَّذِی حَرَّمَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ فَسَلَبَہُ ثِیَابَہُ فَجَائُ وا مَوَالِیہِ فَکَلَّمُوہُ فِیہِ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ حَرَّمَ ہَذَا الْحَرَمَ وَقَالَ : مَنْ أَخَذَ أَحَدًا یَصِیدُ فِیہِ فَلْیَسْلُبْہُ ۔ فَلاَ أَرُدُّ عَلَیْکُمْ طُعْمَۃً أَطْعَمَنِیہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ وَلَکِنْ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُ إِلَیْکُمْ ثَمَنَہُ۔

[ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۲۰۳۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৮১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ جس نے حرم مدینہ میں درخت کاٹا یا شکار کیا یا کسی سے زبردستی کوئی چیز چھینی
(٩٩٧٧) عروہ بن زبیر اپنے والد زبیر بن عوام سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہم ” طیہ “ سے آئے اور مکہ کا ارادہ تھا۔ جب ہم ” سدرہ “ (بیری) کے پاس قرن اسود کے برابر ہوئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نظروں کو ایک طرف جمایا ، پھر کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ لوگ بھی کھڑے ہوگئے۔ پھر فرمایا : شتر مرغ کا شکار اور اس کے درختوں کا کاٹنا بھی حرام کیا گیا ہے۔

(ب) عبداللہ بن حار کہتے ہیں کہ پھر آپ نے نظر جما کروادی میں دیکھا۔
(۹۹۷۷)أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحِیرِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مَیْمُونٍ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِالْمَلِکِ الْمَخْزُومِیُّ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِنْسَانٍ قَالَ الْحُمَیْدِیُّ بَطْنٌ مِنَ الْعَرَبِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِیہِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ مِنْ لِیَّۃَ نُرِیدُ مَکَّۃَ حَتَّی إِذَا کُنَّا عِنْدَ السِّدْرَۃِ طَرَفِ الْقَرْنِ الأَسْوَدِ حَذْوَہَا اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ نَخْبًا بِبَصَرِہِ ثُمَّ وَقَفَ حَتَّی اتَّقَفَ النَّاسُ ثُمَّ قَالَ : أَلاَ إِنَّ صَیْدَ وَجٍّ وَعِضَاہَہُ یَعْنِی شَجَرَہُ حَرَامٌ مُحَرَّمٌ ۔ وَذَلِکَ قَبْلَ نُزُولِہِ الطَّائِفَ وَحِصَارِہِ ثَقِیفًا

وَرَوَاہُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْحَارِثِ وَقَالَ فِیہِ : وَاسْتَقْبَلَ نَخْبًا بِبَصَرِہِ یَعْنِی وَادِیًا۔

[ضعیف۔ اخرجہ ابوداود ۲۰۳۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৮২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ طائف کی وادی کے درخت کاٹنے اور شکار قتل کرنے کی کراہت کا بیان
(٩٩٧٨) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ تو اپنی مرضی سے تصرف کیا جائے گا اور نہ ہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چراگاہ سے درخت کاٹے جائیں گے، لیکن نرمی سے پتے جھاڑے جاسکتے ہیں۔
(۹۹۷۸)أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ أَوْ قَالَ مَخْلَدٍ أَخْبَرَنِی خَارِجَۃُ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنِی أَبِی عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَالَ : لاَ یُخْبَطُ وَلاَ یُعْضَدُ حِمَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ وَلَکِنْ یُہَشُّ ہَشًّا رَفِیقًا ۔ کَذَا قَالَ۔ [صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود ۲۰۳۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৮৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چراگاہ کی ہر جگہ سے درخت کاٹنے کی ممانعت وکراہت
(٩٩٧٩) خارجہ بن حارث اپنے والد حارث بن رافع بن مکیث جہنی سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے جابر بن عبداللہ (رض) سے سوال کیا کہ ہماری بکریاں ہیں اور ہمارے غلام ان بکریوں کے لیے پتے جھاڑتے ہیں، رسی وغیرہ کی مدد سے۔ خارجہ کہتے ہیں : یہ ببول کا درخت تھا اور جابر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چراگاہ سے نہ تو درخت کاٹے جائیں لیکن آرام و سکون سے پتے جھاڑے جاسکتے ہیں، حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں : میرا گمان ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھجور کا ریشہ کاٹنے سے بھی منع فرمایا تھا۔
(۹۹۷۹)وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّبْغِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ السُّرِّیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ قَالَ حَدَّثَنِی خَارِجَۃُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِیہِ الْحَارِثِ بْنِ رَافِع بْنِ مَکِیثٍ الْجُہَنِیِّ ثُمَّ الرَّبْعِیِّ : أَنَّہُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ السُّلَمِیَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ قَالَ : إِنَّ لَنَا غَنَمًا وَغِلْمَانًا وَہُمْ یَخْبِطُونَ عَلَی غَنَمِہِمْ مِنْ ہَذِہِ الثَّمَرَۃِ الْحَبْلَۃِ۔

قَالَ خَارِجَۃُ : وَہِیَ ثَمَرَۃُ السَّمُرَۃِ قَالَ جَابِرٌ : لاَ ثُمَّ لاَ لاَ یُخْبَطُ وَلاَ یُعْضَدُ حِمَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ وَلَکِنْ ہُشُّوا ہَشًّا قَالَ جَابِرٌ : إِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ أَظُنُّہُ قَالَ یَنْہَی أَنْ یُقْطَعَ الْمَسَدُ۔

قَالَ جَابِرٌ : وَالْمَسَدُ مِرْوَدٌ لِلْبَکْرَۃِ قَالَ ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ : الْحِمَی حَوْلَ الْمَدِینَۃِ۔ [صحیح لغیرہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৮৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چراگاہ کی ہر جگہ سے درخت کاٹنے کی ممانعت وکراہت
(٩٩٨٠) محمد بن زیاد فرماتے ہیں کہ میرے دادا جو حضرت عثمان بن مظعون کے غلام تھے۔ ان کی زمین حضرت عثمان (رض) کے ساتھ ملتی تھی (یعنی ان کی زمین سے) اس میں ترکاریاں اور سبزیاں تھیں۔ کہتے ہیں : بعض اوقات میرے پاس حضرت عمر بن خطاب (رض) دوپہر کے وقت تشریف لاتے اور اپنا کپڑا سر پر رکھے ہوئے ہوتے۔ چراگاہ کی حفاظت فرماتے اور کہتے کہ اس کے درختوں وغیرہ کو نہ کاٹا جائے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ میرے پاس آکر بیٹھ جاتے اور میرے ساتھ باتیں کرتے۔ میں ان کو ککڑیاں کھلاتا۔ انھوں نے ایک دن مجھ سے کہا : میرا خیال ہے کہ آپ یہاں سے نہ جائیں، کہتے ہیں : میں نے کہا : ٹھیک ہے۔ فرمانے لگے : میں تجھے یہاں کا عامل بنانا چاہتا ہوں۔ جس کو تو دیکھے کہ وہ درخت کاٹتا ہے یا پتے جھاڑتا ہے تو اس کا کلہاڑا اور رسی پکڑ لینا۔ کہتے ہیں : میں نے کہا : میں اس کی چادر لے لوں۔ فرمانے لگے : نہیں۔
(۹۹۸۰)أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَیْحِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ قَالَ : کَانَ جَدِّی مَوْلًی لِعُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ وَکَانَ یَلِی أَرْضًا لِعُثْمَانَ فِیہَا بَقْلٌ وَقِثَّائٌ قَالَ فَرُبَّمَا أَتَانِی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نِصْفَ النَّہَارِ وَاضِعًا ثَوْبَہُ عَلَی رَأْسِہِ یَتَعَاہَدُ الْحِمَی أَنْ لاَ یُعْضَدَ شَجَرُہُ وَلاَ یُخْبَطَ قَالَ فَیَجْلِسُ إِلَیَّ فَیُحَدِّثُنِی وَأُطْعِمُہُ مِنَ الْقِثَّائِ وَالْبَقْلِ فَقَالَ لِی یَوْمًا : أَرَاکَ لاَ تَخْرُجُ مِمَّا ہَا ہُنَا قَالَ قُلْتُ : أَجَلْ۔ قَالَ : إِنِّی أَسْتَعْمِلُکَ عَلَی مَا ہَا ہُنَا فَمَنْ رَأَیْتَ یَعْضِدُ شَجَرًا أَوْ یَخْبِطُ فَخُذْ فَأْسَہُ وَحَبْلَہُ قَالَ قُلْتُ آخُذُ رِدَائَ ہُ؟ قَالَ : لاَ۔

[ضعیف۔ اخرجہ ابن الجعد ۱/ ۴۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৮৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چراگاہ کی ہر جگہ سے درخت کاٹنے کی ممانعت وکراہت
(٩٩٨١) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، نقیع کی چراگاہ گھوڑوں کے لیے ہے۔
(۹۹۸۱)حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَیَّاطُ عَنِ الْعُمَرِیِّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ حَمَی النَّقِیعَ لِلْخَیْلِ۔ وَرُوِّینَا ذَلِکَ أَیْضًا عَنِ ابْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیِّ۔

[ضعیف۔ اخرجہ احمد ۲/ ۱۵۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৮৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چراگاہ کی ہر جگہ سے درخت کاٹنے کی ممانعت وکراہت
(٩٩٨٢) یحییٰ بن ابی اسحق فہری کے غلام ابو سعید سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کو مدینہ میں سخت اور مشکل دن آگئے۔ وہ ابوسعید خدری کے پاس آئے اور ان سے کہنے لگے : میں زیادہ عیال دارہوں اور ہمیں سختی آئی ہے۔ میں ارادہ رکھتا ہوں کہ اپنے گھر والوں کو سبزہ زار یا پانی کے چشمے کے قریب منتقل کر دوں۔ ابوسعید کہنے لگے : ایسا نہ کرنا مدینہ کو لازم پکڑو۔ کیوں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے شاید عسفان جگہ پر آگئے۔ وہاں پر چند راتیں قیام کیا، لوگوں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم تو یہاں کسی چیز میں نہیں کیوں کہ ہمارے گھر والے پیچھے ہیں اور ہم ان پر بےخوف اور امن میں نہیں ہیں۔ یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کیا ہے جو تمہاری باتوں کی مجھے خبر ملی ہے ؟ میں نہیں جانتا کیا حالت ہے، پھر فرمایا : اللہ کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نے ارادہ کیا یا عنقریب ارادہ رکھتا ہوں، میں نہیں جانتا دونوں میں سے کیا فرمایا۔ پھر فرمایا : ضرور میں اپنی اونٹنی کا کجاوہ رکھنے کا حکم دوں گا، پھر میں اس کی گرہ کو نہ کھولوں گا یہاں تک کہ مدینہ آجاؤں اور فرمایا : اے اللہ ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کو بنایا بھی ہے ، اے اللہ ! میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں، اس کے دونوں کناروں کے درمیان خون نہ بہایا جائے اور ہتھیار نہ اٹھائے جائیں لڑائی کی غرض سے اور درختوں کے پتے نہ جھاڑے جائیں مگر چارے کے لیے۔ اے اللہ ! ہمارے مدینہ کے مد اور صاع میں برکت فرما۔ تین مرتبہ فرمایا : اے اللہ ! دگنی برکت دے۔ اللہ کی قسم ! جس کے قبضہ میں میری جان ہے، مدینہ کی کوئی گھاٹی اور راستہ ایسا نہیں، جہاں دو فرشتے پہرہ نہ دیتے ہوں، یہاں تک کہ تم اس کی طرف آؤ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوچ کرو، ہم نے کوچ کیا اور مدینہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ اللہ کی قسم ! ہم اٹھاتے ہیں یا جس کی قسم اٹھائی جاتی ہے، حماد کو اس اکیلے کلمہ کے بارے میں شک ہے، ہم نے سواریوں سے کجاوے نہ اتارے تھے جس وقت مدینہ میں داخل ہوئے۔ یہاں تک کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے حملہ کردیا اور اس سے پہلے کسی چیز نے ان کو اس پر نہ ابھارا تھا۔
(۹۹۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ حَدَّثَنَا الْمَعْمَرِیُّ یَعْنِی الْحَسَنَ بْنَ عَلِیِّ بْنِ شَبِیبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ابْنِ عُلَیَّۃَ حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ وُہَیْبٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ أَنَّہُ حَدَّثَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ مَوْلَی الْمَہْرِیِّ : أَنَّہُ أَصَابَہُمْ بِالْمَدِینَۃِ جَہْدٌ وَشِدَّۃٌ وَأَنَّہُ أَتَی أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ فَقَالَ لَہُ : إِنِّی کَثِیرُ الْعِیَالِ وَقَدْ أَصَابَنَا شِدَّۃٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْقُلَ عِیَالِی إِلَی بَعْضِ الرِّیفِ فَقَالَ أَبُو سَعِیدٍ : لاَ تَفْعَلْ الْزَمِ الْمَدِینَۃَ فَإِنَّا خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ أَظُنُّہُ قَالَ حَتَّی قَدِمْنَا عُسْفَانَ قَالَ فَأَقَامَ بِہَا لَیَالِیَ فَقَالَ النَّاسُ : وَاللَّہِ مَا نَحْنُ ہَا ہُنَا فِی شَیْئٍ إِنَّ عِیَالَنَا لَخُلُوفٌ وَمَا نَأْمَنُ عَلَیْہِمْ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِیَّ -ﷺ فَقَالَ : مَا ہَذَا الَّذِی یَبْلُغَنِی مِنْ حَدِیثِکُمْ ۔ مَا أَدْرِی کَیْفَ قَالَ قَالَ : وَالَّذِی أَحْلِفُ بِہِ أَوْ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَدْ ہَمَمْتُ أَوْ أَنِّی سَأَہِمُّ لاَ أَدْرِی أَیَّتْہُمَا قَالَ : لآمُرَنَّ بِنَاقَتِی تُرْحَلُ ثُمَّ لاَ أُحِلُّ لَہَا عُقْدَۃً حَتَّی أَقْدَمَ الْمَدِینَۃَ وَقَالَ اللَّہُمَّ إِنَّ إِبْرَاہِیمَ حَرَّمَ مَکَّۃَ فَجَعَلَہَا حَرَمًا اللَّہُمَّ إِنِّی حَرَّمْتُ الْمَدِینَۃَ حَرَامًا مَا بَیْنَ مَأْزِمَیْہَا أَنْ لاَ یُہَرَاقَ فِیہَا دَمٌ وَلاَ یُحْمَلَ فِیہَا سِلاَحٌ لِقِتَالٍ وَلاَ تَخْبَطُ فِیہَا شَجَرَۃٌ إِلاَّ لِعَلَفٍ اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی مَدِینَتِنَا اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی صَاعِنَا اللَّہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی مُدِّنَا ثَلاَثًا اللَّہُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَکَۃِ بَرَکَتَیْنِ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا مِنَ الْمَدِینَۃِ مِنْ شِعْبٍ وَلاَ نَقْبٍ إِلاَّ عَلَیْہِ مَلَکَانِ یَحْرُسَانِہِ حَتَّی تَقْدَمُوا إِلَیْہَا ۔ ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ : ارْتَحِلُوا ۔ فَارْتَحَلْنَا فَأَقْبَلْنَا إِلَی الْمَدِینَۃِ فَوَالَّذِی نَحْلِفُ بِہِ أَوْ یُحْلَفُ بِہِ شَکَّ حَمَّادٌ فِی ہَذِہِ الْکَلِمَۃِ وَحْدَہَا : مَا وَضَعْنَا رِحَالَنَا حِینَ دَخَلْنَا الْمَدِینَۃَ حَتَّی أَغَارَ عَلَیْہَا بَنُو عَبْدِ اللَّہِ بْنِ غَطَفَانَ وَمَا یَہِیجُہُمْ قَبْلَ ذَلِکَ شَیْئٌ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَمَّادِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۷۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৮৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرم میں (جانور) چرانے کا بیان
(٩٩٨٣) ابو حسان حضرت علی (رض) سے حرم مدینہ کے بارے میں فرماتے ہیں جو انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا، فرمایا : اس کا گھاس نہ کاٹا جائے، شکار نہ بھگایا جائے اور گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والا اٹھائے۔ لڑائی کی غرض سے کسی کے لیے اسلحہ اٹھانا جائز نہیں اور کسی کے لیے اس کے درخت کاٹنا بھی جائز نہیں۔ صرف اس کے لیے جو اپنے اونٹوں کو چارہ دینا چاہے۔ ایک روایت میں ” ہدبۃً “ کے لفظ ہیں یعنی اونٹ۔
(۹۹۸۳)أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ أَبِی حَسَّانَ عَنْ عَلِیٍّ فِی قِصَّۃِ حَرَمِ الْمَدِینَۃِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : لاَ یُخْتَلَی خَلاَہَا وَلاَ یُنَفَّرُ صَیْدُہَا وَلاَ یُلْتَقَطُ لُقَطَتُہَا إِلاَّ لِمَنْ أَشَادَ بِہَا وَلاَ یَصْلُحُ لِرَجُلٍ أَنْ یَحْمِلَ فِیہَا السِّلاَحَ لِقِتَالٍ وَلاَ یَصْلُحُ لِرَجُلٍ أَنْ یَقْطَعَ مِنْہَا شَجَرَۃً إِلاَّ أَنْ یَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِیرَہُ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ ہُدْبَۃَ : بَعِیرًا ۔

[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود ۲۰۳۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৮৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرم میں (جانور) چرانے کا بیان
(٩٩٨٤) مجاہد فرماتے ہیں کہ ابن عمر (رض) فتح میں حاضر ہوئے۔ وہ ٢٠ سال کے تھے۔ ان کے ساتھ ان کا گھوڑا حرون تھا اور بھاری نیزہ بھی۔ کہتے ہیں کہ وہ اپنے گھوڑے کے لیے گھاس کاٹتے تھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ کے بندے ! ہٹ جا، اے اللہ کے بندے ! ہٹ جا۔
(۹۹۸۴)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : شَہِدَ ابْنُ عُمَرَ الْفَتْحَ وَہُوَ ابْنُ عِشْرِینَ وَمَعَہُ فَرَسٌ حَرُونٌ وَرُمْحٌ ثَقِیلٌ قَالَ فَذَہَبَ عَبْدُ اللَّہِ یَخْتَلِی لِفَرَسِہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : إِنَّ عَبْدَ اللَّہِ إِنَّ عَبْدَ اللَّہِ ۔ [ضعیف۔ اخرجہ احمد ۲/ ۱۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৮৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرم میں (جانور) چرانے کا بیان
(٩٩٨٥) عطاء بن ابی رباح حضرت ابن عباس اور ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ دونوں ناپسند کرتے تھے کہ حرم مکہ کی مٹی اور پتھروں کو حل کی جانب منتقل کیا جائے۔

(ب) عبدالاعلیٰ بن عبداللہ بن عامر فرماتے ہیں : میں اپنی والدہ یا اپنی دادی کے ساتھ مکہ آیا۔ وہ صفیہ بنت شیبہ کے پاس آئی تھیں۔ اس نے ان کی عزت کی۔ صفیہ کہنے لگی : میں نہیں جانتی کہ میں ان کو کیسا بدلہ دوں، پھر انھوں نے رکن کا ٹکڑا دیا۔ اس کو ساتھ لے کر ہم وہاں سے نکلے اور ہم نیپہلی منزل پر پڑاؤ کیا۔ اس نے ان تمام کی بیماری کا تذکرہ کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میری ماں یا دادی نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ یہ ٹکڑا ہم نے حرم سے منتقل کیا ہے۔ اس نے مجھ سے کہا اور میں بھی ان کی مانند تھا۔ یہ ٹکڑا صفیہ کے پاس لے جاؤ اور ان کو واپس کر دو۔ ان سے کہنا کہ جو چیز اللہ نے حرم میں رکھی ہے، اس کو یہاں سے منتقل کرنا درست نہیں ہے۔ عبدالاعلیٰ کہتے ہیں : انھوں نے مجھے کہا کہ ہم حرم میں تیرے داخلے کا انتظار کریں گے۔ گویا کہ ہمیں رسیوں سے کھول دیا گیا۔
(۹۹۸۵) فِیمَا أَجَازَ لِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رِوَایَتَہُ عَنْہُ عَنْ أَبِی الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِیعِ عَنِ الشَّافِعِیِّ حِکَایَۃً عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی أَنَّہُ حَدَّثَ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّہُمَا کَرِہَا أَنْ یُخْرَجَ مِنْ تُرَابِ الْحَرَمِ وَحِجَارَتِہِ إِلَی الْحِلِّ شَیْئٌ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقَدْ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْقَاسِمِ الأَزْرَقِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَدِمْتُ مَعَ أُمِّی أَوْ قَالَ جَدَّتِی مَکَّۃَ فَأَتَتْہَا صَفِیَّۃُ بِنْتُ شَیْبَۃَ فَأَکْرَمَتْہَا وَفَعَلْتْ بِہَا فَقَالَتْ صَفِیَّۃُ : مَا أَدْرِی مَا أُکَافِئُہَا بِہِ فَأَرْسَلَتْ إِلَیْہَا بِقِطْعَۃٍ مِنَ الرُّکْنِ فَخَرَجْنَا بِہَا فَنَزَلْنَا أَوَّلَ مَنْزِلٍ فَذَکَرَ مِنْ مَرَضِہِمْ وَعِلَّتِہِمْ جَمِیعًا قَالَ فَقَالَتْ أُمِّی أَوْ جَدَّتِی : مَا أُرَانَا أُتِینَا إِلاَّ أَنَّا أَخَرَجْنَا ہَذِہِ الْقِطْعَۃَ مِنَ الْحَرَمِ فَقَالَتْ لِی وَکُنْتُ أَمْثَلَہُمْ : انْطَلِقْ بِہَذِہِ الْقِطْعَۃِ إِلَی صَفِیَّۃَ فَرُدَّہَا وَقُلْ لَہَا : إِنَّ اللَّہَ وَضْعَ فِی حَرَمِہِ شَیْئًا فَلاَ یَنْبَغِی أَنْ یُخْرَجَ مِنْہُ۔ قَالَ عَبْدُ الأَعْلَی فَقَالُوا لِی : فَمَا ہُوَ إِلاَّ أَنْ تَحَیَّنَّا دُخُولَکَ الْحَرَمَ فَکَأَنَّمَا أُنْشِطْنَا مِنْ عُقُلٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৯০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرمِ مکہ کی مٹی اور پتھر حل کی جانب منتقل نہ کیے جائیں
(٩٩٨٦) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سہیل بن عمرو سے مائ زمزم کا تحفہ قبول کیا۔
(۹۹۸۶)أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا مُطَیَّنٌ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ الْمَخْزُومِیِّ عَنِ ابْنِ مُحَیْصِنٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : اسْتَہْدَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو مِنْ مَائِ زَمْزَمَ۔

وَرُوِیَ فِی ذَلِکَ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ [حسن۔ اخرجہ الطبرانی فی الاوسط ۵۷۹۶]
tahqiq

তাহকীক: