আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

کتاب الحج - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৮৮ টি

হাদীস নং: ৯৯৫১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرم کے شکار کو بھگایا نہ جائے گا، اس کے درخت نہ کاٹے جائیں گے، اذخر گھاس کے علاوہ کچھ نہ کاٹا جائے گا
(٩٩٤٧) ابو شریح خزاعی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی مسلمان بندہ کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے جائز نہیں کہ اس میں خون بہائے اور اس کے درختوں کو کاٹے۔
(۹۹۴۷)وَرَوَاہُ أَبُو شُرَیْحٍ الْخُزَاعِیُّ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : فَلاَ یَحِلُّ لاِمْرِئٍ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ یَسْفِکَ بِہَا دَمًا وَلاَ یَعْضِدُ بِہَا شَجَرَۃً ۔

أَخْبَرَنَاہُ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنِ اللَّیْثِ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۷۳۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৫২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرم کے شکار کو بھگایا نہ جائے گا، اس کے درخت نہ کاٹے جائیں گے، اذخر گھاس کے علاوہ کچھ نہ کاٹا جائے گا
(٩٩٤٨) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : درختوں کا کاٹنا، کانٹوں کا اکھاڑنا، جائز نہیں حرام ہے اور گری پڑی چیز کو صرف اعلان کروانے والا ہی اٹھاسکتا ہے۔

(ب) عباس بن عبدالمطلب (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اذخر کی اجازت دیں کیوں کہ یہ ہمارے گھروں اور قبروں میں کام آتا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اذخر گھاس کی اجازت دے دی۔

(ج) مسلم بن ولید اوزاعی سے نقل فرماتے ہیں کہ اس کا شکار نہ بھگایا جائے اور کانٹے نہ اکھاڑے جائیں اور اس کی گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والا ہی اٹھاسکتا ہے۔

(د) شیبان یحییٰ سے بیان کرتے ہیں کہ اس کے کانٹوں کو نہ روندا جائے، درخت نہ کاٹے جائیں اور گری پڑی چیز صرف اعلان کرنے والا اٹھاسکتا ہے۔
(۹۹۴۸) وَرَوَاہُ أَبُو ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : حَرَامٌ لاَ یُعْضَدُ شَجَرُہَا وَلاَ یُخْتَلَی شَوْکَتُہَا وَلاَ یُلْتَقَطُ سَاقِطَتُہَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ ۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ السُّوسِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ أَخْبَرَنَا أَبِی حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ حَدَّثَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِی أَبُو ہُرَیْرَۃَ فَذَکَرَہُ وَقَالَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِلاَّ الإِذْخِرَ فَإِنَّا نَجْعَلُہُ فِی مَسَاکِنِنَا وَقُبُورِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہ -ﷺ : إِلاَّ الإِذْخِرَ إِلاَّ الإِذْخِرَ ۔ کَذَا قَالَ الْوَلِیدُ بْنُ مَزْیَدٍ عَنِ الأَوْزَاعِیِّ۔

وَرَوَاہُ الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِیُّ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : فَلاَ یُنَفَّرُ صَیْدُہَا ولاَ یُخْتَلَی شَوْکُہَا وَلاَ تَحِلُّ سَاقِطَتُہَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ۔ وَفِی رِوَایَۃٍ أُخْرَی عَنْہُ: لاَ یُعْضَدُ شَجَرُہَا وَلاَ یُنَفَّرُ صَیْدُہَا وَلاَ تَحِلُّ لُقَطَتُہَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ ۔

وَرَوَاہُ شَیْبَانُ عَنْ یَحْیَی فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : لاَ یُخْبَطُ شَوْکُہَا وَلاَ یُعْضَدُ شَجَرُہَا وَلاَ یَلْتَقِطُ سَاقِطَتَہَا إِلاَّ مُنْشِدٌ ۔ وَکُلُّ ذَلِکَ یَرِدُ فِی مَوَاضِعِہِ مِنَ الْکِتَابِ إِنْ شَائَ اللَّہُ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۱۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৫৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرم کے شکار کو بھگایا نہ جائے گا، اس کے درخت نہ کاٹے جائیں گے، اذخر گھاس کے علاوہ کچھ نہ کاٹا جائے گا
(٩٩٤٩) عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) منیٰ میں لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا کہ پہاڑ پر ایک آدمی درخت کاٹ رہا تھا، اس کو بلوایا۔ اس سے پوچھا : کیا تو جانتا نہیں کہ مکہ کے درخت اور اس کا گھاس نہیں کاٹا جاتا۔ اس نے کہا : کیوں نہیں ، لیکن مجھے تو اونٹ نے اس پر ابھارا ہے، جو ہمارا کمزور اونٹ ہے ، اس نے اس کو اونٹ پر رکھ لیا اور حضرت عمر (رض) نے فرمایا : آئندہ نہ کرنا اور اس کے اوپر کچھ رکھنا بھی نہیں۔
(۹۹۴۹)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنْ مَطَرٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًی فَرَأَی رَجُلاً عَلَی جَبَلٍ یَعْضِدُ شَجَرًا فَدَعَاہُ فَقَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ مَکَّۃَ لاَ یُعْضَدُ شَجَرُہَا وَلاَ یُخْتَلَی خَلاَہَا۔ قَالَ : بَلَی وَلَکِنِّی حَمَلَنِی عَلَی ذَلِکَ بَعِیرٌ لِی نِضْوٌ۔ قَالَ : فَحَمَلَہُ عَلَی بَعِیرٍ وَقَالَ لَہُ : لاَ تَعُدْ وَلَمْ یَجْعَلْ عَلَیْہِ شَیْئًا۔

[ضعیف۔ اخرجہ ابن ابی عروبہ المناسک ۲۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৫৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرم کے شکار کو بھگایا نہ جائے گا، اس کے درخت نہ کاٹے جائیں گے، اذخر گھاس کے علاوہ کچھ نہ کاٹا جائے گا
(٩٩٥٠) ربیع کہتے ہیں کہ امام شافعی (رض) نے فرمایا : جس نے حرم کا درخت کاٹا وہ محرم یا حلال ہو اس پر فدیہ ہے۔ چھوٹے درخت کے عوض ایک بکری اور بڑے درخت کے عوض گائے۔ یہ ابن زبیر اور عطاء سے منقول ہے۔

(ب) ابن زبیر اور عطاء اس بات پر متفق ہیں کہ بڑے درخت کے عوض گائے ہے۔

(ج) اور عطاء کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ کسی درخت کے عوض بکری ہے۔

(د) امام شافعی (رض) فرماتے ہیں کہ اگر وہ موجود نہ ہو جس کو میں نے بیان کیا ہے تو وہ اس کے فدیہ میں اس کے برابر قیمت دے گا۔

(ح) عطاء ایک آدمی کے متعلق فرماتے ہیں ، جو حرم سے درخت کاٹتا تھا کہ پیلوں کے عوض ایک درہم اور بڑے درخت کے عوض ایک گائے۔
(۹۹۵۰)أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : مَنْ قَطَعَ مِنْ شَجَرِ الْحَرَمِ شَیْئًا جَزَاہُ حَلاَلاً کَانَ أَوْ مُحْرِمًا فِی الشَّجَرَۃِ الصَّغِیرَۃِ شَاۃٌ وَفِی الْکَبِیرَۃِ بَقَرَۃٌ۔

یُرْوَی ہَذَا عَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ وَعَطَائٍ ۔

وَبِہَذَا الإِسْنَادِ قَالَ فِی الإِمْلاَئِ وَالْفِدْیَۃِ فِی مُتَقَدِّمِ الْخَبَرِ عَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ وَعَطَائٍ مُجْتَمِعَۃً فِی أَنَّ فِی الدُّوحَۃِ بَقَرَۃٌ وَالدُّوحَۃُ : الشَّجَرَۃُ الْعَظِیمَۃُ۔

وَقَالَ عَطَائٌ فِی الشَّجَرَۃِ دُونَہَا شَاۃٌ

قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَالْقِیَاسُ لَوْلاَ مَا وَصَفَتُ فِیہِ أَنَّہُ یَفْدِیہِ مَنْ أَصَابَہُ بِقِیمَتِہِ۔

قَالَ الشَّیْخُ : رُوِّینَا عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ فِی الرَّجُلِ یَقْطَعُ مِنْ شَجَرِ الْحَرَمِ قَالَ فِی الْقَضِیبِ دِرْہَمٌ وَفِی الدُّوحَۃِ بَقَرَۃٌ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৫৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرم کے شکار کو بھگایا نہ جائے گا، اس کے درخت نہ کاٹے جائیں گے، اذخر گھاس کے علاوہ کچھ نہ کاٹا جائے گا
(٩٩٥١) ابراہیم تیمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور وہ حضرت علی (رض) سے روایت فرماتے ہیں کہ ہم نے صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن اور جو اس صحیفہ میں موجود ہے تحریر کیا ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مدینہ کا عیر اور ثور کے درمیان کا علاقہ حرم ہے۔ جس نے اس میں کوئی بدعت کی یا بدعتی کو جگہ دی، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ اللہ اس سے فرض ونفل قبول نہ کریں گے۔ مسلمانوں کا ذمہ ایک ہی ہے ان کا ادنیٰ بھی اس کے ذریعے کوشش کرسکتا ہے اور جس نے مسلمان سے بےوفائی کی، عہد توڑا۔ اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ اس سے فرض ونفل کو بھی قبول نہ کرے گا اور جس نے اپنے آقا کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے دوستی کی، اس پر بھی اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ اللہ ان سے فرض ونفل قبول نہ کریں گے۔
(۹۹۵۱)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو إِسْحَاقَ : إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْقَارِئُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ الْعَبْدِیُّ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَا کَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ إِلاَّ الْقُرْآنَ وَمَا فِی ہَذِہِ الصَّحِیفَۃِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : الْمَدِینَۃُ حَرَامٌ مَا بَیْنَ عَیْرٍ إِلَی ثَوْرٍ فَمَنْ أَحْدَثَ فِیہَا حَدَثًا أَوْ آوَی مُحْدِثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللَّہِ وَالْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ لاَ یَقْبَلُ اللَّہُ مِنْہُ عَدْلاً وَلاَ صَرْفًا ذِمَّۃُ الْمُسْلِمِینَ وَاحِدَۃٌ یَسْعَی بِہَا أَدْنَاہُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللَّہِ وَالْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ لاَ یُقْبَلُ مِنْہُ عَدْلٌ وَلاَ صَرْفٌ وَمَنْ وَالَی قَوْمًا بِغَیْرِ إِذْنِ مَوَالِیہِ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللَّہِ وَالْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ لاَ یُقْبَلُ مِنْہُ عَدْلٌ وَلاَ صَرْفٌ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ مَہْدِیٍّ عَنْ سُفْیَانَ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۷۷۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৫৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرمِ مدینہ کے احکام
(٩٩٥٢) سعید بن مسیب ابوہریرہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ اگر میں مدینہ میں ہرن کو چرتا دیکھوں تو میں اس کو خوف زدہ نہ کروں گا، کیوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیان حرم ہے۔

(ب) ابن مسیب حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا ہے، ابوہریرہ (رض) فرماتے تھے کہ اگر میں دو پہاڑوں کے درمیان کسی ہرن کو چرتا دیکھوں تو اس کو خوف زدہ نہ کروں گا۔ اور مدینہ کے اردگرد ١٢ میل تک چراگاہ ہے۔
(۹۹۵۲) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ عَنْ مَالِکٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : لَوْ رَأَیْتُ الظِّبَائَ تَرْتَعُ بِالْمَدِینَۃِ مَا ذَعَرْتُہَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا حَرَامٌ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔وَرَوَاہُ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ : حَرَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مَا بَیْنَ لاَبَتَیِ الْمَدِینَۃِ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ فَلَوْ وَجَدْتُ الظِّبَائَ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا مَا ذَعَرْتُہَا وَجَعَلَ حَوْلَ الْمَدِینَۃِ اثْنَیْ عَشَرَ مِیلاً حِمًی۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُوالْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ وَمُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ۔

[صحیح۔ بخاری ۱۷۷۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৫৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرمِ مدینہ کے احکام
(٩٩٥٣) ابو صالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عیر اور ثور کے درمیان مدینہ کا علاقہ حرم ہے۔ جس نے اس کے اندر بدعت کی یا بدعتی کو جگہ دی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔
(۹۹۵۲)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ الْغَضَائِرِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : الْمَدِینَۃُ حَرَمٌ مَا بَیْنَ عَیْرٍ إِلَی ثَوْرٍ فَمَنْ أَحْدَثَ فِیہَا حَدَثًا أَوْ آوَی مُحْدِثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللَّہِ وَالْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۸۷۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৫৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرمِ مدینہ کے احکام
(٩٩٥٤) احمد بن عبدالجبار اپنی سند سے ذکر کرتے ہیں کہ ان کا فرض و نفل بھی قبول نہ کیا جائے گا۔
(۹۹۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ مِثْلَہُ وَزَادَ لاَ یُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ۔

أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ زَائِدَۃَ وَغَیْرِہِ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৫৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرمِ مدینہ کے احکام
(٩٩٥٥) عبداللہ بن زید رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کے لیے برکت کی دعا کی۔ میں نے مدینہ کو حرم قرار دیا جیسے ابراہیم نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں نے اس کے مد اور صاع میں برکت کی دعا کی جیسے ابراہیم نے مکہ کے لیے کی۔
(۹۹۵۵)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ حَدَّثَنَا مُوسَی حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیَی عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیمٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ أَنَّہُ قَالَ : إِنَّ إِبْرَاہِیمَ حَرَّمَ مَکَّۃَ وَدَعَا لَہَا وَحَرَّمْتُ الْمَدِینَۃَ کَمَا حَرَّمَ إِبْرَاہِیمُ مَکَّۃَ وَدَعَوْتُ لَہَا فِی مُدِّہَا وَصَاعِہَا مِثْلَی مَا دَعَا إِبْرَاہِیمُ لِمَکَّۃَ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ وُہَیْبٍ۔

[صحیح۔ بخاری ۲۰۲۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৬০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرمِ مدینہ کے احکام
(٩٩٥٦) عباد بن تمیم اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابراہیم نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں نے مدینہ کو حرم قرار دیا، جیسے ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں نے اس کے مد اور صاع میں برکت کی دعا کی جیسے ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کے لیے دعا کی تھی۔
(۹۹۵۶)وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَجَائِ بْنِ السِّنْدِیِّ حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ الْمُخْتَارِ عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیَی عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیمٍ عَنْ عَمِّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ قَالَ : إِنَّ إِبْرَاہِیمَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ حَرَّمَ مَکَّۃَ وَإِنِّی حَرَّمْتُ الْمَدِینَۃَ کَمَا حَرَّمَ إِبْرَاہِیمُ مَکَّۃَ وَدَعَوْتُ لَہَا فِی مُدِّہَا وَصَاعِہَا مِثْلَ مَا دَعَا إِبْرَاہِیمُ عَلَیْہِ السَّلاَمُ لِمَکَّۃَ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کَامِلٍ الْجَحْدَرِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۶۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৬১
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرمِ مدینہ کے احکام
(٩٩٥٧) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے احدپہاڑ تھا، آپ نے فرمایا : یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں، اے اللہ ! ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیان کو حرم قرار دیتا ہوں۔
(۹۹۵۷)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظِیفٍ الْفَرَّائُ الْمِصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی الْمَوْتِ الْمَکِّیُّ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا عَلِیُّ ہُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْخَیْرِ : جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَہْدِیٍّ المُحَمَّدَابَاذِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ المُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِی عَمْرٍو مَوْلَی الْمُطَّلِبِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ طَلَعَ لَہُ أُحُدٌ فَقَالَ : ہَذَا جَبَلٌ یُحِبُّنَا وَنُحِبُّہُ اللَّہُمَّ إِنَّ إِبْرَاہِیمَ حَرَّمَ مَکَّۃَ وَإِنِّی أُحَرِّمُ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْلَمَۃَ الْقَعْنَبِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۳۱۸۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৬২
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرمِ مدینہ کے احکام
(٩٩٥٨) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ آپ نے غزوہ خیبر کا طویل قصہ سنایا جب احد ظاہر ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ جب مدینہ کی طرف جھانکا تو فرمایا : اے اللہ ! میں مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیان کو حرم قرار دیتا ہوں جیسے ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔ اے اللہ ! ان کے صاع اور مد میں برکت عطا فرما۔
(۹۹۵۸)وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّیرَازِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِی عَمْرٍو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ قَالَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ فِی قِصَّۃِ خَیْبَرَ قَالَ فَلَمَّا بَدَا لَنَا أُحُدٌ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : جَبَلٌ یُحِبُّنَا وَنُحِبُّہُ ۔ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَی الْمَدِینَۃِ قَالَ : اللَّہُمَّ إِنِّی أُحَرِّمُ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا کَمَا حَرَّمَ إِبْرَاہِیمُ مَکَّۃَ اللَّہُمَّ بَارِکْ لَہُمْ فِی صَاعِہِمْ وَمُدِّہِمْ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۶۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৬৩
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرمِ مدینہ کے احکام
(٩٩٥٩) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مدینہ یہاں سے لے کر یہاں تک حرم اور امن کی جگہ ہے، نہ تو اس کا درخت کاٹا جائے اور نہ ہی اس میں بدعت کی جائے اور جس نے بدعت کی اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ ان کا فرض و نفل قبول نہ کیا جائے گا۔
(۹۹۵۹)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ یَزِیدَ أَبُو زَیْدٍ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَحْوَلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ قَالَ : إِنَّ الْمَدِینَۃَ حَرَمٌ آمِنٌ مِنْ کَذَا إِلَی کَذَا لاَ یُقْطَعُ شَجَرُہَا وَلاَ یُحْدَثُ فِیہَا حَدَثٌ فَمَنْ أَحْدَثَ فِیہَا حَدَثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللَّہِ وَالْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ لاَ یُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ وَلاَ عَدَلٌ ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَارِمٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۷۶۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৬৪
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرمِ مدینہ کے احکام
(٩٩٦٠) عاصم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک (رض) سے سوال کیا گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے ؟ فریا : ہاں یہ حرم ہے، جس کو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرم قرار دیا ہے، اس کا گھاس نہ کاٹا جائے گا۔ جس نے یہ کام کیا اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔
(۹۹۶۰)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ : أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ الْمَدِینَۃَ؟ قَالَ : نَعَمْ ہِیَ حَرَامٌ حَرَّمَہَا اللَّہُ وَرَسُولُہُ لاَ یُخْتَلَی خَلاَہَا فَمَنْ یَعْمَلْ بِذَلِکَ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللَّہِ وَالْمَلاَئِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ۔

لَفْظُ حَدِیثِ مُحَمَّدٍ وَفِی رِوَایَۃِ إِبْرَاہِیمَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِکَ وَالْبَاقِی سَوَائٌ

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ یَزِیدِ بْنِ ہَارُونَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۶۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৬৫
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرمِ مدینہ کے احکام
(٩٩٦١) عامر بن سعد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیان والی جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔ اس کے کانٹے دار درخت نہ کاٹے جائیں اور نہ ہی شکار قتل کیا جائے اور فرمایا : مدینہ ان کے لیے بہتر ہے۔ اگر وہ جائیں اور کوئی اس سے بےرغبتی کرتے ہوئے نکلے تو اللہ اس میں بھلائی کو پیدا کر دے گا اور جو کوئی اس کی مشقت وغیرہ برداشت کرتے ہوئے اس میں ٹھہرا رہتا ہے، میں کل قیامت کے دن اس کا سفارشی اور گواہ ہوں گا۔
(۹۹۶۱)أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : إِنِّی أُحَرِّمُ مَا بَیْنَ لاَبَتَیِ الْمَدِینَۃِ أَنْ یُقْطَعَ عِضَاہُہَا أَوْ یُقْتَلَ صَیْدُہَا ۔ وَقَالَ : الْمَدِینَۃُ خَیْرٌ لَہُمْ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ لاَ یَخْرُجُ عَنْہَا أَحَدٌ رَغْبَۃً إِلاَّ أَبْدَلَ اللَّہُ فِیہَا مَنْ ہُوَ خَیْرٌ مِنْہُ وَلاَ یَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَی لأْوَائِہَا وَجَہْدِہَا إِلاَّ کُنْتُ لَہُ شَہِیدًا أَوْ شَفِیعًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۶۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৬৬
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرمِ مدینہ کے احکام
(٩٩٦٢) رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔
(۹۹۶۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ مُضَرَ عَنِ ابْنِ الْہَادِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ : إِنَّ إِبْرَاہِیمَ حَرَّمَ مَکَّۃَ وَإِنِّی أُحَرِّمُ مَا بَیْن لاَبَتَیْہَا ۔ یُرِیدُ الْمَدِینَۃَ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۶۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৬৭
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرمِ مدینہ کے احکام
(٩٩٦٣) نافع بن جبیر فرماتے ہیں کہ مروان بن حکم نے لوگوں کو خطبہ دیا، تو مکہ، اس کے رہنے والے اور حرم کا تذکرہ کیا۔ رافع بن خدیج نے آواز دی تو اس نے کہا : کیا ہو کہ میں تجھے سن رہا ہوں، تو مکہ، اس کے رہنے والوں اور اس کے حرم کے بیان کر رہا ہے لیکن تم نے مدینہ، اس کے رہنے والوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ نہیں کیا حالاں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا تھا اور یہ ہمارے پاس ہرنی کے چمڑے میں لکھا ہوا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو میں پڑھا دیتا ہوں، کہتے ہیں : مروان خاموش ہوگئے۔ پھر کہا : میں نے بعض باتیں سن رکھی ہیں۔
(۹۹۶۳)وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرٍ : أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ خَطَبَ النَّاسَ فَذَکَرَ مَکَّۃَ وَأَہْلَہَا وَحُرْمَتَہَا فَنَادَاہُ رَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ فَقَالَ : مَا لِی أَسْمَعُکَ ذَکَرْتَ مَکَّۃَ وَأَہْلَہَا وَحُرْمَتَہَا وَلَمْ تَذْکُرِ الْمَدِینَۃَ وَأَہْلَہَا وَحُرْمَتَہَا وَقَدْ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا وَذَلِکَ عِنْدَنَا فِی أَدِیمٍ خَوْلاَنِیٍّ إِن شِئْتَ أَقْرَأْتُکَہُ قَالَ فَسَکَتَ مَرْوَانَ ثُمَّ قَالَ قد سَمِعْتُ بَعْضَ ذَلِکَ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۵۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৬৮
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرمِ مدینہ کے احکام
(٩٩٦٤) ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا : میں نے مدینہ کے دو پہاڑوں کے درمیانی جگہ کو حرم قرار دیا ہے جیسے ابراہیم نے مکہ کو حرم قرار دیا۔

(ب) فرماتے ہیں کہ ابو سعید خدری (رض) ہمارے ہاتھوں میں پرندوں کو پاتے۔ اس کو پکڑتے اور مٹھی کھول دیتے اور چھوڑ دیتے۔
(۹۹۶۴)أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ -ﷺ یَقُولُ : إِنِّی حَرَّمْتُ مَا بَیْنَ لاَبَتَیِ الْمَدِینَۃِ کَمَا حَرَّمَ إِبْرَاہِیمُ مَکَّۃَ ۔

قَالَ وَکَانَ أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ یَجِدُ فِی یَدَیْ أَحَدِنَا الطَّیْرَ فَیَأْخُذُہُ فَیَفُکُّہُ مِنْ یَدِہِ ثُمَّ یُرْسِلُہُ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۵۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৬৯
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرمِ مدینہ کے احکام
(٩٩٦٥) اسید بن عمرو فرماتے ہیں کہ میں نے سہل بن حنیف سے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : یہ احترام اور امن کی جگہ ہے۔
(۹۹۶۵)أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ الْہَاشِمِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو : أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّاز حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُلاَعِبِ بْنِ حَیَّانَ الْمُخَرِّمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنِی أَسِیرُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ سَہْلَ بْنَ حُنَیْفٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ یَقُولُ وَأَوْمَأَ بِیَدِہِ إِلَی الْمَدِینَۃِ فَقَالَ : إِنَّہَا حَرَمٌ آمِنٌ ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۳۷۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৯৭০
کتاب الحج
পরিচ্ছেদঃ حرمِ مدینہ کے احکام
(٩٩٦٦) یسیر بن عمرو حضرت سہل بن حنیف سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ مدینہ کی طرف جھکایا اور فرمایا : یہ حرم اور امن کی جگہ ہے۔
(۹۹۶۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ یُسَیْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ قَالَ : أَہْوَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ بِیَدِہِ إِلَی الْمَدِینَۃِ فَقَالَ : إِنَّہَا حَرَمٌ آمِنٌ ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ انظر قبلہ]
tahqiq

তাহকীক: