আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৬৬ টি
হাদীস নং: ৩৫৯৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کے دوران تھوکنے کا بیان
(٣٥٩٦) (ا) سیدنا انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن بندہ جب نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشیاں کررہا ہوتا ہے، لہٰذا وہ ہرگز اپنے سامنے نہ تھوکے اور نہ ہی اپنے داہنی طرف، بلکہ اپنے بائیں طرف پاؤں کے نیچے تھوک لے۔
(ب) شعبہ بیان کرتے ہیں : وَلَکِنْ عَنْ یَسَارِہِ تَحْتَ قَدَمِہِ اپنی بائیں جانب یا اپنے قدم کے نیچے تھوک دے۔
(ب) شعبہ بیان کرتے ہیں : وَلَکِنْ عَنْ یَسَارِہِ تَحْتَ قَدَمِہِ اپنی بائیں جانب یا اپنے قدم کے نیچے تھوک دے۔
(۳۵۹۶) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا کَانَ فِی صَلاَتِہِ فَإِنَّمَا یُنَاجِی رَبَّہُ، فَلاَ یَبْزُقَنَّ بَیْنَ یَدَیْہِ وَلاَ عَنْ یَمِینِہِ، وَلَکِنْ عَنْ یَسَارِہِ تَحْتَ قَدَمِہِ))۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۰۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز کے دوران تھوکنے کا بیان
(٣٥٩٧) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی بھی اپنے سامنے اور دائیں طرف مت تھوکے، لیکن بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوک لے۔
(۳۵۹۷) قَالَ أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِیُّ عَنْ شُعْبَۃَ : وَلَکِنْ عَنْ یَسَارِہِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِہِ ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِیُّ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((لاَ یَتْفِلَنَّ أَحَدُکُمْ بَیْنَ یَدَیْہِ وَلاَ عَنْ یَمِینِہِ ، وَلَکِنْ عَنْ یَسَارِہِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِہِ))۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ وَعَنْ أَبِی عُمَرَ الْحَوْضِیُّ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ نَحْوَ حَدِیثِ آدَمَ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ جب بائیں طرف خالی ہو تو اپنے بائیں طرف ہی تھوکے
(٣٥٩٨) (ا) طارق بن عبداللہ محاربی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : جب تو نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے اور داہنی طرف نہ تھوک، اگر بائیں طرف خالی ہو تو اس طرف تھوک دے یا اپنے پاؤں کے نیچے۔
(ب) انھوں نے ” برجلہ “ کہا، یعنی اپنی ٹانگ کے نیچے اور اسے اپنے پاؤں کے ساتھ رگڑ دے۔
(ج) منصور سے روایت ہے کہ بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے۔
(ب) انھوں نے ” برجلہ “ کہا، یعنی اپنی ٹانگ کے نیچے اور اسے اپنے پاؤں کے ساتھ رگڑ دے۔
(ج) منصور سے روایت ہے کہ بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے۔
(۳۵۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُحَارِبِیِّ قَالَ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا صَلَّیْتَ فَلاَ تَبْصُقْ بَیْنَ یَدَیْکَ وَلاَ عَنْ یَمِینِکَ ، وَابْصُقْ تِلْقَائَ شِمَالِکَ إِنْ کَانَ فَارِغًا أَوْ تَحْتَ قَدَمِکَ))۔ وَقَالَ بِرِجْلِہِ کَأَنَّہُ یَحُکُّہُ بِقَدَمِہِ۔
وَرَوَاہُ أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ مَنْصُورٍ فَقَالَ : أَوْ تَحْتَ قَدَمِہِ الْیُسْرَی۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۴۷۸]
وَرَوَاہُ أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ مَنْصُورٍ فَقَالَ : أَوْ تَحْتَ قَدَمِہِ الْیُسْرَی۔ [صحیح۔ اخرجہ ابوداود ۴۷۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوک کر اسے دفن کر دے یا بائیں پاؤں سے مسل ڈالے
(٣٥٩٩) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو اپنے سامنے نہ تھوکے کیونکہ وہ جب تک نماز میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ سے سرگوشی کررہا ہوتا ہے اور نہ ہی داہنی طرف تھوکے کیونکہ اس کی داہنی طرف ایک فرشتہ ہوتا ہے۔ بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک لے اور اس کو دفن بھی کرے۔
(۳۵۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ لِلصَّلاَۃِ فَلاَ یَبْصُقْ أَمَامَہُ ، إِنَّہُ یُنَاجِی اللَّہَ مَا دَامَ فِی مُصَلاَّہُ وَلاَ عَنْ یَمِینِہِ ، فَإِنَّ عَنْ یَمِینِہِ مَلَکًا ، وَلَکِنْ لِیَبْصُقْ عَنْ شِمَالِہِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِہِ فَیَدْفِنُہَا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۰۶]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۰۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوک کر اسے دفن کر دے یا بائیں پاؤں سے مسل ڈالے
(٣٦٠٠) ابوعلاء اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے پاؤں کے نیچے تھوکا پھر اس کو اپنے بائیں جوتے سے مسل دیا۔
(۳۶۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ قَالَ حَدَّثَنِی الْجُرَیْرِیُّ عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ عَنْ أَبِیہِ: أَنَّہُ صَلَّی مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَتَنَخَّعَ فَدَلَکَہَا بِنَعْلِہِ الْیُسْرَی۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ یَزِیدَ بْنِ زُرَیْعٍ ، وَأَبُو الْعَلاَئِ ہُوَ یَزِیدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۵۵۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قبلے کی طرف سے بلغم کو کھرچنے سے متعلقہ روایات کا بیان
(٣٦٠١) حمید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے ابوہریرہ اور ابوسعید خدری (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبلہ کی دیوار میں بلغم دیکھی تو ایک کنکری لے کر اس کو کھرچ ڈالا۔ پھر فرمایا : ” تم میں سے کوئی بھی قبلہ کی طرف نہ تھوکے اور نہ ہی اپنی دائیں طرف بلکہ بائیں طرف یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لے۔
(۳۶۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِی حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ وَأَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَقُولاَنِ: رَأَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- نُخَامَۃً فِی الْقِبْلَۃِ فَتَنَاوَلَ حَصَاۃً فَحَتَّہَا ، ثُمَّ قَالَ : ((لاَ یَتَنَخَّمْ أَحَدُکُمْ فِی الْقِبْلَۃِ وَلاَ عَنْ یَمِینِہِ ، وَلْیَبْصُقْ عَنْ یَسَارِہِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِہِ الْیُسْرَی))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وُجُوہٍ أُخَرَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۰۰]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَرْمَلَۃَ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وُجُوہٍ أُخَرَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۴۰۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قبلے کی طرف سے بلغم کو کھرچنے سے متعلقہ روایات کا بیان
(٣٦٠٢) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبلہ کی دیوار میں تھوک دیکھی تو اس کو کھرچ ڈالا، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : تم میں سے کوئی بھی نماز میں قبلے کی طرف نہ تھوکے اور نہ ہی اپنے چہرے کے سامنے تھوکے کیونکہ جب وہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے۔
(۳۶۰۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- رَأَی بُصَاقًا فِی جِدَارِ الْقِبْلَۃِ فَحَکَّہُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ : ((إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ یُصَلِّی فَلاَ یَبْصُقْ قِبَلَ وَجْہِہِ ، فَإِنَّ اللَّہَ تَعَالَی قِبَلَ وَجْہِہِ إِذَا صَلَّی)) ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۹۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قبلے کی طرف سے بلغم کو کھرچنے سے متعلقہ روایات کا بیان
(٣٦٠٣) ایک دوسری سند سے اسی کی مثل روایت بخاری میں موجود ہے۔
(۳۶۰۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الإِمَامُ وَأَبُو إِسْحَاقَ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْعَنْبَرِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [تقدم قبلہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قبلے کی طرف سے بلغم کو کھرچنے سے متعلقہ روایات کا بیان
(٣٦٠٤) ابن عمر (رض) روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اچانک آپ نے قبلہ کی دیوار پر بلغم لگی دیکھی تو لوگوں پر غصہ ہوگئے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے ہوتا ہے، جب کوئی نماز پڑھے تو اپنے سامنے نہ تھوکے اور نہ ہی بلغم پھینکے۔ پھر آپ نے (منبر سے) اتر کر اس کو کھرچ ڈالا اور وہاں کوئی چیز لگائی۔ میرا خیال ہے کہ زعفران منگوا کر دیوار پر مل دیا۔ ابن عمر (رض) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی بلغم پھینکے تو اپنے بائیں طرف پھینکے۔
(۳۶۰۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- بَیْنَمَا ہُوَ یَخْطُبُ إِذْ رَأَی نُخَامَۃً فِی قِبْلَۃِ الْمَسْجِدِ ، فَتَغَیَّظَ عَلَی أَہْلِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ قَالَ : ((إِنَّ اللَّہَ تَعَالَی قِبَلَ أَحَدِکُمْ إِذَا صَلَّی فَلاَ یَبْزُقَنَّ أَوْ لاَ یَتَنَخَّعَنَّ))۔ ثُمَّ نَزَلَ فَحَتَّہُ بِیَدِہِ ، ثُمَّ لَطَّخَہُ فِیمَا أَظُنُّہُ بِزَعْفَرَانٍ ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِذَا تَنَخَّعَ أَحَدُکُمْ فَلْیَتَنَخَّعْ عَنْ یَسَارِہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ دُونَ کَلِمَۃِ اللَّطْخِ فِیمَا أَظُنُّ بِالزَّعْفَرَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُلَیَّۃَ عَنْ أَیُّوبَ دُونَہَا بِمَعْنَی حَدِیثِ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۲۰]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ دُونَ کَلِمَۃِ اللَّطْخِ فِیمَا أَظُنُّ بِالزَّعْفَرَانِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُلَیَّۃَ عَنْ أَیُّوبَ دُونَہَا بِمَعْنَی حَدِیثِ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۷۲۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قبلے کی طرف سے بلغم کو کھرچنے سے متعلقہ روایات کا بیان
(٣٦٠٥) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبلہ کی دیوار میں تھوک یا بلغم یا سینڈھ دیکھی تو اس کو کھرچ ڈالا۔
(۳۶۰۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّہُ رَأَی بُصَاقًا فِی جِدَارِ الْقِبْلَۃِ أَوْ مُخَاطًا أَوْ نُخَاعَۃً فَحَکَّہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ وَأَخْرَجَاہُ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُمَرَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۹۹۔ اخرجہ مسلم ۵۴۹]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ۔ وَأَخْرَجَاہُ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ ابْنِ عُمَرَ۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۳۹۹۔ اخرجہ مسلم ۵۴۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ قبلے کی طرف سے بلغم کو کھرچنے سے متعلقہ روایات کا بیان
(٣٦٠٦) (ا) عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ ہم جابر بن عبداللہ (رض) کے پاس ان کی مسجد میں آئے۔ انھوں نے بیان کیا کہ ہم مسجد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ کے ہاتھ میں ابن طاب نامی کھجور کی شاخ تھی، آپ نے نظر دوڑائی تو مسجد کے قبلے کی طرف بلغم لگی ہوئی دیکھی۔ آپ نے اسے شاخ سے کھرچ ڈالا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کون شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے اپنا چہرہ پھیر لے ؟ ہم ڈر گئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ اللہ اس سے اپنا چہرہ پھیر لے ؟ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے کوئی بھی پسند نہیں کرتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے جب کوئی شخص نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے اس لیے کوئی بھی اپنے سامنے اور دائیں طرف نہ تھوکے بلکہ بائیں جانب پاؤں کے نیچے تھوک لے۔ اگر جلدی سے بلغم آئے تو پھر اپنے کپڑے پر اس طرح کرے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے کپڑے کو آپس میں مسل دیا اور فرمایا : عبیر خوشبو لے کر آؤ۔ قبیلہ کا ایک نوجوان اٹھا، دوڑتا ہوا اپنے گھر گیا اور اپنی ہتھیلی میں خلوق خوشبو لے کر آیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خوشبو لے کر شاخ کے سرے پر لگائی ، پھر اسے بلغم کے نشان پر لگا دیا۔
(ب) جابر (رض) بیان کرتے ہیں : اسی کی بنیاد پر تم مساجد میں خوشبو لگاتے ہو۔
(ج) ہارون بن معروف کی روایت میں ہے : اپنی بائیں طرف بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لے۔
(ب) جابر (رض) بیان کرتے ہیں : اسی کی بنیاد پر تم مساجد میں خوشبو لگاتے ہو۔
(ج) ہارون بن معروف کی روایت میں ہے : اپنی بائیں طرف بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لے۔
(۳۶۰۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ یَحْیَی الأَدَمِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ زِیَادِ بْنِ مِہْرَانَ السِّمْسَارَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ مُجَاہِدٍ أَبِی حَزْرَۃَ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الْوَلِیدِ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: أَتَیْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ فِی مَسْجِدِہِ فَقَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی مَسْجِدِنَا ہَذَا ، وَفِی یَدِہِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ ، فَرَأَی فِی قِبْلَۃِ الْمَسْجِدِ نُخَامَۃً فَحَکَّہَا بِالْعُرْجُونِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْنَا فَقَالَ : ((أَیُّکُمْ یُحِبُّ أَنْ یُعْرِضَ اللَّہُ عَنْہُ؟))۔ قَالَ: فَخَشَعْنَا ، ثُمَّ قَالَ : ((أَیُّکُمْ یُحِبُّ أَنْ یُعْرِضَ اللَّہُ عَنْہُ؟))۔ قَالَ: فَخَشَعْنَا ، ثُمَّ قَالَ : ((أَیُّکُمْ یُحِبُّ أَنْ یُعْرِضَ اللَّہُ عَنْہُ؟))۔ قَالَ قُلْنَا: لاَ أَیُّنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ : ((فَإِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا قَامَ یُصَلِّی فَإِنَّ اللَّہَ قِبَلَ وَجْہِہِ فَلاَ یَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْہِہِ وَلاَ عَنْ یَمِینِہِ ، وَلْیَبْصُقْ تَحْتَ رِجْلِہِ الْیُسْرَی فَإِنْ عَجِلَتْ بِہِ بَادِرَۃٌ فَلْیَقُلْ ہَکَذَا بِثَوْبِہِ))۔ ثُمَّ طَوَی ثَوْبَہُ بَعْضَہُ عَلَی بَعْضٍ : ((أَرُونِی عَبِیرًا))۔ فَقَامَ فَتًی مِنَ الْحَیِّ یَشْتَدُّ إِلَی أَہْلِہِ فَجَائَ بِخَلُوقٍ فِی رَاحَتِہِ ، فَأَخَذَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَجَعَلَہُ فِی رَأْسِ الْعُرْجُونِ ، ثُمَّ لَطَخَ بِہِ عَلَی أَثَرِ النُّخَامَۃِ۔ قَالَ جَابِرٌ: فَمِنْ ہُنَاکَ جَعَلْتُمُ الْخَلُوقَ فِی مَسَاجِدِکُمْ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ وَقَالَ: لِیَبْصُقْ عَنْ یَسَارِہِ تَحْتَ رِجْلِہِ الْیُسْرَی۔[صحیح۔ اخرجہ مسلم ۳۰۰۸]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ وَقَالَ: لِیَبْصُقْ عَنْ یَسَارِہِ تَحْتَ رِجْلِہِ الْیُسْرَی۔[صحیح۔ اخرجہ مسلم ۳۰۰۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دورانِ نماز جوں وغیرہ ملے تو اسے پکڑے پھر نماز کے بعد باہر پھینک دے یا مار کر دفن کر ڈالے
(٣٦٠٧) (ا) ا نصار کے ایک آدمی سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی دوران نماز جوں وغیرہ پالے تو اس کو نہ مارے بلکہ اس کو پکڑ کر رکھے نماز کے بعد اس کو مار دے۔
(ب) علی بن مبارک یحییٰ کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ اس کو روکے رکھے پھر اس کو مسجد سے نکال دے۔
(ب) علی بن مبارک یحییٰ کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ اس کو روکے رکھے پھر اس کو مسجد سے نکال دے۔
(۳۶۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ یَعْنِی ابْنَ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ یَعْنِی الدَّسْتَوَائِیَّ حَدَّثَنَا یَحْیَی یَعْنِی ابْنَ أَبِی کَثِیرٍ عَنِ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا وَجَدَ أَحَدُکُمُ الْقَمْلَۃَ وَہُوَ یُصَلِّی فَلاَ یَقْتُلْہَا وَلَکِنْ یَصُرُّہَا حَتَّی یُصَلِّیَ))۔ وَقَالَ عَلِیُّ بْنُ مُبَارَکٍ عَنْ یَحْیَی : فَلْیَصُرَّہَا حَتَّی یُخْرِجَہَا ۔ یَعْنِی مِنَ الْمَسْجِدِ۔ [ضعیف۔ اخرجہ الحارث ۱۳۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دورانِ نماز جوں وغیرہ ملے تو اسے پکڑے پھر نماز کے بعد باہر پھینک دے یا مار کر دفن کر ڈالے
(٣٦٠٨) انصار کا ایک شخص روایت کرتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی مسجد میں جوں پائے تو اس کو روکے رکھے جب تک اس کو مسجد سے نہ نکال دے۔
(۳۶۰۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ عَلِیِّ بْنِ مُبَارَکٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنِ الْحَضْرَمِیِّ بْنِ لاَحِقٍ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا وَجَدَ أَحَدُکُمُ الْقَمْلَۃَ فِی الْمَسْجِدِ فَلْیَصُرَّہَا حَتَّی یُخْرِجَہَا))۔
وَہَذَا مُرْسَلٌ حَسَنٌ فِی مِثْلِ ہَذَا۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
وَہَذَا مُرْسَلٌ حَسَنٌ فِی مِثْلِ ہَذَا۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ دورانِ نماز جوں وغیرہ ملے تو اسے پکڑے پھر نماز کے بعد باہر پھینک دے یا مار کر دفن کر ڈالے
(٣٦٠٩) (ا) ربیع بن خثیم بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے مسجد میں ایک شخص کے کپڑے پر جوں دیکھی تو اس کو پکڑ کر کنکریوں میں دفن کردیا، پھر فرمایا : { أَلَمْ نَجْعَلِ الأَرْضَ کِفَاتًا أَحْیَائً وَأَمْوَاتًا } [المرسلات : ٢٥۔ ٢٦] ” کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا زندوں کو اور مردوں کو۔ “
(ب) اسی کی مثل مجاہد اور ابن مسیب سے منقول ہے کہ بلغم کی طرح اس کو بھی دفن کر دے۔
(ج) مالک بن یخامہ کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ میں نے معاذ بن جبل (رض) کو دیکھا، وہ جوں اور پسّو کو نماز میں ہی مار دیا کرتے تھے۔
(د) حسن فرماتے ہیں کہ نماز میں جوں مارنے میں کوئی حرج نہیں لیکن فضول کھیلنے نہ لگ جائے۔
(ب) اسی کی مثل مجاہد اور ابن مسیب سے منقول ہے کہ بلغم کی طرح اس کو بھی دفن کر دے۔
(ج) مالک بن یخامہ کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ میں نے معاذ بن جبل (رض) کو دیکھا، وہ جوں اور پسّو کو نماز میں ہی مار دیا کرتے تھے۔
(د) حسن فرماتے ہیں کہ نماز میں جوں مارنے میں کوئی حرج نہیں لیکن فضول کھیلنے نہ لگ جائے۔
(۳۶۰۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ الْمُلاَئِیُّ عَنْ زَاذَانَ عَنِ الرَّبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ قَالَ: رَأَی عَبْدُ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَمْلَۃً عَلَی ثَوْبِ رَجُلٍ فِی الْمَسْجِدِ فَأَخَذَہَا فَدَفَنَہَا فِی الْحَصَی ثُمَّ قَالَ {أَلَمْ نَجْعَلِ الأَرْضَ کِفَاتًا أَحْیَائً وَأَمْوَاتًا} وَیُذْکَرُ نَحْوُ ہَذَا عَنْ مُجَاہِدٍ وَعَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ: یَدْفِنُہَا کَالنُّخَامَۃِ۔
وَرُوِّینَا عَنْ مَالِکِ بْنِ یَخَامِرِ أَنَّہُ قَالَ: رَأَیْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ یَقْتُلُ الْقَمْلَۃَ وَالْبَرَاغِیثَ فِی الصَّلاَۃِ۔
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: لاَ بَأْسَ بَقَتْلِ الْقَمْلِ فِی الصَّلاَۃِ وَلَکِنْ لاَ یَعْبَثُ۔
وَرُوِّینَا عَنْ مَالِکِ بْنِ یَخَامِرِ أَنَّہُ قَالَ: رَأَیْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ یَقْتُلُ الْقَمْلَۃَ وَالْبَرَاغِیثَ فِی الصَّلاَۃِ۔
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: لاَ بَأْسَ بَقَتْلِ الْقَمْلِ فِی الصَّلاَۃِ وَلَکِنْ لاَ یَعْبَثُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز ختم کرنے کا بیان
(٣٦١٠) (ا) عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں سے کچھ حصہ شیطان کے لیے نہ چھوڑے یعنی صرف داہنی طرف نہ مڑے (بلکہ بائیں طرف بھی مڑے) ۔
میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو متعدد بار بائیں طرف (بھی) مڑتے ہوئے دیکھا ہے۔
(ب) یہ شعبہ کی حدیث کے الفاظ ہیں اور ابو اسامہ کی حدیث میں نصیبًا کی جگہ جزء ا ہے اور عن یسارہ کی جگہ عن شمالہ ہے۔
میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو متعدد بار بائیں طرف (بھی) مڑتے ہوئے دیکھا ہے۔
(ب) یہ شعبہ کی حدیث کے الفاظ ہیں اور ابو اسامہ کی حدیث میں نصیبًا کی جگہ جزء ا ہے اور عن یسارہ کی جگہ عن شمالہ ہے۔
(۳۶۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ
(ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ عَنِ الأَسْوَدِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: لاَ یَجْعَلْ أَحَدُکُمْ لِلشَّیْطَانِ نَصِیبًا مِنْ صَلاَتِہِ یَرَی أَنَّ حَقًّا عَلَیْہِ أَنْ لاَ یَنْصَرِفَ إِلاَّ عَنْ یَمِینِہِ ، لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَکْثَرَ مَا یَنْصَرِفَ عَنْ یَسَارِہِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ شُعْبَۃَ وَفِی حَدِیثِ أَبِی أُسَامَۃَ جُزْئً ا بَدَلَ نَصِیبًا وَقَالَ عَنْ شِمَالِہِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الأَعْمَشِ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۸۱۴]
(ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ عَنِ الأَسْوَدِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: لاَ یَجْعَلْ أَحَدُکُمْ لِلشَّیْطَانِ نَصِیبًا مِنْ صَلاَتِہِ یَرَی أَنَّ حَقًّا عَلَیْہِ أَنْ لاَ یَنْصَرِفَ إِلاَّ عَنْ یَمِینِہِ ، لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَکْثَرَ مَا یَنْصَرِفَ عَنْ یَسَارِہِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ شُعْبَۃَ وَفِی حَدِیثِ أَبِی أُسَامَۃَ جُزْئً ا بَدَلَ نَصِیبًا وَقَالَ عَنْ شِمَالِہِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الأَعْمَشِ۔
[صحیح۔ اخرجہ البخاری ۸۱۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز ختم کرنے کا بیان
(٣٦١١) (ا) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی اپنی نماز میں شیطان کے لیے کچھ حصہ نہ چھوڑے، یعنی صرف داہنی طرف نہ مڑے بلکہ بائیں طرف بھی مڑے۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کئی مرتبہ بائیں طرف سے پھرتے ہوئے دیکھا ہے۔
(ب) عمارہ بیان کرتے ہیں : یہ حدیث سننے کے بعد میں مدینہ میں آیا تو میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکانات دیکھے، وہ آپ کی بائیں جانب تھے۔
(ب) عمارہ بیان کرتے ہیں : یہ حدیث سننے کے بعد میں مدینہ میں آیا تو میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکانات دیکھے، وہ آپ کی بائیں جانب تھے۔
(۳۶۱۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سُلَیْمَانَ عَنْ عُمَارَۃَ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: لاَ یَجْعَلْ أَحَدُکُمْ نَصِیبًا لِلشَّیْطَانِ مِنْ صَلاَتِہِ أَنْ لاَ یَنْصَرِفَ إِلاَّ عَنْ یَمِینِہِ ، وَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَکْثَرَ مَا یَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِہِ۔
قَالَ عُمَارَۃُ: أَتَیْتُ الْمَدِینَۃَ بَعْدُ فَرَأَیْتُ مَنَازِلَ النَّبِیِّ -ﷺ- عَنْ یَسَارِہِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
قَالَ عُمَارَۃُ: أَتَیْتُ الْمَدِینَۃَ بَعْدُ فَرَأَیْتُ مَنَازِلَ النَّبِیِّ -ﷺ- عَنْ یَسَارِہِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز ختم کرنے کا بیان
(٣٦١٢) ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ننگے پاؤں اور جوتا پہنے ہوئے، کھڑے ہو کر اور بیٹھے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ آپ اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سے پھرا کرتے تھے۔
(۳۶۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرِ عَنْ أَبِی الأَوْبَرِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- یُصَلِّی حَافِیًا وَنَاعِلاً وَقَائِمًا وَقَاعِدًا ، وَیَنْفَتِلُ عَنْ یَمِینِہِ وَعَنْ شِمَالِہِ۔ [صحیح۔ اخرجہ الشافعی ۱۸۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز ختم کرنے کا بیان
(٣٦١٣) (ا) قبیصہ بن ہلب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے کبھی داہنی جانب پھرتے اور کبھی بائیں جانب اور اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے پر رکھتے تھے۔
(ب) امام شافعی (رح) بیان کرتے ہیں : اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی ایک طرف کوئی حاجت نہ ہوتی تو جدھر چاہتے پھرجاتے ۔ میں یہ خیال کرتا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پھرنا داہنی طرف ہوتا ہوگا کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داہنی طرف کو پسند فرماتے تھے جب تک کہ کسی چیز میں کوئی تنگی یا مشکل نہ ہوتی۔
(ج) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : حضرت عائشہ (رض) کی روایت گزر چکی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر اچھے کام میں داہنی طرف کو پسند کرتے تھے۔
(ب) امام شافعی (رح) بیان کرتے ہیں : اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی ایک طرف کوئی حاجت نہ ہوتی تو جدھر چاہتے پھرجاتے ۔ میں یہ خیال کرتا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پھرنا داہنی طرف ہوتا ہوگا کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داہنی طرف کو پسند فرماتے تھے جب تک کہ کسی چیز میں کوئی تنگی یا مشکل نہ ہوتی۔
(ج) امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : حضرت عائشہ (رض) کی روایت گزر چکی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر اچھے کام میں داہنی طرف کو پسند کرتے تھے۔
(۳۶۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوسَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ قَالَ قَالَ سُفْیَانُ وَحَدَّثَنَا سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ ہُلْبٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَنْصَرِفُ مَرَّۃً عَنْ یَمِینِہِ، وَمَرَّۃً عَنْ یَسَارِہِ، وَیَضَعُ إِحْدَی یَدَیْہِ عَلَی الأُخْرَی۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: فَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ حَاجَۃٌ فِی نَاحِیَۃٍ ، وَکَانَ یَتَوَجَّہُ مَا شَائَ أَحْبَبْتُ أَنْ یَکُونَ تَوَجُّہُہُ عَنْ یَمِینِہِ لِمَا کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یُحِبُّ مِنَ الْمَیَامِنِ غَیْرَ مُضَیِّقٍ عَلَیْہِ فِی شَیْئٍ مِنْ ذَلِکَ۔ قَالَ الشَّیْخُ: وَقَدْ مَضَی خَبَرُ عَائِشَۃَ فِی اسْتِحْبَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- التَّیَامُنَ فِی شَأْنِہِ کُلِّہِ۔[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ الترمذی ۳۰۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز ختم کرنے کا بیان
(٣٦١٤) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے اپنی داہنی طرف پھرتے تھے۔
(۳۶۱۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِیِّ أَخُو أَبِی حَامِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا أَبُو قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَنْصَرِفُ عَنْ یَمِینِہِ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ وَکِیعٍ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۷۰۸]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ وَکِیعٍ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ اخرجہ مسلم ۷۰۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نماز ختم کرنے کا بیان
(٣٦١٥) سدی بیان کرتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک (رض) سے پوچھا کہ میں جب نماز پڑھ لوں تو کس طرف سے پھروں داہنی یا بائیں طرف سے ؟ انھوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اکثر داہنی طرف سے ہی پھرتے دیکھا ہے۔
(۳۶۱۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنِ السُّدِّیِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ کَیْفَ أَنْصَرِفُ إِذَا صَلَّیْتُ عَنْ یَمِینِی أَوْ عَنْ یَسَارِی؟ فَقَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَکْثَرُ مَا رَأَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- یَنْصَرِفُ عَنْ یَمِینِہِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
তাহকীক: