আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৬৬ টি
হাদীস নং: ৫১১৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نابینا شخص کی امامت کا بیان
(٥١١٦) محمود بن ربیع انصاری فرماتے ہیں کہ عتبان بن مالک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے ہیں، جو بدر میں انصار کی جانب سے شریک ہوئے۔ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! میں نابینا ہوں اور اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں ۔ جب بارش ہوتی ہے وادی بہہ پڑتی ہے تو مسجد اور میرے گھر کے درمیان رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے، میں ان کو نماز نہیں پڑھا سکتا۔ اے اللہ کے رسول ! میں چاہتا ہوں آپ میرے گھر تشریف لائیں اور نماز پڑھ دیں۔
(۵۱۱۶) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا ابْنُ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ حَدَّثَنِی مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِیعِ الأَنْصَارِیُّ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ وَہُوَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِمَّنْ شَہِدَ بَدْرًا مِنَ الأَنْصَارِ : أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ : إِنِّی قَدْ أَنْکَرْتُ بَصَرِی وَأَنَا أُصَلِّی بِقَوْمِی فَإِذَا کَانَتِ الأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِی الَّذِی بَیْنِی وَبَیْنَہُمْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِیَ مَسْجِدَہُمْ فَأُصَلِّیَ بِہِمْ وَوَدِدْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَّکَ تَأْتِی فَتُصَلِّی فِی بَیْتِی وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۴۹۲۴]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۴۹۲۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نابینا شخص کی امامت کا بیان
(٥١١٧) انس بن مالک فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن ام مکتوم کو اپنا نائب بنایا، وہ لوگوں کی امامت کرواتے اور وہ نابینا تھے۔
(۵۱۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِیُّ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا ابْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- اسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَکْتُومٍ یَؤُمُّ النَّاسَ وَہُوَ أَعْمَی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نابینا شخص کی امامت کا بیان
(٥١١٨) ابو نباح فرماتے ہیں کہ میں نے انس (رض) سے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوذر سے کہا : سن اور اطاعت کر اگرچہ حبشی غلام ہو اور اس کا سر منکے کا سا ہو۔
(۵۱۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی أَبُو التَّیَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لأَبِی ذَرٍّ : ((اسْمَعْ وَأَطِعْ وَلَوْ لِحَبَشِیٍّ کَأَنَّ رَأْسَہُ زَبِیبَۃٌ))۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۶۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ غلام کی امامت کا بیان
(٥١١٩) انس بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سنو اور اطاعت کرو۔ اگرچہ تمہارے اوپر حبشی غلام ہی عامل بنایا گیا ہو۔ گویا اس کا سر منکے کا سا ہے۔
(۵۱۱۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنِی أَبُو التَّیَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اسْمَعُوا وَأَطِیعُوا وَإِنْ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبَشِیٌّ کَأَنَّ رَأْسَہُ زَبِیبَۃٌ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۷۱۴۲]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۷۱۴۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ غلام کی امامت کا بیان
(٥١٢٠) (الف) عبداللہ بن صامت ابو ذر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ ربذہ مقام پر گئے، وہاں نماز کی اقامت کہہ دی گئی اور ایک غلام ان کی امامت کرواتا تھا۔ کہا گیا : یہ ابوذر (رض) ہیں۔ وہ پیچھے جانے لگا تو ابوذر (رض) نے فرمایا : مجھے میرے خلیل یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے : سن، اطاعت کر، اگرچہ تمہارے اوپر حبشی غلام ہو، جو کان کٹا ہوا ہو۔
(ب) شعبہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں ہے کہ ایک غلام ان کو نماز پڑھاتا تھا، انھوں نے ابو ذر سے کہا : آگے بڑھو۔ آپ (رض) نے انکار کردیا۔ غلام آگے بڑھا اور نماز پڑھائی، پھر انھوں نے حدیث ذکر کی۔
(ب) شعبہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں ہے کہ ایک غلام ان کو نماز پڑھاتا تھا، انھوں نے ابو ذر سے کہا : آگے بڑھو۔ آپ (رض) نے انکار کردیا۔ غلام آگے بڑھا اور نماز پڑھائی، پھر انھوں نے حدیث ذکر کی۔
(۵۱۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی عِمْرَانَ الْجَوْنِیِّ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِی ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ انْتَہَی إِلَی الرَّبَذَۃِ وَقَدْ أُقِیمَتِ الصَّلاَۃُ فَإِذَا عَبْدٌ یَؤُمُّہُمْ قَالَ فَقِیلَ : ہَذَا أَبُو ذَرٍّ فَذَہَبَ یَتَأَخَّرُ فَقَالَ أَبُوذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَوْصَانِی خَلِیلِی -ﷺ- بِثَلاَثٍ أَسْمَعُ وَأَطِیعُ وَلَوْ کَانَ عَبْدًا حَبَشِیًّا مُجَدَّعَ الأَطْرَافِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ۔ وَرَوَاہُ مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ عَنْ شُعْبَۃَ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ فَإِذَا عَبْدٌ یُصَلِّی بِہِمْ فَقَالُوا لأَبِی ذَرٍّ : تَقَدَّمْ فَأَبَی فَتَقَدَّمَ الْعَبْدُ فَصَلَّی بِہِمْ ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیثَ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْبَخْتَرِیِّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ فَذَکَرَہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُعَاذٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۶۴۸]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ۔ وَرَوَاہُ مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ عَنْ شُعْبَۃَ فَقَالَ فِی الْحَدِیثِ فَإِذَا عَبْدٌ یُصَلِّی بِہِمْ فَقَالُوا لأَبِی ذَرٍّ : تَقَدَّمْ فَأَبَی فَتَقَدَّمَ الْعَبْدُ فَصَلَّی بِہِمْ ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیثَ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْبَخْتَرِیِّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ فَذَکَرَہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُعَاذٍ۔ [صحیح۔ مسلم ۶۴۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ غلام کی امامت کا بیان
(٥١٢١) ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں : ہم ام المؤمنین عائشہ (رض) کی خدمت میں وادی کے بلند مقام پر حاضر ہوا کرتے تھے۔ میں، عبید بن عمیر، مسور بن مخرمہ اور بہت سے لوگ تھے۔ ہماری امامت عائشہ (رض) کے غلام ابو عمرو کرواتے تھے۔ ابو عمرو اس وقت تک آزاد نہ ہوئے تھے اور بنو محمد بن ابی بکرہ اور بنو عروہ کے امام تھے۔
(۵۱۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ : أَنَّہُمْ کَانُوا یَأْتُونَ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا بِأَعْلَی الْوَادِی ہُوَ وَعُبَیْدُ بْنُ عُمَیْرٍ وَالْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَۃَ وَنَاسٌ کَثِیرٌ فَیَؤُمُّہُمْ أَبُو عَمْرٍو مَوْلَی عَائِشَۃَ۔وَأَبُو عَمْرٍو غُلاَمُہَا حِینَئِذٍ لَمْ یُعْتَقْ وَکَانَ إِمَامُ بَنِی مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ وَعُرْوَۃَ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ عبد الرزاق ۳۸۲۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ غلام کی امامت کا بیان
(٥١٢٢) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ابو عمرو ذکوان عائشہ (رض) کے غلام تھے، انھوں نے اس کو آزاد کردیا۔ وہ رمضان میں ان کو قیام کرواتے تھے، ان کی امامت کرواتے تھے جب کہ وہ غلام تھے۔
(۵۱۲۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ و أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَۃَ : أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْحِجَازِیُّ الْحِمْصِیُّ بِحِمْصَ فِی صَفَرٍ سَنَۃَ سَبْعٍ وَسِتِّینَ وَمِائَتَیْنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْیَرِ بْنِ أُنَیْسٍ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ أَبَا عَمْرٍو ذَکْوَانَ کَانَ عَبْدًا لِعَائِشَۃَ فَأَعْتَقَتْہُ ، وَکَانَ یَقُومُ لَہَا فِی شَہْرِ رَمَضَانَ یَؤُمُّہَا وَہُوَ عَبْدٌ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ غلام کی امامت کا بیان
(٥١٢٣) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب پہلے مہاجر آئے تو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آنے سے پہلے جماعتوں کی شکل میں آرہے تھے اور ان کی امامت ابو حذیفہ کے غلام سالم کرا رہے تھے۔ وہ قرآن زیادہ پڑھے ہوئے تھے۔
(۵۱۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا أَنَسٌ یَعْنِی ابْنَ عِیَاضٍ قَالَ أبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُہَنِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ الْمُہَاجِرُونَ الأَوَّلُونَ نَزَلُوا الْعُصْبَۃَ قَبْلَ مَقْدَمِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَ یَؤُمُّہُمْ سَالِمٌ مَوْلَی أَبِی حُذَیْفَۃَ ، وَکَانَ أَکْثَرَہُمْ قُرْآنًا۔ زَادَ الْہَیْثَمُ وَفِیہِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الأَسَدِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْمُنْذِرِ عَنِ أَنَسِ بْنِ عِیَاضٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۶۰]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْمُنْذِرِ عَنِ أَنَسِ بْنِ عِیَاضٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۶۶۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ غلاموں کی امامت کا بیان
(٥١٢٤) نافع ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ابو حذیفہ کے غلام سالم پہلے آنے والے مہاجرین اور انصار صحابہ کی مسجد قبا میں امامت کرواتے تھے۔ ان میں ابوبکر ‘ عمر ‘ ابوسلمہ ‘ زید بن حارثہ اور عامر بن ربیعہ تھے۔
شیخ فرماتے ہیں : ابوبکر وعمر شاید کسی دوسرے وقت میں موجود تھے؛ کیونکہ ابوبکر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آئے ہیں یا ان کی امامت ہجرت سے پہلے اور بعد میں رہی اور راوی کی مراد بھی ہجرت کے بعد کی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں : ابوبکر وعمر شاید کسی دوسرے وقت میں موجود تھے؛ کیونکہ ابوبکر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آئے ہیں یا ان کی امامت ہجرت سے پہلے اور بعد میں رہی اور راوی کی مراد بھی ہجرت کے بعد کی ہے۔
(۵۱۲۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ ابْنُ جُرَیْجٍ : أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَہُمْ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَہُ قَالَ : کَانَ سَالِمٌ مَوْلَی أَبِی حُذَیْفَۃَ یَؤُمُّ الْمُہَاجِرِینَ الأَوَّلِینَ وَأَصْحَابَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- مِنَ الأَنْصَارِ فِی مَسْجِدِ قُبَائَ فِیہِمْ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَأَبُو سَلَمَۃَ وَزَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ وَعَامِرُ بْنُ رَبِیعَۃَ ۔
قَالَ الشَّیْخُ کَذَا قَالَ فِی ہَذَا وَفِیمَا قَبْلَہُ فِیہِمْ أَبُو بَکْرٍ وَلَعَلَّہُ فِی وَقْتٍ آخَرَ فَإِنَّہُ إِنَّمَا قَدِمَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَیُحْتَمَلُ أَنْ تَکُونَ إِمَامَتُہُ إِیَّاہُمْ قَبْلَ قُدُومِہِ وَبَعْدَہُ وَقَوْلُ الرَّاوِی وَفِیہِمْ أَبُو بَکْرٍ أَرَادَ بَعْدَ قُدُومِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ عبد الرزاق ۳۸۰۷]
قَالَ الشَّیْخُ کَذَا قَالَ فِی ہَذَا وَفِیمَا قَبْلَہُ فِیہِمْ أَبُو بَکْرٍ وَلَعَلَّہُ فِی وَقْتٍ آخَرَ فَإِنَّہُ إِنَّمَا قَدِمَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَیُحْتَمَلُ أَنْ تَکُونَ إِمَامَتُہُ إِیَّاہُمْ قَبْلَ قُدُومِہِ وَبَعْدَہُ وَقَوْلُ الرَّاوِی وَفِیہِمْ أَبُو بَکْرٍ أَرَادَ بَعْدَ قُدُومِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ عبد الرزاق ۳۸۰۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ غلاموں کی امامت کا بیان
(٥١٢٥) نافع بن عبد الحارث خزاعی عمر بن خطاب (رض) کو عسفان نامی جگہ پر ملے۔ عمر (رض) نے ان کو اہل مکہ کا عامل بنایا تھا۔ انھوں نے عمر (رض) کو سلام کیا تو حضرت عمر (رض) نے پوچھا : اس وادی پر کس کو نائب بنایا ہے ؟ فرمایا : میں ابن ابزیٰ کو نائب بنا کے آیا ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : ابن ابزی کون ؟ فرمایا : وہ ہمارا غلام ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تو نے ایک غلام کو نائب بنایا ہے ! فرمایا : اے امیر المؤمنین ! وہ قرآن کا قاری اور فرائض یعنی وراثت کا عالم ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو بلندیاں عطا فرماتے ہیں اور بہت سوں کو ذلیل و رسوا بھی کرتے ہیں۔
(۵۱۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ حَدَّثَنَا شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی عَامِرُ بْنُ وَاثِلَۃَ اللَّیْثِیُّ : أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ الْخُزَاعِیَّ لَقِیَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِعُسْفَانَ ، وَکَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ اسْتَعْمَلَہُ عَلَی أَہْلِ مَکَّۃَ۔فَسَلَّمَ عَلَی عُمَرَ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مَنِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَی أَہْلِ الْوَادِی؟ فَقَالَ : اسْتَخْلَفْتُ عَلَیْہِمُ ابْنَ أَبْزَی۔فَقَالَ عُمَرُ : مَنِ ابْنُ أَبْزَی؟ فَقَالَ نَافِعٌ : مَوْلًی مِنْ مَوَالِینَا۔فَقَالَ عُمَرُ : وَاسْتَخْلَفْتَ عَلَیْہِمْ مَوْلًی فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّہُ قَارِئٌ لِکِتَابِ اللَّہِ عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ۔فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ قَالَ : ((إِنَّ اللَّہَ یَرْفَعُ بِہَذَا الْکِتَابِ أَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہِ آخَرِینَ))۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبِی بَکْرِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ مسلم ۸۱۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ غلاموں کی امامت کا بیان
(٥١٢٦) ابو سعید نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت فرماتے ہیں کہ جب تم تین سفر میں ہو تو ایک امامت کروائے اور امامت کا حق دار وہ ہے جو سب سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہے۔
(۵۱۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا کَانُوا ثَلاَثَۃً فِی سَفَرٍ فَلْیَؤُمَّہُمْ أَحَدُہُمْ وَأَحَقُّہُمْ بِالإِمَامَۃِ أَقْرَؤُہُمْ))۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ وَغَیْرِہِ عَنْ قَتَادَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۶۷۲]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ وَغَیْرِہِ عَنْ قَتَادَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۶۷۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عجمی اور واضح غلطی کرنے والے کی امامت کی کراہت کا بیان
(٥١٢٧) عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ مکہ کے ارد گرد ایک جماعت جمع ہوگئی۔ میرا گمان ہے کہ وادی کے بالائی علاقہ میں اور حج کے ایام میں۔ نماز کا وقت آگیا تو آل ابو سائب میں سے ایک عجمی شخص آگے بڑھا تو مسور بن مخرمہ نے اس کو پیچھے کردیا اور کسی اور کو آگے کیا۔ یہ بات حضرت عمر (رض) کو پہنچی تو انھوں نے اس بارے میں کچھ نہیں پوچھا، جب وہ مدینہ آئے تو پوچھا : مسور بن مخرمہ (رض) نے فرمایا : اے امیر المؤمنین ! میری بات دھیان سے سنیں ، یہ شخص عجمی ہے اور حج کے ایام میں بعض حاجی اس کی قرآن سنتے اور عجمیوں والی قرات کو یاد کرلیتے ہیں تو حضرت عمر (رض) نے کہا : کیا آپ ان کو لے کر گئے تھے ؟ فرمایا : ہاں، عمر (رض) نے فرمایا : آپ نے درست کام کیا۔
(۵۱۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِی عَطَائٌ قَالَ سَمِعْتُ عُبَیْدُ بْنُ عُمَیْرٍ یَقُولُ : اجْتَمَعَتْ جَمَاعَۃٌ فِیمَا حَوْلَ مَکَّۃَ قَالَ حَسِبْتُ أَنَّہُ قَالَ فِی أَعْلَی الْوَادِی ہَا ہُنَا ، وَفِی الْحَجِّ قَالَ : فَحَانَتِ الصَّلاَۃُ فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِی السَّائِبِ أَعْجَمِیُّ اللِّسَانِ قَالَ : فَأَخَّرَہُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَۃَ ، وَقَدَّمَ غَیْرَہُ ، فَبَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَلَمْ یُعَرِّفْہُ بِشَیْئٍ حَتَّی جَائَ الْمَدِینَۃَ۔فَلَمَّا جَائَ الْمَدِینَۃَ عَرَّفَہُ بِذَلِکَ۔ فَقَالَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَۃَ : أَنْظِرْنِی یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّ الرَّجُلَ کَانَ أَعْجَمِیَّ اللِّسَانِ ، وَکَانَ فِی الْحَجِّ فَخَشِیتُ أَنْ یَسْمَعَ بَعْضُ الْحَاجِّ قِرَائَ تَہُ فَیَأْخُذَ بِعُجْمَتِہِ۔ فَقَالَ ہُنَالِکَ : ذَہَبْتَ بِہَا۔فَقَالَ: نَعَمْ فَقَالَ: قَدْ أَصَبْتَ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ الشافعی فی الام ۱/۲۹۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عجمی اور واضح غلطی کرنے والے کی امامت کی کراہت کا بیان
(٥١٢٨) ابوبکرہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے مجھے ایک بات کے ذریعے نفع دیا جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی، اس کے بعد میں نے خیال کیا کہ میں اصحابِ جمل کے ساتھ لڑائی کروں گا، کیونکہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر ملی کہ لوگوں نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا بادشاہ بنا لیا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پا سکے گی جس نے اپنے معاملات عورت کے سپرد کردیے۔
(۵۱۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ قَالَ : قَدْ نَفَعَنِی اللَّہُ بِکَلِمَۃٍ سَمِعْتُہَا مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بَعْدَ مَا کِدْتُ أَنْ أَلْحَقَ بِأَصْحَابِ الْجَمَلِ فَأُقَاتِلُ مَعَہُمْ۔ بَلَغَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّ أَہْلَ فَارِسَ مَلَّکُوا عَلَیْہِمُ ابْنَۃَ کِسْرَی۔فَقَالَ : ((لَنْ یُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَہُمُ امْرَأَۃً))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْہَیْثَمِ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۱۶۴]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْہَیْثَمِ۔ [صحیح۔ بخاری ۴۱۶۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کوئی مرد عورت کو امام نہ بنائے
(٥١٢٩) ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مردوں کی بہترین صفیں پہلی ہیں اور بد ترین آخری ہیں اور عورتوں کی بہترین صفیں آخری ہیں اور بد ترین پہلی ہیں۔
(۵۱۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُوطَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُوبَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحِیمِ بْنُ مُنِیبٍ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ حَدَّثَنَا سُہَیْلٌ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((خَیْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُہَا ، وَشَرُّہَا آخِرُہَا ، وَخَیْرُ صُفُوفِ النِّسَائِ آخِرُہَا ، وَشَرُّہَا أَوَّلُہَا))۔ [صحیح۔ مسلم ۴۴۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৩০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کوئی مرد عورت کو امام نہ بنائے
(٥١٣٠) سابقہ حدیث کی طرح ہے
(۵۱۳۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَرِیرٍ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَرِیرٍ ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৩১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ کوئی مرد عورت کو امام نہ بنائے
(٥١٣١) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر تھے ، فرمایا : خبردار ! کوئی عورت کسی مرد کی امامت نہ کروائے۔
(۵۱۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الدَّقِیقِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا الْفُضَیْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنِی الْوَلِیدُ بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی مِنْبَرِہِ یَقُولُ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔وَفِیہِ : ((أَلاَ وَلاَ تَؤُمَّنَّ امْرَأَۃٌ رَجُلاً))۔وَہَذَا حَدِیثٌ فِی إِسْنَادِہٍ ضَعْفٌ۔ وَیُرْوَی مِنْ وَجْہٍ آخَرَ ضَعِیفٍ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ قَوْلِہِ۔
وَہُوَ مَذْہَبُ الْفُقَہَائِ السَّبْعَۃِ مِنَ التَّابِعِینَ فَمَنْ بَعْدَہُمْ۔ [ضعیف جداً۔ ابن ماجہ ۱۰۸]
وَہُوَ مَذْہَبُ الْفُقَہَائِ السَّبْعَۃِ مِنَ التَّابِعِینَ فَمَنْ بَعْدَہُمْ۔ [ضعیف جداً۔ ابن ماجہ ۱۰۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৩২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تم اپنے امام بہترین لوگوں کو بناؤ اور حرامی بچے کی امامت کا حکم
(٥١٣٢) ابو مسعود انصاری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قوم کی امامت وہ کرائے جو قرآن کو سب سے زیادہ پڑھا ہوا ہو۔ اگر قرآن میں برابر ہوں تو میرا گمان ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو سنت کو زیادہ جانتا ہو۔ اگر سنت میں بھی برابر ہوں تو وہ جو ہجرت میں مقدم ہو اور اگر ہجرت میں برابر ہوں تو جو عمر میں بڑا ہو اور کوئی شخص کسی کی بادشاہت میں اس کی امامت نہ کروائے اور نہ ہی گھر میں اس کی عزت والی جگہ میں بیٹھے، لیکن اجازت کے بعد۔
(۵۱۳۲) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ رَجَائٍ عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الأَنْصَارِیَّ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((یَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُہُمْ لِکِتَابِ اللَّہِ فَإِنْ کَانُوا فِی الْقِرَائَ ۃِ سَوَائً أَظُنُّہُ قَالَ فَأَعْلَمُہُمْ بِالسُّنَّۃِ ، فَإِنْ کَانُوا فِی السُّنَّۃِ سَوَائً فَأَقْدَمُہُمْ ہِجْرَۃً ، فَإِنْ کَانُوا فِی الْہِجْرَۃِ سَوَائً فَأَقْدَمُہُمْ سِنًّا وَلاَ یُؤَمُّ الرَّجُلُ فِی سُلْطَانِہِ ، وَلاَ یُجْلَسُ عَلَی تَکْرِمَتِہِ فِی بَیْتِہِ إِلاَّ بِإِذْنِہِ))۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ مسلم ۶۷۳]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح۔ مسلم ۶۷۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৩৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تم اپنے امام بہترین لوگوں کو بناؤ اور حرامی بچے کی امامت کا حکم
(٥١٣٣) سعید بن جبیر ابن عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم امام اپنے بہترین لوگوں کو بناؤ؛ کیونکہ یہ تمہارے اور اللہ کے درمیان قاصد ہوتے ہیں۔
(۵۱۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَسَدٍ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اجْعَلُوا أَئِمَّتَکُمْ خِیَارَکُمْ فَإِنَّہُمْ وَفْدُکُمْ فِیمَا بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ رَبِّکُمْ))۔ إِسْنَادُ ہَذَا الْحَدِیثِ ضَعِیفٌ۔ [منکر۔ حاکم ۳/۲۴۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৩৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تم اپنے امام بہترین لوگوں کو بناؤ اور حرامی بچے کی امامت کا حکم
(٥١٣٤) یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ عقیق نامی جگہ پر ایک شخص لوگوں کی امامت کرواتا تھا۔ عمر بن عبد العزیز نے اس کو امامت سے روک دیا۔ امام مالک فرماتے ہیں : اس کے باپ کا علم نہیں تھا۔
(۵۱۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمَہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ : أَنَّ رَجُلاً کَانَ یَؤُمُّ نَاسًا بِالْعَقِیقِ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ فَنَہَاہُ۔قَالَ مَالِکٌ : وَإِنَّمَا نَہَاہُ لأَنَّہُ کَانَ لاَ یُعْرَفُ أَبُوہُ۔ [صحیح۔ مالک ۳۰۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৩৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ تم اپنے امام بہترین لوگوں کو بناؤ اور حرامی بچے کی امامت کا حکم
(٥١٣٥) عبد العزیز بن رفیع فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء بن ابی رباح سے سوال کیا کہ اگر حرامی بچہ بیمار ہوجائے تو میں اس کی عیادت کروں ؟ فرمایا : ہاں۔ میں نے کہا : اگر فوت ہوجائے تو جنازہ پڑھوں ؟ فرمایا : ہاں، پھر میں نے کہا : اگر وہ گواہی دے تو اس کی گواہی جائز ہے ؟ فرمایا : ہاں، میں نے کہا : وہ امامت کروائے ؟ فرمایا : ہاں۔
(۵۱۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُوالْقَاسِمِ: عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عُبَیْدِاللَّہِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ الْحِرَفِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَیْرِ الْکُوفِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ ابْنُ أَخِی عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ قَالَ : سَأَلْتُ عَطَائَ بْنَ أَبِی رَبَاحٍ عَنْ وَلَدِ الزِّنَا إِنْ مَرِضَ أَعُودُہُ؟ قَال : نَعَمْ۔قُلْتُ : فَإِنْ مَاتَ أُصَلِّی عَلَیْہِ؟ قَالَ : نَعَمْ۔قُلْتُ : فَإِنْ شَہِدَ تَجُوزُ شَہَادَتُہُ؟ قَالَ : نَعَمْ۔قُلْتُ : یَؤُمُّ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ [ضعیف]
তাহকীক: