আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
کتاب الصلوة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২১৬৬ টি
হাদীস নং: ৫০৯৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بچوں کو طہارت اور نماز کی تعلیم دینا والدین کے ذمہ ہے
(٥٠٩٦) عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ اپنے بچوں سے نماز پر محافظت کراؤ۔
(۵۰۹۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ عَنْ عُمَارَۃَ عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ : حَافِظُوا عَلَی أَبْنَائِکُمْ فِی الصَّلاَۃِ۔ [حسن لغیرہٖ۔ الطبرانی فی الکبیر ۸۷۵۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৯৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بچوں کو طہارت اور نماز کی تعلیم دینا والدین کے ذمہ ہے
(٥٠٩٧) ایوب بن موسیٰ اپنے باپ سے دادہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اچھے ادب سے بڑھ کر کوئی والد اپنی اولاد کو تحفہ عطیہ نہیں دیتا۔
(۵۰۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَیْنِ السِّمْسَارُ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَاہَانَ الدِّینَوَرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ أَبِی عَامِرٍ الْخَزَّازُ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ مُوسَی عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدًا خَیْرًا لَہُ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ))۔
أَیُّوبُ بْنُ مُوسَی ہُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ عَامِرٍ وَہُوَ مُرْسَلٌ قَالَ الْبُخَارِیُّ لَمْ یَصِحَّ سَمَاعُ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔[ضعیف۔ ترمذی ۱۹۵۲]
أَیُّوبُ بْنُ مُوسَی ہُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ عَامِرٍ وَہُوَ مُرْسَلٌ قَالَ الْبُخَارِیُّ لَمْ یَصِحَّ سَمَاعُ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔[ضعیف۔ ترمذی ۱۹۵۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৯৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بچوں کو طہارت اور نماز کی تعلیم دینا والدین کے ذمہ ہے
(٥٠٩٨) عثمان الحاطبی کہتے ہیں : میں نے ابن عمر (رض) سے سنا، وہ ایک شخص سے کہہ رہے تھے : اپنے بیٹے کو ادب سکھا ، کیونکہ تجھ سے اپنی اولاد کے ادب کے بارے میں سوال ہوگا اور تو نے اس کو کیا تعلیم دی ہے کیونکہ وہ سوال کیا جائے گا نیکی اور اطاعت کے بارے میں۔
(۵۰۹۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الْحَاطِبِیُّ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ یَقُولُ لِرَجُلٍ أَدِّبِ ابْنَکَ فَإِنَّکَ مَسْئُولٌ عَنْ وَلَدِکَ مَاذَا أَدَّبْتَہُ ، وَمَاذَا عَلَّمْتَہُ ، وَإِنَّہُ مَسْئُولٌ عَنْ بِرِّکَ وَطَوَاعِیَتِہِ لَکَ۔
[حسن۔ اخرجہ المؤلف فی الشعب ۸۶۶۲ ]
[حسن۔ اخرجہ المؤلف فی الشعب ۸۶۶۲ ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৯৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بچوں کو طہارت اور نماز کی تعلیم دینا والدین کے ذمہ ہے
(٥٠٩٩) سعید بن عاص کہتے ہیں : جب میں اپنی اولاد کو تعلیم دوں اور ان کی شادی کر دوں اور میں ان کو اس قابل بناؤں تو میں نے ان کا حق ادا کردیا اور میرا حق ان کے ذمہ باقی ہے۔
(۵۰۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا طَلْحَۃُ بْنُ یَحْیَی عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ
قَالَ سَعِیدُ بْنُ الْعَاصِ : إِذَا عَلَّمْتُ وَلَدِی وَزَوَّجْتُہُ وَأَحْجَجْتُہُ فَقَدْ قَضَیْتُ حَقَّہُ وَبَقِیَ حَقِّی عَلَیْہِ۔
[حسن۔ ابن أبی شیبہ ۲۶۳۱۹]
قَالَ سَعِیدُ بْنُ الْعَاصِ : إِذَا عَلَّمْتُ وَلَدِی وَزَوَّجْتُہُ وَأَحْجَجْتُہُ فَقَدْ قَضَیْتُ حَقَّہُ وَبَقِیَ حَقِّی عَلَیْہِ۔
[حسن۔ ابن أبی شیبہ ۲۶۳۱۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ بچوں کو طہارت اور نماز کی تعلیم دینا والدین کے ذمہ ہے
(٥١٠٠) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ معاذ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عشا کی نماز پڑھتے، پھر بنو سلمہ کو جا کر عشا کی نماز پڑھاتے۔ راوی کہتے ہیں : ایک دن نبی نے عشا کی نماز مؤخر کردی، معاذ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی، پھر انھوں نے واپس آ کر اپنی قوم کی امامت کروائی اور اس میں سو رہ بقرہ پڑھی۔ ایک شخص نے الگ ہو کر نماز پڑھ لی۔ انھوں نے کہا : کیا تو منافق ہوگیا ہے ؟ کہنے لگا : نہیں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤں گا اور جا کر عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں تاخیر کی اور معاذ (رض) نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر واپس آ کر ہماری امامت کروائی اور اس نے سو رہ بقرہ شروع کردی، جب میں نے دیکھا تو پیچھے ہٹ گیا اور الگ نماز پڑھ لی، ہم تو پانی بھرنے والے ہیں اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معاذ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے معاذ ! کیا تو فتنہ باز ہے، اے معاذ کیا تو فتنہ باز ہے ! فلاں فلاں سورت پڑھا کرو۔
(۵۱۰۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ : أَنَّہُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ دِینَارٍ یَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ : کَانَ مُعَاذٌ یُصَلِّی مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- الْعِشَائَ أَوِ الْعَتَمَۃَ ثُمَّ یَرْجِعُ فَیُصَلِّیہَا لِقَوْمِہِ فِی بَنِی سَلِمَۃَ قَالَ : فَأَخَّرَ النَّبِیُّ -ﷺ- الْعِشَائَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَصَلَّی مُعَاذٌ مَعَہُ ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّ قَوْمَہُ فَقَرَأَ بِسُورَۃِ الْبَقَرَۃِ فَتَنَحَّی رَجُلٌ مِنْ خَلْفِہِ فَصَلَّی وَحْدَہُ فَقَالُوا لَہُ : أَنَافَقْتَ قَالَ : لاَ۔وَلَکِنِّی آتِی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَتَاہُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّکَ أَخَّرْتَ الْعِشَائَ وَإِنَّ مُعَاذًا صَلَّی مَعَکَ ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّنَا فَافْتَتَحَ بِسُورَۃِ الْبَقَرَۃِ فَلَمَّا رَأَیْتُ ذَلِکَ تَأَخَّرْتُ فَصَلَّیْتُ۔وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ نَعْمَلُ بِأَیْدِینَا فَأَقْبَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- عَلَی مُعَاذٍ فَقَالَ : ((أَفَتَّانٌ أَنْتَ یَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ اقْرَأْ بِسُورَۃِ کَذَا وَسُورَۃِ کَذَا))۔ [صحیح۔ بخاری ۶۶۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام اور مقتدی کی نیت کے مختلف ہونے اور دیگر مسائل کا بیان
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
(٥١٠١) جابر (رض) فرماتے ہیں کہ معاذ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھے تھے، پھر اپنی قوم کی امامت کرواتے تھے۔ ایک رات انھوں نے عشا کی نماز نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پڑھی، پھر اپنی قوم کے پاس آئے اور نماز میں سو رہ بقرہ شروع کردی، ایک شخص سلام پھیر کر الگ ہوگیا اور نماز پڑھ لی۔
(۵۱۰۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَبَّانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ مُعَاذٌ یُصَلِّی مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- ثُمَّ یَأْتِی فَیَؤُمُّ قَوْمَہُ فَصَلَّی مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- لَیْلَۃً الْعِشَائَ ، ثُمَّ أَتَی قَوْمَہُ فَافْتَتَحَ سُورَۃَ الْبَقَرَۃِ فَانْحَرَفَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّی وَحْدَہُ وَانْصَرَفَ۔وَذَکَرَ بَاقِی الْحَدِیثِ بِمَعْنَاہُ لَمْ یَقُلْ أَحَدٌ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ وَسَلَّمَ إِلاَّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَکِّیِّ۔ [صحیح۔ انظر ما قبلہ]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَکِّیِّ۔ [صحیح۔ انظر ما قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام اور مقتدی کی نیت کے مختلف ہونے اور دیگر مسائل کا بیان
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
(٥١٠٢) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ معاذ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر وہ اپنی قوم کے پاس آتے اور ان کی امامت کرواتے۔
(۵۱۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ مُعَاذًا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ یَأْتِی قَوْمَہُ فَیُصَلِّی بِہِمْ۔لَفْظُ حَدِیثِ عَارِمٍ وَفِی حَدِیثِ سُلَیْمَانَ ثُمَّ یَأْتِی أَصْحَابَہُ یَؤُمُّہُمْ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَارِمٍ وَسُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ الزَّہْرَانِیِّ۔ [صحیح۔ انظر ما قبلہ]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ مُعَاذًا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ یَأْتِی قَوْمَہُ فَیُصَلِّی بِہِمْ۔لَفْظُ حَدِیثِ عَارِمٍ وَفِی حَدِیثِ سُلَیْمَانَ ثُمَّ یَأْتِی أَصْحَابَہُ یَؤُمُّہُمْ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَارِمٍ وَسُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الرَّبِیعِ الزَّہْرَانِیِّ۔ [صحیح۔ انظر ما قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام اور مقتدی کی نیت کے مختلف ہونے اور دیگر مسائل کا بیان
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
(٥١٠٣) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ معاذ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر واپس جا کر اپنی قوم کی امامت کرواتے۔
(۵۱۰۳) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ کَانَ یُصَلِّی مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- ثُمَّ یَرْجِعُ فَیَؤُمُّ قَوْمَہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ انظر ما قبلہ]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ انظر ما قبلہ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام اور مقتدی کی نیت کے مختلف ہونے اور دیگر مسائل کا بیان
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
(٥١٠٤) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ معاذ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عشا کی نماز پڑھتے۔ پھر اپنی قوم کے پاس آتے اور ان کو بھی وہی نماز پڑھاتے۔
(۵۱۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا ہُشَیْمٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ مُعَاذًا کَانَ یُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْعِشَائَ ثُمَّ یَنْصَرِفُ فَیَأْتِی قَوْمَہُ فَیُصَلِّی بِہِمْ تِلْکَ الصَّلاَۃَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی ۔وَمَنْصُورٌ ہُوَ ابْنُ زَاذَانَ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۵۱۰۰]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ مُعَاذًا کَانَ یُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْعِشَائَ ثُمَّ یَنْصَرِفُ فَیَأْتِی قَوْمَہُ فَیُصَلِّی بِہِمْ تِلْکَ الصَّلاَۃَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی ۔وَمَنْصُورٌ ہُوَ ابْنُ زَاذَانَ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۵۱۰۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام اور مقتدی کی نیت کے مختلف ہونے اور دیگر مسائل کا بیان
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
(٥١٠٥) جابربن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ معاذ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عشا کی نماز پڑھتے تھے، پھر اپنی قوم کو آ کر نماز پڑھاتے تھے، یہ ان کی نفل اور مقتدیوں کے لیے فرض ہوتی۔
(۵۱۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ أَخْبَرَنِی جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ مُعَاذًا کَانَ یُصَلِّی مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- الْعِشَائَ ثُمَّ یَنْصَرِفُ إِلَی قَوْمِہِ فَیُصَلِّی بِہِمْ ہِیَ لَہُ تَطَوُّعٌ وَلَہُمْ فَرِیضَۃٌ ح۔ [صحیح۔ معنی سائفا]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০৬
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام اور مقتدی کی نیت کے مختلف ہونے اور دیگر مسائل کا بیان
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
(٥١٠٦) عمرو بن دینار بھی اس طرح فرماتے ہیں کہ وہ ان کو بھی وہی نماز پڑھاتے، یہ مقتدیوں کے لیے فرض اور ان کے لیے نفل ہوتی تھی۔
(۵۱۰۶) قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ وَأَبُو الأَزْہَرِ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَمْرُو بْنُ دِینَارٍ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ فَیُصَلِّی بِہِمْ تِلْکَ الصَّلاَۃَ ہِیَ لَہُ نَافِلَۃٌ وَلَہُمْ فَرِیضَۃٌ۔ [صحیح۔ معنی سالفاً]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০৭
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام اور مقتدی کی نیت کے مختلف ہونے اور دیگر مسائل کا بیان
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
(٥١٠٧) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ معاذ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عشا کی نماز پڑھتے، پھر اپنی قوم میں آ کر ان کو وہی نماز پڑھاتے۔
(۵۱۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ قَالَ حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مِقْسَمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : کَانَ مُعَاذٌ یُصَلِّی مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْعِشَائَ ثُمَّ یَأْتِی قَوْمَہُ فَیُصَلِّی بِہِمْ تِلْکَ الصَّلاَۃَ۔ [صحیح۔ معنی ایفاً]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০৮
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام اور مقتدی کی نیت کے مختلف ہونے اور دیگر مسائل کا بیان
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
(٥١٠٨) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کے ایک گروہ کو دو رکعات پڑھائیں، پھر سلام پھیر دیا، پھر دو رکعتیں دوسرے گروہ کو پڑھائیں اور سلام پھیر دیا۔
(۵۱۰۸) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- صَلَّی بِأَصْحَابِہِ بِطَائِفَۃٍ مِنْہُمْ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ صَلَّی بِالآخَرِینَ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ۔
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یُونُسُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرٍ وَثَبَتَ مَعْنَاہُ مِنْ حَدِیثِ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ۔ [صحیح لغیرہٖ]
وَکَذَلِکَ رَوَاہُ یُونُسُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرٍ وَثَبَتَ مَعْنَاہُ مِنْ حَدِیثِ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ۔ [صحیح لغیرہٖ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০৯
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام اور مقتدی کی نیت کے مختلف ہونے اور دیگر مسائل کا بیان
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
(٥١٠٩) ابوبکرہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو دو رکعات پڑھائیں اور دوسروں کو بھی دو رکعات ۔ یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چار رکعات ہوئیں اور ان کی دو دو رکعات۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ آخری دو گروہ کی رکعتیں ان کے لیے فرض اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے نفل شمار ہوں گی۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ آخری دو گروہ کی رکعتیں ان کے لیے فرض اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے نفل شمار ہوں گی۔
(۵۱۰۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِیِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمِ بْنِ حَیَّانَ الطُّوسِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- صَلَّی بِہَؤُلاَئِ رَکْعَتَیْنِ وَبِہَؤُلاَئِ رَکْعَتَیْنِ فَکَانَتْ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- أَرْبَعًا وَلَہُمْ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ واَلأَخِیرَۃُ مِنْ ہَاتَیْنِ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- نَافِلَۃٌ وَلِلآخَرِینَ فَرِیضَۃٌ۔ [صحیح لغیرہٖ]
قَالَ الشَّافِعِیُّ واَلأَخِیرَۃُ مِنْ ہَاتَیْنِ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- نَافِلَۃٌ وَلِلآخَرِینَ فَرِیضَۃٌ۔ [صحیح لغیرہٖ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১০
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام اور مقتدی کی نیت کے مختلف ہونے اور دیگر مسائل کا بیان
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
(٥١١٠) عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ عشا کی نماز رہ جاتی تو وہ مسجد میں آتے اور لوگ قیام میں ہوتے تو ان کے ساتھ دو رکعات پڑھ لیتے اور مزید دو رکعات پڑھ کر نماز پوری کرتے ، وہ اس کو عشا کی نماز خیال کرتے تھے۔
نوٹ : ایک قوم ابو رجا عطاردی کے پاس آئی، وہ ظہر کی نماز پڑھنا چاہتے تھے، لیکن جماعت ہوچکی تھی۔ وہ کہنے لگے : ہم تو آپ کے ساتھ نماز پڑھنے آئے تھے۔ وہ کہنے لگے : میں تمہیں نقصان میں نہیں چھوڑوں گا، پھر کھڑے ہوئے اور ان کے ساتھ نماز پڑھی۔
نوٹ : ایک قوم ابو رجا عطاردی کے پاس آئی، وہ ظہر کی نماز پڑھنا چاہتے تھے، لیکن جماعت ہوچکی تھی۔ وہ کہنے لگے : ہم تو آپ کے ساتھ نماز پڑھنے آئے تھے۔ وہ کہنے لگے : میں تمہیں نقصان میں نہیں چھوڑوں گا، پھر کھڑے ہوئے اور ان کے ساتھ نماز پڑھی۔
(۵۱۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ : أَنَّ عَطَائً کَانَ تَفُوتُہُ الْعَتَمَۃُ فَیَأْتِی وَالنَّاسُ فِی الْقِیَامِ فَیُصَلِّی مَعَہُمْ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ یَبْنِی عَلَیْہَا رَکْعَتَیْنِ وَإِنَّہُ رَآہُ فَعَلَ ذَلِکَ وَیَعْتَدُّ بِہِ مِنَ الْعَتَمَۃِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ وَکَانَ وَہْبُ بْنُ مُنَبِّہٍ وَالْحَسَنُ وَأَبُو رَجَائٍ الْعُطَارِدِیُّ یَقُولُونَ ہَذَا : جَائَ قَوْمُ أَبِی رَجَائٍ الْعُطَارِدِیِّ یُرِیدُونَ أَنْ یُصَلُّوا الظُّہْرَ فَوَجَدُوہُ قَدْ صَلَّی فَقَالُوا : مَا جِئْنَا إِلاَّ لِنُصَلِّیَ مَعَکَ فَقَالَ : لاَ أُخَیِّبُکُمْ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی بِہِمْ ذَکَرَ ذَلِکَ أَبُو قَطَنٍ عَنْ أَبِی خَلْدَۃَ عَنْ أَبِی رَجَائٍ الْعُطَارِدِیِّ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَیُرْوَی عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ مِثْلَ ہَذَا الْمَعْنَی وَیُرْوَی عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَرِیبٌ مِنْہُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الشافعی فی کتاب الام ۱/۳۰۵]
قَالَ الشَّافِعِیُّ وَکَانَ وَہْبُ بْنُ مُنَبِّہٍ وَالْحَسَنُ وَأَبُو رَجَائٍ الْعُطَارِدِیُّ یَقُولُونَ ہَذَا : جَائَ قَوْمُ أَبِی رَجَائٍ الْعُطَارِدِیِّ یُرِیدُونَ أَنْ یُصَلُّوا الظُّہْرَ فَوَجَدُوہُ قَدْ صَلَّی فَقَالُوا : مَا جِئْنَا إِلاَّ لِنُصَلِّیَ مَعَکَ فَقَالَ : لاَ أُخَیِّبُکُمْ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی بِہِمْ ذَکَرَ ذَلِکَ أَبُو قَطَنٍ عَنْ أَبِی خَلْدَۃَ عَنْ أَبِی رَجَائٍ الْعُطَارِدِیِّ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَیُرْوَی عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ مِثْلَ ہَذَا الْمَعْنَی وَیُرْوَی عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَرِیبٌ مِنْہُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الشافعی فی کتاب الام ۱/۳۰۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১১
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام اور مقتدی کی نیت کے مختلف ہونے اور دیگر مسائل کا بیان
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
(٥١١١) ایک شخص نے طاؤس (رح) سے کہا : میں نے لوگوں کو قیام میں پایا تو میں نے اس کو عشا کی نماز بنا لیا، انھوں نے فرمایا : تو نے درست کیا۔
(۵۱۱۱) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ قَالَ إِنْسَانٌ لِطَاوُسٍ وَجَدْتُ النَّاسَ فِی الْقِیَامِ فَجَعَلْتُہَا الْعِشَائَ الآخِرَۃَ قَالَ أَصَبْتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১২
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ امام اور مقتدی کی نیت کے مختلف ہونے اور دیگر مسائل کا بیان
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے کا حکم
(٥١١٢) ابن عائذ فرماتے ہیں کہ تین آدمیوں کی جماعت جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے تھے مسجد میں آئی اور لوگ عصر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ظہر کی نماز سے فارغ ہوچکے تھے۔ انھوں نے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب فارغ ہوئے تو ایک دوسرے سے کہنے لگے : تم نے کیسے کیا ؟ ان میں سے ایک نے کہا : میں نے اس کو ظہر بنادیا۔ پھر میں نے عصر کی نماز پڑھ لی اور دوسرا کہتا ہے : میں نے اس کو عصر بنایا اور اس کے بعد ظہر پڑھ لی، تیسرے نے کہا : میں اس کو تحیۃ المسجد بنادیا، پھر ظہر وعصر کی نماز پڑھ لی تو کسی نے کسی پر کوئی عیب نہیں لگایا۔
(۵۱۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَلَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْخَلِیلِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ السَّلِیطِیُّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا الْوَضِینُ بْنُ عَطَائٍ عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَۃَ عَنِ ابْنِ عَائِذٍ قَالَ : دَخَلَ ثَلاَثَۃُ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْمَسْجِدَ وَالنَّاسُ فِی صَلاَۃِ الْعَصْرِ قَدْ فَرَغُوا مِنْ صَلاَۃِ الظُّہْرِ فَصَلُّوا مَعَ النَّاسِ ، فَلَمَّا فَرَغُوا قَالَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ : کَیْفَ صَنَعْتُمْ۔قَالَ أَحَدُہُمْ : جَعَلْتُہَا الظُّہْرَ ثُمَّ صَلَّیْتُ الْعَصْرَ۔وَقَالَ الآخَرُ : جَعَلْتُہَا الْعَصْرَ ثُمَّ صَلَّیْتُ الظُّہْرَ۔ وَقَالَ الآخَرُ : جَعَلْتُہَا لِلْمَسْجِدِ ثُمَّ صَلَّیْتُ الظُّہْرَ وَالْعَصْرَ فَلَمْ یَعِبْ بَعْضُہُمْ عَلَی بَعْضٍ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১৩
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عصر پڑھے ہوئے شخص کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھنے کا حکم
(٥١١٣) ابن جریج عطا سے نقل فرماتے ہیں کہ اگر تو عصر کی نماز پالے اور ظہر کی نماز نہ پڑھی ہو تو اس کو ظہر بنادے جو تو نے امام کے ساتھ پائی ہے اور اس کے بعد عصر پڑھ لے۔
(۵۱۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِیدِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ : إِنْ أَدْرَکْتَ الْعَصْرَ وَلَمْ تُصَلِّ الظُّہْرَ فَاجْعَلِ الَّتِی أَدْرَکْتَ مَعَ الإِمَامِ الظُّہْرَ وُصَلِّ الْعَصْرَ بَعْدَ ذَلِکَ ۔ [حسن۔ عبد الرزاق ۲۲۵۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১৪
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ عصر پڑھے ہوئے شخص کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھنے کا حکم
(٥١١٤) محمود بن ربیع فرماتے ہیں کہ عتبان بن مالک اپنی قوم کی امامت کرواتے تھے اور وہ نابینا تھے۔ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اندھیرا اور بارش ہوتی ہے اور میں نابینا آدمی ہوں۔ اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے گھر میں ایک جگہ نماز پڑھ دیں، میں اس کو جائے نماز بنا لوں گا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور فرمایا : تو کہاں پسند کرتا ہے کہ میں وہاں نماز پڑھوں ؟ تو انھوں نے گھر میں ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہاں نماز پڑھ دی۔
(۵۱۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِیعِ : أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ کَانَ یَؤُمُّ قَوْمَہُ وَہُوَ أَعْمَی فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِنَّہَا تَکُونُ الظُّلْمَۃُ وَالْمَطَرُ ، وَأَنَا رَجُلٌ ضَرِیرُ الْبَصَرِ فَصْلِّ یَا رَسُولَ اللَّہِ فِی بَیْتِی مَکَانًا أَتَّخِذُہُ مُصَلًّی فَجَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ((أَیْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّیَ؟))۔فَأَشَارَ لَہُ إِلَی الْمَکَانِ فِی الْبَیْتِ فَصَلَّی فِیہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَقَالَ مَکَانٍ مِنَ الْبَیْتِ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرِ الْمَطَرَ وَقَالَ السَّیْلُ۔ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۴۹۲۴]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِیعِ : أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ کَانَ یَؤُمُّ قَوْمَہُ وَہُوَ أَعْمَی فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِنَّہَا تَکُونُ الظُّلْمَۃُ وَالْمَطَرُ ، وَأَنَا رَجُلٌ ضَرِیرُ الْبَصَرِ فَصْلِّ یَا رَسُولَ اللَّہِ فِی بَیْتِی مَکَانًا أَتَّخِذُہُ مُصَلًّی فَجَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : ((أَیْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّیَ؟))۔فَأَشَارَ لَہُ إِلَی الْمَکَانِ فِی الْبَیْتِ فَصَلَّی فِیہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَقَالَ مَکَانٍ مِنَ الْبَیْتِ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرِ الْمَطَرَ وَقَالَ السَّیْلُ۔ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الزُّہْرِیِّ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۴۹۲۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১৫
کتاب الصلوة
পরিচ্ছেদঃ نابینا شخص کی امامت کا بیان
(٥١١٥) محمود بن ربیع عتبان بن مالک سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے گھر تشریف لائے۔۔۔ اس میں ہے کہ میں نے عتبان بن مالک کو دیکھا، وہ اپنی قوم بنو سالم کی امامت کروایا کرتے تھے اور وہ نابینا تھے۔
(۵۱۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْحِرَفِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ بِمَرْوَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْبِرْتِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِیعِ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَتَاہُ فِی مَنْزِلِہِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔وَفِیہِ قَالَ : وَرَأَیْتُ عِتْبَانَ یَؤُمُّ قَوْمَہُ بَنِی سَالِمٍ فِی مَسْجِدِہِمْ وَہُوَ أَعْمَی۔لَفْظُ حَدِیثِ الْبِرْتِیِّ
وَفِی رِوَایَۃِ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِیعِ الأَنْصَارِیِّ أَنَّہُ أَبْصَرَ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔
[صحیح۔ تقدم برقم ۴۹۲۴]
(ح) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ بِمَرْوَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْبِرْتِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِیعِ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَتَاہُ فِی مَنْزِلِہِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔وَفِیہِ قَالَ : وَرَأَیْتُ عِتْبَانَ یَؤُمُّ قَوْمَہُ بَنِی سَالِمٍ فِی مَسْجِدِہِمْ وَہُوَ أَعْمَی۔لَفْظُ حَدِیثِ الْبِرْتِیِّ
وَفِی رِوَایَۃِ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِیعِ الأَنْصَارِیِّ أَنَّہُ أَبْصَرَ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔
[صحیح۔ تقدم برقم ۴۹۲۴]
তাহকীক: