আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬১ টি
হাদীস নং: ১৮৭৭০
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ میں جب نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے ان کے گھر میں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کا اتنا آنا جانا دیکھا کہ میں انہیں اس گھر کا ایک فرد سمجھتا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَى أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَرَى أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ أَوْ مَا ذَكَرَ مِنْ هَذَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৭১
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی تکلیف دہ بات کو سن کر اللہ سے زیادہ اس پر صبر کرنے والا کوئی نہیں ہے اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرایا جاتا ہے لیکن وہ پھر بھی انہیں عافیت اور رزق دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَحَدٌ أَصْبَرَ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَدْعُونَ لَهُ وَلَدًا وَيُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৭২
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
خواجہ حسن (رح) کہتے ہیں حضرت ابوموسیٰ (رض) کا ایک بھائی تھا جو بڑھ چڑھ کر فتنے کے کاموں میں حصہ لیتا تھا وہ اسے منع کرتے لیکن وہ باز نہ آتا وہ اس سے فرماتے اگر میں یہ سمجھتا کہ تمہیں سی نصیحت بھی کافی ہوسکتی ہے جو میری رائے میں اس سے کم ہوتی (تب بھی میں تمہیں نصیحت کرتا) اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! یہ قاتل کی بات تو سمجھ میں آجاتی ہے مقتول کا کیا معاملہ ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ أَخًا لِأَبِي مُوسَى كَانَ يَتَسَرَّعُ فِي الْفِتْنَةِ فَجَعَلَ يَنْهَاهُ وَلَا يَنْتَهِي فَقَالَ إِنْ كُنْتُ أَرَى أَنَّهُ سَيَكْفِيكَ مِنِّي الْيَسِيرُ أَوْ قَالَ مِنْ الْمَوْعِظَةِ دُونَ مَا أَرَى وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৭৩
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا وہ اس وقت مرغی کھا رہے تھے وہ آدمی ایک طرف کو ہو کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ اسے نہیں کھاؤں گا کیونکہ میں مرغیوں کو گندکھاتے ہوئے دیکھتا ہوں، انہوں نے فرمایا قریب آجاؤ کیونکہ میں تمہیں اس کے متعلق بتاتاہوں۔ ایک مرتبہ میں اشعریین کے ایک گروہ کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ہم نے نبی کریم ﷺ سے سواری کے لئے جانوروں کی درخواست کی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا بخدا ! میں تمہیں سوار نہیں کرسکوں گا کیونکہ میرے پاس تمہیں سوار کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے ؟ ہم کچھ دیر " جب تک اللہ کو منظور ہوا " رکے رہے پھر نبی کریم ﷺ نے ہمارے لئے روشن پیشانی کے تین اونٹوں کا حکم دے دیا جب ہم واپس جانے لگے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس سواری کے جانور کی درخواست لے کر آئے تھے تو نبی کریم ﷺ نے قسم کھائی تھی کہ وہ ہمیں سواری کا جانور نہیں دیں گے واپس چلو تاکہ نبی کریم ﷺ کو ان کی قسم یاد دلادیں۔ چناچہ ہم دوبارہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم آپ کے پاس سواری کے جانور کی درخواست لے کر آئے تھے اور آپ نے قسم کھائی تھی کہ ہمیں سواری کا جانور نہیں دیں گے، پھر آپ نے ہمیں جانور دے دیا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں سوار نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے بخدا ! اگر اللہ کو منظور ہوا تو میں جب بھی کوئی قسم کھاؤں گا اور کسی دوسری چیز میں خیر دیکھوں گا تو اسی کو اختیار کر کے اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنِ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى فَقَدَّمَ فِي طَعَامِهِ لَحْمَ دَجَاجٍ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مَوْلًى فَلَمْ يَدْنُ قَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى ادْنُ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهُ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَطْعَمَهُ أَبَدًا فَقَالَ ادْنُ أُخْبِرْكَ عَنْ ذَلِكَ إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ وَهُوَ يَقْسِمُ نَعَمًا مِنْ نَعَمْ الصَّدَقَةِ قَالَ أَيُّوبُ أَحْسِبُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ فَانْطَلَقْنَا فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ فَقَالَ أَيْنَ هَؤُلَاءِ الْأَشْعَرِيُّونَ فَأَتَيْنَا فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى فَانْدَفَعْنَا فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْنَا فَحَمَلَنَا فَقُلْتُ نَسِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ وَاللَّهِ لَئِنْ تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ لَا نُفْلِحُ أَبَدًا ارْجِعُوا بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْنُذَكِّرْهُ يَمِينَهُ فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَيْنَاكَ نَسْتَحْمِلُكَ فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلْتَنَا فَعَرَفْنَا أَوْ ظَنَنَّا أَنَّكَ نَسِيتَ يَمِينَكَ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْطَلِقُوا فَإِنَّمَا حَمَلَكُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ أَبِي مُوسَى فَقُرِّبَ لَهُ طَعَامٌ فِيهِ دَجَاجٌ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ يُقَالُ لَهُ زَهْدَمٌ قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى فَأُتِيَ بِلَحْمِ دَجَاجٍ فَذَكَرَهُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ وَعَنْ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْأَشْعَرِيِّ إِخَاءٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَمَعْنَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৭৪
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں نماز اور اس کا طریقہ سکھایا اور فرمایا کہ امام کو تو مقرر ہی اقتداء کے لئے کیا جاتا ہے اس لئے وہ تکبیر جب کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ غیرالمغضوب علیہم ولا الضالین کہے تو آمین کہو اللہ اسے قبول کرلے گا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنالک الحمد کہو اللہ تمہاری ضرور سنے گا جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور سر اٹھائے گا یہ اس کے بدلے میں ہوجائے گا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَنَا وَسُنَّتَنَا فَقَالَ إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْكُمْ اللَّهُ تَعَالَى وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعْ اللَّهُ لَكُمْ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتِلْكَ بِتِلْكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৭৫
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! یہ بتائیے کہ ایک آدمی مال غنیمت کے لئے لڑتا ہے دوسرا آدمی اپنے آپ کو بہادرثابت کرنے کے لئے لڑتا ہے اور ایک آدمی ریاکاری کے لئے قتال کرتا ہے ان میں سے اللہ کے راستے میں قتال کرنے والا کون ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو اس لئے قتال کرتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہوجائے وہی اللہ کے راستہ میں قتال کرنے والا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَفَّانُ قَالَا ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ قَالَ ثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৭৬
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میرے ساتھ میری قوم کے کچھ لوگ بھی تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا خوشخبری قبول کرو اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو سنا دو کہ جو شخص صدق دل کے ساتھ لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا ہم نبی کریم ﷺ کے یہاں سے نکل کر لوگوں کو یہ خوشخبری سنانے لگے اچانک سامنے سے حضرت عمر (رض) آگئے وہ ہمیں لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! اس طرح تو لوگ اسی بات پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں گے اس پر نبی کریم ﷺ خاموش ہوگئے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي نَفَرٌ مِنْ قَوْمِي فَقَالَ أَبْشِرُوا وَبَشِّرُوا مَنْ وَرَاءَكُمْ إِنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ صَادِقًا بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُبَشِّرُ النَّاسَ فَاسْتَقْبَلَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَرَجَعَ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৭৭
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے یمن کی طرف بھیجا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! وہاں کچھ مشروبات رائج ہیں میں ان میں سے کون سا مشروب پیوں اور کون ساچھوڑوں ؟ نبی کریم ﷺ نے ان مشروبات کے نام پوچھے میں نے بتایا " تبع اور مزر " لیکن نبی کریم ﷺ سمجھ نہیں پائے کہ یہ کیسے مشروبات ہوتے ہیں اس لئے پوچھا کہ تبع اور مزر کسے کہتے ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ تبع تو جو کی اس نبیذ کو کہتے جسے خوب پکایا جاتا ہے اور مزر شہد کی نبیذ کو کہتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کوئی نشہ آور چیز مت پینا۔
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً فَمَا أَشْرَبُ وَمَا أَدَعُ قَالَ وَمَا هِيَ قُلْتُ الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ فَلَمْ يَدْرِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هُوَ فَقَالَ مَا الْبِتْعُ وَمَا الْمِزْرُ قَالَ أَمَّا الْبِتْعُ فَنَبِيذُ الذُّرَةِ يُطْبَخُ حَتَّى يَعُودَ بِتْعًا وَأَمَّا الْمِزْرُ فَنَبِيذُ الْعَسَلِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَشْرَبَنَّ مُسْكِرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৭৮
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوک نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی جہاد کے سفر میں تھے جس ٹیلے یا بلند جگہ پر چڑھتے یا کسی نشیب میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتے نبی کریم ﷺ نے ہمارے قریب آکر فرمایا لوگو ! اپنے ساتھ نرمی کرو، تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے، تم سمیع وبصیر کو پکار رہے ہو جو تمہاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے، اے عبداللہ بن قیس کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الاباللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے )
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَجَعَلْنَا لَا نَصْعَدُ شَرَفًا وَلَا نَعْلُو شَرَفًا وَلَا نَهْبِطُ فِي وَادٍ إِلَّا رَفَعْنَا أَصْوَاتَنَا بِالتَّكْبِيرِ قَالَ فَدَنَا مِنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَإِنَّكُمْ مَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا إِنَّمَا تَدْعُونَ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَتِهِ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَةً مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৭৯
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
ایک مرتبہ ابوبردہ نے حضرت عمربن عبدالعزیز (رض) کو اپنے والد صاحب کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو مسلمان بھی فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کسی یہودی یا عیسائی کو جہنم میں داخل کردیتا ہے، ابوبردہ نے گذشتہ حدیث حضرت عمرعبدالعزیز (رح) کو سنائی تو انہوں نے ابوبردہ سے اس اللہ کے نام کی قسم کھانے کے لئے کہا جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ یہ حدیث ان کے والد صاحب نے بیان کی ہے اور انہوں نے اسے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے اور سعید بن ابی بردہ، عوف کی اس بات کی تردید نہیں کرتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ وَهُوَ النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي الْقَاصَّ حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ لَمْ يَبْقَ مُؤْمِنٌ إِلَّا أُتِيَ بِيَهُودِيٍّ أَوْ نَصْرَانِيٍّ حَتَّى يُدْفَعَ إِلَيْهِ يُقَالُ لَهُ هَذَا فِدَاؤُكَ مِنْ النَّارِ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَاسْتَحْلَفَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَسَمِعْتَ أَبَا مُوسَى يَذْكُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ فَسُرَّ بِذَلِكَ عُمَرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৮০
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ غزوات میں انعامات بھی دیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُنَفِّلُ فِي مَغَازِيهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ صَالِحٍ أَنَّهُ كَانَ يُنَفِّلُ فِي مَغَازِيهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৮১
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تین قسم کے لوگوں کو دہرا اجر ملتا ہے وہ آدمی جس کے پاس کوئی باندی ہو اور وہ اسے عمدہ دلائے بہترین ادب سکھائے، پھر اسے آزاد کرکے اس سے نکاح کرلے تو اسے دہرا اجر ملے گا، اسی طرح وہ غلام جو اپنے اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہو اور اپنے آقا کا حق بھی ادا کرتا ہو یا اہل کتاب میں سے وہ آدمی جو اپنی شریعت پر بھی ایمان لایا ہو اور محمد ﷺ کی شریعت پر بھی ایمان لایا ہو، اسے بھی دہرا اجرملے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ صَالِحٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أُجُورَهُمْ مَرَّتَيْنِ رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ فَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا وَمَمْلُوكٌ أَعْطَى حَقَّ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحَقَّ مَوَالِيهِ وَرَجُلٌ آمَنَ بِكِتَابِهِ وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ لِي الشَّعْبِيُّ خُذْهَا بِغَيْرِ شَيْءٍ وَلَوْ سِرْتَ فِيهَا إِلَى كَرْمَانَ لَكَانَ ذَلِكَ يَسِيرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৮২
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو آدمی کسی جانور کا جھگڑا لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان میں میں سے کسی کے پاس بھی گواہ نہیں تھے نبی کریم ﷺ نے اسے ان دونوں کے درمیان نصف نصف مشترک قرار دے دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَابَّةٍ لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَجَعَلَهُ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৮৩
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الاباللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے )
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تَدْرِي أَوْ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৮৪
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوک نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی جہاد کے سفر میں تھے جس ٹیلے یا بلند جگہ پر چڑھتے یا کسی نشیب میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتے نبی کریم ﷺ نے ہمارے قریب آکر فرمایا لوگو ! اپنے ساتھ نرمی کرو، تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے، تم سمیع وبصیر کو پکار رہے ہو جو تمہاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے، اے عبداللہ بن قیس کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الاباللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے )
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالدُّعَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا إِنَّكُمْ تَدْعُونَ قَرِيبًا مُجِيبًا يَسْمَعُ دُعَاءَكُمْ وَيَسْتَجِيبُ ثُمَّ قَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَوْ يَا أَبَا مُوسَى أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৮৫
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
ابوعلی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ (رض) نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا لوگو ! اس شرک سے بچو کیونکہ اس کی آہٹ چیونٹی کی آہٹ سے بھی ہلکی ہوتی ہے یہ سن کر عبداللہ بن حزن اور قیس بن مضارب کھڑے ہو کر کہنے لگے اللہ کی قسم ! یا تو آپ اپنی بات کا حوالہ دیں گے یا پھر ہم حضرت عمر (رض) کے پاس جائیں گے خواہ ہمیں اس کی اجازت ملے یا نہیں انہوں نے کہا کہ میں تمہیں اس کا حوالہ دیتا ہوں ایک دن نبی کریم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا لوگو ! اس شرک سے بچو کیونکہ اس کی آہٹ چیونٹی کی آہٹ سے بھی ہلکی ہوتی ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ جب اس کی آہٹ چیونٹی کی آہٹ سے بھی ہلکی ہوتی ہے تو پھر ہم اس سے کیسے بچ سکتے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم یوں کہتے رہا کرو اے اللہ ! ہم اس بات سے آپ کی پناہ میں آتے ہیں کہ کسی چیز کو جان بوجھ کر آپ کے ساتھ شریک ٹھہرائیں اور اس چیز سے معافی مانگتے ہیں جسے ہم جانتے نہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ الْعَزْرَمِيَّ عَنْ أَبِي عَلِيٍّ رَجُلٍ مِنْ بَنِي كَاهِلٍ قَالَ خَطَبَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا هَذَا الشِّرْكَ فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَزْنٍ وَقَيْسُ بْنُ المُضَارِبِ فَقَالَا وَاللَّهِ لَتَخْرُجَنَّ مِمَّا قُلْتَ أَوْ لَنَأْتِيَنَّ عُمَرَ مَأْذُونٌ لَنَا أَوْ غَيْرُ مَأْذُونٍ قَالَ بَلْ أَخْرُجُ مِمَّا قُلْتُ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا هَذَا الشِّرْكَ فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ فَقَالَ لَهُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَكَيْفَ نَتَّقِيهِ وَهُوَ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُولُوا اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا نَعْلَمُهُ وَنَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا نَعْلَمُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৮৬
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں دو طرح کی امان تھی جن میں سے ایک اٹھ چکی ہے اور دوسری باقی ہے، (١) اللہ تعالیٰ انہیں آپ کی موجودگی میں عذاب نہیں دے گا (٢) اللہ انہیں اس وقت تک عذاب نہیں دے گا جب تک یہ استغفار کرتے رہیں گے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ أَمَانَانِ كَانَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُفِعَ أَحَدُهُمَا وَبَقِيَ الْآخَرُ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৮৭
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ آؤ آج کا دن اللہ کے لئے وقف کردیتے ہیں مجھے ایسا لگا جیسے نبی کریم ﷺ ہمارے سامنے موجود ہیں اور فرما رہے ہیں کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ آؤ ! آج کا دن اللہ کے لئے وقف کردیتے ہیں اور انہوں نے یہ بات اتنی مرتبہ دہرائی ہے کہ میں تمنا کرنے لگا کہ میں زمین میں اترجاؤں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَمَّنْ سَمِعَ حِطَّانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيَّ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَى قُلْتُ لِصَاحِبٍ لِي تَعَالَ فَلْنَجْعَلْ يَوْمَنَا هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَكَأَنَّمَا شَهِدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ تَعَالَ فَلْنَجْعَلْ يَوْمَنَا هَذَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَمَا زَالَ يُرَدِّدُهَا حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَسِيخَ فِي الْأَرْضِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৮৮
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
خواجہ حسن (رح) کہتے ہیں حضرت ابوموسیٰ (رض) کا ایک بھائی تھا جو بڑھ چڑھ کر فتنے کے کاموں میں حصہ لیتا تھا وہ اسے منع کرتے لیکن وہ باز نہ آتاوہ اس سے فرماتے اگر میں یہ سمجھتا کہ تمہیں سی نصیحت بھی کافی ہوسکتی ہے جو میری رائے میں اس سے کم ہوتی (تب بھی میں تمہیں نصیحت کرتا) اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ كَانَ لَهُ أَخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو رُهْمٍ وَكَانَ يَتَسَرَّعُ فِي الْفِتْنَةِ وَكَانَ الْأَشْعَرِيُّ يَكْرَهُ الْفِتْنَةَ فَقَالَ لَهُ لَوْلَا مَا أَبْلَغْتَ إِلَيَّ مَا حَدَّثْتُكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ الْتَقَيَا بِسَيْفَيْهِمَا فَقَتَلَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ إِلَّا دَخَلَا جَمِيعًا النَّارَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৮৯
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمام انگلیاں برابر ہوتی ہیں (دیت کے حوالے سے) یعنی ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّ أَبَا مُوسَى حَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الْأَصَابِعِ عَشْرًا عَشْرًا مِنْ الْإِبِلِ
তাহকীক: