আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬১ টি
হাদীস নং: ১৮৭৯০
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
عبید بن عمیر (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) نے حضرت عمر (رض) کو تین مرتبہ سلام کیا، انہیں اجازت نہیں ملی تو وہ واپس چلے گئے تھوڑی دیر بعد حضرت عمر (رض) نے فرمایا ابھی میں نے عبداللہ بن قیس کی آواز نہیں سنی تھی ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں حضرت عمر (رض) نے ان کے پیچھے قاصد کو بھیجا کہ واپس کیوں چلے گئے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے تین مرتبہ اجازت لی تھی جب مجھے اجازت نہیں ملی تو میں واپس چلا گیا ہمیں اسیکا حکم دیا جاتا تھا حضرت عمر (رض) نے فرمایا اس پر گواہ پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا، حضرت ابوموسیٰ (رض) انصار کی ایک مجلس میں پہنچے وہ لوگ کہنے لگے کہ اس بات کی شہادت تو ہم میں سب سے چھوٹا بھی دے سکتا ہے چناچہ حضرت ابوسعید خدری (رض) ان کے ساتھ چلے گئے اور اس کی شہادت دے دی تو حضرت عمر (رض) نے ان کا راستہ چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ إِنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا قَالَ وَاحِدَةً ثِنْتَيْنِ ثَلَاثَ ثُمَّ رَجَعَ أَبُو مُوسَى فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لَتَأْتِيَنَّ عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ قَالَ كَأَنَّهُ يَقُولُ أَجْعَلُكَ نَكَالًا فِي الْآفَاقِ فَانْطَلَقَ أَبُو مُوسَى إِلَى مَجْلِسٍ فِيهِ الْأَنْصَارُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُمْ فَقَالَ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ قَالُوا بَلَى لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَصْغَرُنَا قَالَ فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ هَذَا أَبُو سَعِيدٍ فَخَلَّى عَنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৯১
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کے سامنے سے ایک جنازہ تیزی سے لے کر گذرے نبی کریم ﷺ نے فرمایا سکون کے ساتھ چلنا چاہئے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن لَيْثٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ عَن أَبِيهِ قَالَ إِنَّ أُنَاسًا مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ يُسْرِعُونَ بِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَكُونَ عَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৯২
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کی نماز قبول نہیں کرتا جس کے جسم پر " خلوق " نامی خوشبو کا معمولی اثر بھی ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ عَن الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَن جَدِّهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةَ رَجُلٍ فِي جَسَدِهِ شَيْءٌ مِنْ الْخَلُوقِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৯৩
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس مسلمان کی مثال جو قرآن کریم پڑھتا ہے اترج کی سی ہے جس کا ذائقہ بھی عمدہ ہوتا ہے اور اس کی مہک بھی عمدہ ہوتی ہے، اس مسلمان کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور کی سی ہے جس کا ذائقہ تو عمدہ ہوتا ہے لیکن اس کی مہک نہیں ہوتی، اس گنہگار کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحان کی سی ہے جس کا ذائقہ تو کڑوا ہوتا ہے لیکن مہک عمدہ ہوتی ہے۔ اور اس فاجر کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اندرائن کی سی ہے جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی مہک بھی نہیں ہوتی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا ثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَن أَنَسٍ أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْفَاجِرِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ وَلَا رِيحَ لَهَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بِهَذَيْنِ كِلَيْهِمَا عَنْ قَتَادَةَ عَن أَنَسٍ عَن أَبِي مُوسَى عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৯৪
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) کے حوالے سے مروی ہے کہ ان پر بیہوشی طاری ہوئی تو لوگ رونے لگے جب انہیں افاقہ ہوا تو فرمایا میں اس شخص سے بری ہوں جس سے نبی کریم ﷺ بری ہیں لوگ ان کی بیوی سے اس کی تفصیل پوچھنے لگے انہوں نے جواب دیا کہ وہ شخص جو واویلا کرے، بال نوچے اور گریبان چاک کرے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن مَنْصُورٍ عَن إِبْرَاهِيمَ عَن يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ قَالَ أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى فَبَكَوْا عَلَيْهِ فَقَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوا عَنْ ذَلِكَ امْرَأَتَهُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَمَا عَلِمْتُمْ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ مِمَّنْ حَلَقَ وَسَلَقَ وَخَرَقَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৯৫
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) کے حوالے سے مروی ہے کہ ان پر بیہوشی طاری ہوئی تو لوگ رونے لگے جب انہیں افاقہ ہوا تو فرمایا میں اس شخص سے بری ہوں جس سے نبی کریم ﷺ بری ہیں لوگ ان کی بیوی سے اس کی تفصیل پوچھنے لگے انہوں نے جواب دیا کہ وہ شخص جو واویلا کرے، بال نوچے اور گریبان چاک کرے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن عَوْفٍ قَالَ سَمِعْتُ خَالِدًا الْأَحْدَبَ عَن صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى فَبَكَوْا عَلَيْهِ فَأَفَاقَ فَقَالَ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكُمْ مِمَّا بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ حَلَقَ وَسَلَقَ وَخَرَقَ وَحَدَّثَنَا بِهِمَا عَفَّانُ مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ فِيهِمَا جَمِيعًا مِمَّنْ حَلَقَ أَوْ سَلَقَ أَوْ خَرَقَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৯৬
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ (رض) آپ کے یہاں چوکیداری کرتے تھے ایک مرتبہ میں رات کو اٹھا تو نبی کریم ﷺ کو اپنی خواب گاہ میں نہ پایا مجھے طرح طرح کے خدشات اور وساوس پیش آنے لگے میں نبی کریم ﷺ کی تلاش میں نکلا تو حضرت معاذ (رض) سے ملاقات ہوگئی ان کی بھی وہی کیفیت تھی جو میری تھی ہم نے ایسی آواز سنی جو چکی کے چلنے سے پیدا ہوتی ہے اور اپنی پر ٹھٹک کر رک گئے اس آواز کی طرف سے نبی کریم ﷺ آرہے تھے۔ قریب آکر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں کہاں تھا اور میں کس حال میں تھا ؟ میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا تھا اور اس نے مجھے ان دو میں سے کسی ایک بات کا اختیار دیا کہ میری نصف امت جنت میں داخل ہوجائے یا مجھے شفاعت کا اختیار مل جائے تو میں نے شفاعت والے پہلو کو ترجیح دے لی دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ سے دعاء کردیجئے کہ وہ آپ کی شفاعت میں ہمیں بھی شامل کردے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم بھی اور ہر وہ شخص بھی جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو میری شفاعت میں شامل ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ عَن أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِي مُوسَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْرُسُهُ أَصْحَابُهُ فَقُمْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَمْ أَرَهُ فِي مَنَامِهِ فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدَثَ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا أَنَا بِمُعَاذٍ قَدْ لَقِيَ الَّذِي لَقِيتُ فَسَمِعْنَا صَوْتًا مِثْلَ هَزِيزِ الرَّحَا فَوَقَفَا عَلَى مَكَانِهِمَا فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِ الصَّوْتِ فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ أَيْنَ كُنْتُ وَفِيمَ كُنْتُ أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَجْعَلَنَا فِي شَفَاعَتِكَ فَقَالَ أَنْتُمْ وَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا فِي شَفَاعَتِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৯৭
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا رات کے وقت اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ دن میں گناہ کرنے والا توبہ کرلے اور دن میں اپنے ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ رات میں گناہ کرنے والا توبہ کرلے یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہوجاتا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَن أَبِي عُبَيْدَةَ عَن أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৯৮
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا غَالِبٌ التَّمَّارُ عَن مَسْرُوقِ بْنِ أَوْسٍ عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৭৯৯
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں اپنے کچھ نام بتائے جو ہمیں پہلے سے یاد اور معلوم نہ تھے چناچہ فرمایا کہ میں محمد ہوں، احمد، مقفی، حاشر اور نبی التوبہ اور نبی الملحمہ ہوں ﷺ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ و حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونٍَ أَنْبَأَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَن عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَن أَبِي عُبَيْدَةَ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ سَمَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ أَسْمَاءً مِنْهَا مَا حَفِظْنَا وَمِنْهَا مَا لَمْ نَحْفَظْ فَقَالَ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ والْمُقَفِّي وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَنَبِيُّ الْمَلْحَمَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮০০
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اشعریین کے ایک گروہ کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ہم نے نبی کریم ﷺ سے سواری کے لئے جانوروں کی درخواست کی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا بخدا ! میں تمہیں سوار نہیں کرسکوں گا کیونکہ میرے پاس تمہیں سوار کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے ؟ ہم کچھ دیر " جب تک اللہ کو منظور ہوا " رکے رہے پھر نبی کریم ﷺ نے ہمارے لئے روشن پیشانی کے تین اونٹوں کا حکم دے دیا جب ہم واپس جانے لگے تو ہم میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس سواری کے جانور کی درخواست لے کر آئے تھے تو نبی کریم ﷺ نے قسم کھائی تھی کہ وہ ہمیں سواری کا جانور نہیں دیں گے واپس چلو تاکہ نبی کریم ﷺ کو ان کی قسم یاد دلادیں۔ چناچہ ہم دوبارہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم آپ کے پاس سواری کے جانور کی درخواست لے کر آئے تھے اور آپ نے قسم کھائی تھی کہ ہمیں سواری کا جانور نہیں دیں گے، پھر آپ نے ہمیں جانور دے دیا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں سوار نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے بخدا ! اگر اللہ کو منظور ہوا تو میں جب بھی کوئی قسم کھاؤں گا اور کسی دوسری چیز میں خیر دیکھوں گا تو اسی کو اختیار کر کے اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَن سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَن أَبِي السَّلِيلِ عَن زَهْدَمٍ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ انْطَلَقْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ فَرَجَعْنَا فَبَعَثَ إِلَيْنَا بِثَلَاثٍ بُقْعِ الذُّرَى فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ حَلَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا فَقَالَ مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ إِنَّمَا حَمَلَكُمْ اللَّهُ تَعَالَى مَا عَلَى الْأَرْضِ يَمِينٌ أَحْلِفُ عَلَيْهَا فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮০১
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
ابوبردہ (رح) نے ایک مرتبہ اپنے بچوں سے کہا میرے بچو ! کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں ؟ میرے والد نے نبی کریم ﷺ کے حوالے سے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ جو شخص کسی غلام کو آزاد کرے اللہ اس کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم کی آگ سے آزاد فرمادے گا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ الْكُوفِيُّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى فَقَالَ أَيْ بَنِيَّ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَعْتَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنْ النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮০২
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے عمارت کی طرح ہوتا ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔ اور اچھے ہم نشین کی مثال عطار کی سی ہے کہ اگر وہ اپنے عطر کی شیشی تمہارے قریب بھی نہ لائے تو اس کی مہک تم تک پہنچے گی اور برے ہم نشین کی مثال بھٹی کی سی ہے کہ اگر وہ تمہیں نہ بھی جلائے تب بھی اس کی گرمی اور شعلے تو تم تک پہنچیں گے۔ اور امانت دار خزانچی وہ ہوتا ہے کہ اسے جس چیز کا حکم دیا جائے وہ اسے مکمل، پورا اور دل کی خوشی کے ساتھ ادا کردے تاکہ صدقہ کرنے والوں نے جسے دینے کا حکم دیا ہے اس تک وہ چیز پہنچ جائے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَن بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى رِوَايَةً قَالَ الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا وَمَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ مَثَلُ الْعَطَّارِ إِنْ لَمْ يُحْذِكَ مِنْ عِطْرِهِ عَلَقَكَ مِنْ رِيحِهِ وَمَثَلُ الْجَلِيسِ السُّوءِ مَثَلُ الْكِيرِ إِنْ لَمْ يُحْرِقْكَ نَالَكَ مِنْ شَرَرِهِ وَالْخَازِنُ الْأَمِينُ الَّذِي يُؤَدِّي مَا أُمِرَ بِهِ مُؤْتَجِرًا أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮০৩
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے عمارت کی طرح ہوتا ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَن بُرَيْدٍ عَن جَدِّهِ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮০৪
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) کے حوالے سے مروی ہے کہ ان پر بیہوشی طاری ہوئی تو ان کی بیوی رونے لگی جب انہیں افاقہ ہوا تو فرمایا میں کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کیا فرمایا ہے ؟ اس نے کہا کیوں نہیں پھر وہ خاموش ہوگئی ان کے انتقال کے بعد کسی نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے کیا فرمایا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو واویلا کرے، بال نوچے اور گریبان چاک کرے اس پر لعنت ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَن إِبْرَاهِيمَ عَن سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ عَن الْقَرْثَعِ قَالَ لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ صَاحَتْ امْرَأَتُهُ فَقَالَ لَهَا أَمَا عَلِمْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بَلَى ثُمَّ سَكَتَتْ فَلَمَّا مَاتَ قِيل لَهَا أَيُّ شَيْءٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنْ حَلَقَ أَوْ خَرَقَ أَوْ سَلَقَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮০৫
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں نماز اور اس کا طریقہ سکھایا اور فرمایا کہ امام کو تو مقررہیاقتداء کے لئے کیا جاتا ہے اس لئے جب وہ تکبیرک ہے تو تم بھی تکبیرکہو اور جب وہ غیرالمغضوب علیہم ولا الضالین کہے تو آمین کہو اللہ اسے قبول کرلے گا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنالک الحمد کہو اللہ تمہاری ضرور سنے گا جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا اور سر اٹھائے گا یہ اس کے بدلے میں ہوجائے گا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَن قَتَادَةَ عَن يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ عَن حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَنَا وَسُنَّتَنَا فَقَالَ إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْكُمْ اللَّهُ تَعَالَى وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعْ اللَّهُ لَكُمْ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ بِتِلْكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮০৬
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ سوال پوچھا کہ اگر کوئی آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان تک پہنچ نہیں پاتا تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَن الْأَعْمَشِ عَن شَقِيقٍ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ قَالَ أَبِي وَكَذَا حَدَّثَنَاهُ وَكِيعٌ عَن سُفْيَانَ عَن الْأَعْمَشِ عَن شَقِيقٍ عَن أَبِي مُوسَى وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ أَيْضًا عَن أَبِي مُوسَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮০৭
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن سُلَيْمَانَ عَن أَبِي وَائِلٍ عَن عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮০৮
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
شقیق (رح) کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اور حضرت ابوموسی اشعری (رض) کے ساتھ بیٹھے ہوئے حدیث کا مذاکرہ کررہے تھے حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کہنے لگے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت سے پہلے جو زمانہ آئے گا اس میں علم اٹھالیا جائے گا اور جہالت اترنے لگے گی اور " ہرج " کی کثرت ہوگی جس کا معنی قتل ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَن الْأَعْمَشِ عَن شَقِيقٍ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامًا يَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ وَيُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْهَرْجُ قَالَ الْقَتْلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮০৯
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ بتائیے کہ آدمی اپنے آپ کو بہادر ثابت کرنے کے لئے لڑتا ہے ایک آدمی قومی غیرت کے جذبے سے قتال کرتا ہے اور ایک آدمی ریاکاری کے لئے قتال کرتا ہے ان میں سے اللہ کے راستے میں قتال کرنے والا کون ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو اس لئے قتال کرتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہوجائے وہی اللہ کے راستہ میں قتال کرنے والا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَن شَقِيقٍ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرَّجُلِ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً وَيَقْتُلُ رِيَاءً فَأَيُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক: