আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৬১ টি

হাদীস নং: ১৮৮১০
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور پانچ باتیں بیان فرمائیں اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کو نیند نہیں آتی اور نہ ہی نیند ان کی شایان شان ہے وہ ترازو کو جھکاتے اور اونچا کرتے ہیں رات کے اعمال دن کے وقت اور دن کے اعمال رات کے وقت ان کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، اس کا حجاب نور ہے جو اگر وہ ہٹادے تو تاحد نگاہ ساری مخلوق جل جائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَن عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَن أَبِي عُبَيْدَةَ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ وَلَكِنَّهُ يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ حِجَابُهُ النُّورُ لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮১১
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی تکلیف دہ بات کو سن کر اللہ سے زیادہ اس پر صبر کرنے والا کوئی نہیں ہے اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرایا جاتا ہے لیکن وہ پھر بھی انہیں عافیت اور رزق دیتا ہے، اس کی مصیبتیں دور کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَن سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَن أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّهُ يُشْرَكُ بِهِ وَيُجْعَلُ لَهُ وَلَدٌ وَهُوَ يُعَافِيهِمْ وَيَدْفَعُ عَنْهُمْ وَيَرْزُقُهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮১২
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تین قسم کے لوگوں کو دہرا اجر ملتا ہے وہ آدمی جس کے پاس کوئی باندی ہو اور وہ اسے عمدہ دلائے بہترین ادب سکھائے، پھر اسے آزاد کرکے اس سے نکاح کرلے تو اسے دہرا اجر ملے گا، اسی طرح وہ غلام جو اپنے اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہو اور اپنے آقا کا حق بھی ادا کرتا ہو یا اہل کتاب میں سے وہ آدمی جو اپنی شریعت پر بھی ایمان لایا ہو اور محمد ﷺ کی شریعت پر بھی ایمان لایا ہو، اسے بھی دہرا اجر ملے گا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ عَن فِرَاسٍ عَن الشَّعْبِيِّ عَن أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ رَجُلٌ آمَنَ بِالْكِتَابِ الْأَوَّلِ وَالْكِتَابِ الْآخِرِ وَرَجُلٌ لَهُ أَمَةٌ فَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ أَوْ كَمَا قَالَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮১৩
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ میں اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا تھا جب فتح خیبر کو ابھی صرف تین دن گذرے تھے نبی کریم ﷺ نے ہمیں بھی اس میں سے حصہ دیا اور ہمارے علاوہ کسی ایسے آدمی کو مال غنیمت میں سے حصہ نہیں دیا جو اس غزوے میں شریک نہیں ہوا تھا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَن بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِيهِ عَن جَدِّهِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ قَوْمِي بَعْدَ مَا فَتَحَ خَيْبَرَ بِثَلَاثٍ فَأَسْهَمَ لَنَا وَلَمْ يَقْسِمْ لِأَحَدٍ لَمْ يَشْهَدْ الْفَتْحَ غَيْرِنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮১৪
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
اسید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم اصفہان سے حضرت ابوموسیٰ (رض) کے ساتھ واپس آرہے تھے ہم تیز رفتاری سفر کر رہے تھے کہ " عقیلہ " آگئی حضرت ابوموسیٰ (رض) نے فرمایا کوئی نوجوان ہے جوان کی باندی کو سواری سے اتارے میں نے کہا کیوں نہیں چناچہ میں نے اس کی سواری کو درخت کے قریب لے جا کر اسے اتارا پھر آکر لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جو نبی کریم ﷺ ہمیں سناتے تھے ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں اللہ کی رحمتیں آپ پر نازل ہوں انہوں نے فرمایا نبی کریم ﷺ ہمیں بتاتے تھے کہ قامت سے پہلے " ہرج " واقع ہوگا لوگوں نے پوچھا کہ " ہرج " سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قتل، لوگوں نے پوچھا اس تعداد سے بھی زیادہ جتنے ہم قتل کردیتے ہیں ؟ ہم تو ہر سال ستر ہزار سے زیادہ لوگ قتل کردیتے تھے ! نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس سے مراد مشرکین کو قتل کرنا نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کو قتل کرنا مراد ہے حتیٰ کہ آدمی اپنے پڑوسی، چچا، بھائی اور چچازاد بھائی کو قتل کردے گا لوگوں نے پوچھا کیا اس موقع پر ہماری عقلیں ہمارے ساتھ ہوں گی ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس زمانے کے لوگوں کی عقلیں چھین لی جائیں گی اور ایسے بیوقوف لوگ رہ جائیں گے جو یہ سمجھیں گے وہ کسی دین پر قائم ہیں حالانکہ وہ کسی دین پر نہیں ہوں گے۔ حضرت ابوموسی (رض) کہتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر وہ زمانہ آگیا تو میں اپنے اور تمہارے لئے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتا الاّ یہ کہ ہم اس سے اسی طرح نکل جائیں جیسے داخل ہوئے تھے اور کسی کے قتل یا مال میں ملوث نہ ہوں
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَن يُونُسَ عَن الْحَسَنِ أَنَّ أَسِيدَ بْنَ الْمُتَشَمِّسِ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ أَبِي مُوسَى مِنْ أَصْبَهَانَ فَتَعَجَّلْنَا وَجَاءَتْ عُقَيْلَةُ فَقَالَ أَبُو مُوسَى أَلَا فَتًى يُنْزِلُ كَنَّتَهُ قَالَ يَعْنِي أَمَةٌ الْأَشْعَرِيَّ فَقُلْتُ بَلَى فَأَدْنَيْتُهَا مِنْ شَجَرَةٍ فَأَنْزَلْتُهَا ثُمَّ جِئْتُ فَقَعَدْتُ مَعَ الْقَوْمِ فَقَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَاهُ فَقُلْنَا بَلَى يَرْحَمُكَ اللَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَا أَنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ الْهَرْجَ قِيلَ وَمَا الْهَرْجُ قَالَ الْكَذِبُ وَالْقَتْلُ قَالُوا أَكْثَرُ مِمَّا نَقْتُلُ الْآنَ قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ بِقَتْلِكُمْ الْكُفَّارَ وَلَكِنَّهُ قَتْلُ بَعْضِكُمْ بَعْضًا حَتَّى يَقْتُلَ الرَّجُلُ جَارَهُ وَيَقْتُلَ أَخَاهُ وَيَقْتُلَ عَمَّهُ وَيَقْتُلَ ابْنَ عَمِّهِ قَالُوا سُبْحَانَ اللَّهِ وَمَعَنَا عُقُولُنَا قَالَ لَا إِلَّا أَنَّهُ يَنْزِعُ عُقُولَ أَهْلِ ذَاكَ الزَّمَانِ حَتَّى يَحْسَبَ أَحَدُكُمْ أَنَّهُ عَلَى شَيْءٍ وَلَيْسَ عَلَى شَيْءٍ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ تُدْرِكَنِي وَإِيَّاكُمْ تِلْكَ الْأُمُورُ وَمَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مِنْهَا مَخْرَجًا فِيمَا عَهِدَ إِلَيْنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنْ نَخْرُجَ مِنْهَا كَمَا دَخَلْنَاهَا لَمْ نُحْدِثْ فِيهَا شَيْئًا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَن الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ عَن زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى فَقَدَّمَ طَعَامَهُ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ زَهْدَمٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَن أَيُّوبَ عَن أَبِي قِلَابَةَ عَن زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ أَيُّوبُ وَحَدَّثَنِيهِ الْقَاسِمُ الْكَلْبِيُّ عَن زَهْدَمٍ قَالَ فَأَنَا لِحَدِيثِ الْقَاسِمِ أَحْفَظُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى فَقَدَّمَ طَعَامَهُ فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ زَهْدَمٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَن أَيُّوبَ عَن أَبِي قِلَابَةَ عَن زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ أَيُّوبُ وَحَدَّثَنِيهِ الْقَاسِمُ الْكَلْبِيُّ عَن زَهْدَمٍ قَالَ فَأَنَا لِحَدِيثِ الْقَاسِمِ أَحْفَظُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ فَجِيءَ بِهَا وَعَلَيْهَا لَحْمُ دَجَاجٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮১৫
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کے سامنے سے ایک جنازہ تیزی سے لے کر گذرے نبی کریم ﷺ نے فرمایا سکون کو اپنے اوپر لازم کرلو۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَن أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَن أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِنَازَةٌ تُمْخَضُ مَخْضَ الزِّقِّ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ الْقَصْدَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮১৬
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بھوکے کو کھانا کھلایا کرو، قیدیوں کو چھڑایا کرو اور بیماروں کی عیادت کیا کرو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَن سُفْيَانَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَن أَبِي وَائِلٍ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُكُّوا الْعَانِيَ وَأَطْعِمُوا الْجَائِعَ وَعُودُوا الْمَرِيضَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮১৭
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا تھا جو اس نے ساری زمین سے اکٹھی کی تھی یہی وجہ سے کہ بنو آدم زمین ہی کی طرح ہیں چناچہ کچھ سفید ہیں، کچھ سرخ ہیں کچھ سیاہ فام ہیں اور کچھ اس کے درمیان، اسی طرح کچھ گندے ہیں اور کچھ عمدہ، کچھ نرم ہیں اور کچھ غمگین وغیرہ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ حَدَّثَنَا قَسَامَةُ بْنُ زُهَيْرٍ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَاه هَوْذَةُ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَن قَسَامَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَشْعَرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَى قَدْرِ الْأَرْضِ جَعَلَ مِنْهُمْ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ وَالْأَسْوَدَ وَبَيْنَ ذَلِكَ وَالسَّهْلَ وَالْحَزْنَ وَبَيْنَ ذَلِكَ وَالْخَبِيثَ وَالطَّيِّبَ وَبَيْنَ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮১৮
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی باغ میں تھا ایک آدمی آیا اور اس نے سلام کیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا جاؤ اسے اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری بھی سنادو میں گیا تو وہ حضرت ابوبکرصدق (رض) تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ مسلسل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے پھر دوسرا آدمی آیا اس نے بھی سلام کیا نبی کریم نے فرمایا اسے بھی اجازت اور خوشخبری دے دو میں گیا تو وہ حضرت عمر (رض) تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ مسلسل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے پھر تیسرا آدمی آیا اس نے بھی سلام کیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا جا کر اسے بھی اجازت دے دو اور ایک امتحان کے ساتھ جنت کی خوشخبری سنا دو میں گیا تو وہ حضرت عثمان (رض) تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور ایک سخت امتحان کے ساتھ جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ یہ کہتے ہوئے کہ " اے اللہ ! ثابت قدم رکھنا " آکر بیٹھ گئے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَن عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَن أَبِي مُوسَى أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ وَبِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُودٌ يَضْرِبُ بِهِ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْتَفْتِحُ فَقَالَ افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَإِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ يَسْتَفْتِحُ فَقَالَ افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ فَقَالَ افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ أَوْ بَلْوَى تَكُونُ قَالَ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ وَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ عَن أَبِي عُثْمَانَ عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ يَحْيَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ اللَّهُمَّ صَبْرًا وَعَلَى اللَّهِ التُّكْلَانُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮১৯
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ریشم اور سونا یہ دونوں میری امت کی عورتوں کے لئے حلال اور مردوں کے لئے حرام ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَن عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَن أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُحِلَّ لُبْسُ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ لِنِسَاءِ أُمَّتِي وَحُرِّمَ عَلَى ذُكُورِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮২০
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر آنکھ بدکاری کرتی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ثَابِتٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَارَةَ حَدَّثَنَا غُنَيْمُ بْنُ قَيْسٍ عَن أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮২১
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے (مجھے یمن کی طرف بھیجا) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! وہاں کچھ مشروبات رائج ہیں ایک تو تبع جو شہد سے بنتی ہے اور ایک مزر ہے اور وہ جو سے بنتی ہے آپ مجھے اس کے متعلق کیا حکم دیتے ہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کوئی نشہ آور چیز مت پینا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا قُرَّةُ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ عَن أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِأَهْلِ الْيَمَنِ شَرَابَيْنِ أَوْ أَشْرِبَةً هَذَا الْبِتْعُ مِنْ الْعَسَلِ وَالْمِزْرُ مِنْ الذُّرَةِ وَالشَّعِيرِ فَمَا تَأْمُرُنِي فِيهِمَا قَالَ أَنْهَاكُمْ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮২২
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوک نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی جہاد کے سفر میں تھے جس ٹیلے یا بلند جگہ پر چڑھتے یا کسی نشیب میں اترتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتے نبی کریم ﷺ نے ہمارے قریب آکر فرمایا لوگو ! اپنے ساتھ نرمی کرو، تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے، تم سمیع وبصیر کو پکار رہے ہو جو تمہاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے، اے عبداللہ بن قیس کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الا باللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے )
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَن التَّيْمِيِّ عَن أَبِي عُثْمَانَ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ أَخَذَ الْقَوْمُ فِي عُقْبَةٍ أَوْ ثَنِيَّةٍ فَكُلَّمَا عَلَا رَجُلٌ عَلَيْهَا نَادَى لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَةٍ يَعْرِضُهَا فِي الْخَيْلِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮২৩
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص گوٹیوں کے ساتھ کھیلتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ عَن يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ بَشِيرٍ عَن الْمُحَرَّرِ عَن مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُقَلِّبُ كَعَبَاتِهَا أَحَدٌ يَنْتَظِرُ مَا تَأْتِي بِهِ إِلَّا عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮২৪
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر مسلمان ایک یہودی یا عیسائی کو لے کر آئے گا اور کہے گا کہ یہ جہنم سے بچاؤ کے لئے میری طرف سے فدیہ ہے۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَن مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ عَن مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَن أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا يَأْتِي بِيَهُودِيٍّ أَوْ نَصْرَانِيٍّ يَقُولُ هَذَا فِدَائِي مِنْ النَّارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮২৫
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں اپنے کچھ نام بتائے جو ہمیں پہلے سے یاد اور معلوم نہ تھے چناچہ فرمایا کہ میں محمد ہوں، احمد، مقفی، حاشر اور نبی التوبہ اور نبی الملحمہ ہوں ﷺ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَا أَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَن عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَن أَبِي عُبَيْدَةَ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ سَمَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ أَسْمَاءً مِنْهَا مَا حَفِظْنَا قَالَ أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ والْمُقَفِّي وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ والْمَلْحَمَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮২৬
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) نے ایک مرتبہ اپنے بیٹے ابوبردہ سے کہا کہ بیٹا ! اگر تم نے وہ وقت دیکھا ہوتا تو کیسا لگتا کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے اور ہمارے اندر سے بھیڑ بکریوں جیسی مہک آرہی ہوتی تھی، (موٹے کپڑوں پر بارش کا پانی پڑنے کی وجہ سے )
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةَ عَن أَبِي بُرْدَةَ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَى يَا بُنَيَّ كَيْفَ لَوْ رَأَيْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِيحُنَا رِيحُ الضَّأْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮২৭
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی باغ میں تھا ایک آدمی آیا اور اس نے سلام کیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا جاؤ اسے اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری بھی سنادو میں گیا تو وہ حضرت ابوبکرصدق (رض) تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ مسلسل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے پھر دوسرا آدمی آیا اس نے بھی سلام کیا نبی کریم نے فرمایا اسے بھی اجازت اور خوشخبری دے دو میں گیا تو وہ حضرت عمر (رض) تھے میں نے ان سے کہا کہ اندر تشریف لے آئیے اور جنت کی خوشخبری قبول کیجئے وہ مسلسل اللہ کی تعریف کرتے ہوئے ایک جگہ پر بیٹھ گئے پھر تیسرا آدمی آیا اس نے بھی سلام کیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا جا کر اسے بھی اجازت دے دو اور ایک امتحان کے ساتھ جنت کی خوشخبری سنادو میں گیا تو وہ حضرت عثمان (رض) تھے چناچہ ایسا ہی ہوا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَ أَبُو الزِّنَادِ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ نَافِعٍ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا مُوسَى أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي حَائِطٍ بِالْمَدِينَةِ عَلَى قُفِّ الْبِئْرِ مُدَلِّيًا رِجْلَيْهِ فَدَقَّ الْبَابَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَفَعَلَ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَدَلَّى رِجْلَيْهِ ثُمَّ دَقَّ الْبَابَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَفَعَلَ ثُمَّ دَقَّ الْبَابَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ وَسَيَلْقَى بَلَاءً فَفَعَلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮২৮
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ساری امتوں کو ایک ٹیلے پر جمع فرمائے گا جب اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق کا امتحان شروع کرے گا تو ہر قدم کے سامنے اس چیز کی تصویر آجائے جس کی وہ عبادت کرتے تھے وہ ان کے پیچھے چلنے لگیں گے اور اس طرح جہنم میں گرجائیں گے پھر ہمارا رب ہمارے پاس آئے گا ہم اس وقت ایک بلند جگہ پر ہوں گے وہ پوچھے گا کہ تم کون ہو ؟ ہم کہیں گے کہ ہم مسلمان ہیں وہ کہے گا کہ تم کس کا انتظار کررہے ہو ؟ ہم کہیں گے کہ اپنے رب کا انتظار کررہے ہیں وہ پوچھے گا کہ اگر تم اسے دیکھو تو پہچان لو گے ہم کہیں گے جی ہاں وہ کہے گا کہ جب تم نے اسے دیکھا ہی نہیں ہے تو کیسے پہچانو گے ؟ ہم کہیں گے کہ ہاں ! اس کی کوئی مثال نہیں ہے پھر وہ مسکراتا ہوا اپنی تجلی ہمارے سامنے ظاہر کرے گا اور فرمایا مسلمانو ! خوش ہوجاؤ تم میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جس کی جگہ پر میں نے کسی یہودی یا عیسائی کو جہنم میں نہ ڈال دیاہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے لیکن اس کے آغاز میں یہ ہے کہ عمارہ قرشی کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک وفد لے کر حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) کے پاس گئے جس میں ابوبردہ (رح) بھی شامل تھے، انہوں نے ہماری ضرورت پوری کردی ہم وہاں سے نکل آئے لیکن حضرت ابوبردہ (رح) دوبارہ ان کے پاس چلے گئے عمر بن عبدالعزیز (رح) نے پوچھا شیخ کو کوئی اور بات یاد آگئی ہے ؟ اب کیا چیز آپ کو واپس لائی ؟ کیا آپ کی ضرورت پوری نہیں ہوئی ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک حدیث ہے جو میرے والدنے مجھے نبی کریم ﷺ کے حوالے سے سنائی تھی پھر انہوں نے مذکورہ حدیث سنائی عمر بن عبدالعزیز (رح) نے پوچھا کیا واقعی آپ نے حضرت ابوموسیٰ (رض) کو نبی کریم ﷺ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! میں نے اپنے والد کو نبی کریم ﷺ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَعَفَّانُ قَالَا ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَن عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَن عُمَارَةَ عَن أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأُمَمَ فِي صَعِيدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَإِذَا بَدَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَصْدَعَ بَيْنَ خَلْقِهِ مَثَّلَ لِكُلِّ قَوْمٍ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ فَيَتْبَعُونَهُمْ حَتَّى يُقْحِمُونَهُمْ النَّارَ ثُمَّ يَأْتِينَا رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ وَنَحْنُ عَلَى مَكَانٍ رَفِيعٍ فَيَقُولُ مَنْ أَنْتُمْ فَنَقُولُ نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ فَيَقُولُ مَا تَنْتَظِرُونَ فَيَقُولُونَ نَنْتَظِرُ رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَيَقُولُ وَهَلْ تَعْرِفُونَهُ إِنْ رَأَيْتُمُوهُ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيَقُولُ كَيْفَ تَعْرِفُونَهُ وَلَمْ تَرَوْهُ فَيَقُولُونَ نَعَمْ إِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ فَيَتَجَلَّى لَنَا ضَاحِكًا فَيَقُولُ أَبْشِرُوا أَيُّهَا الْمُسْلِمُونَ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا جَعَلْتُ مَكَانَهُ فِي النَّارِ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَن عُمَارَةَ الْقُرَشِيِّ قَالَ وَفَدْنَا إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَفِينَا أَبُو بُرْدَةَ فَقَضَى حَاجَتَنَا فَلَمَّا خَرَجَ أَبُو بُرْدَةَ رَجَعَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَذْكُرُ الشَّيْخَ مَا رَدَّكَ أَلَمْ أَقْضِ حَوَائِجَكَ قَالَ فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ إِلَّا حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ أَبِي عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ لِأَبِي بُرْدَةَ آللَّهِ لَسَمِعْتَ أَبَا مُوسَى يُحَدِّثُ بِهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ لَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮২৯
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کی مرویات
حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے پاس کوئی باندی ہو اور وہ اسے آزاد کر کے اس سے نئے مہر کے ساتھ نکاح کرلے تو اسے دہرا اجرملے گا۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَن أَبِي حَصِينٍ عَن أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَعْتَقَ الرَّجُلُ أَمَتَهُ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا بِمَهْرٍ جَدِيدٍ كَانَ لَهُ أَجْرَانِ
tahqiq

তাহকীক: