আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫২ টি
হাদীস নং: ২০৯১৪
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوعبدالرحمن سفینہ (رض) کی حدیثیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
حضرت سفینہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خلافت تیس سال تک رہے گی اس کے بعد بادشاہت آجائے گی حضرت سفینہ (رض) اسے یوں شمار کراتے ہیں کہ دو سال حضرت صدیق اکبر (رض) کی خلافت کے ہوئے دس سال حضرت عمر فاروق (رض) کے بارہ سال حضرت عثمان غنی (رض) کے اور چھ سال حضرت علی مرتضیٰ (رض) کے (کل تیس سال ہوگئے)
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ ح وَعَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ عَنْ سَفِينَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ عَامًا ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ الْمُلْكُ قَالَ سَفِينَةُ أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَنَتَيْنِ وَخِلَافَةَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَشْرَ سِنِينَ وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اثْنَيْ عَشْرَ سَنَةً وَخِلَافَةَ عَلِيٍّ سِتَّ سِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯১৫
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوعبدالرحمن سفینہ (رض) کی حدیثیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
حضرت سفینہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنی اونٹنی کو ایک تیز دھار لکڑی سے ذبح کرلیا پھر نبی کریم ﷺ سے اس کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم ﷺ نے اسے کھانے کی اجازت دے دی۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَلِيٍّ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ سَفِينَةَ أَنَّ رَجُلًا سَاطَ نَاقَتَهُ بِجِذْلٍ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯১৬
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوعبدالرحمن سفینہ (رض) کی حدیثیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
حضرت سفینہ (رض) سے مروی ہے کہ چونکہ وہ بہت سا بوجھ اٹھا لیا کرتے تھے اس لئے نبی کریم ﷺ نے ان سے کہہ دیا کہ تم تو سفینہ (کشتی) ہو۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ عَنْ سَفِينَةَ أَنَّهُ كَانَ يَحْمِلُ شَيْئًا كَثِيرًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتَ سَفِينَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯১৭
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوعبدالرحمن سفینہ (رض) کی حدیثیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
حضرت سفینہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی (رض) کے یہاں ایک آدمی مہمان بن کر آیا انہوں نے اس کے لئے کھانا تیار کیا تو حضرت فاطمہ (رض) کہنے لگیں کہ اگر ہم نبی کریم ﷺ کو بلا لیتے تو وہ بھی ہمارے ساتھ کھانا کھالیتے، چناچہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو بلا بھیجا نبی کریم ﷺ تشریف لے آئے نبی کریم ﷺ نے جب دروازے کے کو اڑوں کو پکڑا تو دیکھا کہ گھر کے ایک کونے میں ایک پردہ لٹک رہا ہے نبی کریم ﷺ اسے دیکھتے ہی واپس چلے گئے حضرت فاطمہ (رض) نے حضرت علی (رض) سے کہا کہ آپ ان کے پیچھے جائیے اور واپس جانے کی وجہ پوچھئے حضرت علی (رض) پیچھے پیچھے گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! ﷺ آپ واپس کیوں آگئے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے لئے یا کسی نبی کے لئے ایسے گھر میں داخل ہونا " جو آراستہ و منقش ہو " مناسب نہیں ہے۔ حدیث نمبر (٢٢٢٦٤) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ قَالَ سَمِعْتُ سَفِينَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا ضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَصَنَعُوا لَهُ طَعَامًا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَوْ دَعْونَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ فَجَاءَ فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيْ الْبَابِ فَإِذَا قِرَامٌ قَدْ ضُرِبَ بِهِ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ اتْبَعْهُ فَقُلْ لَهُ مَا رَجَعَكَ قَالَ فَتَبِعَهُ فَقَالَ مَا رَجَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَوْ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ حَدَّثَنِي سَفِينَةُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ عَامًا ثُمَّ الْمُلْكُ فَذَكَرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯১৮
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوعبدالرحمن سفینہ (رض) کی حدیثیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
حضرت ام سلمہ (رض) کے ایک آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھا ہم ایک وادی میں پہنچے، میں لوگوں کا سامان اٹھا کر اسے عبور کرنے لگا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا آج تو تم سفینہ (کشتی) کا کام دے رہے ہو۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عِمْرَانَ النَّخْلِيِّ عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى وَادٍ قَالَ فَجَعَلْتُ أَعْبُرُ النَّاسَ أَوْ أَحْمِلُهُمْ قَالَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كُنْتَ الْيَوْمَ إِلَّا سَفِينَةً أَوْ مَا أَنْتَ إِلَّا سَفِينَةٌ قِيلَ لِشَرِيكٍ هُوَ سَفِينَةُ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯১৯
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوعبدالرحمن سفینہ (رض) کی حدیثیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
حضرت سفینہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھے جب کوئی آدمی تھک جاتا تو وہ اپنی تلوار، ڈھال اور نیزہ مجھے پکڑا دیتا، اس طرح میں نے بہت ساری چیزیں اٹھالیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا آج تو تم سفینہ (کشتی) کا کام دے رہے ہو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ أَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ عَنْ سَفِينَةَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَكُلَّمَا أَعْيَا بَعْضُ الْقَوْمِ أَلْقَى عَلَيَّ سَيْفَهُ وَتُرْسَهُ وَرُمْحَهُ حَتَّى حَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا كَثِيرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتَ سَفِينَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯২০
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوعبدالرحمن سفینہ (رض) کی حدیثیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
حضرت سفینہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی (رض) کے یہاں ایک آدمی مہمان بن کر آیا انہوں نے اس کے لئے کھانا تیار کیا تو حضرت فاطمہ (رض) کہنے لگیں کہ اگر ہم نبی کریم ﷺ کو بلا لیتے تو وہ بھی ہمارے ساتھ کھانا کھالیتے، چناچہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو بلا بھیجا نبی کریم ﷺ تشریف لے آئے نبی کریم ﷺ نے جب دروازے کے کو اڑوں کو پکڑا تو دیکھا کہ گھر کے ایک کونے میں ایک پردہ لٹک رہا ہے نبی کریم ﷺ اسے دیکھتے ہی واپس چلے گئے حضرت فاطمہ (رض) نے حضرت علی (رض) سے کہا کہ آپ ان کے پیچھے جائیے اور واپس جانے کی وجہ پوچھئے حضرت علی (رض) پیچھے پیچھے گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! ﷺ آپ واپس کیوں آگئے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے لئے یا کسی نبی کے لئے ایسے گھر میں داخل ہونا " جو آراستہ ومنقش ہو " مناسب نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ حَدَّثَنَا سَفِينَةُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَجُلًا أَضَافَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لَوْ دَعَوْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ فَدَعَوْهُ فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى عِضَادَتَيْ الْبَابِ فَرَأَى قِرَامًا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَرَجَعَ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ الْحَقْهُ فَقُلْ لَهُ لِمَ رَجَعْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَنْ أَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯২১
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوعبدالرحمن سفینہ (رض) کی حدیثیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
حضرت سفینہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ (رض) نے مجھے آزاد کردیا اور یہ شرط لگا دی کہ تا حیات نبی کریم ﷺ کی خدمت کرتا رہوں گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ عَنْ سَفِينَةَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَعْتَقَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ أَنْ أَخْدُمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَاشَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯২২
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوعبدالرحمن سفینہ (رض) کی حدیثیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
حضرت سفینہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خلافت تیس سال تک رہے گی اس کے بعد بادشاہت آجائے گی حضرت سفینہ (رض) اسے یوں شمار کراتے ہیں کہ دو سال حضرت صدیق اکبر (رض) کی خلافت کے ہوئے دس سال حضرت عمر فاروق (رض) کے بارہ سال حضرت عثمان غنی (رض) کے اور چھ سال حضرت علی مرتضیٰ (رض) کے (کل تیس سال ہوگئے) راوی حدیث کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جمہان سے پوچھا کہ حضرت سفینہ (رض) سے آپ کی ملاقات کہاں ہوئی تھی ؟ انہوں نے کہا حجاج بن یوسف کے زمانے میں بطن نخلہ میں میری ان سے ملاقات ہوئی تھی اور میں آٹھ راتیں ان کے یہاں مقیم رہا تھا اور ان سے نبی کریم ﷺ کی احادیث پوچھتا رہا تھا، میں نے ان سے ان کا نام بھی پوچھا لیکن انہوں نے فرمایا کہ یہ میں نہیں بتاسکتا، بس نبی کریم ﷺ نے میرا نام سفینہ ہی رکھا تھا، میں نے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے آپ کا نام سفینہ کیوں رکھا تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ ایک مرتبہ اپنے صحابہ (رض) کے ساتھ روانہ ہوئے، ان کا سامان اس رکھا اور وہ گٹھڑی میرے اوپر لاد دی نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا اسے اٹھا لو کہ تم نے سفینہ (کشتی) ہی ہو اس دن اگر مجھ پر ایک دو نہیں، سات اونٹوں کا بوجھ بھی لاد دیا جاتا تو مجھے کچھ بوجھ محسوس نہ ہوتا الاّ یہ کہ وہ مجھ پر زیادتی کرتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا حَشْرَجُ ابْنُ نُبَاتَةَ الْعَبْسِيُّ كُوفِيٌّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ حَدَّثَنِي سَفِينَةُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخِلَافَةُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ مُلْكًا بَعْدَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ لِي سَفِينَةُ أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ وَخِلَافَةَ عُمَرَ وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ وَأَمْسِكْ خِلَافَةَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ قَالَ فَوَجَدْنَاهَا ثَلَاثِينَ سَنَةً ثُمَّ نَظَرْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْخُلَفَاءِ فَلَمْ أَجِدْهُ يَتَّفِقُ لَهُمْ ثَلَاثُونَ فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ أَيْنَ لَقِيتَ سَفِينَةَ قَالَ لَقِيتُهُ بِبَطْنِ نَخْلٍ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ فَأَقَمْتُ عِنْدَهُ ثَمَانِ لَيَالٍ أَسْأَلُهُ عَنْ أَحَادِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ لَهُ مَا اسْمُكَ قَالَ مَا أَنَا بِمُخْبِرِكَ سَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفِينَةَ قُلْتُ وَلِمَ سَمَّاكَ سَفِينَةَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ فَثَقُلَ عَلَيْهِمْ مَتَاعُهُمْ فَقَالَ لِي ابْسُطْ كِسَاءَكَ فَبَسَطْتُهُ فَجَعَلُوا فِيهِ مَتَاعَهُمْ ثُمَّ حَمَلُوهُ عَلَيَّ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْمِلْ فَإِنَّمَا أَنْتَ سَفِينَةُ فَلَوْ حَمَلْتُ يَوْمَئِذٍ وِقْرَ بَعِيرٍ أَوْ بَعِيرَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ أَوْ أَرْبَعَةٍ أَوْ خَمْسَةٍ أَوْ سِتَّةٍ أَوْ سَبْعَةٍ مَا ثَقُلَ عَلَيَّ إِلَّا أَنْ يَجْفُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯২৩
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوعبدالرحمن سفینہ (رض) کی حدیثیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
حضرت سفینہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو یاد رکھو ! اس کی بائیں آنکھ کانی ہوگی اور اس کی دائیں آنکھ پر ایک موٹی پھلی ہوگی، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا، اس کے پاس جنت اور جہنم کی تمثیلی دو وادیاں ہوں گے، اگر میں چاہوں تو ان دو نبیوں اور ان کے آباؤ اجداد کا نام بھی بتاسکتا ہوں، ان میں سے ایک اس کی دائیں جانب ہوگا اور دوسرا بائیں جانب اور یہ ایک آزمائش ہوگی۔ پھر دجال کہے گا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ کیا میں زندگی اور موت نہیں دیتا ؟ ان میں سے ایک فرشتہ کہے گا تو جھوٹ بولتا ہے لیکن یہ بات اس کے ساتھی فرشتے کے علاوہ کوئی انسان نہ سن سکے گا، اس کا ساتھی اس سے کہے گا کہ تم نے سچ کہا، اس کی آواز لوگ سن لیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ وہ دجال کی تصدیق کر رہا ہے حالانکہ یہ ایک آزمائش ہوگی، پھر وہ روانہ ہوگا یہاں تک کہ مدینہ منورہ جا پہنچے گا لیکن اسے وہاں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملے گی اور وہ کہے گا کہ یہ اس آدمی کا شہر ہے پھر وہ وہاں سے چل کر شام پہنچے گا اور اللہ تعالیٰ اسے " افیق " نامی گھاٹی کے قریب ہلاک کروا دے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا حَشْرَجٌ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا قَدْ حَذَّرَ الدَّجَّالَ أُمَّتَهُ هُوَ أَعْوَرُ عَيْنِهِ الْيُسْرَى بِعَيْنِهِ الْيُمْنَى ظُفْرَةٌ غَلِيظَةٌ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَخْرُجُ مَعَهُ وَادِيَانِ أَحَدُهُمَا جَنَّةٌ وَالْآخَرُ نَارٌ فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ مَعَهُ مَلَكَانِ مِنْ الْمَلَائِكَةِ يُشْبِهَانِ نَبِيَّيْنِ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ لَوْ شِئْتُ سَمَّيْتُهُمَا بِأَسْمَائِهِمَا وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمَا وَاحِدٌ مِنْهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ وَذَلِكَ فِتْنَةٌ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ أَلَسْتُ أُحْيِ وَأُمِيتُ فَيَقُولُ لَهُ أَحَدُ الْمَلَكَيْنِ كَذَبْتَ مَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ إِلَّا صَاحِبُهُ فَيَقُولُ لَهُ صَدَقْتَ فَيَسْمَعُهُ النَّاسُ فَيَظُنُّونَ إِنَّمَا يُصَدِّقُ الدَّجَّالَ وَذَلِكَ فِتْنَةٌ ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ فَلَا يُؤْذَنُ لَهُ فِيهَا فَيَقُولُ هَذِهِ قَرْيَةُ ذَلِكَ الرَّجُلِ ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الشَّامَ فَيُهْلِكُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ عَقَبَةِ أَفِيقَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯২৪
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوعبدالرحمن سفینہ (رض) کی حدیثیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
حضرت سفینہ (رض) سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے وضو کے لئے ایک مد پانی رکھتے تھے اور غسل جنابت کے لئے ایک صاع پانی رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنِي أَبُو رَيْحَانَةَ قَالَ أَبِي وَسَمَّاهُ عَلِيٌّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَطَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَفِينَةُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوَضِّئُهُ الْمُدُّ وَيَغْسِلُهُ الصَّاعُ مِنْ الْجَنَابَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯২৫
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوعبدالرحمن سفینہ (رض) کی حدیثیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
حضرت سفینہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک صاع پانی سے غسل اور ایک مد پانی سے وضو فرما لیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبُو رَيْحَانَةَ عَنْ سَفِينَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَطَهَّرُ بِالْمُدِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯২৬
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوعبدالرحمن سفینہ (رض) کی حدیثیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
حضرت سفینہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں تھے جب کوئی آدمی تھک جاتا تو وہ اپنی تلوار، ڈھال اور نیزہ مجھے پکڑا دیتا، اس طرح میں نے بہت ساری چیزیں اٹھا لیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا آج تو تم سفینہ (کشتی) کا کام دے رہے ہو۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ عَنْ سَفِينَةَ قَالَ كُنَّا فِي سَفَرٍ قَالَ فَكَانَ كُلَّمَا أَعْيَا رَجُلٌ أَلْقَى عَلَيَّ ثِيَابَهُ تُرْسًا أَوْ سَيْفًا حَتَّى حَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا كَثِيرًا قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتَ سَفِينَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯২৭
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوعبدالرحمن سفینہ (رض) کی حدیثیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
حضرت سفینہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی (رض) کے یہاں ایک آدمی مہمان بن کر آیا انہوں نے اس کے لئے کھانا تیار کیا تو حضرت فاطمہ (رض) کہنے لگیں کہ اگر ہم نبی کریم ﷺ کو بلا لیتے تو وہ بھی ہمارے ساتھ کھانا کھالیتے، چناچہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو بلا بھیجا نبی کریم ﷺ تشریف لے آئے نبی کریم ﷺ نے جب دروازے کے کو اڑوں کو پکڑا تو دیکھا کہ گھر کے ایک کونے میں ایک پردہ لٹک رہا ہے نبی کریم ﷺ اسے دیکھتے ہی واپس چلے گئے حضرت فاطمہ (رض) نے حضرت علی (رض) سے کہا کہ آپ ان کے پیچھے جائیے اور واپس جانے کی وجہ پوچھئے حضرت علی (رض) پیچھے پیچھے گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! ﷺ آپ واپس کیوں آگئے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے لئے یا کسی نبی کے لئے ایسے گھر میں داخل ہونا " جو آراستہ و منقش ہو " مناسب نہیں ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ حَدَّثَنِي سَفِينَةُ أَنَّ رَجُلًا ضَافَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ لَوْ دَعَوْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا فَدَعَوْنَاهُ فَجَاءَ فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيْ الْبَابِ وَقَدْ ضَرَبْنَا قِرَامًا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَلَمَّا رَآهُ رَجَعَ قَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ الْحَقْهُ فَانْظُرْ مَا رَجَعَهُ قَالَ مَا رَدَّكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ بِمَعْنَاهُ قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَوْ قَالَ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৩৫
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ موضوع موجود نہیں
مسنگ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَالَ رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ لَا تُؤْذِ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ أَوْ لَا تُؤْذِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৩৬
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ موضوع موجود نہیں
مسنگ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَالَ عُرِضَتْ النَّهْشَةُ مِنْ الْحَيَّةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৩৭
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ موضوع موجود نہیں
مسنگ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ قَالَ وَجَدْتُ فِي كُتُبِ سِعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ عُمَارَةَ بْنَ حَزْمٍ شَهِدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৩৮
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ موضوع موجود نہیں
مسنگ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ ابْنَ حَزْمٍ إِمَّا عَمْرٌو وَإِمَّا عُمَارَةُ قَالَ رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُتَّكِئٌ عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ انْزِلْ عَنْ الْقَبْرِ لَا تُؤْذِ صَاحِبَ الْقَبْرِ وَلَا يُؤْذِيكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৩৯
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمیر (رض) |" جو آبی اللحم کے آزاد کردہ غلام ہیں |" کی حدیثیں
حضرت عمیر (رض) سے مروی ہے کہ میں غزوہ خیبر میں اپنے آقاؤں کے ساتھ شریک تھا انہوں نے میرے متعلق نبی کریم ﷺ سے بات کی تو نبی کریم ﷺ نے میرے بارے حکم دیا اور میرے گلے میں تلوار لٹکا دی گئی (وہ اتنی بڑی تھی کہ) میں اسے زمین گھسیٹتا ہوا چلتا تھا نبی کریم ﷺ کو بتایا گیا کہ میں غلام ہوں تو نبی کریم ﷺ نے باقی ماندہ سامان میں سے کچھ مجھے بھی دینے کا حکم دے دیا۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ شَهِدْتُ خَيْبَرَ مَعَ سَادَتِي فَكَلَّمُوا فِيَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي فَقُلِّدْتُ سَيْفًا فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ فَأُخْبِرَ أَنِّي مَمْلُوكٌ فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৪০
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمیر (رض) |" جو آبی اللحم کے آزاد کردہ غلام ہیں |" کی حدیثیں
حضرت عمیر (رض) سے مروی ہے کہ میں غزوہ خیبر میں اپنے آقاؤں کے ساتھ شریک تھا انہوں نے میرے متعلق نبی کریم ﷺ سے بات کی تو نبی کریم ﷺ نے میرے بارے حکم دیا اور میرے گلے میں تلوار لٹکا دی گئی (وہ اتنی بڑی تھی کہ) میں اسے زمین گھسیٹتا ہوا چلتا تھا نبی کریم ﷺ کو بتایا گیا کہ میں غلام ہوں تو نبی کریم ﷺ نے باقی ماندہ سامان میں سے کچھ مجھے بھی دینے کا حکم دے دیا۔ اور میں نے نبی کریم ﷺ کے سامنے ایک منتر پیش کیا جس سے میں زمانہ جاہلیت میں مجنونوں کو جھاڑا کرتا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس میں سے یہ یہ کلمات حذف کردو اور باقی سے جھاڑ لیا کرو۔
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخُو إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا قَالَ وَكَانَ يَفْضُلُ عَلَى إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ سَادَتِي خَيْبَرَ فَأَمَرَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلِّدْتُ سَيْفًا فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ قَالَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ عَبْدٌ مَمْلُوكٌ قَالَ فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ قَالَ وَعَرَضْتُ عَلَيْهِ رُقْيَةً كُنْتُ أَرْقِي بِهَا الْمَجَانِينَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ اطْرَحْ مِنْهَا كَذَا وَكَذَا وَارْقِ بِمَا بَقِيَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ وَأَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يَرْقِي بِهَا الْمَجَانِينَ
তাহকীক: