আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫২ টি
হাদীস নং: ২০৯৪১
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمیر (رض) |" جو آبی اللحم کے آزاد کردہ غلام ہیں |" کی حدیثیں
حضرت عمیر (رض) سے مرویھی کہ میں اپنے آقا کے ساتھ ہجرت کے ارادے سے آرہا تھا جب ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو میرے آقا مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے اور مجھے سواری کے پاس چھوڑ گئے کچھ دیر بعد مجھے سخت قسم کی بھوک نے ستایا، اسی اثناء میں مدینہ منورہ سے باہر آنے والا ایک آدمی میرے پاس سے گذرا اور مجھ سے کہنے لگا کہ تم مدینہ کے اندر چلے جاؤ اور اس کے کسی باغ میں سے پھل توڑ کر کھالو، چناچہ میں ایک باغ میں داخل ہوا اور وہاں سے دو خوشے اتارے اتنی دیر میں باغ کا مالک بھی آگیا، وہ مجھے لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرا واقعہ بتایا، اس وقت میرے جسم پر دو کپڑے تھے نبی کریم ﷺ نے مجھ سے پوچھا کہ ان دونوں میں سب سے بہتر کون سا ہے ؟ میں نے ایک کپڑے کی طرف اشارہ کردیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ تم رکھو اور دوسرا کپڑا باغ مالک کو دے کر مجھے چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَمِّهِ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَيْرًا مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ أَقْبَلْتُ مَعَ سَادَتِي نُرِيدُ الْهِجْرَةَ حَتَّى أَنْ دَنَوْنَا مِنْ الْمَدِينَةِ قَالَ فَدَخَلُوا الْمَدِينَةَ وَخَلَّفُونِي فِي ظَهْرِهِمْ قَالَ قَالَ فَأَصَابَنِي مَجَاعَةٌ شَدِيدَةٌ قَالَ فَمَرَّ بِي بَعْضُ مَنْ يَخْرُجُ مِنْ الْمَدِينَةِ فَقَالُوا لِي لَوْ دَخَلْتَ الْمَدِينَةَ فَأَصَبْتَ مِنْ ثَمَرِ حَوَائِطِهَا فَدَخَلْتُ حَائِطًا فَقَطَعْتُ مِنْهُ قِنْوَيْنِ فَأَتَانِي صَاحِبُ الْحَائِطِ فَأَتَى بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرَهُ خَبَرِي وَعَلَيَّ ثَوْبَانِ فَقَالَ لِي أَيُّهُمَا أَفْضَلُ فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا فَقَالَ خُذْهُ وَأَعْطِي صَاحِبَ الْحَائِطِ الْآخَرَ وَخَلَّى سَبِيلِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৪২
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمیر (رض) |" جو ابولحم کے آزاد کردہ غلام ہیں |" کی حدیثیں
حضرت عمیر (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو " احجارالزیت " نامی جگہ پر (جومقام زوراء کے قریب ہے کھڑے ہو کر) دعاء استسقاء کرتے ہوئے دیکھا ہے اس وقت نبی کریم ﷺ نے ہتھیلیوں کے اندرونی حصے کو اپنے چہرے کی طرف کیا ہوا تھا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ عَنْ آبِي اللَّحْمِ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ يَسْتَسْقِي وَهُوَ مُقْنِعٌ بِكَفَّيْهِ يَدْعُو
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৪৩
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمیر (رض) |" جو آبی اللحم کے آزاد کردہ غلام ہیں |" کی حدیثیں
حضرت عمیر (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو " احجارالزیت " نامی جگہ پر (جو مقام زوراء کے قریب ہے کھڑے ہو کر) دعاء استسقاء کرتے ہوئے دیکھا ہے اس وقت نبی کریم ﷺ نے ہتھیلیوں کے اندرونی حصے کو اپنے چہرے کی طرف کیا ہوا تھا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ قَالَ حَيْوَةُ عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ قَرِيبًا مِنْ الزَّوْرَاءِ قَائِمًا يَدْعُو يَسْتَسْقِي رَافِعًا كَفَّيْهِ لَا يُجَاوِزُ بِهِمَا رَأْسَهُ مُقْبِلٌ بِبَاطِنِ كَفَّيْهِ إِلَى وَجْهِهِ حَدَّثَنَا هَارُونُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِي حَيْوَةُ عَنْ عُمَرَ بْنِ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৪৮
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ ایک صحابی (رض) کی روایت
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ ایام منیٰ میں نبی کریم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی (رض) کو حکم دیا کہ اپنی سواری پر سوار ہو کر لوگوں میں یہ اعلان کردیں کہ ایام تشریق میں کوئی شخص بھی روزہ نہ رکھے کیونکہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں چناچہ میں نے انہیں اپنی سواری پر اس اعلان کی منادی کرتے ہوئے دیکھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ السَّهْمِيَّ أَنْ يَرْكَبَ رَاحِلَتَهُ أَيَّامَ مِنًى فَيَصِيحَ فِي النَّاسِ لَا يَصُومَنَّ أَحَدٌ فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ عَلَى رَاحِلَتِهِ يُنَادِي بِذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৯৪৯
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ ایک صحابی (رض) کی روایت
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک دن خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمدوثناء بیان کی شہداء احد کی بخشش کی دعاء کی اور فرمایا اے گروہ مہاجرین ! تمہاری تعداد میں اضافہ ہوگا اور انصار کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا انصار میرا راز ہیں جن کے یہاں میں نے ٹھکانہ حاصل کیا، ان کے معززین کی عزت کرنا اور ان کے خطاکاروں سے درگذر کرنا کیونکہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرچکے اور اب تو ان کے حقوق باقی رہ گئے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَ أَبُوهُ أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَئِذٍ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَاسْتَغْفَرَ لِلشُّهَدَاءِ الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ أُحُدٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ تَزِيدُونَ وَإِنَّ الْأَنْصَارَ لَا يَزِيدُونَ وَإِنَّ الْأَنْصَارَ عَيْبَتِي الَّتِي أَوَيْتُ إِلَيْهَا أَكْرِمُوا كَرِيمَهُمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ فَإِنَّهُمْ قَدْ قَضَوْا الَّذِي عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৯৫
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ ایک صحابی (رض) کی حدیث
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب تمہارے ہاتھوں شام فتح ہوجائے گا جب تمہیں وہاں کسی مقام پر ٹھہرنے کا اختیار دیا جائے تو " دمشق " نامی شہر کا انتخاب کرنا، کیونکہ وہ جنگوں کے زمانے میں مسلمانوں کی بہترین پناہ گاہ ہوگا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيُفْتَحُ عَلَيْكُمْ الشَّامُ وَإِنَّ بِهَا مَكَانًا يُقَالُ لَهُ الْغُوطَةُ يَعْنِي دِمَشْقَ مِنْ خَيْرِ مَنَازِلِ الْمُسْلِمِينَ يَعْنِي فِي الْمَلَاحِمِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩০০
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک پڑوسی خاتون کی روایت
نبی کریم ﷺ کی ایک پڑوسی خاتون سے مروی ہے کہ وہ طلوع صبح صادق کے وقت نبی کریم ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنتی تھیں اے اللہ ! میں قبر کے عذاب اور قبر کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْمُقْرِي حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي أَبُو عِيسَى الْخُرَاسَانِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَتْنِي جَارَةٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ تَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ قَالَ أَبُو عِيسَى فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ جَمَعَهُمَا إِنْسَانٌ قَالَ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩০৫
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ ایک صحابی (رض) کی روایت
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ایسے گھر کی چھت پر سوئے جس کی کوئی منڈیر نہ ہو اور وہ اس سے نیچے گر کر مرجائے تو کسی پر اس کی ذمہ داری نہیں ہے اور جو شخص ایسے وقت میں سمندری سفر روانہ ہو جب سمندر میں طغیانی آئی ہوئی ہو اور مرجائے تو اس کی ذمہ داری بھی کسی پر نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَ عَامِلًا عَلَى تَوَّجَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ نَامَ عَلَى إِجَّارٍ لَيْسَ عَلَيْهِ مَا يَدْفَعُ قَدَمَيْهِ فَخَرَّ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ إِذَا ارْتَجَّ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩০৬
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک زوجہ مطہرہ (رض) کی روایت
نبی کریم ﷺ کی ایک زوجہ مطہرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نو ذی الحجہ، دس محرم اور ہر مہینے کے تین دنوں کا روزہ رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا الْحُرُّ بْنُ الصَّيَّاحِ قَالَ سُرَيْجٌ عَنِ الْحُرِّ عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنِ امْرَأَتِهِ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحِجَّةِ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ قَالَ عَفَّانُ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنْ الشَّهْرِ وَخَمِيسَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩০৮
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ ایک صحابی (رض) کی روایت
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے سونے کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی نبی کریم ﷺ نے ایک ٹہنی لے کر میرے ہاتھ پر ماری اور مجھے حکم دیا کہ اسے اتاروں چناچہ میں نے اسے باہر جاکر پھینک دیا اور دوبارہ حاضر خدمت ہوگیا نبی کریم ﷺ نے پوچھا وہ انگوٹھی کیا ہوئی ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے پھینک دی میں نے تمہیں یہ حکم دیا تھا کہ اس سے کسی اور طرح فائدہ اٹھالو اسے پھینکو مت۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فَأَخَذَ جَرِيدَةً فَضَرَبَ بِهَا كَفِّي وَقَالَ اطْرَحْهُ قَالَ فَخَرَجْتُ فَطَرَحْتُهُ ثُمَّ عُدْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا فَعَلَ الْخَاتَمُ قَالَ قُلْتُ طَرَحْتُهُ قَالَ إِنَّمَا أَمَرْتُكَ أَنْ تَسْتَمْتِعَ بِهِ وَلَا تَطْرَحَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩১০
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ ایک صحابی (رض) کی روایت
محمد بن خالد اپنے دادا سے " جنہیں نبی کریم ﷺ سے شرف صحبت حاصل تھا " نقل کرتے ہیں کہ ایک دن وہ اپنے کسی مسلمان بھائی سے ملاقات کے ارادے سے نکلے راستے میں ان کی بیماری کا پتہ چلا تو ان کے پاس پہنچ کر کہا کہ میں آپ کے پاس ملاقات کے لئے، عیادت کے لئے اور خوشخبری دینے کے لئے آیا ہوں، اس نے پوچھا کہ یہ ساری چیزیں ایک جگہ کیسے جمع ہوگئیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں جس وقت نکلا تھا تو اس وقت آپ سے ملاقات کا ارادہ تھا راستے میں آپ کی بیماری کی خبر سنی تو یہاں پہنچ کر عیادت ہوگئی اور رہی خوشخبری تو وہ یہ ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ کے یہاں کسی بندے کا مقام و مرتبہ اس درجہ سے آگے بڑھ جاتا ہے جہاں تک اس کا عمل نہیں پہنچتا تو اللہ تعالیٰ اسے جسمانی، مالی یا اولاد کی طرف سے کسی آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے پھر اسے اس پر صبر بھی عطاء کردیتا ہے یہاں تک کہ وہ اس درجے تک جا پہنچتا ہے جو اس کے لئے طے ہوچکا ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ وَكَانَ لِجَدِّهِ صُحْبَةٌ أَنَّهُ خَرَجَ زَائِرًا لِرَجُلٍ مِنْ إِخْوَانِهِ فَبَلَغَهُ شَكَاتُهُ قَالَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَتَيْتُكَ زَائِرًا عَائِدًا وَمُبَشِّرًا قَالَ كَيْفَ جَمَعْتَ هَذَا كُلَّهُ قَالَ خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ زِيَارَتَكَ فَبَلَغَتْنِي شَكَاتُكَ فَكَانَتْ عِيَادَةً وَأُبَشِّرُكَ بِشَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَبَقَتْ لِلْعَبْدِ مِنْ اللَّهِ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهِ ابْتَلَاهُ اللَّهُ فِي جَسَدِهِ أَوْ فِي مَالِهِ أَوْ فِي وَلَدِهِ ثُمَّ صَبَّرَهُ حَتَّى يُبْلِغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩১১
حضرت اھبان بن صیفی کی حدیثیں
পরিচ্ছেদঃ سابع مسندالانصار-r-nحضرت ابومسعودعقبہ بن عمروانصاری (رض) کی مرویات
حضرت ابو مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میرا سامان سفر اور سواری ختم ہوگئی ہے لہٰذا مجھے کوئی سواری دے دیجئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس وقت تو میرے پاس کوئی جانور نہیں ہے جس پر میں تمہیں سوار کر دوں، ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میں ایسے آدمی کا پتہ نہ بتادوں جو اسے سواری کے لئے جانور مہیا کر دے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص نیکی کی طرف رہنمائی کر دے اسے بھی نیکی کرنے والے کی طرح اجروثواب ملتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي قَالَ فَقَالَ لَيْسَ عِنْدِي قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أَدُلُّهُ عَلَى مَنْ يَحْمِلُهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ
তাহকীক: