আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৬ টি
হাদীস নং: ২০৫১২
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ مالدار تو سارا اجروثواب لے گئے ہیں وہ ہماری طرح نماز پڑھتے اور روزہ بھی رکھتے ہیں اور اپنے مال سے اضافی طور پر صدقہ بھی کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا اللہ نے تمہارے لئے صدقہ کرنے کی کوئی چیز مقرر نہیں کی ؟ سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے، الحمدللہ کہنا صدقہ ہے حتٰی کہ جائز طریقے سے اپنی " خواہش " پوری کرنا بھی صدقہ ہے صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا ہم میں سے کسی کا اپنی خواہش نفسانی کو پورا کرنا بھی باعث صدقہ ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ بتاؤ اگر وہ حرام طریقے سے اپنی خواہش پوری کرتا تو اسے گناہ ہوتا یا نہیں ؟ لہٰذا جب وہ حلال طریقہ اختیار کرے گا تو اسے ثواب کیوں نہ ہوگا۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ وَاصِلٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ فَقَالَ أَوَلَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُونَ إِنَّهُ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ وَبِكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ وَبِكُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ وَبِكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيٌ عَنْ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ فَقَالَ أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي الْحَرَامِ أَلَيْسَ كَانَ يَكُونُ عَلَيْهِ وِزْرٌ أَوْ الْوِزْرُ قَالُوا بَلَى قَالَ فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ يَكُونُ لَهُ الْأَجْرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫১৩
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے جس کا خادم اس کے موافق آجائے تو تم جو خود کھاتے ہو وہی اسے کھلاؤ اور جو خود کھاتے ہو وہی اسے کھلاؤ اور جو خود پہنتے ہو وہی اسے بھی پہناؤ اور جو تمہارے موافق نہ آئے اسے بیچ دو اور اللہ کی مخلوق کو عذاب میں مبتلا نہ کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ مُوَرِّقٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَاءَمَكُمْ مِنْ خَدَمِكُمْ فَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ أَوْ قَالَ تَكْتَسُونَ وَمَنْ لَا يُلَائِمُكُمْ فَبِيعُوهُ وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫১৪
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر ایک کے ہر عضو پر صبح کے وقت صدقہ لازم ہوتا ہے اور ہر تسبیح کا کلمہ بھی صدقہ ہے تہلیل بھی صدقہ ہے تکبیر بھی صدقہ ہے تحمید بھی صدقہ ہے امر بالمعروف بھی صدقہ ہے اور نہی عن المنکر بھی صدقہ ہے اور ان سب کی کفایت وہ دو رکعتیں کردیتی ہیں جو تم میں سے کوئی شخص چاشت کے وقت پڑھتا ہے، لوگوں کے راستے سے کانٹا، ہڈی اور پتھر ہٹا دو ، نابینا کو راستہ دکھا دو ، گونگے بہرے کو بات سمجھا دو ، کسی ضرورت مند کو اس جگہ کی رہنمائی کردو جہاں سے اس کی ضرورت پوری ہونے کا تمہیں علم ہو، اپنی پنڈلیوں سے دوڑ کر کسی مظلوم اور فریاد رس کی مدد کردو اپنے ہاتھوں کی طاقت سے کسی کمزور کو بلند کردو یہ سب تمہاری جانب سے اپنی ذات پر صدقہ کے دروازے ہیں بلکہ تمہیں اپنی بیوی سے مباشرت پر بھی ثواب ملتا ہے، حضرت ابوذر (رض) نے عرض کیا کہ اپنی شہوت پوری کرنے میں مجھے کیسے اجر مل سکتا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ تباؤ کہ اگر تمہارے یہاں کوئی لڑکا پیدا ہو اور تم اس سے خیر کی امید رکھتے ہو لیکن وہ مرجائے تو کیا تم اس پر ثواب کی امید رکھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا اسے تم نے پیدا کیا تھا ؟ عرض کیا نہیں بلکہ اللہ نے پیدا کیا تھا، نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا تم نے اسے ہدایت دی تھی ؟ عرض کیا نہیں بلکہ اللہ نے اسے ہدایت دی تھی نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا تم اسے رزق دیتے تھے ؟ عرض کیا نہیں، بلکہ اللہ اسے رزق دیتا تھا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسی طرح اسے بھی حلال طریقے پر استعمال کرو اور حرام طریقے سے اجتناب کرو اگر اللہ نے چاہا تو کسی کو زندگی دے دے گا اور اگر چاہا تو کسی کو موت دے دے گا لیکن تمہیں اس پر ثواب ملے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ أَبُو ذَرٍّ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ صَدَقَةٌ مِنْهُ عَلَى نَفْسِهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ أَيْنَ أَتَصَدَّقُ وَلَيْسَ لَنَا أَمْوَالٌ قَالَ لِأَنَّ مِنْ أَبْوَابِ الصَّدَقَةِ التَّكْبِيرَ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَتَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَى عَنْ الْمُنْكَرِ وَتَعْزِلُ الشَّوْكَةَ عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ وَالْعَظْمَ وَالْحَجَرَ وَتَهْدِي الْأَعْمَى وَتُسْمِعُ الْأَصَمَّ وَالْأَبْكَمَ حَتَّى يَفْقَهَ وَتُدِلُّ الْمُسْتَدِلَّ عَلَى حَاجَةٍ لَهُ قَدْ عَلِمْتَ مَكَانَهَا وَتَسْعَى بِشِدَّةِ سَاقَيْكَ إِلَى اللَّهْفَانِ الْمُسْتَغِيثِ وَتَرْفَعُ بِشِدَّةِ ذِرَاعَيْكَ مَعَ الضَّعِيفِ كُلُّ ذَلِكَ مِنْ أَبْوَابِ الصَّدَقَةِ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ وَلَكَ فِي جِمَاعِكَ زَوْجَتَكَ أَجْرٌ قَالَ أَبُو ذَرٍّ كَيْفَ يَكُونُ لِي أَجْرٌ فِي شَهْوَتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ وَلَدٌ فَأَدْرَكَ وَرَجَوْتَ خَيْرَهُ فَمَاتَ أَكُنْتَ تَحْتَسِبُ بِهِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَأَنْتَ خَلَقْتَهُ قَالَ بَلْ اللَّهُ خَلَقَهُ قَالَ فَأَنْتَ هَدَيْتَهُ قَالَ بَلْ اللَّهُ هَدَاهُ قَالَ فَأَنْتَ تَرْزُقُهُ قَالَ بَلْ اللَّهُ كَانَ يَرْزُقُهُ قَالَ كَذَلِكَ فَضَعْهُ فِي حَلَالِهِ وَجَنِّبْهُ حَرَامَهُ فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحْيَاهُ وَإِنْ شَاءَ أَمَاتَهُ وَلَكَ أَجْرٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫১৫
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حنف بن قیس (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ میں حاضر ہوا میں ایک حلقے میں " جس میں قریش کے کچھ لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے " شریک تھا کہ ایک آدمی آیا (اس نے ان کے قریب آکر کہا کہ مال و دولت جمع کرنے والوں کو خوشخبری ہو اس داغ کی جو ان کی پشت کی طرف سے داغا جائے گا اور ان کے پیٹ سے نکل جائے گا اور گدی کی جانب سے ایک داغ کی جو ان کی پیشانی سے نکل جائے گا پھر وہ ایک طرف چلا گیا) میں اس کے پیچھے چل پڑا یہاں تک کہ وہ ایک ستون کے قریب جا کر بیٹھ گیا میں نے اس سے کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ لوگ آپ کی بات سے خوش نہیں ہوئے ؟ میں تو ان سے وہی کہتا ہوں جو میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اس وظیفے کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا لے لیا کرو کیونکہ آج کل اس سے بہت کاموں میں مدد مل جاتی ہے اگر وہ تمہارے قرض کی قیمت ہو تو اسے چھوڑ دو ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو نَعَامَةَ عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَأَنَا أُرِيدُ الْعَطَاءَ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَجَلَسْتُ إِلَى حَلْقَةٍ مِنْ حِلَقِ قُرَيْشٍ فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَيْهِ أَسْمَالٌ لَهُ قَدْ لَفَّ ثَوْبًا عَلَى رَأْسِهِ قَالَ بَشِّرْ الْكَنَّازِينَ بِكَيٍّ فِي الْجِبَاهِ وَبِكَيٍّ فِي الظُّهُورِ وَبِكَيٍّ فِي الْجُنُوبِ ثُمَّ تَنَحَّى إِلَى سَارِيَةٍ فَصَلَّى خَلْفَهَا رَكْعَتَيْنِ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ هَذَا أَبُو ذَرٍّ فَقُلْتُ لَهُ مَا شَيْءٌ سَمِعْتُكَ تُنَادِي بِهِ قَالَ مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا شَيْئًا سَمِعُوهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ إِنِّي كُنْتُ آخُذُ الْعَطَاءَ مِنْ عُمَرَ فَمَا تَرَى قَالَ خُذْهُ فَإِنَّ فِيهِ الْيَوْمَ مَعُونَةً وَيُوشِكُ أَنْ يَكُونَ دَيْنًا فَإِذَا كَانَ دَيْنًا فَارْفُضْهُ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْكُرْ إِلَّا شَيْئًا سَمِعُوهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَرَى عَفَّانَ إِلَّا وَهِمَ وَذَهَبَ إِلَى حَدِيثِ أَبِي الْأَشْهَبِ لِأَنَّ عَفَّانَ زَادَهُ وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫১৬
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ مجھے کوئی وصیت فرمائیے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس کے بعد کوئی نیکی کرلیا کرو جو اس گناہ کو مٹا دے میں نے عرض کیا کہ لا الہ الا اللہ کہنا نیکیوں میں شامل ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ تو سب سے افضل نیکی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنِ أَشْيَاخِهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ إِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَةً فَأَتْبِعْهَا حَسَنَةً تَمْحُهَا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنْ الْحَسَنَاتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ هِيَ أَفْضَلُ الْحَسَنَاتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫১৭
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ فرماتا ہے جو شخص نیکی کا ایک عمل کرتا ہے اسے دس گنا بدلہ ملے گا یا میں اس میں مزید اضافہ کردوں گا اور جو شخص گناہ کا ایک عمل کرتا ہے تو اس کا بدلہ اسی کے برابر ہوگا یا میں اسے معاف بھی کرسکتا ہوں جو شخص زمین بھر کر گناہ کرے پھر مجھ سے اس حال میں ملے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، میں اس کے لئے اتنی ہی مغفرت کا فیصلہ کرلیتا ہوں اور جو شخص ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے میں ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب آتا ہوں اور جو ایک ہاتھ کے برابر قریب آتا ہے میں ایک گز اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور جو میری طرف چل کر آتا ہے میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا أَوْ أَزِيدُ وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَجَزَاؤُهَا مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ وَمَنْ عَمِلَ قُرَابَ الْأَرْضِ خَطِيئَةً ثُمَّ لَقِيَنِي لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا جَعَلْتُ لَهُ مِثْلَهَا مَغْفِرَةً وَمَنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَمَنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫১৮
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بالوں کی اس سفیدی کو بدلنے والی سب سے بہترین چیز مہندی اور وسمہ ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُيِّرَ بِهِ الشَّيْبُ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫১৯
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے ابوذر ! عنقریب کچھ حکمران آئیں گے جو نماز کو وقت مقررہ پر ادا نہ کریں گے تم نماز کو اس کے وقت مقررہ پر ادا کرنا اگر تم اس وقت آؤ جب لوگ نماز پڑھ چکے ہوں تو تم اپنی نماز محفوظ کرچکے ہوگے اور اگر انہوں نے نماز نہ پڑھی ہو تو تم ان کے ساتھ شریک ہوجانا اور یہ نماز تمہارے لئے نفل ہوجائے گی۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَامِتٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا فَإِنْ أَنْتَ أَدْرَكْتَهُمْ فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَرُبَّمَا قَالَ فِي رَحْلِكَ ثُمَّ ائْتِهِمْ فَإِنْ وَجَدْتَهُمْ قَدْ صَلَّوْا كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ وَإِنْ وَجَدْتَهُمْ لَمْ يُصَلُّوا صَلَّيْتَ مَعَهُمْ فَتَكُونُ لَكَ نَافِلَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫২০
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ خانہ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے نبی کریم ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا رب کعبہ کی قسم ! وہ لوگ خسارے میں ہیں مجھے ایک شدید غم نے آگھیرا اور میں اپنا سانس درست کرتے ہوئے سوچنے لگا شاید میرے متعلق کوئی نئی بات ہوگئی ہے چناچہ میں نے پوچھا وہ کون لوگ ہیں ؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی کریم ﷺ نے فرمایا زیادہ مالدار، سوائے اس آدمی کے جو اللہ کے بندوں میں اس اس طرح تقسیم کرے لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں جو آدمی بھی مرتے وقت بکریاں اونٹ یا گائے چھوڑ کرجاتا ہے جس کی اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی ہو وہ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند ہو کر آئیں گے اور اسے اپنے کھروں سے روندیں گے اور اپنے سینگوں سے ماریں گے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے پھر ایک کے بعد دوسرا جانور آتا جائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَلَمَّا رَآنِي مُقْبِلًا قَالَ هُمْ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَقُلْتُ مَا لِي لَعَلِّي أُنْزِلَ فِيَّ شَيْءٌ مَنْ هُمْ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي قَالَ الْأَكْثَرُونَ أَمْوَالًا إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا فَحَثَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ قَالَ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَمُوتُ أَحَدٌ مِنْكُمْ فَيَدَعُ إِبِلًا وَبَقَرًا وَغَنَمًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا إِلَّا جَاءَتْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا عَلَيْهِ أُعِيدَتْ أُولَاهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫২১
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس کے سامنے اس کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو پیش کرو چناچہ اس کے سامنے صغیرہ گناہ لائے جائیں گے اور کبیرہ گناہ چھپا لئے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہ تم نے فلاں فلاں دن ایسا ایسا کیا تھا ؟ وہ ہر گناہ کا اقرار کرے گا کسی کا بھی انکار نہیں کرے گا اور کبیرہ گناہوں کے خوف سے ڈر رہا ہوگا اس وقت حکم ہوگا کہ ہر گناہ کے بدلے اس ایک نیکی دے دو وہ کہے گا کہ میرے بہت سے گناہ ایسے ہیں جنہیں ابھی تک میں نے دیکھا ہی نہیں ہے حضرت ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ اس بات پر میں نے نبی کریم ﷺ کو اتنا ہنستے ہوئے دیکھا کہ دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْ النَّارِ وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ يُؤْتَى بِرَجُلٍ فَيَقُولُ نَحُّوا كِبَارَ ذُنُوبِهِ وَسَلُوهُ عَنْ صِغَارِهَا قَالَ فَيُقَالُ لَهُ عَمِلْتَ كَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا وَعَمِلْتَ كَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ لَقَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لَمْ أَرَهَا هُنَا قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ فَيُقَالُ لَهُ فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫২২
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا ابوذر ! مسجد میں نظر دوڑا کر دیکھو کہ سب سے بلند مرتبہ آدمی کون معلوم ہوتا ہے ؟ میں نے نظر دوڑائی تو ایک آدمی کے جسم پر حلہ دکھائی دیا میں نے اس کی طرف اشارہ کردیا پھر فرمایا کہ اب یہ دیکھو سب سے پست مرتبہ آدمی کون معلوم ہوتا ہے ؟ میں نے نظر دوڑائی تو ایک آدمی کے جسم پر پرانے کپڑے دکھائی دیئے میں نے اس کی طرف اشارہ کردیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ آدمی قیامت کے دن اللہ کے نزدیک اس پہلے والے آدمی سے اگر زمین بھی بھر جائے تب بھی بہتر ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا ذَرٍّ ارْفَعْ بَصَرَكَ فَانْظُرْ أَرْفَعَ رَجُلٍ تَرَاهُ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ عَلَيْهِ حُلَّةٌ قَالَ فَقُلْتُ هَذَا قَالَ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ ارْفَعْ بَصَرَكَ فَانْظُرْ أَوْضَعَ رَجُلٍ تَرَاهُ فِي الْمَسْجِدِ فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَجُلٌ ضَعِيفٌ عَلَيْهِ أَخْلَاقٌ قَالَ فَقُلْتُ هَذَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهَذَا أَفْضَلُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ قُرَابِ الْأَرْضِ مِثْلِ هَذَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫২৩
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت میں مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے لوگ وہ ہوں کے جو میرے بعد آئیں گے اور ان میں سے ہر ایک کی خواہش ہوگی کہ اپنے اہل خانہ اور سارے مال و دولت کو دے کر کسی طرح وہ مجھے دیکھ لیتے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَشَدَّ أُمَّتِي لِي حُبًّا قَوْمٌ يَكُونُونَ أَوْ يَجِيئُونَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ أَعْطَى أَهْلَهُ وَمَالَهُ وَأَنَّهُ رَآنِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫২৪
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
جسرہ بنت دجاجہ کہتی ہیں کہ وہ ایک مرتبہ عمرہ کے لئے جا رہی تھیں مقام ربذہ میں پہنچیں تو حضرت ابوذر (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے عشاء کی نماز کے وقت لوگوں کو نماز پڑھائی نماز کے بعد صحابہ کرام (رض) پیچھے ہٹ کر نوافل پڑھنے لگے نبی کریم ﷺ یہ دیکھ کر اپنے خیمے میں واپس چلے گئے جب دیکھا کہ لوگ جا چکے ہیں تو اپنی جگہ پر واپس آکر نوافل پڑھنے شروع کردیئے میں پیچھے سے آیا اور نبی کریم ﷺ کے پیچھے کھڑا ہوگیا، نبی کریم ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ سے مجھے اشارہ کیا اور میں ان کی دائیں جانب جا کر کھڑا ہوگیا تھوڑی دیر بعد حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بھی آگئے وہ ہمارے پیچھے کھڑے ہوگئے نبی کریم ﷺ نے اپنے بائیں ہاتھ سے ان کی طرف اشارہ کیا اور وہ بائیں جانب جا کر کھڑے ہوگئے۔ اس طرح ہم تین آدمیوں نے قیام کیا اور ہم میں سے ہر ایک اپنی اپنی نماز پڑھ رہا تھا اور اس میں جتنا اللہ کو منظور ہوتا قرآن کریم کی تلاوت کرتا تھا اور نبی کریم ﷺ اپنے قیام میں ایک ہی آیت کو باربار دہراتے رہے یہاں تک کہ نماز فجر کا وقت ہوگیا صبح ہوئی تو میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی طرف اشارہ کیا کہ نبی کریم ﷺ سے رات کے عمل کے متعلق سوال کریں لیکن انہوں نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے جواب دیا کہ میں تو اس وقت تک نبی کریم ﷺ سے کچھ نہیں پوچھوں گا جب تک وہ از خود بیان نہ فرمائیں۔ چنانچہ ہمت کر کے میں نے خود ہی عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ ساری رات قرآن کریم کی ایک ہی آیت پڑھتے رہے حالانکہ آپ کے پاس تو سارا قرآن ہے ؟ اگر ہم میں سے کوئی شخص ایسا کرتا تو ہمیں اس پر غصہ آتا اگر لوگوں کو پتہ چل جائے تو وہ نماز پڑھنا بھی چھوڑ دیں میں نے عرض کیا کہ کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنادوں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں چناچہ میں گردن موڑ کر جانے لگا ابھی اتنی دور ہی گیا تھا کہ جہاں تک پتھر پہنچ سکے کہ حضرت عمر (رض) کہنے لگے اگر آپ نے انہیں یہ پیغام دے کر لوگوں کے پاس بھیج دیا تو وہ عبادت سے بےپرواہ ہوجائیں گے اس پر نبی کریم ﷺ نے انہیں آواز دے کر واپس بلالیا اور وہ واپس آگئے اور وہ آیت یہ تھی (إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ) اے اللہ ! اگر تو انہیں عذاب میں مبتلا کر دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف کر دے تو تو بڑا غالب حکمت والا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ أَنَّهَا انْطَلَقَتْ مُعْتَمِرَةً فَانْتَهَتْ إِلَى الرَّبَذَةِ فَسَمِعَتْ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنْ اللَّيَالِي فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ فَصَلَّى بِالْقَوْمِ ثُمَّ تَخَلَّفَ أَصْحَابٌ لَهُ يُصَلُّونَ فَلَمَّا رَأَى قِيَامَهُمْ وَتَخَلُّفَهُمْ انْصَرَفَ إِلَى رَحْلِهِ فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمَ قَدْ أَخْلَوْا الْمَكَانَ رَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ فَصَلَّى فَجِئْتُ فَقُمْتُ خَلْفَهُ فَأَوْمَأَ إِلَيَّ بِيَمِينِهِ فَقُمْتُ عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ جَاءَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَامَ خَلْفِي وَخَلْفَهُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ بِشِمَالِهِ فَقَامَ عَنْ شِمَالِهِ فَقُمْنَا ثَلَاثَتُنَا يُصَلِّي كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا بِنَفْسِهِ وَيَتْلُو مِنْ الْقُرْآنِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتْلُوَ فَقَامَ بِآيَةٍ مِنْ الْقُرْآنِ يُرَدِّدُهَا حَتَّى صَلَّى الْغَدَاةَ فَبَعْدَ أَنْ أَصْبَحْنَا أَوْمَأْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنْ سَلْهُ مَا أَرَادَ إِلَى مَا صَنَعَ الْبَارِحَةَ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِيَدِهِ لَا أَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ حَتَّى يُحَدِّثَ إِلَيَّ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي قُمْتَ بِآيَةٍ مِنْ الْقُرْآنِ وَمَعَكَ الْقُرْآنُ لَوْ فَعَلَ هَذَا بَعْضُنَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ قَالَ دَعَوْتُ لِأُمَّتِي قَالَ فَمَاذَا أُجِبْتَ أَوْ مَاذَا رُدَّ عَلَيْكَ قَالَ أُجِبْتُ بِالَّذِي لَوْ اطَّلَعَ عَلَيْهِ كَثِيرٌ مِنْهُمْ طَلْعَةً تَرَكُوا الصَّلَاةَ قَالَ أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ بَلَى فَانْطَلَقْتُ مُعْنِقًا قَرِيبًا مِنْ قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ إِنْ تَبْعَثْ إِلَى النَّاسِ بِهَذَا نَكَلُوا عَنْ الْعِبَادَةِ فَنَادَى أَنْ ارْجَعْ فَرَجَعَ وَتِلْكَ الْآيَةُ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ حَدَّثَنَا قُدَامَةُ الْبَكْرِيُّ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَقَالَ يَنْكُلُوا عَنْ الْعِبَادَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫২৫
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
معاویہ بن حدیج ایک مرتبہ حضرت ابوذر (رض) کے پاس سے گذرے جو اپنے گھوڑے کے پاس کھڑے ہوئے تھے انہوں نے پوچھا کہ آپ اپنے گھوڑے کی اتنی دیکھ بھال کیوں کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ اس گھوڑے کی دعاء قبول ہوگئی ہے انہوں نے ان سے پوچھا کہ جانور کی دعاء کا کیا مطلب ؟ حضرت ابوذر (رض) نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے کوئی گھوڑا ایسا نہیں ہے جو روزانہ سحری کے وقت یہ دعاء نہ کرتا ہو اے اللہ آپ نے اپنے بندوں میں سے ایک بندے کو میرا مالک بنایا ہے اور میرا رزق اس کے ہاتھ میں رکھا ہے لہٰذا مجھے اس کی نظروں میں اس کے اہل خانہ اور مال و اولاد سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ فَرَسٍ عَرَبِيٍّ إِلَّا يُؤْذَنُ لَهُ مَعَ كُلِّ فَجْرٍ يَدْعُو بِدَعْوَتَيْنِ يَقُولُ اللَّهُمَّ خَوَّلْتَنِي مَنْ خَوَّلْتَنِي مِنْ بَنِي آدَمَ فَاجْعَلْنِي مِنْ أَحَبِّ أَهْلِهِ وَمَالِهِ إِلَيْهِ أَوْ أَحَبَّ أَهْلِهِ وَمَالِهِ إِلَيْهِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ قَالَ أَبِي خَالَفَهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ فَقَالَ عَنْ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاشَةَ و قَالَ لَيْثٌ عَنْ أَبِي شِمَاشَةَ أَيْضًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫২৬
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
عبداللہ بن شقیق (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوذر (رض) سے عرض کیا کہ کاش ! میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا ہوتا تو ان سے ایک سوال ہی پوچھ لیتا، انہوں نے فرمایا تم ان سے کیا سوال پوچھتے ؟ انہوں نے کہا کہ میں یہ سوال پوچھتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کی زیارت کی ہے ؟ حضرت ابوذر (رض) نے فرمایا یہ سوال تو میں ان سے پوچھ چکا ہوں جس کے جواب میں انہوں نے فرمایا تھا کہ میں نے ایک نور دیکھا ہے، میں اسے کہاں دیکھ سکتا ہوں ؟
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ لَوْ كُنْتُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ قَالَ عَنْ أَيِّ شَيْءٍ قُلْتُ أَسْأَلُهُ هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ قَالَ فَقَالَ قَدْ سَأَلْتُهُ فَقَالَ نُورًا أَنَّى أَرَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫২৭
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
ابومرثد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر (رض) سے پوچھا کہ کیا آپ نے شب قدر کے متعلق نبی کریم ﷺ سے پوچھا تھا ؟ انہوں نے فرمایا اس کے متعلق سب سے زیادہ میں نے ہی تو پوچھا تھا، میں نے پوچھا تھا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ بتائیے کہ شب قدر رمضان کے مہینے میں ہوتی ہے یا کسی اور مہینے میں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ ماہ رمضان میں ہوتی ہے میں نے پوچھا کہ گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ وہ اس وقت تک رہتی تھی جب تک وہ نبی رہتے تھے جب ان کا وصال ہوجاتا تو اسے اٹھا لیا جاتا تھا یا یہ قیامت تک رہے گی ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہیں ! قیامت تک رہے گی میں نے پوچھا رمضان کے کس حصے میں شب قدر ہوتی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے عشرہ اولی یا عشرہ اخیرہ میں تلاش کیا کرو۔ پھر نبی کریم ﷺ حدیث بیان کرنے لگے اسی دوران مجھ پر اونگھ کا غلبہ ہوا جب میں ہوشیار ہوا تو پوچھا کہ وہ کون سے بیس دنوں میں ہوتی ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اب مجھ سے کوئی سوال نہ پوچھنا نبی کریم ﷺ دوبارہ حدیث بیان کرنے لگے اور مجھ پر پھر غفلت طاری ہوگئی جب میں ہوشیار ہوا تو عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں آپ کو اپنے اس حق کی قسم دیتا ہوں جو میرا آپ پر ہے مجھے یہ بتا دیجئے کہ وہ کون سے عشرے میں ہوتی ہے ؟ اس پر نبی کریم ﷺ کو ایسا غصہ آیا کہ جب سے مجھے نبی کریم ﷺ کی صحبت میسر آئی ایسا غصہ کبھی نہیں آیا تھا اور فرمایا آخری سات راتوں میں اسے تلاش کرو اور اب مجھ سے کوئی سوال نہ پوچھنا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزِّمَّانِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي مَرْثَدٌ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ قُلْتُ كُنْتَ سَأَلْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ قَالَ أَنَا كُنْتُ أَسْأَلَ النَّاسِ عَنْهَا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَفِي رَمَضَانَ هِيَ أَوْ فِي غَيْرِهِ قَالَ بَلْ هِيَ فِي رَمَضَانَ قَالَ قُلْتُ تَكُونُ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ مَا كَانُوا فَإِذَا قُبِضُوا رُفِعَتْ أَمْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ بَلْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ قُلْتُ فِي أَيِّ رَمَضَانَ هِيَ قَالَ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأُوَلِ أَوْ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ثُمَّ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَ ثُمَّ اهْتَبَلْتُ وَغَفَلْتُهُ قُلْتُ فِي أَيِّ الْعِشْرِينَ هِيَ قَالَ ابْتَغُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ لَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا ثُمَّ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَ ثُمَّ اهْتَبَلْتُ وَغَفَلْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ بِحَقِّي عَلَيْكَ لَمَا أَخْبَرْتَنِي فِي أَيِّ الْعَشْرِ هِيَ قَالَ فَغَضِبَ عَلَيَّ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ مِثْلَهُ مُنْذُ صَحِبْتُهُ أَوْ صَاحَبْتُهُ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَ الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ لَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫২৮
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ سب سے افضل عمل کون سا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کون سا غلام آزاد کرنا سب سے افضل ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو اس کے مالک کے نزدیک سب سے نفیس اور گراں قیمت ہو عرض کیا کہ اگر مجھے ایسا غلام نہ ملے تو ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی ضرورت مند کی مدد کردو یا کسی محتاج کے لئے محنت مزدوری کرلو عرض کیا کہ اگر میں یہ بھی نہ کرسکوں تو ؟ فرمایا لوگوں کو اپنی تکلیف سے محفوظ رکھو کیونکہ یہ بھی ایک صدقہ ہے جو تم اپنی طرف سے دیتے ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ أَبَا مُرَاوِحٍ الْغِفَارِيَّ أخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ أخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ قَالَ فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ قَالَ أَغْلَاهَا ثَمَنًا وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا قَالَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَفْعَلْ قَالَ تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ قَالَ تُمْسِكُ عَنْ الشَّرِّ فَإِنَّهُ صَدَقَةٌ تَصَّدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫২৯
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل ﷺ تین باتوں کی وصیت فرمائی ہے (١) بات سنو اور اطاعت کرو اگرچہ کٹے ہوئے اعضاء والے غلام حکمران کی ہو (٢) جب سالن بناؤ تو اس کا پانی بڑھا لیا کرو پھر اپنے ہمسائے میں رہنے والوں کو دیکھو اور بھلے طریقے سے ان تک بھی اسے پہنچاؤ (٣) اور نماز کو وقت مقررہ پر ادا کیا کرو اور جب تم امام کو نماز پڑھ کر فارغ دیکھو تو تم اپنی نماز پڑھ ہی چکے ہوگے ورنہ وہ نفلی نماز ہوجائے گی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ لَمَّا قَدِمَ أَبُو ذَرٍّ عَلَى عُثْمَانَ مِنْ الشَّامِ فَقَالَ أَمَرَنِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ اسْمَعْ وَأَطِعْ وَلَوْ عَبْدًا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ وَإِذَا صَنَعْتَ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا ثُمَّ انْظُرْ أَهْلَ بَيْتٍ مِنْ جِيرَتِكَ فَأَصِبْهُمْ مِنْهَا بِمَعْرُوفٍ وَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ وَجَدْتَ الْإِمَامَ قَدْ صَلَّى فَقَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ وَإِلَّا فَهِيَ نَافِلَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৩০
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص شراب نوشی کرتا ہے اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوتی پھر اگر وہ توبہ کرلیتا ہے تو اللہ اس کی توبہ کو قبول کرلیتا ہے، دوبارہ پیتا ہے تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے (تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا) کہ پھر اللہ تعالیٰ کے ذمے واجب ہے کہ اسے " طینۃ الخبال " کا پانی پلائے صحابہ (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ طینۃ الخبال کیا چیز ہے ؟ فرمایا اہل جہنم کی پیپ۔
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ ابْنِ عَمٍّ لِأَبِي ذَرٍّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يَقْبَلْ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ كَانَ مِثْلَ ذَلِكَ فَمَا أَدْرِي أَفِي الثَّالِثَةِ أَمْ فِي الرَّابِعَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ عَادَ كَانَ حَتْمًا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ قَالَ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৩১
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ آج رات میں آپ کے ساتھ گذارنا اور آپ کی نماز میں شریک ہونا چاہتا ہوں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں ایسا کرنے کی طاقت نہیں ہے بہرحال ! نبی کریم ﷺ غسل کے لئے چلے گئے ایک کپڑے سے پردہ کردیا گیا اور میں رخ پھیر کر بیٹھ گیا نبی کریم ﷺ غسل کر کے آئے تو میں نے بھی اسی طرح کیا پھر نبی کریم ﷺ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے اور میں بھی ساتھ کھڑا ہوگیا حتی کہ طول نماز کی وجہ سے میں اپنا سر دیواروں سے ٹکرانے لگا پھر حضرت بلال (رض) نماز کے لئے آگئے نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا کیا تم نے ایسا کرلیا ؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا بلال ! تم اس وقت اذان دیتے ہو جب آسمان پر طلوع فجر ہوجاتی ہے حالانکہ اصل صبح صادق وہ نہیں ہوتی صبح صادق تو چوڑائی کی حالت میں نمودار ہوتی ہے پھر نبی کریم ﷺ نے سحری منگوا کر اسے تناول فرمایا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ قَالَ وَحَدَّثَنِي رِشْدِينُ عَنْ سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ التُّجِيبِيِّ حَدَّثَهُ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ أَبِي عُثْمَانَ حَدَّثَهُ عَنْ حَاتِمِ بْنِ عَدِيٍّ أَوْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الْحِمْصِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبِيتَ عِنْدَكَ اللَّيْلَةَ فَأُصَلِّيَ بِصَلَاتِكَ قَالَ لَا تَسْتَطِيعُ صَلَاتِي فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ فَيَسْتُرُ بِثَوْبٍ وَأَنَا مُحَوَّلٌ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ فَعَلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَقُمْتُ مَعَهُ حَتَّى جَعَلْتُ أَضْرِبُ بِرَأْسِي الْجُدْرَانَ مِنْ طُولِ صَلَاتِهِ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ لِلصَّلَاةِ فَقَالَ أَفَعَلْتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ يَا بِلَالُ إِنَّكَ لَتُؤَذِّنُ إِذَا كَانَ الصُّبْحُ سَاطِعًا فِي السَّمَاءِ وَلَيْسَ ذَلِكَ الصُّبْحَ إِنَّمَا الصُّبْحُ هَكَذَا مُعْتَرِضًا ثُمَّ دَعَا بِسَحُورٍ فَتَسَحَّرَ
তাহকীক: