আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৬ টি
হাদীস নং: ২০৫৩২
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے چل رہا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الا باللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے )
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ لَكَ فِي كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৩৩
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر غفاری (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے ! تو میری جتنی عبادت اور مجھ سے جتنی امید وابستہ کرے گا میں تیرے سارے گناہوں کو معاف کردوں گا میرے بندے ! اگر تو زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں اتنی ہی بخشش کے ساتھ تجھ سے ملوں گا مجھے کوئی پرواہ نہ ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ مَعْدِي كَرِبَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّهُ قَالَ يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي فَإِنِّي سَأَغْفِرُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ وَلَوْ لَقِيتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا لَلَقِيتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً وَلَوْ عَمِلْتَ مِنْ الْخَطَايَا حَتَّى تَبْلُغَ عَنَانَ السَّمَاءِ مَا لَمْ تُشْرِكْ بِي شَيْئًا ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي لَغَفَرْتُ لَكَ ثُمَّ لَا أُبَالِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ مَعْدِي كَرِبَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৩৪
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بلال ! تم اس وقت اذان دیتے ہو جب آسمان پر طلوع فجر ہوجاتی ہے حالانکہ اصل صبح صادق وہ نہیں ہوتی صبح صادق تو چوڑائی کی حالت میں نمودار ہوتی ہے پھر نبی کریم ﷺ نے سحری منگوا کر اسے تناول فرمایا : اور فرماتے تھے کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک وہ سحری میں تاخیر اور افطاری میں تعجیل کرتی رہے گی۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الْحِمْصِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِبِلَالٍ أَنْتَ يَا بِلَالُ تُؤَذِّنُ إِذَا كَانَ الصُّبْحُ سَاطِعًا فِي السَّمَاءِ فَلَيْسَ ذَلِكَ بِالصُّبْحِ إِنَّمَا الصُّبْحُ هَكَذَا مُعْتَرِضًا ثُمَّ دَعَا بِسَحُورِهِ فَتَسَحَّرَ وَكَانَ يَقُولُ لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا أَخَّرُوا السَّحُورَ وَعَجَّلُوا الْفِطْرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৩৫
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اس وقت مسلسل اپنے بندے پر دوران نماز متوجہ رہتا ہے جب تک وہ دائیں بائیں نہ دیکھے لیکن جب وہ اپنا چہرہ پھیر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اپنا چہرہ پھیر لیتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ مَوْلَى بَنِي لَيْثٍ يُحَدِّثُنَا فِي مَجْلِسِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَابْنُ الْمُسَيَّبِ جَالِسٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ فِي صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ فَإِذَا صَرَفَ وَجْهَهُ انْصَرَفَ عَنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৩৬
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پانچ چیزوں کی مجھ سے بیعت لی سات چیزوں کا مجھ سے میثاق لیا ہے اور نو چیزوں پر اللہ کو گواہ بنایا ہے کہ میں اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کروں گا ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا کیا تم میری بیعت کرتے ہو ؟ جس کے بدلے میں تمہیں جنت مل جائے میں نے اثبات میں جواب دے کر ہاتھ پھیلا دیا نبی کریم ﷺ نے یہ شرط لگاتے ہوئے فرمایا کہ تم کسی سے کچھ نہیں مانگو گے میں نے اثبات میں جواب دیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تمہارا کوڑا گرجائے تو وہ بھی کسی سے نہ مانگنا بلکہ خود سواری سے اتر کر اسے پکڑ لینا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ وَأَبِي الْمُثَنَّى أَنَّ أَبَا ذَرٍّ قَالَ بَايَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا وَأَوْثَقَنِي سَبْعًا وَأَشْهَدَ اللَّهَ عَلَيَّ تِسْعًا أَنْ لَا أَخَافَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ قَالَ أَبُو الْمُثَنَّى قَالَ أَبُو ذَرٍّ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلْ لَكَ إِلَى بَيْعَةٍ وَلَكَ الْجَنَّةُ قُلْتُ نَعَمْ وَبَسَطْتُ يَدِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ وَهُوَ يَشْتَرِطُ عَلَيَّ أَنْ لَا تَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا قُلْتُ نَعَمْ قَالَ وَلَا سَوْطَكَ إِنْ يَسْقُطَ مِنْكَ حَتَّى تَنْزِلَ إِلَيْهِ فَتَأْخُذَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৩৭
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ ماہ رمضان کے روزے رکھے نبی کریم ﷺ نے سارا مہینہ ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا جب ٢٤ ویں شب ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے ہمارے ساتھ قیام فرمایا حتی کہ تہائی رات ختم ہونے کے قریب ہوگئی جب اگلی رات آئی تو نبی کریم ﷺ نے پھر قیام نہیں فرمایا اور ٢٦ ویں شب کو ہمارے ساتھ اتنا لمباقیام فرمایا کہ نصف رات ختم ہونے کے قریب ہوگئی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اگر رات کے باقی حصے میں بھی آپ ہمیں نوافل پڑھاتے رہتے ؟ نبی کریم ﷺ نہیں جب کوئی شخص امام کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور فراغت تک شامل رہتا ہے تو اسے ساری رات قیام میں ہی شمار کیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ يَرُدُّهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا كَانَ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَعِشْرِينَ قَالَ إِنَّا قَائِمُونَ اللَّيْلَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَقُومَ فَلْيَقُمْ وَهِيَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ فَصَلَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَاعَةً بَعْدَ الْعَتَمَةِ حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ لَمْ يُصَلِّ شَيْئًا وَلَمْ يَقُمْ فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ قَامَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ يَوْمَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ فَقَالَ إِنَّا قَائِمُونَ اللَّيْلَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ يَعْنِي لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ فَمَنْ شَاءَ فَلْيَقُمْ فَصَلَّى بِالنَّاسِ حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ سِتٍّ وَعِشْرِينَ لَمْ يَقُلْ شَيْئًا وَلَمْ يَقُمْ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ سِتٍّ وَعِشْرِينَ قَامَ فَقَالَ إِنَّا قَائِمُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ يَعْنِي لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَقُومَ فَلْيَقُمْ قَالَ أَبُو ذَرٍّ فَتَجَلَّدْنَا لِلْقِيَامِ فَصَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى قُبَّتِهِ فِي الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ لَهُ إِنْ كُنَّا لَقَدْ طَمِعْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَقُومَ بِنَا حَتَّى تُصْبِحَ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّكَ إِذَا صَلَّيْتَ مَعَ إِمَامِكَ وَانْصَرَفْتَ إِذَا انْصَرَفَ كُتِبَ لَكَ قُنُوتُ لَيْلَتِكَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৩৮
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو بکریوں کو آپس میں ایک دوسرے سے سینگوں کے ساتھ ٹکراتے ہوئے دیکھا کہ ان میں سے ایک نے دوسری کو عاجز کردیا نبی کریم ﷺ مسکرانے لگے کسی نے وجہ پوچھی تو فرمایا مجھے اس بکری پر تعجب ہو رہا ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے قیامت کے دن اس سے اس کا بدلہ لیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَرْوَانَ عَنْ الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا وَشَاتَانِ تَقْتَرِنَانِ فَنَطَحَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى فَأَجْهَضَتْهَا قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَجِبْتُ لَهَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُقَادَنَّ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৩৯
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کچھ کلمات ایسے ہیں جنہیں اگر کوئی شخص ہر نماز کے بعد سو مرتبہ کہہ لے یعنی اللہ اکبر سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ اور لہ حول ولاقوۃ الاباللہ پھر اگر اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں تو یہ کلمات انہیں مٹا دیں گے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا كَثِيرٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَلِمَاتٌ مَنْ ذَكَرَهُنَّ مِائَةَ مَرَّةٍ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ اللَّهُ أَكْبَرُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ لَوْ كَانَتْ خَطَايَاهُ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ لَمَحَتْهُنَّ قَالَ أَبِي لَمْ يَرْفَعْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৪০
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے رات سے صبح تک نبی کریم ﷺ کے ہمراہ سرگوشیوں میں گفتگو کی پھر عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ مجھے کسی علاقے کا گورنر بنا دیجئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ تو ایک امانت ہے جو قیامت کے دن رسوائی اور ندامت کا سبب ہوگی سوائے اس شخص کے جو اسے اس کے حق کے ساتھ لے اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ حُجَيْرَةَ الشَّيْخَ يَقُولُ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ نَاجَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِّرْنِي فَقَالَ إِنَّهَا أَمَانَةٌ وَخِزْيٌ وَنَدَامَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৪১
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی ساتھی سے محبت کرتا ہو تو اسے چاہئے کہ اس کے گھر جائے اور اسے بتائے کہ وہ اس سے اللہ کے لئے محبت کرتا ہے اور اے ابو ذر ! میں اسی وجہ سے تمہارے گھر آیا ہوں۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ أَبَا سَالِمٍ الْجَيْشَانِيَّ أَتَى أَبَا أُمَيَّةَ فِي مَنْزِلِهِ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ صَاحِبَهُ فَلْيَأْتِهِ فِي مَنْزِلِهِ فَلْيُخْبِرْهُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَدْ أَحْبَبْتُكَ فَجِئْتُكَ فِي مَنْزِلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৪২
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے جس کا خادم اس کے موافق آجائے تو تم جو خود کھاتے ہو وہی اسے کھلاؤ اور جو خود پہنتے ہو وہی اسے بھی پہناؤ اور جو تمہارے موافق نہ آئے اسے بیچ دو اور اللہ کی مخلوق کو عذاب میں مبتلا نہ کرو۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَاءَمَكُمْ مِنْ خَدَمِكُمْ فَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ وَمَنْ لَا يُلَائِمُكُمْ مِنْ خَدَمِكُمْ فَبِيعُوا وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৪৩
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے وہ کچھ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے، آسمان چرچرانے لگے اور ان کا حق بھی ہے کہ وہ چرچرائیں کیونکہ آسمان میں چار انگل کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں ہے جس پر کوئی فرشتہ سجدہ ریز نہ ہو اگر تمہیں وہ باتیں معلوم ہوتیں جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے اور بستروں پر اپنی عورتوں سے لطف اندوز نہ ہوسکتے اور پہاڑوں کی طرف نکل جاتے تاکہ اللہ کی پناہ میں آجاؤ حضرت ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ کاش ! میں کوئی درخت ہوتا جسے کاٹ دیا جاتا۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ هُوَ ابْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ مُوَرِّقٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ أَطَّتْ السَّمَاءُ وَحَقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ مَا فِيهَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ سَاجِدٌ لَوْ عَلِمْتُمْ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشَاتِ وَلَخَرَجْتُمْ عَلَى أَوْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ قَالَ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي شَجَرَةٌ تُعْضَدُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৪৪
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل ﷺ نے پانچ چیزوں کا حکم دیا ہے انہوں نے مجھے حکم دیا ہے مساکین سے محبت کرنے اور ان سے قریب رہنے کا اپنے سے نیچے والے کو دیکھنے اور اوپر والے کو نہ دیکھنے کا، صلہ رحمی کرنے کا گو کہ کوئی اسے توڑ ہی دے کسی سے کچھ نہ مانگنے کا، حق بات کہنے کا خواہ وہ تلخ ہی ہو، اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرنے کا اور لاحول ولاقوۃ الا باللہ کی کثرت کا کیونکہ یہ کلمات عرش کے نیچے ایک خزانے سے آئے ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ الْمَدَنِيُّ أَخْبَرَنَا عُمَرُ مَوْلَى غُفْرَةَ عَنِ ابْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَوْصَانِي حِبِّي بِخَمْسٍ أَرْحَمُ الْمَسَاكِينَ وَأُجَالِسُهُمْ وَأَنْظُرُ إِلَى مَنْ هُوَ تَحْتِي وَلَا أَنْظُرُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي وَأَنْ أَصِلَ الرَّحِمَ وَإِنْ أَدْبَرَتْ وَأَنْ أَقُولَ بِالْحَقِّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا وَأَنْ أَقُولَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ يَقُولُ مَوْلَى غُفْرَةَ لَا أَعْلَمُ بَقِيَ فِينَا مِنْ الْخَمْسِ إِلَّا هَذِهِ قَوْلُنَا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى و قَالَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৪৫
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ مجھے میرے محبوب ﷺ نے تین چیزوں کی وصیت فرمائی ہے جنہیں انشاء اللہ میں کبھی نہیں چھوڑوں گا انہوں نے مجھے چاشت کی نماز، سونے سے پہلے وتر اور ہر مہینے تین روزے رکھنے کی وصیت فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ أَوْصَانِي حِبِّي بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَبَدًا أَوْصَانِي بِصَلَاةِ الضُّحَى وَبِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ وَبِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৪৬
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی بھی نیکی کو حقیر نہ سمجھو اگر کچھ اور نہ کرسکو تو اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ہی مل لیا کرو۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تَحْقِرَنَّ مِنْ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَالْقَ أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৪৭
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا عنقریب تم سر زمین مصر کو فتح کرلو گے، اس علاقے میں " قیراط " کا لفظ بولا جاتا ہے، جب تم اسے فتح کرلو وہاں کے باشندوں سے حسن سلوک کرنا کیونکہ ان کے ساتھ عہد اور رشتہ داری کا تعلق ہے، چناچہ وہاں جب تم دو آدمیوں کو ایک اینٹ کی جگہ پر لڑتے ہوئے دیکھو تو وہاں سے نکل جانا پھر میں نے عبدالرحمن بن شرجیل اور ان کے بھائی ربیعہ کو ایک اینٹ کی جگہ میں ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے دیکھا تو میں وہاں سے نکل آیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ مِصْرَ وَهِيَ أَرْضٌ يُسَمَّى فِيهَا الْقِيرَاطُ فَإِذَا فَتَحْتُمُوهَا فَأَحْسِنُوا إِلَى أَهْلِهَا فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا أَوْ قَالَ ذِمَّةً وَصِهْرًا فَإِذَا رَأَيْتَ رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ فِيهَا فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَاخْرُجْ مِنْهَا قَالَ فَرَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ وَأَخَاهُ رَبِيعَةَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَخَرَجْتُ مِنْهَا قَالَ و حَدَّثَنَاه هَارُونُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৪৮
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس وقت قبول کرتا رہتا ہے جب تک حجاب واقع نہ ہوجائے میں نے پوچھا کہ حجاب واقع ہونے سے کیا مراد ہے ؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا انسان کی روح اس حال میں نکلے کہ وہ مشرک ہو۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مَكْحُولٍ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعَيْمٍ حَدَّثَهُ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ سَلْمَانَ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ أَوْ يَغْفِرُ لِعَبْدِهِ مَا لَمْ يَقَعْ الْحِجَابُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْحِجَابُ قَالَ أَنْ تَمُوتَ النَّفْسُ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৪৯
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا رہتا ہے جب تک حجاب واقع نہ ہوجائے، میں نے پوچھا کہ حجاب واقع ہونے سے کیا مراد ہے ؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا انسان کی روح اس حال میں نکلے کہ وہ مشرک ہو۔ حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا رہتا ہے جب تک حجاب واقع نہ ہوجائے، میں نے پوچھا کہ حجاب واقع ہونے سے کیا مراد ہے ؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا انسان کی روح اس حال میں نکلے کہ وہ مشرک ہو۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ سَلْمَانَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَغْفِرُ لِعَبْدِهِ مَا لَمْ يَقَعْ الْحِجَابُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا وُقُوعُ الْحِجَابِ قَالَ أَنْ تَمُوتَ النَّفْسُ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ وَعِصَامُ بْنُ خَالِدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ سَلْمَانَ وَقَالَ عِصَامٌ عُمَرَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَنْسِيِّ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَدَّثَهُمْ وَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا وُقُوعُ الْحِجَابِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَغْفِرُ لِعَبْدِهِ فَذَكَرَا مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৫০
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ ہم اپنی قوم غفار سے نکلے اور وہ حرمت والے مہینے کو بھی حلال جانتے تھے۔ پس میں اور میرا بھائی انیس اور ہماری والدہ نکلے ہم ماموں کے ہاں اترے جو بڑے مالدار اور اچھی حالت میں تھے ہمارے ماموں نے ہمارا اعزازو اکرام کیا اور خوب خاطر مدارت کی جس کی وجہ سے ان کی قوم نے ہم پر حسد کیا اور انہوں نے کہا (ماموں سے) کہ جب تو اپنے اہل سے نکل کرجاتا ہے تو انیس ان سے بدکاری کرتا ہے ہمارے ماموں آئے اور ان سے جو کچھ کہا گیا تھا وہ الزام ہم پر لگایا، میں نے کہا کہ آپ نے ہمارے ساتھ جو احسان و نیکی کی تھی اسے اس الزام کی وجہ سے خراب کردیا ہے پس اب اس کے بعد ہمارا آپ سے تعلق اور نبھاؤ نہیں ہوسکتا چناچہ ہم اپنے اونٹوں کے قریب آئے اور ان پر اپنا سامان سوار کیا اور ہمارے ماموں نے کپڑا ڈال کر رونا شروع کردیا اور ہم چل پڑے یہاں تک کہ مکہ کے قریب پہنچے پھر پس انیس ہمارے اونٹوں میں مزید اتنے ہی اور اونٹوں کو لے کر آیا اور میں رسول اللہ ﷺ سے ملاقات سے تین سال پہلے سے ہی اے بھتیجے نماز پڑھا کرتا تھا حضرت عبداللہ بن صامت کہتے ہیں میں نے کہا کس کی رضا کے لئے ؟ انہوں نے کہا اللہ کی رضا کے لئے، میں نے کہا آپ اپنا رخ کس طرف کرتے تھے ؟ انہوں نے کہ جہاں میرا رب میرا رخ کردیتا اسی طرف میں عشاء کی نماز ادا کرلیتا تھا یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ ہوتا تو میں اپنے آپ کو اس طرح ڈال لیتا گویا کہ میں چادر ہی ہوں یہاں تک کہ سورج بلند ہوجاتا۔ انیس نے کہا مجھے مکہ میں ایک کام ہے تو میرے معاملات کی دیکھ بھال کرنا چناچہ انیس چلا یہاں تک کہ مکہ آیا اور کچھ عرصہ کے بعد واپس آیا تو میں نے کہا تو نے کیا کیا اس نے کہا میں مکہ میں ایک آدمی سے ملا جو تیرے دین پر ہے اور دعوی کرتا ہے کہ اللہ نے اسے (رسول بنا کر) بھیجا ہے میں نے کہا لوگ کیا کہتے ہیں ؟ اس نے کہا کہ لوگ اسے شاعر کاہن اور جادوگر کہتے ہیں اور انیس خود شاعروں میں سے تھا انیس نے کہا، میں کاہنوں کی باتیں سن چکا ہوں لیکن اس کا کلام کاہنوں جیسا نہیں ہے اور تحقیق میں نے اس کے اقوال کا شعراء کے اشعار سے بھی موازنہ کیا لیکن کسی شخص کی زبان پر ایسے شعر بھی نہیں ہیں، اللہ کی قسم ! وہ سچا ہے اور دوسرے لوگ جھوٹے ہیں میں نے کہا تم میرے معاملات کی نگرانی کرو یہاں تک کہ میں جا کر دیکھ آؤں چناچہ میں مکہ آیا اور ان میں سے ایک کمزور آدمی سے مل کر پوچھا وہ کہاں ہے جسے تم صابی کہتے ہو ؟ پس اس نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، یہ دین بدلنے والا ہے، وادی والوں میں سے ہر ایک یہ سنتے ہی مجھ پر ڈھیلوں اور ہڈیوں کے ساتھ ٹوٹ پڑا یہاں تک کہ میں بےہوش ہو کر گرپڑا، پس جب میں بیہوشی سے ہوش میں آکر اٹھا تو میں گویا سرخ بت (خون میں لت پت) تھا۔ میں زمزم کے پاس آیا اور اپنا خون دھویا پھر اس کا پانی پیا اور میں اے بھتیجے ! تیس رات اور دن وہاں ٹھہرا رہا اور میرے پاس زمزم کے پانی کے سوا کوئی خوارک نہ تھی، پس میں موٹا ہوگیا یہاں تک کہ میرے پیٹ کی سلوٹیں بھی ختم ہوگئیں اور نہ ہی میں نے اپنے جگر میں بھوک کی وجہ سے گرمی محسوس کی۔ اسی دوران ایک چاندنی رات میں جب اہل مکہ سوگئے اور اس وقت کوئی بھی بیت اللہ کا طواف نہیں کرتا تھا صرف دو عورتیں اساف اور نائلہ (بتوں) کو پکار رہی تھیں جب وہ اپنے طواف کے دوران میرے قریب آئیں تو میں نے کہا اس میں سے ایک (بت) کا دوسرے کے ساتھ نکاح کردو (اساف مرد اور نائلہ عورت تھی اور باعتقاد مشرکین مکہ یہ دونوں زنا کرتے وقت مسخ ہو کر بت ہوگئے تھے) لیکن وہ اپنی بات سے باز نہ آئیں پس جب وہ میرے قریب آئیں تو میں نے بغیر کنایہ اور اشارہ کے یہ کہہ دیا کہ فلاں کے (فرج میں) لکڑی، پس وہ چلاتی ہوئی تیزی سے بھاگ گئیں کہ کاش اس وقت ہمارے لوگوں میں سے کوئی موجود ہوتا، راستہ میں انہیں رسول ﷺ اور ابوبکر (رض) پہاڑی سے اترتے ہوئے ملے آپ ﷺ نے فرمایا تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ انہوں نے کہا کعبہ اور اس کے پردوں کے درمیان ایک دین کو بدلنے والا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اس نے کیا کہا ہے ؟ انہوں نے کہا اس نے ہمیں ایسی بات کہی ہے جو منہ کو بھر دیتی ہے یہ سن کر نبی کریم ﷺ اپنے ساتھی کے ہمراہ آئے، حجر اسود کا استلام کیا اور رسول اللہ ﷺ نے اور آپ کے ساتھی نے طواف کیا پھر نماز ادا کی، حضرت ابوذر (رض) فرماتے ہیں کہ میں وہ پہلا آدمی تھا جس نے اسلام کے طریقہ کے مطابق آپ ﷺ کو سلام کیا میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! آپ پر سلام ہو، آپ ﷺ نے فرمایا تجھ پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمتیں ہوں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا تم کون ہو ؟ میں نے عرض کیا میں قبیلہ غفار سے ہوں آپ ﷺ نے پھر اپنا ہاتھ اٹھایا اور اپنی انگلیاں پیشانی پر رکھیں، میں نے اپنے دل میں کہا کہ آپ کو میرا قبیلہ غفار سے ہونا ناپسند ہوا ہے، پس میں آپ کا ہاتھ پکڑنے کے لئے آگے بڑھا تو آپ ﷺ کے ساتھی نے مجھے پکڑ لیا اور وہ مجھ سے زیادہ آپ ﷺ کے بارے میں واقفیت رکھتا تھا کہ آپ ﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا تم یہاں کب سے ہو ؟ میں نے عرض کیا میں یہاں تیس دن رات سے ہوں آپ ﷺ نے فرمایا تمہیں کھانا کون کھلاتا ہے ؟ میں نے عرض کیا میرے لئے زمزم کے پانی کے علاوہ کوئی کھانا نہیں پس اسی سے موٹا ہوگیا ہوں، یہاں تک کہ میرے پیٹ کے بل مڑگئے ہیں اور میں اپنے جگر میں بھوک کی وجہ سے گرمی بھی محسوس نہیں کرتا آپ ﷺ نے فرمایا یہ پانی بابرکت ہے اور کھانے کی طرح پیٹ بھی بھر سکتا ہے حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اس کے رات کے کھانے کی اجازت مجھے دے دیں، چناچہ نبی کریم ﷺ اور ابوبکر (رض) چلے اور میں بھی ان کے ساتھ چلا، حضرت ابوبکر (رض) نے دروازہ کھولا اور میرے لئے طائف کی کشمش نکالنے لگے اور یہ میرا پہلا کھانا تھا جو میں نے مکہ میں کھایا پھر میں رہا جب تک رہا پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھے کھجوروں والی زمین دکھائی گئی ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ یثرب (مدینہ) کے علاوہ کوئی اور علاقہ نہیں ہے کیا تم میری طرف سے اپنی قوم کو (دین اسلام کی) تبلیغ کرو گے عنقریب اللہ انہیں تمہاری وجہ سے فائدہ عطا کرے گا اور تمہیں ثواب عطا کیا جائے گا۔ پھر میں انیس کے پاس آیا تو اس نے کہا تو نے کیا کیا ؟ میں نے کہا میں اسلام قبول کرچکا ہوں اور (نبی کریم ﷺ کی) تصدیق کرچکا ہوں۔ اس نے کہا میں تمہارے دین سے اعراض نہیں کرتا بلکہ میں بھی مسلمان ہوتا ہوں اور نبی کریم ﷺ کی تصدیق کرتا ہوں پھر ہم اپنی والدہ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ مجھے تم دونوں کے دین سے نفرت نہیں، میں بھی اسلام قبول کرتی اور (رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کرتی ہوں، پھر ہم نے اپنا سامان لادا اور اپنی قوم غفار کے پاس آئے تو ان میں سے آدھے لوگ مسلمان ہوگئے اور ان کی امامت ان کے سردار خفاف بن ایماء بن رحضہ غفاری کراتے تھے اور باقی آدھے لوگوں نے کہا کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائیں گے تو ہم مسلمان ہوجائیں گے چناچہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو باقی آدھے لوگ بھی مسلمان ہوگئے اور قبیلہ اسلم کے لوگ بھی حاضر ہوئے اور انہوں نے نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ہم بھی اس بات پر اسلام قبول کرتے ہیں جس پر ہمارے بھائی مسلمان ہوئے ہیں پس وہ بھی مسلمان ہوگئے اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا قبیلہ غفار کی اللہ بخشش فرمائے اور قبیلہ اسلم کو اللہ سلامت رکھے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَامِتٍ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ خَرَجْنَا مِنْ قَوْمِنَا غِفَارٍ وَكَانُوا يُحِلُّونَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ أَنَا وَأَخِي أُنَيْسٌ وَأُمُّنَا فَانْطَلَقْنَا حَتَّى نَزَلْنَا عَلَى خَالٍ لَنَا ذِي مَالٍ وَذِي هَيْئَةٍ فَأَكْرَمَنَا خَالُنَا فَأَحْسَنَ إِلَيْنَا فَحَسَدَنَا قَوْمُهُ فَقَالُوا إِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ عَنْ أَهْلِكَ خَلَفَكَ إِلَيْهِمْ أُنَيْسٌ فَجَاءَنَا خَالُنَا فَنَثَا عَلَيْهِ مَا قِيلَ لَهُ فَقُلْتُ أَمَّا مَا مَضَى مِنْ مَعْرُوفِكَ فَقَدْ كَدَّرْتَهُ وَلَا جِمَاعَ لَنَا فِيمَا بَعْدُ قَالَ فَقَرَّبْنَا صِرْمَتَنَا فَاحْتَمَلْنَا عَلَيْهَا وَتَغَطَّى خَالُنَا ثَوْبَهُ وَجَعَلَ يَبْكِي قَالَ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى نَزَلْنَا بِحَضْرَةِ مَكَّةَ قَالَ فَنَافَرَ أُنَيْسٌ رَجُلًا عَنْ صِرْمَتِنَا وَعَنْ مِثْلِهَا فَأَتَيَا الْكَاهِنَ فَخَيَّرَ أُنَيْسًا فَأَتَانَا بِصِرْمَتِنَا وَمِثْلِهَا وَقَدْ صَلَّيْتُ يَا ابْنَ أَخِي قَبْلَ أَنْ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ سِنِينَ قَالَ فَقُلْتُ لِمَنْ قَالَ لِلَّهِ قَالَ قُلْتُ فَأَيْنَ تَوَجَّهُ قَالَ حَيْثُ وَجَّهَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ وَأُصَلِّي عِشَاءً حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أُلْقِيتُ كَأَنِّي خِفَاءٌ قَالَ أَبِي قَالَ أَبُو النَّضْرِ قَالَ سُلَيْمَانُ كَأَنِّي خِفَاءٌ حَتَّى تَعْلُوَنِي الشَّمْسُ قَالَ فَقَالَ أُنَيْسٌ إِنَّ لِي حَاجَةً بِمَكَّةَ فَاكْفِنِي حَتَّى آتِيَكَ قَالَ فَانْطَلَقَ فَرَاثَ عَلَيَّ ثُمَّ أَتَانِي فَقُلْتُ مَا حَبَسَكَ قَالَ لَقِيتُ رَجُلًا يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَهُ عَلَى دِينِكَ قَالَ فَقُلْتُ مَا يَقُولُ النَّاسُ لَهُ قَالَ يَقُولُونَ إِنَّهُ شَاعِرٌ وَسَاحِرٌ وَكَاهِنٌ قَالَ وَكَانَ أُنَيْسٌ شَاعِرًا قَالَ فَقَالَ قَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكُهَّانِ فَمَا يَقُولُ بِقَوْلِهِمْ وَقَدْ وَضَعْتُ قَوْلَهُ عَلَى أَقْرَاءِ الشِّعْرِ فَوَاللَّهِ مَا يَلْتَامُ لِسَانُ أَحَدٍ أَنَّهُ شِعْرٌ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ هَلْ أَنْتَ كَافِيَّ حَتَّى أَنْطَلِقَ فَأَنْظُرَ قَالَ نَعَمْ فَكُنْ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ عَلَى حَذَرٍ فَإِنَّهُمْ قَدْ شَنِفُوا لَهُ وَتَجَهَّمُوا لَهُ وَقَالَ عَفَّانُ شِيفُوا لَهُ وَقَالَ بَهْزٌ سَبَقُوا لَهُ وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ شَفَوْا لَهُ قَالَ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى قَدِمْتُ مَكَّةَ فَتَضَعَّفْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ فَقُلْتُ أَيْنَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي تَدْعُونَهُ الصَّابِئَ قَالَ فَأَشَارَ إِلَيَّ قَالَ الصَّابِئُ قَالَ فَمَالَ أَهْلُ الْوَادِي عَلَيَّ بِكُلِّ مَدَرَةٍ وَعَظْمٍ حَتَّى خَرَرْتُ مَغْشِيًّا عَلَيَّ فَارْتَفَعْتُ حِينَ ارْتَفَعْتُ كَأَنِّي نُصُبٌ أَحْمَرُ فَأَتَيْتُ زَمْزَمَ فَشَرِبْتُ مِنْ مَائِهَا وَغَسَلْتُ عَنِّي الدَّمَ فَدَخَلْتُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا فَلَبِثْتُ بِهِ ابْنَ أَخِي ثَلَاثِينَ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَمَا لِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سَخْفَةَ جُوعٍ قَالَ فَبَيْنَا أَهْلُ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ قَمْرَاءَ أَضْحِيَانٍ وَقَالَ عَفَّانُ أَصْخِيَانٍ وَقَالَ بَهْزٌ أَصْخِيَانٍ وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو النَّضْرِ فَضَرَبَ اللَّهُ عَلَى أَصْمِخَةِ أَهْلِ مَكَّةَ فَمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ غَيْرُ امْرَأَتَيْنِ فَأَتَتَا عَلَيَّ وَهُمَا تَدْعُوَانِ إِسَافَ وَنَائِلَ قَالَ فَقُلْتُ أَنْكِحُوا أَحَدَهُمَا الْآخَرَ فَمَا ثَنَاهُمَا ذَلِكَ قَالَ فَأَتَتَا عَلَيَّ فَقُلْتُ وَهَنٌ مِثْلُ الْخَشَبَةِ غَيْرَ أَنِّي لَمْ أُكَنِّ قَالَ فَانْطَلَقَتَا تُوَلْوِلَانِ وَتَقُولَانِ لَوْ كَانَ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ أَنْفَارِنَا قَالَ فَاسْتَقْبَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا هَابِطَانِ مِنْ الْجَبَلِ فَقَالَ مَا لَكُمَا فَقَالَتَا الصَّابِئُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا قَالَا مَا قَالَ لَكُمَا قَالَتَا قَالَ لَنَا كَلِمَةً تَمْلَأُ الْفَمَ قَالَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَصَاحِبُهُ حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ صَلَّى قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ أَهْلِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ قُلْتُ مِنْ غِفَارٍ قَالَ فَأَهْوَى بِيَدِهِ فَوَضَعَهَا عَلَى جَبْهَتِهِ قَالَ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي كَرِهَ أَنِّي انْتَمَيْتُ إِلَى غِفَارٍ قَالَ فَأَرَدْتُ أَنْ آخُذَ بِيَدِهِ فَقَذَعَنِي صَاحِبُهُ وَكَانَ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي قَالَ مَتَى كُنْتَ هَاهُنَا قَالَ كُنْتُ هَاهُنَا مُنْذُ ثَلَاثِينَ مِنْ بَيْنِ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ قَالَ فَمَنْ كَانَ يُطْعِمُكَ قُلْتُ مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ قَالَ فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَ عُكَنُ بَطْنِي وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ وَإِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي طَعَامِهِ اللَّيْلَةَ قَالَ فَفَعَلَ قَالَ فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا حَتَّى فَتَحَ أَبُو بَكْرٍ بَابًا فَجَعَلَ يَقْبِضُ لَنَا مِنْ زَبِيبِ الطَّائِفِ قَالَ فَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ طَعَامٍ أَكَلْتُهُ بِهَا فَلَبِثْتُ مَا لَبِثْتُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ وُجِّهَتْ إِلَيَّ أَرْضٌ ذَاتُ نَخْلٍ وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا يَثْرِبَ فَهَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّي قَوْمَكَ لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَنْفَعَهُمْ بِكَ وَيَأْجُرَكَ فِيهِمْ قَالَ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ أُنَيْسًا قَالَ فَقَالَ لِي مَا صَنَعْتَ قَالَ قُلْتُ إِنِّي صَنَعْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ قَالَ قَالَ فَمَا لِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكَ إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ثُمَّ أَتَيْنَا أُمَّنَا فَقَالَتْ فَمَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكُمَا فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ فَتَحَمَّلْنَا حَتَّى أَتَيْنَا قَوْمَنَا غِفَارًا فَأَسْلَمَ بَعْضُهُمْ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَقَالَ يَعْنِي يَزِيدَ بِبَغْدَادَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا قَدِمَ فَقَالَ بَهْزٌ إِخْوَانُنَا نُسْلِمُ وَكَذَا قَالَ أَبُو النَّضْرِ وَكَانَ يَؤُمُّهُمْ خُفَافُ بْنُ إِيمَاءِ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيُّ وَكَانَ سَيِّدَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَقَالَ بَقِيَّتُهُمْ إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْنَا فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَأَسْلَمَ بَقِيَّتُهُمْ قَالَ وَجَاءَتْ أَسْلَمُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِخْوَانُنَا نُسْلِمُ عَلَى الَّذِي أَسْلَمُوا عَلَيْهِ فَأَسْلَمُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَقَالَ بَهْزٌ وَكَانَ يَؤُمُّهُمْ إِيمَاءُ بْنُ رَحَضَةَ فَقَالَ أَبُو النَّضْرِ إِيمَاءٌ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِإِسْنَادِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৫৫১
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
عبداللہ بن شقیق (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوذر (رض) سے عرض کیا کہ کاش ! میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا ہوتا تو ان سے ایک سوال ہی پوچھ لیتا، انہوں نے فرمایا تم ان سے کیا سوال پوچھتے ؟ انہوں نے کہا کہ میں یہ سوال پوچھتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کی زیارت کی ہے ؟ حضرت ابوذر (رض) نے فرمایا یہ سوال تو میں ان سے پوچھ چکا ہوں جس کے جواب میں انہوں نے فرمایا تھا کہ میں نے ایک نور دیکھا ہے، میں اسے کہاں دیکھ سکتا ہوں ؟
حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ لَوْ أَدْرَكْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ قَالَ وَعَمَّا كُنْتَ تَسْأَلُهُ قَالَ سَأَلْتُهُ هَلْ رَأَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ أَبُو ذَرٍّ قَدْ سَأَلْتُهُ فَقَالَ نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ
তাহকীক: