আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৬ টি
হাদীস নং: ২০৩৭২
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ سب سے افضل عمل کون سا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کون سا غلام آزاد کرنا سب سے افضل ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو اس کے مالک کے نزدیک سب سے نفیس اور گراں قیمت ہو عرض کیا کہ اگر مجھے ایسا غلام نہ ملے تو ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی ضرورت مند کی مدد کردو یا کسی محتاج کے لئے محنت مزدوری کرلو عرض کیا کہ اگر میں یہ بھی نہ کرسکوں تو ؟ فرمایا لوگوں کو اپنی تکلیف سے محفوظ رکھو کیونکہ یہ بھی ایک صدقہ ہے جو تم اپنی طرف سے دیتے ہو۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ تَعَالَى وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا وَأَغْلَاهَا ثَمَنًا قَالَ فَإِنْ لَمْ أَجِدْ قَالَ تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ وَقَالَ فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ قَالَ كُفَّ أَذَاكَ عَنْ النَّاسِ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَنْ نَفْسِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩৭৩
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت الہٰیہ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے لہٰذا اسے کنکریوں سے نہیں کھیلنا چاہئے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ مَوْلَى بَنِي لَيْثٍ يُحَدِّثُنَا فِي مَجْلِسِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَابْنُ الْمُسَيَّبِ جَالِسٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ فَلَا يُحَرِّكْ الْحَصَى أَوْ لَا يَمَسَّ الْحَصَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩৭৪
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ زمین میں سب سے پہلی مسجد کون سی بنائی گئی ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مسجد حرام، میں نے پوچھا پھر کون سی ؟ فرمایا مسجد اقصیٰ میں نے پوچھا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا وفقہ تھا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا چالیس سال میں نے پوچھا پھر کون سی مسجد ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پھر تمہیں جہاں بھی نماز مل جائے وہیں پڑھ لو کیونکہ روئے زمین مسجد ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلُ قَالَ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى قُلْتُ كَمْ بَيْنَهُمَا قَالَ أَرْبَعُونَ سَنَةً قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ حَيْثُمَا أَدْرَكْتَ الصَّلَاةَ فَصَلِّ فَكُلُّهَا مَسْجِدٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩৭৫
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) نے پوچھا کہ " یوم القاحہ " کے موقع پر تم میں سے کون موجود تھا ؟ حضرت ابوذر (رض) نے فرمایا میں موجود تھا اور نبی کریم ﷺ نے اس آدمی کو ایام بیض یعنی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْنَاهُ مِنْ اثْنَيْنِ وَثَلَاثَةٍ حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ قَالَ عُمَرُ مَنْ حَاضِرُنَا يَوْمَ الْقَاحَةِ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ أَنَا أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصِيَامِ الْبِيضِ الْغُرِّ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩৭৬
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے روزوں کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے اسے تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا اثْنَانِ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَحَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ بِصِيَامِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩৭৭
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے چل رہا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الا باللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے )
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ السَّائِبِ بْنِ بَرَكَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ قُلْتُ بَلَى قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩৭৮
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بالوں کی اس سفیدی کو بدلنے والی سب سے بہترین چیز مہندی اور وسمہ ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَجْلَحَ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَحْسَنِ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّيْبَ الْحِنَّاءَ وَالْكَتَمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩৭৯
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بالوں کی اس سفیدی کو بدلنے والی سب سے بہترین چیز مہندی اور وسمہ ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَحْسَنِ مَا غُيِّرَ بِهِ الشَّيْبُ الْحِنَّاءَ وَالْكَتَمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩৮০
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
نعیم بن قعنب ریاحی (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوذر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ نہیں ملے میں نے ان کی اہلیہ سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی زمین میں گئے ہیں تھوڑی دیر میں وہ دو اونٹوں کو ہانکتے ہوئے آگئے ان میں سے ایک اونٹ کا لعاب اپنے ساتھی کی سرین پر گر رہا تھا اور ان میں سے ہر ایک کی گردن میں ایک ایک مشکیزہ تھا انہوں نے وہ دونوں مشکیزے اتارے تو میں نے عرض کیا اے ابوذر ! مجھے آپ کی نسبت کسی دوسرے سے ملنے کی محبت تھی اور نہ ہی کسی سے اتنی نفرت تھی جتنی آپ سے ملنے کی تھی انہوں نے فرمایا بھئی ! یہ دونوں چیزیں کیسے جمع ہوسکتی ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بچی کو زندہ درگور کیا تھا مجھے آپ سے ملاقات کرنے میں یہ امید تھی کہ آپ مجھے توبہ اور بچاؤ کا کوئی راستہ بتائیں گے (اس لئے آپ سے ملنے کی خواہش تھی) لیکن آپ سے ملنے میں یہ خطرہ بھی تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہہ دیں کہ میرے لئے توبہ کا کوئی راستہ نہیں ہے حضرت ابوذر (رض) نے پوچھا کیا یہ کام تم سے زمانہ جاہلیت میں ہوا تھا ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا اللہ نے گذشتہ سارے گناہ معاف کردیئے ہیں۔ پھر انہوں نے اپنے سر کے اشارے سے اپنی بیوی کو میرے لئے کھانا لانے کا حکم دیا لیکن اس نے توجہ نہ دی انہوں نے دوبارہ اس سے کہا لیکن اس نے اس مرتبہ بھی توجہ نہ دی یہاں تک کہ ان دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں تو حضرت ابوذر (رض) نے فرمایا ہم سے پیچھے ہی رہو تم لوگ اس حد سے آگے نہیں بڑھ سکتیں جو نبی کریم ﷺ نے تمہارے متعلق ہم سے بیان فرما دی تھیں میں نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے آپ سے ان کے متعلق کیا فرمایا تھا ؟ انہوں نے یہ فرمان ذکر کیا کہ عورت ٹیڑھی پسلی کی طرح ہے اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ دو گے اور اگر اسے یونہی چھوڑو گے تو اس ٹیڑھے پن اور بیوقوفی کے ساتھ ہی گذارہ کرنا پڑے گا۔ یہ سن کر وہ واپس چلی گئی اور تھوڑی دیر میں " قطاہ " کی طرح بنا ہوا ثرید لے آئی، حضرت ابوذر (رض) نے مجھ سے فرمایا کھاؤ اور میری فکر نہ کرنا کیونکہ میں روزے سے ہوں پھر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے وہ اچھے لیکن ہلکے رکوع کرنے لگے میں نے دیکھا کہ وہ مجھے سیراب دیکھنا چاہتے ہیں لیکن تھوڑی ہی دیر بعد وہ آئے اور میرے ساتھ کھانے میں اپنا ہاتھ بھی شامل کرلیا میں نے یہ دیکھ کر " اناللہ " پڑھا انہوں نے پوچھا کیا ہوا ؟ میں نے کہا کہ عام آدمی کے متعلق تو مجھے یہ اندیشہ ہوسکتا تھا کہ وہ مجھ سے غلط بیانی کرسکتا ہے لیکن آپ کے متعلق یہ اندیشہ نہیں تھا انہوں نے فرمایا بخدا ! جب سے تمہاری مجھ سے ملاقات ہوئی ہے میں نے تم سے کوئی جھوٹ نہیں بولا میں نے کہا کہ کیا آپ ہی نے مجھے نہیں بتایا تھا کہ آپ روزے سے ہیں پھر میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کھا بھی رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! میں نے اس مہینے میں تین روزے رکھ لئے تھے جن کا اجر میرے لئے ثابت ہوچکا اور اب تمہارے ساتھ کھانا میرے لئے حلال ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي السَّلِيلِ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ قَعْنَبٍ الرِّيَاحِيِّ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ فَلَمْ أَجِدْهُ وَرَأَيْتُ الْمَرْأَةَ فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ هُوَ ذَاكَ فِي ضَيْعَةٍ لَهُ فَجَاءَ يَقُودُ أَوْ يَسُوقُ بَعِيرَيْنِ قَاطِرًا أَحَدَهُمَا فِي عَجُزِ صَاحِبِهِ فِي عُنُقِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قِرْبَةٌ فَوَضَعَ الْقِرْبَتَيْنِ قُلْتُ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا كَانَ مِنْ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَاهُ مِنْكَ وَلَا أَبْغَضَ أَنْ أَلْقَاهُ مِنْكَ قَالَ لِلَّهِ أَبُوكَ وَمَا يَجْمَعُ هَذَا قَالَ قُلْتُ إِنِّي كُنْتُ وَأَدْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكُنْتُ أَرْجُو فِي لِقَائِكَ أَنْ تُخْبِرَنِي أَنَّ لِي تَوْبَةً وَمَخْرَجًا وَكُنْتُ أَخْشَى فِي لِقَائِكَ أَنْ تُخْبِرَنِي أَنَّهُ لَا تَوْبَةَ لِي فَقَالَ أَفِي الْجَاهِلِيَّةِ قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ عَفَا اللَّهُ عَمَّا سَلَفَ ثُمَّ عَاجَ بِرَأْسِهِ إِلَى الْمَرْأَةِ فَأَمَرَ لِي بِطَعَامٍ فَالْتَوَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمَرَهَا فَالْتَوَتْ عَلَيْهِ حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا قَالَ إِيهٍ دَعِينَا عَنْكِ فَإِنَّكُنَّ لَنْ تَعْدُونَ مَا قَالَ لَنَا فِيكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ وَمَا قَالَ لَكُمْ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَرْأَةُ ضِلَعٌ فَإِنْ تَذْهَبْ تُقَوِّمُهَا تَكْسِرْهَا وَإِنْ تَدَعْهَا فَفِيهَا أَوَدٌ وَبُلْغَةٌ فَوَلَّتْ فَجَاءَتْ بِثَرِيدَةٍ كَأَنَّهَا قَطَاةٌ فَقَالَ كُلْ وَلَا أَهُولَنَّكَ إِنِّي صَائِمٌ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَجَعَلَ يُهَذِّبُ الرُّكُوعَ وَيُخَفِّفُهُ وَرَأَيْتُهُ يَتَحَرَّى أَنْ أَشْبَعَ أَوْ أُقَارِبَ ثُمَّ جَاءَ فَوَضَعَ يَدَهُ مَعِي فَقُلْتُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ فَقَالَ مَا لَكَ فَقُلْتُ مَنْ كُنْتُ أَخْشَى مِنْ النَّاسِ أَنْ يَكْذِبَنِي فَمَا كُنْتُ أَخْشَى أَنْ تَكْذِبَنِي قَالَ لِلَّهِ أَبُوكَ إِنْ كَذَبْتُكَ كِذْبَةً مُنْذُ لَقِيتَنِي فَقَالَ أَلَمْ تُخْبِرْنِي أَنَّكَ صَائِمٌ ثُمَّ أَرَاكَ تَأْكُلُ قَالَ بَلَى إِنِّي صُمْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ هَذَا الشَّهْرِ فَوَجَبَ لِي أَجْرُهُ وَحَلَّ لِي الطَّعَامُ مَعَكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩৮১
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
ابن احمس (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوذر (رض) سے ملا اور عرض کیا کہ مجھے آپ کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ آپ نبی کریم ﷺ کی کوئی حدیث بیان کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا تمہارے ذہن میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ میں نبی کریم ﷺ کی طرف جھوٹی نسبت کروں گا جبکہ میں نے وہ بات سنی بھی ہو وہ کون سی حدیث ہے جو تمہیں میرے حوالے سے معلوم ہوئی ہے ؟ میں نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے آپ کہتے ہیں کہ تین قسم کے آدمی اللہ کو محبوب ہیں اور تین قسم کے آدمیوں سے اللہ کو نفرت ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! یہ بات میں نے کہی ہے اور نبی کریم ﷺ سے سنی بھی ہے میں نے عرض کیا کہ وہ کون لوگ ہیں جن سے اللہ محبت کرتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ایک تو وہ آدمی جو ایک جماعت کے ساتھ دشمن سے ملے اور ان کے سامنے سینہ سپر ہوجائے یہاں تک کہ شہید ہوجائے یا اس کے ساتھیوں کو فتح مل جائے دوسرے وہ لوگ جو سفر پر روانہ ہوں ان کا سفر طویل ہوجائے اور ان کی خواہش ہو کہ شام کے وقت کسی علاقے میں پڑاؤ کریں، چناچہ وہ پڑاؤ کریں تو ان میں سے ایک آدمی ایک طرف کو ہو کر نماز پڑھنے لگے یہاں تک کہ کوچ کا وقت آنے پر انہیں جگا دے اور تیسرا وہ آدمی جس کا کوئی ایسا ہمسایہ ہو جس کے پڑوس سے اسے تکلیف ہوتی ہو لیکن وہ اس کی ایذاء رسانی پر صبر کرے تاآنکہ موت آکر انہیں جدا کر دے میں نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں جن سے اللہ نفرت کرتا ہے ؟ فرمایا وہ تاجر جو قسمیں کھاتا ہے وہ بخیل جو احسان جتاتا ہے اور وہ فقیر جو تکبر کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنِ ابْنِ الْأَحْمَسِي قَالَ لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ فَقُلْتُ لَهُ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ تُحَدِّثُ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَا إِنَّهُ لَا تَخَالُنِي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا سَمِعْتُهُ مِنْهُ فَمَا الَّذِي بَلَغَكَ عَنِّي قُلْتُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمْ اللَّهُ وَثَلَاثَةٌ يَشْنَؤُهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ قُلْتُ وَسَمِعْتَهُ قُلْتُ فَمَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُحِبُّ اللَّهُ قَالَ الرَّجُلُ يَلْقَى الْعَدُوَّ فِي الْفِئَةِ فَيَنْصِبُ لَهُمْ نَحْرَهُ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يُفْتَحَ لِأَصْحَابِهِ وَالْقَوْمُ يُسَافِرُونَ فَيَطُولُ سُرَاهُمْ حَتَّى يُحِبُّوا أَنْ يَمَسُّوا الْأَرْضَ فَيَنْزِلُونَ فَيَتَنَحَّى أَحَدُهُمْ فَيُصَلِّي حَتَّى يُوقِظَهُمْ لِرَحِيلِهِمْ وَالرَّجُلُ يَكُونُ لَهُ الْجَارُ يُؤْذِيهِ جِوَارُهُ فَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُ حَتَّى يُفَرِّقَ بَيْنَهُمَا مَوْتٌ أَوْ ظَعْنٌ قُلْتُ وَمَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَشْنَؤُهُمْ اللَّهُ قَالَ التَّاجِرُ الْحَلَّافُ أَوْ قَالَ الْبَائِعُ الْحَلَّافُ وَالْبَخِيلُ الْمَنَّانُ وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩৮২
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوذر غفاری (رض) کے پاس آیا اور ان سے پوچھا کہ آپ کے پاس کون سا مال ہے ؟ انہوں نے فرمایا میرا مال میرے اعمال ہیں میں نے ان سے کوئی حدیث بیان کرنے کی فرمائش کی تو انہوں نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جن دو مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان میاں بیوی کی بخشش فرما دے گا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ يُونُسَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ قُلْتُ مَا بَالُكَ قَالَ لِي عَمَلِي قُلْتُ حَدِّثْنِي قَالَ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنْ أَوْلَادِهِمَا لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُمَا قُلْتُ حَدِّثْنِي قَالَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩৮৩
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی اور حدیث سنائیے انہوں نے فرمایا اچھا نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو مسلمان اپنے ہر مال میں سے دو جوڑے اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا ہے تو جنت کے دربان اس کے سامنے آتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اسے اپنی طرف بلاتا ہے میں نے پوچھا کہ یہ مقام کیسے حاصل ہوسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا اگر بہت سارے غلام ہوں تو دو غلاموں کو آزاد کر دے اونٹ ہوں تو دو اونٹ دے دے اور اگر گائیں ہوں تو دو گائے دے دے۔
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدَهُ قُلْتُ وَكَيْفَ ذَاكَ قَالَ إِنْ كَانَتْ رِجَالًا فَرَجُلَيْنِ وَإِنْ كَانَتْ إِبِلًا فَبَعِيرَيْنِ وَإِنْ كَانَتْ بَقَرًا فَبَقَرَتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩৮৪
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلا حصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے ؟ حضرت ابوذر (رض) نے فرمایا بھیتجے ! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم ﷺ سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ يُونُسَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَامِتٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَإِنَّهُ يَسْتُرُهُ إِذَا كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ فَإِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ قُلْتُ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا بَالُ الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ مِنْ الْكَلْبِ الْأَحْمَرِ مِنْ الْكَلْبِ الْأَصْفَرِ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩৮৫
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں مجھے عرش کے نیچے ایک کمرے کے خزانے سے دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُوتِيتُهُمَا مِنْ كَنْزٍ مِنْ بَيْتٍ تَحْتَ الْعَرْشِ وَلَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلِي يَعْنِي الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩৮৬
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں مجھے عرش کے نیچے ایک کمرے کے خزانے سے دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ قَالَ مَنْصُورٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ أَوْ عَنْ رَجُلٍ أَوْ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيتُ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ بَيْتِ كَنْزٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩৮৭
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں مجھے عرش کے نیچے ایک کمرے کے خزانے سے دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيتُ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ بَيْتِ كَنْزٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ وَلَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩৮৮
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے چل رہا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الا باللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے)
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩৮৯
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میرے لئے احد پہاڑ کو سونے کا بنادیا جائے اور جس دن میں دنیا سے رخصت ہو کر جاؤں تو اس میں سے ایک یا آدھا دینار بھی میرے پاس بچ گیا ہو الاّ یہ کہ میں اسے کسی قرض خواہ کے لئے رکھ لوں بلکہ میری خواہش ہوگی کہ اللہ کے بندوں میں اس طرح تقسیم کر دوں نبی کریم ﷺ نے ہاتھ بھر کر دائیں بائیں اور سامنے کی طرف اشارہ کیا پھر ہم دوبارہ چل پڑے اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن بکثرت مال رکھنے والے ہی قلت کا شکار ہوں گے سوائے اس کے جو اس اس طرح خرچ کرے اور نبی کریم ﷺ نے دوبارہ ہاتھوں سے دائیں بائیں اور سامنے کی طرف اشارہ فرمایا۔ ہم پھر چل پڑے اور ایک جگہ پہنچ کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا ابوذر ! تم اس وقت تک یہیں رکے رہو جب تک میں تمہارے پاس واپس نہ آجاؤں یہ کہہ کر نبی کریم ﷺ ایک طرف کو چل پڑے یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہوگئے تھوڑی دیر بعد میں نے شور کی کچھ آوازیں سنیں میں نے دل میں سوچا کہ کہیں نبی کریم ﷺ کے ساتھ کوئی حادثہ پیش نہ آگیا ہو میں نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے جانے کا سوچا تو مجھے نبی کریم ﷺ کی بات یاد آگئی کہ میرے آنے تک یہاں سے نہ ہلنا چناچہ میں نبی کریم ﷺ کا انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ وہ واپس تشریف لے آئے میں نے نبی کریم ﷺ سے ان آوازوں کا ذکر کیا جو میں نے سنی تھیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے جو میرے پاس آئے تھے اور یہ کہا کہ آپ کی امت میں سے جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا، ابوذر (رض) کہتے ہیں میں نے عرض کیا کہ اگرچہ وہ بدکاری یا چوری ہی کرے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں ! اگرچہ وہ بدکاری یا چوری ہی کرے)
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاكَ عِنْدِي ذَهَبًا أُمْسِي ثَالِثَةً وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا وَحَثَا عَنْ يَمِينِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَسَارِهِ قَالَ ثُمَّ مَشَيْنَا فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمْ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَحَثَا عَنْ يَمِينِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَسَارِهِ قَالَ ثُمَّ مَشَيْنَا فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ كَمَا أَنْتَ حَتَّى آتِيَكَ قَالَ فَانْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي قَالَ فَسَمِعْتُ لَغَطًا وَصَوْتًا قَالَ فَقُلْتُ لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَ لَهُ قَالَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَتْبَعَهُ ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَهُ لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى جَاءَ فَذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي سَمِعْتُ فَقَالَ ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَانِي فَقَالَ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩৯০
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ وہ اپنے ایک حوض پر پانی پی رہے تھے کہ کچھ لوگ آئے اور ان میں سے ایک آدمی کہنے لگا کہ تم میں سے کون ابوذر کے پاس جا کر ان کے سر کے بال نوچے گا ؟ ایک آدمی نے اپنے آپ کو پیش کیا اور حوض کے قریب پہنچ کر انہیں مارا حضرت ابوذر (رض) کھڑے تھے پہلے بیٹھے پھر لیٹ گئے کسی نے ان سے پوچھا اے ابوذر ! آپ پہلے بیٹھے، پھر لیٹے کیوں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم ﷺ نے ہم سے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہوا ہو تو اسے چاہئے کہ بیٹھ جائے غصہ دور ہوجائے تو بہت اچھا ورنہ لیٹ جائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ كَانَ يَسْقِي عَلَى حَوْضٍ لَهُ فَجَاءَ قَوْمٌ فَقَالَ أَيُّكُمْ يُورِدُ عَلَى أَبِي ذَرٍّ وَيَحْتَسِبُ شَعَرَاتٍ مِنْ رَأْسِهِ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا فَجَاءَ الرَّجُلُ فَأَوْرَدَ عَلَيْهِ الْحَوْضَ فَدَقَّهُ وَكَانَ أَبُو ذَرٍّ قَائِمًا فَجَلَسَ ثُمَّ اضْطَجَعَ فَقِيلَ لَهُ يَا أَبَا ذَرٍّ لِمَ جَلَسْتَ ثُمَّ اضْطَجَعْتَ قَالَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ قَائِمٌ فَلْيَجْلِسْ فَإِنْ ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ وَإِلَّا فَلْيَضْطَجِعْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৩৯১
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے چل رہا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الا باللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ لَكَ فِي كَنْزٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
তাহকীক: