আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৬৬ টি

হাদীস নং: ২০৩৯২
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے جو شخص مہینے میں تین دن روزے رکھنا چاہتا ہو، اسے ایام بیض کے روزے رکھنے چاہئیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَامٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ صَائِمًا مِنْ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلْيَصُمْ الثَّلَاثَ الْبِيضَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৩৯৩
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ خانہ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے نبی کریم ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا رب کعبہ کی قسم ! وہ لوگ خسارے میں ہیں مجھے ایک شدید غم نے آگھیرا اور میں اپنا سانس درست کرتے ہوئے سوچنے لگا شاید میرے متعلق کوئی نئی بات ہوگئی ہے چناچہ میں نے پوچھا وہ کون لوگ ہیں ؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی کریم ﷺ نے فرمایا زیادہ مالدار، سوائے اس آدمی کے جو اللہ کے بندوں میں اس اس طرح تقسیم کرے لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں جو آدمی بھی مرتے وقت بکریاں اونٹ یا گائے چھوڑ کرجاتا ہے جس کی اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی ہو وہ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند ہو کر آئیں گے اور اسے اپنے کھروں سے روندیں گے اور اپنے سینگوں سے ماریں گے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے پھر ایک کے بعد دوسرا جانور آتا جائے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَقَالَ هُمْ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ هُمْ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَأَخَذَنِي غَمٌّ وَجَعَلْتُ أَتَنَفَّسُ قَالَ قُلْتُ هَذَا شَرٌّ حَدَثَ فِيَّ قَالَ قُلْتُ مَنْ هُمْ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي قَالَ الْأَكْثَرُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَقَلِيلٌ مَا هُمْ مَا مِنْ رَجُلٍ يَمُوتُ فَيَتْرُكُ غَنَمًا أَوْ إِبِلًا أَوْ بَقَرًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا تَكُونُ وَأَسْمَنَ حَتَّى تَطَأَهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحَهُ بِقُرُونِهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ ثُمَّ تَعُودُ أُولَاهَا عَلَى أُخْرَاهَا وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا عَادَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৩৯৪
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ غروب آفتاب کے وقت میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ مسجد میں تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے ابوذر ! تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ جا کر بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ہوجاتا ہے پھر وہ واپس جانے کی اجازت مانگتا ہے جو اسے مل جاتی ہے جب اس سے کہا جائے کہ تو جہاں سے آیا ہے وہیں واپس چلا جا اور وہ اپنے مطلع کی طرف لوٹ جائے تو یہی اس کا مستقر ہے پھر نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی " سورج اپنے مستقر کی طرف چلتا ہے۔ "
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ حِينَ وَجَبَتْ الشَّمْسُ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ الشَّمْسُ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ بَيْنَ يَدَيْ رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ فَتَسْتَأْذِنَ فِي الرُّجُوعِ فَيُؤْذَنَ لَهَا وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَرْجِعَ إِلَى مَطْلَعِهَا فَذَلِكَ مُسْتَقَرُّهَا ثُمَّ قَرَأَ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৩৯৫
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک سخت طبیعت دیہاتی آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ہمیں تو قحط سالی کھاجائے گی نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے تمہارے متعلق ایک دوسری چیز کا اندیشہ ہے جب تم پر دنیا کو انڈیل دیا جائے گا کاش ! اس وقت میری امت سونے کا زیور نہ پہنے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِذْ قَامَ إِلَيْهِ أَعْرَابِيٌّ فِيهِ جَفَاءٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلَنَا الضَّبُعُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ ذَلِكَ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمْ حِينَ تُصَبُّ عَلَيْكُمْ الدُّنْيَا صَبًّا فَيَا لَيْتَ أُمَّتِي لَا يَتَحَلَّوْنَ الذَّهَبَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৩৯৬
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا اللہ سے ڈرو خواہ کہیں بھی ہو برائی ہوجائے تو اس کے بعد نیکی کرلیا کرو جو اسے مٹا دے اور لوگوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آیا کرو۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ وَأَتْبِعْ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا وَخَالِقْ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ قَالَ وَكِيعٌ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً عَنْ مُعَاذٍ فَوَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَهُوَ السَّمَاعُ الْأَوَّلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৩৯৭
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تین قسم کے آدمی اللہ کو محبوب ہیں اور تین قسم کے آدمیوں سے اللہ کو نفرت ہے وہ لوگ جن سے اللہ محبت کرتا ہے ان میں سے ایک تو وہ آدمی جو ایک جماعت کے ساتھ دشمن سے ملے اور ان کے سامنے سینہ سپر ہوجائے یہاں تک کہ شہید ہوجائے یا اس کے ساتھیوں کو فتح مل جائے دوسرے وہ لوگ جو سفر پر روانہ ہوں ان کا سفر طویل ہوجائے اور ان کی خواہش ہو کہ شام کے وقت کسی علاقے میں پڑاؤ کریں، چناچہ وہ پڑاؤ کریں تو ان میں سے ایک آدمی ایک طرف کو ہو کر نماز پڑھنے لگے یہاں تکہ کوچ کا وقت آنے پر انہیں جگا دے اور تیسرا وہ آدمی جس کا کوئی ایسا ہمسایہ ہو جس کے پڑوس سے اسے تکلیف ہوتی ہو لیکن وہ اس کی ایذاء رسانی پر صبر کرے تاآنکہ موت آکر انہیں جدا کر دے میں نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں جن سے اللہ نفرت کرتا ہے ؟ فرمایا وہ تاجر جو قسمیں کھاتا ہے وہ بخیل جو احسان جتاتا ہے اور وہ فقیر جو تکبر کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ سَمِعْتُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ رَفَعَهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمْ اللَّهُ وَثَلَاثَةٌ يُبْغِضُهُمْ اللَّهُ أَمَّا الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُحِبُّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَرَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللَّهِ وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُمْ فَمَنَعُوهُ فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْقَابِهِمْ فَأَعْطَاهُ سِرًّا لَا يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلَّا اللَّهُ وَالَّذِي أَعْطَاهُ وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يُعْدَلُ بِهِ نَزَلُوا فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ فَقَامَ يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُو آيَاتِي وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَلَقَوْا الْعَدُوَّ فَهُزِمُوا فَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يَفْتَحَ اللَّهُ لَهُ وَالثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمْ اللَّهُ الشَّيْخُ الزَّانِي وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ وَالْغَنِيُّ الظَّلُومُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৩৯৮
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تین قسم کے آدمی اللہ کو محبوب ہیں اور تین قسم کے آدمیوں سے اللہ کو نفرت ہے وہ لوگ جن سے اللہ محبت کرتا ہے ان میں سے ایک تو وہ آدمی جو ایک جماعت کے ساتھ دشمن سے ملے اور ان کے سامنے سینہ سپر ہوجائے یہاں تک کہ شہید ہوجائے یا اس کے ساتھیوں کو فتح مل جائے دوسرے وہ لوگ جو سفر پر روانہ ہوں ان کا سفر طویل ہوجائے اور ان کی خواہش ہو کہ شام کے وقت کسی علاقے میں پڑاؤ کریں، چناچہ وہ پڑاؤ کریں تو ان میں سے ایک آدمی ایک طرف کو ہو کر نماز پڑھنے لگے یہاں تکہ کوچ کا وقت آنے پر انہیں جگا دے اور تیسرا وہ آدمی جس کا کوئی ایسا ہمسایہ ہو جس کے پڑوس سے اسے تکلیف ہوتی ہو لیکن وہ اس کی ایذاء رسانی پر صبر کرے تاآنکہ موت آکر انہیں جدا کر دے میں نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں جن سے اللہ نفرت کرتا ہے ؟ فرمایا وہ تاجر جو قسمیں کھاتا ہے وہ بخیل جو احسان جتاتا ہے اور وہ فقیر جو تکبر کرتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ ثَلَاثَةً وَيُبْغِضُ ثَلَاثَةً يُبْغِضُ الشَّيْخَ الزَّانِيَ وَالْفَقِيرَ الْمُخْتَالَ وَالْمُكْثِرَ الْبَخِيلَ وَيُحِبُّ ثَلَاثَةً رَجُلٌ كَانَ فِي كَتِيبَةٍ فَكَرَّ يَحْمِيهِمْ حَتَّى قُتِلَ أَوْ يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَرَجُلٌ كَانَ فِي قَوْمٍ فَأَدْلَجُوا فَنَزَلُوا مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ وَكَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يُعْدَلُ بِهِ فَنَامُوا وَقَامَ يَتْلُو آيَاتِي وَيَتَمَلَّقُنِي وَرَجُلٌ كَانَ فِي قَوْمٍ فَأَتَاهُمْ رَجُلٌ يَسْأَلُهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ فَبَخِلُوا عَنْهُ وَخَلَفَ بِأَعْقَابِهِمْ فَأَعْطَاهُ حَيْثُ لَا يَرَاهُ إِلَّا اللَّهُ وَمَنْ أَعْطَاهُ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৩৯৯
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مسلمان اپنے ہر مال میں سے دو جوڑے اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا ہے تو جنت کے دربان تیزی سے اس کے سامنے آتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اسے اپنی طرف بلاتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا قُرَّةُ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ابْتَدَرَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪০০
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
اور میں نے نبی کریم ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جن دو مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان میاں بیوی کی بخشش فرما دے گا۔
وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمْ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪০১
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر کوئی آدمی کسی ایسے دروازے پر گذرتا ہے جہاں پردہ پڑا ہو اور نہ ہی دروازہ بند ہو اس کی نگاہ اندر چلی جائے تو اس پر گناہ نہیں ہوگا بلکہ گناہ تو اس گھر والوں پر ہوگا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنْ مَرَّ رَجُلٌ عَلَى بَابٍ لَا سِتْرَ لَهُ غَيْرِ مُغْلَقٍ فَنَظَرَ فَلَا خَطِيئَةَ عَلَيْهِ إِنَّمَا الْخَطِيئَةُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪০২
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ فرماتا ہے جو شخص نیکی کا ایک عمل کرتا ہے اسے دس گنا بدلہ ملے گا یا میں اس میں مزید اضافہ کردوں گا اور جو شخص گناہ کا ایک عمل کرتا ہے تو اس کا بدلہ اسی کے برابر ہوگا یا میں اسے معاف بھی کرسکتا ہوں جو شخص زمین بھر کر گناہ کرے پھر مجھ سے اس حال میں ملے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، میں اس کے لئے اتنی ہی مغفرت کا فیصلہ کرلیتا ہوں اور جو شخص ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے میں ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب آتا ہوں اور جو ایک ہاتھ کے برابر قریب آتا ہے میں ایک گز اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور جو میری طرف چل کر آتا ہے میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا أَوْ أَزِيدُ وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَجَزَاؤُهَا مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ وَمَنْ عَمِلَ قُرَابَ الْأَرْضِ خَطِيئَةً ثُمَّ لَقِيَنِي لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا جَعَلْتُ لَهُ مِثْلَهَا مَغْفِرَةً وَمَنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَمَنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪০৩
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب ہمیں چھوڑ کر گئے تو آسمان میں اپنے پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہ تھا جس کے متعلق نبی کریم ﷺ نے ہمیں کچھ بتایا نہ ہو۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُنْذِرٍ حَدَّثَنَا أَشْيَاخٌ مِنْ التَّيْمِ قَالُوا قَالَ أَبُو ذَرٍّ لَقَدْ تَرَكَنَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يُحَرِّكُ طَائِرٌ جَنَاحَيْهِ فِي السَّمَاءِ إِلَّا أَذْكَرَنَا مِنْهُ عِلْمًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪০৪
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بالوں کی اس سفیدی کو بدلنے والی سب سے بہترین چیز مہندی اور وسمہ ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُيِّرَ بِهِ الشَّيْبُ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪০৫
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ سارا اجروثواب تو مالدار لوگ لے گئے کہ نماز پڑھتے ہیں روزے بھی رکھتے ہیں اور حج بھی کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ کام تو تم بھی کرتے ہو میں نے عرض کیا کہ وہ صدقہ خیرات کرتے ہیں لیکن ہم صدقہ خیرات نہیں کرسکتے نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ تو تم بھی کرسکتے ہو، راستے سے کسی ہڈی کو اٹھا دینا صدقہ ہے کسی کو راستہ بتادینا صدقہ ہے اپنی طاقت سے کسی کمزور کی مدد کرنا صدقہ ہے زبان میں لکنت والے آدمی کے کلام کی وضاحت کردینا صدقہ ہے اور اپنی بیوی سے مباشرت کرنا بھی صدقہ ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمیں اپنی " خواہش " پوری کرنے پر بھی ثواب ملتا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر یہ کام تم حرام طریقے سے کرتے تو تمہیں گناہ ہوتا یا نہیں ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم گناہ کو شمار کرتے ہو نیکی کو شمار نہیں کرتے۔
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالْأَجْرِ يُصَلُّونَ وَيَصُومُونَ وَيَحُجُّونَ قَالَ وَأَنْتُمْ تُصَلُّونَ وَتَصُومُونَ وَتَحُجُّونَ قُلْتُ يَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ قَالَ وَأَنْتَ فِيكَ صَدَقَةٌ رَفْعُكَ الْعَظْمَ عَنْ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ وَهِدَايَتُكَ الطَّرِيقَ صَدَقَةٌ وَعَوْنُكَ الضَّعِيفَ بِفَضْلِ قُوَّتِكَ صَدَقَةٌ وَبَيَانُكَ عَنْ الْأَرْثَمِ صَدَقَةٌ وَمُبَاضَعَتُكَ امْرَأَتَكَ صَدَقَةٌ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَأْتِي شَهْوَتَنَا وَنُؤْجَرُ قَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ جَعَلْتَهُ فِي حَرَامٍ أَكَانَ تَأْثَمُ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَتَحْتَسِبُونَ بِالشَّرِّ وَلَا تَحْتَسِبُونَ بِالْخَيْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪০৬
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ماہ صبر (رمضان) اور ہر مہینے کے تین روزے رکھنا ایسے ہی ہے جیسے ہمیشہ روزے رکھنا اور اس سے سینے کا کینہ دور ہوجاتا ہے میں نے پوچھا کہ سینے کے کینے سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا شیطانی گندگی۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ بَابِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَفِينَا أَبُو ذَرٍّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ وَيُذْهِبُ مَغَلَةَ الصَّدْرِ قَالَ قُلْتُ وَمَا مَغَلَةُ الصَّدْرِ قَالَ رِجْسُ الشَّيْطَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪০৭
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ روزہ کیا چیز ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا فرض جسے ادا کیا جائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ هِلَالٍ حَدَّثَنِي رَجُلٌ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الصَّوْمُ قَالَ فَرْضٌ مُجْزِئٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪০৮
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ رات کے وقت جب اپنے بستر پر آتے تو یوں کہتے اے اللہ ! ہم تیرے ہی نام سے جیتے مرتے ہیں اور جب بیدار ہوتے تو یوں فرماتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کے یہاں جمع ہونا ہے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنْ اللَّيْلِ قَالَ اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ نَمُوتُ وَنَحْيَا وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪০৯
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو ! تم سب کے سب گنہگار ہو سوائے اس کے جسے میں عافیت عطاء کر دوں، اس لئے مجھ سے معافی مانگا کرو میں تمہیں معاف کر دوں گا اور جو شخص اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مجھے معاف کرنے پر قدرت ہے اور وہ میری قدرت کے وسیلے سے مجھ سے معافی مانگتا ہے تو میں اسے معاف کردیتا ہوں اور کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے سوائے اس کے جسے میں ہدایت دے دوں لہٰذا مجھ سے ہدایت مانگا کرو میں تم کو ہدایت عطاء کروں گا تم میں سے ہر ایک فقیر ہے سوائے اس کے جسے میں غنی کردوں، لہٰذا مجھ سے غناء مانگا کرو میں تم کو غناء عطاء کروں گا۔ اگر تمہارے پہلے اور پچھلے زندہ اور مردہ تر اور خشک سب کے سب میرے سب سے زیادہ شقی بندے کے دل کی طرح ہوجائیں تو میری حکومت میں سے ایک مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں کرسکتے اور اگر وہ سب کے سب میرے سب سے زیادہ متقی بندے کے دل پر جمع ہوجائیں تو میری حکومت میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی اضافہ نہیں کرسکتے۔ اگر تمہارے پہلے اور پچھلے زندہ اور مردہ تر اور خشک سب جمع ہوجائیں اور ان میں سے ہر ایک مجھ سے اتنا مانگے جہاں تک اس کی تمنا پہنچتی ہو اور میں ہر ایک کو اس کے سوال کے مطابق مطلوبہ چیزیں دیتا جاؤں تو میرے خزانے میں اتنی بھی کمی واقع نہ ہوگی کہ اگر تم میں سے کوئی شخص ساحل سمندر سے گذرے اور اس میں ایک سوئی ڈبوئے اور پھر نکالے میری حکومت میں اتنی بھی کمی نہ آئیگی کیونکہ میں بےانتہا سخی، بزرگ اور بےنیاز ہوں میری عطاء بھی ایک کلام سے ہوتی ہے اور میرا عذاب بھی ایک کلام سے آجاتا ہے میں کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں تو " کن " کہتا ہوں اور وہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔ حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے ! تو جتنی عبادت اور مجھ سے جتنی امید وابستہ کرے گا میں تیرے سارے گناہوں کو معاف کردوں گا میرے بندے اگر تو زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں اتنی ہی بخشش کے ساتھ تجھ سے ملوں گا میرے بندو ! تم سب کے سب گناہگار ہو سوائے اس کے جسے میں عافیت دے دوں۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ أُخْتِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ مُذْنِبٌ إِلَّا مَنْ عَافَيْتُ فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ وَمَنْ عَلِمَ أَنِّي أَقْدِرُ عَلَى الْمَغْفِرَةِ فَاسْتَغْفَرَنِي بِقُدْرَتِي غَفَرْتُ لَهُ وَلَا أُبَالِ وَكُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ وَكُلُّكُمْ فَقِيرٌ إِلَّا مَنْ أَغْنَيْتُ فَاسْأَلُونِي أُغْنِكُمْ وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَشْقَى قَلْبٍ مِنْ قُلُوبِ عِبَادِي مَا نَقَصَ فِي مُلْكِي جَنَاحَ بَعُوضَةٍ وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي مَا زَادَ فِي مُلْكِي مِنْ جَنَاحِ بَعُوضَةٍ وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمْ اجْتَمَعُوا فَسَأَلَنِي كُلُّ سَائِلٍ مِنْهُمْ مَا بَلَغَتْ أُمْنِيَّتُهُ فَأَعْطَيْتُ كُلَّ سَائِلٍ مِنْهُمْ مَا سَأَلَ مَا نَقَصَنِي كَمَا لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ مَرَّ بِشَفَةِ الْبَحْرِ فَغَمَسَ فِيهِ إِبْرَةً ثُمَّ انْتَزَعَهَا كَذَلِكَ لَا يَنْقُصُ مِنْ مُلْكِي ذَلِكَ بِأَنِّي جَوَادٌ مَاجِدٌ صَمَدٌ عَطَائِي كَلَامٌ وَعَذَابِي كَلَامٌ إِذَا أَرَدْتُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا شَهْرٌ حَدَّثَنِي ابْنُ غَنْمٍ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَا عَبْدِي مَا عَبَدْتَنِي وَرَجَوْتَنِي فَإِنِّي غَافِرٌ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ وَيَا عَبْدِي إِنْ لَقِيتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً مَا لَمْ تُشْرِكْ بِي لَقِيتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً وَقَالَ أَبُو ذَرٍّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ مُذْنِبٌ إِلَّا مَنْ أَنَا عَافَيْتُهُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ بِأَنِّي جَوَادٌ وَاجِدٌ مَاجِدٌ إِنَّمَا عَطَائِي كَلَامٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪১০
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک سخت طبیعت دیہاتی آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ﷺ ہمیں تو قحط سالی کھاجائے گی نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے تمہارے متعلق ایک دوسری چیز کا اندیشہ ہے جب تم پر دنیا کو انڈیل دیا جائے گا کاش ! اس وقت میری امت سونے کا زیور نہ پہنے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَامَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلَتْنَا الضَّبُعُ يَعْنِي السَّنَةَ قَالَ غَيْرُ ذَلِكَ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمْ الدُّنْيَا إِذَا صُبَّتْ عَلَيْكُمْ صَبًّا فَيَا لَيْتَ أُمَّتِي لَا يَلْبَسُونَ الذَّهَبَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪১১
حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان پر غسل واجب ہوگیا وہ اسی حال میں نبی کریم ﷺ کے پاس آئے نبی کریم ﷺ نے ان کے لئے پانی منگوایا انہوں نے پردے کے پیچھے غسل کیا پھر نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا پاک مٹی مسلمان کے لئے وضو ہے اگرچہ اس دس سال تک پانی نہ ملے جب پانی مل جائے تو اسے جسم پر بہا لے کہ یہ اس کے حق میں بہتر ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ كِلَاهُمَا ذَكَرَهُ خَالِدٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ وَأَيُّوبُ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَجْنَبَ فَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَاسْتَتَرَ وَاغْتَسَلَ ثُمَّ قَالَ لَهُ إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَإِنْ لَمْ يَجِدْ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ وَإِذَا وَجَدَ الْمَاءَ فَلْيُمِسَّهُ بَشَرَتَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ
tahqiq

তাহকীক: