আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৮ টি

হাদীস নং: ২১১৬৪
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے اہل بیت کے پاس جو کی روٹی بھی نہیں بچتی تھی۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ أَبِي غَالِبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ مَا كَانَ يَفْضُلُ عَلَى أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزُ الشَّعِيرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৬৫
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے نزدیک طلوع آفتاب کے وقت اللہ کا ذکر کرنا اللہ اکبر لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ کہنا اولاد اسماعیل (علیہ السلام) میں سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے اسی طرح نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کا ذکر کرنا میرے نزدیک اولاد اسماعیل (علیہ السلام) میں سے اتنے اتنے غلام آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي طَالِبٍ الضُّبَعِيِّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ تَعَالَى مِنْ طُلُوعِ الشَّمْسِ أُكَبِّرُ وَأُهَلِّلُ وَأُسَبِّحُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعًا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَلَأَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ كَذَا وَكَذَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৬৬
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن سورج صرف ایک میل کی مسافت کے برابر قریب آجائے گا اور اس کی گرمی میں اتنا اضافہ ہوجائے گا کہ دماغ ہانڈیوں کی طرح ابلنے لگیں گے اور تمام لوگ اپنے اپنے گناہوں کے اعتبار سے پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے چناچہ کسی کا پسینہ اس کے ٹخنوں تک ہوگا کسی کا پنڈلی تک کسی کا جسم کے درمیان تک اور کسی کے منہ میں پسینے کی لگام ہوگی۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَدْنُو الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى قَدْرِ مِيلٍ وَيُزَادُ فِي حَرِّهَا كَذَا وَكَذَا يَغْلِي مِنْهَا الْهَوَامُّ كَمَا يَغْلِي الْقُدُورُ يَعْرَقُونَ فِيهَا عَلَى قَدْرِ خَطَايَاهُمْ مِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى كَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى سَاقَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى وَسَطِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৬৭
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم (رض) کو قبر میں اتارا جانے لگا تو نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی " ہم نے تمہیں اس مٹی سے پیدا کیا، اسی میں واپس لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ نکالیں گے " اب یہ مجھے یاد نہیں رہا کہ نبی کریم ﷺ نے " بسم اللہ وفی سبیل اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ ﷺ " کہا یا نہیں پھر جب لحد بن گئی تو نبی کریم ﷺ نے ان کی طرف ٹہنیاں پھینکیں اور فرمایا کہ اینٹوں کے درمیان کی خالی جگہیں اس سے پر کردو پھر فرمایا اس سے ہوتا کچھ نہیں ہے لیکن زندے خوش ہوجاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَبْرِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى قَالَ ثُمَّ لَا أَدْرِي أَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ أَمْ لَا فَلَمَّا بَنَى عَلَيْهَا لَحْدَهَا طَفِقَ يَطْرَحُ لَهُمْ الْجَبُوبَ وَيَقُولُ سُدُّوا خِلَالَ اللَّبِنِ ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِشَيْءٍ وَلَكِنَّهُ يَطِيبُ بِنَفْسِ الْحَيِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৬৮
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
ابو غالب راسبی کہتے ہیں کہ شہر حمص میں ان کی ملاقات حضرت ابو امامہ (رض) سے ہوئی تو انہوں نے کچھ سوالات حضرت ابو امامہ (رض) سے پوچھے اسی دوران حضرت ابو امام (رض) نے یہ حدیث بیان کی کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو بندہ مسلم نماز کے لئے اذان کی آواز سنتا ہے اور وضو کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے ہاتھوں پر پانی کا پہلا قطرہ ٹپکتے ہی اس کے گناہ معاف ہونے لگتے ہیں اور پانی کے ان قطرات کی تعداد کے اعتبار سے جب وہ وضو کر کے فارغ ہوتا ہے تو اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور جب وہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اس کے درجات کی بلندی کا سبب بنتی ہے۔ اور غالب نے حضرت ابو امامہ (رض) سے پوچھا کہ کیا آپ نے واقعی یہ حدیث نبی کریم ﷺ سے سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اس ذات کی قسم جس نے نبی کریم ﷺ کو حق کے ساتھ بشیرونذیر بنا کر بھیجا تھا ایک دو مرتبہ نہیں دسیوں مرتبہ سنا ہے اور سارے اعداد ذکر کے دونوں ہاتھوں سے تالی بجائی۔
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هُوَ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ نُوحٍ وَهُوَ الْمَضْرُوبُ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ نُوحٍ حَدَّثَنَا أَبُو خُرَيْمٍ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ حَدَّثَنِي أَبُو غَالِبٍ الرَّاسِبِيُّ أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا أُمَامَةَ بِحِمْصَ فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْيَاءَ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَسْمَعُ أَذَانَ صَلَاةٍ فَقَامَ إِلَى وَضُوئِهِ إِلَّا غُفِرَ لَهُ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تُصِيبُ كَفَّهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ فَبِعَدَدِ ذَلِكَ الْقَطْرِ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ وُضُوئِهِ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِهِ وَقَامَ إِلَى صَلَاتِهِ وَهِيَ نَافِلَةٌ قَالَ أَبُو غَالِبٍ قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِي وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ وَلَا ثَلَاثٍ وَلَا أَرْبَعٍ وَلَا خَمْسٍ وَلَا سِتٍّ وَلَا سَبْعٍ وَلَا ثَمَانٍ وَلَا تِسْعٍ وَلَا عَشْرٍ وَعَشْرٍ وَعَشْرٍ وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৬৯
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو تنہا نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کوئی ہے جو اس پر صدقہ کرے یعنی اس کے ساتھ نماز میں شریک ہوجائے ؟ یہ سن کر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ نماز پڑھنے لگا نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ دونوں جماعت ہوگئے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي فَقَالَ أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا يُصَلِّي مَعَهُ فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلَّى مَعَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَانِ جَمَاعَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৭০
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے پروردگار نے مجھے یہ پیشکش کی کہ وہ بطحاء مکہ کو میرے لئے سونے کا بنا دے لیکن میں نے عرض کیا کہ پروردگار ! نہیں میں ایک دن بھوکا رہوں اور ایک دن سیراب ہوجاؤں تاکہ جب بھوکا رہوں تو تیری بارگاہ میں عاجزی وزاری کروں اور تجھے یاد کروں اور جب سیراب ہوں تو تیری تعریف اور شکر ادا کروں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَحُدِّثْنَا بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَرَضَ عَلَيَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لِيَجْعَلَ لِي بَطْحَاءَ مَكَّةَ ذَهَبًا فَقُلْتُ لَا يَا رَبِّ وَلَكِنْ أَشْبَعُ يَوْمًا وَأَجُوعُ يَوْمًا أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ فَإِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ وَإِذَا شَبِعْتُ حَمِدْتُكَ وَشَكَرْتُكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৭১
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے نزدیک بندے کی سب سے پسندیدہ عبادت " جو وہ میری کرتا ہے " میرے ساتھ خیر خواہی ہے (میرے احکامات پر عمل کرنا)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَحَبُّ مَا تَعَبَّدَنِي بِهِ عَبْدِي إِلَيَّ النُّصْحُ لِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৭২
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص سلام میں پہل کرتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ بَدَأَ بِالسَّلَامِ فَهُوَ أَوْلَى بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৭৩
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کیا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا، دو روشن سورتیں یعنی سورت بقرہ اور آل عمران کی تلاوت کیا کرو کیونکہ یہ دونوں سورتیں قیامت کے دن سائبانوں کی شکل یا پرندوں کی دو صف بستہ ٹولیوں کی شکل میں آئیں گی اور اپنے پڑھنے والوں کا دفاع کریں گی پھر فرمایا سورت بقرہ کی تلاوت کیا کرو کیونکہ اس کا حاصل کرنا برکت اور چھوڑنا حسرت ہے اور باطل (جادوگر) اس کی طاقت نہیں رکھتے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِصَاحِبِهِ اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا يَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ يُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৭৪
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے نزدیک طلوع آفتاب کے وقت اللہ کا ذکر کرنا اللہ اکبر لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ کہنا اولاد اسماعیل (علیہ السلام) میں سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے اسی طرح نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کا ذکر کرنا میرے نزدیک اولاد اسماعیل (علیہ السلام) میں سے اتنے اتنے غلام آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي طَالِبٍ الضُّبَعِيِّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَنْ أَقْعُدَ أَذْكُرُ اللَّهَ وَأُكَبِّرُهُ وَأَحْمَدُهُ وَأُسَبِّحُهُ وَأُهَلِّلُهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ رَقَبَتَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَمِنْ بَعْدِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৭৫
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک لشکر ترتییب دیا (جس میں میں بھی تھا) میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میرے حق میں اللہ سے شہادت کی دعاء کر دیجئے نبی کریم ﷺ نے یہ دعاء کی کہ اے اللہ ! انہیں سلامت رکھ اور مال غنیمت عطاء فرما، چناچہ ہم مال غنیمت کے ساتھ صحیح سالم واپس آگئے (دوربارہ لشکر ترتیب دیا تو پھر میں نے یہی عرض کیا اور نبی کریم ﷺ نے یہی دعاء دی) تیسری مرتبہ جب لشکر ترتیب دیا تو میں نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میں اس سے پہلے بھی دو مرتبہ آپ کے پاس آچکا ہوں، میں نے آپ سے یہ درخواست کی تھی کہ اللہ سے میرے حق میں شہادت کی دعاء کر دیجئے لیکن آپ نے سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے لہٰذا یا رسول اللہ ! ﷺ اب تو میرے لئے شہادت کی دعا فرما دیں لیکن نبی کریم ﷺ نے پھر سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے۔ اس کے بعد میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کسی عمل کا حکم دیجئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنے اوپر روزے کو لازم کرلو کیونکہ روزے کی حالت ہی میں ملے اور اگر دن کے وقت ان کے گھر سے دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دیتا تو لوگ سمجھ جاتے کہ آج ان کے یہاں کوئی مہمان آیا ہے۔ حضرت ابو امامہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک عرصہ تک میں اس پر عمل کرتا رہا جب تک اللہ کو منظور ہوا پھر میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ آپ نے مجھے روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا مجھے امید ہے کہ اللہ نے ہمیں اس کی برکتیں عطاء فرمائی ہیں اب مجھے کوئی اور عمل بتا دیجئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس بات پر یقین رکھو کہ اگر تم اللہ کے لئے ایک سجدہ کرو گے تو اللہ اس کی برکت سے تمہارا ایک درجہ بلند کر دے گا اور ایک گناہ معاف کر دے گا۔
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ وَحَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيُّ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ فَقَالَ اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ قَالَ فَغَزَوْنَا فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا قَالَ ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا ثَانِيًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ قَالَ اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ قَالَ فَغَزَوْنَا فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا قَالَ ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا ثَالِثًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَتَيْتُكَ تَتْرَى مَرَّتَيْنِ أَسْأَلُكَ أَنْ تَدْعُوَ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ فَقُلْتَ اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ فَقَالَ اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ قَالَ فَغَزَوْنَا فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِعَمَلٍ آخُذُهُ عَنْكَ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ قَالَ عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ قَالَ فَكَانَ أَبُو أُمَامَةَ وَامْرَأَتُهُ وَخَادِمُهُ لَا يُلْفَوْنَ إِلَّا صِيَامًا فَإِذَا رَأَوْا نَارًا أَوْ دُخَانًا بِالنَّهَارِ فِي مَنْزِلِهِمْ عَرَفُوا أَنَّهُمْ اعْتَرَاهُمْ ضَيْفٌ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قَدْ أَمَرْتَنِي بِأَمْرٍ وَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ نَفَعَنِي بِهِ فَمُرْنِي بِأَمْرٍ آخَرَ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ قَالَ اعْلَمْ أَنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَ اللَّهُ لَكَ بِهَا دَرَجَةً أَوْ حَطَّ أَوْ قَالَ وَحَطَّ شَكَّ مَهْدِيٌّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৭৬
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ جب تم اچھی طرح وضو کرو تو جب بیٹھو گے اس وقت تمہارے سارے گناہ بخشے جاچکے ہوں گے اگر اس کے بعد کوئی شخص کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا تو وہ اس کے لئے فضیلت اور باعث اجربن جاتی ہے وہ بیٹھتا ہے توبخشا بخشایا ہوا بیٹھتا ہے ایک آدمی نے ان سے پوچھا اے ابو امامہ ! یہ بتائیے کہ اگر وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگے تو وہ اس کے لئے نفل ہوگی ؟ انہوں نے فرمایا نہیں، نفل ہونا تو نبی کریم ﷺ کی خصوصیت تھی، عام آدمی کے لئے کیسے ہوسکتی ہے جبکہ وہ گناہوں اور لغزشوں میں بھاگا پھرتا ہے اس کے لئے وہ باعث اجر ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو غَالِبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ إِذَا وَضَعْتَ الطَّهُورَ مَوَاضِعَهُ قَعَدْتَ مَغْفُورًا لَكَ فَإِنْ قَامَ يُصَلِّي كَانَتْ لَهُ فَضِيلَةً وَأَجْرًا وَإِنْ قَعَدَ قَعَدَ مَغْفُورًا لَهُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا أُمَامَةَ أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَ فَصَلَّى تَكُونُ لَهُ نَافِلَةً قَالَ لَا إِنَّمَا النَّافِلَةُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ تَكُونُ لَهُ نَافِلَةً وَهُوَ يَسْعَى فِي الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا تَكُونُ لَهُ فَضِيلَةً وَأَجْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৭৭
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کرم ﷺ نے فرمایا میرے نزدیک سب سے زیادہ قابل رشک انسان وہ بندہ مومن ہے جو ہلکے پھلکے سامان والا ہو نماز کا بہت سا حصہ رکھتا ہوا پنے رب کی اطاعت اور چھپ کر عمدگی سے عبادت کرتا ہو، لوگوں کی نظروں میں مخفی ہو، انگلیوں سے اس کی طرف سے اشارے نہ کئے جاتے ہوں، بقدر کفایت اس کی روزی ہو، نبی کریم ﷺ یہ جملہ دہراتے ہوئے چٹکی بجانے لگے پھر فرمایا اس کی موت جلدی آجائے، اس کی وراثت بھی تھوڑی ہو اور اس پر رونے والے بھی تھوڑے ہوں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَغْبَطَ النَّاسِ عِنْدِي عَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَفِيفُ الْحَاذِ ذُو حَظٍّ مِنْ صَلَاةٍ أَطَاعَ رَبَّهُ وَأَحْسَنَ عِبَادَتَهُ فِي السِّرِّ وَكَانَ غَامِضًا فِي النَّاسِ لَا يُشَارُ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا قَالَ وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُرُ بِأُصْبُعَيْهِ وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا فَعُجِّلَتْ مَنِيَّتُهُ وَقَلَّتْ بَوَاكِيهِ وَقَلَّ تُرَاثُهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ سَأَلْتُ أَبِي قُلْتُ مَا تُرَاثُهُ قَالَ مِيرَاثُهُ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَنَقَرَ بِيَدِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৭৮
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ ایمان کیا ہوتا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تمہیں اپنی برائی سے غم اور نیکی سے خوشی ہو تو تم مؤمن ہو گناہ کیا ہوتا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی چیز تمہارے دل میں کھٹکے تو اسے چھوڑ دو ۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ جَدِّهِ مَمْطُورٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِيمَانُ قَالَ إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الْإِثْمُ قَالَ إِذَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৭৯
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کھانے سے فارغ ہوجاتے یا دستر خوان اٹھا لیا جاتا تو یہ دعاء پڑھتے الحمدللہ کثیرا طیبامبارکا فیہ غیر مکفی ولامودع ولامستغنی عنہ ربنا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ثَوْرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رُفِعَتْ الْمَائِدَةُ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৮০
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ لاٹھی سے ٹیک لگاتے ہوئے ہمارے پاس باہر تشریف لائے تو ہم احتراماً کھڑے ہوگئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم لوگ عجمیوں کی طرح مت کھڑے ہوا کرو جو ایک دوسرے کی اس طرح تعظیم کرتے ہیں ہماری خواہش تھی کہ نبی کریم ﷺ ہمارے لئے دعاء فرما دیں چناچہ نبی کریم ﷺ نے یہ دعاء فرمائی کہ اے اللہ ! ہمیں معاف فرما ہم پر رحم فرما ہم سے راضی ہوجا ہماری نیکیاں قبول فرما ہمیں جنت میں داخل فرما جہنم سے نجات عطاء فرما اور ہمارے تمام معاملات کو درست فرما۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مِسْعَرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَدَبَّسِ عَنْ رَجُلٍ أَظُنُّهُ أَبَا خَلَفٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَرْزُوقٍ قَالَ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ قُمْنَا قَالَ فَإِذَا رَأَيْتُمُونِي فَلَا تَقُومُوا كَمَا يَفْعَلُ الْعَجَمُ يُعَظِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا قَالَ كَأَنَّا اشْتَهَيْنَا أَنْ يَدْعُوَ لَنَا فَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَارْضَ عَنَّا وَتَقَبَّلْ مِنَّا وَأَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ وَنَجِّنَا مِنْ النَّارِ وَأَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৮১
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا روزانہ افطاری کے وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ حُسَيْنٍ الْخُرَاسَانِيِّ عَنْ أَبِي غَالِبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ كُلِّ فِطْرٍ عُتَقَاءَ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ سَمِعْت أَبِي يَقُولُ حُسَيْنٌ الْخُرَاسَانِيُّ هَذَا هُوَ حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৮২
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ مسکرا رہے تھے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ آپ کس وجہ سے مسکرا رہے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے تعجب ہوتا ہے اس قوم پر جسے زنجیروں میں جکڑ کر جنت کی طرف لے جایا جاتا ہے (ان کے اعمال انہیں جہنم کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی نظر کرم انہیں جنت کی طرف لے جا رہی ہوتی ہے)
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ حُسَيْنٍ الْخُرَاسَانِيِّ عَنْ أَبِي غَالِبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ اسْتَضْحَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَضْحَكَكَ قَالَ قَوْمٌ يُسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ مُقَرَّنِينَ فِي السَّلَاسِلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১১৮৩
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا راہ ہدایت پر گامزن ہونے کے بعد جو قوم بھی دوبارہ گمراہ ہوتی ہے وہ لڑائی جھگڑوں میں پڑجاتی ہے پھر نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی " یہ لوگ آپ کے سامنے جھگڑے کے علاوہ کچھ نہیں رکھتے بلکہ یہ تو جھگڑالو لوگ ہیں " گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ الْوَاسِطِيُّ عَنْ أَبِي غَالِبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا ضَلَّ قَوْمٌ بَعْدَ هُدًى كَانُوا عَلَيْهِ إِلَّا أُوتُوا الْجَدَلَ ثُمَّ قَرَأَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক: