আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৮ টি
হাদীস নং: ২১১৮৪
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان وضو کرتا ہے تو اس کے کان، آنکھ ہاتھ اور پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ بیٹھتا ہے تو بخشا بخشایا ہوا بیٹھتا ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شِمْرٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ خَرَجَتْ ذُنُوبُهُ مِنْ سَمْعِهِ وَبَصَرِهِ وَيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ فَإِنْ قَعَدَ قَعَدَ مَغْفُورًا لَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৮৫
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا نبی کریم ﷺ اس وقت جمرات کو کنکریاں مار رہے تھے اس نے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ سب سے زیادہ پسندیدہ جہاد اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا جہاد ہے ؟ نبی کریم ﷺ خاموش رہے پھر وہ جمرہ ثانیہ کے پاس دوبارہ حاضر ہوا اور یہی سوال دہرایا نبی کریم ﷺ پھر خاموش رہے پھر وہ جمرہ ثالثہ کے پاس دوبارہ حاضر ہوا اور یہی سوال دہرایا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ حق بات جو کسی ظالم بادشاہ کے سامنے کہی جائے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي غَالِبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْأُولَى فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ فَسَكَتَ عَنْهُ وَلَمْ يُجِبْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الثَّانِيَةِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ فَلَمَّا رَمَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَوَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ قَالَ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ إِمَامٍ جَائِرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৮৬
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
ابو غالب کہتے ہیں کہ عراق سے کچھ خوارج کے سر لا کر مسجد دمشق کے دروازے پر لٹکا دیئے گئے، حضرت ابو امامہ (رض) آئے اور رونے لگے اور تین مرتبہ فرمایا جہنم کے کتے ہیں اور تین مرتبہ فرمایا آسمان کے سائے تلے سب سے بدترین مقتول ہیں اور آسمان کے سائے تلے سب سے بہترین مقتول وہ تھا جسے انہوں نے شہید کردیا۔ تھوڑے دیر بعد جب واپس ہوئے تو کسی نے پوچھا کہ پھر آپ روئے کیوں تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے ان پر ترس آرہا تھا اے ابو امامہ ! یہ جو آپ نے " جہنم کے کتے " کہا یہ بات آپ نے نبی کریم ﷺ سے سنی ہے یا اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں، انہوں نے فرمایا سبحان اللہ ! اگر میں نے کوئی چیز نبی کریم ﷺ سے سات مرتبہ تک سنی ہو اور پھر درمیان سے نبی کریم ﷺ کا ذکر نکال دوں تو میں بڑا جری ہوں گا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي غَالِبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنُهْ رَأَى رُءُوسًا مَنْصُوبَةً عَلَى دَرَجِ مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ كِلَابُ النَّارِ كِلَابُ النَّارِ ثَلَاثًا شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوهُ ثُمَّ قَرَأَ يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ الْآيَتَيْنِ قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سِتًّا أَوْ سَبْعًا مَا حَدَّثْتُكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৮৭
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ باہلی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء (علیہم السلام) یا امتوں پر مجھے چار فضیلتیں عطاء فرمائی ہیں مجھے ساری انسانیت کی طرف بھیجا گیا ہے روئے زمین کو میرے لئے اور میری امت کے لئے سجدہ گاہ اور طہارت کا ذریعہ بنادیا گیا ہے چناچہ میری امت پر جہاں بھی نماز کا وقت آجائے تو وہی اس کی مسجد ہے اور وہیں اس کی طہارت کے لئے مٹی موجود ہے اور ایک ماہ کی مسافت پر رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے جو میرے دشمنوں کے دلوں میں پیدا ہوجاتا ہے اور ہمارے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ سَيَّارٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فُضِّلْتُ بِأَرْبَعٍ جُعِلَتْ الْأَرْضُ لِأُمَّتِي مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأُرْسِلْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مِنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ يَسِيرُ بَيْنَ يَدَيَّ وَأُحِلَّتْ لِأُمَّتِي الْغَنَائِمُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৮৮
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے آیت قرآنی " نافلۃ لک " کی تفسیر میں مروی ہے کہ نوافل کی پابندی نبی کریم ﷺ کے ساتھ خاص تھی۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ نَافِلَةً لَكَ قَالَ إِنَّمَا كَانَتْ النَّافِلَةُ خَاصَّةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৮৯
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک نوجوان نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ﷺ مجھے زنا کرنے کی اجازت دے دیجئے لوگ اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے ڈانٹنے لگے اور اسے پیچھے ہٹانے لگے، لیکن نبی ﷺ نے سے فرمایا میرے قریب آجاؤ، وہ نبی ﷺ کے قریب جا کر بیٹھ گیا، نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کیا تم اپنی والدہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے ؟ اس نے کہا اللہ کی قسم ! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی ﷺ نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی ماں کے لئے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بیٹی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے ؟ اس نے کہا اللہ کی قسم ! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی ﷺ نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی بیٹی کے لئے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بہن کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے ؟ اس نے کہا اللہ کی قسم ! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی ﷺ نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی بہن کے لے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی پھوپھی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے ؟ اس نے کہا اللہ کی قسم ! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں نبی ﷺ نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی پھوپھی کے لئے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی خالہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے ؟ اس نے کہا کہ اللہ کی قسم کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی ﷺ نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی خالہ کے لئے پسند نہیں کرتے، پھر نبی ﷺ نے اپنا دست مبارک اس کے جسم پر رکھا اور دعاء کی کہ اے اللہ ! اس کے گناہ معاف فرما، اس کے دل کو پاک فرما اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس نوجوان نے کبھی کسی کی طرف توجہ بھی نہیں کی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حَرِيزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ إِنَّ فَتًى شَابًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي بِالزِّنَا فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ فَزَجَرُوهُ قَالُوا مَهْ مَهْ فَقَالَ ادْنُهْ فَدَنَا مِنْهُ قَرِيبًا قَالَ فَجَلَسَ قَالَ أَتُحِبُّهُ لِأُمِّكَ قَالَ لَا وَاللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ قَالَ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِأُمَّهَاتِهِمْ قَالَ أَفَتُحِبُّهُ لِابْنَتِكَ قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ قَالَ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِبَنَاتِهِمْ قَالَ أَفَتُحِبُّهُ لِأُخْتِكَ قَالَ لَا وَاللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ قَالَ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِأَخَوَاتِهِمْ قَالَ أَفَتُحِبُّهُ لِعَمَّتِكَ قَالَ لَا وَاللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ قَالَ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِعَمَّاتِهِمْ قَالَ أَفَتُحِبُّهُ لِخَالَتِكَ قَالَ لَا وَاللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ قَالَ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِخَالَاتِهِمْ قَالَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ وَطَهِّرْ قَلْبَهُ وَحَصِّنْ فَرْجَهُ فَلَمْ يَكُنْ بَعْدُ ذَلِكَ الْفَتَى يَلْتَفِتُ إِلَى شَيْءٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ غُلَامًا شَابًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৯০
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کیا کرو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا دو روشن سورتیں یعنی سورت بقرہ اور آل عمران کی تلاوت کیا کرو، کیونکہ یہ دونوں سورتیں قیامت کے دن سائبانوں کی شکل یا پرندوں کی دو صف بستہ ٹولیوں کی شکل میں آئیں گی اور اپنے پڑھنے والوں کا دفاع کریں گی پھر فرمایا سورت بقرہ کی تلاوت کیا کرو کیونکہ اس کا حاصل کرنا برکت اور چھوڑنا حسرت ہے اور باطل (جادوگر) اس کی طاقت نہیں رکھتے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي شَافِعًا لِأَصْحَابِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا يَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ غَيَايَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ يُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا وَاقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ قَالَ عَبْد اللَّهِ هَذَا الْحَدِيثُ أَمْلَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ بِوَاسِطٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৯১
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لے آیا اور اس شخص کے لئے بھی خوشخبری ہے جو مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لے آئے سات مرتبہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَيْمَنَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي وَطُوبَى سَبْعَ مَرَّاتٍ لِمَنْ لَمْ يَرَنِي وَآمَنَ بِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৯২
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صرف ایک آدمی کی شفاعت کی برکت سے " جو نبی نہیں ہوگا " ربیعہ اور مضر جیسے دو قبیلوں یا ایک قبیلے کے برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا ربیعہ، مضر قبیلے کا حصہ نہیں ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں تو وہی کہتا ہوں جو کہنا ہوتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ لَيْسَ بِنَبِيٍّ مِثْلُ الْحَيَّيْنِ أَوْ مِثْلُ أَحَدِ الْحَيَّيْنِ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا رَبِيعَةُ مِنْ مُضَرَ فَقَالَ إِنَّمَا أَقُولُ مَا أُقَوَّلُ حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَرِيزٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ فَذَكَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৯৩
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ وضو کیا تو تین تین مرتبہ دونوں ہاتھوں کو دھویا تین مرتبہ کلی کی ناک میں پانی ڈالا اور ہر عضو کو تین تین مرتبہ دھویا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ سُمَيْعٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৯৪
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے جہان والوں کے لئے باعث رحمت و ہدایت بنا کر بھیجا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ موسقی کے آلات، طبلے، آلات لہو ولعب اور ان تمام بتوں کو مٹا ڈالوں جن کی زمانہ جاہلیت میں پرستش کی جاتی تھی اور میرے رب نے اپنی عزت کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ میرا جو بندہ بھی شراب کا ایک گھونٹ پیئے گا میں اس کے بدلے میں اسے جہنم کا کھولتا ہوا پانی ضرور پلاؤں گا خواہ اسے عذاب میں مبتلا رکھا جائے یا بعد میں اس کی بخشش کردی جائے اور اگر کسی نابالغ بچے کو بھی اس کا ایک گھونٹ پلایا تو اسے بھی اس کے بدلے میں جہنم کا کھولتا ہوا پانی ضرور پلاؤں گا خواہ اسے عذاب میں مبتلا رکھا جائے یا بعد میں اس کی بخشش کردی جائے اور میرا جو بندہ میرے خوف کی وجہ سے اسے چھوڑ دے گا میں اسے اپنی پاکیزہ شراب پلاؤں گا اور مغنیہ عورتوں کی بیع وشراء انہیں گانابجانا سکھانا اور ان کی تجارت کرنا جائز نہیں ہے اور ان کی قیمت حرام ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ الْحِمْصِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَنِي رَحْمَةً وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ وَأَمَرَنِي أَنْ أَمْحَقَ الْمَزَامِيرَ وَالْكَبَارَاتِ يَعْنِي الْبَرَابِطَ وَالْمَعَازِفَ وَالْأَوْثَانَ الَّتِي كَانَتْ تُعْبَدُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَأَقْسَمَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ بِعِزَّتِهِ لَا يَشْرَبُ عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِي جَرْعَةً مِنْ خَمْرٍ إِلَّا سَقَيْتُهُ مَكَانَهَا مِنْ حَمِيمِ جَهَنَّمَ مُعَذَّبًا أَوْ مَغْفُورًا لَهُ وَلَا يَسْقِيهَا صَبِيًّا صَغِيرًا إِلَّا سَقَيْتُهُ مَكَانَهَا مِنْ حَمِيمِ جَهَنَّمَ مُعَذَّبًا أَوْ مَغْفُورًا لَهُ وَلَا يَدَعُهَا عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِي مِنْ مَخَافَتِي إِلَّا سَقَيْتُهَا إِيَّاهُ مِنْ حَظِيرَةِ الْقُدُسِ وَلَا يَحِلُّ بَيْعُهُنَّ وَلَا شِرَاؤُهُنَّ وَلَا تَعْلِيمُهُنَّ وَلَا تِجَارَةٌ فِيهِنَّ وَأَثْمَانُهُنَّ حَرَامٌ لِلْمُغَنِّيَاتِ قَالَ يَزِيدُ الْكَبَارَاتِ الْبَرَابِطُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৯৫
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک عورت اپنے ایک بچے کے ہمراہ اسے اٹھاتے ہوئے نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ مانگنے کے لئے آئی اس نے نبی کریم ﷺ سے جو بھی مانگا نبی کریم ﷺ نے اسے دے دیا پھر فرمایا بچوں کو اٹھانے والی یہ مائیں اپنی اولاد پر کتنی مہربان ہیں اگر وہ چیز نہ ہوتی جو یہ اپنے شوہروں کے ساتھ کرتی ہیں تو ان کی نمازی عورتیں جنت میں داخل ہوجائیں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا تَحْمِلُهُ وَبِيَدِهَا آخَرُ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ وَهِيَ حَامِلٌ فَلَمْ تَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا يَوْمَئِذٍ إِلَّا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ ثُمَّ قَالَ حَامِلَاتٌ وَالِدَاتٌ رَحِيمَاتٌ بِأَوْلَادِهِنَّ لَوْلَا مَا يَأْتُونَ إِلَى أَزْوَاجِهِنَّ دَخَلَ مُصَلِّيَاتُهُنَّ الْجَنَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৯৬
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک لشکر ترتییب دیا (جس میں میں بھی تھا) میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میرے حق میں اللہ سے شہادت کی دعاء کر دیجئے نبی کریم ﷺ نے یہ دعاء کی کہ اے اللہ ! انہیں سلامت رکھ اور مال غنیمت عطاء فرما، چناچہ ہم مال غنیمت کے ساتھ صحیح سالم واپس آگئے (دو بارہ لشکر ترتیب دیا تو پھر میں نے یہی عرض کیا اور نبی کریم ﷺ نے یہی دعاء دی) تیسری مرتبہ جب لشکر ترتیب دیا تو میں نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میں اس سے پہلے بھی دو مرتبہ آپ کے پاس آچکا ہوں، میں نے آپ سے یہ درخواست کی تھی کہ اللہ سے میرے حق میں شہادت کی دعاء کر دیجئے لیکن آپ نے سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے لہٰذا یا رسول اللہ ! ﷺ اب تو میرے لئے شہادت کی دعا فرمادیں لیکن نبی کریم ﷺ نے پھر سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے۔ اس کے بعد میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کسی عمل کا حکم دیجئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنے اوپر روزے کو لازم کرلو کیونکہ روزے کی حالت ہی میں ملے اور اگر دن کے وقت ان کے گھر سے دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دیتا تو لوگ سمجھ جاتے کہ آج ان کے یہاں کوئی مہمان آیا ہے۔ حضرت امامہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک عرصہ تک میں اس پر عمل کرتا رہاجب تک اللہ کو منظور ہوا پھر میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ آپ نے مجھے روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا مجھے امید ہے کہ اللہ نے ہمیں اس کی برکتیں عطاء فرمائی ہیں اب مجھے کوئی اور عمل بتا دیجئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس بات پر یقین رکھو کہ اگر تم اللہ کے لئے ایک سجدہ کرو گے تو اللہ اس کی برکت سے تمہارا ایک درجہ بلند کر دے گا اور ایک گناہ معاف کر دے گا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ قَالَ اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ فَغَزَوْنَا فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا ثُمَّ أَنْشَأَ غَزْوًا آخَرَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ قَالَ اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ فَغَزَوْنَا فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا ثُمَّ أَنْشَأَ غَزْوًا آخَرَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَيْتُكَ تَتْرَى ثَلَاثًا أَسْأَلُكَ أَنْ تَدْعُوَ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ فَقُلْتَ اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ فَغَزَوْنَا فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا فَمُرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَمْرٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ قَالَ عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ قَالَ وَكَانَ أَبُو أُمَامَةَ لَا يَكَادُ يُرَى فِي بَيْتِهِ الدُّخَانُ بِالنَّهَارِ فَإِذَا رُئِيَ الدُّخَانُ بِالنَّهَارِ عَرَفُوا أَنَّ ضَيْفًا اعْتَرَاهُمْ مِمَّا كَانَ يَصُومُ هُوَ وَأَهْلُهُ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ أَمَرْتَنِي بِأَمْرٍ أَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ قَدْ نَفَعَنِي بِهِ فَمُرْنِي بِأَمْرٍ آخَرَ قَالَ اعْلَمْ أَنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৯৭
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ اصحاب صفہ میں سے ایک آدمی فوت ہوگیا اور ایک دو دینار چھوڑ گیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ جہنم کا ایک یا دو داغ ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْعَدَّاءِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ فَوَجَدُوا فِي مِئْزَرِهِ دِينَارًا أَوْ دِينَارَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيَّةٌ أَوْ كَيَّتَانِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الَّذِي يَشُكُّ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ مِنْ بَنِي الْعَدَّاءِ مِنْ كِنْدَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৯৮
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) نے ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ سے وضو کرنے کا طریقہ بیان کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھونے کا ذکر کیا، کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا عدد مجھے یاد نہیں رہا اور فرمایا کہ کان سر کا حصہ ہیں نیز یہ بھی فرمایا کہ نبی کریم ﷺ اپنی انگلیوں سے اپنی آنکھوں کے حلقوں کو مسلتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا سِنَانٌ أَبُو رَبِيعَةَ صَاحِبُ السَّابِرِيِّ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ وَصَفَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَلَا أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ وَقَالَ وَالْأُذُنَانِ مِنْ الرَّأْسِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الْمَاقَيْنِ وَقَالَ بِأُصْبُعَيْهِ وَأَرَانَا حَمَّادٌ وَمَسَحَ مَاقَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১১৯৯
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ تین مرتبہ کلی کرتے تھے تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالتے تھے اور چہرہ اور ہاتھوں کو تین تین مرتبہ دھوتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ سُمَيْعٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُمَضْمِضُ ثَلَاثًا وَيَسْتَنْشِقُ ثَلَاثًا وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২০০
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنی صفیں سیدھی رکھا کرو ورنہ تمہارے چہرے مسخ کردیئے جائیں گے اور نگاہیں نیچی رکھا کرو، ورنہ تمہاری بینائی سلب کرلی جائے گی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَتُسَوُّنَّ الصُّفُوفَ أَوْ لَتُطْمَسَنَّ وُجُوهُكُمْ وَلَتُغْمِضُنَّ أَبْصَارَكُمْ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২০১
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
علی بن خالد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو امامہ (رض) کا گذر خالد بن یزید پر ہوا تو اس نے ان سے پوچھا کہ کوئی نرم بات جو آپ نے نبی کریم ﷺ سے سنی ہو ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے یاد رکھو ! تم میں سے ہر شخص جنت میں داخل ہوگا سوائے اس آدمی کے جو اللہ کی اطاعت سے اس طرح بدک کر نکل جائے جیسے اونٹ اپنے مالک کے سامنے بدک جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ مَرَّ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَسَأَلَهُ عَنْ أَلْيَنِ كَلِمَةٍ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَلَا كُلُّكُمْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ شِرَادَ الْبَعِيرِ عَلَى أَهْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২০২
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ خیبر سے واپس تشریف لائے تو ان کے ہمراہ دو غلام بھی تھے جن میں سے ایک غلام نبی کریم ﷺ نے حضرت علی (رض) کو دے دیا اور فرمایا اسے مارنا نہیں کیونکہ میں نے نمازیوں کو مارنے سے منع کیا ہے اور اسے میں نے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور دوسرا غلام حضرت ابوذر (رض) کودے دیا اور فرمایا میں تمہیں اس کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں انہوں نے اسے آزاد کردیا ایک دن نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا وہ غلام کیا ہوا ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ آپ نے مجھے اس کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کی تھی لہٰذا میں نے اسے آزاد کردیا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو غَالِبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ وَمَعَهُ غُلَامَانِ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْدِمْنَا فَقَالَ خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ فَقَالَ خِرْ لِي قَالَ خُذْ هَذَا وَلَا تَضْرِبْهُ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مَقْبَلَنَا مِنْ خَيْبَرَ وَإِنِّي قَدْ نَهَيْتُ عَنْ ضَرْبِ أَهْلِ الصَّلَاةِ وَأَعْطَى أَبَا ذَرٍّ الْغُلَامَ الْآخَرَ فَقَالَ اسْتَوْصِ بِهِ خَيْرًا ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا فَعَلَ الْغُلَامُ الَّذِي أَعْطَيْتُكَ قَالَ أَمَرْتَنِي أَنْ أَسْتَوْصِيَ بِهِ خَيْرًا فَأَعْتَقْتُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২০৩
حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ صدی بن عجلان ابن عمروبن وہب باہلی (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم ! اگر میں تیری پیاری آنکھیں واپس لے لوں اور تو اس پر ثواب کی نیت سے ابتدائی صدمہ کے اوقات میں صبر کرلے تو میں تیرے لئے جنت کے علاوہ کسی اور بدلے پر راضی نہیں ہوں گا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا ابْنَ آدَمَ إِذَا أَخَذْتُ كَرِيمَتَيْكَ فَصَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى لَمْ أَرْضَ لَكَ بِثَوَابٍ دُونَ الْجَنَّةِ
তাহকীক: