আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৬ টি
হাদীস নং: ২১৬৩৮
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کے راستہ میں جہاد کرے لیکن اس کی نیت اس جہاد سے ایک رسی حاصل کرنا ہو تو اسے وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ أَيْ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُوَ لَا يَنْوِي فِي غَزَاتِهِ إِلَّا عِقَالًا فَلَهُ مَا نَوَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৩৯
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
مخدجی " جن کا تعلق بنو کنانہ سے تھا کہتے ہیں کہ شام میں ایک انصاری آدمی تھا جس کی کنیت ابو محمد تھی اس کا یہ کہنا تھا کہ وتر واجب (فرض) ہیں وہ " مخدجی " حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ابومحمد وتر کو واجب قرار دیتے ہیں حضرت عبادہ نے فرمایا کہ ابو محمد سے غلطی ہوئی میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کردی ہیں جو شخص انہیں اس طرح ادا کرے کہ ان میں سے کسی چیز کو ضائع نہ کرے اور ان میں کا حق معمولی نہ سمجھے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور جو انہیں اس طرح ادانہ کرے تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں چاہے تو اسے سزا دے اور چاہے تو اسے معاف فرما دے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَنَّ ابْنَ مُحَيْرِيزٍ الْقُرَشِيَّ ثُمَّ الْجُمَحِيَّ أَخْبَرَهُ وَكَانَ بِالشَّامِ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ مُعَاوِيَةَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُخْدَجِيَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ كَانَ بِالشَّامِ يُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْوَتْرَ وَاجِبٌ فَذَكَرَ الْمُخْدَجِيُّ أَنَّهُ رَاحَ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَذَكَرَ لَهُ أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ الْوَتْرُ وَاجِبٌ فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى الْعِبَادِ مَنْ أَتَى بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৪০
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی دوران قرأت آپ ﷺ کو اپنی طبیعت پر بوجھ محسوس ہوا نماز سے فارغ ہو کر ہم سے پوچھا کہ کیا تم بھی قرأت کرتے ہو ؟ ہم نے عرض کیا جی یا رسول اللہ ! ﷺ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا الاّ یہ کہ سورت فاتحہ پڑھو کیونکہ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنِّي لَأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ قَالُوا نَعَمْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَفْعَلُ هَذَا قَالَ فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৪১
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت کے سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کا فاصلہ ہے اور سب سے عالی رتبہ درجہ جنت الفردوس کا ہے اسی سے چاروں نہریں نکلتی ہیں اور اسی کے اوپر عرش الہٰی ہے لہٰذا جب تم اللہ سے سوال کیا کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْجَنَّةُ مِائَةُ دَرَجَةٍ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ مَسِيرَةُ مِائَةِ عَامٍ وَقَالَ عَفَّانُ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلَاهَا دَرَجَةً وَمِنْهَا تَخْرُجُ الْأَنْهَارُ الْأَرْبَعَةُ وَالْعَرْشُ مِنْ فَوْقِهَا وَإِذَا سَأَلْتُمْ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৪২
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اللہ اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৪৩
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ رُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৪৪
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان کا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৪৫
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
مقدام بن معدیکرب (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبادہ بن صامت (رض) عنہ، ابودرداء اور حارث بن معاویہ (رض) بیٹھے احادیث کا مذاکرہ کر رہے تھے حضرت ابودرداء (رض) حضرت عبادہ (رض) سے کہنے لگے عبادہ ! فلاں فلاں غزوے میں خمس کے حوالے سے نبی کریم ﷺ نے کیا باتیں کہی تھیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو اس غزوے میں مال غنیمت کے ایک اونٹ کو بطور سترہ سامنے کھڑے کر کے نماز پڑھائی جب سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر اس کی اون اپنی دو انگلیوں کے درمیان لے کر فرمایا یہ تمہارا مال غنیمت ہے اور خمس کے علاوہ اس میں میرا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا تمہارا ہے اور خمس بھی تم ہی پر لوٹا دیا جاتا ہے لہٰذا اگر کسی کے پاس سوئی دھاگہ بھی ہو تو وہ لے آئے یا اس سے بڑی اور چھوٹی چیز ہو تو وہ بھی واپس کر دے اور مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، کیونکہ خیانت دنیا و آخرت میں خائن کے لئے آگ اور شرمندگی کا سبب ہوگی اور لوگوں سے اللہ کے راستہ میں جہاد کیا کرو خواہ وہ قریب ہوں یا دور اور اللہ کے حوالے سے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کیا کرو اور سفر و حضر میں اللہ کی حدود قائم رکھا کرو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو کیونکہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ انسان کو غم اور پریشانی سے نجات عطا فرماتا ہے۔ حضرت عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے ہر تنگی اور چستی وسستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے کی شرط پر بیعت کی تھی نیز یہ کہ کسی معاملے میں اس کے حقدار سے جھگڑا نہیں کریں گے جہاں بھی ہوں گے حق بات کہیں گے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ إِسْحَاقُ الْأَعْرَجِ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ أَنَّهُ جَلَسَ مَعَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَالْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْكِنْدِيِّ فَتَذَاكَرُوا حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لِعُبَادَةَ يَا عُبَادَةُ كَلِمَاتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا فِي شَأْنِ الْأَخْمَاسِ فَقَالَ عُبَادَةُ قَالَ إِسْحَاقُ فِي حَدِيثِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فِي غَزْوِهِمْ إِلَى بَعِيرٍ مِنْ الْمَقْسِمِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنَاوَلَ وَبَرَةً بَيْنَ أُنْمُلَتَيْهِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ مِنْ غَنَائِمِكُمْ وَإِنَّهُ لَيْسَ لِي فِيهَا إِلَّا نَصِيبِي مَعَكُمْ إِلَّا الْخُمُسُ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمَخِيطَ وَأَكْبَرَ مِنْ ذَلِكَ وَأَصْغَرَ وَلَا تَغُلُّوا فَإِنَّ الْغُلُولَ نَارٌ وَعَارٌ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَجَاهِدُوا النَّاسَ فِي اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَرِيبَ وَالْبَعِيدَ وَلَا تُبَالُوا فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللَّهِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّ الْجِهَادَ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ عَظِيمٌ يُنَجِّي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ مِنْ الْغَمِّ وَالْهَمِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৪৬
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی ﷺ سے ہر تنگی اور آسانی اور چستی و سستی سے ہر حال میں بات سننے اور ماننے کی شرط پر بیعت کی تھی، نیز یہ کہ کسی معاملے میں اس کے حقدار سے جھگڑا نہیں کریں گے، جہاں بھی ہوں گے حق بات کہیں گے اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِيهِ الْوَلِيدِ عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَكَانَ أَحَدَ النُّقَبَاءِ قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْعَةَ الْحَرْبِ وَكَانَ عُبَادَةُ مِنْ الِاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ بَايَعُوا فِي الْعَقَبَةِ الْأُولَى عَلَى بَيْعَةِ النِّسَاءِ فِي السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي عُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَمَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا وَلَا نُنَازِعُ فِي الْأَمْرِ أَهْلَهُ وَأَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৪৭
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کے جسم پر کوئی زخم لگ جائے اور وہ صدقہ خیرات کر دے تو اس صدقے کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنِ الْمُغِيرَةِ عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ رَجُلٍ يُجْرَحُ فِي جَسَدِهِ جِرَاحَةً فَيَتَصَدَّقُ بِهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ مِثْلَ مَا تَصَدَّقَ بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৪৮
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بیمار تھا نبی کریم ﷺ کچھ انصاری لوگوں کے ساتھ میری عیادت کے لئے تشریف لائے وہاں موجود لوگوں سے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ شہید کون ہوتا ہے ؟ لوگ خاموش رہے نبی کریم ﷺ نے دوبارہ سوال کیا لوگ پھر خاموش رہے نبی کریم ﷺ نے تیسری مرتبہ یہی سوال کیا تو میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے سہارا دے کر بٹھا دو اس نے ایسا ہی کیا اور میں نے عرض کیا جو شخص اسلام لائے ہجرت کرے پھر اللہ کے راستہ میں شہید ہوجائے تو وہ شہید ہوتا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس طرح تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے اللہ کے راستے میں مارا جانا بھی شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے غرق ہو کر مرجانا بھی شہادت ہے اور نفاس کی حالت میں عورت کا مرجانا بھی شہادت ہے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا الْمُعَافَى حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ فِي نَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ يَعُودُونِي فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الشَّهِيدُ فَسَكَتُوا فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الشَّهِيدُ فَسَكَتُوا قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الشَّهِيدُ فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي أَسْنِدِينِي فَأَسْنَدَتْنِي فَقُلْتُ مَنْ أَسْلَمَ ثُمَّ هَاجَرَ ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৪৯
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو نبی کریم ﷺ کو سخت تکلیف ہوتی تھی اور روئے انور پر اس کے آثار نظر آتے تھے ایک مرتبہ یہ کیفیت دور ہونے پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھ سے یہ بات حاصل کرلو مجھ سے یہ بات حاصل کرلو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے یہ راستہ متعین کردیا ہے کہ اگر کوئی کنوارہ لڑکا کنواری لڑکی کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے اور اگر شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ بدکاری کرے تو اسے سو کوڑے مارے جائیں اور رجم بھی کیا جائے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ وَحُمَيْدٌ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ كَرَبَ لَهُ وَتَرَبَّدَ وَجْهُهُ وَإِذَا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ خُذُوا عَنِّي خُذُوا عَنِّي ثَلَاثَ مِرَارٍ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ الثَّيِّبُ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ وَالْبِكْرُ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৫০
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
مخدجی " جن کا تعلق بنو کنانہ سے تھا کہتے ہیں کہ شام میں ایک انصاری آدمی تھا جس کی کنیت ابو محمد تھی اس کا یہ کہنا تھا کہ وتر واجب (فرض) ہیں وہ " مخدجی " حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ابو محمد وتر کو واجب قرار دیتے ہیں حضرت عبادہ (رض) نے فرمایا کہ ابو محمد سے غلطی ہوئی میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کردی ہیں جو شخص انہیں اس طرح ادا کرے کہ ان میں سے کسی چیز کو ضائع نہ کرے اور ان میں کا حق معمولی نہ سمجھے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور جو انہیں اس طرح ادا نہ کرے تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں چاہے تو اسے سزا دے اور چاہے تو اسے معاف فرما دے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ زَعَمَ أَبُو مُحَمَّدٍ أَنَّ الْوَتْرَ وَاجِبٌ فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ أَشْهَدُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ مَنْ أَحْسَنَ وُضُوءَهُنَّ وَصَلَاتَهُنَّ لِوَقْتِهِنَّ فَأَتَمَّ رُكُوعَهُنَّ وَسُجُودَهُنَّ وَخُشُوعَهُنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৫১
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
ولید بن عبادہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ (اپنے والد) حضرت عبادہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا وہ اس وقت بیمار تھے اور میں سمجھتا تھا کہ یہ ان کا مرض الوفات ہے میں نے ان سے عرض کیا اباجان ! مجھے چھان پھٹک کر کوئی وصیت کر دیجئے انہوں نے فرمایا مجھے اٹھا کر بٹھا دو جب انہیں اٹھا کر بٹھا دیا گیا تو فرمایا بیٹا ! تم اس وقت تک ایمان کا ذائقہ نہیں چکھ سکتے اور علم باللہ کی حقیقت نہیں جان سکتے جب تک تم اچھی بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہونے پر ایمان نہ لاؤ میں نے عرض کیا اباجان ! مجھے کیسے معلوم ہوگا کہ تقدیر کا کون سا فیصلہ میرے حق میں اچھا ہے اور کون سا برا ؟ فرمایا تم اس بات کا یقین رکھو کہ جو چیز تم سے چوک گئی وہ تمہیں پیش آسکتی تھی اور جو پیش آگئی وہ چوک نہیں سکتی تھی بیٹا ! میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ چناچہ اس نے قیامت تک ہونے والے واقعات کو لکھ دیا بیٹا ! اگر تم مرتے وقت اس عقیدے پر نہ ہوئے تو تم جہنم میں داخل ہو گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عُبَادَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ أَتَخَايَلُ فِيهِ الْمَوْتَ فَقُلْتُ يَا أَبَتَاهُ أَوْصِنِي وَاجْتَهِدْ لِي فَقَالَ أَجْلِسُونِي قَالَ يَا بُنَيَّ إِنَّكَ لَنْ تَطْعَمَ طَعْمَ الْإِيمَانِ وَلَنْ تَبْلُغْ حَقَّ حَقِيقَةِ الْعِلْمِ بِاللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَتَاهُ فَكَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ مَا خَيْرُ الْقَدَرِ وَشَرُّهُ قَالَ تَعْلَمُ أَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ وَمَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ يَا بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَلَمُ ثُمَّ قَالَ اكْتُبْ فَجَرَى فِي تِلْكَ السَّاعَةِ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ يَا بُنَيَّ إِنْ مِتَّ وَلَسْتَ عَلَى ذَلِكَ دَخَلْتَ النَّارَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৫২
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک مرتبہ ہمارے پاس تشریف لائے تو حضرت صدیق اکبر (رض) نے فرمایا کھڑے ہوجاؤ، ہم نبی کریم ﷺ سے اس منافق کے متعلق فریاد کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے سامنے کھڑا ہونے سے بچا جائے کھڑا ہونا تو اللہ کے لئے ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ يَقُولُ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُومُوا نَسْتَغِيثُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُقَامُ لِي إِنَّمَا يُقَامُ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৫৩
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
ولید بن عبادہ کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب نے مجھے وصیت کرتے ہوئے فرمایا میں تمہیں ہر اچھی بری تقدیر پر ایمان لانے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ تم تقدیر پر ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ تمہیں جہنم میں داخل کر دے گا اور میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ چناچہ اس نے قیامت تک ہونے والے واقعات کو لکھ دیا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ أَوْصَانِي أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فَقَالَ يَا بُنَيَّ أُوصِيكَ أَنْ تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُؤْمِنْ أَدْخَلَكَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى النَّارَ قَالَ وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَلَمُ ثُمَّ قَالَ لَهُ اكْتُبْ قَالَ وَمَا أَكْتُبُ قَالَ فَاكْتُبْ مَا يَكُونُ وَمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৫৪
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
عبداللہ بن عباد زرقی (رح) کہتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ بئر ہاب نامی اپنے کنویں پر چڑیوں کا شکار کر رہے تھے حضرت عبادہ بن صامت (رض) نے مجھے دیکھ لیا، اس وقت میں نے کچھ چڑیاں پکڑ رکھی تھیں انہوں نے وہ میرے ہاتھ سے چھین کر چھوڑ دیں اور فرمایا بیٹا ! نبی کریم ﷺ نے مدینہ کے دونوں کناروں کی درمیانی جگہ کو اسی طرح حرم قرار دیا ہے جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ مکرمہ کو قرار دیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ أَبُو ضَمْرَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّادٍ الزُّرَقِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ يَصِيدُ الْعَصَافِيرَ فِي بِئْرِ إِهَابٍ وَكَانَتْ لَهُمْ قَالَ فَرَآنِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ وَقَدْ أَخَذْتُ الْعُصْفُورَ فَيَنْزِعُهُ مِنِّي فَيُرْسِلُهُ وَيَقُولُ أَيْ بُنَيَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৫৫
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میری امت کا گروہ شراب کو دوسرا نام دے کر اسے حلال سمجھے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ الْكَاتِبُ عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى الْعَنْسِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ عَنْ ثَابِتِ بْنِ السِّمْطِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَسْتَحِلَّنَّ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ بِاسْمٍ يُسَمُّونَهَا إِيَّاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৫৬
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا روئے زمین پر مرنے والا کوئی انسان پروردگار کے یہاں جس کے متعلق اچھا فیصلہ ہو ایسا نہیں ہے جو تمہارے پاس واپس آنے کو اچھا سمجھے سوائے اللہ کے راستہ میں شہید ہونے والے کے کہ وہ دنیا میں دوبارہ آنے کی تمنا رکھتا ہے تاکہ دوبارہ شہادت حاصل کرلے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَرَوْحٌ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالُوا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَيْضًا حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ وَلَهَا عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى خَيْرٌ تُحِبُّ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْكُمْ إِلَّا الْمَقْتُولُ وَقَالَ رَوْحٌ إِلَّا الْقَتِيلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ فَيُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৫৭
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
صنابحی کہتے ہیں کہ جس وقت حضرت عبادہ بن صامت (رض) کے آخری لمحات زندگی تھے تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور رونے لگا اگر سفارش قبول کی گئی تو میں تمہارے حق میں سفارش کروں گا اور جہاں تک میرے بس میں ہوا تمہیں نفع پہنچاؤں گا پھر فرمایا میں نے نبی کریم ﷺ سے جو حدیث بھی سنی ہے اور تمہارے لئے اس میں کوئی خیر ہے بخدا ! وہ میں نے تم سے بیان کردی ہے البتہ ایک حدیث ہے جو آج میں تم سے بیان کر رہا ہوں جبکہ میرا احاطہ کرلیا گیا ہے میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو اللہ اس پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دے دیتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ عَنِ الصُّنَابِحِيِّ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَبَكَيْتُ فَقَالَ مَهْلًا لِمَ تَبْكِي فَوَاللَّهِ لَئِنْ اسْتُشْهِدْتُ لَأَشْهَدَنَّ لَكَ وَلَئِنْ شُفِّعْتُ لَأَشْفَعَنَّ لَكَ وَلَئِنْ اسْتَطَعْتُ لَأَنْفَعَنَّكَ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ مَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ فِيهِ خَيْرٌ إِلَّا حَدَّثْتُكُمُوهُ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا سَوْفَ أُحَدِّثُكُمُوهُ الْيَوْمَ وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حُرِّمَ عَلَى النَّارِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ مِثْلَهُ قَالَ حَرَّمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِ النَّارَ
তাহকীক: