আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৬ টি
হাদীস নং: ২১৬৯৮
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) کی عیادت کے لئے گئے ابھی ان کے بستر سے جدا نہیں ہوئے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میری امت کے شہداء کون ہیں ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا کہ مسلمان کا میدان جنگ میں قتل ہونا شہادت ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس طرح تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے رہ جائیں گے مسلمان کا قتل ہونا بھی شہادت ہے طاعون میں مرنا بھی شہادت ہے اور وہ عورت بھی شہید ہے جسے اس کا بچہ مار دے (یعنی حالت نفاس میں پیدائش کی تکلیف برداشت نہ کرسکنے والی وہ عورت جو اس دوران فوت ہوجائے)
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُصَبِّحٍ أَوْ ابْنَ مُصَبِّحٍ شَكَّ أَبُو بَكْرٍ عَنِ ابْنِ السِّمْطِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ قَالَ فَمَا تَحَوَّزَ لَهُ عَنْ فِرَاشِهِ فَقَالَ أَتَدْرِي مَنْ شُهَدَاءُ أُمَّتِي قَالُوا قَتْلُ الْمُسْلِمِ شَهَادَةٌ قَالَ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ قَتْلُ الْمُسْلِمِ شَهَادَةٌ وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْمَرْأَةُ يَقْتُلُهَا وَلَدُهَا جَمْعَاءَ شَهَادَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৯৯
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں جب بات کرو تو سچ بولو، وعدہ کرو تو پورا کرو، امانت رکھوائی جائے تو اسے ادا کرو، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو، اپنی نگاہیں جھکا کر رکھو اور اپنے ہاتھوں کو روک کر رکھو۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا عَمْرٌو عَنِ الْمُطَّلِبِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اضْمَنُوا لِي سِتًّا مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَضْمَنْ لَكُمْ الْجَنَّةَ اصْدُقُوا إِذَا حَدَّثْتُمْ وَأَوْفُوا إِذَا وَعَدْتُمْ وَأَدُّوا إِذَا اؤْتُمِنْتُمْ وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭০০
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت سعد بن عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص بھی دس آدمیوں کا امیر رہا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوں گے جنہیں اس کے عدل کے علاوہ کوئی چیز نہیں کھول سکے گی اور جس شخص نے قرآن کریم سیکھا پھر اسے بھول گیا تو وہ اللہ سے کوڑھی بن کر ملے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عِيسَى بْنِ فَائِدٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا لَا يَفُكُّهُ مِنْهَا إِلَّا عَدْلُهُ وَمَا مِنْ رَجُلٍ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ ثُمَّ نَسِيَهُ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَجْذَمُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭০১
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ کی عیادت کے لئے حاضر خدمت ہوا تو نبی کریم ﷺ کو اتنی تکلیف تھی جس کی شدت اللہ ہی بہتر جانتا ہے جب شام کو دوبارہ حاضر ہوا تو نبی کریم ﷺ بالکل ٹھیک ہوچکے تھے میں نے یہ دیکھ کر عرض کیا کہ صبح جب میں حاضر ہوا تھا تو آپ پر تکلیف کا اتنا غلبہ تھا جس کی شدت اللہ ہی جانتا ہے اور اب اس وقت حاضر ہوا ہوں تو آپ بالکل ٹھیک ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے ابن صامت ! حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے ایک منتر سے دم کیا جس سے میں ٹھیک ہوگیا کیا میں وہ تمہیں بھی سکھا نہ دوں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں ؟ فرمایا وہ کلمات یہ ہیں اللہ کے نام سے میں تم پر ہر اس چیز کے شر سے بچاؤ کا دم کرتا ہوں جو تمہیں ایذاء پہنچا سکے مثلاً ہر حاسد کے حسد سے اور ہر نظربد سے اللہ کے نام سے اللہ تمہیں شفاء عطا فرمائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ سَلْمَانَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ عَنْ جُنَادَةَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعُودُهُ وَبِهِ مِنْ الْوَجَعِ مَا يَعْلَمُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِشِدَّةٍ ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهِ مِنْ الْعَشِيِّ وَقَدْ بَرِئَ أَحْسَنَ بُرْءٍ فَقُلْتُ لَهُ دَخَلْتُ عَلَيْكَ غُدْوَةً وَبِكَ مِنْ الْوَجَعِ مَا يَعْلَمُ اللَّهُ بِشِدَّةٍ وَدَخَلْتُ عَلَيْكَ الْعَشِيَّةَ وَقَدْ بَرِئْتَ فَقَالَ يَا ابْنَ الصَّامِتِ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام رَقَانِي بِرُقْيَةٍ بَرِئْتُ أَلَا أُعَلِّمُكَهَا قُلْتُ بَلَى قَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ حَسَدِ كُلِّ حَاسِدٍ وَعَيْنٍ بِسْمِ اللَّهِ يَشْفِيكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭০২
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے تو نبی کریم ﷺ کانپ رہے تھے انہوں نے نبی کریم ﷺ کو ان الفاظ میں دم کیا " اللہ کے نام سے میں تم پر ہر اس چیز کے شر سے بچاؤ کا دم کرتا ہوں جو تمہیں ایذاء پہنچا سکے مثلاً ہر حاسد کے حسد سے اور ہر نظر بد سے اللہ کے نام سے اللہ تمہیں شفاء عطا فرمائے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ أَنَّهُ سَمِعَ جُنَادَةَ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ الْكِنْدِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عُبَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَاهُ وَهُوَ يُرْعِدُ فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ حَسَدِ حَاسِدٍ وَكُلِّ عَيْنٍ وَاسْمُ اللَّهِ يَشْفِيكَ حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ مِنْ حَسَدِ حَاسِدٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ اسْمُ اللَّهِ يَشْفِيكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭০৩
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئے میں غزوہ بدر میں شریک تھا فریقین کا آمنا سامنا ہوا تو اللہ نے دشمن کو شکت سے دوچار کردیا مسلمانوں کا ایک دستہ انہیں شکت دیتا ہوا قتل کرتا ہوا ان کے تعاقب میں چلا گیا اور ایک گروہ ان کے کیمپوں کی طرف متوجہ ہوا اور مال غنیمت جمع کرنے لگا اور ایک گروہ نبی کریم ﷺ کی حفاظت کرتا رہا تاکہ دشمن اچانک حملہ کر کے انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔ جب رات ہوئی اور لوگ واپس آنے لگے تو مال غنیمت جمع کرنے والے کہنے لگے کہ یہ تو ہم نے جمع کیا ہے لہٰذا اس میں کسی کا حصہ نہیں ہے دشمن کی تلاش میں جانے والے کہنے لگے کہ تمہارا اس پر ہم سے زیادہ حق نہیں ہے ہم نے دشمن کو بھگا کر شکست سے دوچار کیا ہے اور نبی کریم ﷺ کی حفاظت کرنے والے کہنے لگے کہ تمہارا اس پر ہم سے زیادہ حق نہیں ہے ہم نے نبی کریم ﷺ کی حفاظت کی ہے کیونکہ ہمیں اندیشہ تھا کہ کہیں دشمن اچانک دھوکے سے ان پر حملہ نہ کر دے اور ہم غفلت میں پڑے رہ جائیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی، " یسألونک عن الأنفال۔۔۔۔ " چناچہ نبی کریم ﷺ نے اسے تمام مسلمانوں کے درمیان برابر برابر تقسیم کردیا۔ اور نبی کریم ﷺ کا معمول تھا کہ جب دشمن کے علاقے پر حملہ فرماتے تھے تو چوتھائی حصہ انعام میں دے دیتے تھے اور جب وہاں سے واپس ہوتے تو تمام لوگوں میں ایک تہائی حصہ انعام میں تقسیم کردیتے تھے اس کے علاوہ انفال کو آپ نامناسب سمجھتے تھے اور فرماتے تھے طاقتور مسلمان کو کمزور کی مدد کرنی چاہیے۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدْتُ مَعَهُ بَدْرًا فَالْتَقَى النَّاسُ فَهَزَمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْعَدُوَّ فَانْطَلَقَتْ طَائِفَةٌ فِي آثَارِهِمْ يَهْزِمُونَ وَيَقْتُلُونَ فَأَكَبَّتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَسْكَرِ يَحْوُونَهُ وَيَجْمَعُونَهُ وَأَحْدَقَتْ طَائِفَةٌ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصِيبُ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ وَفَاءَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالَ الَّذِينَ جَمَعُوا الْغَنَائِمَ نَحْنُ حَوَيْنَاهَا وَجَمَعْنَاهَا فَلَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا نَصِيبٌ وَقَالَ الَّذِينَ خَرَجُوا فِي طَلَبِ الْعَدُوِّ لَسْتُمْ بِأَحَقَّ بِهَا مِنَّا نَحْنُ نَفَيْنَا عَنْهَا الْعَدُوَّ وَهَزَمْنَاهُمْ وَقَالَ الَّذِينَ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسْتُمْ بِأَحَقَّ بِهَا مِنَّا نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخِفْنَا أَنْ يُصِيبَ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً وَاشْتَغَلْنَا بِهِ فَنَزَلَتْ يَسْأَلُونَكَ عَنْ الْأَنْفَالِ قُلْ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَوَاقٍ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَغَارَ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ نَفَلَ الرُّبُعَ وَإِذَا أَقْبَلَ رَاجِعًا وَكُلَّ النَّاسِ نَفَلَ الثُّلُثَ وَكَانَ يَكْرَهُ الْأَنْفَالَ وَيَقُولُ لِيَرُدَّ قَوِيُّ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى ضَعِيفِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭০৪
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے شب قدر کے متعلق سوال کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ ماہ رمضان میں ہوتی ہے اسے ماہ رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو کہ وہ اس کی طاق راتوں ٢١، ٢٣، ٣٥، ٢٧، ٢٩ ویں یا آخری رات میں ہوتی ہے اور جو شخص اس رات کو حاصل کرنے کے لئے ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کرے اور اسے یہ رات مل بھی جائے تو اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف ہوگئے۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَقَالَ هِيَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فَإِنَّهَا وَتْرٌ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ أَوْ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ أَوْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ أَوْ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ أَوْ آخِرِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ مَنْ قَامَهَا احْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭০৫
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں تمہیں دجال کے متعلق اتنی باتیں بتادی ہیں کہ مجھے خطرہ ہے کہیں تم بات سمجھے نہ ہو مسیح دجال ایک ٹھنگنے قد کا آدمی ہوگا، اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان میں غیر معمولی فاصلہ ہوگا اس کے بال گھنگھریالے ہوں گے وہ کانا ہوگا اس کی ایک آنکھ پونچھ دی گئی ہوگی، جو ابھری ہوگی اور نہ دھنسی ہوئی اگر تم پر اس کا معاملہ مشتبہ ہوجائے تو بس اتنی بات یاد رکھنا کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے اور یہ کہ تم مرنے سے پہلے اپنے رب کو دیکھ نہیں سکتے۔
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ وَيَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ قَالَا حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي قَدْ حَدَّثْتُكُمْ عَنْ الدَّجَّالِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ لَا تَعْقِلُوا إِنَّ مَسِيحَ الدَّجَّالِ رَجُلٌ قَصِيرٌ أَفْحَجُ جَعْدٌ أَعْوَرُ مَطْمُوسُ الْعَيْنِ لَيْسَ بِنَاتِئَةٍ وَلَا حَجْزَاءَ فَإِنْ أَلْبَسَ عَلَيْكُمْ قَالَ يَزِيدُ رَبَّكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَأَنَّكُمْ لَنْ تَرَوْنَ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى تَمُوتُوا قَالَ يَزِيدُ تَرَوْا رَبَّكُمْ حَتَّى تَمُوتُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭০৬
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا شب قدر ماہ رمضان کے آخری عشرے میں ہوتی ہے جو شخص اس کا ثواب حاصل کرنے کے لئے ان میں قیام کرے تو اللہ اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دے گا اور یہ طاق راتوں میں ہوتی ہے یعنی عشرہ اخیرہ کے نویں " ساتویں " پانچویں " تیسری یا آخری رات " نیز فرمایا کہ شب قدر کی علامت یہ ہے کہ وہ رات روشن اور چمکدار ہوتی ہے اس میں چاند کی روشنی بھی خوب اجلی ہوتی ہے وہ رات پرسکون اور گہری ہوتی ہے اس رات میں صبح تک ستارے توڑ کر نہیں مارے جاتے نیز اس کی علامت یہ ہے کہ اس کی صبح کو جب سورج روشن ہوتا ہے تو وہ سیدھا برابر نکلتا ہے جیسے چودھویں کا چاند ہوتا ہے اور اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی اور اس دن شیطان کے لئے سورج کے ساتھ نکلنا ممنوع ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْبَوَاقِي مَنْ قَامَهُنَّ ابْتِغَاءَ حِسْبَتِهِنَّ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَغْفِرُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ وَهِيَ لَيْلَةُ وِتْرٍ تِسْعٍ أَوْ سَبْعٍ أَوْ خَامِسَةٍ أَوْ ثَالِثَةٍ أَوْ آخِرِ لَيْلَةٍ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَمَارَةَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَنَّهَا صَافِيَةٌ بَلْجَةٌ كَأَنَّ فِيهَا قَمَرًا سَاطِعًا سَاكِنَةٌ سَاجِيَةٌ لَا بَرْدَ فِيهَا وَلَا حَرَّ وَلَا يَحِلُّ لِكَوْكَبٍ أَنْ يُرْمَى بِهِ فِيهَا حَتَّى تُصْبِحَ وَإِنَّ أَمَارَتَهَا أَنَّ الشَّمْسَ صَبِيحَتَهَا تَخْرُجُ مُسْتَوِيَةً لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ مِثْلَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَلَا يَحِلُّ لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا يَوْمَئِذٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭০৭
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی مصروفیات زیادہ تھیں اس لئے مہاجرین میں سے کوئی آدمی جب نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو نبی کریم ﷺ اسے قرآن سکھانے کے لئے ہم میں سے کسی کے حوالے کردیتے تھے ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو میرے حوالے کردیا وہ میرے ساتھ میرے گھر میں رہتا تھا اور میں اسے اپنے گھر والوں کے کھانے میں شریک کرتا تھا اور قرآن بھی پڑھاتا تھا جب وہ اپنے گھر واپس جانے لگا تو اس کے دل میں خیال آیا کہ اس پر میرا کچھ حق بنتا ہے چناچہ اس نے مجھے ایک کمان ہدیئے میں پیش کی جس سے عمدہ لکڑی اور نرمی میں اس سے بہترین کمان میں نے پہلے نہیں دیکھی تھی میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کے متعلق پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ تمہارے کندھوں کے درمیان ایک انگارہ ہے جو تم نے لٹکا لیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ يَسَارٍ السُّلَمِيَّ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ نُسَيٍّ عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشْغَلُ فَإِذَا قَدِمَ رَجُلٌ مُهَاجِرٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَهُ إِلَى رَجُلٍ مِنَّا يُعَلِّمُهُ الْقُرْآنَ فَدَفَعَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَكَانَ مَعِي فِي الْبَيْتِ أُعَشِّيهِ عَشَاءَ أَهْلِ الْبَيْتِ فَكُنْتُ أُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَانْصَرَفَ انْصِرَافَةً إِلَى أَهْلِهِ فَرَأَى أَنَّ عَلَيْهِ حَقًّا فَأَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا لَمْ أَرَ أَجْوَدَ مِنْهَا عُودًا وَلَا أَحْسَنَ مِنْهَا عِطْفًا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مَا تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فِيهَا قَالَ جَمْرَةٌ بَيْنَ كَتِفَيْكَ تَقَلَّدْتَهَا أَوْ تَعَلَّقْتَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭০৮
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے اس ارشادباری تعالیٰ " لہم البشری فی الحیاۃ الدنیا وفی الآخرہ " میں بشری کی تفسیر پوچھی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس سے مراد اچھے خواب ہیں جو خود کوئی مسلمان دیکھے یا کوئی دوسرا مسلمان اس کے متعلق دیکھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْيَزَنِيُّ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ لَهُمْ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَقَالَ عُبَادَةُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ أَمْرٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي تِلْكَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُؤْمِنُ أَوْ تُرَى لَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭০৯
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کی عبادت اس طرح کرے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے " نماز قائم کرے " زکوٰۃ ادا کرے " بات سنے اور مانے " تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے داخل ہونے کا اختیار دیدے گا اور جو شخص اللہ کی عبادت تو اس طرح کرے کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائے نماز بھی قائم کرے اور زکوٰۃ بھی ادا کرے اور بات بھی سنے لیکن نافرمانی کرے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے متعلق اختیار ہے کہ اگر چاہے تو اس پر رحم کر دے اور چاہے تو اسے سزا دے دے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَقِيلِ بْنِ مُدْرِكٍ السُّلَمِيِّ عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عَبَدَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَسَمِعَ وَأَطَاعَ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُدْخِلُهُ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ وَلَهَا ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ وَمَنْ عَبَدَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَسَمِعَ وَعَصَى فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى مِنْ أَمْرِهِ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ رَحِمَهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭১০
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
اسماعیل بن عبید انصاری (رح) ایک حدیث ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت عبادہ (رض) نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے فرمایا کہ اے ابوہریرہ (رض) ! آپ اس وقت ہمارے ساتھ نہ تھے جب ہم لوگ نبی کریم ﷺ سے بیعت کر رہے تھے ہم نے نبی کریم ﷺ سے چستی اور سستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے " کشادگی اور تنگی میں خرچ کرنے " امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے " اللہ کے متعلق صحیح بات کہنے اور اس معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہ کرنے اور نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آوری پر ان کی مدد کرنے اور اپنی جان اور بیوی بچوں کی طرح ان کی حفاظت کرنے کی شرط پر بیعت کی تھی جس کے عوض ہم سے جنت کا وعدہ ہوا یہ ہے وہ بیعت جو ہم نے نبی کریم ﷺ سے کی ہے اب جو اسے توڑتا ہے وہ اپنا نقصان کرتا ہے اور جو اس بیعت کی پاسداری کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے نبی کریم ﷺ کے ذریعے کیا ہوا وعدہ پورا کرے گا۔ ادھرامیر معاویہ (رض) نے حضرت عثمان غنی (رض) کو خط لکھا کہ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی وجہ سے شام اور اہل شام میرے خلاف شورش برپا کر رہے ہیں اب یا تو آپ حضرت عبادہ (رض) کو اپنے پاس بلا لیجئے یا پھر میں ان کے اور شام کے درمیان سے ہٹ جاتا ہوں، حضرت عثمان (رض) نے اس خط کے جواب میں انہیں لکھا کہ آپ حضرت عبادہ (رض) کو مکمل احترام کے ساتھ سوار کروا کر مدینہ منورہ میں ان کے گھر کی طرف روانہ کردو چناچہ حضرت معاویہ (رض) نے انہیں روانہ کردیا اور وہ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ وہ حضرت عثمان (رض) کے پاس ان کے گھر چلے گئے جہاں سوائے ایک آدمی کے اگلے پچھلے لوگوں میں سے کوئی نہ تھا اس نے جماعت صحابہ (رض) کو پایا تھا حضرت عثمان (رض) جب آئے تو وہ مکان کے ایک کونے میں بیٹھے ہوئے تھے وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا عبادہ ! تمہارا اور ہمارا کیا معاملہ ہے ؟ وہ لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر کہنے لگے۔ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعد ایسے لوگ تمہارے حکمران ہوں گے جو تمہیں ایسے کاموں کی پہچان کرائیں گے جنہیں تم ناپسند سمجھتے ہوگے اور ایسے کاموں کو ناپسند کریں گے جنہیں تم اچھا سمجھتے ہو گے سو جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے اس کی اطاعت ضروری نہیں اور تم اپنے رب سے نہ ہٹنا۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ عُبَادَةُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنَّكَ لَمْ تَكُنْ مَعَنَا إِذْ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا بَايَعْنَاهُ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ وَعَلَى النَّفَقَةِ فِي الْيُسْرِ وَالْعُسْرِ وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنْ الْمُنْكَرِ وَعَلَى أَنْ نَقُولَ فِي اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَا نَخَافَ لَوْمَةَ لَائِمٍ فِيهِ وَعَلَى أَنْ نَنْصُرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ عَلَيْنَا يَثْرِبَ فَنَمْنَعُهُ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْهُ أَنْفُسَنَا وَأَزْوَاجَنَا وَأَبْنَاءَنَا وَلَنَا الْجَنَّةُ فَهَذِهِ بَيْعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي بَايَعْنَا عَلَيْهَا فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ وَفَّى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِمَا بَايَعَ عَلَيْهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ قَدْ أَفْسَدَ عَلَيَّ الشَّامَ وَأَهْلَهُ فَإِمَّا تُكِنُّ إِلَيْكَ عُبَادَةَ وَإِمَّا أُخَلِّي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الشَّامِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ رَحِّلْ عُبَادَةَ حَتَّى تُرْجِعَهُ إِلَى دَارِهِ مِنْ الْمَدِينَةِ فَبَعَثَ بِعُبَادَةَ حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَدَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ فِي الدَّارِ وَلَيْسَ فِي الدَّارِ غَيْرُ رَجُلٍ مِنْ السَّابِقِينَ أَوْ مِنْ التَّابِعِينَ قَدْ أَدْرَكَ الْقَوْمَ فَلَمْ يَفْجَأْ عُثْمَانُ إِلَّا وَهُوَ قَاعِدٌ فِي جَنْبِ الدَّارِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ مَا لَنَا وَلَكَ فَقَامَ عُبَادَةُ بَيْنَ ظَهْرَيْ النَّاسِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا الْقَاسِمِ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ سَيَلِي أُمُورَكُمْ بَعْدِي رِجَالٌ يُعَرِّفُونَكُمْ مَا تُنْكِرُونَ وَيُنْكِرُونَ عَلَيْكُمْ مَا تَعْرِفُونَ فَلَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَلَا تَعْتَلُّوا بِرَبِّكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭১১
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ﷺ آپ کی امت پر آسانی کی مدت کیا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا اس نے تین مرتبہ یہی سوال کیا اور نبی کریم ﷺ نے اسے ایک مرتبہ بھی جواب نہ دیا یہاں تک کہ وہ واپس چلا گیا تھوڑی دیر بعد نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ سائل کہاں ہے ؟ لوگ اسے بلا لائے نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا تم نے مجھ سے ایسا سوال پوچھا ہے جو میری امت میں سے کسی نے نہیں پوچھا میری امت پر آسانی کی مدت سو سال ہے دو تین مرتبہ یہ بات دہرائی اس نے پوچھا کہ اس کے ختم ہونے کی کوئی علامت یا نشانی ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں ! زمین میں دھنسنا زلزلے آنا اور شیاطین کو لوگوں پر مسلط کردینا۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي عَطَاءٍ السَّكْسَكِيِّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ سَعْدٍ السَّكْسَكِيِّ عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ يَذْكُرُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مُدَّةُ أُمَّتِكَ مِنْ الرَّخَاءِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا حَتَّى سَأَلَهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ كُلُّ ذَلِكَ لَا يُجِيبُهُ ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ فَرَدُّوهُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي مُدَّةُ أُمَّتِي مِنْ الرَّخَاءِ مِائَةُ سَنَةٍ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَهَلْ لِذَلِكَ مِنْ أَمَارَةٍ أَوْ عَلَامَةٍ أَوْ آيَةٍ فَقَالَ نَعَمْ الْخَسْفُ وَالرَّجْفُ وَإِرْسَالُ الشَّيَاطِينِ الْمُجَلِّبَةِ عَلَى النَّاسِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭১২
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک رات صحابہ کرام (رض) کو نبی کریم ﷺ نہ ملے حالانکہ صحابہ کرام (رض) کا معمول تھا کہ جب کسی جگہ پڑاؤ کرتے تھے تو نبی کریم ﷺ کو اپنے درمیان رکھتے تھے لوگ گھبرا گئے اور یہ گمان کرنے لگے کہ شاید اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ہمارے علاوہ کچھ اور ساتھیوں کا انتخاب فرما لیا ہے ابھی وہ انہی تفکرات میں غلطاں و بیچاں تھے کہ نبی کریم ﷺ آتے ہوئے دکھائی دیئے لوگوں نے خوشی سے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہم تو ڈر ہی گئے تھے کہ کہیں اللہ نے ہمارے علاوہ آپ کے لئے کچھ اور ساتھیوں کا انتخاب نہ فرما لیا ہو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایسی بات نہیں ہے بلکہ تم دنیا و آخرت میں میرے ساتھی ہو بات در اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جگا کر فرمایا اے محمد ! ﷺ میں نے جو بھی نبی یا رسول بھیجا اس نے ایک سوال کیا جو میں نے پورا کردیا اس لئے اے محمد ﷺ آپ بھی مجھ سے مانگئے آپ کو بھی دیا جائے گا میں نے عرض کیا کہ میری درخواست یہ ہے کہ قیامت کے دن میری امت کے حق میں مجھے سفارش کی اجازت دی جائے حضرت صدیق اکبر (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ اس شفاعت کا ثمرہ کیا ہوگا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں بارگاہ الٰہی میں عرض کروں گا کہ پروردگار ! میری وہ سفارش جو میں نے آپ کے پاس محفوظ کروائی تھی ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہاں ! پھر میرا پروردگار میری بقیہ امت کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دے گا۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ رَاشِدِ بْنِ دَاوُدَ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ رَوْحِ بْنِ زِنْبَاعٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ فَقَدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً أَصْحَابُهُ وَكَانُوا إِذَا نَزَلُوا أَنْزَلُوهُ أَوْسَطَهُمْ فَفَزِعُوا وَظَنُّوا أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى اخْتَارَ لَهُ أَصْحَابًا غَيْرَهُمْ فَإِذَا هُمْ بِخَيَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرُوا حِينَ رَأَوْهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشْفَقْنَا أَنْ يَكُونَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى اخْتَارَ لَكَ أَصْحَابًا غَيْرَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَيْقَظَنِي فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ نَبِيًّا وَلَا رَسُولًا إِلَّا وَقَدْ سَأَلَنِي مَسْأَلَةً أَعْطَيْتُهَا إِيَّاهُ فَاسْأَلْ يَا مُحَمَّدُ تُعْطَ فَقُلْتُ مَسْأَلَتِي شَفَاعَةٌ لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الشَّفَاعَةُ قَالَ أَقُولُ يَا رَبِّ شَفَاعَتِي الَّتِي اخْتَبَأْتُ عِنْدَكَ فَيَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى نَعَمْ فَيُخْرِجُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى بَقِيَّةَ أُمَّتِي مِنْ النَّارِ فَيَنْبِذُهُمْ فِي الْجَنَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭১৩
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا انسان کا گھر اس کا حرم ہوتا ہے جو آدمی تمہارے حرم میں (بلا اجازت) گھسنے کی کو شس کرے اسے مار ڈالو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْقَصَّابُ الْبَصْرِيُّ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الدَّارُ حَرَمٌ فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْكَ حَرَمَكَ فَاقْتُلْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭১৫
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
یحییٰ بن ابی کثیر (رح) کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہوا ہے نقباء کی تعداد بارہ ہے اور انہوں نے ان میں حضرت عبادہ (رض) کا نام بھی بیان کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ عَنْ حَرْبِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ يَقُولُ بَلَغَنِي أَنَّ النُّقَبَاءَ اثْنَا عَشَرَ فَسَمَّى عُبَادَةَ فِيهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭১৬
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ حضرت عبادہ بن صامت (رض) بن قیس بن اصرام بن فہر بن ثعلبہ بن غنم بن عوف بن خزرج، ان بارہ افراد میں سے تھے جنہوں نے نبی کریم ﷺ سے عقبہ کی بیعت اولیٰ میں شرکت کی تھی۔
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ أَصْرَمَ بْنِ فِهْرِ بْنِ ثَعْلَبَةَ فِي الِاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَقَبَةِ الْأُولَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭১৭
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت مقدام بن معدیکرب (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبادہ (رض) ابو درداء اور حارث بن معاویہ (رض) بیٹھے احادیث کا مذاکرہ کر رہے تھے حضرت ابو درداء (رض) حضرت عبادہ (رض) سے کہنے لگے عبادہ ! فلاں فلاں غزوے میں خمس کے حوالے سے نبی کریم ﷺ نے کیا باتیں کہی تھیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو اس غزوے میں مال غنیمت کے ایک اونٹ کو بطور سترہ سامنے کھڑے کر کے نماز پڑھائی جب سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو کھڑے ہو کر اس کی اون اپنی دو انگلیوں کے درمیان لے کر فرمایا یہ تمہارا مال غنیمت ہے اور خمس کے علاوہ اس میں میرا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا تمہارا ہے اور خمس بھی تم ہی پر لوٹا دیا جاتا ہے لہٰذا اگر کسی کے پاس سوئی دھاگہ بھی ہو تو وہ لے آئے یا اس سے بڑی اور چھوٹی چیز ہو تو وہ بھی واپس کر دے اور مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، کیونکہ خیانت دنیا و آخرت میں خائن کے لئے آگ اور شرمندگی کا سبب ہوگی اور لوگوں سے اللہ کے راستہ میں جہاد کیا کرو کہ خواہ وہ قریب ہوں یا دور اور اللہ کے حوالے سے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کیا کرو اور سفر و حضر میں اللہ کی حدود قائم رکھا کرو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو کیونکہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ انسان کو غم اور پریشانی سے نجات عطا فرماتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ أَبُو زَكَرِيَّا الْنَّصْرِيُّ الْحَرْبِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ أَنَّهُ جَلَسَ مَعَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَالْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْكِنْدِيِّ فَتَذَاكَرُوا حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لِعُبَادَةَ يَا عُبَادَةُ كَلِمَاتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ كَذَا فِي شَأْنِ الْأَخْمَاسِ فَقَالَ عُبَادَةُ قَالَ إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى فِي حَدِيثِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فِي غَزْوَتِهِمْ إِلَى بَعِيرٍ مِنْ الْمُقَسَّمِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنَاوَلَ وَبَرَةً بَيْنَ أُنْمُلَتَيْهِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ مِنْ غَنَائِمِكُمْ وَإِنَّهُ لَيْسَ لِي فِيهَا إِلَّا نَصِيبِي مَعَكُمْ إِلَّا الْخُمُسُ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ فَأَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمَخِيطَ وَأَكْبَرَ مِنْ ذَلِكَ وَأَصْغَرَ لَا تَغُلُّوا فَإِنَّ الْغُلُولَ نَارٌ وَعَارٌ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَجَاهِدُوا النَّاسَ فِي اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَرِيبَ وَالْبَعِيدَ وَلَا تُبَالُوا فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللَّهِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّ الْجِهَادَ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ عَظِيمٌ يُنَجِّي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ مِنْ الْهَمِّ وَالْغَمِّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ نَحْوَ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭১৮
حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی مرویات
حضرت عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے فیصلوں میں یہ فیصلہ بھی شامل ہے کہ کان کنی کرتے ہوئے مارے جانے والے کا خون ضائع گیا کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں گیا اور جانور کے زخم سے مرجانے والے کا خون رائیگاں گیا نیز نبی کریم ﷺ نے دفینے کے متعلق بیت المال کے لئے خمس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ نیز نبی کریم ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ درخت کی کھجوریں پیوندکاری کرنے والے کی ملکیت میں ہوں گی الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) شرط لگا دے۔ نیز نبی کریم ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ غلام کا مال اسے بیچنے والے آقا کی ملکیت تصور ہوگا۔ نیز نبی کریم ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ بچہ بستر والے کا ہوگا اور بدکار کیلئے پتھر ہوں گے۔ نیز نبی کریم ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ زمینوں اور مکانات میں شریک افراد کو حق شفعہ حاصل ہے۔ نیز نبی کریم ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ حمل بن مالک (رض) کو ان کی اس بیوی کی وراثت ملے گی جسے دوسری عورت نے مار دیا تھا۔ نیز نبی کریم ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ پیٹ کے بچے کو مار ڈالنے کی صورت میں قاتل پر ایک غلام یا باندی واجب ہوگی جس کا وارث مقتولہ عورت کا شوہر اور بیٹے ہوں گے حمل بن مالک (رض) کے یہاں دونوں بیویوں سے اولاد تھی تو قاتلہ کے باپ نے جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا " نبی کریم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میں اس بچے کا تاوان کیونکر ادا کروں جو چیخا نہ چلایا " جس نے کچھ کھایا اور نہ پیا ایسی چیزوں کو تو چھوڑ دیا جاتا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ کاہنوں میں سے ہے (جو مسجع اور مقفی عبارتیں بولتا ہے ) نیز راستے کے درمیان وہ کشادہ حصہ جہاں مالکان اپنی تعمیر بڑھانا چاہتے ہیں اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا کہ اس میں سے راستے کے لئے سات گز (چوڑائی) کی جگہ چھوڑ دی جائے اور اس راستے کو " میتاء " کا نام دیا جائے۔ (مردہ بےآباد ) نیز ایک دو یا تین باغات میں جن کے حقوق میں لوگوں کا اختلاف ہوگیا یہ فیصلہ فرمایا کہ ان میں سے ہر باغ یا درخت کی شاخیں جہاں تک پہنچتی ہیں وہ جگہ اس باغ میں شامل ہوگئی۔ نیز باغات میں پانی کی نالیوں کے متعلق یہ فیصلہ کہ پہلے والا اپنی زمین کو دوسرے والے سے پہلے سیراب کرے گا اور پانی کو ٹخنوں تک آنے دے گا اس کے بعد اپنے ساتھ والے کے لئے پانی چھوڑ دے گا یہاں تک کہ اسی طرح باغات ختم ہوجائیں یا پانی ختم ہوجائے۔ نیزیہ فیصلہ فرمایا کہ عورت اپنے مال میں سے کوئی چیز اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو نہ دے۔ نیز یہ فیصلہ فرمایا کہ دو وادیوں کو میراث میں ایک چھٹا حصہ برابر برابر تقسیم ہوگا۔ نیز یہ فیصلہ فرمایا کہ جو شخص کسی غلام میں اپنے حصے کو ختم کر کے اسے آزاد کرتا ہے اور اس کے پاس مال ہو تو اس پر ضروری ہے کہ اسے مکمل آزادی دلائے۔ نیز یہ فیصلہ فرمایا کہ کوئی شخص ضرر اٹھائے اور نہ کسی کو ضرر پہنچائے۔ نیز یہ فیصلہ فرمایا کہ ظالم کی رگ کا کوئی حق نہیں ہے۔ نیز یہ فیصلہ فرمایا کہ شہر والے کھجور کے باغات میں کنوئیں کا جمع شدہ پانی لگانے سے نہیں روکے جائیں گے۔ نیز یہ فیصلہ فرمایا کہ دیہات والوں کو زائد پانی لینے سے نہیں روکا جائے گا کہ اس کے ذریعے زائد گھاس سے روکا جاسکے۔ نیز یہ فیصلہ فرمایا کہ دیت کبری مغلظہ تیس بنت لبون تیس حقوق اور چالیس حاملہ اونٹنیوں پر مشتمل ہوگی۔ نیزیہ فیصلہ فرمایا کہ دیت صغری تیس بنت لبون تیس حقوق اور بیس بنت مخاض اور بیس مذکر ابن مخاض پر مشتمل ہوگی۔ نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعدجب اونٹ مہنگے ہوگئے اور درہم ایک معمولی چیز بن کر رہ گئے تو حضرت عمر فاروق (رض) نے دیت کے اونٹوں کی قیمت چھ ہزار درہم مقرر فرمادی جس میں ہر اونٹ کے بدلے میں ایک اوقیہ چاندی کا حساب رکھا گیا تھا کچھ عرصے بعد اونٹ مزید مہنگے ہوگئے اور دراہم مزید کم حیثیت ہوگئے تو حضرت عمر (رض) نے ہر اونٹ کے دو اوقیے حساب سے دو ہزار درہم کا اضافہ کرایا کچھ عرصے بعد مزید مہنگے ہوگئے تو حضرت عمر (رض) نے ہر اونٹ کے تین اوقیے کے حساب سے دیت کی رقم مکمل بارہ ہزار درہم مقرر کردی جس میں ایک تہائی دیت کا اضافہ اشہر حرم میں ہوا اور دوسری تہائی کا اضافہ بلد حرام (مکہ مکرمہ) میں ہوا اور یوں حرمین کی دیت مکمل بیس ہزار درہم ہوگئی اور کہا جاتا تھا کہ دیہاتیوں سے دیت میں جانور بھی لئے جاسکتے ہیں انہیں سونے اور چاندی کا مکلف نہ بنایا جائے اسی طرح ہر قوم سے اس کی قیمت کے برابر مالیت کی چیزیں لی جاسکتی ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند کے اختلافات کے ساتھ مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُبَادَةَ قَالَ إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمَعْدِنَ جُبَارٌ وَالْبِئْرَ جُبَارٌ وَالْعَجْمَاءَ جَرْحُهَا جُبَارٌ وَالْعَجْمَاءُ الْبَهِيمَةُ مِنْ الْأَنْعَامِ وَغَيْرِهَا وَالْجُبَارُ هُوَ الْهَدَرُ الَّذِي لَا يُغَرَّمُ وَقَضَى فِي الرِّكَازِ الْخُمُسَ وَقَضَى أَنَّ تَمْرَ النَّخْلِ لِمَنْ أَبَّرَهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَقَضَى أَنَّ مَالَ الْمَمْلُوكِ لِمَنْ بَاعَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَقَضَى أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرَ وَقَضَى بِالشُّفْعَةِ بَيْنَ الشُّرَكَاءِ فِي الْأَرَضِينَ وَالدُّورِ وَقَضَى لِحَمَلِ بْنِ مَالِكٍ الْهُذَلِيِّ بِمِيرَاثِهِ عَنْ امْرَأَتِهِ الَّتِي قَتَلَتْهَا الْأُخْرَى وَقَضَى فِي الْجَنِينِ الْمَقْتُولِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ قَالَ فَوَرِثَهَا بَعْلُهَا وَبَنُوهَا قَالَ وَكَانَ لَهُ مِنْ امْرَأَتَيْهِ كِلْتَيْهِمَا وَلَدٌ قَالَ فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أُغْرِمَ مَنْ لَا صَاحَ وَلَا اسْتَهَلَّ وَلَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ فَمِثْلُ ذَلِكَ بَطَلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا مِنْ الْكُهَّانِ قَالَ وَقَضَى فِي الرَّحَبَةِ تَكُونُ بَيْنَ الطَّرِيقِ ثُمَّ يُرِيدُ أَهْلُهَا الْبُنْيَانَ فِيهَا فَقَضَى أَنْ يُتْرَكَ لِلطَّرِيقِ فِيهَا سَبْعُ أَذْرُعٍ قَالَ وَكَانَ تِلْكَ الطَّرِيقُ سُمِّيَ الْمِيتَاءُ وَقَضَى فِي النَّخْلَةِ أَوْ النَّخْلَتَيْنِ أَوْ الثَّلَاثِ فَيَخْتَلِفُونَ فِي حُقُوقِ ذَلِكَ فَقَضَى أَنَّ لِكُلِّ نَخْلَةٍ مِنْ أُولَئِكَ مَبْلَغَ جَرِيدَتِهَا حَيِّزٌ لَهَا وَقَضَى فِي شُرْبِ النَّخْلِ مِنْ السَّيْلِ أَنَّ الْأَعْلَى يَشْرَبُ قَبْلَ الْأَسْفَلِ وَيُتْرَكُ الْمَاءُ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَاءُ إِلَى الْأَسْفَلِ الَّذِي يَلِيهِ فَكَذَلِكَ يَنْقَضِي حَوَائِطُ أَوْ يَفْنَى الْمَاءُ وَقَضَى أَنَّ الْمَرْأَةَ لَا تُعْطِي مِنْ مَالِهَا شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا وَقَضَى لِلْجَدَّتَيْنِ مِنْ الْمِيرَاثِ بِالسُّدُسِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوَاءِ وَقَضَى أَنَّ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا فِي مَمْلُوكٍ فَعَلَيْهِ جَوَازُ عِتْقِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ وَقَضَى أَنْ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ وَقَضَى أَنَّهُ لَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ وَقَضَى بَيْنَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي النَّخْلِ لَا يُمْنَعُ نَفْعُ بِئْرٍ وَقَضَى بَيْنَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّهُ لَا يُمْنَعُ فَضْلُ مَاءٍ لِيُمْنَعَ فَضْلُ الْكَلَإِ وَقَضَى فِي دِيَةِ الْكُبْرَى الْمُغَلَّظَةِ ثَلَاثِينَ ابْنَةَ لَبُونٍ وَثَلَاثِينَ حِقَّةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً وَقَضَى فِي دِيَةِ الصُّغْرَى ثَلَاثِينَ ابْنَةَ لَبُونٍ وَثَلَاثِينَ حِقَّةً وَعِشْرِينَ ابْنَةَ مَخَاضٍ وَعِشْرِينَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُورًا ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَانَتْ الدَّرَاهِمُ فَقَوَّمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِبِلَ الْمَدِينَةِ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ حِسَابُ أُوقِيَّةٍ لِكُلِّ بَعِيرٍ ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ وَهَانَتْ الْوَرِقُ فَزَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَلْفَيْنِ حِسَابَ أُوقِيَّتَيْنِ لِكُلِّ بَعِيرٍ ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ وَهَانَتْ الدَّرَاهِمُ فَأَتَمَّهَا عُمَرُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا حِسَابَ ثَلَاثِ أَوَاقٍ لِكُلِّ بَعِيرٍ قَالَ فَزَادَ ثُلُثُ الدِّيَةِ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَثُلُثٌ آخَرُ فِي البَلَدِ الْحَرَامِ قَالَ فَتَمَّتْ دِيَةُ الْحَرَمَيْنِ عِشْرِينَ أَلْفًا قَالَ فَكَانَ يُقَالُ يُؤْخَذُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ مِنْ مَاشِيَتِهِمْ لَا يُكَلَّفُونَ الْوَرِقَ وَلَا الذَّهَبَ وَيُؤْخَذُ مِنْ كُلِّ قَوْمٍ مَا لَهُمْ قِيمَةُ الْعَدْلِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ عُبَادَةَ قَالَ إِنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ بِطُولِهِ غَيْرَ أَنَّهُمَا اخْتَلَفَا فِي الْإِسْنَادِ فَقَالَ أَبُو كَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ عُبَادَةَ قَالَ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ الصَّلْتُ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ عَنْ عُبَادَةَ أَنَّ مِنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
তাহকীক: