আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩০ টি

হাদীস নং: ২২০৬৯
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ہمیں اپنے گھروں میں مسجدیں بنانے اور انہیں صاف ستھرا رکھنے کا حکم دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ جَدِّهِ عُرْوَةَ عَمَّنْ حَدَّثَهُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا أَنْ نَصْنَعَ الْمَسَاجِدَ فِي دُورِنَا وَأَنْ نُصْلِحَ صَنْعَتَهَا وَنُطَهِّرَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২০৭০
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہارے غلام بھی تمہارے بھائی ہیں تم ان کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو جن کاموں سے تم مغلوب ہوجاؤ ان میں ان سے مدد لیا کرو اور جن کاموں سے وہ مغلوب ہوجائیں تو تم ان کی مدد کیا کرو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَلَامِ بْنِ عَمْرٍو الْيَشْكُرِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِخْوَانُكُمْ فَأَصْلِحُوا إِلَيْهِمْ وَاسْتَعِينُوهُمْ عَلَى مَا غَلَبَكُمْ وَأَعِينُوهُمْ عَلَى مَا غَلَبَهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২০৭১
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
قبیلہ اسلم کے ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ وہ لوگ نبی کریم ﷺ کے ہمراہ مغرب کی نماز پڑھ کر جب مدینہ منورہ کے کونے میں اپنے گھر کی طرف واپس ہوتے تو راستے میں اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھ سکتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ حَسَّانَ بْنَ بِلَالٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَرْجِعُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَرْتَمُونَ يُبْصِرُونَ وَقْعَ سِهَامِهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২০৭২
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک انصاری (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو نماز میں سو مرتبہ یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے میرے پروردگار ! مجھے معاف فرما اور میری توبہ کو قبول فرما بیشک تو توبہ قبول کرنے والا بےانتہاء مغفرت کرنے والا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ زَاذَانَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةٍ وَهُوَ يَقُولُ رَبِّ اغْفِرْ لِي قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ مِائَةَ مَرَّةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২০৭৩
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
اشعث بن سلیم کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کے دور خلافت میں میں نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عکاظ کے میلے میں ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا لوگو ! لا الہ الا اللہ کہہ لو کامیاب ہوجاؤ گے اور اس کے پیچھے پیچھے ایک آدمی یہ کہتا جا رہا ہے کہ یہ شخص تمہیں تمہارے معبودوں سے برگشتہ کرنا چاہتا ہے بعد میں پتہ چلا کہ وہ نبی کریم ﷺ اور ابوجہل تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا فِي إِمْرَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا فِي سُوقِ عُكَاظٍ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا وَرَجُلٌ يَتْبَعُهُ يَقُولُ إِنَّ هَذَا يُرِيدُ أَنْ يَصُدَّكُمْ عَنْ آلِهَتِكُمْ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو جَهْلٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২০৭৪
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف میں " معروف " نام کے ایک صاحب تھے جن کی ایک آنکھ کام نہیں کرتی تھی ان کا اصل نام زہیر بن عثمان تھا وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ولیمہ برحق ہے دوسرے دن کھلانا نیکی ہے اور تیسرے دن بھی کھلانا شہرت اور دکھاوے کے لئے ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ أَعْوَرَ يُقَالُ لَهُ مَعْرُوفٌ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلِيمَةُ حَقٌّ وَالْيَوْمُ الثَّانِي مَعْرُوفٌ وَالْيَوْمُ الثَّالِثُ سُمْعَةٌ وَرِيَاءٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২০৭৫
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ نماز ظہر میں نبی کریم ﷺ کی قرأت کا پتہ آپ ﷺ کی ڈاڑھی مبارک ہلنے سے ہوتا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَتْ تُعْرَفُ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ بِتَحْرِيكِ لِحْيَتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২০৭৬
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
عبداللہ بن محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ہمراہ سسرالی رشتہ داروں میں " جو انصاری تھے " گیا نماز کا وقت ہوا تو میزبان نے کہا اے باندی ! وضو کا پانی میرے پاس لاؤ تاکہ میں نماز پڑھ کر راحت حاصل کروں جب انہوں نے دیکھا کہ ہمیں اس بات پر تعجب ہو رہا ہے تو وہ کہنے لگے کہ میں نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اسے بلال ! کھڑے ہو اور ہمیں نماز کے ذریعے راحت مہیا کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى صِهْرٍ لَنَا مِنْ الْأَنْصَارِ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَقَالَ يَا جَارِيَةُ ائْتِينِي بِوَضُوءٍ لَعَلِّي أُصَلِّي فَأَسْتَرِيحَ فَرَآنَا أَنْكَرْنَا ذَاكَ عَلَيْهِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قُمْ يَا بِلَالُ فَأَرِحْنَا بِالصَّلَاةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২০৭৭
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب تک حبشی تمہیں چھوڑے رہیں تم انہیں چھوڑے رہو کیونکہ خانہ کعبہ کا خزانہ حبشیوں میں سے ایک چھوٹی پنڈلیوں والا آدمی نکالے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اتْرُكُوا الْحَبَشَةَ مَا تَرَكُوكُمْ فَإِنَّهُ لَا يَسْتَخْرِجُ كَنْزَ الْكَعْبَةِ إِلَّا ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنْ الْحَبَشَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২০৭৮
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک انصاری صحابی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ایک شخص کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے جو زخمی ہوگیا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بنوفلاں کے طبیب کو بلا کر اسے دکھاؤ لوگوں نے اسے بلایا تو وہ آیا اور لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ ! ﷺ کیا علاج اسے کچھ فائدہ دے سکتا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سبحان اللہ ! اللہ نے زمین میں کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی شفاء نہ رکھی ہو۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ عَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا بِهِ جُرْحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْعُوا لَهُ طَبِيبَ بَنِي فُلَانٍ قَالَ فَدَعَوْهُ فَجَاءَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَيُغْنِي الدَّوَاءُ شَيْئًا فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَهَلْ أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ دَاءٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا جَعَلَ لَهُ شِفَاءً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২০৭৯
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
حضرت ذو مخمر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب رومی تم سے امن وامان کی صلح کرلیں گے پھر تم ان کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ دشمن سے جنگ کرو گے تم اس میں کامیاب ہو کر صحیح سالم، مال غنیمت کے ساتھ واپس آؤ گے جب تم " ذی تلول " نامی جگہ پر پہنچو گے تو ایک عیسائی صلیب بلند کر کے کہے گا کہ صیلب غالب آگئی اس پر ایک مسلمان کو غصہ آئے گا اور وہ کھڑا ہو کر اسے جواب دے گا وہیں سے رومی عہد شکنی کر کے جنگ کی تیاری کرنے لگیں گے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ ذِي مِخْمَرٍ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَيُصَالِحُكُمْ الرُّومُ صُلْحًا آمِنًا ثُمَّ تَغْزُونَ وَهُمْ عَدُوًّا فَتُنْصَرُونَ وَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ النَّصْرَانِيَّةِ صَلِيبًا فَيَقُولُ غَلَبَ الصَّلِيبُ فَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَيَقُومُ إِلَيْهِ فَيَدُقُّهُ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ وَيَجْمَعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২০৮০
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
عبداللہ بن خبیب اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مجلس میں تھے کہ نبی کریم ﷺ تشریف لے آئے سر مبارک پر پانی کے اثرات تھے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہم آپ کو بہت خوش دیکھ رہے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں ! پھر لوگ مالداری کا تذکرہ کرنے لگے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ سے ڈرنے والے کے لئے مالداری میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ اللہ سے ڈرنے والے کے لئے مالداری سے زیادہ بہتر چیز صحت ہے اور دل کا خوش ہونا بھی نعمت ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ مَدِينِيٌّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ قَالَ كُنَّا فِي مَجْلِسٍ فَطَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى رَأْسِهِ أَثَرُ مَاءٍ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرَاكَ طَيِّبَ النَّفْسِ قَالَ أَجَلْ قَالَ ثُمَّ خَاضَ الْقَوْمُ فِي ذِكْرِ الْغِنَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا بَأْسَ بِالْغِنَى لِمَنْ اتَّقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَالصِّحَّةُ لِمَنْ اتَّقَى اللَّهَ خَيْرٌ مِنْ الْغِنَى وَطِيبُ النَّفْسِ مِنْ النِّعَمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২০৮১
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں میں نے ایک آدمی کو دیکھا جسے لوگوں نے اپنے حلقے میں گھیر رکھا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (احادیث بیان کر رہا تھا) تو ایک صحابی (رض) نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے بعد ایک گمراہ کن کذاب آئے گا جس کے سر میں پیچھے سے راستے بنے ہوں گے اور وہ یہ دعویٰ کرے گا کہ میں تمہارا رب ہوں سو جو شخص یہ کہہ دے کہ تو ہمارا رب نہیں ہے ہمارا رب تو اللہ ہے ہم اسی پر توکل کرتے اور رجوع کرتے ہیں اور ہم تیرے شر سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں تو دجال کو اس پر تسلط حاصل نہیں ہوگا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلًا بِالْمَدِينَةِ وَقَدْ طَافَ النَّاسُ بِهِ وَهُوَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ بَعْدِكُمْ الْكَذَّابَ الْمُضِلَّ وَإِنَّ رَأْسَهُ مِنْ بَعْدِهِ حُبُكٌ حُبُكٌ حُبُكٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَإِنَّهُ سَيَقُولُ أَنَا رَبُّكُمْ فَمَنْ قَالَ لَسْتَ رَبَّنَا لَكِنَّ رَبَّنَا اللَّهُ عَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْهِ أَنَبْنَا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكَ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَلَيْهِ سُلْطَانٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২০৮২
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
بنوسلیم کے ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک کی انگلیوں پر یہ چیزیں شمار کیں سبحان اللہ نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھر دے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ أَنَّهُ قَالَ لَقِيتُ شَيْخًا مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ بِالْكُنَاسَةِ فَحَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدَّ خَمْسًا فِي يَدِهِ أَوْ فِي يَدِي فَقَالَ التَّسْبِيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ وَالتَّكْبِيرُ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ وَالطُّهُورُ نِصْفُ الْإِيمَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২০৮৩
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
احنف کہتے کہ ایک مرتبہ میں بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا کہ بنوسلیم کا ایک آدمی مجھے ملا اور کہنے لگا کیا میں آپ کو خوشخبری نہ سناؤں ؟ میں نے کہا کیوں نہیں اس نے کہا کیا تمہیں وہ وقت یاد ہے جب نبی کریم ﷺ نے مجھے آپ کی قوم بنو سعد کے پاس اسلام کی دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا اور آپ نے کہا تھا کہ بخدا ! انہوں نے اچھی بات کہی اور اچھی بات ہی سنائی جب میں واپس بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا تو میں نے نبی کریم ﷺ کو آپ کے اس قول کے متعلق بتایا تھا اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا اے اللہ ! احنف کی مغفرت فرما یہ سن کر انہوں نے کہا کہ میرے پاس اس سے زیادہ پر امید کوئی چیز نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الْأَحْنَفِ قَالَ بَيْنَمَا أَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالَ أَلَا أُبَشِّرُكَ قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ أَتَذْكُرُ إِذْ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِكَ بَنِي سَعْدٍ أَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ قَالَ فَقُلْتُ أَنْتَ وَاللَّهِ مَا قَالَ إِلَّا خَيْرًا وَلَا أَسْمَعُ إِلَّا حُسْنًا فَإِنِّي رَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِكَ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَحْنَفِ قَالَ فَمَا أَنَا لِشَيْءٍ أَرْجَى مِنْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২০৮৪
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
قریظہ کے دو بیٹوں سے مروی ہے کہ غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر ہمیں نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو یہ فیصلہ ہوا کہ جس کے زیر ناف بال اگ آئے ہیں اسے قتل کردیا جائے اور جس کے زیر ناف بال نہیں آگے اس کا راستہ چھوڑ دیا جائے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَأَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ عَنْ كَثِيرِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنَا قُرَيْظَةَ أَنَّهُمْ عُرِضُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ قُرَيْظَةَ فَمَنْ كَانَ نَبَتَتْ عَانَتُهُ قُتِلَ وَمَنْ لَا تُرِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২০৮৫
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
احنف بن قیس (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے چچا زاد بھائی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ مجھے کوئی مختصر نصیحت فرمائیے شاید میری عقل میں آجائے نبی کریم ﷺ نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو، اس نے کئی مرتبہ اپنی درخواست دہرائی اور نبی کریم ﷺ نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ غصہ نہ کیا کرو۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَمٍّ لَهُ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قُلْ لِي قَوْلًا يَنْفَعُنِي وَأَقْلِلْ لَعَلِّي أَعِيهِ قَالَ لَا تَغْضَبْ فَعَادَ لَهُ مِرَارًا كُلُّ ذَلِكَ يُرْجِعُ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَغْضَبْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২০৮৬
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
عبداللہ یشکری (رح) کہتے ہیں کہ جب کوفہ کی جامع مسجد پہلی مرتبہ تعمیر ہوئی تو میں وہاں گیا اس وقت وہاں کھجوروں کے درخت بھی تھے اور اس کی دیواریں ریت جیسی مٹی کی تھیں وہاں ایک صاحب یہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ مجھے نبی کریم ﷺ کے حجۃ الوادع کی خبر ملی تو میں نے اپنے اونٹوں میں سے ایک سواری کے قابل اونٹ چھانٹ کر نکالا اور روانہ ہوگیا یہاں تک کہ عرفہ کے راستے میں ایک جگہ پہنچ کر بیٹھ گیا جب نبی کریم ﷺ سوار ہوئے تو میں نے آپ ﷺ کو آپ کے حلیہ کی وجہ سے پہچان لیا۔ اسی دوران ایک آدمی جو ان سے آگے تھا کہنے لگا کہ سواریوں کے راستے سے ہٹ جاؤ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ اسے کوئی کام ہو، چناچہ میں نبی کریم ﷺ کے اتنا قریب ہوا کہ دونوں سواریوں کے سر ایک دوسرے کے قریب آگئے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جن ہم سے نجات کا سبب بن جائے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا واہ واہ ! میں نے خطبہ میں اختصار سے کام لیا تھا اور تم نے بہت عمدہ سوال کیا اگر تم سمجھ دار ہوئے تو تم صرف اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا بیت اللہ کا حج کرنا، ماہ رمضان کے روزے رکھنا اب سواریوں کے لئے راستہ چھوڑ دو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي وَالِدِي قَالَ غَدَوْتُ لِحَاجَةٍ فَإِذَا أَنَا بِجَمَاعَةٍ فِي السُّوقِ فَمِلْتُ إِلَيْهِمْ فَإِذَا رَجُلٌ يُحَدِّثُهُمْ وَصْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَصْفَ صِفَتِهِ قَالَ فَعَرَضْتُ لَهُ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ بَيْنَ عَرَفَاتٍ وَمِنًى فَرُفِعَ لِي فِي رَكْبٍ فَعَرَفْتُهُ بِالصِّفَةِ قَالَ فَهَتَفَ بِي رَجُلٌ يَا أَيُّهَا الرَّاكِبُ خَلِّ عَنْ وُجُوهِ الرِّكَابِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَرُوا الرَّاكِبَ فَأَرِبٌ مَا لَهُ قَالَ فَجِئْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِزِمَامِ النَّاقَةِ أَوْ خِطَامِهَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي أَوْ خَبِّرْنِي بِعَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنْ النَّارِ قَالَ أَوَذَلِكَ أَعْمَلَكَ أَوْ أَنْصَبَكَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاعْقِلْ إِذًا أَوْ افْهَمْ تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَيْتَ وَتَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا تُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْكَ وَتَكْرَهُ لِلنَّاسِ مَا تَكْرَهُ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْكَ خَلِّ زِمَامَ النَّاقَةِ أَوْ خِطَامَهَا قَالَ أَبُو قَطَنٍ فَقُلْتُ لَهُ سَمِعْتَهُ مِنْهُ أَوْ سَمِعْتَ مِنْ الْمُغِيرَةِ قَالَ نَعَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২০৮৭
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ابوعمران (رح) کہتے ہیں کہ میں نے جندب سے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) سے بیعت کرلی ہے، یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ شام چلوں، جندب نے کہا مت جاؤ میں نے کہا کہ وہ مجھے ایسا کرنے نہیں دیتے، انہوں نے کہا کہ مالی فدیہ دے کر بچ جاؤ میں نے کہا کہ وہ اس کے علاوہ کوئی بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میں ان کے ساتھ چل کر تلوار کے جوہر دکھاؤں، اس پر جندب کہنے لگے کہ فلاں آدمی نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہو کر عرض کرے گا پروردگار ! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا ؟ چناچہ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تو نے کس بناء پر اسے قتل کیا تھا ؟ وہ عرض کرے گا کہ فلاں شخص کی حکومت کی وجہ سے اس لئے تم اس سے بچو۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو عِمْرَانَ قَالَ قُلْتُ لِجُنْدُبٍ إِنِّي بَايَعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى أَنْ أُقَاتِلَ أَهْلَ الشَّامِ قَالَ فَلَعَلَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَقُولَ أَفْتَانِي جُنْدُبٌ أَوَأَفْتَانِي جُنْدَبٌ قَالَ قُلْتُ مَا أُرِيدُ ذَاكَ إِلَّا لِنَفْسِي قَالَ افْتَدِ بِمَالِكَ قُلْتُ إِنَّهُ لَا يُقْبَلُ مِنِّي قَالَ إِنِّي قَدْ كُنْتُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا حَزَوَّرًا وَإِنَّ فُلَانًا أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجِيءُ الْمَقْتُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُتَعَلِّقًا بِالْقَاتِلِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ سَلْهُ فِيمَ قَتَلَنِي فَيَقُولُ فِي مُلْكِ فُلَانٍ فَاتَّقِ اللَّهَ لَا تَكُونُ ذَلِكَ الرَّجُلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২০৮৮
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
عکرمہ بن خالد (رض) کے دادا سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ تبوک کے موقع پر ارشاد فرمایا جب کسی علاقے میں طاعون کی وباء پھیل پڑے اور تم وہاں پہلے سے موجود ہو تو اب وہاں سے نہ نکلو اور اگر تمہاری غیر موجودگی میں یہ وباء پھیلے تو تم اس علاقے میں مت جاؤ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا وَقَعَ الطَّاعُونُ بِأَرْضٍ وَلَسْتُمْ بِهَا فَلَا تَهْجُمُوا عَلَيْهَا وَإِذَا وَقَعَ بِهَا وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا
tahqiq

তাহকীক: