আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০ টি
হাদীস নং: ২২১০৯
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ابو عمران (رح) کہتے ہیں کہ میں نے جندب سے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کی بیعت کرلی ہے یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ شام چلوں جندب نے کہا مت جاؤ میں نے کہا کہ وہ مجھے ایسا کرنے نہیں دیتے، انہوں نے کہا کہ مالی فدیہ دے کر بچ جاؤ میں نے کہا کہ وہ اس کے علاوہ کوئی اور بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میں ان کے ساتھ چل کر تلوار کے جوہر دکھاؤں اس پر جندب کہنے لگے کہ فلاں آدمی نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہو کر عرض کرے گا پروردگار ! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا ؟ چناچہ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تو نے کس بناء پر اسے قتل کیا تھا ؟ وہ عرض کرے گا کہ فلاں شخص کی حکومت کی وجہ سے، اس لئے تم اس سے بچو۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ قُلْتُ لِجُنْدُبٍ إِنِّي قَدْ بَايَعْتُ هَؤُلَاءِ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ وَهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُمْ إِلَى الشَّامِ فَقَالَ أَمْسِكْ عَلَيْكَ فَقُلْتُ إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ فَقَالَ افْتَدِ بِمَالِكَ قَالَ قُلْتُ إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ إِلَّا أَنْ أَضْرِبَ مَعَهُمْ بِالسَّيْفِ فَقَالَ جُنْدُبٌ حَدَّثَنِي فُلَانٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ فَيَقُولُ عَلَامَ قَتَلْتَهُ قَالَ فَيَقُولُ قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ قَالَ فَقَالَ جُنْدُبٌ فَاتَّقِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১১০
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا اور مسلسل روزہ رکھتے رہے پھر نبی کریم ﷺ نے مقام کدید پہنچ کر پانی کا پیالہ منگوایا اور اسے نوش فرما لیا اور لوگوں نے بھی روزہ افطار کرلیا یہ فتح مکہ کا سال تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْكُبُ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ بِالسُّقْيَا إِمَّا مِنْ الْحَرِّ وَإِمَّا مِنْ الْعَطَشِ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ صَائِمًا حَتَّى أَتَى كَدِيدًا ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَأَفْطَرَ وَأَفْطَرَ النَّاسُ وَهُوَ عَامُ الْفَتْحِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১১১
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے سال نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو ترک صیام کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ اپنے دشمن کے لئے قوت حاصل کرو لیکن خود نبی کریم ﷺ نے روزہ رکھ لیا راوی کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا اسی دوران کسی شخص نے بتایا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ جب لوگوں نے آپ کو روزہ رکھے ہوئے دیکھا تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا چناچہ نبی کریم ﷺ نے مقام کدید پہنچ کر پانی کا پیالہ منگوایا اور اسے نوش فرمالیا اور لوگوں نے بھی روزہ افطار کرلیا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ فِي سَفَرِهِ عَامَ الْفَتْحِ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالْإِفْطَارِ وَقَالَ إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ عَدُوَّكُمْ فَتَقَوَّوْا فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَامُوا لِصِيَامِكَ فَلَمَّا أَتَى الْكَدِيدَ أَفْطَرَ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ الْحَرِّ وَهُوَ صَائِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১১২
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
بنومالک بن کنانہ کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ذوالمجاز نامی بازار میں چکر لگاتے ہوئے دیکھا نبی کریم ﷺ فرما رہے تھے لوگو ! لا الہ اللہ کا اقرار کرلو تم کامیاب ہوجاؤ گے اور ابوجہل مٹی اچھالتے ہوئے کہتا جاتا تھا لوگو ! یہ تمہیں تمہارے دین سے بہکا نہ دے یہ چاہتا ہے کہ تم اپنے معبودوں کو اور لات وعزیٰ کو چھوڑ دو لیکن نبی کریم ﷺ اس کی طرف توجہ نہ فرماتے تھے ہم نے ان سے کہا کہ ہمارے سامنے نبی کریم ﷺ کا حلیہ بیان کیجئے انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے دو سرخ چادریں زیب تن فرما رکھی تھیں درمیانہ قد تھا جسم گوشت سے بھر پور تھا چہرہ نہایت حسین و جمیل تھا بال انتہائی کالے سیاہ تھے انتہائی اجلی سفید رنگت تھی اور گھنے بال تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ أَشْعَثَ قَالَ وَحَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ كِنَانَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ يَتَخَلَّلُهَا يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا قَالَ وَأَبُو جَهْلٍ يَحْثِي عَلَيْهِ التُّرَابَ وَيَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَغُرَّنَّكُمْ هَذَا عَنْ دِينِكُمْ فَإِنَّمَا يُرِيدُ لِتَتْرُكُوا آلِهَتَكُمْ وَلِتَتْرُكُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى قَالَ وَمَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْنَا انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ بُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ مَرْبُوعٌ كَثِيرُ اللَّحْمِ حَسَنُ الْوَجْهِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ أَبْيَضُ شَدِيدُ الْبَيَاضِ سَابِغُ الشَّعْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১১৩
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
اسود بن ہلال اپنی قوم کے ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ جو حضرت عمر فاروق (رض) کے دور خلافت میں کہا کرتا تھا حضرت عثمان غنی (رض) اس وقت تک فوت نہیں ہوں گے جب تک خلیفہ نہیں بن جاتے ہم اس سے پوچھتے کہ تمہیں یہ بات کہاں سے معلوم ہوئی ؟ تو وہ جواب دیتا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ایک مرتبہ یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ آج رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے تین صحابہ کرام (رض) کا وزن کیا گیا ہے چناچہ حضرت ابوبکر (رض) کا وزن کیا گیا تو ان کا پلڑا جھک گیا پھر حضرت عمر (رض) کا وزن کیا گیا تو ان کا پلڑا بھی جھک گیا پھر حضرت عثمان کا وزن کیا گیا تو ہمارے ساتھی کا وزن کم رہا اور وہ نیک آدمی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ أَشْعَثَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لَا يَمُوتُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ حَتَّى يُسْتَخْلَفَ قُلْنَا مِنْ أَيْنَ تَعْلَمُ ذَلِكَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ ثَلَاثَةً مِنْ أَصْحَابِي وُزِنُوا فَوُزِنَ أَبُو بَكْرٍ فَوَزَنَ ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ فَوَزَنَ ثُمَّ وُزِنَ عُثْمَانُ فَنَقَصَ وَهُوَ صَالِحٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১১৪
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک شیخ سے " جنہوں نے نبی کریم ﷺ کو پایا ہے " مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ سفر پر نکلا تو نبی کریم ﷺ کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو سورت کافرون کی تلاوت کر رہا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ تو شرک سے بری ہوگیا پھر دوسرے آدمی کو دیکھا وہ سورت اخلاص کی تلاوت کر رہا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کی برکت سے اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ عَنْ شَيْخٍ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَمَرَّ بِرَجُلٍ يَقْرَأُ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ فَقَالَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ بَرِئَ مِنْ الشِّرْكِ قَالَ وَإِذَا آخَرُ يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১১৫
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک دن فرمایا کہ آج تمہارے بھائی (شاہ حبشہ نجاشی) کا انتقال ہوگیا ہے آؤ صفیں باندھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ فُلَانِ ابْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَخَاكُمْ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ فَصَلُّوا عَلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১১৬
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
حضرت کروم بن سفیان (رض) سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس منت کا حکم پوچھا جو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں مانی تھی ؟ نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ تم نے وہ منت کسی بت یا پتھر کے لئے مانی تھی ؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ اللہ کے لئے مانی تھی نبی کریم ﷺ نے فرمایا پھر تم نے اللہ کے لئے جو منت مانی تھی اسے پورا کرو بوانہ نامی جگہ پر جانور ذبح کردو اور اپنی منت پوری کرلو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اس بچی کی والدہ نے پیدل چلنے کی منت مانی تھی کیا یہ بچی اس کی طرف سے چل سکتی ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں !
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنِ ابْنَةِ كُرْدُمَةَ عَنْ أَبِيهَا أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ثَلَاثَةً مِنْ إِبِلِي قَالَ إِنْ كَانَ عَلَى جَمْعٍ مِنْ جَمْعِ الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ عَلَى عِيدٍ مِنْ عِيدِ الْجَاهِلِيَّةِ أَوْ عَلَى وَثَنٍ فَلَا وَإِنْ كَانَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَاقْضِ نَذْرَكَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَى أُمِّ هَذِهِ الْجَارِيَةِ مَشْيًا أَفَتَمْشِي عَنْهَا قَالَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১১৭
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
یزید بن نمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری ملاقات ایک اپاہج آدمی سے ہوئی میں نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ ایک مرتبہ میں اپنے گدھے پر سوار ہو کر نبی کریم ﷺ کے سامنے سے گذر گیا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس نے ہماری نماز توڑی اللہ اس کے پاؤں توڑ دے اس وقت سے میں اپاہج ہوگیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيِّ حَدَّثَنَا مَوْلًى لِيَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ نِمْرَانَ قَالَ لَقِيتُ رَجُلًا مُقْعَدًا بِتَبُوكَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَتَانٍ أَوْ حِمَارٍ فَقَالَ قَطَعَ عَلَيْنَا صَلَاتَنَا قَطَعَ اللَّهُ أَثَرَهُ فَأُقْعِدَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১১৮
متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات
ایک انصاری صحابی (رض) جو نبی کریم ﷺ کی اونٹنی کی دیکھ بھال پر مامور تھے " کہتے ہیں ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے انہیں کہیں بھیجا میں کچھ دور جا کر واپس آگیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اگر کوئی اونٹ مرنے والا ہوجائے تو آپ کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے ذبح کرلینا پھر اس کے نعلوں کو خون میں تر بتر کر کے اس کی پیشانی یا پہلو پر رکھ دینا اور اس میں سے تم کھانا اور نہ ہی تمہارا کوئی رفیق کھائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ قَالَ حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ صَاحِبُ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَهُ قَالَ رَجَعْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَأْمُرُنِي بِمَا عَطِبَ مِنْهَا قَالَ انْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ ضَعْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا أَوْ عَلَى جَنْبِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رِفْقَتِكَ
তাহকীক: