আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৩২৬ টি

হাদীস নং: ২৪৬২৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا جاتا، میں ایام سے ہوتی اور اس کا پانی پی لیتی پھر نبی ﷺ اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر پیا ہوتا تھا۔ اسی طرح میں ایک ہڈی پکڑ کر اس کا گوشت کھاتی اور نبی ﷺ اسے پکڑ کر اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں سے میں نے منہ لگا کر کھایا ہوتا تھا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَسُفْيَانُ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَشْرَبُ وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ وَكُنْتُ أَتَعَرَّقُ وَأَنَا حَائِضٌ ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬২৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اپنی کسی زوجہ کو بوسہ دیا، پھر نماز کے لئے چلے گئے اور نیا وضو نہیں کیا، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے عرض کیا کہ وہ آپ ہی ہوسکتی ہیں، تو وہ ہنسنے لگیں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قَالَ عُرْوَةُ قُلْتُ لَهَا مَنْ هِيَ إِلَّا أَنْتِ قَالَ فَضَحِكَتْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬২৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اپنی کسی زوجہ کو بوسہ دیا، پھر نماز کے لئے چلے گئے اور نیا وضو نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي رَوْقٍ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৩০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک مرتبہ ایک بچے کو لایا گیا تو اس نے نبی ﷺ پر پیشاب کردیا، نبی ﷺ نے اس پر پانی بہا دیا، دھویا نہیں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَيْهِ فَأَتْبَعَهُ الْمَاءَ وَلَمْ يَغْسِلْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৩১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
ابو سلمہ (رح) اور یحییٰ (رح) کہتے ہیں کہ جب حضرت خدیجہ (رض) فوت ہوگئیں تو خولہ بنت حکیم (رض) " جو حضرت عثمان بن مظعون (رض) کی اہلیہ تھیں " نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ ! ﷺ آپ نکاح کیوں نہیں کرلیتے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کس سے ؟ انہوں نے عرض کیا اگر آپ چاہیں تو کنواری لڑکی بھی موجود ہے اور شوہر دیدہ بھی موجود ہے، نبی ﷺ نے پوچھا کنواری لڑکی کون ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی مخلوق میں آپ کو سب سے محبوب آدمی کی بیٹی یعنی عائشہ بنت ابی بکر، نبی ﷺ نے پوچھا شوہر دیدہ کون ہے، انہوں نے عرض کیا سودہ بنت زمعہ، جو آپ پر ایمان رکھتی ہے اور آپ کی شریعت کی پیروی کرتی ہے، تو نبی ﷺ نے فرمایا جاؤ اور دونوں کے یہاں میرا تذکرہ کردو۔ چناچہ حضرت خولہ (رض) سیدنا صدیق اکبر کے گھر پہنچیں اور کہنے لگیں اے ام رومان ! اللہ تمہارے گھر میں کتنی بڑی خیرو برکت داخل کرنے والا ہے، ام رومان نے پوچھا وہ کیسے ؟ انہوں نے بتایا کہ نبی ﷺ نے مجھے عائشہ (رض) سے اپنے نکاح کا پیغام دے کر بھیجا ہے، ام رومان (رض) نے کہا کہ ابوبکر کے آنے کا انتظار کرلو، تھوڑی ہی دیر میں حضرت ابوبکر (رض) بھی آگئے، حضرت خولہ (رض) اور ان کے درمیان بھی یہی سوال جواب ہوتے ہیں، حضرت ابوبکر (رض) نے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ کے لئے عائشہ (رض) سے نکاح کرنا جائز ہے ؟ کیونکہ وہ تو ان کی بھتیجی ہے، خولہ (رض) واپس نبی ﷺ کے پاس پہنچیں اور ان سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا انہیں جا کر کہہ دو کہ میں تمہارا اور تم میرے اسلامی بھائی ہو، اس لئے تمہاری بیٹی سے میرے لئے نکاح کرنا جائز ہے، انہوں نے واپس آکر حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو یہ جواب بتادیا، انہوں نے فرمایا تھوڑی دیر انتظار کرو اور خود باہر چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد ام رومان (رض) نے بتایا کہ مطعم بن عدی نے اپنے بیٹے سے حضرت عائشہ (رض) کا رشتہ مانگا تھا اور واللہ ابوبکر نے کبھی بھی وعدہ کر کے وعدہ خلافی نہیں کی تھی، لہذا ابوبکر (رض) پہلے مطعم بن عدی کے پاس گئے، اس کے پاس اس کی بیوی ام الفتی بھی موجود تھی، وہ کہنے لگی، اے ابن ابی قخافہ ! اگر ہم نے اپنے بیٹے کا نکاح آپ کے یہاں کردیا تو ہوسکتا ہے کہ آپ ہمارے بیٹے کو بھی دین میں داخل کرلیں، حضرت ابوبکر (رض) نے مطعم بن عدی سے پوچھا کہ کیا تم بھی یہی رائے رکھتے ہو ؟ اس نے کہا کہ اس کی بات صحیح ہے، چناچہ حضرت ابوبکر (رض) وہاں سے نکل آئے اور ان کے ذہن پر وعدہ خلافی کا جو بوجھ تھا وہ اللہ نے اس طرح دور کردیا اور انہوں نے واپس آکر خولہ (رض) سے کہا کہ نبی ﷺ کو میرے یہاں بلا کرلے آؤ، خولہ جا کر نبی ﷺ کو لے آئیں اور حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عائشہ (رض) کا نکاح نبی ﷺ سے کردیا، اس وقت حضرت عائشہ (رض) کی عمر چھ سال تھی۔ اس کے بعد خولہ (رض) وہاں سے نکل کر سودہ بنت زمعہ (رض) کے پاس گئیں اور ان سے کہا کہ اللہ تمہارے گھر میں کتنی بڑی خیروبرکت داخل کرنے والا ہے، سودہ (رض) نے پوچھا وہ کیسے ؟ خولہ (رض) نے کہا کہ نبی ﷺ نے مجھے تمہارے پاس اپنی جانب سے پیغام نکاح دیکر بھیجا ہے، انہوں نے کہا بہتر ہے کہ تم میرے والد کے پاس جا کر ان سے اس بات کا ذکر کرو، سودہ کے والد بہت بوڑھے ہوچکے تھے اور ان کی عمر اتنی زیادہ ہوچکی تھی کہ وہ حج نہیں کرسکتے تھے، خولہ ان کے پاس گئیں اور زمانہ جاہلیت کے طریقے کے مطابق انہیں اداب کہا، انہوں نے پوچھا کون ہے ؟ بتایا کہ میں خولہ بنت حکیم ہوں، انہوں نے پوچھا کیا بات ہے ؟ خولہ نے کہا کہ مجھے محمد ﷺ بن عبداللہ نے سودہ سے اپنا پیغام نکاح بھیجا ہے، زمعہ نے کہا کہ وہ تو بہترین جوڑ ہے، تمہاری سہیلی کی کیا رائے ہے ؟ خولہ نے کہا کہ اسے یہ رشتہ پسند ہے، زمعہ نے کہا کہ اسے میرے پاس بلاؤ، خولہ نے انہیں بلایا تو زمعہ نے ان سے پوچھا پیاری بیٹی ! ان کا کہنا ہے کہ محمد بن عبداللہ نے اسے تم سے اپنا پیغام نکاح دے کر بھیجا ہے اور وہ بہترین جوڑ ہے تو کیا تم چاہتی ہو کہ میں ان سے تمہارا نکاح کر دوں ؟ سودہ (رض) نے حامی بھر لی، زمعہ نے مجھ سے کہا کہ نبی ﷺ کو میرے پاس بلا کرلے آؤ، چناچہ نبی ﷺ تشریف لے آئے اور زمعہ نے ان سے حضرت سودہ (رض) کا نکاح کردیا، چند دنوں کے بعد حضرت سودہ (رض) کا بھائی عبد بن زمعہ حج سے واپس آیا، اسے اس رشتے کا علم ہوا تو وہ اپنے سر پر مٹی ڈالنے لگا، اسلام قبول کرنے کے بعد وہ کہتے تھے تمہاری زندگی کی قسم ! میں اس دن بڑی بیوقوفی کر رہا تھا جب سودہ کے ساتھ نبی ﷺ کا نکاح ہونے پر میں اپنے سر پر مٹی ڈال رہا تھا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو ہم نے " مقام سخ " میں بنو حارث بن خزرج کے یہاں قیام کیا، ایک دن نبی ﷺ ہمارے گھر میں تشریف لے آئے اور کچھ انصاری مرد و عورت بھی اکٹھے ہوگئے، میری والدہ مجھے لے آئیں جبکہ میں دو درختوں کے درمیان جھولا جھول رہی تھی اور میرے سر پر کسی وجہ سے بہت تھوڑے بال تھے، انہوں نے مجھے جھولے سے نیچے اتارا، مجھے پسینہ آیا ہوا تھا، اسے پونچھا اور پانی سے میرا منہ دھلایا اور مجھے لے کر چل پڑیں، حتیٰ کہ دروازے پر پہنچ کر رک گئیں، میری سانس پھول رہی تھی، جب میری سانس بحال ہوئی تو وہ مجھے گھر لے کر داخل ہوگئیں، وہاں نبی ﷺ ہمارے گھر میں ایک چار پائی پر بیٹھے ہوئے تھے اور انصار کے کچھ مرو و عورت بھی موجود تھے، میری والدہ نے مجھے نبی ﷺ کے قریب بٹھا دیا اور کہنے لگیں کہ یہ آپ کے گھر والے ہیں، اللہ آپ کو ان کے لئے اور انہیں آپ کے لئے مبارک فرمائے، اس کے بعد مردو عورت یکے بعد دیگرے وہاں سے جانے لگے اور نبی ﷺ نے ہمارے گھر میں ہی میرے ساتھ تخلیہ فرمایا : میری اس شادی کے لئے کوئی اونٹ ذبح نہ ہوا اور نہ بکری، تاآنکہ سعد بن عبادہ نے ہمارے یہاں ایک پیالہ بھیجا جو وہ نبی ﷺ کے پاس اس وقت بھیجتے تھے جب نبی ﷺ اپنی ازواج مطہرات کے پاس جاتے تھے اور اس وقت میری عمر نو سال کی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ وَيَحْيَى قَالَا لَمَّا هَلَكَتْ خَدِيجَةُ جَاءَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَزَوَّجُ قَالَ مَنْ قَالَتْ إِنْ شِئْتَ بِكْرًا وَإِنْ شِئْتَ ثَيِّبًا قَالَ فَمَنْ الْبِكْرُ قَالَتْ ابْنَةُ أَحَبِّ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْكَ عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قَالَ وَمَنْ الثَّيِّبُ قَالَتْ سَوْدَةُ ابْنَةُ زَمْعَةَ قَدْ آمَنَتْ بِكَ وَاتَّبَعَتْكَ عَلَى مَا تَقُولُ قَالَ فَاذْهَبِي فَاذْكُرِيهِمَا عَلَيَّ فَدَخَلَتْ بَيْتَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَتْ يَا أُمَّ رُومَانَ مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ مِنْ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ قَالَتْ وَمَا ذَاكَ قَالَتْ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطُبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ قَالَتْ انْتَظِرِي أَبَا بَكْرٍ حَتَّى يَأْتِيَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَتْ يَا أَبَا بَكْرٍ مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنْ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ قَالَ وَمَا ذَاكَ قَالَتْ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطُبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ قَالَ وَهَلْ تَصْلُحُ لَهُ إِنَّمَا هِيَ ابْنَةُ أَخِيهِ فَرَجَعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ قَالَ ارْجِعِي إِلَيْهِ فَقُولِي لَهُ أَنَا أَخُوكَ وَأَنْتَ أَخِي فِي الْإِسْلَامِ وَابْنَتُكَ تَصْلُحُ لِي فَرَجَعَتْ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ قَالَ انْتَظِرِي وَخَرَجَ قَالَتْ أُمُّ رُومَانَ إِنَّ مُطْعِمَ بْنَ عَدِيٍّ قَدْ كَانَ ذَكَرَهَا عَلَى ابْنِهِ فَوَاللَّهِ مَا وَعَدَ مَوْعِدًا قَطُّ فَأَخْلَفَهُ لِأَبِي بَكْرٍ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى مُطْعِمِ بْنِ عَدِيٍّ وَعِنْدَهُ امْرَأَتُهُ أُمُّ الْفَتَى فَقَالَتْ يَا ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ لَعَلَّكَ مُصْبٍ صَاحِبَنَا مُدْخِلُهُ فِي دِينِكَ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ إِنْ تَزَوَّجَ إِلَيْكَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ لِلْمُطْعِمِ بْنِ عَدِيٍّ آقَوْلَ هَذِهِ تَقُولُ قَالَ إِنَّهَا تَقُولُ ذَلِكَ فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ وَقَدْ أَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ فِي نَفْسِهِ مِنْ عِدَتِهِ الَّتِي وَعَدَهُ فَرَجَعَ فَقَالَ لِخَوْلَةَ ادْعِي لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَتْهُ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ وَعَائِشَةُ يَوْمَئِذٍ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ ثُمَّ خَرَجَتْ فَدَخَلَتْ عَلَى سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فَقَالَتْ مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكِ مِنْ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ قَالَتْ مَا ذَاكَ قَالَتْ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطُبُكِ عَلَيْهِ قَالَتْ وَدِدْتُ ادْخُلِي إِلَى أَبِي فَاذْكُرِي ذَاكَ لَهُ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ أَدْرَكَهُ السِّنُّ قَدْ تَخَلَّفَ عَنْ الْحَجِّ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فَحَيَّتْهُ بِتَحِيَّةِ الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ فَقَالَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ قَالَ فَمَا شَأْنُكِ قَالَتْ أَرْسَلَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْطُبُ عَلَيْهِ سَوْدَةَ قَالَ كُفْءٌ كَرِيمٌ مَاذَا تَقُولُ صَاحِبَتُكِ قَالَتْ تُحِبُّ ذَاكَ قَالَ ادْعُهَا لِي فَدَعَيْتُهَا قَالَ أَيْ بُنَيَّةُ إِنَّ هَذِهِ تَزْعُمْ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَدْ أَرْسَلَ يَخْطُبُكِ وَهُوَ كُفْءٌ كَرِيمٌ أَتُحِبِّينَ أَنْ أُزَوِّجَكِ بِهِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ ادْعِيهِ لِي فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ فَجَاءَهَا أَخُوهَا عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ مِنْ الْحَجِّ فَجَعَلَ يَحْثِي فِي رَأْسِهِ التُّرَابَ فَقَالَ بَعْدَ أَنْ أَسْلَمَ لَعَمْرُكَ إِنِّي لَسَفِيهٌ يَوْمَ أَحْثِي فِي رَأْسِي التُّرَابَ أَنْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فِي السُّنْحِ قَالَتْ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَيْتَنَا وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَنِسَاءٌ فَجَاءَتْنِي أُمِّي وَإِنِّي لَفِي أُرْجُوحَةٍ بَيْنَ عَذْقَيْنِ تَرْجَحُ بِي فَأَنْزَلَتْنِي مِنْ الْأُرْجُوحَةِ وَلِي جُمَيْمَةٌ فَفَرَقَتْهَا وَمَسَحَتْ وَجْهِي بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ أَقْبَلَتْ تَقُودُنِي حَتَّى وَقَفَتْ بِي عِنْدَ الْبَابِ وَإِنِّي لَأَنْهَجُ حَتَّى سَكَنَ مِنْ نَفْسِي ثُمَّ دَخَلَتْ بِي فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى سَرِيرٍ فِي بَيْتِنَا وَعِنْدَهُ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَجْلَسَتْنِي فِي حِجْرِهِ ثُمَّ قَالَتْ هَؤُلَاءِ أَهْلُكِ فَبَارَكَ اللَّهُ لَكِ فِيهِمْ وَبَارَكَ لَهُمْ فِيكِ فَوَثَبَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ فَخَرَجُوا وَبَنَى بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا مَا نُحِرَتْ عَلَيَّ جَزُورٌ وَلَا ذُبِحَتْ عَلَيَّ شَاةٌ حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيْنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ بِجَفْنَةٍ كَانَ يُرْسِلُ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَارَ إِلَى نِسَائِهِ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৩২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی ﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے ؟ نبی ﷺ نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی ﷺ ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو۔۔۔۔ الخ۔ " میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں اور والدین سے مشورے کی ضرورت نہیں سمجھتی، اس پر نبی ﷺ بہت خوش ہوئے اور دیگر ازواج مطہرات کے حجروں کی طرف چلے گئے اور فرمایا عائشہ نے یہ کہا ہے اور دیگر ازواج نے بھی وہی جواب دیا جو انہوں نے دیا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَتْ آيَةُ التَّخْيِيرِ قَالَ بَدَأَ بِعَائِشَةَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ إِنِّي عَارِضٌ عَلَيْكِ أَمْرًا فَلَا تَفْتَاتِنَّ فِيهِ بِشَيْءٍ حَتَّى تَعْرِضِيهِ عَلَى أَبَوَيْكِ أَبِي بَكْرٍ وَأُمِّ رُومَانَ قَالَتْ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُوَ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِنِّي عَارِضٌ عَلَيْكِ أَمْرًا فَلَا تَفْتَاتِنَّ فِيهِ بِشَيْءٍ حَتَّى تَعْرِضِيهِ عَلَى أَبَوَيْكِ أَبِي بَكْرٍ وَأُمِّ رُومَانَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُوَ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِنِّي عَارِضٌ عَلَيْكِ أَمْرًا فَلَا تَفْتَاتِنَّ فِيهِ بِشَيْءٍ حَتَّى تَعْرِضِيهِ عَلَى أَبَوَيْكِ أَبِي بَكْرٍ وَأُمِّ رُومَانَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُوَ قَالَ قَالَ اللَّهُ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا قَالَتْ إِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا أُؤَامِرُ فِي ذَلِكَ أَبَوَيَّ أَبَا بَكْرٍ وَأُمَّ رُومَانَ قَالَتْ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَقْرَأَ الْحُجَرَ فَقَالَ إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَقُلْنَ مِثْلَ الَّذِي قَالَتْ عَائِشَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৩৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں لوگ اپنے اپنے بچے کو لاتے تھے اور نبی ﷺ ان کے لئے دعا فرماتے تھے، ایک مرتبہ ایک بچے کو لایا گیا تو اس نے نبی ﷺ پر پیشاب کردیا، نبی ﷺ نے پانی منگوا کر اس پر بہا دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ فَيُحَنِّكُهُمْ وَيُبَرِّكُ عَلَيْهِمْ فَبَالَ فِي حِجْرِهِ صَبِيٌّ فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَ الْبَوْلَ الْمَاءَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৩৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک عورت آتی تھی جو عبادات میں محنت و مشقت برداشت کرنے کے لئے حوالے سے مشہور تھی، انہوں نے جب نبی ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا رک جاؤ اور اپنے اوپر ان چیزوں کو لازم کیا کرو جن کی تم میں طاقت بھی ہو، واللہ اللہ تعالیٰ نہیں اکتائے گا بلکہ تم ہی اکتا جاؤ گے، اللہ کے نزدیک دین کا سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ قُلْتُ هَذِهِ فُلَانَةٌ وَهِيَ تَقُومُ اللَّيْلَ أَوْ لَا تَنَامُ اللَّيْلَ قَالَ فَكَرِهَ ذَلِكَ حَتَّى رَأَيْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ عَلَيْكُمْ مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৩৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا بستر جس پر آپ ﷺ رات کو سوتے تھے، چمڑے کا تھا اور اس میں کجھور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ ضِجَاعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَانَ يَرْقُدُ عَلَيْهِ هُوَ وَأَهْلُهُ مِنْ أَدَمٍ مَحْشُوًّا لِيفًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৩৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبدالملک بن مروان نے انہیں ایک خط لکھا جس میں ان سے کچھ چیزوں کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے جواب میں لکھا "۔۔۔۔۔۔۔۔ ! میں آپ کے سامنے اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اما بعد ! آپ نے مجھ سے کئی چیزوں کے متعلق پوچھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ مجھے حضرت عائشہ (رض) نے بتایا ہے کہ اس دن وہ ظہر کے وقت اپنے گھر میں تھے، اس وقت حضرت ابوبکر (رض) کے پاس ان کی صرف دو بیٹیاں عائشہ اور اسماء تھیں، اچانک سخت گرمی میں نبی ﷺ آگئے، قبل ازیں کوئی دن ایسا نہ گزرتا تھا کہ دن کے دونوں حصوں یعنی صبح شام نبی ﷺ ہمارے گھر نہ آتے ہوں، حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا میرے والدین حضور ﷺ پر نثار، اس وقت کسی اہم کام کی وجہ سے حضور تشریف لائے ہیں ؟ حضور ﷺ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی اور حضرت ابوبکر (رض) نے اجازت دے دی تو اندر تشریف لا کر فرمایا : ان پاس والے آدمیوں کو باہر کردو کیونکہ ایک پوشیدہ بات کرنا ہے، حضرت ابوبکر (رض) نے جواب دیا یہ تو صرف حضور ﷺ کے گھر والے ہی ہیں ارشاد فرمایا مجھے یہاں سے ہجرت کر جانے کی اجازت مل گئی، حضرت صدیق اکبر (رض) نے کہا کیا مجھے رفاقت کا شرف ملے گا ؟ فرمایا : ہاں ! حضرت ابوبکر (رض) نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے والدین نثار، ان دونوں اونٹنیوں میں سے آپ ایک لے لیجئے فرمایا میں مول لیتا ہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ كَتَبَ إِلَيْهِ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُرْوَةُ سَلَامٌ عَلَيْكَ فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّكَ كَتَبْتَ إِلَيَّ تَسْأَلُنِي عَنْ أَشْيَاءَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّهُمْ بَيْنَمَا هُمْ ظُهْرًا فِي بَيْتِهِمْ وَلَيْسَ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ إِلَّا ابْنَتَاهُ عَائِشَةُ وَأَسْمَاءُ إِذَا هُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ وَكَانَ لَا يُخْطِئُهُ يَوْمًا أَنْ يَأْتِيَ بَيْتَ أَبِي بَكْرٍ أَوَّلَ النَّهَارِ وَآخِرَهُ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ جَاءَ ظُهْرًا فَقَالَ مَا جَاءَ بِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِلَّا أَمْرٌ حَدَثَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِمْ الْبَيْتَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ فَقَالَ لَيْسَ عَلَيْكَ عَيْنٌ إِنَّمَا هُمَا ابْنَتَايَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذِنَ لِي بِالْخُرُوجِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّحَابَةَ قَالَ الصَّحَابَةَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ خُذْ إِحْدَى الرَّاحِلَتَيْنِ وَهُمَا الرَّاحِلَتَانِ اللَّتَانِ كَانَ يَعْلِفُ أَبُو بَكْرٍ يُعِدُّهُمَا لِلْخُرُوجِ إِذَا أُذِنَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُ أَبُو بَكْرٍ إِحْدَى الرَّاحِلَتَيْنِ فَقَالَ خُذْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَارْكَبْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخَذْتُهَا بِالثَّمَنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৩৭
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ( میں نبی ﷺ کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی ﷺ کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَيَّامٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৩৮
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا میں نبی ﷺ کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھوں سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی ﷺ اسے بھیج کر ہمارے درمیان غیر محرم ہو کر مقیم رہتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْعَثُ بِهَا وَيُقِيمُ فِينَا حَلَالًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৩৯
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ طوافِ زیارت کے بعد حضرت صفیہ (رض) کو ایام آنا شروع ہوگئے، نبی ﷺ سے اس بات کا ذکر ہوا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ ہمیں روک دے گی ؟ میں نے عرض کیا انہیں طوافِ زیارت کے بعد " ایام " آنے لگے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا پھر تو اسے کوچ کرنا چاہیے یا یہ فرمایا کہ پھر نہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَصْدُرَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ فَقَالَ إِنَّهَا لَحَابِسَتُنَا فَقَالُوا إِنَّهَا قَدْ طَافَتْ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَ فَلْتَنْفِرْ إِذًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৪০
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کے کپڑوں سے آب حیات کو کھرچ دیا کرتی تھی اور نبی ﷺ اس میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلِّي فِيهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৪১
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ان سے فرمایا کرتے تھے جب تم ناراض ہوتی ہو تو مجھے تمہاری ناراضگی کا پتہ چل جاتا ہے اور جب تم راضی ہوتی ہو تو مجھے اس کا بھی پتا چل جاتا ہے، جب تم ناراض ہوتی ہو تو تم لا ورب ابراہیم کہتی ہو اور جب تم راضی ہوتی ہو تو لا ورب محمد کہتی ہو۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْرِفُكِ إِذَا كُنْتِ غَضْبَى وَإِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً إِذَا غَضِبْتِ قُلْتِ لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ وَإِذَا رَضِيتِ قُلْتِ لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৪২
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میرے علاوہ آپ کی ہر بیوی کی کوئی نہ کوئی کنیت ضرور ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تم اپنے بیٹے (بھانجے) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي قَالَ أَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৪৩
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৪৪
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ روزے کی حالت میں میرے چہرے کا بوسہ لینے میں کسی چیز کو رکاوٹ نہ سمجھتے تھے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ زَكَرِيَّا عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْتَنِعُ مِنْ شَيْءٍ مِنْ وَجْهِي وَهُوَ صَائِمٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ الْأَسَدِيِّ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ قَالَ عَبْد اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْأَشْعَثِ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৪৫
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ یہ دعا فرماتے تھے، اے اللہ ! میں ان چیزوں کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو میرے نفس نے کی ہیں یا نہیں کی ہیں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ عَنْ هِلَالٍ يَعْنِي ابْنَ يَسَافٍ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৬৪৬
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ آیت فروح وریحان راء کے ضمے کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنی ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هَارُونَ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ
tahqiq

তাহকীক: